شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں

    وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں

     

    اب سے پچیس تیس سال پہلے دِلّی میں میَں نے جن بزرگوں کو دیکھا اور ان سے قریب ہونے کا بھی مجھے موقع ملا، ان میں سے بیشتر تو اللہ کو پیارے ہو گئے ، باقی جو ہیں (اللہ ا نہیں ہزاری عمر دے) وہ چراغ ِسحری ہیں۔ ان بزرگوں کے دم سے دِلّی کچھ نہ رہ جانے پر بھی دِلّی ہی تھی۔ یہ اگلے وقتوں کے لوگ تھے۔ ان کے دم قدم سے اگلی وضع داریاں قائم تھیں۔ دِلّی کی تہذیب زندہ تھی۔ دِلّی کی زبان ہانکے پکارے کہہ رہی تھی کہ ’’میری گل افشانی اب دیکھ لو، پھر تمھاری آنکھیں ڈھونڈا ہی کریں گی۔ میری البیلی من موہنی باتیں اب سن لو، ورنہ کان ترستے ہی رہیں گے۔ میرے جادو کا اثر محسوس کر لو، بعد میں تمہارا دل پھڑ کتا ہی رہ جائے گا‘‘۔

    وہ شکلیں ایک ایک کر کے مٹ گئیں۔ ان کی یادبھی اب دھندلی پڑ گئی۔ ان کے نورانی چہرے ماضی کے دھندلکوں میں چمکتے دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے نقوش مدھم اور ماند پڑتے جارہے ہیں۔ میں یاد کا چراغ جلا کران مقدس شکلوں کو دیکھتا ہوں تو خواب کے سائے سے دکھائی دیتے ہیں ۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ  خواب، یہ سائے بھی نہ مٹ جائیں ، کہیں  عہدِ رفتہ کی بھول بھلیوں میں نہ کھو جائیں ۔ اس لیے ان کے دھندلے نقوش نذرِ’’ نقوش‘‘  کرتا ہوں ۔ یہ طاقِ نساں کے چند مِٹے مِٹے سے نقش و نگار ہیں ۔ کاش کوئی انہیں اجاگر کر دے!

    ( شاہ احمد دہلوی)