جگر مراد آبادی
جگر مراد آبادی
بعض چہرے بڑے دھوکہ باز ہوتے ہیں۔
کالا گھٹا ہوا رنگ، اس میں سفید سفید کوڑیوں کی طرح چمکتی ہوئی آنکھیں، سر پر الجھے ہوئے پٹھے، گول چہرہ، چہرہ کے رقبے کے مقابلے میں ناک کسی قدر چھوٹی اور منہ کسی قدر بڑا، کثرت پان خوری کے باعث منہ ا گالدان ، دانت شریفے کے بیج اور لب کلیجی کی دو بوٹیاں، بھرواں کالی ڈاڑھی ، ایڈورڈ فیشن کی ، سر پر ترکی ٹوپی، بَر میں اچکن، آڑ اپاجامہ، نیم ساق تک چوڑیاں پڑی ہوئیں ، پاؤں میں پیٹنٹ کی گرگابی ، بائیں ہاتھ میں ایک میانہ قد و قامت کا اٹا چی کیس ، کوئی بتیس سال ادھر کا ذکر ہے، جھانسی میں ایک صاحب سر جھکائے قدم بڑھائے اپنے دھن میں جھومتے چلے جا رہے تھے۔ میرے میزبان نے اشارے سے بتایا ” یہ ہیں جگر صاحب‘‘ میں نے سنی ان سنی کر دی ۔ ہوں گے کوئی، میں نے کبھی ان کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ میرے میزبان نے کہا: ’’آج رات مشاعرہ ہے۔ آپ کو لے چلیں گے‘‘۔ میں نے کہا ’’کسی اور برے کام میں وقت کیوں نہ ضائع کیا جائے؟ کوئی گویّا ہوتو اس کا گانا سنا جائے‘‘ وکیل صاحب نے کہا:’’ اس کا بھی انتظام کیا ہے ہم نے ،کل ہم آپ کو یہاں کے ایک استاد کا گانا سنوائیں گے مگر آج آپ مشاعرے میں ضرور چلیے ۔ جگر صاحب کا کلام آپ نے غالباً سنا نہیں ہے۔ سننے کے لائق ہے‘‘۔ میں نے جی میں کہا، لو بھئی، آج کی رات تو غارت ہوئی ۔ قہر درویش برجان درویش، میزبان کی خواہش کا احترام بھی ضروری تھا۔ طوعاً و کرہاً رات کو مشاعرے میں چلنے کی حامی بھرلی۔
پنڈال کشادہ تھا اور روشنیوں سے جگمگارہا تھا۔ اگلی صفوں میں ہمیں جگہ دی گئی۔ مشاعرہ شروع ہونے میں کچھ دیر تھی ۔ وکیل صاحب سے باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ جھانسی میں آئے دن مشاعرے ہوتے رہتے ہیں اور ان مشاعروں کی جان جگر صاحب ہوتے ہیں۔ ہر پھر کے جگر صاحب ہی کی تعریف ہوئے جا رہی تھی۔ میں نے وکیل صاحب سے کہا: ’’یہ تو بتائے کہ جگر صاحب کون ہیں اور کیا ہیں؟‘‘انہوں نے مجھے ایسی استعجابی نظروں سے دیکھا جیسے میں نے کوئی نہایت احمقانہ بات کہہ دی ہو۔ بولے:’’بہت اچھے شاعر ہیں، عینکوں کے ایجنٹ ہیں‘‘ میں نے کہا: ’’اوہو! عینکیں بیچتے ہیں تو یقیناً بہت اچھے شاعر ہوں گے‘‘ وکیل صاحب کے چہرے پر خفت کے آثار نمودار ہوئے اورکسی قدر ناگواری کے بھی میں نے اس تکدّ رکو ٹالنے کے لیے کہا:” اندھوں کو آنکھیں دیتے ہیں ، اور کیا چاہیے‘‘ وکیل صاحب ہنسنے لگے۔
شعراء کی آمد آمد ہوئی ، مشاعرے کے کارکنوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور ڈائس پر پہنچادیا ۔تھوڑی دیر میں جنابِ صدر بھی تشریف لے آئے۔ ضلع کے حاکم تھے۔ ان کے مسندِ صدارت سنبھالتے ہی مشاعرہ شروع ہو گیا۔ پہلے چھٹ بھیوں نے لہک لہک کر اپنا کلام سنایا۔ پھربیچ کی راس کے شاعروں نے، ان کے بعد جغادریوں نے اتنے میں شور بر پا ہوا’’آ گئے جگر صاحب آگئے‘‘ انہیں ڈائس پر پہنچایا گیا اور وہ سلام کر کے جناب صدرکے پہلو میں جا بیٹھے۔ پڑھنے والوں کے چہرے اتر گئے ۔ اب جو پڑھنے آتا، گھبرایا بولا یا آتا اور گھاس سی کاٹ کر چل دیتا، جب سب پڑھ چکے تو جناب صدر نے جگر صاحب سے درخواست کی اور سارا پنڈال تالیوں سے گونج گیا۔ جگر صاحب خندهٔ دنداں نما کر کے آگے بڑھ آئے ۔ وکیل صاحب نے زیرلب فرمایا ’’اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ مجھ سے فرمارہے ہیں یا جگر صاحب سے؟“ وکیل صاحب کھسیانی ہنس ہنس کر رہ گئے ۔ جگر صاحب نے گنگنا کر سر قائم کیا اور اپنے مخصوص ترنم میں غزل سنانی شروع کی ۔ مطلع سے مقطع تک غزل کا انداز ہی نیا تھا۔ اس پر خوش گلوئی ؟ پنڈال اڑا کر رکھ دیا ۔ کئی کئی دفعہ ایک ایک شعر کو پڑھوایا گیا۔ میں نے جگر سے پہلے اتناسر یلا شاعر اور کوئی نہیں سنا۔ یا پھر گانے والے شاعر سنے تھے جو باقاعدہ تان پلٹے کرتے تھے، مثلا حفیظ ، ساغر، روش صدیقی وغیرہ۔ یہ بڑی عجیب بات تھی کہ جگر صاحب کا پڑھنا ترنم ہی رہتا تھا۔ گانا نہیں بنتا تھا۔ جگر صاحب کو اس مشاعرے میں سن کر میں بھی ان کے مداحوں میں شامل ہوگیا۔
خاکساران جہان را بہ حقارت منگر
تو چہ دانی کہ در میں گرد سواری باشد
میں ۳۱ ء یا ۳۳ ء میں حیدر آباد گیا تھا۔ واپسی میں دو دن کے لیے سیدابومحمد مرحوم کے ہاں بھوپال میں ٹھہرا تھا۔ سید صاحب بڑی خوبیوں کے آدمی تھے ۔ آپ انہیں یوں پہچانیے کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی کے بڑے بھائی تھے۔ جگر صاحب اس زمانے میں بھوپال ہی میں تھے ۔ خبرنہیں کہاں سے انہیں معلوم ہوا تیسرے پہر کو مجھ سے ملنے چلے آئے۔ ان سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ بڑے خلوص و محبت سے گلے ملے میری خیریت پوچھی ، ساقی کی کیفیت دریافت کی۔ خود ہی ساقی کے لیے اپنا کلام بھیجنے کا وعدہ کیا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی ایک غزل لکھ کر دی ۔ بڑے خوش خط تھے جگر صاحب۔ جو انداز پرانے زمانے کے وصلیوں کا ہوتا ہے۔ اسی انداز میں پی غزل قلم برداشتہ لکھی تھی مگر موتی جڑ دیئے تھے ، اختتام پر اپنے نام پر طغرا بنا دیا تھا۔ مزاج کی نفاست زبانِ قلم سے بھی ٹپکتی تھی کتنی خوب صورتی چھپی ہوئی تھی اس ظا ہر ہ بدشکل انسان کے اندر !میری فرمائش پر غزل پڑھ کر بھی سنائی ۔ نور کا گلا پایا تھا۔ اندھیرے میں روشنی پھوٹ رہی تھی ۔ کیا آبِ حیواں کی طرح دنیا کی تمام بیش قیمت چیزیں تاریکی ہی میں ہیں؟
میرے ہاں دِلّی کے آخری نرت کے استاد اللہ دیئے خاں آیا کرتے تھے۔ عمر ستر سے اوپرہی تھی۔ سوکھ کے چمرخ ہو گئے تھے ، دانت ٹوٹے ہوئے ، گال پچکے ہوئے بڑی بڑی گھنی سفید مونچھیں ، ڈاڑھی منڈھی ہوئی مگر بقول مرزا چیونٹیوں کے انڈے موجود رہتے۔ بصورت موجودہ کوئی استاد کو اپنے پاس بٹھانے تک کا روادار نہ ہوتا مگر جب وہ ٹھمری یا دادرے کا کوئی بول لگا کر بتاوا شروع کرتے تو معلوم ہوتا کہ اندر کے اکھاڑے کی کوئی اپسرا اتر آئی ہے۔ اسی کر یہہ منظر بوڑھے استاد کو گلے لگا لینے کوجی چاہنے لگتا۔ شاید فنکار کا فن ہمیشہ جوان و حسین رہتا ہے اور اس کی خوب صورت روح اس کے بدصورت جسم کی پردہ پوش ہو جاتی ہے۔ جگر صاحب بھی جب اپنا کلام سناتے تو حسین نظر آنے لگتے۔
بھوپال کی مختصر ملاقات کے بعد جگر صاحب سے اکثر ملنا ہوتا رہتا۔ ان مختصر ملاقاتوں میں کبھی کبھی شعروشاعری پربھی بات چل نکلی تو جگر صاحب کیٹس اور شیلے تک کے نام لے جاتے۔ باتیں خاصی معقول کرتے تھے۔ اوچھے پن کی حرکتیں نہیں کرتے تھے اور نہ ضرورت سے زیادہ بے تکلف ہوتے تھے۔ ان کے مزاج کی شائستگی ان کی غزل میں ڈھل گئی تھی۔ ان سے کبھی کسی کی برائی نہیں سنی اور نہ کبھی کسی کو دھوکہ دیا، یا کوئی بیہودہ بات کی ۔ وہ صحیح معنوں میں ایک شریف النفس انسان تھے ۔ کارڈ نیل نیو من نے Gentle Man جنٹل مین کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ کسی کو دکھ نہیں پہنچا تاجگر صاحب ایک Perfect Gentleman تھے۔
نیاز فتح پوری Stunts کے قائل ہیں ۔ وہ ہمیشہ چونکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کہیں گے کہ جنت اور دوزخ ہے تو وہ کہیں گے نہیں ہے۔ آپ کہیں گے خداہے تو وہ کہیں گے نہیں ہے، آپ کہیں گے قرآن شریف کلام اللہ ہے تو کہیں گے کلام رسولﷺ ہے۔ آپ کہیں گے یہ دن ہے تو وہ کہیں گے نہیں ، رات ہے۔ برنارڈشا کے ایک کردار کی طرح اختلاف ضرور کریں گے ۔ اس نے کہا: ’’بیٹھ جاؤ‘‘ تو بولا’’ نہیں، میں کھڑا رہوں گا‘‘ کہا: ’’اچھا تو کھڑےرہو‘‘،’’ نہیں، میں بیٹھوں گا‘‘، یہ کہہ کر بیٹھ گیا۔ تو اسی سے ملتی جلتی فطرت نیاز صاحب کی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ’’نگار‘‘ کا ’’جگر نمبر‘‘ شائع کیاہے ۔ جگر کے انتقال پر ہندوستان اور پاکستان میں بہت سوگ منایا گیا۔ اور کئی رسالوں نے ’’جگر نمبر‘‘ شائع کیے۔ نیاز صاحب بھلا ٹھنڈے پیٹوں تعریف و توصیف کے اس پشتارے کو کیسے گوارا کر لیتے ؟ چنانچہ انہوں نے بھی ایک ’’جگر نمبر‘‘ شائع کر دیا جس میں سوائے جگر کی برائی کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس نمبر کا حشر تو وہی ہوگا جو آسمان پر تھوکنے کا مجھے یہاں ایک واقعہ کی وضاحت کرنی ہے جو اس نمبر میں درج کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ ہوا کراچی میں ایک مشاعرہ ہوا تھا جس کی صدارت کے لیے جناب نیاز کولکھنؤ سے بلوایا گیا تھا کس نے بلایا تھا اور کیوں بلایا تھا؟ اس کو اس وقت چھوڑیئے۔ نیاز صاحب نے لکھاہے کہ انہیں کراچی پہنچ کر معلوم ہوا کہ جگر صاحب کراچی میں موجود ہیں مگر انہوں نے نیاز صاحب کی صدارت میں پڑھنے سے انکار کر دیا۔ نیاز صاحب نے جگر کے انکار کی وجہ ان تنقیدوں کو قرار دیا جو بھی نگار میں انہوں نے کلامِ جگر پرلکھی تھیں ۔ مگر ہوا یہ کہ جگر صاحب مشاعرے میں آئے اور انہوں نے کلام بھی سنایا اس واقعہ کولکھ کر نیازصاحب نے بتایا ہے کہ جگر چوں کہ پیسے لے کر پڑھتے تھے اس لیے وہ مشاعرے میں شرکت پر مجبور تھے۔ پھر اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ پیسے لے کر پڑھنے والے شاعر کا کلام پھسپھسا ہوتاہے۔ اسی مفروضہ پر نیازصاحب نے اپنی جانب میں اس خاص نمبر میں کلام جگر کے بنے ادھیٹر دیئے ہیں مگر جب آپ ان کے اعتراضات پڑھیں گے تو آپ کو اس بوڑھے علامہ کے بچگانہ اعتراضات پر ہنسی آنے لگی گی ۔ خیر، یہ ایک لغویت ہے جس سے محظوظ ہونے کے لیے اگر آپ وقت نکال سکتے ہوں تو نکال لیجیے۔ ہمیں تو صرف اس مشاعرے والے واقعہ سے سروکار ہے۔ جگر اتنے چھوٹے دل کے آدمی نہیں تھے کہ نیاز صاحب کی تنقید سے چراغ پا ہو جاتے اور سالہا سال تک ان سے دل میں بغض رکھتے ۔ جگر صاحب کا ساری عمر یہ عمل رہا کہ اپنے بدخواہوں کو معاف کر دیتے۔ ان کے نزدیک یہی سب سے بڑی سزا تھی۔ اس کے علا وہ اخلاقی اعتبار سے جگر صاحب اتنے گرے ہوئے بھی نہیں تھے کہ کراچی کا مشاعرہ نہ پڑھتے تو ان کے ہاں فاقے پڑ جاتے۔ جگر صاحب کراچی آ کر مہینوں رہتے تھے اور بغیر مشاعروں کے بھی رئیسوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے ۔ میں نے انہیں بیسیوں جگہ مفت پڑھتے سنا ہے۔ اس مشاعرے میں بھی پڑھنے وہ نیاز صاحب کی طرح پورا خرچہ لے کر ہندوستان سے کراچی نہیں آئے تھے بلکہ یہاں پہلے سے موجود تھے اور ان کا مشاعرے میں شریک ہو جانا ہی نیاز صاحب کے بہتان کی تردید کے لیے کافی ہے ۔ جگر صاحب ایک شریف النفس انسان تھے اور جہاں تک ممکن ہوتا کسی کو دکھ نہیں پہنچاتے تھے ۔ جگر صاحب ایک سیر چشم آدمی تھے ۔ روپیہ پیسہ ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ میں نے ان کا وہ زمانہ دیکھا ہے جب وہ شراب کے نشے میں دھت رہا کرتے تھے اور کوڑی کوڑی کو محتاج مگر میں نے آج تک کسی سے نہیں سنا کہ جگر نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا ہو ۔ مدہوشی میں بھی انہوں نے اپنی غیرت وخود داری کو ہاتھ سے نہیں دیا۔
نخشب جارچوی نے جگر صاحب کا ایک واقعہ سنایا تھا کہ کسی فلم کے لیے جگر صاحب کی ایک غزل ریکارڈ کرنی تھی ۔ جگر صاحب کو اس کا معاوضہ ٹھیک یاد نہیں رہا۔ پانچ ہزار یا آٹھ ہزار پیشگی دے دیا گیا۔ جگر صاحب اس سے پہلے ریڈیو کے مختلف سٹیشنوں سے اپنا کلام نشر بھی کر چکے تھے اور ریکارڈ بھی کرا چکے تھے۔ لہٰذا نہایت اطمینان سے فلم کے لیے بھی اپنی ریکارڈنگ کرانے کے لیے بیٹھ گئے ۔ مگر جب اپنا ریکارڈ خودسنا تو سٹ پٹا گئے اور اسے نا پسند کر کے دوبارہ ریکارڈ کیا مگر اس دفعہ بھی انہیں اپنا ریکارڈ نہایت بے سرا معلوم ہوا۔ تیسری دفعہ اور چوتھی دفعہ بھی ناکام رہے ۔ غرض چھ دفعہ یہی ماجرا پیش آیا۔ سخت بد دل ہوئے ۔ کمپنی والوں نے کہا :” گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے آپ اب کل پھر تشریف لائیے‘‘ گھر پہنچ کر نخشب سے بولے ’’خدا جانے کیا بات ہے کہ ریکارڈ اچھانہیں بن رہا تم ایسا کرو کہ یہ روپیہ واپس کر دو اور مجھے آج سوار کر دو‘‘ نخشب صاحب نے انہیں تسلی دی اور ایک دن کے لیے اور انہیں روکنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اگلے دن بھی کئی ریکارڈ لیے مگر سب ناقص رہے ۔ جگر صاحب کی پر یشانی اور شرمندگی بڑھتی جارہی تھی اور ریکارڈنگ بد سے بدتر ہوتی جارہی تھی ۔ نخشب صاحب کو ایک ترکیب سوجھی۔ مائیکروفون ان کے سامنے سے ہٹا دیا اور بولے ۔ ’’کچھ دیر توقف کیجیے، چائے وائے پیجیے ، پھر دیکھا جائے گا‘‘ جگر صاحب نے جھنجھلا کر کہا۔ ”میاں، تم ان کا روپیہ واپس کر دو اور مجھے گھر جانے دو‘‘ انہوں نے کہا: ’’ بہت اچھا، روپیہ واپس کر دیا جائے گا مگر آپ اطمینان سے بیٹھ کر چائے تو پی لیجیے‘‘۔ جگر صاحب خوش ہو گئے، جیسے منوں بوجھ ان کے سر سے اتر گیا ہو۔ ادھر ادھر کی باتیں ہنس ہنس کر کرنے لگے چائے پی چکے تو نخشب نے کہا: ”دراصل آپ کو مائیکروفون کا احساس ہو جاتا ہے اب اگر آپ پڑھیں گے تو بالکل ٹھیک پڑھیں گے ذرا پڑھیے تو جگر صاحب پڑھنے لگے۔ پڑھ چکے تو اسی کا ریکارڈ انہیں سنایا گیا۔ حیران ہو کر بولے ’’یہ کون سا ریکارڈ ہے ؟ یہ تو ٹھیک ہے‘‘ نخشب نے بتایا کہ ’’ابھی جو آپ پڑھ رہے تھے، اس کا ریکارڈ ہے‘‘’’ مگر کب اور کیسے ریکارڈ کرلیا؟‘‘ ’’جی یہ ہمارے Tricks of the trade ہیں۔ اب گھر چلیے ، روپیہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں رہی‘‘۔
جس شخص کا کردار ہووہ پیسے کا میت کیسے ہوسکتا ہے؟ جب وہ پانچ ہزار سے دست کش ہوسکتا ہے تو کیا پانچ سو کے مشاعرے کو نہیں چھوڑ سکتا؟ وہ مشاعرے میں روپے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے شریک ہوئے کہ ان کی عدم شرکت سے مشاعرے کے کارکنوں کے ساتھ سامعین کی بھی دل آزاری ہوتی اور خود جناب نیاز کو خفت اُٹھانی پڑتی ۔ جگر صاحب کو جو بے پناہ مقبولیت حاصل تھی وہ کسی نے ہاتھ اُٹھا کر خیرات میں انہیں نہیں دی تھی ۔ ادب دوستوں نے انہیں رئیس المتغزلین قرار دیا تھا۔ اگر انہیں شہنشاہ تغزل کہا گیا (یہ نیاز صاحب ہی کا بیان ہے) تو شہنشاہیت کا تاج بھی خاصان ادب ہی نے ان کے سر پر رکھا ہو گا ۔ خدا کا شکر ہے کہ جگر صاحب محسود تھے، حاسد نہیں تھے۔ شریف آدمی حاسد نہیں ہوتے۔
جگر صاحب ’’شعلہ ٔ طور‘‘ کی اشاعت سے پہلے بھی شاعر تھے اور ان کا ایک مجموعہ کلام شائع ہو کر گمنام ہو چکا تھا۔ اس زمانے کے کلام میں بھی ایک تیکھا پن تھا۔ مگر سناہے کسی معرکۂ عشق میں ناکام ہونے کے بعد ان کے ساتھ ان کے کلام کی بھی دنیا بدل گئی ۔ جگر کی غزل میں جو نیا مزاج پایا جاتا ہے وہ اسی محرومی کا نتیجہ ہے۔ عشق کی آگ بھڑک کر شعلۂ طور بن گئی ۔ ’’شعلۂ طور‘‘ کا پہلا ایڈیشن چھپتے ہی ختم ہو گیا۔ سید سلیمان ندوی مرحوم نے شاعر اور کلام شاعر کا تعارف کرایا تھا۔ میرے پاس جب یہ نسخہ ریویو کےلیے آیا تو میں نے اور انصار ناصری نے جگر ہی کی دھنوں میں لہک لہک کر پوری ایک رات اسے ختم کرنے میں صرف کر دی۔ اس ایڈیشن میں اویاما کا بنایا ہوا جگر کا ایک پنسل سکچ بھی تھا جو اس قدر اعلیٰ درجے کا تھا کہ ہم اسے کسی غیر ملکی آرٹسٹ کا کارنامہ سمجھتے رہے۔ بعد میں جامعہ ملیہ میں اویاما سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ ہمارے ملک کا ایک دھان پان سا نوجوان ہے جس کے دل میں آگ بھری ہوئی ہے۔ دو چار دفعہ کی ملاقات کے بعد جب اس سے پوچھا کہ یہ آپ نے اپنا نام کیا رکھا ہے تو اس نے بتایا کہ اویاما جاپانی زبان میں جوالاکھی کو کہتے ہیں، پراسرار سا آدمی تھا۔ دِلی سے غائب ہو گیا پھر سناکہ مرگیا۔
جگر صاحب ایک زمانے میں مچھلی کی طرح شراب پیتے تھے۔ ان کے قدردانوں نے یہ و تیره اختیار کر لیا تھا کہ جب ان کا کلام سننا ہوتا تو ان کے لیے ایک بوتل منگا لیتے۔ سوکھے دھانوں میں پانی پڑ جا تا۔ گھنٹوں اپنا کلام سناتے رہے، پھر ان کا لپکا اتنا زیادہ ہوگیا کہ ہر وقت پینے لگے ۔ جگر صاحب کی زندگی کا ہر دور ثقہ حضرات کے نزدیک خاصا قابل اعتراض تھا۔ مگر مدہوشی کا یہی دور ان کی شاعری کے عروج کا دور تھا۔ ان کے قدردان اور مشاعرے والے جامِ مے کی مانند انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے۔ روپیہ ان پر برستا تھا مگر وہ کل کے لیے آج شراب میں خِسّت نہیں کرتے تھے۔ روپیہ ادھر آیا اور ادھر شراب بن کر اڑ اخبرنہیں گھر کی زندگی اس شراب نوشی کی وجہ سے اجڑی یا گھر کی اجڑی ہوئی زندگی نے کثرت مے نوشی کے پر لگائے ۔ دنوں مہینوں گھر کا رخ نہ کرتے آج اس کے ہاں ٹھہرے ہیں کل اس کے ہاں ۔ اصغر گونڈوی ان کے بڑے ہم زلف تھے۔ جب انہوں نے میاں بیوی میں نا اتفاقی کی یہ صورت دیکھی تو جگر سے کہا کہ اپنے ساتھ بیوی کی زندگی کیوں خراب کر رہے ہو؟ طلاق دے دو ۔ اصغرکا جگر صاحب بہت ادب کرتے تھے۔ تعمیلِ ارشاد میں طلاق دے دی شراب اور بھی بڑھ گئی ، اتنی کہ مشاعروں کے سٹیج پر بھی بوتل اور گلاس ساتھ رہنے لگا۔ غزل پڑھتے پڑھتے بھول جاتے اور سامعین خاصےبے لطف ہوتے مگر ان کے کلام اور ان کے کمال کی وجہ سے ان کی اس لغویت کو نظر انداز کر دیتے۔ پھر رسم ایسی پڑ گئی تھی کہ بغیر جگر کے کوئی مشاعرہ کامیاب نہیں ہوتا تھا۔ میں نے بہت سے ذہین شاعروں کو شراب سے تباہ و برباد ہوتے دیکھا ہے۔ اختر شیرانی ، میرا جی اور مجاز کا تو آخر میں یہ حال ہو گیا تھا کہ سٹیج پر نہ صرف قے کر دیتے تھے بلکہ پیشاب بھی کر دیتے تھے اور لوگ انہیں اٹھا کر ان کے ٹھکانوں پر پہنچایا کرتے تھے۔ جگر صاحب اتنے نہیں گرے تھے۔ انہیں پھر بھی ہوش رہتا تھا اور ان کی طرح اول فول بکنے نہیں لگتے تھے۔ ان لوگوں میں اور بہت سی اخلاقی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں ۔ جن کی وجہ سے لوگ ان سے بھاگنے لگے تھے ۔ جگر صاحب نے کسی کی بہو بیٹی کو نہیں تکا ،کسی سے بھیک نہیں مانگی، مانگنے والوں اور چکلے والوں سے انہیں لڑتے ہوئے نہیں دیکھا اور پٹتے ہوئے کبھی نہیں پائے گئے ۔ ان کی شراب خوری کے نقصانات ان ہی کی ذات تک محدود تھے ، دوسروں کو ان کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑتا تھا۔ اوروں کی شاعری دم توڑتی چلی گئی ۔ جگر کی شاعری توانا سے توانا ہوتی چلی گئی ۔ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے ۔ جگر کی شرافتِ نفس میں فرق نہیں آیا اور اسی وجہ سے ان کی نفاست شاعری بھی قائم رہی۔
اصغرصاحب کی بیوی کا جب انتقال ہو گیا تو انھوں نے اپنی سالی یعنی جگر کی مطلقہ سے شادی کر لی۔ یوں دو اجڑے گھر بس گئے ۔جگر صاحب نے اس نئے رشتے پر برہمی کا مطلق اظہار نہیں کیا بلکہ اصغرصاحب سے ان کی محبت اور عقیدت کچھ بڑھ ہی گئی ۔ یار لوگوں نے اس واقعہ کے افسانے تراش لیے مگر حقیقت یہ ہے کہ جگر صاحب نے اصغرصاحب کے ساتھ ان کی بیوی کی عزت و تکریم بھی شروع کر دی۔ وہی نا پسند یدہ بیوی اب ان کے لیے ایک لائق احترام خاتون بن گئی تھیں ۔ اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ جگر صاحب حفظ مراتب کا کس قدر خیال رکھتے تھے ۔
گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
کچھ عرصہ بعد اصغر گونڈوی کا انتقال ہو گیا۔ جگر صاحب کو بڑا رنج پہنچا۔ ان کی زندگی میں یہ ایک زبردست انقلابی نقطہ تھا۔ سنا کہ جگر صاحب بہت بیمار ہیں، اتنے کہ مشاعروں میں شرکت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ ان کی بیماری تھی ترک شراب ۔ سنا تھا کہ یہ منہ لگ جائے تو پھر نہیں چھوٹتی ۔ مگر جگر نے یک لخت شراب چھوڑ دی ان کے دل کی حالت بگڑ گئی ،طبیبوں نے بہت کہا کہ رفتہ رفتہ کم کر کے چھوڑ دوور نہ مر جاؤ گے مگر جگر صاحب بڑے مضبوط کردار کے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا: ” جب چھوڑنی ہی ٹھہری تو بس چھوڑ دی ، اب جان جائے یا ر ہے‘‘ اس کا ردعمل اتنا شدید ہوا کہ جان کے لالے پڑ گئے ۔ جگر صاحب نے اپنے آپ کو اتنی سخت آزمائش میں آخر کیوں جتلا کیا ؟ معلوم ہوا کہ یہ بھی محبت کی کارفرمائی ہے۔ اصغر صاحب کے انتقال کے بعد جگر صاحب کو ان کی بیوہ اور اپنی سابقہ بیوی سے محبت ہوگئی ۔ عدت پوری ہونے کے بعد حرف مطلب زبان پر لائے ۔ انھوں نے فرمایا ” شراب چھوڑ دو‘ ‘اس اللہ کے بندے نے شراب چھوڑ دی۔ بڑی بری بری حالتیں ہوئیں مگر نیت نیک تھی ساحلِ مراد پر زندہ ہی پہنچ گئے ۔ انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا ،شادی کے بعد جگر صاحب نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ رندی و سرمستی رخصت ہو چکی تھی ۔اب وہ ایک زاہدِ خشک بن گئے تھے ،مگر اس زہد و اتقامیں ان کا دل زندہ مرنے نہیں پایا تھا۔ طبیعت کی مستقل خرابی کے باوجود وہ خوب ہنستے بولتے تھے۔ گھنٹوں برج کھیلا کرتے تھے۔ مشاعروں اور ادبی محفلوں اور دوستوں کے ہاں آیا جایا کرتے تھے۔ اخلاق اور بھی نکھر گیا تھا۔ کھانا وہ پہلے بھی کم کھاتے تھے، اب تولوں ماشوں پر آ گیا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان میں یکساں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ بیوی سلیقہ مند خاتون تھیں چند سال کے پھیر میں ہی مشاعروں کے روپے سے سنا ہے کہ انہوں نے جگر صاحب کو صاحب جائیداد بنا دیا۔ قیام ِپاکستان کے بعد جگر صاحب نے یو پی کے مسلمانوں کے لیے بہت مفید کام کیے۔ حکام ان کی عزت کرتے تھے اور ان کی بات نہیں ٹالتے تھے۔ پاکستان میں بھی ان کا وقار قائم تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی شاعری بھی بہتر ہوگئی تھی مگر اس میں جو ایک قسم کی بے ساختگی اور ایک طرح کی والہانہ کیفیت تھی، ایک اچھوتا بانکپن تھا وہ یقیناً نہیں رہا تھا۔ اس کے بدلے سنجیدگی اور روحانی بالیدگی در آئی تھی۔ پہلے دل سے شعر کہتے تھے ، اب دماغ سے کہنے لگے تھے
ببیں کرامتِ بت خانۂ مرا اے شیخ
کہ چوں خراب شود خانۂ خدا گردد
دل کی بیماری نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آہستہ آہستہ جگر صاحب کی صحت جواب دیتی چلی گئی۔ دو سال ہوئے کراچی میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ویسے ہی ہشاش بشاش تھے اور اسی گرمجوشی سے ملے تھے۔ اسی طرح پوری آواز سے اپنا کلام سناتے تھے لوگ فرمائش کر کر کے ان سے ان کا پہلا کلام سنتے تھے۔ خوش ہو کر سناتے تھے۔ ایک مشاعرے میں دور پیچھے سے آواز آئی ’’جگر صاحب، وہ سنائیے جس میں ہرن ٹیل رئے ہیں‘‘ یعنی ٹہل رہے ہیں ۔ جگر صاحب نے مسکرا کر اپنا مشہور فارسی کا سراپا سنادیا جس میں ’’آہوخرامے‘‘آتا ہے۔ وطن واپس پہنچے تو دل کے شدید دورے پڑنے لگے۔ صاحب فراش ہو گئے ۔ مہینوں زندگی اور موت میں ان پر چھیناجھپٹی ہوتی رہی۔ اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا۔
خدارحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را