شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

اُستاد بُندو خاں

    اُستاد بُندو خاں

     

    اُستاد بندو خاں اب سے کوئی ستر سال پہلے دِلّی کے موسیقاروں کے ایک نامور گھرانے میں پیدا ہوئے۔ یہ گھرانا شاہی وقتوں میں معزز سمجھا جاتا تھا۔ اس کے اکثر افراد متوسلین شاہی میں شریک تھے۔ یوں تو اس گھرانے میں گایک بھی پیدا ہوئے مگر ان کا حقیقی کام سارنگی نوازی ہی تھا۔ استاد کے والد علی جان خاں بھی سارنگی بجاتے تھے اور دِلّی کے خاصے مشہور سارنگی نوازوں میں شمار ہوتے تھے مگر ۱۸۵۷ ء کے بعد جس استاد نے اس خاندان کا نام روشن کیا، وہ ممن خاں تھے۔ یہ اپنی بے مثل سارنگی نوازی اور علمی معلومات کی وجہ سے شمس موسیقی کہلائے۔ اُنہوں نے ایک بڑی سارنگی بھی اختراع کی تھی ۔ جن کا قد و قامت عام سارنگیوں سے ڈیوڑھا تھا۔ اس میں کھرج کی دو سپتکیں زیادہ رکھی گئی تھیں، اور موٹے رودے کے تاران کے لیے چڑھائے تھے۔یہ سپتکیں چیلو کی آواز دیتی تھیں ۔ اس کا نام انہوں نے ’’سرساگر“ رکھا تھا۔ اس میں پانچ سپتکوں کے علاوہ بائیں ہاتھ سے جھالا بجانے کے لیے ہی تار لگائے گئے تھے۔ سرساگر میں بھاری سے بھاری اور ہلکی سے ہلکی آواز نکل سکتی تھی۔ یہ ساز بہت مشکل ہونے کی وجہ سے محنت طلب زیادہ تھا۔ اس لیے استادممن خاں کے بعد روانی سے اسے کوئی نہ بجاسکا۔

    ممن خاں بڑے نمازی پرہیز گار آدمی تھے۔ ان کے گھر کا دستور شرفائے دہلی جیسا تھا۔ اس طبقے کا غچلا پن ان کے ہاں بالکل نہیں تھا۔ ممن خاں کی جب شہرت ہوئی تو ہندوستان کی تمام ریاستوں سے ان کی مانگ ہونے لگی۔ چناں چہ ان کی ساری کشمیرسےمیسور اور بڑودہ سے نیپال تک بجی۔ خاں صاحب نے کچھ عرصہ کے لیے میسور میں ملازمت بھی قبول کر لی تھی، مگر جنوبی ہند میں ان کاجی نہیں لگا اور دِلّی واپس آگئے ۔ آخر میں پٹیالہ سے وابستہ ہو گئے تھے۔ جب ضعف بڑھ گیا تو دِلّی آگئے اور یا دِالٰہی اور موسیقی کا درس دینے میں مصروف رہتے تھے۔ ہندوستان اور پاکستان میں ان کے سینکڑوں شاگرد ہیں، مگر انہوں نے اپنے علم وفن کی دوعظیم یادگاریں بھی چھوڑیں۔ ایک ان کے خلف اکبر استاد چاند خاں اور دوسرے ان کے بھانجے اور خویش استاد بُند و خاں، چاند خاں نے گانے میں کمال حاصل کیا اور استاد بُند وخاں نے سارنگی بجانے میں۔

    علی جان خاں اپنے بیٹے بُند و خاں کو خود زیادہ تعلیم نہ دے سکے۔ انہوں نے بُند و خاں کوممن خاں کا شاگرد کرادیا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، بُند و خاں شمس موسیقی کے فیض سے ذرّے سے آفتاب بنے ۔ استاد کا نام روشن کیا اور خودبھی اتنا نام کمایا کہ رہتی دنیا تک ان کا نام باقی رہے گا۔

    استاد بُند وخاں فرماتے تھے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا سلسلہ پیدا ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے، وجہ یہ ہے کہ گھر کے سارے مردگاتے بجاتے ہیں۔   ایک اس کونے میں گارہا ہے، ایک اس کونے میں سارنگی لیے بیٹھا ہے۔ نئی سے نئی تان بن کر آرہی ہے۔ کئی کئی گھنٹے روزانہ یہی ہنگامہ برپا رہتا ہے۔ یہ سب آواز یں بچے کے کان میں پڑتی رہتی ہیں اور موسیقی کا شعور بڑھتا رہتا ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی باقاعدہ تعلیم شروع ہو جاتی ہے۔ پہلے گلے سے کہلوایاجاتا ہے تا کہ سر پکے ہو جائیں۔ اس عرصے میں جسم میں توانائی بھی آجاتی ہے کہ سارنگی اورگز سنبھال سکے۔ پھر استاد کی ہدایت کے مطابق سارنگی مشق کی جاتی ہے۔

    بُند و خاں ساتھ آٹھ سال کی عمر میں سارنگی پر ہاتھ دوڑانے لگے تھے۔ کئی کئی گھنٹے روزانہ محنت کرتے، چاند خاں نے بھی سارنگی شروع کی تھی مگر ان کی طبیعت گانے کی طرف زیادہ مائل تھی۔ اس لیے انہوں نے ممن خاں صاحب کے مشورے پر گانے کی تعلیم پائی۔ بُند و خاں کے شوق اور صلاحیت کو دیکھ کر ممن خاں نے انہیں سارنگی کےسارے نشیب و فراز سمجھا دیئے۔ بُند و خاں نے محنت کر کے اپنا ہاتھ رواں کرلیا۔ ذہن رسا پایا تھا، محنت سے دن دونی رات چوگنی ترقی ہوتی چلی گئی۔ ان کا کام بھی شہرت کے پر لگا کر اڑا اور ان کی بھی جگہ جگہ سے بلاؤ ہونے لگی۔ موسیقی کے دنگلوں اور کانفرنسوں میں شریک ہونے لگے مگر جب کبھی ماموں کو اپنی دانست میں کوئی نادر بات سارنگی پر سناتے تو وہ ہوں ہوں کر کے ٹال دیتے، یہ سمجھ جاتے کہ ابھی کسر باقی ہے، محنت اور بڑھا دیتے۔ ان کے کنبہ داروں کا بیان ہے کہ رات کو سوتے بھی تو سارنگی ساتھ لے کر سوتے اور یہ تو ہم نے بھی دیکھا ہے کہ استاد بازار میں سے جار ہے اور چادرے کے نیچے ان کی چھوٹی سارنگی کندھے میں پڑی ہے اور اس پر بائیں ہاتھ کی انگلیاں کھٹاکھٹ چل رہی ہیں ۔ استاد کے بائیں پاؤں پر ایک موٹا سا گٹّا تھا۔ فرماتے تھے کہ یہ ریاض کرنے کے زمانے کی نشانی ہے۔ اٹھارہ گھنٹے روز بیس  گھنٹے روز ” قلت کنجی‘‘ کی بیٹھک بیٹھتے تھے۔

    استادممن خاں نے انہیں نصیحت کی تھی کہ علم جہاں بھی ملے، بے جھجک لے لینا۔ اس میں عار نہ کرنا، چناں چہ بُند و خاں نے بھاٹوں اور بھنگی چماروں تک سے چیزیں سیکھیں، اس سے انہیں یہ فائدہ ہوا کہ ہرقسم کی موسیقی ان کے پاس آگئی۔ سچی لگن اورکھوج نے ان کے لیے موسیقی کے سم سم کے دروازے کھول دیئے۔ دھر پد سے لے کر چوپاؤں اور دو ہوں تک ان کے پاس ہرقسم کی چیزوں کے ڈھیر لگ گئے تھے۔ اسی زمانے میں انہیں پتہ چلا کہ دِلّی دروازے کے باہر کوٹلہ فیروز شاہ کی ایک ٹوٹی ہوئی کوٹھڑی میں ایک درویش رہتے ہیں۔ ان کے پاس علم کی بہت دولت ہے۔ نام احمد شاہ ہے اپنے استاد سے ان کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ کام کے کرنے والوں ہی میں سے ہیں۔ بڑے گُنی کبی  آدمی ہیں ، مگر قلب الٹ گیا ہے، دنیا کو تج دیا ہے اور ان پر جذب کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ اگر ان سے کچھ حاصل کر سکو تو ضرور کرو۔ خاں صاحب نے ان کے پاس آنا جانا شروع کر دیا۔ ہاتھ پاؤں سے خدمت بھی کی ، کوئی توجہ نہ ہوئی مگر یہ بھی دُھن کے پکے تھے۔ برابر جاتے رہے۔ ان کی دہلیز کی مٹی لے ڈالی۔ جب بہت عرصہ ہو گیا تو پتھر میں جونک لگی۔ بولے ’’تو کیوں میرے پیچھے پڑا ہے‘‘ انہوں نے دل کی بات کہی۔ کہنے لگے :’’ میں نے دنیا کو چھوڑ دیا ہے، مگر دنیا مجھے نہیں چھوڑتی ، اس سے ہمارے کام میں فرق آتا ہے، مگر تو مستحق معلوم ہوتا ہے، ہم تجھے کچھ دیں گے ، صبح چاربجے آجایا کرو‘‘۔ اس زمانے میں دِلّی دروازہ رات کو بند ہو جایا کرتا تھا اور صبح چھ بجے سے پہلے نہ کھلتا تھا۔ خاں صاحب نے سوچا کہ اگر اب چوکے تو پھر یہ موقع ہاتھ نہ آئے گا۔ سوچتے سوچتے ایک تدبیر سمجھ میں آئی ۔ رات کے دو بجے کمیلے جانے والے قصائیوں اور راسوں کے لیے دروازہ کھلتا تھا۔ انہوں نے محلے کے’’شیخ جی‘‘ کو رضامند کر لیا کہ مجھے بھی قصائی بنا کر اپنے ساتھ لے جایا کرو۔ اب یہ رات کے دو بجے سے ویران سنسان کو ٹلے میں جا بیٹھتے اور جب چار بجتے تو شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔ یہ سلسلہ سالہا سال جاری رہا۔ موسیقی کے اسرار و رموزحل ہوتے رہے۔ بُند و خاں کا یہ زمانہ ایک طرح سے ان کے جنون کا زمانہ تھا۔ نیند آنکھوں سے نہیں مقدر سے اڑگئی تھی دن رات اسی کی چیٹک لگی رہتی۔ بس سارنگی ہے اور بُند و خاں، اس غور وخوض اور مشق و مُز اولت سے سارنگی کے سارے امکانات پرا باندھ کر سامنے آ گئے ۔ اس کے بعد خاں صاحب نے سوچا کہ سارنگی میں دوسرے سازوں کا باج کس طرح ڈھالا جاسکتا ہے؟ ایک ساز کے باج پر غور کرتے اور اسے سارنگی میں اتارنے کی کوشش کرتے جوئنده یا بندہ۔ خاں صاحب نے بین، رباب، الغوزہ، دلر با ستار، سب کا باج سارنگی میں منتقل کرلیا۔ یہ ان کا ایک ایسا زبردست کارنامہ تھا جس نے سارنگی کو ’’سورنگی‘‘ بنادیا۔ صدیوں سے سارنگی صرف گھسّے سےبجتی  چلی آرہی تھی۔ بُند و خاں نے اس میں انگلیوں اور گز کی ضرب سے بجانے کے اصول داخل کیے۔ سارنگی بجانے والے بائیں ہاتھ کے ناخن تار کے پہلو سے ملا کر کھسکاتے ہیں اور اس سے سروں کا اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔ بُند و خاں نے اس پرانے اصول کی پابندی بھی کی اور ستار، دلربا ، بین اور رباب کی طر ح  تار پر انگلیاں چلانے کا نیا اصول بھی وضع کیا ۔ انگلیوں کی ضرب ( Tapping ) جیسے ہارمونیم میں لگائی جاتی ہے۔ سارنگی میں بھی لگانی شروع کردی۔ ان سب جدید اصولوں کو سارنگی میں کامیابی سے پیش کرنے میں انہیں ایک عمر صرف کرنی پڑی اور دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ بُند و خاں نے سارنگی کو واقعی ’’سورنگی‘‘ بنادیا اور سارنگی کا بول بالا کر دیا۔

    خاں صاحب کہتے تھے کہ میں کتنے ہی دنگل بجا چکا تھا اور تقریبا سارے نامی گویوں کی سنگت بھی کر چکا تھا مگر جب ماموں کو سنانے بیٹھتا تو وہ جی کھول کر اب بھی دادنہ دیتے۔ میں سمجھ جا تا کہ اب بھی کوئی کسر باقی ہے۔ علم بھی میرے پاس کافی جمع ہو گیا تھا اور میرے کس بل اور دم خم بھی اچھے تھے۔ پھر کیا بات تھی کہ ماموں خوش نہ ہوتے تھے۔ چناں چہ سرتیوں اور مینڈ سوت کی ٹوہ لینی شروع کی، اپنے تمام علم کو پھر سے چھانا۔ جتنا کرکرا تھا سب الگ کیا۔ اس بات پر غور کیا کہ بڑے گانے بجانے والے کس راگ کوکس طرح سے برتتے تھے۔ مثلاً در باری کی گندھارا اور دھیوت اپنے مقررہ مقام سے ہٹ کرلگتی  ہے تو وہ کس سرتی کا مقام ہے؟ اسی طرح ہر راگ پر دوبارہ محنت کی اور اپنے سارے راگ صحیح کیے ۔ جب اس کی محنت کر لی تو ماموں کو پھر ایک دن سنانے بیٹھا۔ خوش ہو کرکھڑے ہو گئے اور گلے لگا کر بولے ’’بیٹا اب تم بامراد ہو گئے۔ تم نے اس علم کے بھید کو پالیا۔ گانے بجانے میں رس بڑی چیز ہوتی ہے۔ کھانا کتنا ہی عمدہ پکا ہوا کیوں نہ ہو، اگر اس کا آب ونمک ٹھیک نہ ہو تو وہ کس کام کا؟ سر کا مقام اور سر کی مقدار ہی تو اصل چیز ہوتی ہے ۔ اونچے گانے بجانے والے اور اچھے سُنکار اسی بات کو دیکھتے ہیں۔ لچاؤ ، گھلاؤ، مینڈ سوت، گدا دھماکہ، داب گھانس کے بغیر سارنگی میں مزہ پیدا نہیں ہوتا۔ راگ اس طرح پسنا چاہیے  جیسے کھرل میں موتی پستا ہے۔ اب تمہارا کام کھر ا ہو گیا۔ اللہ نے چاہا تو اب کہیں بند نہ ہو گے‘‘۔ چناں چہ ہندوستان کے تمام نامی استادوں کے ساتھ خاں صاحب کو بجانے کا موقع ملا اور ہمیشہ ان ہی کا ان پر کچھ رہ گیا۔ ان کا ان پر کچھ نہ رہا۔

    جن بڑے استادوں کی سنگت انہوں نے کی ان میں امراؤ خاں ( تان رس خاں کے بیٹے ) اللہ بندے خاں، ذاکر الدین، آفتاب موسیقی فیاض خان، عبدالکریم خاں، ر جب علی خاں ،عبدالوحید خاں ، چاند خاں اور بڑے غلام علی خاں کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اللہ بندے خاں الاپنے اور دھر پدیئے تھے ۔ ایک دفعہ دستورِ قدیم کے مطابق گانے میں سرگم کہہ رہے تھے اور بُند و خاں ان کی سنگت کر رہے تھے ۔ اللہ بندے خاں نے مینڈ کی سرگم مجر دسروں سے کی تو دھیوت سے گندھار تک کی مینڈ کو دھا گا کہہ کر اس طرح ادا کیا کہ دھا کا بول کھنچ  کر گا پر آ گیا۔ بُند وخاں نے پوچھا ’ ’ خاں صاحب ، یہ دھیوت اتنی لمبی کیسے ہوگئی ؟ ‘ ‘ انہوں نے پہلے کبھی اس مسئلے پر غورنہیں کیا تھا ، بولے ’’بزرگوں سے اسی طرح ہوتا چلا آ رہا ہے ، ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں؟ ‘ ‘ بُند و خاں نے کہا۔ ’ ’ بزرگ بھی تو آخر انسان ہی تھے ،اگر ان سے کوئی بات رہ گئی ہو تو اسے اب پورا کرنا چاہیے‘‘ خاں صاحب بولے ” بسم اللہ آپ ہی کچھ کر کے دکھائیے‘‘ بند و خاں نے کہا:’’مینڈ سوت کی سرگم کا انداز بدلیے،  دھیوت سے گندھار تک کی مینڈ کہنی ہوتو اسے دھا گا کے بدلے دھگ کہیے۔اسی طرح نکھاد سے دھیوت کی مینڈ کوند ھ اور دھیوت سے نکھاد کی مینڈ کو دھن کہیے۔ مدھم سے دھیوت کی مینڈ کو مدھم اور پنجم سے گندھار کو پگ کہیے ۔اسی طرح وہ دو دوسر ملاتے چلے جائیے جن کے درمیان مینڈکھینچی ہو‘‘ ۔ اس تجویز پر سب حیران رہ گئے اور یہ اتنی معقول تھی کہ سب نے اسے منظور کر لیا۔ استاد کا عمل بھی آخر تک مینڈ سوت کی سرگم پر رہا۔

     بُند و خاں بڑے سیدھے سادے آدمی تھے ۔لڑائی جھگڑے سے دور رہتے تھے ۔ ان کا علم وفضل اتنا زیادہ تھا کہ سارے کام کرنے والے ان سے دبتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے ۔استاد نے اپنے بجانے کے لیے ایک چھوٹی سی سارنگی بانس کی بنالی تھی۔ باج کا تاررودے کے بدلے فولا دکا ڈالا تھا۔اس سے اس کی آواز میں بڑی چمک آگئی تھی ۔ سنگت بھی اسی سارنگی سے کرتے تھے ۔ایسا ویسا گانے والا تو ان کی سنگت میں دب کر رہ جا تا تھا۔ استاد فیاض خان جیسا چو مکھا گویّا بھی آج تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ فیاض خاں بُند و خاں کی بہت عزت کرتے تھے اورکبھی چھیڑ چھاڑ بھی کرتے تھے ۔ فیاض خاں ایک کانفرنس میں گارہے تھے۔ بُند و خاں ان کی سنگت کر رہے تھے۔ جب بُند و خاں کی سارنگی فیاض خاں کے گانے پر چڑھنے کی تو فیاض خان نے چپکے سے مزاحاً کہا۔

    ’’کیا بانس بجایا کرتے ہو؟‘‘ بُندوخاں نے ہنس کر کہا: ’’یہ بانس کہہ رہا ہے، ہندوستان میں کتنے کوڑھ ہیں‘‘۔

    مہاراجہ اندور کے ہاں ہولی کے موقع پر گانے بجانے کا بڑا عظیم الشان جلسہ ہوتا تھا۔ سارے ہندوستان کے چیدہ فنکار جمع ہوتے تھے۔ بیس بیس پچیس پچیس ہزار کے انعام استادوں کو ملتے تھے ۔ سنگیت سمراٹ استادر جب علی خاں اپنے وقت کا بڑا کڑوا گویّا تھا۔ گھنٹوں دُرت گاتا تھا اور ایک سے ایک نئی لاتا تھا۔ ایک ہولی میں جب رجب علی خاں گانے بیٹھے تو ان کے ساتھ سارنگی بجانے کے لیے مہاراج نے بُند و خاں کو بٹھا دیا۔ دونوں کی چڑھتی جوانی، ریاض بنے ہوئے ۔ گویئے کو یہ زعم کہ گلے کے ساتھ بھلا ہاتھ کیا کرے گا اور سارنگی نواز اس ترنگ میں کہ تمہارا سارا علم میرے ناخنوں میں ہے۔ جو گانا بجانا شروع ہوا ہے تو نہ وہ ہٹتا ہے نہ یہ  اور تا نیں وہ بن بن کر آرہی ہیں کہ ساری محفل پھڑ کی جارہی ہے۔ ہاتھ گلے کا ساتھ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو جیسا اس دن ہوا۔ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ دونوں ایسے گتھے ہوئے تھے جیسے بلبلوں کی پالی ہورہی ہو ۔ نو گھنٹے تک ہی پکڑ جاری رہی ۔ کانٹے کی کشتی ہورہی تھی مگر نہ آر ہوتی تھی نہ پار۔ آخرمہاراج نے دونوں کو انجام دے کر برابر چھڑایا۔

    بُند و خاں نے سارنگی کی ساخت کے بھی تجربے کیے تھے۔ انہوں نے مختلف قد و قامت کی سارنگیاں مختلف قسم کی لکڑیوں کی بنوائیں اور انہیں بجا بجا کر دیکھتے رہے پھر انہیں خیال آیا کہ بانس کے ریشے سیدھے اور لمبے ہوتے ہیں ۔ ذرا موٹے بانس کی دو فٹ پور پر ایک سارنگی بنوائی۔ اس پر رودے ( تانت) کے تار چڑھائے ، سارنگی نہیں بولی ۔ فولا د کے تار چڑھائے نہایت عمده آواز پیدا ہوئی پھر مختلف قسم کے بانس منگوائے اور ان پر تجربے کرتے رہے۔ ایک بانس کی پور برما سے بھی منگوائی تھی۔ اس کا قطر کوئی چھ سات انچ ہوگا۔ یہ سارنگی بھی خاصی اچھی بولی گر دیسی بانس کے مقابلے میں ٹھس رہی۔ آخر میں انہوں نے بانس کی دوسارنگیاں اپنے لیے  مخصوص کر لی تھیں ۔ انہیں کو بجایا کرتے تھے اور اپنے استاد ممن خاں کی بڑی سارنگی (سرساگر ) بھی بجایا کرتے تھے مگر ان کا اصل جوہر بانس کی چھوٹی سارنگی ہی پر کھلتا تھا اور ریڈیو پر تو ان کی سارنگی کچھ عجیب دلکش چیز بن جاتی تھی۔

    بُند و خاں کی قدربھی ایسی ہوئی کہ آج تک کسی سازندے کی نہیں ہوئی ۔ ہزاروں روپیہ ریاستوں اور رئیسوں سے انعام میں پایا۔ ۲۷ سال اندور میں ملازم رہے۔ مہاراج کے محبوب فنکار تھے۔ جب مہاراج گدی سے علیحدہ ہو کر امریکہ چلے گئے تو بُند و خاں بھی ملازمت ترک کر کے دِلّی چلے آئے۔ ان کی پنشن انہیں برابر ملتی رہی۔ پاکستان چلے آنے کے بعد بھی، بلکہ مرتے دم تک ، مزاج درویشانہ پایا تھا۔ روپے پیسے سےکبھی محبت نہیں کی ، جو کچھ کمایا، اماں کو دیا اور اماں کے مرنے کے بعد بیوی کو۔ غریب کنبہ داروں کی مدد کرتے رہتے تھے، کسی عیب میں نہیں تھے ۔ چانڈ و پینے کی لت نہ جانے کہاں سے لگ گئی تھی۔ اس میں البتہ کچھ روپیہ ضائع ہوا اور صحت کو بھی نقصان پہنچا۔ بڑے

    مرنجاں مرنج  آدمی تھے اور باتیں بھولی بھالی کرتے تھے۔ منکسر المزاج اتنے کہ کبھی آنکھ ملا کر بھی بات نہ کرتے تھے۔

    کانفرنسوں میں ہزاروں روپیہ روزانہ پر جاتے تھے۔ ان کے قدردان بمبئی سے ہوائی جہاز چارٹر کر کے کلکتہ کانفرنس میں انہیں سننے جاتے تھے۔ نواب رام پور اکثر بلایا کرتے اور پانچ سو روپے روزانہ دیتے۔ دِلّی کے ہندورئیس آئے دن بلاکر سنتے ، دو دوسو چار چار سو روپے دیتے۔ سیٹھ بِر لاتو خوش ہو کر کہتے’’ بُند و خاں ! اگر تم ہندو ہوتے تو اس وقت تمہیں سونے میں تول دینا‘‘ سردار پٹیل کو جب دل کا عارضہ ہوا تو نہ جانے کس طبیب کے مشورے پر انہوں نے بُند و خاں کو اپنی کوٹھی پر بلا کر روزانہ سارنگی سننی شروع کی۔ خدا کی قدرت کہ انہیں افاقہ ہوگیا۔ ہندوستان میں جب ۱۹٤۷ ء میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو بُند و خاں نے گھبرا کر پاکستان آنے کا قصد کیا۔ سردارپٹیل کو اس کی کسی طرح اطلاع ہوگئی تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ تم بالکل نہ گھبراؤ تمہارے گھر پر ملٹری کا پہرہ لگوا دیا جائے گا۔ تمہیں بارہ سو روپے ماہوار کے پروگرام آل انڈیا ریڈیو سے دیئے جائیں گے اور جسم کی امداد چاہو گے وہ بھی ملے گی‘‘۔ مگر بُند و خاں کا دل اچاٹ ہو چکا تھا ۔کہتے تھے کہ ہندوستان کی زندگی سے تو پاکستان کی موت اچھی۔ ۱۹٤۸ ء کے شروع میں چپکے سے بذریعہ ہوائی جہاز پاکستان چلے آئے۔

    لاہور میں سال بھر رہے، یہیں سے ان کے مالی مصائب کا آغاز ہوا۔ تنگی  ترشی سے گزارا ہونے لگا جس گھر میں رہتے تھے اس کی جڑ میں پانی مرنے لگا اور وہ بالکل کھل گیا۔ لاہور سے بیزار ہو کر کراچی پہنچے۔ ریڈیو پاکستان نے ان کی سر پرستی کی اور ان کی حالت کچھ سدھرگئی ۔ شہر کے ایک گنجان تجارتی علاقے میں دو کمروں کا خاصا بڑا فلیٹ بھی انہیں ایک قدردان نے الاٹ کر دیا تھا۔ ایک سال یہاں رہے ہوں گے کہ ان کے پاس ایک دلال پہنچا کہ آٹھ ہزار اس کی پگڑی لے کر کہیں اور چلے جاؤ معلوم ہوا کہ کوئی سیٹھ صاحب پوری بلڈنگ کے کرایہ داروں کو پگڑی دے کر بلڈ نگ خالی کرانا چاہتے ہیں ۔ بعض نے تو اس پیشکش کو قبول کرلیا اور بعض نے اسے نامنظور کر دیا۔ آخری باربُند و خاں کو دس ہزار روپے کی پیشکش کی گئی مگر وہ بھولے آدمی توبہ توبہ کر کے وہیں بیٹھے رہے۔ کچھ دنوں کے بعد میونسپل کارپوریشن کا نوٹس  آیا کہ مکان خالی کر دیا جائے کیوں کہ عمارت خطرے میں ہے اور اسے ڈھایا جائے گا اور نوٹس کی میعاد ختم ہوتے ہی مزدوروں نے اسے ڈھانا شروع کردیا۔ ناچار وہاں سے نکلے اور پرانی نمائش کی ایک ٹوٹی ہوئی دکان میں آبیٹھے۔ یہاں بارش نے رہنے نہیں دیا تو پیر کالونی کے ایک کھنڈلے میں پناہ لی۔ آخرکسی خداترس افسر نے لالوکھیت میں ان کو تھوڑی سی زمین الاٹ کر دی۔ اس پرقرض دام کر کے انہوں نے ایک کمرہ ڈلوا لیا اور پندرہ افراد کا خاندان اس ایک کمرے میں زندگی کے دن بسر کرنے لگا۔ پاکستان میں ریڈیو پاکستان ہی ان کا سب سے بڑا سرپرست تھا۔ جب ان کے دونوں لڑکے بھی ریڈیو پاکستان میں ملازم ہو گئے تو انہوں نے سکھ کا سانس لیا مگر گئے دن؟ سفینہ کنارےآ لگا تھا ، سارنگی کا جادوگر نغمے کے جادو جگا کراب خودسو جانا چاہتا تھا۔

    استاد نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’جس دن ہماری انگلی   بے سری پڑنے لگے گی ،سمجھ لینا کہ ہمارا وقت قریب آ پہنچا‘‘ اور سچ مچ مرنے سے چند روز پہلے انہوں نے جو آخری پروگرام کیا تو میں نے بھی دیکھا اور ریڈیو کے دو ایک اور آدمیوں نے بھی کہ استاد کے ہاتھ میں کمزوری آ گئی ہے۔ میرا ماتھا اسی دن ٹھنکا تھا۔ میں نے ان کے لڑکے امراؤ خاں سے پوچھا کہ استاد کی طبیعت کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے،

    پیچش  نے کمزور کر دیا ہے۔ میں نے سوچا کہ شام کو ان کی مزاج پرسی کو جاؤں گا مگر دن کے کوئی ساڑھے بارہ بجے فلمی  ریکارڈ بجاتے بجاتے ریڈیو نے یہ غمناک خبر سنائی کہ استاد ہم سے رخصت ہوئے ۔ یہ ۱۳ جنوری ۱۹۵۵ ء کا ذکر ہے۔

    لالوکھیت جا کر دیکھا کہ استاد کا بے روح جسم چار پائی پر پڑا ہے اور گھر میں کہرام مچا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا’’ یہ کیسے ہوا؟ مرنے کی تو حالت نہیں تھی‘‘۔ لڑکے نے بتایا کہ اچھے خاصے تھے، مجھے بلایا اور کہا:”لو یہ چیز لے لو‘‘ مجھے چیز یاد کرائی۔ پھر بولے’’ آج طبيعت ٹھیک نہیں ہے‘‘ میں نے کہا: ’’ابا میں ڈاکٹر کو لاتا ہوں‘‘ میں کپڑے پہننے لگا۔ اماں جوکسی کام سے کمرے میں گئیں تو دیکھا کہ ابّا بے سدھ پڑے ہیں ۔ آواز دی نہیں بولے۔ ہلایا جلایا، وہاں کیا رکھا تھا۔ ان کا طائرِ روح ستر سال کے بعدقفسِ عنصری سے رہائی پا چکا تھا‘‘۔

    بُند و خاں کی سناؤنی سارے شہر میں بجلی کی طرح پھیل گئی اور تیسرے پہر تک دو تین سو آدمی ان کے گھر پہنچ گئے ۔ ایشیا کا سب سے بڑا فنکار اور دنیا کا سب سے بڑا سارنگی نواز شام ہوتے آخری منزل پر پہنچایا گیا اور جس وقت پڑوس کی مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز آئی تو ہم اس عظیم انسان کی ڈھیری پر فاتحہ پڑھ رہے تھے۔