استاد بیخود دہلوی
استاد بیخود دہلوی
دِلّی کے اُردو بازار میں کتب خانہ علم و ادب ادیبوں اور شاعروں کا ایک اچھا خاصہ اڈہ بن گیا تھا۔ یوں تو چلتے پھرتے سبھی یہاں ٹھیکی لیتے تھے مگر مغرب کے بعد یہاں بطور خاص ادیبوں کا پھڑ جمتا تھا۔ آندھی جائے مینہ جائے یہاں آنے والوں کا پھیرا ناغہ نہیں ہوتا تھا۔ ایک تو مرکزی جگہ، دوسرے کتب خانے کے مالک سید وصی اشرف کی خوش اخلاقی شام پڑتے ہی سب اپنے اپنے گھروں سے چل کر کتب خانہ پر جاتے۔ روزکے آنے والوں میں ظفر قریشی ، اخلاق احمد ، صلاح الدین قریشی ، صادق الخیری، نہال سیوہاروی ،فہیم بیگ چغتائی، میر صاحب (نام پوچھنے کی کبھی نوبت ہی نہ آئی ، بہار کے رہنے والے تھے) حکیم حبیب اشعر اور محمد میاں تھے۔ دو تین گھنٹے مزے مزے کی باتیں ہوئیں۔ چائے کے دور چلتے یہ چائے دو طرح کی ہوتی تھی ۔ ایک تو وہ جو وصی اشرف اخلاقاً پلاتے تھے اور دوسری وہ جو جرمانے میں پلائی جاتی تھی۔ یہ جرمانہ شاعروں سےبچنے کے لیے عائد کیا گیا تھا۔ دراصل ہوا یہ کہ شاعروں نے بھانپ لیا کہ یہاں شام کو چندشریف آدمی جمع ہوتے ہیں بس پھر کیا تھا اللہ دے بندہ لے۔ شاعروں نے یلغار شروع کردی ، شروع شروع میں تو تکلف میں انہیں سنا، پھر مروّت میں۔ مگر جب جان ضیق میں آ گئی تو تکلف اور مروّت دونوں کو بالائے طاق رکھا اور صاف صاف کہہ دیا جاتا کہ یہاں کا دستور کچھ اور ہے وہ یہ کہ جوصاحب اپنے کلامِ بلاغت نظام سے مستفیض فرمانا چاہیں وہ سامعین کے کام و دہن کو بھی چائے سے فیض پہنچائیں، چناں چہ شاعروں کی یورش ختم ہوگئی۔ اس پربھی قراقرشعر نے بہت سوں کو چین سے بیٹھے نہ دیا اور شاید ہی کوئی منحوس دن ایسانہ گزرتا ہو کہ جرمانے کی چائے نہ پی جاتی ہو، اور تو اور آپس کے بیٹھنے والے بغلی گھونسہ بن جاتے۔ اچھّے بچھّے بیٹھے ہیں کہ لگے پہلو بدلنے۔ ارے بھئی خیر توہے؟ کسی نے برابر سے کہا: ’’شعرلگ رہا ہے شاید!‘‘ اورنہال نے جھٹ گلے میں با ہیں ڈال کر بڑی لجاجت سے کہا ”بھائی غزل ہوگئی ہے، سن لو“ کہا، ’’بھائی سب کو چائے پلانی پڑے گی‘‘ بولے ’’منگوا لیجیے‘‘ مرزا جی چائے والے کا لڑکا تاوے کاٹتاہی رہتا تھا۔ جھٹ لے آتا۔ نہال ترنم سے اپنی غزل سنانی شروع کرتے تو اخلاق احمد کہتے’’ دیکھو بھئی تحت اللفظ کی بات ہوئی تھی۔ اگرتم ترنم سے سنانی چاہتے ہو توبسکٹ بھی ہوں گے‘‘ نہال کہتے’’اچھا بسکٹ بھی منگالو‘‘ چناں چہ سب کے لیے ایک ایک نمکین بسکٹ بھی آجاتا۔ پھر غزل سنی جاتی، دھواں دار واہ واہ ہوتی۔ نہال مرحوم نہالم نہال ہو جاتے ۔ کبھی کبھی مرزا فہیم بیگ چغتائی اپنا موٹا سا ڈنڈا ہلاتے ہوئے آتے ، اور آتے ہی اعلان کر دیتے کہ ’’آج جوانوں نے غزل کہی ہے‘‘ چائے منگوائیے سید صاحب ۔ سید وصی اشرف فوراً چائے کا آرڈر دے دیتے اور مرزا صاحب کی غزل کا سب لطف اٹھاتے ۔ یہ اجتماع اتنا دلچسپ ہوتا تھا کہ وصی اشرف اپنی دکان داری بند کر دیتے تھے۔ اگر کوئی جاننے والا آ کر کتاب مانگتا تو کہہ دیتے کہ اب تو وقت ختم ہو گیا اور اگر کوئی انجانا آجاتا تو کہتے’’ کل دن کو آپ آیئے، منگوارکھوں گا‘‘ غرض رات کے دس بجے تک خوب رونق رہتی۔
انہیں روز کے آنے والوں میں سے ایک حضرت بیخو ددہلوی بھی تھے جو مغرب کے لگ بھگ ایڈورڈ پارک کی طرف سے ٹلکتے ٹلکتے آتے تھے۔ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ کچھ پِنگے ہو گئے تھے۔ دونوں ٹانگیں کمان کی شکل ہوگئی تھیں اور انہیں چلنے میں خاصی زحمت ہوتی تھی مگر وہ شام کو مٹیا محل سے ایڈورڈ پارک تک ضرور جایا کرتے اور واپسی میں کتب خانہ پرٹھیکی لیتے، کبھی کتب خانہ کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھ جاتے اور کبھی اندر جا بیٹھتے ۔ وصی اشرف صاحب کے والد سیدعلی اشرف صاحب بڑے نیک اور پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ عمر میں بے خودصاحب سے کچھ چھوٹے تھے مگر بے خودصاحب کو ان سے بڑی عقیدت تھی اور اکثرچمڑے والی پہاڑی کی چڑھائی چڑھ کر ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ تو گھر میں بڑی ہنسی پڑ ی سید صاحب کی ڈیوڑھی پر ایک آدمی رہتا تھا۔ یہ سید صاحب کا مرید بھی تھا، در بان بھی اور وفادار خادم بھی۔ مگر بڑا سادہ لوح، ایک دن بیخود صاحب نے آواز دی، میاں مرادی نے پوچھا ’’آپ کا نام؟‘‘انہوں نے کہا: ’’بیخود‘‘ اندر جا کر میاں مرادی نے فرمایا ’’بے وقوف صاحب آئے ہیں‘‘۔ سیدصاحب کی تیوری پر پہلے تو بل آیا مگر فوراً ہی سمجھ کر مسکرا دیے اور بیخود صاحب کو اپنے پاس اندر بلوالیا وہ تو خدا نے بڑی خیر کی کہ بیخود صاحب کو میاں مرادی کے توارد کی خبر نہیں ہوئی۔ ورنہ و ہیں لتّے لے ڈالتے۔
ہاں تو وصی اشرف صاحب سے بیخود صاحب کی دو گونہ تعلق خاطر تھا۔ ایک تو ان کے والد کے تقدس کی وجہ سے اور دوسرے ان کے سرمایۂ کتب کے باعث بیخودصاحب کو کتابوں کی چاٹ پڑ گئی تھی۔ روزانہ ایک ناول لے جاتے اور اگلے دن واپس کر کے دوسرا لے جاتے۔ وصی اشرف نے انہیں بڑھیا سے بڑھیا اور گھٹیا سے گھٹیا سارے ہی ناول چٹا دیئے مگر بیخودصاحب ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ ’’میاں اس میں مزہ نہیں آیا، کوئی اور دو ‘‘اور وصی اشرف دِلّی کے جوتے والوں کی طرح روز انہیں ایک تو فہ (تحفہ ) ناول دیتے اور وہ اسے اپنے بڑے سے لاکھی رومال میں لپیٹ کر لے جاتے ۔ پڑھتے صرف ناول ہی تھے۔
بیخودصاحب اس وقت اَسّی سے اوپر ہو چکے تھے۔ ہاتھوں میں رعشہ آ گیا تھا، چہرہ چرمرا ہوکر رہ گیا تھا۔ رنگ گھٹا ہوا گندمی ، سفید براق سرسیّدی داڑھی ،لبیں ترشی ہوئیں۔ اتنی عمر ہو جانے پر خاصے ٹانٹے تھے اور سیدھے چلتے تھے۔ بتیسی پوری نقلی چڑھی ہوئی تھی جس کا تا لوا کر ڈھیلا ہو جاتا اور بات کرنے میں پورا جبڑ ا نیچے آرہتا پھراسے چبا کر ٹھیک کرتے تو بات کرتے ، لہجہ خاص دہلی والوں کا تھا، تکلف سے بری اور آواز اونچی اور کراری تھی۔ جب موج میں آتے تو بے ساختہ گالیاں بھی شروع کردیتے ، مگر بڑی بر جستہ اور جب انہیں جلال چڑھتا تو پھر چھوٹے بڑے کا ادب لحاظ بھی اُٹھ جا تا ۔ ایک دفعہ ٹاؤن ہال میں بہت بڑا مشاعرہ ہوا۔ بیخود صاحب نے مدتوں سے مشاعروں میں جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ جنگ کا زمانہ تھا اورغالباً سرکاری مشاعرہ تھا کنور مہندر سنگھ وغیرہ منت سماجت کر کے انہیں لے گئے۔ بیخود صاحب نے نئی غزل کہی اور مشاعرے میں پہنچ گئے ۔ ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ آگے کی قطاروں میں خواتین بھی تھیں ۔ مشاعرہ خوب گرم ہورہا تھا ۔ بیخود صاحب ڈائس پر پہنچے تو استاد کے نام کی آوازیں پڑنے لگیں ۔ یوں بھی استاد زیادہ دیر کب بیٹھنے والے تھے، یاد نہیں کون صاحب صدارت کر رہے تھے۔ مشاعرے میں انتشار پیدا ہوتا دیکھ کر استاد ہی کے نام کا اعلان کردیا۔ بیخودصاحب خود نہیں پڑھتے تھے، ان کا ایک خوش آواز شاگردتھا ، وہ پڑھا کرتا تھا ، اس دن اتفاق سے وہ شاگرد ساتھ نہیں تھا۔ ایک اور شاگرد تھا، وہ نہ صرف بد آواز تھا، طبع موزوں بھی نہ رکھتا تھا۔ بیخود صاحب نے اسے اپنی غزل دی اور وہ بڑے اہتمام سے اسے پڑھنے بیٹھا مگر جب اس نے مصرعے ناموزوں پڑھنے شروع کیے تو ہال میں ہنسی پھیلنےلگی اور کچھ آواز ےتاویزے بھی کسے جانے لگے۔ بیخودصاحب پہلے تو اسے داد سمجھے، پھر جو معلوم ہوا کہ بیداد ہورہی ہے تو مارے غصے کے بے آپے ہو گئے ۔ وہیں سے مغلظات شروع کر کے شاگرد کی طرف کھسکے اور اس کے ہاتھ سے غزل چھین کر مائیکروفون پر اس گالیاں دینی شروع کیں ۔ مشاعرے میں کھلبلی پڑ گئی اور ایک شورِ قیامت برپا ہو گیا۔ بارے بیخود صاحب کا کڑ ا کا سنائی دیا اور انہوں نے اپنے شعر تحت اللفظ پڑھنے شروع کر دیے۔ ہال میں سناٹا چھا گیا۔ شعرختم ہوتا تو داد کا شور بلند ہوتا ۔ سبحان الله ! غزل کا تو ان کی جواب ہی نہ ہوتا تھا ، مشاعرہ انہی کے ہاتھ رہا۔
بیخود صاحب کے ہاتھ سے ہزار دانہ کبھی نہ چھوٹتا تھا۔ ہر وقت تسبیح گھومتی رہتی تھی۔ باتیں بھی کرتے جارہے ہیں اور دانے بھی کھٹاکھٹ چل رہے ہیں ۔ میں نے ایک دفعہ ان کے بالکل قریب بیٹھ کر کنکھیوں سے ان کے کھلے ہوئے منہ میں جھانک کر دیکھا، زبان تالو سے ٹکراتی اور نیچے آ جاتی ، اوپر جاتی پھر نیچے آ جاتی اور یہی زیرو بم جاری رہتا۔ اس سے اندازہ ہوتا کہ وہ ’’اللہ‘‘ کا ورد کرتے تھے۔
بیخود صاحب اپنے وقت میں گورے پڑھایا کرتے تھے، اس لحاظ سے انگریزی اچھی خاصی جانتے ہوں گے ،مگر ہم نے ان کے منہ سے بھی کوئی انگریزی کا لفظ نہیں سنا۔ ان کے گورے پڑھانے کا ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک دفعہ دو تین مہینے کے لیے انہیں دِلّی سے کہیں باہر جانا پڑ گیا۔ شاگردوں سے انہوں نے چھٹی لے لی۔ ایک شاگرد کا امتحان قریب آ پہنچا تھا۔ اس نے اپنے کسی سویلین دوست سے کہہ کر اس کے دفتر کے ایک کلرک کولگالیا۔ کلرک سے ایک نے پو چھا پڑھانے کا کیا لو گے؟ اس نے اپنی دانست میں بہت بڑھا کر پندرہ روپے ماہوار بتائے ۔ اس زمانے میں کلرک کو پچیس روپے تنخواہ ملتی تھی۔ درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہو گیا اور تین مہینے میں وہ گورا فروٹ ہو گیا۔ اس نے ماسٹر کو پندرہ روپے مہینہ بھی دیا اور کچھ انعام بھی اور بولا :’’ہمارا پہلامنشی پچاس روپے لیتا تھا اور اس نے ہمیں ایک سال میں کچھ بھی نہیں پڑھایا:”بیخودصاحب جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ شاگردتو فارغ التحصیل ہو چکا ہے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ معلوم ہوا کہ فلاں فلاں شخص نے کورس ختم کرا دیا ۔ بیخود صاحب اسے کچھ جانتے تھے۔ اس کے پاس پہنچے اور بولے: ’’میاں اب کیا لو گے؟ ان لوگوں کو کہیں اس طرح پڑھایا جاتا ہے؟ تمہیں اپنے شہر کے اس جراح کا قصہ یاد نہیں بیان ہیں جو قصائی کے لڑکے کا علاج کیا کرتا تھا؟‘‘ پو چھا ’’چگونہ بوده است آں حکایت؟‘‘ فرمایا ’’ایک قصائی کا لڑکا تھا، اس کے پاؤں میں ہڈی کی کر چ چبھ گئی اور زخم پک گیا، قصائی اسے لے کر جراح کے پاس پہنچا، جہاں روزانہ اس کی مرہم پٹی کرتا اور معاوضہ میں آدھ سیر گوشت پاتا۔ یہ سلسلہ دنوں چلتا رہا۔ ایک دن جراح کسی وجہ سے دکان پر نہ جا سکا ۔ اس کے لڑکے نے تمام پھنسی پھوڑوں والوں کی دیکھ بھال کی ۔ شام کو باپ نے پوچھا: ”سب کے کام سدھ ہو گئے تھے نا؟‘‘ بیٹے نے کہا: ”ہاں کام تو سب کے ٹھیک ہو گئے ، مگر وہ جو قصائی کا لڑکا آتا ہے اس کے زخم سے آج ہڈی کی کرچ نکلی، وہ میں نے نکال کر پھینک دی‘‘۔ باپ نے کہا: ’’ابے غضب کر دیا تو نے !اب کیا خاک کھائے گا ! ابے وہی ہڈی تو آدھ سیر گوشت روز کھلا رہی تھی‘‘ تو میں ماسٹر صاحب ان حرام زادوں کو اس طرح نہیں پڑھایا جاتا جس طرح تم نے پڑھایا کہ تین مہینے میں سب کچھ اسے چٹادیا۔ اگر ہم اس طرح پڑھائیں تو بس کھا کما چکے‘‘۔
بیخودصاحب کو جن اتارنا بھی آتا تھا۔ اکثر لوگ انہیں بلا کر لے جاتے اور وہ جن اتار کر چلے آتے۔ ایک دفعہ ہم میں سے کسی نے کتب خانہ پر ان سے پوچھا: ’’کیوں حضرت، کیا واقعی جن ہوتے ہیں؟‘‘ استاد نے فرمایا:’’ ہاں ہوتے ہیں، قرآن شریف میں سورۂ جن موجود ہے۔ جن کے علاوہ پلید روحیں بھی ہوتی ہیں ۔ مثلاً چڑیل، بھتنی، بھتنا، بن سرا، سر کٹا، پچھل پیری، آسیب وغیرہ‘‘، پوچھا: ’’کیا یہ سب انسانوں کو ستاتی ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’بے شک چڑیل کلیجہ چبا جاتی ہے، بھتنے لپٹ جاتے ہیں اورغن غنا کر بولتے ہیں، بن سرے کا سر نہیں ہوتا، سر کٹے کو دیکھو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ابھی کسی نے اس کا سر کاٹ لیا ہے۔ پچھل پیری کے پنجے ایڑی کی طرف ہوتے ہیں ۔ جنوں سے اگر مصافہ کیا جائے تو ان کے انگوٹھے کی ہڈی نہیں ۔ بعض گھروں میں بدروحیں رہنے لگتی ہیں اور طرح طرح سے رہنے والوں کو ستاتی ہیں ۔ یہ آسیب کہلاتا ہے‘‘۔ ’’تو استاد آپ جن کس طرح اتارتے ہیں؟‘‘ میاں جہاں لال مرچوں کی دھونی دی اور حرام زادی کی چوٹی میں بل دے کر دوطمانچے مارے اور جن بھاگا اور اگر طمانچوں سے نہ بھاگا تو جوتا سنبھالا‘‘۔استاد نے اس ترکیب سے بڑے بڑوں کے جن اتار دیے تھے۔ سخت سے سخت ہسٹیریا فوراً رخصت ہو جاتا اور شق وشق تولمحہ بھر میں غائب ہو جاتا تھا۔
استاد بیخود بڑے خوش مزاج اور غپ باز بھی تھے۔ ڈینگ مارنے میں بڑا کمال رکھتے تھے۔ یقینا ًاس سے ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ دوسروں پر اپنا رعب گانٹھنا چاہتے تھے بلکہ اپنی پرلطف باتوں سے دوسروں کے دل لبھاتے تھے۔ بات اس انداز سے کہتے تھے کہ بالکل سنجیدہ معلوم ہومثلاً کہنے لگے۔ امین الدین اور ان کے چند دوست جامع مسجد کی سیڑھیوں سے روزانہ سویرے دوڑ لگاتے تھے۔ ایک صاحب گھڑی لے کر کھڑے ہو جاتے۔ دوڑ لگانے والی ٹولی دِلّی دروازے سے نکل کر فیروز شاہ کے کو ٹلے، ببر کے تکیے، پرانے قلعہ کے سامنے سے ہوتی ہوئی نظام الدین پہنچتی اور نیلی چھتری کا چکر کاٹ کر پھر اسی راستے سے لوٹتی اور جامع مسجد کی سیڑھیوں پر واپس پہنچ کردم لیتی ۔ یہ کوئی سوا آٹھ ساڑھے آٹھ میل کا چکر ہوتا ہوگا اور اس میں انہیں بیالیس منٹ لگتے تھے (یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی تھی کہ ایسا ہوتا ہوگا۔ اب استاد کو زیٹ کی سوجھتی اور فرماتے) ایک دن امین الدین کو راستے میں پیاس لگ آئی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”تم چلو میں سامنے کنوئیں سے پانی پی کر آتا ہوں‘‘۔ دوست آگے بڑھ گئے اور امین الدین نے کنوئیں کا رخ کیا۔ ڈول چرخی پر ڈال پانی کھینچا۔ خوب جی بھر کے پیا۔ اتنے میں عجیب طرح کی آواز برابر میں سے سنائی دی کہ ہمیں بھی پانی پلا دو، امین الدین نے جومڑکے دیکھا تو ایک آدمی کھڑا تھا، چُم ننگا، مگر اس کا سر غائب تھا، کٹی ہوئی گردن پر تازہ تازه خون تھا اور اس میں سے آواز نکل رہی تھی کہ ہمیں بھی پانی پلا دو۔ امین الدین نے کہا:’’تمہارا منہ تو ہے ہی نہیں، پانی کہاں سے پلاؤں؟‘‘ سرکٹے نے کہا: ’’میرے نلخڑے میں ڈال دو‘‘۔ چناں چہ امین نے ڈول بھر کے اس کے نلخڑے میں ڈال دیا۔ سرکٹے نے کہا ’’بڑی پیاس لگ رہی تھی، مگر ایک بات تو بتاؤ تم مجھ سے ڈرے نہیں؟‘‘ امین الدین نے کہا: ’’میاں میں سر والوں سے تو ڈرتا نہیں بن سروں سے بھلا کیا ڈروں گا؟‘‘ گھردیر سے پہنچے تو امین الدین سے ان کے بڑے بھائی نے پوچھا:”ارے بھئی آج بڑی دیر کر دی، کہاں رہ گئے تھے؟‘‘ امین الدین نے سرکٹے سے ملاقات کا واقعہ سنایا تو وہ ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے۔ امین الدین نے کہا:’’ ان چیزوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے ورنہ وہ پریشان کرنے لگتی ہیں‘‘ مگر بھائی نہ مانے اور مذاق اڑاتے رہے۔ امین الدین ناشتہ لینے بازار چلے گئے ، وہاں سے جو بیوڑیاں اور دودھ لے کر واپس آئے تو دیکھا کہ بھائی الٹے لٹکے ہوئے ہیں ۔ ہزار کوشش کرتے ہیں مگر سید ھے نہیں ہو سکتے ۔ بھئی یہ تو خودہماری آنکھوں کا دیکھا ہوا واقعہ ہے۔
بیخو د صاحب کو اپنی شاعری پر بڑا ناز تھا۔استاد داغ کے انتقال پر مرزا خورشید جاہ نے بیخو دصاحب ہی کے جانشینی کی پگڑی باندھی تھی ۔ فرماتے تھے کہ خوداستاد نے وصیت بھی ’’بیخودین‘‘ کے حق میں کی تھی ۔ یہ تثنیہ کا صیغہ بھی خوب تھا۔ خدا جانے وہ دوسرے بیخود کون تھے ۔ نواب سراج الدین احمد خاں سائل دہلوی نے پھر یہ کیا کہ داغ کے جتنے مشہور شاگرد تھے سب کو استاد کی جانشینی کی سند دے دی ۔ یہ ایک الگ قِصہ ہے، خیر ، جارج پنجم کی تخت نشینی اور دلی میں در بار کرنے کے موقع پر بیخو د صاحب نے ایک قصیدہ لکھ کر پیش کیا تھا۔ قصیدے کے آخر میں خاصی تعلّی بھی تھی۔ منشی محمد دین صاحب کو جب قصیدہ سنایا تو منشی جی نے کہا۔ آپ نے اپنا مرتبہ بھی بادشاہ کے لگ بھگ ہی کر لیا۔ بیخود صاحب نے فرمایا:’’اور کیا؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں ان سے کچھ کم ہوں؟ وہ بادشاہ ملک ہیں تو میں بادشاہ سخن ہوں‘‘۔
بیخو دصاحب کو شکار کا بھی شوق تھا۔ شکار چھوٹا بھی کھیلتے تھے اور بڑا بھی ۔مہاراجہ گوالیار سے ان کے خصوصی تعلقات تھے ۔ ایک دفعہ گوالیار گئے تو گوالیار کے سٹیشن پر اترتے وقت انہیں خیال آیا کہ مہاراج کو اطلاع ہی نہیں دی کہ ہم آرہے ہیں اور نہ ان صاحب کو جن کے ہاں ٹھہرنا تھا۔ فرماتے تھے کہ اپنی بھول پر افسوس کرتا سٹیشن سے باہر نکلا تو دیکھا کونجوں کی ایک قطاراڑتی چلی آرہی ہے۔ میں نے امین الدین سے کہا جلدی سے بندوق نکال کر دینا ۔ انہوں نے بکس کھول کر بندوق نکالی اور میں نے کارتوس لگا کر اس طرح فائر کیا کہ ایک کو نج تو میرے ہی قدموں میں آ پڑی۔ دوسری ان صاحب کے گھر میں گری جن کے ہاں مجھے مہمان ہونا تھا اور تیسری راج محل میں عین مہاراج کے سامنے گری۔ میرے میز بان فوراً سمجھ گئے کہ یہ کونج بیخو دصاحب ہی نے گرائی ہے اور جب ہم ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانے کے ساتھ بھنی ہوئی کونج بھی رکھی ہوئی تھی ، ادھر مہاراج نے حاضر باشوں سے کہا: ” لو بھئی بڑی عمر ہے، ابھی ان کا ذکر ہورہا تھا کہ ان کے بغیر شکار کا کیا مزہ (کونج کی طرف اشارہ کر کے ) لو دیکھو بیخودصاحب آ پہنچے۔ اور کھانے سے فارغ ہو کر تھوڑی دیر بعد ہم مہاراج کی خدمت میں جا پہنچے۔
اگلے دن شکار کا پروگرام تھا۔ ہاتھیوں پر سوار ہو کر شیر کے شکار کو چلے، جنگل میں ہانکا کیا گیا۔ شیر نکل کر جب سامنے میدان میں آیا تو سب سے پہلی گولی مہاراج کی چلی مگروه او چھی پڑی۔ شیرنی ہوکر جھلا گیا اور چھلانگ مار کر مہاراج کے ہاتھی سے جا چمٹا۔ میں نے فوراً رائفل اُٹھا کر گولی چٹخائی اور شیر وہیں ڈھیر ہو گیا ۔ مہاراج نے بہت واه واه کی اور بولے ’’اب واپس چلنا چاہیے‘‘، میں نے کہا: ”دنیا میں ہر جانور کا جوڑا پیدا کیا گیاہے۔ جب شیر ہے تو اس کی شیرنی بھی ضرور ہوگی ۔ اسے بھی ساتھ لینا چاہیے‘‘۔ اب شیرنی کی تلاش ہوئی۔ سب نے اپنے اپنے ہاتھی مختلف سمتوں میں ڈال دیے۔ ہمارا ہاتھی جنگل کے ایک گھنے حصے کی طرف چلا ۔ کچھ دیر بعد ہاتھی ایک کھوہ پرپہنچ گیا اور شیرنی جھپٹ کر ہاتھی کے سامنے آئی اور اس کی ڈانٹ سے ہاتھی نے ڈر کر رخ پلٹ دیا مگر اتنی دیر میں میری گولی چل چکی تھی اور شیرنی مر چکی تھی، اسے ہاتھی پر لاد کر ہم وائیں چلنے کو ہوئے ، فائر کی آواز سن کر مہاراج اور دوسرے شکاری ہم سے آملے۔ مہاراج نے کہا: ’’لو بھئی اب تو جوڑا تیار ہو گیا، اب وا پس چلو‘‘ میں نے کہا: ’’ذراٹھہریے میں ابھی آیا‘‘ یہ کہہ کر میں کھوہ میں گھس گیا مجھے خیال تھا جب شیر اور شیرنی ہیں تو ان کے بچے بھی ضرور ہوں گے اور واقعی میں دو بچے کھوہ میں نظر آئے انہیں اچکن کی جیبوں میں چھپا کر میں لے آیا اور میں نے کہا: ’’اب چلیے ، مگرنہیں ذرا اور توقف کیجیے، شیر کا گوشت کھایا تو جاتا نہیں اور وہ شکار ہی کیا ہوا جس میں کھانے کو گوشت نہ ملے؟‘‘ مہاراجہ نے کہا۔’’ہاں، بات تو ٹھیک ہے‘‘ قضا عنداللہ، سامنے ایک کالا ہرن اینڈتا ہوا گز را گز گز بھر کے سینگ، میں نے دھا ئیں سے فائر کیا، اس نے ڈھیکلی کھائی مگر اُٹھ کر تراٹ ہوگیا۔ ہرن کو جاتا دیکھ کر امین الدین لپکے، ہرن نے قلانچیں بھرنی شروع کر دیں مگر امین الدین نے دوڑ کر اسے جاد بایا اور بسم الله، الله اکبر کہہ کر اس کے گلے پر چھری پھیر دی ۔ پھر اس کوگٹھری بنا دیا کندھے پر رکھ کر ہمارے پاس لے آئے۔ مہاراج نے ان کی پھرتی کی بہت تعریف کی ۔ میں نے کہا:”اسے دوڑ لگانے کی مشق ہے، یہ تو زخمی ہرن تھا اگر امین الدین جی پر رکھ لے تو ویسے ہی دوڑ کر جنگل سے ہرن پکڑ لائے۔
بیخودصاحب شاعر تو بڑے پر گو تھے ہی ، نثر بھی اچھی لکھتے تھے مگر انہیں نثر لکھنے کی طرف زیادہ توجہ نہیں ہوئی ۔ کوئی پینتیس سال ادھر کی بات ہے مولانا عبدالحلیم شرر نے مروجہ پردہ کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔ انہوں نے مضامین بھی لکھے تھے اور ایک ناول ’’بدرالنساء کی مصیبت‘‘ بھی لکھا تھا، جس میں پردے کی خرابیاں بیان کی تھیں ۔ اس پر ملک میں خاصی لے دے ہوئی تھی۔ مولا نا شرر نے ہندوستان کے مشہور ادیبوں اور شاعروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے نجی خطوط لکھے تھے کہ اس میں ان کے ہم خیال بنیں اور اس سلسلے میں لکھنا شروع کر دیں۔ میں اس زمانے میں سکول کی چھوٹی جماعتوں میں تھا اور ادب کے دردِسر سے آزاد۔ اتنا یاد ہے کہ ابا مجھے فارسی پڑھارہے تھے کہ ان سے ملنے کوئی بزرگ آگئے۔ ابا نے ان سے کہا تھا کہ’’ شرر کا ایسا ایسا خط آیا ہے اور میں نے انہیں لکھا ہے کہ سب سے پہلے تو اپنی بیوی کا پردہ اُٹھاؤ ، جب میں انہیں سر بازار بے پردہ دیکھ لوں گا تو تمہارا ساتھ دوں گا‘‘۔ استادبیخو دفرماتے تھے کہ ’’میرے پاس بھی شررکا اسی مضمون کا خط آیا تھا میں نے اس کا تو کوئی جواب دیا نہیں البتہ اس کے جواب میں ایک ناول ’’ننگ و نا موس“ لکھ کر شائع کرادیا تھا۔ اس ناول میں پردے کی خوبیاں اور بے پردگی کی خرابیاں بتائی گئی تھیں ۔ افسوس کہ وہ ناول ایک دفعہ چھپنے کے بعد دوبارہ نہیں چھپا۔ اس کا کچھ حصہ میں نے وصی اشرف صاحب کے رسالہ ’’شاہ جہاں‘‘ میں دیکھا تھا۔ پورا ناول دیکھنے کی آج تک ہوس ہے۔
استاد کے سینکڑوں شاگرد تھے۔ شیرینی لے کر شاگرد بناتے تھے۔ بس اس کے بعد شاگرداصلاح لیتے رہتے تھے، دیتے دلاتے کچھ نہ تھے۔ دِلی کلاتھ مل والے لال شنکر لال ان کے شاگرد ہوئے تو مرتے دم تک برابر سلوک کرتے رہے، غالبًا استاد کو ان کے ہاں سے ماہوار مشاہرہ بھی ملتا تھا۔ آں جہانی نہایت نا موزوں طبیعت رکھتے تھے مگر شعر کہنے کی انہیں ہڑک تھی، بے تکے اور ناموزوں مصرعے کہہ کر استاد کو دیتے۔ استاد انہیں کیا خاک بناتے، پوری غزل کہہ کر خود ہی دے دیتے۔ لالہ جی کو چند بار مشاعروں میں غزل پڑھتے سنا۔ شایدکبھی بھول کر کوئی مصرعہ بھر میں پڑھ دیتے ہوں تو پڑھ دیتے ہوں، ویسے معلوم ایسا ہوتا تھا کہ بڑی کوشش سے ہر مصرعہ ناموزوں پڑھ رہے ہیں۔ لالہ مرلی دھر لائل پور ملز والے بھی استادہی کے شاگرد تھے اور استاد کی بڑی عزت و تکریم کرتے تھے۔ ہر سال لائل پور میں ایک شان دار مشاعرہ بڑے اہتمام سے کرتے ۔ شاعروں کو دور دورسے بلاتے۔ بڑی بڑی رقمیں دیتے اور وقت رخصت سب کو اپنی مل کا بنا ہوا کپڑا وغیرہ بھی دیتے۔ استاد کو خودآ کر دِلی سے لے جاتے اور ہتھیلی کے پھپھولے کی طرح رکھتے۔ لالہ شنکرلال کے بعد لال مرلی دھر استاد کے کفیل ہوگئے۔ پاکستان بننے کے بعد لالہ مرلی دھر ہوائی جہاز کے سانحے میں کام آئے۔ ان کے بعد خدا جانے استاد پر کیا گزری۔ اب آخر آخر میں حکومت ہند نے ڈیڑھ سوروپے ماہوار کا وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔ اس سے استاد کی کچھ اشک شوئی ہوگئی۔
ہارڈنگ لائبریری میں فصیح الدین احمد مرحوم کے اہتمام سے ایک آل انڈیا مشاعرہ ہوا تھا۔ بیخود صاحب کو بھی فصیح الدین احمد کسی نہ کسی طرح رضامند کر کے لے گئے ۔ صدارت سررضاعلی کررہے تھے۔ یہ بڑے سلجھے ہوئے مزاج کے بزرگ تھے۔ ادب و شعر کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ بڑے حاضر جواب اورفقر ہ طراز تھے۔ مشاعرے کو آخرتک سلیقہ مندی سے چلاتے اور کسی کو شکایت کا موقع نہ دیتے۔ ہمارے شاعروں میں بزرگی و استادی کا تصور بنایا ہوا ہے کہ جو جتنا بعد میں پڑھے گا وہ اتنا ہی بزرگ و استاد سمجھا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر شعرا کی ترتیب اورمقدم مؤخر پر بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، آج کل بھی اس کا خاص طور پر لحاظ رکھا جاتا ہے کہ مشاعرہ نو آموزوں سے شروع کر کے استادوں پرختم کیا جائے۔ مگر سر رضا علی کی صدارت میں کسی کو دم مارنے کی مجال نہ ہوتی تھی ، جس کا نام انہوں نے پکار دیا وہ بے چون و چراسٹیج پر جا تا تھا ۔ ہارڈنگ لائبریری کے مشاعرے میں جب سارے شاعر پڑھ چکے تو آخیر میں دو بزرگ بچے رہ گئے۔ ایک حضرت بیخود دہلوی اور دوسرے حضرت ثاقب لکھنوی ۔ دونوں ایک سے ایک بڈھا اور پرانا دُم گلا۔ سب کو یہ اندیشہ کہ دیکھیےکہیں آخر میں بدمزگی نہ ہو جائے مگر سررضاعلی کا تدبر آڑے آیا۔ انہوں نے کرسی صدارت فوراً چھوڑ دی اور کہا: ’’اب میرے دومحترم بزرگ باقی رہ گئے ہیں جو صاحب چاہیں گے پڑھیں گے ‘‘اس پر بیخودصاحب نے فرمایا ” پہلے میں پڑھوں گا‘‘ اور ثاقب صاحب نے فرمایا ’’پہلے میں پڑھوں گا‘‘ ایک نے کہا: ’’نہیں بھائی، آپ مجھے اجازت دیجیے‘‘ دوسرے نے کہا: ’’یہ نہیں ہوسکتا، آپ مجھے اجازت دیجیے‘‘اب یہ انہیں پکڑ رہے ہیں اور وہ انہیں پڑ رہے ہیں کہ’’ نہیں پہلے میں‘‘ مشاعرے میں ہنسی پڑ گئی۔ قصہ مختصر بیخود صاحب نے فرمایا ’’آپ ہمارے مہمان ہیں اس لیے پہلے میں پڑھوں گا، میرے بعد آپ پڑھیں گے‘‘یہ کہہ کر پڑھنے بیٹھ گئے۔
حج کرنے کے بعد بیخود صاحب کا مزاج بہت بدل گیا تھا۔ ان کی تنک مزاجی و آشفتہ سری تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی ۔ ور نہ یہی بیخودصاحب تھے کہ ناک پرمکھی تک بیٹھنے نہ دیتے تھے۔ نواب سراج الدین سائل کو اگر یہ زعم تھا کہ میں داغ کا داماد ہوں تو انہیں اس کا گھمنڈ تھا کہ میں استاد کا چہیتا شاگرد ہوں اور استاد نے اپنے شاگردوں کے چاروں رجسٹر میرے سپرد کر رکھے تھے۔ سائل صاحب سے ان کی کبھی نہ بنی۔ ادبدا کر انہیں نیچا دکھانا چاہتے تھے۔ دِلّی کے مشاعروں میں دونوں استادوں کے شاگردوں میں آئے دن جھگڑے ہوتے اور مار پیٹ تک نوبت پہنچتی۔ اس بے ہودگی کی وجہ سے صرف ایک رُخے مشاعرے رہ گئے تھے اور بھلے آدمیوں نے مشاعروں میں جانا چھوڑ دیا تھا مگر یہ عجیب طرح کی مخاصمت تھی ۔ شاعری سے قطع نظر دونوں استادوں میں خلوص و محبت کے تعلقات تھے۔ نواب سائل نے اپنے بیٹے کو تاکید کر رکھی تھی کہ بیخودصاحب سے اصلاح لیا کرو۔
بیخود صاحب نے دیوان غالب کی شرح بھی لکھی تھی ۔ اشعار کا مفہوم بڑی خوبی سے بیان کرتے تھے۔ایک دفعہ ہم نے ان سے پوچھا: ”استاد، آپ نے تو غالب کو دیکھا ہوگا ؟‘‘ فرمایا ’’ہاں دیکھا تھا، میری عمر اس وقت پانچ سال کی تھی ، ابا حضرت کے ساتھ ان کے ہاں جایا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی دفعہ جب ان کے ہاں گیا تو شام کا وقت تھا۔ ان کے آگے بلوری صراحی اور گلاس رکھا تھا اور طشتری میں تلے ہوئے بادام اور پستے تھے۔ چسکی لگاتے جاتے اور دو دو چار چار دانوں کے ٹھنگیر کرتے جاتے ۔ابّا حضرت سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔ اتنے میں مغرب کی اذان ہوئی تو ابّا حضرت نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے ۔ میں بچپن میں بہت شریر تھا۔ مگر نئی جگہ ہونے کی وجہ سے خاموش بیٹھا تھا ۔ دادا غالب مجھ سے مخاطب ہو کر بولے ’’یار چہ، لو کچھ کھاؤ‘‘ میں نے تھوڑے سے بادام اور پستے اٹھا لیے، کچھ ہنسی مذاق کی باتیں کرتے رہے پھر ایک دم سے بولے ’’یار چہ، تم ہمارے سر پر ایک دھول تو کس کر لگاؤ ‘‘یہ کہہ کر اپنا گٹھا ہوا سر میرے آگے کر دیا مجھے اتنا شعور کب تھا۔ دھول رسید کرنے کے لیے جھٹ کھڑا ہو گیا ۔اتنے ہی میں ابّا حضرت نے سلام پھیر کر ہوں ہوں کہا اور مجھے گھور کر دیکھا۔ میں پھر دبک کر بیٹھ گیا۔ ابّا حضرت نے کہا: ’’مرزا صاحب قبلہ اللہ نے بڑی خیر کی ، مجھے تو منہ دکھانے کو جگہ نہ رہتی ، یہ بڑا دنگئی ہے۔ اس کا کیا ہے ۔ یہ تو مار بیٹھتا مگر میں تو کہیں کا نہ رہتا‘‘۔
ہمیں اگر کوئی پرانالفظ یا محاور ہ پو چھنا ہوتا تو بیخود صاحب سے پوچھ لیتے ۔ان کے سوادِلّی میں رہ بھی کون گیا تھا ؟ تمام بڑے بوڑھے دیکھتے ہی دیکھتے اُٹھ گئے تھے ۔ کتب خانہ پر ایک دفعہ خود استاد ہی کے ایک مقطع پر بحث چل نکلی ۔سب نے اس کی تاویلیں طرح طرح سے کیں مگر بات کسی کی نہ بنی ۔ آخر میں یہ طے ہوا کہ خود استاد ہی سے اس کا مطلب پوچھا جائے شام کو جب استاد آئے تو ان سے مقطع رجوع کیا گیا ،فرمایا:’’یہ شعر یوں سمجھ میں نہیں آئے گا ،اس میں ایک تلمیح ہے ۔ مقطع یہ تھا:
بیخود کے لب بھی تر نہ ہوئے وقت مے کشی
آلودهٔ شراب گریبان ہی رہا
فرمانے لگے :” یہ شعر ایک واقعہ متعلق ہے۔ میں فلاں ریاست میں ملازم تھا۔ رئیس کی محفل خاص روزانہ رات کو سجتی تھی ۔ جب دور شراب چلتا تو رئیس کی منظور نظر طوائف جام بھر بھر کر مقر بین کو پیش کرتی ۔ انکار کی مجال کسی کو نہ ہوتی ۔ میں بھی اس سے جام لے لیتا اور منہ تک لے جا کر چپکے سے اپنے گریبان میں الٹ لیتا۔ اب یہ شعر تمہاری سمجھ میں آجائے گا۔
بڑے آدمیوں کی بڑی کمزوریاں ، استاد ہر سوال کا جواب ضرور دیا کرتے تھے۔ لاعلمی کا اظہار کر نا غالباً کسر شان سمجھتے تھے اور جب کہیں مجبور ہو جاتے تو ناراض ہو کر بات کو ٹال جاتے ۔ایک زمانے میں سہراب مودی کو ’’غالب‘‘ فلم بنانے کا خیال ہوا مکالمے اور سیناریو سعادت حسن منٹو نے لکھا تھا۔اس سلسلے میں وہ مجھے بھی بمبئی بلوانا چاہتے تھے مگر دِلّی والے سے دِلّی کب چھوٹتی تھی ۔ میں نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ان کے ایک ڈائریکٹر مسٹرنندا مجھ سے ملنے دِلّی آئے ۔سوسال پہلے کی تہذیب ومعاشرت کے متعلق انہیں اکثر باتیں معلوم کرنی تھیں مجھے ان کا بہت کم علم تھا۔ میں انہیں لے کر بیخو د صاحب کے گھر مٹیا محل پہنچا۔ مردانہ بیٹھک میں چاندنی کا فرش تھا۔ ہمیں ایک صاحب نے بیٹھنے کو کہا۔ تھوڑی دیر میں بیخود صاحب تشریف لائے تو میں نے نندا صاحب کا تعارف کرایا۔ ملاقات کی غایت سن کر استاد کچھ خوش نہیں ہوئے ۔ اُپرا کر بولے ”پوچھیے کیا پوچھنا ہے؟‘ نندا صاحب نے کہا ” مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اس زمانے کی جو سواریاں تھیں ان کی کیا کیا شکلیں تھیں ۔ مثلاً تخت رواں ، ہوادار ، تام جھام ، پالکی ، نالکی‘‘ استاد چٹخ کر بولے’’ پالکی پالکی ہوتی ہے، نالکی نالکی، پالکی نالکی کیسے ہوسکتی ہے اور نالکی پالکی کیسے ہوسکتی ہے؟ میں نے دیکھا کہ استاد کا پارہ چڑھ گیا ، یہاں دال نہ گلے گی ، میں نے نندا صاحب سے کہا کہ’’ آپ ایسا کیجیے کہ جو جو باتیں معلوم کرنی ہوں ان کی ایک فہرست بنالیجیے پھر کسی وقت حضرت کوزحمت دیجیے‘‘ زحمت دینے کی پھرنوبت نہ آئی۔
استاد کو کبوتر اڑانے کا بہت شوق تھا۔ جال اور کا بکیں اوپر چھت پر رہتی تھیں۔ چھتری چھپکا سب کچھ موجود تھا۔ اپنی ٹکڑی اڑاتے اور دوسرےکبوتر بازوں کی ٹکڑیوں سے لڑاتے اور بڑے استکراہ سے ملاقات فرماتے۔ ایک مہربان اپنے صاحبزادے کولے کر عین اس وقت پہنچے جب استاد کی جان کبوتروں میں لڑی ہوئی تھی۔ بہت مکدّر ہوئے ۔ برا بھلا کہتے نیچے آئے۔ مہربان نے مٹھائی کی ٹوکری پیش کی اور بولے’’ میرا لڑکا ہے، شعر کہتا ہے، اسے شاگردی میں قبول فرما لیجیے ‘‘ٹوکری تو استاد کا پوتا لے کر فورا ًاندر چلا گیا اور استاد نے فرمایا ’’اپنے کچھ شعر سناؤ“ وہ شامت کا مارا نہ جانے کس سے لکھواتا تھا، لگانا موزوں شعر سنانے ، بیخودصاحب ایک دم سے بکھر گئے“ نکل میرے گھرسے، باہرنکل‘‘ اور گالیوں کا سیلاب امنڈ پڑا۔ کھڑے کھڑے اسے اور مہربان کو گھر سے نکالا اور کنڈی لگا اوپر جا کر پھر کبوتر اڑانے لگے۔
شعر گوئی اور زبان سیکھنے کے شوق میں حیدرآباد جا کر چھ مہینے استاد کے پاس رہے۔ فرماتے تھے ’’مگر کبھی پان کا ٹکڑا تک ان کا نہ کھایا، ان کے دیوانوں کی ورق گردانی کرتا اور بغور ایک ایک شعرکود یکھا، اس مطالعے میں مجھے یہ معلوم ہوا کہ ہر دو چار غزلوں کے بعد ایسے شعر آجاتے ہیں جو سمجھ میں نہ آتے تھے۔ ایک دن میں نے استاد سے کہہ ہی دیا کہ میری فہمِ ناقص میں یہ بات نہیں آتی کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ ان اشعار کے معنی ہی نہ ہوں ہو نہ ہو میری سمجھ کا قصور ہے‘‘۔ استاد نے فرمایا:’’ نہیں ، تم ٹھیک سمجھے، میری عادت ہے کہ کبھی کبھی میں جان بوجھ کرمہمل شعر کہتا ہوں‘‘۔ اس وقت تو بات آئی گئی ہوگئی مگر ان اشعار کی قدر و قیمت اب معلوم ہورہی ہے جب ہم قبر میں پاؤں ٹکائے بیٹھے ہیں ۔ پو چھا استاد وہ کون سے شعر ہیں؟ بولے ’’یا دنہیں‘‘۔
فرماتے تھے کہ حکیم واصل خان نے استاد داغ سے پوچھا ’’آپ کے بعد آپ کی زبان لکھنے والی کوئی باقی رہے گا؟‘‘ استاد نے فرمایا: ’’بیخود، خدا کا شکر ادا کرو کہ تمہاری زبان گھر کے گھر میں رہی‘‘۔
ایک دن فرمانے لگے ’’استاد کا مطلع ہے
وہ مزے عشق میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
مگر میرا مطلع اس سے بڑھ گیا‘‘۔
کہا: ’’استاد اپنا مطلع سنایئے‘‘۔
فرمایا:” یاد نہیں‘‘ ۔
استاد بیخود بہت جیے، بہت جیے ۔ ان کے والد سو سے اوپر ہو کر گئے تھے۔ استاد سنچوری پوری نہ کر سکے ۔ ایک پیری و صد عیب ، آخرعمر میں طرح طرح کی بیماریوں نے انہیں گھیر لیا تھا۔ یونانی علاج کرتے تھے مرنے سے کچھ دن پہلے عطار کے ہاں سے نسخہ بندھوا کر لا رہے تھے، راستے میں دہی بڑے والا نظر آ گیا ۔ مرض ورض سب بھول گئے ۔آخر دِلّی والے تھے، چٹور پن نے زور مارا اور خوب ڈٹ کے دہی بڑے کھائے۔ اس وقت تو مزہ آ گیا مگر بعد میں اس کی کسر نکل گئی ۔ ضعف ِمعدہ کے مریض، اسہال شروع ہو گئے۔ بھلا جوشخص ساری عمر اچھے سے اچھے کھانوں کا شوقین رہا ہو وہ ترکِ غذا کیسے کرے؟ بد پرہیزیاں ہوتی رہیں اور امراض بڑھتے رہے، یہاں تک کہ موت نے آ کر سلام کیا۔ استاد تو اس زندگی سے بیزار ہی تھے، ہنسی خوشی رخصت ہو گئے ۔ جب تک جیے اوروں کو ہنساتے رہے، جب مرے تو صفِ ماتم بچھ گئی۔ ایسے زندہ دل انسان بھلا اب کاہے کو پیدا ہوں گے ۔ اچھے لوگ تھے، اچھی گزار گئے۔ اپنے ساتھ دِلّی کا نام بھی روشن کر گئے۔ اب نہ ایسا شاعر پیدا ہو گا اور نہایا انسان
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا