شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

نواب سائل دہلوی

    نواب سائل دہلوی

     

    نواب سراج الدین احمد خاں سائل دہلوی لوہارو کی نوابی کے اصل وارث تھے مگر انگریزوں نے ان کے والد کو گدی سے لاحَق کر کے ان کے چچا کو گدّی پر بٹھا دیا تھا۔ ان کے والد پر الزام لگایا گیا تھا کہ ہنگامہ ۱۸۵۷ ء میں انہوں نے باغیوں کا ساتھ دیا۔ نواب سائل پہلے لال دروازے میں رہتے تھے، پھر فراش خانہ میں اُٹھ آئے تھے۔ سب سے پہلے ہم نے انہیں اپنے بچپن میں ایک مشاعرے میں دیکھا تھا۔ عجب شان وشوکت کے بزرگ تھے ۔ میده وشہاب رینگ، گول چہرہ، سفید براق ڈاڑھی، سنہری فریم عینک ،سر پر چوڑی زرکارلیس کی مخملی ٹوپی ، قریب سے دیکھو تو اس پر زردوزی میں سائل دہلوی لکھا ہوا۔ چست پاجامہ، چوڑیاں پنڈلیوں تک پڑی ہوئیں۔ پاؤں میں سلیم شاہی ، بائیں ہاتھ میں چاندی کی مٹھ کی چھڑی، دائیں ہاتھ میں چھ انچ لمبا سگار،مخصوص ترنم سے غزل پڑھتے اور سننے والوں کوپھڑکاتے۔ پھر نواب صاحب کو اکثر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مشاعروں میں، پارٹیوں میں، شادی بیاہ کی محفلوں میں، اور جب میرے والد کو آخری عمر میں شعر کہنے کا شوق ہوا تو انہوں نے نواب سائل کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا۔ اکثر میرے والد ان کے ہاں جاتے اور کبھی کبھی نواب صاحب بھی ہمارے ہاں آتے ۔ کلام دکھانے کا بھی عجیب لطیفہ ہے۔ شاگرد نے دس دس پندرہ پندرہ غزلیں (داغ کے رنگ میں اور زمین میں بھی) روزانہ کہنی شروع کردیں ۔ نواب صاحب کوئی ترمیم کرتے تو شاگرد صاحب ان سے الجھ جاتے اور ان کی اصلاح کو نہ مانتے۔ لہٰذا استادی شاگردی زیادہ دن نہ چل سکی ، دوستی البتہ قائم رہی۔

    نواب سائل بڑے حلیم الطبع اور بردبار آدمی تھے۔ دِلّی کے معززین میں شمار ہوتے اور انگریزوں میں بھی ان کی خاصی پوچھ تھی ۔ ان کا کلام خود ان کی شہرت کو چار چاند لگاتا تھا مگر ان کی بعض باتیں بالکل بچگانہ ہوتی تھیں ۔ مثلاً ٹوپی پر نام لکھوانا یا کسی نہ کسی بہانے یہ جتانا کہ ’’میں داغ کا داماد ہوں‘‘ ان کی یہ کمزوری ان کے اکثر مقطعوں میں بھی ظاہر ہوتی، مثلاً:

    جناب داغ کے داماد ہیں ہم دِلّی والے ہیں

     یاوہ مقطع جس پرلکھنؤ والوں نے بہت اعتراض کیا تھا:

    انگلیاں اُٹھنے لگیں داغ کے داماد آئے

     ایک دفعہ میں ان سے ’’ساقی‘‘ کے لیے غزل لینے ان کے گھر گیا اور بھی کئی احباب اور شاگرد جمع تھے۔ سائل صاحب نے اپنی تازہ غزل سنائی۔ ہر شعر پرواہ وا ہوتی رہی اور وہ یہی فرماتے رہے ’’میں کیا کہتا ہوں؟ وہ کہلوارہی ہے جو گھر میں بیٹھی ہے.....‘‘، ” داغ کی بیٹی کہلوا رہی ہے‘‘۔ اصل بات یہ تھی کہ نواب صاحب کو بیگم سے اور انہی کی وجہ سے استاد سے بے حد محبت تھی۔ ورنہ بیگم صاحبہ داغ کی حقیقی بیٹی نہیں تھیں بلکہ ان کی سالی کی صاحب زادی تھیں، داغ نے انہیں گود لے لیا تھا۔ اسی طرح ان کا ایک مصرع تھا:

    غالب میرے دادا تھے میں غالب کا پوتا ہوں

    حالاں کہ نہیں تھے۔

    اُردو فارسی میں ان کی قابلیت مسلم تھی۔ پنجاب یونیورسٹی کے ممتحن  بھی تھے۔ چھوٹے بڑے سب سے اچھی طرح پیش آتے تھے اس لیے اکثر طالب علم انہیں گھیرے رہتے تھے۔ ایک دن اس شعر پر دوستوں میں بحث چل نکلی۔

    خواہیم از خدا نخواہیم از خدا

    دیدن رُ خ حبيب و نہ دیدن رُخ ِرقیب

    الف و نشر مرتب کے اعتبار سے اس شعر کی صورت یوں بنتی  ہے کہ:

    خواہیم از خدا دیدن رُخ حبيب

    نخواہیم از خدا ندیدن رُخ رقیب

     لہٰذا شعر بے معنی ہو جاتا ہے۔ چناں چہ یہ مسئلہ سائل صاحب کے سامنے پیش کیا گیا۔ پہلے تو وہ بھی چکرائے مگر غور کرنے کے بعد بولے:’’کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ رقیب کے بدلے حبیب ہونا چاہیے‘‘۔

    نوابوں میں عام طور سے اتنے شریف طبیعت کے لوگ نہیں ہوتے جتنے کہ نواب سائل ۔ ان کے بڑے بھائی نواب تاباں ان کی ضد تھے۔ گالیاں دینے پر آئے تو شیطان بھی کانوں پر ہاتھ دھرتا۔ اکثرسائل صاحب پر برس پڑتے اور وہ مغلظات سناتے کہ الٰہی توبہ۔  مگر وہ بچارے

    منہ سے اُف تک نہ کرتے۔ دبی زبان سے اتنا البتہ کہہ دیتے کہ ’’بھائی جان، گالیاں آدھی مجھ پر پڑ رہی ہیں اور آدھی آپ پر‘‘ اسی طرح جب بیخود صاحب مشاعروں میں برہم ہو کر مادر چادر پراترآتے تو سائل صاحب جواب میں ایک لفظ بھی نہ کہتے۔ دِلّی میں بیخود والوں اور سائل والوں کے بڑے بڑے پالے ہوتے۔ اکثر مشاعروں میں مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ۔ سائل صاحب ان جھگڑوں سے بہت گھبراتے تھے اور بالآخر انہوں نے دِلّی کے مشاعروں میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیا تھا۔ بیخود اور سائل کے اختلاف کی اصل وجہ داغ کی جانشینی تھی جس کے مدعی دونوں تھے۔

    آخری عمر میں سائل صاحب کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے۔ ایک رکشا رکھ لی تھی ۔ اس میں ان کا سوار ہونا اور اس میں سے اتر نا ہی ایک بڑا مرحلہ ہوتا تھا۔ ایک دن اس رکشا کا پہیہ  لال کنوئیں پر ٹریم کی لیکھ میں ایسا اڑا کر رکشا الٹ گئی۔ سائل صاحب کے سر میں سخت چوٹ آئی۔ لوگوں نے دوڑ کر انہیں اُٹھایا۔ ہائے ہائے کرتے تھے اور اپنی بے بسی پر روتے تھے۔ میں بھی پرسشِ احوال کو گیا۔ آبدیدہ ہو کر کہنے لگے ”ایک وقت وہ تھا کہ جب ابا جان کا ہاتھی ڈیوڑھی پرآتا تو میں لپک کر اس کی دم پکڑ  اوپر جا بیٹھتا۔ اب یہ حال ہے کہ دوسروں کے سہارے کے بغیر اُٹھ بیٹھ بھی نہیں سکتا‘‘۔

    سائل صاحب نے ہزاروں غزلیں کہیں ان کے دیوان بھی چھپے مگر ان کا عمر بھر کا حاصل نظروں سے پوشیدہ ہی رہا۔ نور جہاں اور جہاں گیر کے عشق پر ایک مثنوی لکھ رہے تھے جس کے ۵ اہزار شعر کہہ چکے تھے۔ افسوس کہ یہ  خزینہ دفینہ بن کر رہ گیا۔