شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

جمیل جالبی

    جمیل جالبی

     

    ذرا تصور توکیجیے .....دو کمروں کے مارٹن کوارٹر میں چوبیس ( ۲٤) افراد کا کنبہ! سامان کمروں اور برآمدے میں سے ابل کر باہر سڑک پر آ گیا تھا۔ پاس پڑوس والے ہنستےتھے کہ یہ کباڑئیے کہاں سے آ گئے ۔ اسی کوارٹر کے برآمدے کے ایک گوشے میں ساقی کا دفتر بھی قائم کر دیا گیا تھا۔ دن بھر تو یہ جگہ دفتر بنی رہتی مگر رات کو اس میں بھی سونے والے پڑرہتے۔یہ کوارٹر اس احتیاط سے بنائے گئے تھے کہ ان میں پانی اور بجلی کا گزر نہ ہونے پائے۔ باہر کہیں کہیں نل لگا دیے گئے تھے کہ پو پھٹنے سے پہلے، اگر کسی کا جی چاہے تو پانی بھر لے۔ رات کور یوڑی والے کے چراغ کی طرح لالٹین جلا کر اپنا جی خوش کرلو۔ہنسی کی ہنسی  ، دکھ کا دکھ، اتنی شدید آبادی ہونے پر بھی ذرا چہل پہل نہیں تھی۔ دن بھر ہو کا عالم اور شام ہوتے ہی مری پھیل جاتی کسی کو کسی کی خبر نہیں ، سب اپنا اپنا آپا تک رہے تھے۔ دراصل جھٹکا ہی ایسا لگا تھا کہ لوگ اب تک اس سے سنبھل نہ سکے تھے۔ بھانت بھانت کا آدمی ہندوستان چھوڑ کر پاکستان چلا آرہا تھا۔ اسی ریلے میں ہم بھی یہاں گرتے پڑتے پہنچ گئے تھے۔ مگر عجب معاملہ تھا کہ جتنے ادھر سے آ ئے تھے ان میں لکھ پتی سے کم کوئی نہیں تھا۔ حد یہ کہ جنہیں میں اچھی طرح جانتا تھا وہ بھی اپنے آپ کو دِلّی  کے رؤسا میں سے بتاتے تھے اور ستم یہ کہ اپنے تمول کی شہادت مجھ سے دلواتے تھے۔ مجھے مسخراپن سوجھتا تو کہتا’’جی نہیں، رئیس  نہیں ، رئیس اعظم‘‘ وہ کھل جاتے تو میں دبی زبان سے کہتا ’’دِلّی میں فقیر تو صرف میں ایک تھا‘‘ اس پر ایک قہقہہ پڑتا اور ان کی رئیسی ہنسی  میں اڑ جائی ۔ بڑا لطف آرہا تھا اس نئی  زندگی میں ۔ ہم نے اچھا وقت دیکھا تھا تو کیا برا وقت دیکھنے کے لیے کوئی اور آتا؟ وہ بھی دیکھا یہ بھی دیکھ۔ ان نینوں کا یہی بسیکھ ۔ لہٰذا ہماراعمل ’’مرتے جائیں ملہاریں گائیں‘‘ پر رہا۔ عاشق کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلنا چاہیے، ہم ہنس ہنس کر اپنے نیل اڑاتے رہے اور گا گا کر اپنے غم بھلاتے رہے۔

    یہی شب وروز تھے کہ ایک دن دونوں وقت ملتے ایک بڑے ریشمیں سے نو جوان سامنے آ کھڑے ہوئے اور نہایت ادب کے ساتھ انہوں نے سلام کیا۔ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سر پر سفید کشتی ٹو پی، گول چہرہ، یا سمینی رنگ، کشادہ پیشانی ، غلافی آنکھیں، کتارا سی ناک، پتلے پتلے گلابی ہونٹ ،ٹھوڑی میں ہلکا سا چاه زنخداں، ڈاڑھی مونچھ  صاف، سفید سلک کی شیروانی ،ا کہرا پاجامہ اور پاؤں میں سفید سانبھر کی جوتی۔   اس طرح دار نو جوان کو دیکھ کر مجھے اپنی جوانی یاد آ گئی (گوخوب صورتوں میں میرا شمار کبھی نہیں ہوا)  میں کوارٹر کے آگے چار پائی بچھائے بیٹھا تھا، ایسے موقعوں پر مجھے شیکسپیئر کا ایک فقره ضرور یاد آجاتا تھا  ’’میں اپنے غموں کے ساتھ یہاں بیٹھا ہوا ہوں، بادشاہوں سے کہو کہ یہاں آئیں اور مجھے تعظیم دیں‘‘ نہ جانے کیوں مجھے اس فقرے سے بڑی تسلی ہوئی تھی۔ مجھے بالکل شرمندگی نہیں ہوئی کہ میں کھری چارپائی پر تہمد اور بنیان پہنے بیٹھا ہوں اور ایک نفیس مزاج ملا قاتی سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ میں نے کہا: ”تشریف لائیے! یہیں آجایئے میرے پاس‘‘ میں ذرا او پر کوکھسک گیا اور وہ بغیر کسی پس و پیش کے ایوان پر بیٹھ گئے۔’’ میرا نام جمیل جالبی ہے‘‘۔ یہ نام میراسنا ہوا تھا اور میں نے ان صاحب کا ایک آدھ مضمون بھی پڑھ رکھا تھا میں نے پوچھا’’ آپ کاتعلق کچھ مولا نا جالب دہلوی سے ہے؟‘‘ بولے ’’جی ہاں، وہ میرے دادا تھے‘‘، ’’تو پھر آپ ذرا آرام سے بیٹھئے اوپر ہو کر، آپ سے مفصل باتیں ہوں گی‘‘ اور پھر بہت دیر تک ان سے دنیا زمانے کی باتیں ہوتی رہیں اور مجھے اندازہ ہوا کہ یہ طرح دار نو جوان آج کل کے نوجوانوں کی طرح کھوکھلا نہیں ہے اور اس کے ظاہر کی طرح اس کا باطن بھی اجلا ہے۔ شرافتِ نسب ،شرافت ِ نفس کی ذمہ دارتھی ۔ میر جالب دہلوی کو اس صدی کا کون اُردو پڑھا لکھا آدمی نہیں جانتا؟ انہوں نے بیسیوں اخباروں کی ایڈیٹری کی ۔ زندہ انسائیکلو پیڈیا تھے۔ میر صاحب سے اگر آپ نے کچھ پوچھ لیا تو سمجھ لیجیے کہ بس جان غضب میں آ گئی۔ انہیں یہ خبرنہیں کہ سڑک ہے یا بازار ہے یا چوک ہے، ان کے علم کا دریا بہنے لگتا۔ اب آپ لاکھ پیچھا چھڑائیں میر صاحب جھاڑ کا کا نٹا بن کر آپ کو لپٹے رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب آپ اپنے گھر کا رخ کریں گے تو یہ بھی آپ کے ساتھ ہولیں گے اور ان کا لیکچر جاری رہے گا۔ آپ اپنے گھر پہنچ جائیں گے تو میر صاحب ڈیوڑھی ہی میں کھڑے اپنے بے پناہ علم سے آپ کو فیض پہنچاتے رہیں گے۔ یا لیکچر  اس وقت ختم ہوتا جب میر صاحب چونک کر دیکھتے کہ ان کا مخاطب روپوش ہوگیا اور خود کھڑےدر و دیوار سے باتیں کررہے ہیں۔

     جمیل صاحب پہلے ہی دن اس قدر محبت ، خلوص اور عقیدت سے ملے کہ ان سے اسی دن سے دوستی کی بنیاد پڑ گئی۔ مارٹن کوارٹرز کے پیچھے پیر الٰہی بخش کالونی کے دو ہزارکوارٹرز یرتعمیر تھے۔ کالونی کا کچھ حصہ بن چکا تھا۔ اسی میں جمیل صاحب اپنے چھوٹے بھائی عقیل صاحب کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے والدین اور چھوٹے بہن بھائی اس وقت میرٹھ ہی میں تھے۔ یہ دونوں بھائی بہ   غرض تعلیم پہلے چلے آئے تھے ۔ جمیل صاحب ایم اے اور ایل ایل بی میں پڑھ رہے تھے اور ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹری کے لیے تیاری کررہے تھے جمیل صاحب کو ادبی ذوق ورثے میں ملا تھا ۔علمی اور تنقیدی مضامین لکھنے کا انہیں شوق تھا۔ رفتہ رفتہ ساقی کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹانے لگے، ہر مہینے ساقی میں ’’باتیں‘‘ بھی لکھنے لگے۔ میں نے ان کا نام اداره ٔساقی میں شریک کرلیا تا کہ ان کی خدمت کا اعتراف ہوجائے۔

    جمیل صاحب کے والد میرٹھ کے متمول لوگوں میں سے ہیں۔ جب تک ہندوستان اور پاکستان میں روپے کی آر جاررہی میرٹھ سے دونوں بھائیوں کے اخراجات کے لیے روپیہ آ تا رہا۔ جب یہ سلسلہ بند ہو گیا تو جمیل صاحب نے بہادر یار جنگ ہائی سکول کی ہیڈ ماسٹری قبول کر لی ۔ اس سے انہیں اتنا مل جاتا تھا کہ دونوں بھائی بافراغت گزر کرلیں۔ ویسے بھی یہ دونوں بھائی بڑی محتاط زندگی بسر کرتے تھے ان کے دوستوں کی تعدادبھی بہت کم تی ، پھر کسی عیب میں نہیں ، یہاں تک کہ سگریٹ بھی نہیں پیتے تھے۔ کوئی بیہودہ اور مہنگامشغلہ بھی نہیں تھا۔ ادب کے چسکے نے انہیں برائیوں سے بچائے رکھا۔ مگر ادیبوں اور شاعروں کو ایسا بھی دیکھا ہے کہ دنیا جہان کے ان میں عیب آجاتے ہیں۔ دراصل یہ ان کی شرافت نسبی  اور عمدہ تربیت تھی جس نے انہیں بد کرداری سے بچائے رکھا۔ بعد میں جب ان کے والدین آگئے تو میں نے دیکھا کہ ماں باپ دونوں صوم و صلوٰة کے پابند اور بچوں پر کڑی نظر رکھنے والے ہیں ۔ ورنہ کسی وجیہہ اور خوب صورت نوجوان کے بگڑنے میں کیا دیر لگتی ہے، خصوصاً جبکہ پیسہ بھی ہاتھ میں ہو۔ مجھے دوسرے ذرائع سے معلوم ہوتا رہتا تھا کہ کالج کی کئی لڑکیاں جمیل صاحب سے التفات کر رہی ہیں، مگر ان کی بے التفاتی انہیں زیادہ قریب نہیں ہونے دیتی۔ جمیل صاحب عمر میں میرے لڑ کے میاں مشہود سے دو ایک سال چھوٹے ہی ہوں گے ۔ اس لیے میں ان سے ایسی نج   کی باتوں کا ذکر نہیں کرتا تھا۔ وہ بھی میرا ادب لحاظ  اسی طرح کرتے تھے جیسے اپنے کسی بزرگ کا کرنا چاہیے۔ یہ حفظ مراتب خدا کا شکر ہے کہ اب بھی قائم ہے بلکہ میں بعض اوقات اپنی رو میں اس حد کو بھول جاتا ہوں، جمیل صاحب کبھی نہیں بھولتے۔

    جمیل صاحب سے تقریباً روز انہ ملاقات ہوتی تھی۔ ان کی شخصیت میں کہربائیت اور ان کی باتوں میں موہنی ہے۔ چھل ،فریب ،مکاری اور چالاکی ان میں نہیں ہے۔ باتیں بڑی بھولی بھالی کرتے ہیں۔ ایک دن ہچکچاتے ہچکچاتے بولے ’’آج ہمارے ہاں کھانا کھا لیجیے ‘‘میں نے کہا: ’’کیا مضائقہ ہے، کھا لیں گے‘‘ چناں چہ دوپہر کو وہ مجھے لینے آ گئے اور میں ان کے ساتھ ہولیا۔ پھر کالونی میں ان کا کوارٹر قریب ہی تھا۔ کوارٹر میں سوائے ان کے ایک دوست کے، جوان ہی کے ساتھ رہتے تھے، اور کوئی نہیں تھا چھوٹے بھائی عقیل کو میں نے پوچھا۔ معلوم ہوا کہ کالج سے دیر میں آتے ہیں ۔ جمیل صاحب نے اپنے ملازم کو آواز دی ۔ ایک منٹ میں اس نے آکر میز لگا دی اور اس پر دستر خوان بچھادیا۔ نوکر کی وضع قطع دیکھ کر میں چکرایا۔ اُٹھلا کر چلتا تھا اور مٹک کر بات کرتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے جمیل  صاحب سے پوچھا’’ کیا تیسری جنس کا آدمی ہے؟‘‘انہوں نے کہا: ’’جی ہاں ،مگر بڑ اوفادار اور کامی ہے‘‘اتنے میں ٹرے میں رکا بیاں اور دوڈونگے لیے وہ بھی آ گیا اور میز پر انہیں رکھ کر ادائے محبوبی سے اُٹھلاتا چلا گیا۔ میں نے کہا:’’جمیل صاحب اچھا نمونہ پالا ہے آپ نے‘‘ جمیل صاحب ہنس کر چپ ہورہے۔ دسترخوان میں روٹیاں لپیٹے وہ لپک جھپاک چلا آرہا تھا۔ روئی رکھ کر الٹے قدموں لوٹ گیا۔ ایلو ! پھر چلا آرہا ہے ٹرے میں شیشے کا جگ برف آب سے لبریز اور تین گلاس لیے ۔ کھٹا کھٹ اس نے برابر کی میز پر انہیں رکھ دیا اور پھر لپک گیا۔ میں نے کہا، چھلاوا بنا ہوا ہےکمبخت۔ اس کا نام تو آپ بجلی  رکھیے‘‘ جمیل صاحب کے ساتھ ان کے دوست بھی ہنس پڑے۔ اب کے پھیرے میں وہ ایک طشتری میں قلا قندلایا اور میز پر رکھ کر مودب کھڑا ہو گیا جمیل صاحب نے کہا: ’’تم جاؤ ، ضرورت ہوگی تو بلالیں گے‘‘۔ وہ چلا گیا۔ شاید ہم اس کی موجودگی میں بے تکلفی سے باتیں نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے اسے چلتا کیا۔ جمیل صاحب نے ایک ڈونگا میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا:’’ بسم اللہ کیجیے‘‘ میں نے جو ڈونگے کا سر پوش ہٹایا تو مچھلی کا بھنا ہوا سالن دکھائی دیا۔ قصور کی میتھی کی خوشبو نے اڑ کر بھوک پرسان رکھ دی ۔ دوسرا ڈونگا کھولا تو اس میں ماش کی دال، جس پر ہری مرچیں اور پودینہ چھڑ کا ہوا اور بریاں کی ہوئی پیاز کے سرخ لچھے! دل سے جمیل صاحب کے لیے دعا نکلی مگر کیا جمیل صاحب دلوں کا حال بھی معلوم کر لیتے ہیں ؟ انہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ مچھلی اور ماش کی دال میرا من بھاتا کھاجا ہیں؟ یایہ محض حسن اتفاق تھا؟ یہ بھید آج تک نہیں کھلا ۔ خیر، ہم نے خوب ڈٹ کر کھایا، میں نے پوچھا ’’یہ کھانا ان ہی صاحب نے نہیں، ان ہی خاتون نے .....ان ہی حضرت نے پکایا ہے؟ “ جمیل صاحب نے کہا: ’’جی ہاں‘‘ میں نے کہا:’’ بھئی کمال کر دیا، ہم نے تو سنا تھا کہ اس جنس کے کسی کام میں بھدرک نہیں ہوتی‘‘ ۔ وہ بولے ’’اب آپ خود دیکھ لیجیے، پھر گھر کو بھی صاف ستھرا رکھتا ہے ۔ رات کو پاؤں بھی دبا تا ہے‘‘ ۔ میں نے کہا :’’ واقع میں، گھر کو تو اس نے چندن بنا رکھا ہے ۔ مگر کیا کہا آپ نے ، رات کو پاؤں بھی دبا تا ہے؟‘ ‘ جمیل صاحب میرے اشارے کو سمجھ گئے اور ان کا صبیح چہرہ گلابی ہو گیا۔ میں نے اس مخمصے کو ٹالنے کے لیے کہا:’’یہ مخلوق واقعی بڑی خدمت گزار اور وفا دار ہوتی ہے۔ پھر بھی آپ اس کی طرف سے ہوشیار رہیں‘‘  کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہم باہر برآمدے میں آئے  تو دیکھا کہ بجلی صاحب ہاتھ میں لوٹا اور صابن لیے اور کندھے پر اجلا تولیہ ڈالے سدھ کھڑے ہیں ۔ میں نے اب کے انہیں ذراغور سے دیکھا۔ تو بہ تو بہ خاصہ مکروہ چہرہ تھا اس کا۔ میں نے کہا: ’’کھانا تم نے بہت اچھا پکایا‘‘ مسکراکرکھیسیں  نکال دیں۔ ہاتھ دھلوائے ، تولیہ پیش کیا، اس کی سلیقہ مندی سے جی بہت خوش ہوا مگر اس سے استکراہ پھر بھی باقی رہا۔ کچھ عرصہ بعد جمیل صاحب کے ہاں پھر کھانا کھانے کا اتفاق ہوا تو دوسرا ہی آدمی نظر آیا، پوچھا ’’ وہ بجلی کہاں ہیں؟ “ بولے ’’وہ ٹھیک نہیں تھا ،اسے ہم نے نکال دیا‘‘۔

     جمیل صاحب نے ایم اے اور ایل ایل بی پاس کرنے کے بعد بھی ہیڈ ماسٹری جاری رکھی سکول والے ان کی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے انہیں چھوڑ نانہیں چاہتے تھے اور یہ اپنی سادگی میں معلمی پر قانع ہو گئے تھے مگر چند بھلے آدمیوں کے کہنے سننے پر اس پر رضامند ہو گئے کہ پی اے ایس کے امتحان میں بیٹھ جائیں۔ محنتی اور ذہین آدمی کے لیے کوئی راہ بند نہیں ہوتی ۔ چناں چہ جمیل صاحب اس سخت امتحان میں بھی کامیاب ہو گئے اور انکم ٹیکس افسر بنا دیئے گئے ۔سرکاری ملازم بن جانے کے بعد ان کا نام ادارہ ٔساقی میں سے ہٹا دینا پڑامگر نجی طور پر ان کا تعلق ساقی سے بدستور قائم رہا بلکہ ان کی یہ وضع داری اب تک قائم ہے۔

     جمیل صاحب جب اپنے عہدے پر مامور ہوئے تھے تو میں نے انہیں دوستانہ اور بزرگانہ نصیحت کی تھی کہ رشوت یا دل آزاری کا پیسہ  کبھی نہ لینا۔ بری کمائی ہمیشہ رنگ لاتی ہے۔ میں نے ایسے بہت سے تماشے دیکھے تھے۔ وہ قصے سب انہیں سنائے۔ میں اگر انہیں یہ نصیحت نہ کرتا تب بھی ان سے توقع یہی تھی کہ ایسا کوئی غلط اقدام وہ نہیں کریں گے ،مگر روپیہ بری چیز ہے، خصوصاً بڑی مقدار میں جب کسی نا تجربہ کار نوجوان کی دسترس میں ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ نبیل صاحب قعر دریا میں تختہ بند ہونے کے باوجو دتر دامنی سےبچے رہے۔ ویسے بھی بچپن کی اچھی تربیت اور خاندان کی آسودہ حالی کے باعث ان کی سیر چشمی نے انہیں لغزش سے بچائے رکھا اورجمیل صاحب بڑی ہوشیاری سے اس ہفت خواں کو طے کرتے چلے جارہے ہیں۔

    اس عرصہ میں جمیل صاحب کے والدین کراچی آ چکے تھے۔ ہندوستان میں جمیل صاحب کے والد کی بسیں چلتی تھیں ۔ یہاں بھی انہوں نے آکر بسیں چلانے کا کام شروع کیا۔ پیسے والے ہوتے ہوئے بھی یہ مزدورقسم کے آدمی ہیں۔ ماشاء اللہ بھرا پورا خاندان جمیل صاحب کی تنخواہ اونٹ کی ڈاڑھ میں زیرہ ہو کر رہ گئی۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شور بہ ! سارے خاندان کا خرچ بزرگوار نے اپنے ذمے لیا۔ پہلے جمیل صاحب کی شادی کنبے کی ایک سلیقہ مند لڑکی سے کی ۔ اس سے بہت سی امیدوار لڑکیوں کے دلوں پر سانپ لوٹ گیا۔ خود جمیل صاحب بھی دبی دبائی کامی لڑکی کو آج کل کی تیتریوں پر ترجیح  دیتےتھے۔ اپنی شادی سے مطمئن اور خوش ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد ان سے چھوٹی بہن کی شادی ہوئی۔ پھر اس سے چھوٹی کی شادی ہوئی اور اب آخر آخر میں میاں عقیل کی شادی ہوئی.... ڈاکٹر بن جانے کے بعد۔ اب سہیل میاں کو پانچ سال کے لیے اپنے خرچ سے ان کے والد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ بھیج  رہے ہیں ۔ یہ باتیں میں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ کو معلوم ہو جائے، اگر والدین سلیقہ مند ہوں تو اپنی اولاد کو سہارا دے کر کس طرح باعزت زندگی بسر کرنے کی راہ پر لگا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ایں خانہ تمام آفتاب است۔ لڑکیوں نے بھی اعلی تعلیم پائی مگر انہیں اس زمانے کی ہوا نہیں لگی ۔ سلیقہ مندایسی کہ دسوں انگلیاں دسوں چراغ۔ لڑکوں میں ایک انکم ٹیکس افسر، دوسر اڈاکٹر اور تیسرا نجینئر بننے جارہا ہے ۔ مگر اتنے اطاعت گزار اور تمیز دار کہ میں نے انہیں اپنے باپ سے نظر یں ملا کر کبھی بات کرتے نہیں دیکھا۔ باپ کا تو خیر مرتبہ ہی    ایسا ہوتا ہے، اپنے سے بڑوں کا بھی اسی طرح ادب لحاظ کرتے ہیں ۔ کراچی میں ایسے خاندان کو دیکھ کر جی بہت خوش ہوتا ہے اور اب سے چالیس پچاس سال پہلے کے دِلّی کے شرفاء کے خاندان یاد آ جاتے ہیں۔ ہمارے تعلقات اس خاندان سے رفتہ رفتہ اتنے بڑھ گئے کہ اکثر حضرات سمجھتے ہیں کہ ہم ایک ہی کنبے کے افراد ہیں اگر ایسا ہوتا تو میں اس پر فخر کرتا۔

     جمیل صاحب خاصے بھولے آدمی ہیں۔فوراً لوگوں پر اعتماد کر لیتے ہیں اور اکثر معتمد بعد میں غلط ثابت ہوتے ہیں تو انہیں غصہ نہیں آتا ، افسوس ہوتا ہے اور ان پر ترس آتا ہے ۔ انگریزی کا ایک اخبار نویس میرے پاس ایک دن آ یا اور میٹھی میٹھی باتیں کر کے چلا گیا۔ گفتگو میں باربارجمیل صاحب کا ذکر اس طرح کرتا جیسے ان سے اس کے بڑے گہرے تعلقات ہوں ۔ میں اس کے رویہ سے کھٹک گیا تھا کہ یہ کبھی کا نہ آنے والا اچانک آکر میری تعریف میں کیوں مرا جا رہا ہے ۔ مجھ پر مضمون لکھنا چاہتا ہے اور مجھے سبز باغ کیوں دکھا رہا ہے۔ اگلے دن وہ چند پرانے اخباروں کا میلا سا پلندہ لے کر پھر آ گیا اور اپنے چھپے ہوئے مضمون دکھانے لگا ۔ ادھر ادھر کی ہانکنے کے بعد بولا ’’اچھا اب اجازت دیجئے،   جب آپ کو فرصت ہو اس نمبر پر مجھے ٹیلیفون کر لیں ، میں انٹرویو کے لیے حاضر ہو جاؤں گا‘‘ میں اسے دروازے تک چھوڑنے گیا۔ پلٹ کر ایک دم سے اس نے کہا:’’ ایک دس روپے تو نہیں ہوں گے آپ کے پاس؟ میں جلدی میں اپنا پرس گھر بھول آیا، جمیل کے پاس گیا تھا ، وہ گھر پر نہیں تھا۔ میں کل اس وقت دے جاؤں گا “ میں جانتا تھا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے مگر میں نے ایک لمحے ہی میں فیصلہ کر لیا کہ اگر دس روپے اسے دے کر اس سے پیچھا چھوٹ سکتا ہے تو سمجھو کہ سستے میں چھوٹے ۔ میں نے دس کا ایک نوٹ اندر سے لا کر دیا۔ اس نے لے کر کہا:’’ بس کل اس وقت ‘‘اور چل دیا۔اگلے دن بھلا کون آتا تھا ۔ تیسرے دن میں نے کہا لا ؤ ذرا ٹیلیفون کر کے دیکھیں تو سہی کہ کیا کہتا ہے۔ دیے ہوئے نمبر پرٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا کہ ایک بڑے انگریزی اخبار کا دفتر ہے۔ میں نے ان صاحب کا نام لیا کہ ان کو بلوا دیجیے جواب ملا کہ اس نام کا کوئی آدمی اس دفتر میں نہیں ہے۔ اخبار کے ایڈیٹر سے میری شناسائی تھی۔ میں نے ان سے ٹیلیفون ملایا جیسے ہی میں نے ان صاحب کا نام لیا، وہ بولے’’ آپ سے وہ کچھ لے تو نہیں گیا؟‘‘ میں نے کہا: ’’دس روپے لے گیا‘‘ وہ افسردہ ہو کر بولے ’’مدت ہوئی ہم نے اس شخص کو علیحدہ کردیا، آدمی ذہین ہے مگرنا کارہ ۔ اب وہ یہی  کرتا پھرتا ہے اور نمبر کم  بخت ہماراسب کو بتاتا ہے۔ کئی اور شکایتیں بھی آ چکی ہیں ۔ اب صبر کیجیے اور آئندہ کبھی اس شخص کا اعتبار نہ کیجیے جو کہے کہ میں اپنا پر گھر بھول آیا ہوں‘‘ اگلے دن میں جمیل صاحب کو آگاہ کرنے کے لیے ان کے گھر پہنچا۔ اس کا نام سنتے ہی انہوں نے پوچھا ’’آپ سے کچھ لے تو نہیں گیا؟“ میں نے کہا: ’’دس روپے، مگر آپ ہوشیار رہیے ، وہ آپ کے پاس بھی پہنچے گا ‘‘ بولے ’’ مجھ سے تو وہ پہلے ہی لے جا چکا ہے‘‘۔ میں نے کہا: ’’چلو دس روپے ہی پر ٹلی‘‘ بولے ’’جی نہیں، وہ پھر آئے گا، مجھ سے تو وہ کئی بار دس دس پانچ پانچ کر کے لے جا چکا ہے‘‘۔ میں نے کہا:’’ اور آپ دیے جارہے ہیں؟‘‘ بولے ’’کیا کروں مجھے اس کی مفلسی پر ترس آتا ہے‘ ‘ کبھی انہیں ترس آجاتا ہے۔ کبھی انہیں خوف خدا ستاتا ہے، اورکبھی ان کا  جی  چاہ جاتا ہے۔ طالب علموں کی فیسیں اپنے پاس سے دے دیتے ہیں، کتابیں دلوادیتے  ہیں ، امتحان کی فیس  داخل کر دیتے ہیں۔ دوستوں میں سے کسی نے کہا: ” جمیل صاحب، آپ کا فلاں کام ہوگیا۔ مٹھائی کھلوائیے‘‘ بولے ’’چلیے، دوچار جتنے بیٹھے ہیں، سب کو عبدالحنان کی دکان پر لے کر پہنچ گئے اور مٹھائی اور سلونا کھلا لائے‘‘ ایک بے تکلف ہم دفتر نے کہا: ’’اپیل جیت گئے ، دعوت ہوگی۔ مرغ اور آئس کریم کی‘‘ لوصاحب ! باره خاص خاص دوستوں کی دعوت ہوگئی۔ بیس  بھنے ہوئے مرغ میز پر آگئے اور تھوڑی دیر میں ہڈیاں ہی ہڈیاں میز پر رہ گئیں۔ کھانے کے ساتھ انصاف کرنے والے بھی تو ایسے ہوں! چارگھان آئس کریم کے بھی پیاروں کے پیٹ میں اتر گئے اورجمیل صاحب کھلے جارہے کہ دوستوں کی خوشی پوری ہورہی ہے۔

    پی، این ، ای کی نمائندگی کرنے جب وہ پیرس گئے تھے تو وہاں بھی ایک جگہ ان کا جی چاہ گیا تھا۔ پروفیسر سید علی احسن نے بتایا کہ یہ جمیل بھی عجیب آدمی ہے۔ پیرس میں ہماری حیثیت مہمانوں کی تھی ،مگر جتنے مندوبین وہاں جمع تھے سب کو اس نے نہایت مہنگی شراب پلوا دی۔ میں نے پوچھا ’’جمیل  صاحب، بھلا یہ کیا حرکت تھی؟‘‘ بولے ’’میراجی  چاہ گیا اس وقت‘‘۔

    جمیل صاحب کو سوائے لکھنے پڑھنے کے اور کسی بات کا شوق نہیں ہے۔ ملازمت کی دماغ سوز مصروفیت کے باوجوداتناوقت ضرور نکال لیتے ہیں کہ اپنا مطالعہ بھی جاری رکھیں اور کچھ لکھ بھی لیں ۔ انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی لائبریری بھی بنالی ہے، جس میں بعض نایاب کتابیں بھی ہیں۔ اس لائبریری میں وہ جم کر بیٹھتے ہیں اور گھنٹوں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے ہیں۔ طبع زاد مضامین بھی لکھتے ہیں اور ترجمہ بھی کرتے ہیں ۔ ایلیٹ کے مضامین کا ترجمہ کرنا جوئے شیر کا لانا ہے۔ دنوں کی محنت شاقہ کے بعد انہوں نے اس مہم کو سر کیا اور ایک مجموعہ چھپوا کر ہمارے علمی سرمایہ میں ایک اچھی کتاب کا اضافہ کیا۔ ایسے مشکل کام وہی شخص کرسکتا ہے جودُھن کا پکا ہو۔ اُردو کے کلاسیکی ادب کا بھی مطالعہ کرنے کے لیے بڑے صبر و سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔جمیل صاحب اس کی ضخیم جلدوں کو بھی دیمک کی طرح چاٹتے رہتے ہیں’’فسانۂ آزاد‘ کی چار جلدوں کومع مقدمہ و حواشی کے شائع کرانا چاہتے تھے، مگر اس کے لیے انہیں کوئی پبلشر نہیں ملا۔ منشی سجاد حسین کی نایاب کتاب ’’حاجی بغلول‘‘انہوں نے ایڈٹ کر کے چھپوائی ہے۔ اور اب مہینوں سے جعفر زٹلی کے کلام کے پیچھے پڑےہوئے ہیں۔ اس کے مختلف نسخے ادھر ادھر سے جمع کیے ہیں۔ ہندوستان سے اس کی نقلیں منگوائی ہیں ، لندن سے ایک مستند نسخے کا مائیکرو فلم بھی منگالیا ہے۔ مجھے تو انہیں اس کام میں منہمک دیکھ کر وحشت ہوتی ہے مگر یہ الله کا بندہ اس خضوع وخشوع سے اس کام کو کر رہا ہے کہ اگر کوئی دینی کام اسی اہتمام سے کرتا تو اب تک کئی دفعہ کھڑ ا اور پڑ اجنت میں چلا گیا ہوتا۔ دراصل ایسے بے غرض کام کرنے والوں کو کسی علمی وادبی ادارے سے منسلک ہونا چاہیے تھا مگر یہاں تو مولوی عبدالحق مرحوم ہی کو کسی نے نہ پوچھا، کسی اور کا ذکر ہی کیا۔

    جمیل صاحب کے ادبی کارناموں میں ’’نیا دور‘‘  کا اجرا بھی ہے ۔ جب ’’نیا دور‘‘ جاری ہوا تو جمیل صاحب نے مجھ سے بھی مضمون لکھنے کی فرمائش کی ۔ میں اس کے پیش رو میں لکھا کرتا تھا اور دِلّی کے فسادات پر میرا طویل مضمون ( جو مجھے بعد میں شیریں صاحبہ نے بتایا کہ رپورتاژ ہے )  ’’دِلّی کی بپتا‘‘ اس کے فسادات نمبر میں شائع ہوا تھا ’’نقوش‘‘ کے شخصیت نمبر میں طفیل صاحب کی فرمائش پر میں نے مرزا عظیم بیگ چغتائی مرحوم کا خاکہ لکھا تھا۔ اور اسی خاص نمبر میں چند اور مختصر خاکے بھی لکھے تھے۔ حسنِ اتفاق سے انہیں قبول عام حاصل ہوا۔ جمیل صاحب کی فرمائش یہ تھی کہ یا تور پورتاژ لکھو یا خا کہ یا عالمی شاہکار کا ترجمہ دو ۔ میں کئی دن تک سرگرداں رہا کہ اپنے پیارے دوست کے لیے کیا لکھوں اور ایک دن میں نے بیٹھ کر ان کے لیے خواجہ حسن نظامی کا خاکہ لکھا۔ جمیل صاحب اسے دیکھ کر پھڑک گئے ۔حلقہ ارباب ذوق کی ایک نشست میں مجھے لے جا کر اسے پڑھوایا۔ اس مضمون کو سننے کے لیے چند خاصان ادب کو بطور خاص بلایا گیا تھا۔ غنیمت ہے کہ سب نے اسے پسند فرمالیا۔ پھر اسے ’’نیا دور‘‘ میں شائع کیا تو فر مائشیں آنے لگیں کہ اس سلسلے کے اور مضامین بھی لکھوائیے ۔اے روشنیٔ طبع تو برمن بلا شدی ۔ میں لا کھ کہتا ہوں کہ میں ادیب نہیں ہوں ،ایڈیٹر ہوں ،مگرایڈ یٹر ہیں کہ کہتے ہیں تم ادیب پہلے اور ایڈیٹر بعد میں ہو۔ مجھے مولیئر کا ’’زبردستی کا ڈاکٹر‘‘ یا دآ یا ۔ پنچ کہیں بلی تو بلی ہی سہی ۔لاؤ آج سے ادیب ہی بن جاؤ ۔ چناں چہ بن گئے ادیب ۔مگر اس لفظ کی لاج رکھنی کس قدر مشکل ہے۔

    ’’نیا دور‘‘ بڑی آب و تاب سے نکلا ۔ میرا مضمون بھی اس میں شامل تھا ۔ چند روز کے بعد اس کے منیجر صاحب آئے  اور ایک بند لفافہ مجھے دے گئے ۔ میں نے لفافہ کھولا دس دس روپے کے کئی نوٹ نکلے اور جمیل صاحب کا منکسرانہ خط تھا ۔ کچھ برا سا معلوم ہوا۔ حالاں کہ اکثر پرچے میرا مضمون شائع کرنے کے بعد حسب توفیق مجھے معاوضہ بھیج دیتے ہیں اور میں اسے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیتا ہوں ۔ نہ معلوم جمیل صاحب کی یہ پیشکش مجھے نا گوار کیوں گزری ۔شاید اس وجہ سے کہ وہ ہر بہانے میری خدمت کر تے رہتے ہیں۔ شاید اس وجہ سے کہ میاں مشہود کی طرح وہ ہمیشہ میرا خیال رکھتے ہیں ۔ میں نے اسی وقت انہیں پر چہ لکھا کہ ’’یقیناًرو پیہ د نیا کی بہت بڑی قوت ہے، اور روپے کی کس کو ضرورت نہیں ہوتی ؟ لیکن سارے کام روپے ہی کے لیے نہیں کیے جاتے، بعض کام بر بنائے خلوص کیے جاتے ہیں۔ آپ سے میں معاوضہ قبول نہیں کرسکتا۔ آئندہ اس کی زحمت نہ فرمائیں‘‘ میں نے لفافہ بند کر کے ان کے منیجر کو دے دیا۔ تھوڑی دیر بعد جمیل صاحب خود حیران پریشان چلے آئے ۔ بولے’’ شاہد بھائی ، خدا کی قسم یہ  آپ کے مضمون کا معاوضہ نہیں ہے، رونمائی ہے۔ بھلا میں ایسی گستاخی کرسکتا ہوں؟‘‘ میں نے کہا: ” بھائی میں آخر تمہارے احسانات سے کہاں تک دبتا چلا جاؤں؟ میں اگر روپے پیسے سے تمہاری خدمت نہیں کر سکتا تو کیا قلم سے خدمت کرنے کا موقع بھی مجھے نہیں دینا چاہتے؟‘‘ جمیل صاحب آبدیدہ ہو گئے ۔ انہیں معلوم تھا کہ میں دِلّی میں کیا تھا اور یہاں آنے کے بعد مجھے کیا بن جانا پڑا۔ بچارے عجب مخمصے میں پڑ گئے ، گئے تھے نماز بخشوانے روزے گلے پڑے۔ میں نے کہا: ’’ آپ اس کا خیال یا ملال نہ کیجیے، مضمون میں آپ کے لیے آئندہ بھی لکھتا رہوں گا ، اب آپ بیٹھئے ، چائے پیجئے اور کچھ باتیں کیجیے۔ بولے ’’اس وقت تو معافی چاہتا ہوں ، جانا ہے، پھر کسی وقت حاضر ہوں گا‘‘۔ اس کے بعد میرے اور ان کے درمیان معاوضہ کا ذکر کبھی نہیں آیا مگر جمیل صاحب غیور آ دمی ہیں ۔ تاک میں لگے رہتے ہیں کہ اس کا تدارک آئندہ کس طرح کیا جائے  ۔ ایک دن آئے تو بولے ’’ بڑی گرمی ہے، آپ نے پنکھا نہیں لگوایا ؟‘‘ میں نے کہا:’’ہاں ، ذرا ایسا ہی موقع ہورہا ہے‘‘ اگلے دن جو میں شام کو گھر واپس آیا تو دیکھا نیا پنکھا چھت میں لٹکا ہوا ہے ۔بچوں نے بتایا کہ جمیل صاحب نے مستری کو بھیجا تھا ، وہ لگا گیا ہے ۔اب خفیف ہونے کی میری باری تھی ۔عند الملاقات میں نے کہا:’’ حضرت یہ  آپ نے کیا کیا؟‘‘ بو لے’’اب آپ کچھ نہ کہئے ۔ حساب دوستاں در دل‘‘ جب میری بیوی نے اس عمر میں دن بھر ایک سکول میں پڑھانے اور خرابی صحت کے باوجودسیکنڈ ڈویژن میں ایم اے پاس کیا تو سب کو بہت خوشی ہوئی اور جمیل صاحب کو سب سے زیادہ ۔ گھر میں زنانہ میلادشریف ہوا۔ جمیل صاحب کی بیگم ، والدہ اور بہنیں بھی آئیں ۔ مٹھائی تو کئی خواتین لے کر آئیں مگر جمیل صاحب کی بیگم مٹھائی کے علاوہ نائیلون کی ایک پھول دار ساڑھی بھی تحفۃً لے کر آئیں ۔ میری بیوی نے پوچھا’’یہ زیر باری کیوں؟‘‘

    بیگم جمیل نے کہا: ’’بھابی ، آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ آپ نے کتنا ناممکن کام کیا ہے ۔ جمیل صاحب تو ایک ایک سے آپ کی تعریف کر رہے ہیں۔ آج صبح مجھے اپنے ساتھ ایلفی لے گئے تھے کہ بھائی کو تحفہ دینے کے لیے ایک ساڑھی پسند کر دو ۔ میں نے آپ کے لیے یہ مہندی کا رنگ پسند کیا ہے۔ آپ کو شوخ رنگ پسند نہیں ہیں نا ؟ مجھے تو یہ بہت اچھی لگی ۔ آپ کو پسند آئی؟‘‘ ...... اوریوں جمیل صاحب کو جب بھی موقع ملتا ہے ہم پر احسان کا وارکر جاتے ہیں ۔

    یادش بخیر حضرت جوش ملیح آبادی کھانے پینے کے بڑے رسیا ہیں ۔لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف پینے کے، جی نہیں ، کھانے کے بھی۔ مجھے چند بارانہیں کھاتے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اس معاملے میں وہ قطعی غیر شاعر ہیں۔ جوش صاحب بڑی بے دردی سے کھانے پر پلتے ہیں ۔ ہوتا یہ ہے کہ ادھر سورج غروب ہوا اور ادھر وہ ساغر بکف طلوع ہوئے ۔ دو گھنٹے تک ان کا یہ شغل جاری رہتا ہے ۔ مفت خورے تو ساتھ لگے ہی رہتے ہیں مگر یہ ا تنے تنک ظرف ہوتے ہیں کہ ایک ایک دو دو گلاس ہی میں چھک جاتے ہیں ۔ جوش بلانوش ہیں ۔ دو گھنٹے میں چار چھ جتنے بھی گلاس ہو جاتے ہیں سب چڑھا جاتے ہیں اور ذرانہیں بہکتے ۔ بلکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ان کی گل افشانی گفتار دیکھنے کے لائق ہوتی ہے۔ دو گھنٹے کے اس ریاض کے بعد کھانا طلب کیا جا تا ہے ۔ اب آپ ان کے تناول طعام کی رفتار د یکھئے۔ بریانی کی چوٹی دار قابیں آتی رہیں گی اور غائب ہوتی رہیں گی ۔قورمہ اور شیر مالیں پناہ مانگ جائیں گی ۔آم کی گٹھلیوں کا ڈھیر سامنے لگ جائے  گا اور ہلاکو کے کھوپڑیوں کے مینار کی یاد تازہ کر جائے  گا۔ جوش صاحب کی اس خوش خوری کو دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ کم از کم ایک شخص تو ہماری برادری میں ایسا ہے جو کھانے کے ساتھ پورا پورا انصاف کر سکتا ہے ۔

    ہاں تو جوش صاحب نے ایک دن لاڈ میں آ کر جمیل صاحب سے کہا کہ’’ آپ ہماری دعوت کر دیجیے‘‘ انہوں نے کہا: ’’بسم اللہ ، جس دن آپ فرمائیں‘‘ بولے’’ مگر دعوت میں پیچی بریانی اور بگھارے بیگن ضرور ہوں گے۔ آپ کی بیگم حیدرآباد میں رہ چکی ہیں اور سنا ہے کہ کھانا بہت اچھا پکاتی ہیں‘‘۔ بھولا اور تکلف کا آدمی ، بیوی کی تعریف سن کر خوش ہو گیا۔ دن مقرر ہوا اور وقت مقرر ہوا۔ مجھے بھی دعوت نامہ بھیجا گیا مگر مجھے لاہور جانا تھا ، دعوت میں شریک نہیں ہوسکا۔ واپسی پر جمیل صاحب سے نہیں قد وسی ( ۱) صاحب سے اس دعوت کی رودادسن کر لطف آگیا۔

    جمیل صاحب نے بڑے اہتمام سے کھانا پکوایا۔ کچی بریانی اور بگھارے بیگنوں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ تیار کرایا۔ وقت کی پابندی جمیل صاحب نے کبھی کی ہے نہ کر یں گے مہمان نو بجے سے آنے شروع ہو گئے ۔ جوش صاحب کو دس بجے جا کر لانا تھا۔ جوش صاحب ہمیشہ لائے  جاتے ہیں، آتےکبھی نہیں ۔ ساڑھے دس بجے بیگم جمیل نے اطلاع کرائی کہ کھانا تیار ہے ۔ جمیل اور جوش کے باہمی دوست قد وی صاحب مبین الحق کی شیو لے کر جوش صاحب کے ہاں پہنچے تو گیارہ بج چکے تھے ۔معلوم ہوا کہ جوش صاحب کھانے سے فارغ ہو کر استراحت فرما رہے ہیں ۔ قد وسی صاحب نے کہا: ’’انہیں اطلاع کر دو کہ جمیل صاحب کے ہاں سے قد وسی لینے آیا ہے‘‘ بھلا جو شخص کہ گھڑی رکھ کر سارے کام کرتا ہو وہ کیسے کسی تاخیر کو گوارہ کر لیتا؟ قدوسی صاحب نے قُد ری کر لی ، جوش صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے کہا کہ ’’بھئی اس بچارے نے بہت عمدہ انتظام کیا ہے اور دس بارہ معزز آدمی آپ کی وجہ سے بلوائے ہیں ۔ آپ سب پر پانی پھیرے دے رہے ہیں ۔ کچھ تو خیال کیجیے ‘‘ مگر وہ سر ہلا ہلا کر یہی کہتے رہے کہ ’’اب تو ہم کھانا کھا چکے، اب ہم نہیں جائیں گے‘‘ بڑا ناز تھا قد وسی صاحب کو اپنی دوستی پر اور کمال یہ ہے کہ اب بھی ہے۔ وہاں سے نا کام لوٹے تو الٹے جمیل صاحب پر بھبک پڑے کہ ’’ میاں تم نے دیر کر دی ، وہ کیسے آ سکتے تھے،ان کے سونے کا وقت ہو گیا‘‘۔

     جمیل صاحب کو جوش صاحب کی اصول پرستی سے بہت رنج پہنچا۔مگر ضبط کر کے بولے ’’ ہاں دیر  تو ہوگئی مگر جوش صاحب کو آ جانا چاہیے تھا‘‘۔

     جمیل صاحب کا اصول یہ ہے کہ وقت کی پابندی نہ کی جائے ۔ جوش صاحب کا اصول یہ ہے کہ وقت کی پابندی کی جائے  ۔ ان اصولوں کی ٹکر میں دعوت کا بیڑا غرق ہو گیا۔ مہمانوں نے کھانا زہر مار کیا اور منہ تھتھائے اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔

    وواپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں؟

     دراصل جوش صاحب کی خو’’ خوئے بد‘‘ ہے اور اپنے جواز میں ہزار بہانے تلاش کر لیتی ہے۔ ورنہ حضرت کا اصول تو یہ ہے کہ ان کا کوئی اصول ہی نہیں ہے۔ جمیل صاحب اس واقعہ سے کبیدہ خاطر ہو گئے تھے مگر ایک دن جوش صاحب ان کے دفتر پہنچ گئے اور جمیل صاحب کی سادگی دیکھیے کہ سب کچھ بھلا بیٹھے اور جوش صاحب سے ان کے تعلقات پھر استوار ہو گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ زمانے کے بھی اصول بدل گئے ہیں ۔

    از بزرگان خطا و از خورداں عطا

    جوش صاحب بہانے تلاش کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں ۔ جب گلڈ کی بنیا درکھی گئی اور پہلے جلسے کے لیے بلاوے بھیجے گئے تو یہ طے ہوا کہ چند معزز ومعمر حضرات کا تعارف صدر پاکستان سے کرایا جائے  ۔ چناں چہ بابائے  اردو، پروفیسر مرزا محمد سعید ، پروفیسر حامد حسن قادری اور جوش صاحب کی خدمت میں ہم فرداً فرداً گئے اور ان سب نے خوش ہوکر شرکت کا وعدہ فرمایا۔ جلسے کی صبح کو ایک ایک بنیادی رکن ان حضرات کی خدمت میں گیا اور انہیں جلسہ گاہ میں لے آیا۔ جمیل صاحب جوش صاحب کو لانے گئے اور منہ لٹکائے  خالی آئے’’ارے بھئی کیوں نہیں آئے؟‘‘

     ’’جی وہ کہتے ہیں کہ گلڈ کا فارم انگریزی میں چھاپا گیا ہے ، اس لیے میں شریک نہیں ہوں گا‘‘۔

    ’’کیا انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ گلڈ صرف اُردو کانہیں ہے، پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کا ہے‘‘ ۔

     ’’ جی ہاں ، معلوم ہے ... اس کے باوجود‘‘۔

    جوش صاحب گلڈ کے جلسے میں شریک نہیں ہوئے اور نہ گلڈ کے ممبر بنے ۔ ہوا یہ کہ جولوگ انہیں گھیرے رہتے ہیں انہوں نے انہیں سنکا دیا کہ آپ تو گلڈ میں کوئی بڑا عہدہ ملنا چاہیے ۔معمولی ممبر کی طرح شریک ہونا آپ کی شان کے خلاف ہے ۔ یہ بات ان کے گھٹ میں اتر گئی۔ مگر اپنے منہ سے کیسے کہیں کہ مجھے کوئی بڑا عہدہ دوتو جلسے میں شریک ہوتا ہوں ۔لہٰذا بہانہ یہ تلاش کیا کہ انگریزی میں گلڈ کے فارم کیوں چھاپے گئے ۔ حالاں کہ انہیں منہ پھوڑ کر جالبی صاحب سے کہہ دینا چاہیے تھا کہ مجھے کوئی بڑا عہدہ دو ۔ آخر اور بہت سی بیہودہ باتیں وہ دوستوں سے ( اور غیروں سے بھی) کہہ دیا کرتے ہیں ، تو جمیل صاحب انہیں اطمینان دلا دیتے کہ گلڈ میں عہدے نہیں بٹ رہے ۔سنا ہے کہ اب وہ اس واقعہ کو جھٹلاتے ہیں ۔ کیا میں ان سے پوچھ سکتا ہوں کہ اگر یہ بات نہیں تھی تو آپ آج تک گلڈ کے ممبر آخر کیوں نہیں بنے ؟

    ہے ادب شرط منہ نہ کھلواؤ

    جمیل صاحب کا عمل Forgive & Forget پر ہے۔ میں ان سے خفا ہو کر کہتا ہوں کہ اسے بے غیرتی کیوں نہ کہا جائے ؟ وہ ایک دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں ’’ ہاں ہے تو ایک طرح کی بے غیرتی ہی ۔ مگر میں کیا کروں کہ میرا جی چاہتا ہے‘‘۔

    ’’ تمہارا جی تو باؤلا ہو گیا ہے ۔ادب کے نقد واحتساب میں تو تم نے نظر پیدا کر لی ۔ادیبوں کو پرکھنا بھی سیکھو، یہ  کیا ذہنی طور پر نابالغ ادیبوں سے لے کر بوڑھے دانشوروں تک سب کو ایک لکڑی سے ہانک دیتے ہو۔‘‘

     بھولا آدمی پھر اپنے جی کا رونا لے بیٹھتا ہے اور اس غریب کو اس کے حال پر چھوڑ دینا پڑ تا ہے۔ شاید اس حد سے بڑھی ہوئی شیریں مزاجی ہی کی وجہ سے لوگوں نے انہیں جالبی کے بدلے جلیبی کہنا شروع کر دیا ہے۔ جوش صاحب کے پرستار ِخصوصی مولا نا قد وسی سے میں نے کہا: ”جمیل صاحب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘

     بولے ’’ وہی جو جوش صاحب کی‘‘۔

     ’’ان کی رائے کیا ہے؟‘‘

    ’’ کل آپ کو جوش صاحب کا خط دے جاؤں گا ، دیکھ لیجیے گا‘‘۔

     اس خط کا اقتباس یہ  ہے :

    ’’ جمیل صاحب جالبی ، چشم بد دور، نکیلے جوان اور طباع انسان ہیں ۔ ان کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک اور ان کے لہجے  میں شرافت کی گمگ پائی جاتی ہے۔

    قدرت نے ان کوسخن فہمی  اور بذلہ نجی کا جو ہربھی عطا کیا ہے اور برمحل صحیح   بات کہنے کی صلاحیت بھی دی ہے ۔

     ان کی شخصیت میں جاذ بیت اور ان کی عقل میں تابانی کا امتزاج یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ ۔

    خدا کے فضل سے یوسف جمال کہلائے

     اب اور چاہتے کیا ہو ، پیمبری مل جائے؟

    ( مرحوم جوش )

    یہ ’ ’مرحوم‘‘ کا سابقہ بھی خوب ہے زندہ شہیدوں کی طرح یہ ’’ زندہ مرحوم‘‘ ہیں

    تم سلامت رہو ہر روز کے مرنے والے

     خدا کا شکر ہے کہ جمیل صاحب شاعر نہیں ہیں ، ابتدائے شعور یا بے شعوری کی عمر میں انہیں شعر کہنے کی لت لگ گئی تھی مگر اللہ نے انہیں جلد عقل دے دی اور شعر گوئی ترک کر کے انہوں نے نثر نگاری کی طرف توجہ کر لی مگر کچھ عرصے سے ان کی نثر نگاری میں ایک خطرناک رجحان آچلا ہے اور یہ ر جحان ہے مقد مہ نگاری کا ، جو نتیجہ ہے مولا نا قد وسی کی دوستی کا ۔ قد وسی صاحب تصوف کی تاریخ کئی جلدوں میں لکھ رہے ہیں ۔ تذکرہ صوفیائے سندھ اور شیخ عبدالقدوس گنگوہی اور ان کی تعلیمات پر جمیل صاحب نے عالمانہ مقدمے لکھ کر مجھے تو حیرت میں ڈال دیا کہ یہ ادب کا ایک شائستہ طالب علم اور اُردو کا ایک شریف نقاد تصوف اور صوفیوں میں کہاں جا کر پھنس گیا ؟ ان مقدموں کے لکھنے کے لیے اس کو اپنا کتنا خون پانی کرنا پڑا ہوگا ؟ جمیل صاحب کو اس نوع کی مقدمہ بازی سے بچنا چاہیے۔ اگر خدانخواستہ ان کا شمار علماء یا مولاناؤں میں ہونے لگا تو وہ نہ دین کے رہیں گے اور نہ دنیا کے ۔ مقدمہ بازی تو مولوی عبدالحق مرحوم ہی پر پھبتی تھی ، اور ان کی کے ساتھ ختم ہوگئی۔ صحبت ناجنس سے گریزاں رہنے والا کہاں اصفیا اور اتقیا میں جا گھسا۔ دکان شیشہ گراں میں سانڈ کا کیا کام؟ نفیس مزاج لوگوں کو ایسی حرکتوں سے باز رہنا چاہیے۔

    نفاست مزاج پر یاد آیا کہ جمیل صاحب کی عجیب نفائس پسندی بعض اوقات ان کے دوستوں کے لیے بڑی صبر آزما ثابت ہوتی ہے ۔ مثلاً انہیں چاندنی راتیں بہت پسند ہیں ۔ جاڑے کی چاندنی راتیں بھی ، حالاں کہ غریب کی جوانی اور جاڑے کی چاندنی کون دیکھتا ہے؟ جناب دیکھتے ہیں ۔ ایک دفعہ مجھے جاڑوں میں چاند کی چودھو یں میں شب کو سینڈز پٹ اپنے ساتھ لے گئے ۔ چاند نے کھیت کیا ،تو سمندر میں دور تک چاندی کے ٹکڑے تیرتے ہوئے بہت اچھے لگے ۔ بس دیکھ لیا انہیں اب گھر چلو ،نہیں خاموش بیٹھے انہیں تکے جار ہے ہیں ۔ ایک گھنٹہ، دو گھنٹے ،کوئی حد بھی ہے اس خوش منظری سے لطف اندوز ہونے کی؟ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے قلفی جمی جارہی ہے اور آپ ہیں کہ آنکھیں پھاڑے کبھی چاند کو دیکھتے ہیں اور کبھی سمندر میں بکھرے ہوئے چاند کے ٹکڑوں کو ۔ تنگ آ کر میں نے کہا: اس سے پہلے کہ آپ ماہ زدہ ہو جائیں اور Lunatic کہلائیں آپ کھڑے ہو جائیں‘‘۔ بہت لجاجت سے بولے’’بس ابھی چلتے ہیں ، اک ذرا... ‘‘میں نے کہا:’’ ذراور کچھ نہیں ،فوراً کھڑے ہو جائیے ورنہ میں یہ چلا‘‘ ٹھنڈی سانس  بھر کر اُٹھے اور ساتھ ہو لیے ۔ رات کے بارہ بجے گھر پہنچے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ حیدر آبادسندھ میں پیش آیا ایک رات کو جب چاند چڑھ گیا تو اللہ کا بندہ ساری رات شہر کے سنسان علاقوں میں گھومتا پھرا اور مجھے اس کے ساتھ گھسٹنا پڑا۔ توبہ کی کہ آئندہ کبھی چاندنی رات میں اس شخص کے ساتھ نہ جاؤں گا۔

    گلاب کا پھول سبھی کو اچھا لگتا ہے ،خصوصاً  کراچی میں کہ کمیاب ہے ۔ ایک دفعہ ایک گل فروش سے سرخ گلاب کا پھول لیا تو اس نے چار آنے کا دیا ۔گلاب کا پھول جمیل صاحب کی کمزوری ہے ۔ بے اجازت توڑ لینے یا اس کے چرا لینے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔ جاڑوں میں جب آپ انہیں سوٹ پہنے دیکھیں گے تو دل کے اوپر گلاب لگا ہوا آپ کو ضرور دکھائی دے گا اور اگر کوٹ نہ ہواور گلاب مل جائے  تو اپنی کار کے سٹیرنگ ہی میں لگالیں گے۔

    جمیل صاحب کی خوش اخلاقی بعض صورتوں میں اس حد تک کو پہنچ جاتی ہے کہ لوگ انہیں شک کی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں ،خصوصاً خواتین کے باب میں ۔ میں نے بھی چند باران کے التفات فراواں کو دیکھا ہے اور اس پر انہیں ٹو کا بھی ہے، مگر جمیل صاحب نے گھبرا کر نہایت سادگی سے جواب دے دیا کہ ’’نہیں ، یہ بات تو نہیں ہے‘‘ مگر بد بینوں یا بدطینتوں کا کیا کیجیے؟ مارتے کا ہاتھ تو پکڑا جاسکتا ہے، کہتے کی زبان نہیں پکڑی جاتی ۔ جو لوگ جمیل صاحب کی طبیعت سے واقف نہیں ہیں سمجھتے ہیں کہ عورت جمیل صاحب کی کمزوری ہے اور واقع میں جب کسی خاتون سے سابقہ پڑتا ہے تو اس سے اس قد رگھل مل کر باتیں کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے ریشہ خطمی ہو گئے۔ لیکن دراصل یہ ان کا حسن اخلاق ہوتا ہے ، ان کا جذ بہ احترام ہوتا ہے اور تو اور متعارف ہونے والی خاتون کو بھی مغالطہ ہو جا تا ہے اور بعض دفعہ جمیل صاحب کی پوزیشن بڑی آک ورڈ ہو جاتی ہے ( یہ فقرہ میں نے آج کل کی اُردو میں لکھا ہے) دراصل کسی غیر خاتون سے بات کر نا سانپ کا کھلا نا ہوتا ہے۔شیکسپیئر کہہ گیا ہے’’اے عورت تیرا نام کمزوری ہے‘‘ خدا جانے اس کی یہ  کمزوری کب عود کر آئے ۔ چناں چہ عود کر آئی اور یہ واقعہ جمیل صاحب نے خود سنایا کہ گلڈ کے سالانہ اجلاس کے سلسلے میں جو چند خواتین مشرقی پاکستان  گئی تھیں ان میں سے ایک بیاہی تیاہی خاتون نے اُٹھلا کر ان پر منہ مارا مگر یہ  حسنِ اتفاق سے بچ گئے اور اسے الٹی منہ کی کھانی پڑی۔ ہوا یہ کہ گلڈ کے اجلاس ختم ہو جانے کے بعد مہمانوں کی ٹولیاں بنا کر مشرقی پاکستان کی سیر کرائی گئی اور چوں کہ جمیل صاحب گلڈ کے ایک ذمہ دار رکن ہیں بلکہ گلڈ کے بنانے والوں میں سے ہیں ، اس لیے انہیں چند اور ادیبوں کے ساتھ خواتین کی ٹولی میں شریک کر دیا گیا۔ ریل کسی نہایت خوش منظر علاقے سے گزر رہی تھی ،جمیل صاحب نے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی ایک خاتون سے کہا: ’’دیکھئے کتنا خوش نما منظر ہے‘‘ خاتون نے گھوم کر کھڑکی میں سے باہر جھانکا اور ایک دم سے پلٹ کر کہا: ’’ہوں ، تو آپ میری کمر دیکھنا چاہتے تھے‘‘ یہ جملہ اس قد را چانک ہوا کہ جمیل صاحب بھونچکے ہوکر رہ گئے اور جمیل صاحب ہی کیا سارے ہم سفر عورت مرد ہکا بکا رہ گئے ۔جمیل صاحب کا چہرہ غصے سے تمتما گیا۔اگر مقابل کوئی مرد ہوتا تو یقینا ًمارتے مارتے وہ اس کا بھرکس نکال دیتے ۔جن لوگوں نے یہ  سین دیکھا تھا بتایا کہ جمیل خون کا گھونٹ پی کر رہ گیا اور بڑی برد باری سے بولا’’ آپ کی کمر میں کیا رکھا ہے جو میں اسے دیکھوں؟‘‘ زخمی سانپ نے پھر پھن مارا’’ آپ لوگ اپنی بیویوں کو ساتھ کیوں نہیں لاتے ؟‘‘ جمیل نے کہا:’’ جب آپ اپنے شوہروں کو ساتھ نہیں لاتیں تو ہمیں اپنی بیویوں کو ساتھ لانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ اس پر سب کی طرف سے ایک ملا جلا قہقہہ پڑا اور بات ہنسی میں اڑ گئی مگر جمیل صاحب کی بھلمنساہت دیکھئے کہ اس واقعے کے بعد بھی انہوں نے ان محترمہ کے ساتھ اپنے شائستہ رویہ میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ در اصل جس شخص کو اپنی بچوں سے محبت ہوتی ہے وہ ڈونڈ ا تانہیں پھرتا۔

    سکول کے زمانے میں کسی انگریزی نظم میں پڑھا تھا کہ ایک ماں اپنے بچے کو یوں نصیحت کر رہی ہے’’ بیٹا ، اگر دنیا میں کامیاب زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو ’’نہیں ‘‘ کہنا سیکھو‘‘۔ اس کا مجھے بار بار تجر بہ ہوتارہا ہے اور آپ کو بھی تجر بہ ہوا ہو گا کہ ’’نہیں‘‘ کہنا کس قد رمشکل ہے اور’’ہاں‘‘  کہنا کس قدر آسان ۔جمیل صاحب ’’نہیں‘‘نہیں کہہ سکتے ۔ان کے پاس بیسیوں ضرورت مند آتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کونفی میں جواب نہیں دیتے اور کبھی کسی کا کام کرنے سے انکار نہیں کرتے ۔ بہت سوں کا کام اپنی خلافِ مرضی بھی کر دیتے ہیں ، بعد میں اس پر متاسف بھی ہوتے ہیں مگر اس کا کام کر دیتے ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کام ان کے بس کا نہیں ہوگا مگر آخر تک ہاں ہاں کیے جاتے ہیں اور جب کام نہ ہونے پر اگلا  آ کر بگڑتا ہے تو جی ہاں جی ہاں    کہہ کر اس کی کڑوی کسیلی بھی گوارہ کر لیتے ۔ میں نے ان کے اس رویہ پر انہیں اکثر ٹو کا ہے مگر ان کی اس ادا میں کوئی فرق نہیں آیا۔ لہٰذا مجھے ان کی ’’ہاں‘‘ مشتبہ نظر آنے لگی۔ سخی سے شوم بھلا جوترت دے جواب ۔

     جمیل صاحب بڑے خلوص سے جھوٹ بولتے ہیں اور جب ان سے باز پرس کی جاتی ہے تو بڑی محبت سے کوئی خوب صورت عذرتراش کر لیتے ہیں اور ان کے اس بھولپن پر غصے کے بدلے پیار آ جا تا ہے ۔ وہ وعدہ کر لیں گے کہ میں کل ٹھیک پانچ بجے آپ کےپاس آؤں گا، مگر اگلے دن وہ سرے سے آنے کے ہی نہیں ۔

     ’’اماں کل کہاں رہ گئے تھے؟‘‘

    ” کیا بتاؤں شاہد بھائی .....سوتارہ گیا ، بیوی سے کہا تھا جگا دینا ، وہ بھول گئیں‘‘۔

    ایسے قاتل کا کیا کر ےکوئی

     ” بھئی سب انتظار ہی کرتے رہے ، آپ کھانے پر تشریف ہی نہیں لائے ؟‘‘

     ’’ارے! بالکل بھول گیا ۔ بس دیکھیے یہ حال ہوتا جارہا ہے حافظہ کا‘‘۔

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے  اے خدا؟

    جمیل صاحب وقت کی پابندی نہیں کرتے ۔ گھنٹہ آدھا گھنٹہ لیٹ ہونا ان کا معمول ہے۔چناں چہ اب میں ان کے لیے اتنا مارجن رکھتا ہوں ۔اگر مجھے اور انہیں ساتھ جانا ہوتا ہے تو وہ نہایت وثوق سے کہتے ہیں’’ میں آجاؤں گا آپ کے پاس‘‘ میں عرض کرتا ہوں ’’ جی نہیں، میں آؤں گا آپ کے پاس‘‘ میں وقت مقررہ سے آدھ گھنٹہ پہلے ان کے گھر پہنچتا ہوں، بجلی کی گھنٹی کا بٹن دبا تا ہوں ۔ وہ آنکھیں ملتے ہوئے آتے ہیں اور بیٹھک کا دروازہ کھولتے ہیں ۔’’ آئیے ، بس ایک منٹ میں تیار ہو کر آ تا ہوں‘‘ پندرہ منٹ کے بعد برآمد ہو کر کہتے ہیں’’ ایک پیالی چائے کی پی لیں ، بس چلتے ہیں‘‘الیکٹرک ریز ر ہاتھ میں لیے چلے آتے ہیں’’ یہیں شیو بنالوں ، آپ اکیلے بیٹھے ہیں‘‘ کہہ کر ریزرکا پلگ لگاتے ہیں اور چہرے پر استری سی کرنے لگتے ہیں ۔’’ابھی بہت دیر ہے ، دیکھ لیجیے گا وہاں کوئی نہیں آیا ہوگا ۔ لوگ وقت کی پابندی ہی نہیں کرتے‘‘ میں زہرخند کے ساتھ کہتا ہوں ۔ ’’جی ہاں ، لوگ وقت کی پابندی ہی نہیں کرتے‘‘ اور خندہ ٔدنداں نما کے ساتھ ان کے رخساروں پر سینکڑوں ننھے ننھے سے گڑھے پڑ جاتے ہیں ۔ شیوختم ہو گیا ، پلگ نکالا اور ریزر میز پر رکھتے ہوئے ہوئے بولے ’’آپ بھی اس سے شیو کیا کیجیے، نہ صابن نہ پانی ، چاہے بستر پر لیٹے لیٹے شیو بنالیں، بس ابھی آیا‘ ‘ دس منٹ پھر گزر گئے ۔ ملازم نے دو پیالیاں چائے کی لا کر میز پر رکھ دیں، پھر سگریٹ کا ڈبہ رکھ گیا۔  بارے جمیل صاحب دھلا ہوا جوڑااور شارک سکن کی دودھیا اچکن پہنے نمودار ہوئے ۔ ہاتھ میں پانوں کی تھالی’’ معاف کیجیے، کچھ دیر ہوگئی۔ میں نے کہا جلدی سے نہا کر کپڑے بدل لو ۔ ارے! آپ نے چائے  نہیں پی؟ ٹھنڈی تو نہیں ہوگئی؟، پیالی کو ہاتھ لگا کر ’’نہیں ، ابھی گرم ہے ۔ دیکھ لیجیے گا سب سے پہلے ہم ہی پہنچیں گے۔ پان لیجیے اور یہ سگریٹ دیکھئے کیسا ہے۔ ایک صاحب تر کی سے لائے  تھے ۔ آئیے  چلیں ‘‘ چلیے صاحب ، ان کی کار میں جا کر بیٹھے ۔اس کارکو چلا چلا کر انہوں نے اس کا پلیتھن نکال دیا ہے ۔ اس کی گدیاں پھٹ گئی ہیں اور جگہ جگہ اس میں سہرے بدّھیاں لٹکی ہوئی ہیں ۔

     ’’اماں اس گاڑی کوتو بدلو، یہ کیا نیستی لگارکھی ہے تم نے؟‘‘۔

     ’’ جی ہاں ، بدل رہا ہوں ۔ چھوٹی کارمل رہی تھی مجھے کوٹے میں ، میں نے لینے سے انکارکر دیا۔ غلطی کی ،اب بڑی کار دوسال بعد ملے گی‘‘۔

    جب جلسہ گاہ میں پہنچے تو دیکھا کہ آدھا جلسہ ختم ہو چکا ہے ۔

     ’’ کمال کر دیا ان لوگوں نے ! آج سب وقت پر آ گئے ۔اچھا یوں آ گئے ہوں گے کہ مہمان خصوصی غیر ملکی ہے ۔خیر آیئے ، یہیں بیٹھے جاتے ہیں پیچھے ‘‘ ۔

     مگر ان واقعات کے باوجود میں ان سے اور وہ مجھ سے نتھی ہیں جس شخص کے جھوٹ تک میں خلوص ہواس سے بھلا میں کیسے ناراض ہوسکتا ہوں؟

    جمیل صاحب اور آج کل کے’’دوستوں‘‘ میں یہ فرق ہے کہ جمیل صاحب میری برائی نہیں سن سکتے ۔اپنے کسی دوست کی برائی نہیں سن سکتے۔ اکثر احباب ایسے ہیں جو مجھ سے کہتے ہیں کہ فلاں شخص آپ کی برائی کر رہا تھا۔ میں کہتا ہوں ’’تو پھر آپ نے کیا کیا؟‘‘

    کچھ نہیں ، کیا کرتا ؟‘‘

    ’’ تو گویا آپ نے اس کی باتوں پر صاد کر دیا‘‘۔

    لگے بغلیں جھا نکنے، معلوم ہو گیا کہ یہ دوست کتنے پانی میں ہیں ۔

    حال ہی میں جمیل صاحب کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔

    ایک بڑے افسر کے دماغ میں یہ سمائی کہ گلڈ پر قبضہ کرنا چاہیے ۔ چناں چہ اس نے اپنے ماتحتوں سے کہنا شروع کر دیا کہ ’یہ شہاب، عالی ، جمالی کیا ہیں؟ کیا گلڈ ان کی میراث ہے؟

    ہوا خواہوں نے کہا: ’’ جی حضور ، ستیاناس کر رکھا ہے انہوں نے ، اپنے باپ کی جاگیر سمجھ رکھا ہے گلڈ کو‘‘۔

    ’’ہم کیوں نہ چلائیں گلڈ کو؟‘‘

    ’’اگر ایسا ہو جائے  تو سبحان اللہ ، گلڈ کے دن پھر جائیں گے‘‘۔

    ’’بس تو اب الیکشن لڑنے کی تیاری کی جائے ‘‘۔

     حکم حاکم مرگ مفاجات ،لوصاحب پرو پیگنڈا شروع ہو گیا ۔ایک صاحب میرے پاس بھی تشریف لائے ۔ وہ جانتے تھے کہ مجھے بھی گلڈ سے کچھ شکایتیں ہیں۔ مجلس عاملہ کے اجتماعوں میں وہ دیکھ چکے تھے کہ میں کس قدر بدلحاظی کے ساتھ عالی اور جمالی پر اعتراضات کرتا ہوں ۔ اس سے شاید انہیں غلط فہمی  ہوئی ۔ بولے’’ان لوگوں نے گلڈ کو منا پلی بنالیا ہے ۔فلاں افسر صاحب ہماری رہنمائی فرمائیں گے اور ہمارا سارا گروپ ان کا ساتھ دے گا‘‘۔یہ سن کر میر اناریل چٹخ  گیا۔ میں نے کہا:’’ دیکھو جی ، گلڈ بنانے والوں کے خلاف میں ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا، یہ تم نے کیا سازش پھیلائی ہے؟ رہ گئے تمہارے افسر ،تو انہیں ادب اوراد یبوں سے کیا واسطہ؟ تمھیں شرم نہیں آتی کہ ادیب ہو کر ایک بے ادب کو گلڈ پر مسلط کرنا چاہتے ہو ‘‘ ۔ وہ صاحب شرمندہ ہو کر معذرت کرتے ہوئے چلے گئے اور جا کر افسر صاحب سے سارے موتی پرو دیے ۔اس کے بعد یہ سننے میں آیا کہ ان حضرات نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے بلکہ الیکشن میں سرے سے شریک ہی نہیں ہوں گے میں نے کہا کاش وہ شریک ہو جاتے تو انہیں اپنی وقعت تو معلوم ہو جاتی ۔ بات آئی گئی ہوئی میں بھی اس واقعہ کو بھول گیا ۔ چند روز بعد ہوا یہ کہ ایک چھوٹی سی ادبی تقریب میں وہ افسر صاحب اور ان کے ہوا خواہ شریک ہوئے ۔ جمیل صاحب بھی وہاں بلائے گئے تھے۔خبر نہیں کس سلسلے میں میرا ذکر نکال کر افسر صاحب نے کہا: ’’ وہ اوروں کو تو کہتے ہیں کہ اس کا ادب میں کنٹری بیوشن کیا ہے،مگر خود شاہد صاحب کا کنٹری بیوشن کیا ہے؟‘‘ ماتحتوں کی تو زبانیں کِلی ہوئی تھیں، بھلا کیسے بولتے ، ایک صاحب نے ہتھیا ٹالنے کے لیے کہا :’’جمیل صاحب سے پوچھئے‘‘ جمیل صاحب ویسے تو ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں مگر اس وقت تاؤ کھا گئے ۔ بولے’’جن کے منہ پر آنکھیں نہیں ہوتیں انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا‘‘۔ افسر صاحب نے کہا: ’’پھر بھی ، آخر ان کا کارنامہ کیا ہے؟‘‘ جمیل صاحب بولے’’جولوگ اُردو پڑھ سکتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ شاہد صاحب ۳۳ سال سے ساقی شائع کر رہے ہیں ۔ انہوں نے سینکڑوں ادیب بنا ڈالے۔آج کا شاید ہی کوئی ادیب ایسا ہو جوان کا رہینِ منت نہ ہو‘‘۔

    ’’مگرخودانہوں نے کیالکھاہے؟‘‘۔

    ’’ چالیس کے قریب تو ان کی کتابیں اس وقت موجود ہیں ۔ پانچ سو سے زیادہ ان کے مضامین چھپ چکے ہیں ، اتنی ہی چیزیں وہ ر یڈیو کے لیے لکھ چکے ہیں ۔ ترجمہ کرنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ رپورتا ژ اور خاکہ لکھنے میں تو ان کا جواب ہی نہیں ہے۔ ان جیسی زبان لکھنے والا اب اور کوئی نہیں ہے ۔صاحبِ طرز ادیب ہیں ، اب آپ کو معلوم ہوا ان کا کنٹری بیوشن کیا ہے؟ اپنی ادبی خدمات اور قابلیت ہی کی وجہ سے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے ادبی اجتماعوں میں بلائے  جاتے ہیں اور تو اور تھائی لینڈ اور فلپائن میں ثقافتِ پاکستان پر لکچرز دینے کے لیے پورے پاکستان سے شاہد صاحب ہی منتخب کر کے بھیجے گئے تھے۔ پورے پاکستان کے تمام زبانوں کے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دینا اور گلڈ کی خشتِ اوّل رکھنا بھی شاہد صاحب ہی کا کارنامہ ہے۔ آپ تو ان کی پھٹی اچکن اور ٹوٹی جوتی دیکھتے ہیں ۔ آپ کو وہ لعل کیسے دکھائی دے سکتا ہے جو اس گدڑی میں چھپا ہوا ہے۔

    گر نہ بیند بروز شپره چشم

    چشمہ آفتاب را چہ گناه؟

    اجتماع بے مزہ ہو گیا۔ صاحب خانہ روکتے ہی رہے، جمیل صاحب اٹھ کر چلے آئے ۔ مگر مجھ سے اس واقعہ کا ذکر جمیل صاحب نے نہیں کیا۔ دوا یک اور حضرات جو اس اجتماع میں شریک تھے انہوں نے مجھے ساری رودادسنائی ۔ میں نے کہا: ” جمیل صاحب ناحق اس کور باطن سے اُلجھے۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر مہریں لگی ہوئی ہیں‘‘۔ مجھے اس واقعہ کو تفصیل سے یوں بیان کرنا پڑا کہ اس سے جمیل صاحب کے کردار کا ایک خاص پہلواجا گر ہوتا ہے ۔

    جمیل صاحب اچھے کھانے اور اچھے لباس کے شوقین ہیں ۔ وجیہہ اور جامہ زیب آدمی ہیں ۔ ہر لباس ان پر پھبتا ہے۔ مزاج میں نفاست ہے جو گفتگو میں شائستگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ میں نے ان کے منہ سے گالی بھی نہیں سنی۔ فحش گفتگو میں حصّہ نہیں لیں گے، بیٹھے جھینپتے رہیں گے۔ آدمی میں آخر کوئی عیب تو ہو ورنہ فرشتے ہی کیا برے تھے؟ بھئی شراب نہ پیتا ہو تو سگر یٹ تو پئے ، یہ بھی نہیں ۔ ہاں پان البتہ کھاتے ہیں اور بہت کھاتے ہیں مگر خاص اہتمام سے ۔ وہ دیسی پان تو خیر یہاں ہے ہی نہیں جو اگر ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گرے تو چارٹکڑے ہو جائے ۔ ہاں سانچی اس سے کچھ ملتا جلتا ہے اس کی رگیں چھیلی جاتی ہیں ۔ گھر میں خوب صورت سی چاندی کی پٹاری ہے، کتھا کسی خاص طریقے سے پکایا اور چھانا جا تا ہے، چونے کی تیزی کم کرنے کے لیے دہی کی آمیزش کی جاتی ہے، چھالیا پرانی ڈھونڈ کر لائی جاتی ہے ۔ بھابی اسے سڈول اور بار یک کاٹ کر کسنے بھرے رکھتی ہیں ۔ چوگھڑ ا کی الائچی، خوشبو دار زردہ اور قوام موجود جمیل صاحب بکٹے  بھر بھر کے زردہ کھاتے ہیں ۔ ڈاکٹر نے جب منع کیا ہے کچھ کم کر دیا ہے ۔ پانوں کی ڈ بیا پہلے ساتھ رکھتے تھے۔ جب چاروں طرف سے اس پر یورش ہونے لگی تو ڈ بیا ساتھ رکھنی چھوڑ دی۔ کراچی کے تمام اچھے تنبولیوں کی دکانیں انہیں معلوم ہیں ۔ لارنس روڈ پر ایک روپے تک کا پان انہوں نے ہمیں کھلوایا ہے ۔ مگر وہ پان تھا ؟ الائچی  سے لے کر مشک وعنبر تک اس میں موجود تھا اور ’’دروروقِ طلا پیچیدہ‘‘ ایک دن راہ چلتے چلتے انہیں پان کھانے کی حاجت ہوگئی ۔ جو پہلا پنواڑی ملا اس سے دو پان بنوالیے میں نے جومنہ میں رکھا تو منہ کے ٹکڑے اڑ گئے ۔ میں نے گھبرا کر پان والے سے کہا:’’ دو ایک لونگیں تو دو ‘‘جمیل صاحب نے کہا:’’لونگ مت کھائیے  بہت گرم ہوتی ہے ۔ ایک لونگ کھانا ایسے ہے جیسے ساٹھ بینگن کھا لیے‘‘ مجھے ان کے اس بھولپن پر ہنسی چھوٹی ۔ضبط کر کے بولا’’فی الحال تو میں نے ایک سوساٹھ بینگن کھا لیے ۔ بچارے خفیف ہوکر رہ گئے بھولے آدمی کی ہے بڑی مشکل!

    جمیل صاحب کا تذکرہ حسینوں کی زلف کی طرح دراز ہوتا چلا جارہا ہے ۔

    لطیف بود حکایت دراز تر گفتم

    بڑی محبوب شخصیت ہے جمیل صاحب کی ۔ جب صورت اور سیرت دونوں میں جمال ہی جمال ہوتو کسے مجالِ دوری ہوسکتی ہے؟

    اَللهُ جَمِيْلٌ وَّيُحِبُّ الْجَمَالُ

     

     

     

     

    ( ۱) اعجاز الحق قد وی بڑے سنجیدہ اور قابل آدمی ہیں ۔ جوش صاحب کے رفیق دیر ینہ  اور مخلص دوست ۔ یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے کوئی ۲۵ سال پہلے ایک مجموعہ جوش کی نظموں کا ’’شاعر کی راتیں‘‘ چھاپا تھا۔ عربی ، فارسی اور اُردو کے منتہی ہیں ۔ نیک اور صالح بزرگ ہیں ۔ پہلو میں دل زندہ رکھتے ہیں ۔ خوش فکر شاعر اور خوش ذوق انسان ہیں ۔ مگر قسمت کے بیٹے ہیں۔ خامہ فرسائی پر گزارہ ہے۔اس لیے مفلسی نے ان کے ہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ مگر افلاس ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا کیوں کہ غیور آدمی ہیں ۔ جوش اور قد وسی کی یکجائی اجتماع ضدّ ین ہے ۔