شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

خواجہ حسن نظامی

    خواجہ حسن نظامی

     

    حضرت خواجہ حسن نظای دِلّی کے ان بزرگوں میں سے تھے جنہیں زمانہ بھی فراموش نہ کر سکے گا وہ ایک بہت غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ افلاس کی وجہ سے ان کی تعلیم مکمل نہ ہوسکی ۔ مگر انسان کو انسان بنانے میں صرف تعلیم ہی تو کارآمد نہیں ہوتی۔ یوں لادنے کوتو گدھے پر بھی کتابیں لا دی جاتی ہیں۔ لیکن گدھا تو گدھا ہی رہتا ہے۔ اصل چیز ہے تربیت ، خواجہ صاحب حضرت نظام الدین اولیاء کے خواہر زادوں کی اولاد میں سے اپنے آپ کو بتاتے تھے ان کی شرافت ِ نسبی نے انہیں سنبھالے رکھا۔ ان کے والد بھی درگاه محبوب الہٰی کے خادموں میں شامل تھے۔ درگاہ کی آمدنی میں سے حصہ رسد انہیں  بھی کچھ مل  جاتا۔ یہ یافت اس قدر قلیل تھی کہ اس میں جسم و جاں کا رشتہ بہ مشکل قائم رکھا جاسکتا تھا، تاہم غیور والدین نے اپنے لڑکے کو کچھ ایسی تربیت دی کہ مفلس و قلاب ماں باپ کا بیٹا بعد میں دِلّی کے لکھ پتیوں میں شمار ہوا۔ ادب میں اپنے زمانے کا سب سے بڑا ادیب کہلایا۔ علوم دینی میں وہ بصیرت حاصل کی کہ فرنگی حکومت نے شمس العلماء کا خطاب دیا۔ معاملات روحانی میں اتنی ترقی کی کہ تین لاکھ مریدوں کا مرشد کامل بنا۔ مبلغ اسلام بنا تو اچھوتوں سے لے کر راجہ مہاراجاؤں تک کو حلقہ بگوشان اسلام میں شامل کیا۔ سیاست میں قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے صف اول کے لیڈروں میں جا پہنچا۔ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں حیرت ناک ترقی کی ۔ یہ سعادت خدائے بخشندہ کی طرف سےتھی کہ خواجہ صاحب نے مٹی میں ہاتھ ڈالا تو سونا بن گئی۔

    میں نے جب ہوش سنبھالا خواجہ صاحب کو ایک ہی سا دیکھا۔ انہیں دیکھ کریہ خیال ہوتا تھا کہ وقت کی رفتارتھم گئی ہے۔ زمانے کی گردش رک گئی ہے۔ آخر آخر میں ان کی ڈاڑھی میں چند سفید بال البتہ آگئے تھے ور نہ خودان میں سرموفرق نہ آیا تھا۔ لمبا او نچاقد، چھریرا بلکہ د بلا بدن، سر پرکلا ہ نما پیلی ٹوپی، لمباسا چغہ ، بڑے پائچوں کا پاجامہ، پاؤں میں دیسی جوتی، رنگ شہابی، چہرہ کتابی، آنکھوں پر سنہرے فریم کی عینک جس میں سے آنکھیں ہیرے کی طرح جگر جگر چمکتی تھیں ۔سواسی ناک ، موزوں دہانہ،لب ذرا موٹے، کترواں لبیں  ، مٹھی بھر پھریری ڈاڑھی، صراحی دار گردن ،شانوں پرکاکلیں کا لے نا گوں کی طرح لہراتی اور افعی کی طرح بل کھاتی، چلتے تو کڑی کمان کی طرح ،بیٹھتے تو لاکھوں من کے بیٹھے معلوم ہوتے ، خاموشی میں پہاڑ کا سا سکوت ہوتا اور گفتگو میں دریا کی کی سی روانی، خوش گفتار ایسے کہ بات کرنے میں منہ سے پھول جھڑتے ، سننے والے دھیان کا دامن پھیلا کر انمول پھولوں سے اپنے من کی جھولیاں بھر لیتے ،سنجیدگی اور بردباری کے چنوران کے چہرے پر ہوتے رہتے۔ کوئی خوش مذاقی کی بات بھی کرتے تو خنده ٔدنداں نماسے آگے نہ بڑھتے ، جس محفل میں بیٹھ جاتے طوطی کی طرح چہکتے رہتے ، کیا مجال جوکسی   اور کوان کے آگے لب کشائی کا یارا ہو ۔ بڑوں میں بڑوں کی سی باتیں کرتے اور بچوں میں بچوں کی سی ۔تمام علوم ظاہری و باطنی میں درک رکھتے تھے۔ ان کے ایک ہاتھ میں دین اور ایک ہاتھ میں دنیا تھی ۔ طرفہ طبیعت کے آدمی تھے۔ دِلّی سے ان کا نام اس طرح پیوست ہے جس طرح گوشت سے ناخن۔ اس عجیب وغریب ہستی پر میرا کچھ لکھنا چھوٹا منہ بڑی بات دوسرے یہ کہ خواجہ صاحب کے مقربین میں سے نہیں ، دوستوں میں سےنہیں، وہ میرے والد کے ملنے والوں میں سے تھے۔ میرے بزرگ اورمحترم تھے۔ اکثر انہیں دیکھا اور چند بار ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا بھی موقع ملا۔ یوں ساری عمران کے رسالے، اخبار، کتابیں اور روزنامچہ پڑھتا رہا اور ان کی البیلی اُردو کے مزے لیتا رہا۔ گزشتہ تیس  سال کے چند نا قابل فراموش تاثرات ہیں جو ناظرین کی دلچسپی کے لیےلکھتا ہوں ۔ شاید ان میں سے کوئی ایسا ہو جو مستقبل کے مؤرخ کے کام آجائے۔ میں صرف ایک واقعاتی مرقع پیش کررہاہوں۔

    خواجہ صاحب کی اخباری زندگی کا آغاز پھیری پر کتابیں اور اخبار بیچنے  سے ہوا۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ان کی بے خواب راتیں گزریں۔ انہوں نے بھوک اور افلاس کا مزہ بچپن ہی میں چکھ لیا تھا۔ اگر ان میں غیرت نہ ہوتی تو وہ بھی کنگلوں کی طرح اپنی پوری زندگی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر گزار دیتے۔ یہ ان کے خاندانی شرف کا جوہر ہی تھا جو انہیں ان کی پستی کا احساس دلاتا رہا اور اس گری ہوئی زندگی پروہ قانع نہ ہو سکے۔ ان کے دل میں ہمیشہ سے ایک بڑا آدمی بننے کی امنگ تھی۔ دِلّی کے چوک اور دِلّی کی گلیوں ہی میں انہوں نے تعلیم پائی۔ یہی وہ مکتب تھے جن میں انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ تجربہ بھی حاصل کیا۔ ناموافق حالات نے انہیں سخت کوش بنا دیا۔ وہ ہمت کے پر لگا کر اڑے اور شہرت کے آسمان پر کامیابی کا تارا بن کر چمکے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو خواجہ صاحب نے اپنے سینکڑوں ہی اخبار جاری کیے۔ روزانہ، ہفتہ وار، پندرہ روزہ اور ماہانہ۔ ہی سب پر چے شہاب ثاقب کی طرح مطلع صحافت پر نمودار ہوتے۔ اپنی خیرہ کن چمک دمک دکھاتے اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں گھل جاتے ۔ ان کا اخبار ’’منادی‘‘ صرف ایک  ایسا پر چہ ہے جو بیسیوں چولے بدلنے پربھی شائع ہوتا رہا اور اس کے شائع ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں خواجہ صاحب کا دلچسپ روزنامچہ شائع ہوتا رہا۔ یہ روز نامچے کی جدت خواجہ صاحب کے غیر معمولی دماغ کی پیداوار تھی۔ صبح سے رات تک کے واقعات اس میں درج ہوتے۔ اس میں شک نہیں کے روز نامچے کا مقصد محض خواجہ صاحب کا ذاتی پروپیگنڈا تھا لیکن اس کی مقبولیت کا سبب وہ زبان اور بیان تھا یا وہ انداز تحریر جو خواجہ صاحب کے ساتھ پیدا ہوا اور خواجہ صاحب ہی کے ساتھ ختم ہو گیا۔ یہ سیدھا سادا اندازِ بیان ہزار کوشش پر بھی کسی کونصیب نہ ہوتا۔ اس کی سادہ پُر کاری کا گھائل ایک عالم ہے۔ سر عبدالقادر کے ’’مخزن ‘‘سے لے کر آج کل کے عمدہ ادبی رسالوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو خواجہ صاحب کے مضامین شائع کرنے کو اپنے اعلیٰ کارناموں میں شمار نہ کرتا ہو ۔

    دِلّی کے خاص لوگوں میں سے ایک صاحب ہیں محمد ارتضیٰ، جوکو چۂ  چیلان میں رہتے تھے اور دِلّی کے اچھے آسودہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔  خاصے متمول آدمی تھے۔جائیداد بھی کافی تھی۔ عربی، فارسی اور اُردو سے شغف رکھتے تھے ۔ طبیعت کا رجحان مذہب کی طرف زیادہ تھا۔ ہم نے ہمیشہ سے ان کے منہ پر چھوٹی سی ڈاڑھی دیکھی۔ ڈاڑھی کیا تھی، ڈاڑھی کی معذرت تھی۔ ادب سے دلچسپی  کی وجہ سے ان کا تعلق گزشتہ چالیس پینتالیس سال پہلے کے تمام اچھے  ادیبوں اور شاعروں سے رہتا تھا۔ ان میں علامہ راشد الخیری ، خواجہ حسن نظامی اور نیاز فتح پوری جیسے جلیل القدر ادیب شامل تھے۔ ان صاحب سے خواجہ صاحب کا تعلق دو گونہ تھا۔ ایک تو ادب کا دوسرے مذہب کا۔ ارتضیٰ صاحب نے بھی کئی رسالے نکالے جن میں ’’درویش‘‘ بہت مشہور ہوا۔ خواجہ صاحب نے جب حلقہ مشائخ نواب بُڈھن کے کمرے پر قائم کیا تو ’’نظام المشائخ‘‘ کے نام سے محمد ارتضیٰ صاحب نے ایک ماہنامہ جاری کیا۔ اس پر چہ میں جہاں اہل سلوک کے مسائل پر مضامین ہوتے تھے وہاں اعلیٰ درجے کے ادبی مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔ خواجہ صاحب نے اس زمانے میں بہت اچھے اچھے مضامین لکھے۔ محمد ارتضیٰ صاحب کو خواجہ صاحب نے ’’ملا واحدی‘‘ کا خطاب دیا جو اتنا مشہور ہوا کہ آج واحدی صاحب کو سب جانتے ہیں اور محمد ارتضیٰ کو کوئی نہیں جانتا۔ واحدی صاحب کی دولت اور خواجہ صاحب کی عقل نے مل کر بڑے بڑے کام کیے۔ رو پیہ  لگانے والے خواجہ صاحب کو ہمیشہ مل جاتے تھے۔ واحدی صاحب کی طرح خواجہ صاحب کے ایک اور بہت بڑے قدردان بھیّا احسان تھے جو میرٹھ کے رئیسوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہیں بھی علم وادب کا بہت شوق تھا۔ ان کا ایک اخباربھی نکلتا تھا۔ اسی اخبار کے سلسلے میں خواجہ صاحب سے ان کے دوستانہ تعلقات قائم ہوئے ۔ کان پور کی مسجد کا جب پہلی دفعہ ہنگامہ ہوا تو خواجہ صاحب میرٹھ ہی میں تھے اور انہوں نے ایک بہت بڑے جلسے میں اسی دھواں دھار تقریر کی کہ مسلمانوں میں جوش و خروش پھیل گیا۔ اس تقریر سے خواجہ صاحب کی بہت شہرت ہوئی۔ بھیا احسان اور واحدی صاحب سے خواجہ صاحب کے تعلقات قیامِ پاکستان تک نہایت مخلصانہ رہے۔ پاکستان بننے کے بعد خواجہ صاحب تو دِلّی ہی میں رہ گئے اور بھیا احسان اور واحدی صاحب کراچی چلے آئے۔ یہاں آ کر جو حال اور سب مہاجروں کا ہو اوہی ان کا بھی ہوا۔

    روایت عام کے مطابق خواجہ صاحب کے تین لاکھ مرید تھے۔ ہندو اور عیسائی بھی ان کے مرید تھے۔ ایک اطالوی شہزادی بھی ان کی مرید تھی۔  فرماتے تھے کہ برنارڈ شا بھی میرا مرید ہے اور پرنس آف ویلز (ایڈورڈہشتم) نے بھی میرے مریدوں میں شامل ہونے کے لیے مجھےچھٹی  لکھی ہے۔

    خواجہ صاحب کو خطابات دینے اور نام رکھنے کا عجیب سلیقہ تھا۔ علامہ راشد الخیری کو ’’مصورِغم‘‘ خواجہ صاحب ہی نے خطاب دیا تھا۔ میرے والد کو ’’وارث الادب‘‘ کہتے اور لکھتے تھے۔ خودمصورِ فطرت تھے۔ ان کی بیگم خواجہ بانو ہیں۔ ایک بیٹی حور بانو اور دوسری روحہ۔ ضیاء الدین احمد کو ان کی تاریخی معلومات کی وجہ سے برنی خطاب دیا تھا۔کوئی ناسوتی نظامی تھے اور کوئی ابن عربی۔ ایک صاحب ملنسار نظامی کہلاتے تھے۔ بھیّا احسان کشفی شاہ تھے۔ ایک صاحب مستری عشقی  کہلاتے تھے۔ کوئی جمالی تھا کوئی غزالی، ایک تھے قلندر نظامی۔یہ  قلندرنظامی بھی عجیب چیز تھے۔ ان کی وضع قطع خواجہ صاحب سے مشابہ  تھی بلکہ کہا جا تا تھا کہ خواجہ صاحب کی اترن انہی کو ملتی ہے، وہی پیلی ٹوپی ، وہی چغہ، کاکلیں چھٹی ہوئیں ۔ عمر میں خواجہ صاحب سے بڑے تھے۔ بہت غریب آدمی تھے۔ وضع دار ایسے کہ سوائے خواجہ صاحب کے اخباروں کے اور کسی کا اخبار نہ بیچتے  تھے۔ دِلّی والے کہتے تھے کہ خواجہ صاحب کو پیر و مرشد بنانے میں قلندر نظامی نے بڑا کام کیا ہے۔ روایت مشہورتھی ۔ (اور اکثر غلط روایتیں بھی زیادہ مشہور ہو جایا کرتی ہیں) کہ قلندرنظامی کا کام ہی یہ تھا کہ خواجہ صاحب کو سجدے  کرتے رہیں ۔ یہ سجدے بڑے خضوع خشوع سے کیے جاتے تھے اور دیکھنے والے ان سے بے حد متاثر ہوتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ان کا فی سجدہ کچھ حصہ مقرر تھا۔ اس طرح قلند ر نظامی نے کافی رقم کمائی ۔ خیر ہم نے تو یہ دیکھا کہ قلندر نظامی بہت ضعیف ہو گئے تھے اور کوئی کام نہیں کر سکتے تھے۔ خواجہ صاحب ہی کچھ سلوک کرتے تھے جو ان کی زندگی کے آخری دن تیر ہوتے تھے۔

    خواجہ صاحب جدت طرازیوں کے دلدادہ تھے۔ عیسوی ، ہجری، فصلی سنوں کے مقابلے میں انہوں نے اپنا ایک سن وضع کیا تھا ۔ بارہ مہینوں کے نام بارہ اماموں پر رکھےتھے اور سات دنوں کے بھی مقدس نام تجویز کیے تھے۔ اپنی بعض کتابوں کے نام بھی عجیب وغریب رکھتے تھے۔’’ کم ٹو موت‘‘، ’’فرام قبلہ وشملہ‘‘، ’’طمانچہ بررخسار یز ید‘‘، ’’ كانا باقی‘‘، ’’ مرشد کوسجدہ ٔتعظیم ‘‘وغیرہ۔

    جب شُدّھی نے بہت زور پکڑ اتو خواجہ صاحب نے تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔ اس میں اتنے کامیاب رہے کہ ایک چھوٹے موٹے راجہ کوبھی انہوں نے مسلمان کر لیا تھامگر سوامی شردھا نند کی تحریک بڑھتی ہی جارہی تھی ۔ اس کے ساتھ پوری ہندو قوم کی دولت تھی ۔ خواجہ صاحب نے تاڑ لیا کہ یہ یوں نہیں دبے گا ۔ لہٰذا انہوں نے سوامی جی کو مبا ہلے کا چیلنج دے دیا خواجہ صاحب نے کہا: ”آؤ ہم دونوں قطب مینار پر سے چھلانگ لگاتے ہیں جو سچا ہو گا وہ جی جائے گا اور جو جھوٹا ہوگا وہ مر جائے گا‘ خواجہ صاحب نے تمام اخباروں میں اس کا اعلان کر دیا اور اس کا وقت بھی مقررکردیا۔ اس دن صبح  ہی سے قطب مینار پرٹھٹ کے ٹھٹ لگنے شروع ہو گئے۔ خلق خداامڈی چلی آتی تھی۔ وقت مقررہ پر خواجہ صاحب آپہنچے مگر شردھانند نہیں آئے۔ خوب تھڑی تھڑی ہوئی اور میدان خواجہ صاحب کے ہاتھ رہا (ایک روایت یہ بھی ہے کہ شردھانندپہنچ گیا، خواجہ صاحب نہیں پہنچے)

    دِلّی میں جتنے بھی مسلمان ایڈیٹر اور اشتہاری حکیم تھے سب کے سب بالواسطہ یا بلا واسطہ خواجہ صاحب کے مرہونِ منت تھے۔ خواجہ صاحب نے کتابوں اور رسالوں کے علاوہ دوائیں اور غذائیں بھی بیچنی شروع کر دی تھیں ۔’’ فقیر کی چٹکی‘‘ اور ’’چودہ چھوارے ‘‘اور عجیب عجیب ناموں کی دوائیں تھیں ۔ دوائیں ان کی کتابوں سے بھی زیادہ بکتی تھیں ۔ سویا بین اور فاسفورس کا تیل تو پاکستان بننے سے پہلے تک مشتہر ہوتا رہا۔ تجارت کا اصول یہ سمجھا جاتا تھا کہ کتابوں میں چار آنے کا ایک روپیہ بنتا ہے اور دواؤں میں ایک آنے کا ایک روپیہ۔ اکثر باہر والے کسب ِمعاش کے لیے دِلّی آئے اور خواجہ صاحب کے ہاں ملازم ہو گئے ۔ تھوڑے دنوں میں انہوں نے خواجہ صاحب کا سارا کاروبار سیکھ لیا۔ خریداروں کے پتے ان کے ہاں سے چرا لیے اور نوکری چھوڑ خود اپنا کاروبار لے بیٹھے  اور برکت بھی اللہ نے ان کے اس چوری کے کاروبار میں ایسی دی کہ ان میں سے کئی تو اب لکھ پتی ہیں۔ خواجہ صاحب کے رسالے بھی تھک گئے اور دوائیں بھی مگر ان کے رسالے بھی خوب چل رہے ہیں اور دوائیں بھی۔ ان میں سے ایک صاحب شاکی تھے کہ کراچی میں بہت مہنگائی ہے، فرماتے تھے کہ جوشیشی پہلے ایک آنے میں گھر پڑتی تھی اب دو آنے میں تیار ہوتی ہے۔ بکتی پہلے بھی تین روپے کی تھی اور اب بھی تین ہی روپے کی بیچنی پڑتی ہے۔

    ایک زمانے میں خواجہ صاحب کی قوتِ ارادی غیرمعمولی طور پر بڑھی ہوئی تھی۔ ان کی آنکھوں میں وہ قوت تھی جو مسمریزم کرنے والوں میں ہوتی ہے۔ جہاں انہوں نے کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور وہ موم ہوا۔ ایک دفعہ خواجہ صاحب دوپہر کو اپنے دفتر میں اکیلے بیٹھے تھے کہ ایک لٹھ بند آر یہ  سماجی  غنڈا اندر گھس آیا۔ خواجہ صاحب نے لکھتے لکھتے قلم روکا ، آنکھیں اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور بولے ’’چلے جاؤ یہاں سے‘‘ وہ کچھ ایسا مرعوب ہوا کہ فوراً  واپس چلا گیا۔ ایک دفعہ اور ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ پرانی قلمی کتابوں کا ایک ذخیرہ دکھانے کے بہانے سے ایک ہندو خواجہ صاحب کو ایک گھر میں لے گیا۔ جب خواجہ صاحب گھر میں داخل ہو گئے تو اس نے کواڑ بند کر کے کنڈی لگالی ۔ خواجہ صاحب بالکل ہراساں نہیں ہوئے ۔ ڈپٹ کر بولے ’’کھول دروازه‘‘ اس نے سہم کر دروازہ کھول دیا اور خواجہ صاحب بڑے اطمینان سے اپنے گھر چلے آئے۔

    پروپیگنڈہ خواجہ صاحب کی سب سے بڑی قوت بھی تھی اور کمزوری بھی، خوبی بھی  اور عیب بھی۔ اپنی بات منوانے کے لیے وہ جائز و ناجائز، موزوں اور نا موزوں کا امتیاز اُٹھادیتے تھے ۔ مثلا ًسلطان جی کو باؤلی پر سے جوگلہیا را بائیں ہاتھ سے اندر جا تا ہے اس کے سرے پر ایک قبر سب سے نمایاں ہے۔ اس پرکتبہ لگوا دیا ’’حسن نظامی کے دادا کی قبر‘‘ والله اعلم بالصواب۔

    اُردو کا پروپیگنڈہ کرنے پر آئے تو اپنے گھر کا نام ’’اُردومنزل‘‘ رکھ دیا اور اس میں تمام ٹائل لگوا دیئے جن پر ’’ہر گھر اُردو‘‘ اور ’’گھر گھر اُردو‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ  ٹائل انہوں نے خود بنوائے تھے اور تلقین فرمائی تھی کہ تمام مسلمانوں کو یہ ٹائل خرید کر گھروں میں لگوانے چاہئیں۔

    خواجہ صاحب کے دماغ میں نئی سے نئی آتی تھی۔ ایک زمانے میں اعلیٰ پیمانے پر کتابیں چھاپنے کا اعلان کیا۔ اس کے لیے ایک کمپنی قائم کی جس کا نام ”دی حسن نظامی ایسٹرن لٹریچر کمپنی لمیٹڈ‘‘ رکھا۔ اس کے حصے فروخت کیے گئے ،خوب روپیہ برسا مگر کچھ ہی عرصہ بعد یہ کمپنی ایسی غائب ہوئی کہ لوگ اسے جھینکتے ہی رہ گئے۔ اسی طرح غالب کے مزار کے لیے کئی دفعہ اپیل کر کے چندہ جمع کیا مگر مزار نہ بن سکا لیکن ان کے عقیدت مندوں کی عقیدت مندی میں کوئی فرق نہ آیا۔

    خواجہ صاحب کو غصہ بھی نہ آتا تھا۔ نہایت شائستہ اور مؤثر گفتگو کرتے تھے۔ ہر ایک کی سعی سفارش کے لیے جھٹ تیار ہو جاتے اور دامے، درمے، قدمے، سخنے اس کی مدد کرتے۔ غرور ان میں نام کونہیں تھا۔ ہر ایک سے اچھی طرح پیش آتے یہاں تک کہ بدخواہوں اور دشمنوں سےبھی۔

    خواجہ صاحب سلجھی ہوئی طبیعت کے آدمی تھے۔ مذہبی پیشواؤں میں بھی شمار ہوتے تھے مگر تنگ نظر ملائیت سے کوسوں دور تھے ۔ تھیٹر اور سینما دیکھتے تھے ۔ قوالی تو خیر سارے ہی صوفی سنتے ہیں ۔ خواجہ صاحب قوالی کے علاوہ بھی اور سب قسم کے گانے سن لیتے تھے۔ کوئی تیس سال ادھر کا ذکر ہے۔ کرنل اشرف الحق  حیدرآباد دکن سے دِلّی آئے ہوئے تھے۔ یہ بھی ایک عجیب و غریب شخصیت کے آدمی تھے۔ چودہ سال ولایت میں رہ کر ڈاکٹری پڑھی تھی۔ ریاست دکن کی افواج کے بڑےڈاکٹر تھے۔ ہزل اورفحش گوئی میں اپنا جواب نہ رکھتے تھے۔ مسکرات کے تجربات کرتے ساری عمر گزرگئی۔ تجر بہ اپنے اوپر بھی کرتے تھے اور دوسروں پرتھی ۔ مزاج درویشانہ تھا۔ فرقہ رفاعیہ سے منسلک ہوگئے تھے اور خلیفہ بھی ہوگئے تھے ۔ ضربیں لگا لیتے تھے۔ کیمیا بنانے کا بھی شوق تھا مگر سونا کبھی نہیں بنا۔ ہمیشہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔ کرنل صاحب کے تعلقات خواجہ صاحب سے مخلصانہ تھے۔ اس زمانے میں جب دِلّی آئے تو اپنے آبائی مکان میں اترے۔ یہ مکان تراہا  بیرم خان مفتی والوں کے پھاٹک میں ہے ۔ ٹیڑھا بنا ہوا ہے۔ اس لیے ٹیڑھی حویلی کہلاتا ہے، اس ٹیڑھی حویلی کی کھلی چھت پر ایک محفل سماع بر پا ہوئی ۔ دِلّی میں دو بہنیں تھیں جومل کر گاتی تھیں ۔ یہ مہترانیاں کہلاتی تھیں ۔ انہوں نے خود کبھی نہیں کمایا البتہ ان کے باپ دادا لال بیگی تھے۔ انہوں نے بچپن ہی سے گانا سیکھا تھا۔ شرفاء کی مجلسوں میں جاتی تھیں ۔ ہر جگہ جاتی بھی نہ تھیں ۔ صاف ستھرا لباس، اچھے چہرے مہرے، نستعلیق گفتگو، قاعدے قرینے سے واقف ۔ ایک بہن ڈھولک لے لیتی ۔ برابر میں استاد جی سارنگی لے کر بیٹھتے پیچھے ہارمونیم والا ہوتا۔ ایک بڑے بڑے گلمچھوں والا آدمی ان کے ساتھ ہوتا ۔ یہ ان کا باپ تھا۔ ساز ملے، راگ شروع ہوا، بھمیری آوازیں ، سماں بندھ جاتا تھا۔ اس محفل میں خواجہ صاحب بھی شریک ہوتے تھے۔ ہنسی مذاق کی باتیں ہوتی جاتی تھیں ۔ اس زمانے میں مولا نام محمد علی سے خواجہ صاحب کی خوب چل رہی تھی۔ روزانہ خواجہ صاحب کے پوسٹر نکل رہے تھے ۔ مولانا محمدعلی نے خواجہ صاحب کا نام ہی ’’قد آدم پوسٹر‘‘ رکھ دیا تھا۔ کوئی غزل گائی جارہی تھی۔ پورا شعر یاد نہیں رہا۔ مصرعہ ثانی تھا:

    ’’تمہاری بدگمانی چھپ گئی ہے اشتہاروں میں‘‘

     اس پر ایک قہقہہ پڑا تو خواجہ صاحب چونکے اور مسکرا کر بولے ’’کیا ہے؟ کوئی پوسٹر ؟‘‘ اس پر ایک اور قہقہ پڑا اور دیر تک سب ہنستے رہے۔

    ایک دفعہ خواجہ صاحب اور مولانا محمد علی میں چلی اور ایسی چلی کہ بھلے آدمی ترا ہ تراه پکار اُٹھے۔ ایک صاحب تھے ضیاءالحق ہا پڑ کے رہنے والے۔ اپنے وقت کے بڑے مشہور لوگوں میں سے تھے۔ انہیں بڑے بڑوں کو نیچا دکھانے میں مزہ آتا تھا۔ ہر ایک کی ٹوہ لیتے رہتے اور جہاں موقع ملتا چٹک لیتے ۔ ان کے کاٹے کا منتر ہی نہ تھا۔ اپنے اس فن کی وجہ سے ہزاروں کے وارے نیارے کرتے تھے۔ یہ صاحب خواجہ صاحب کے بھی دوست تھے اور مولانا محمد علی کے بھی نہ جانے ان کے جی میں کیا آئی کہ انہوں نے ان دونوں دوستوں کولڑوادیا۔ خواجہ صاحب کا کوئی خط تھا جس کی بنیاد پر انہیں انگریزوں کا جاسوس ٹھہرایا گیا۔ مولا نام محمد علی انگریز کے نام سے جلتے تھے، ان کے تو تلووں سے جولگی تو تالو سے نکل گئی ۔ ایسے چراغ پا ہوئے کہ اپنے اخبار ’’ہمدرد‘‘ میں انہوں نے خواجہ صاحب کے خلاف لکھنا شروع کر دیا۔ خواجہ صاحب بھلا کب دبنے  والے تھے۔ انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دینا شروع کیا اور ایک نیا اخبار ہی اس ہنگامے کے لیے جاری کر دیا۔ دونوں طرف سے وہ گندگی اچھلی کہ توبہ ہی بھلی۔ اس کا یہ برا اثر پڑا کہ دونوں کی قدرو وقعت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہی ۔ خواجہ صاحب کے اخبار میں ایک کارٹون چھپا جس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک دیو ہیکل شخص نہایت خون خوار انداز میں کھڑا ہے اور اس کے سامنے ایک ننھا مچھر بیٹھا ہے۔ مچھر کہہ رہا ہے ’’تو نمرود ہے اور میں مچھر، میں تیری ناک میں گھس جاؤں گا‘‘ بارے کچھ لوگ بیچ میں پڑےاور لڑائی بند کرائی گئی۔ خواجہ صاحب نے اس ساری لڑائی کی روداد ’’جنگ صفین ‘‘کے نام سے کتابی شکل میں شائع کی۔ یہ کتاب خوب بکی۔

    خواجہ صاحب کونئی سے نئی سوجھتی تھی ۔ ایک دفعہ دِلّی  کے ہندو ،مسلمان ،سکھ ، عیسائی سارے ایڈیٹروں کو آموں اور آئس کریم کی دعوت دی۔ بڑا عمدہ انتظام کیا۔ اعلیٰ درجے کے سرولی آم کھلائے اور بڑی خوش ذائقہ آئس کریم ۔ انگریزوں کو قو الی سنوانا تو ان کے لیے ایک عام بات تھی۔ سترہویں کے موقع پر عرس سے ایک دن پہلے خواجہ صاحب میدانِ عرفات میں اپنے انتظام سے قوالی کراتے تھے۔ انہوں نے اپنے احاطوں اورکمروں اور زمینوں کے عجیب عجیب نام رکھے تھے۔ انہیں میں سے ایک احاطہ کا نام میدانِ عرفات تھا۔ ایک وادی ایمن تھی۔ ایک ایمان خانہ تها ، خود جس گھر میں رہتے تھے اس کا نام رین بسیرا تھا۔ قوالی میں شہر اور باہر کے تمام مشہور آدمی مدعو ہوتے تھے۔ ہندو اور سکھ بھی بڑی عقیدت سے اس محفل میں شریک ہوتے تھے۔ خواجہ صاحب تقریر کرتے اور سلطان جی یا امیرخسرو کے واقعات بتاتے۔ ہندوستان کی چیدہ چیدہ ٹولیاں قوالی سناتیں۔ ایک زمانہ میں بخشہ قوال کا زور بندھا، جب اس پر کسی وجہ سے عتاب ہو گیا تو واعظ قوال نے اپنارنگ جمایا۔ واعظ قوال صاحب خود پیری مریدی کرتے تھے۔ وہ بھی کچھ عرصہ بعد معتوب ہو گئے ۔ ان کے بعد پریم راگی مشہور ہوئے اور وہ لد گئے تو ایک چھنگا قوال تھا۔ اسے نظام راگی کا خطاب دے کر مشہور کیا گیا۔ غرض خواجہ صاحب کے خاص قوال یوں ہی بنتے بگڑتے رہے۔

    میرے لڑکپن میں خواجہ صاحب نے دِلّی سے ایک نیا اخبار ’’رعیت‘‘ جاری کیا تھا۔ اس میں کام کرنے سردار دیوان سنگھ دِلّی آئے تھے۔ سردار دیوان سنگھ پہلے کہیں کمپاؤ نڈر تھے مگر انہیں ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ مجھے تو بڑا آدمی بننا ہے۔ اخبار نویسی کا شوق رکھتے تھے۔ اخبار ’’رعیت‘‘ کی ایڈیٹری سے ان کی اخباری زندگی شروع ہوئی ۔ خواجہ صاحب نے ان کے خلوص ومحبت کو دیکھ کر ’’ مفتوں‘‘ کا خطاب دیا۔ پھر دیوان سنگھ صاحب نے اپنا اخبار ’’ریاست‘‘ شائع کرنا شروع کر دیا جو آج تک اُردو کے تمام ہفتہ وار اخباروں میں منفرد ہے۔ مفتوں سے خواجہ صاحب کے تعلقات سالہا سال تک اچھے رہے۔ کبھی کبھی ان میں کھٹک بھی گئی مگر صلح صفائی ہو ہو گئی۔ پھر ایک معاملے میں ایک بڑی کہ ہزار کوششوں پر بھی سردار صاحب کا دل صاف نہ ہو سکا اور آخر تک یہ رنجش جاری رہی ۔ خواجہ صاحب نے بھی مفتوں کے خلاف بہت کچھ لکھا مگر اخیر میں خود ہی خاموش ہونا پڑا کیوں کہ مقابلہ بڑے بے ڈھب آدمی سے تھا۔ خواجہ صاحب نے ایک بات یہ بڑے مزے کی لکھی تھی کہ میں نے سردار دیوان سنگھ کو’’ مفتوں‘‘ کا خطاب دیا تھا جس کے معنی ہیں’’فتنہ  زده‘‘۔

    خواجہ صاحب کی مطبوعات کئی سو ہیں ۔ یہ کتابیں تین طرح کی ہیں ۔ ایک تو وہ ہیں جو خواجہ صاحب نے خود لکھی  ہیں ۔ دوسری وہ ہیں جو خواجہ صاحب نے لکھوائی ہیں یا ترجمہ کرائی ہیں اور مصنف یا متر جم ہی کے نام سے شائع ہوئی ہیں ۔ تیسری وہ جو خواجہ صاحب نے اپنی نگرانی میں اور اپنے ہی طرزتحریر میں لکھوائی ہیں۔ مؤخر الذکر کتابوں پراصل مصنف کا نام نہیں دیا گیا۔ خواجہ صاحب ہی کے نام سے یہ کتابیں منسوب ہیں۔ بعض لوگ اس بات کو خواجہ صاحب کی بد دیانتی پرمحمول کرتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہےکہ خواجہ صاحب نے ان کتابوں میں اتنی اصلاح و ترمیم کی ہے کہ یہ کتابیں حقیقت میں انہیں کی ہوگئی ہیں۔ واقعات تو وہی ہیں جو سینکڑوں کتابوں میں بھرے پڑے ہیں۔ انہیں ایک خاص انداز میں سلیقے سے پیش کر نا ہی اصل کمال ہے۔ ظاہر ہے خواجہ صاحب ہندی کے پنڈت نہیں تھے لیکن خواجہ صاحب کا ترجمۂ قرآن ہندی میں موجود ہے۔ خواجہ صاحب نے یہ ہندی خودتو لکھی  نہیں ہوگی کسی اچھے ہندی جاننے والے سے لکھوائی ہوگی ۔ مگر اس کا ایک ایک لفظ خوب ٹھونک بجا کر دیکھا ہو گا۔ فقرے بھی بدلوائے ہوں گے۔ ترجمہ کی صحت کا بھی خیال رکھا ہوگا ۔ ترجمہ کی ذمہ داری بھی خواجہ صاحب ہی کےسرہے اس لیے یہ ترجمہ خواجہ صاحب ہی کا ہوا۔

    دلی میں ایک جید عالم مولوی عبدالسلام صاحب ہیں ۔ انہیں دنیا بھر کے علوم پرعبور حاصل ہے جس علم سے کہیے خدا کا وجود ثابت کر دیتے ہیں ۔ ان کے علم کی دھاک دور دور تک بیٹھی ہوئی ہے اور واقعہ بھی یہ ہے کہ وہ اپنا جواب نہیں رکھتے۔ مزاج قلندرانہ ہے۔ اپنے آگے کسی کو نہیں گردانتے اور جب انہیں جلال چڑھتا ہے تو علوم کے سمندر میں طوفان آجاتا ہے۔ پھر مولانا کی جادو بیانی سننے سے تعلق رکھتی ہے۔ ضلع جگت پر اتر آتے ہیں تو وہ نا کہ جوڑی کا بخیہ  کرتے ہیں کہ پیوند پر پیوند لگتا چلا جاتا ہے اور ہزار جامہ تیار ہو جاتا ہے۔ تصوف کے بھی دلدادہ ہیں۔ عرسوں میں شریک ہوتے ہیں ۔ قوالی سنتے ہیں، رنڈیوں کا گانا بھی سنتے ہیں ، حسن پرست ہیں۔ ہر چیز میں یار کا جمال دیکھتے ہیں ۔ کسی کے کہنے سننے کی پرواہ نہیں کرتے اور کس کی شامت نے دھکا دیا ہے کہ ان سے بھڑ ے۔ انہیں چھیڑ نا تو ایسا ہے جیسے بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا۔ پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے مگر ان کی تقریر کا لطف اٹھانا ہو تو ایک ذرا ا نہیں چھیڑنا ہی پڑتا ہے۔ بس پھر آپ چپکے رہیے اور ان کی گل فشانی گھنٹوں سنے جائیے، تو ان مولا نا عبد السلام سے خواجہ صاحب کی بھی یا داللہ تھی ۔ خواجہ صاحب نے ان سے فرمائش کی کہ آپ ایک کتاب تصوف پر لکھ د یجیے۔ مولانا نے فرمایا: ”خدا خوش رکھے، لکھ دیں گے شیخ‘‘ مولا نا کو لکھنے کا شوق نہیں ہے پھر بھی انہوں نے اپنے خلاف ِمزاج ایک پوری کتاب تصوف پر لکھ دی ۔ کتاب پوری ہوئی تو کسی جمعرات کو سلطان جی پہنچے اور فاتحہ پڑھ کر خواجہ صاحب کے ہاں گئے ۔ خواجہ صاحب تو انہیں خوب اچھی طرح سے جانتے ہی تھے۔ بڑے سلیقے سے کتاب کے بارے میں بات چیت کرتے رہے۔ مولانا کی تعریف کی ، کتاب کی تعریف کی ، معاوضہ بھی ان سے طے کر لیا۔ اخیر میں بولے کتاب آپ کے نام سے شائع نہیں ہوگی ۔ مولانانے کہا:’’ کیا مضائقہ ہے شیخ‘‘ خواجہ صاحب بولے ’’میرے نام سے شائع ہوگی‘‘ مولانا کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ خواجہ صاحب کاکچھ لحاظ ہی کر گئے ۔ خواجہ صاحب کے ہاتھ سے کتاب لے کر اس کے چار ٹکڑے کیے اور ردی کی ٹوکری میں ڈال دی ۔ خواجہ صاحب نے کہا ’’یہ آپ نے کیا کیا؟‘‘ بولے ’’خدا خوش رکھے، چاء پلاؤ شیخ  ‘‘اور پی کر چلے آئے گویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی ۔ اخیر تک خواجہ صاحب سے اسی وضع داری سے ملتے رہے۔ وہ کتاب چھپ جاتی تو علمی نوادر میں شامل ہوتی۔

    خواجہ صاحب کا اثر مسلمان والیان ریاست پر بہت تھا۔ نظام دکن انہیں دو تین سو روپے ماہوار وظیفہ دیتے تھے۔ حیدر آباد کے تمام امراء انہیں بہت مانتے تھے۔ مہاراجہ کرشن پرشاداتو ان کے مرید ہی تھے۔ اور ایسے مرید کہ اپنے بڑے لڑکے کا نام انہوں نے خواجہ پرشاد رکھا تھا۔ خواجہ صاحب کی اس کامیابی نے ان کے بہت سے حاسد پیدا کر دیے تھے۔ انہیں طرح طرح سے بدنام کرنے کی کوششیں کی جاتی تھیں۔ خواجہ صاحب کو راسپوتین تک بنایا گیا۔ مگر خواجہ صاحب کی کرامات دیکھیے کہ ان کے اقتدار میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا۔ رامپور، مانگرول، ماناودر ، جاور ہ  سارے نواب انہیں سر آنکھوں پر جگہ دیتے تھے ۔ افتخارعلی خان نواب جاور ہ خواجہ صاحب کی بڑی عزت و تکریم کرتے تھے۔ بخشہ قوال جاورہ  در بار کا خاص قوال تھا ، وہ گاتا بھی اچھا تھا اور کچھ اس ادا سے بتاتا بھی تھا کہ دیکھنے والے پھڑک جاتے تھے ۔ اس کی اسی ادائیگی پر نواب جاورہ  بھی لوٹ تھے۔ نواب جاورہ اور خواجہ صاحب بیٹھے تھے اور بخشہ گا رہا تھا۔ اس نے ایک شعر گایا اور نواب نے ایک توڑا روپیوں کا دے دیا۔ دوسرا شعر گایا اور دوسرا توڑادے دیا۔ اس طرح کئی توڑے دے دیئے تو خواجہ صاحب اُٹھے اور بخشہ  کو خاموشی کا اشارہ کر کے نواب سے بولے:’’یہ بخشہ  ہے تو آپ بھی دل شاہ ہیں‘‘ نواب صاحب نے خواجہ صاحب کو سینے سے لگا لیا۔ اس دن سے نواب کا نام ہی دل شاہ مشہور ہو گیا۔ یہاں تک کہ ان کی رعایا بھی انہیں دل شاه ہی کہنے لگی۔

    خواجہ صاحب بڑے زندہ دل اور شگفتہ مزاج آدمی تھے۔ حاضر جواب بھی ایسے ہی تھے گھر پر ان کے قریب ٹیلیفون رکھا رہتا تھا۔ دن بھر میں سینکڑوں ٹیلیفون آتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ گھنٹی بجی ، خواجہ صاحب نے ٹیلیفون اُٹھایا اور بغیر جواب دیئے بند کر دیا۔ پھر خود ہی کہتے کوئی گالیاں دے رہا تھا۔ ایک صاحب نے ٹیلیفون پر پوچھا’’ خواجہ صاحب آپ روز نامچہ تو لکھتے ہیں شب نامچہ کیوں نہیں لکھتے‘‘ گھنٹی سن کر خواجہ صاحب نے ٹیلیفون اُٹھایا کوئی صاحب بلی کی بولی بولے ’’میاؤں‘‘ خواجہ صاحب نے بلے کی طرح ’’می..... آؤں‘‘ کہا اور اس نے گھبرا کر ٹیلیفون بند کر دیا۔

    خواجہ صاحب ذرا سی بات میں ناراض ہو جاتے تھے اور ذرا سی بات میں خوش بھی ہوتے تھے۔ قائد اعظم سے اختلاف ہواتو عرصہ دراز تک ان کے خلاف لکھتے رہے۔ پھر ان کے ہم خیال ہوئے تو اس شدت کے ساتھ کہ قرآن کی رو سے مولانا آزاد کے قتل کا فتویٰ تک دےدیا ۔ اس کے بعد پھر مولانا آزاد کے بھی دوست ہو گئے ۔ علامہ اقبال سے خواجہ صاحب کے ذاتی تعلقات بہت خوش گوار تھے۔ نہ جانے خواجہ صاحب کو کس بات سے رنجش ہوگئی کہ اقبال کو شاعرِ مشرق سے گھٹا کر انہوں نے شاعرِ پنجاب لکھنا شروع کر دیا۔ علامہ اقبال نے یہ سوچا کہ یہ تو بہت برا ہوا۔ چناں چہ انہوں نے خواجہ صاحب کو زک دینے کی ایک ترکیب سوچی۔ خواجہ صاحب کو ایک خط لکھا کہ میرے گھٹنے میں مدت سے دردتھا۔ میں نے آپ کا فاسفورس کا تیل ملا اس سے درد کو افاقہ ہو گیا ۔ اس دن سے علامہ اقبال پر شاعر ِمشرق ہو گئے ۔ منادی میں فاسفورس کے تیل کا جواشتہار چھپتا تھا اس میں شاعرِ مشرق سر محمد اقبال کی رائے ضرور شائع ہوتی تھی۔

    اگست ۱۹۴۷ ء میں جب دِلّی میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا تو خواجہ صاحب بستی نظام الدین ہی میں تھے۔ وہ بار بار دِلّی  کے افسروں کے پاس جاتے مگر کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہوتا ۔ آخر تنگ آ کر پٹیل کے پاس پہنچے۔ اس نے پہلے تو انتظار کرایا اور پھر ملا تو بڑی بے رخی سے ملا۔ پٹیل کی لڑ کی خواجہ صاحب کی بڑی عزت کرتی تھی۔ وہ بھی وہاں آئی تو پٹیل کچھ پسیجا خاطر خواہ نتیجہ تو پھر بھی نہ نکلا ۔ اتنا ضرور ہوا کہ بستی نظام الدین کی حفاظت کا کچھ انتظام ہو گیا مگر خواجہ صاحب دل برداشتہ ہو کر اپنے گھر والوں کو لے کر ہوائی جہاز سے حیدرآباد دکن چلے گئے۔ یہاں ان کے گھر بار پر تالے پڑ گئے اور پہرے بیٹھ گئے۔ جب پوری طرح امن و امان ہوگیا خواجہ صاحب دِلّی  واپس آئے حکومت سے اپنا گھر واگزاشت کرایا۔ خدا جانے کیا ملا اور کیا نہیں ملا کار و باران کے سب بگڑ گئے دِلّی  کیا ہندوستان ہی میں مسلمان برائے نام رہ گئے ۔ اسلامی ریاستیں سب ختم ہو گئیں۔دوست کم اور دشمن زیادہ ہو گئے ۔ واحدی صاحب تک کراچی چلے آئے لیکن خواجہ صاحب بڑی ہمت کے آدمی تھے، ہرقسم کی مصیبت جھیلتے رہے مگر بائیس خواجہ کی چوکھٹ اور سلطان جی کا آستانہ نہیں چھوڑا۔ اکبر الٰہ آبادی بہت پہلے کہہ گئے تھے۔

    حضرت ابو ہریرہؓ سے بلی نہ چھٹ سکی

    خواجہ حسن نظامی سے دلی نہ چھٹ سکی

     آنکھوں سے معذور ہو گئے تھے ۔ صحت نے جواب دےدیا تھا پریشانیوں کا ہجوم تھا مگر پہلو میں دل اسی طرح زندہ تھا۔ دل میں اسی طرح امنگ اور ترنگ تھی۔ پرانی پیچش نے دھڑ تو ڑ دیا تھامگر خوش گفتاری میں فرق نہ آیا تھا۔ آخری وقت تک چہکتے رہے یہاں تک کہ طائرِ روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گیا۔