شاہد احمد دہلوی

شاہد احمد دہلوی

میرا جی

    میرا جی

     

    دلی اور لاہور ہمارے لیے گھر آنگن تھا۔ جب جی چاہا منہ اٹھایا اور چل پڑے۔ کھانے دانے سے فارغ ہو کر رات کو فرنٹیر میں سوار ہوئے اور سو گئے ۔ آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ گاڑی لاہور پر کھڑی ہے۔ سال میں کئی کئی پھیرے لا ہور کے ہو جاتےتھے۔ لا ہور ادیبوں کی منڈی تھا۔ سرسید نے انہیں ’’زندہ دلان پنجاب‘‘ کہا اور واقعی یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس خطے میں زندگی ابلتی ہے اور گنگناتی گاتی پھرتی ہے، کتنا خلوص تھا یہاں کے لوگوں میں اور کتنی محبت ! ٹوٹ کر ملتے، ہاتھوں ہاتھ لیتے اور سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ ہندو ،مسلمان، سکھ ، عیسائی سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے۔ ان میں تیر میر نہیں آئی تھی ۔ ادیب اور شاعر نرےادیب اور شاعر ہی تھے۔ وہ جوکسی نے کہا ہے کہ آرٹسٹ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اس کی تصدیق لاہور ہی میں ہوتی تھی اور سچ  بھی ہے، آرٹسٹ کا مذہب تو آرٹ ہی ہوتا ہے۔ اب کی مجھے خبر نہیں، یہ کوئی ستارہ اٹھارہ سال ادھر کی باتیں ہیں ۔ اب تو زمین آسمان ہی بدل گئے تو بھلا ادب وشعر کی قدریں کیوں نہ بدلی ہوں گی؟ خیر، کچھ ہوگا، یہ وقت اس بحث میں پڑنے کا نہیں۔

    ہاں تو اچھے وقت تھے، اچھے لوگ تھے۔ ان سے مل کر جی خوش ہوتا تھا، ایک بار ملے، دوبارہ ملنے کی ہو س ! اور سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے بعض کے ساتھ برسوں یکجائی رہی اور جی نہیں  بھرا بلکہ ان سے بے ملے چین نہیں پڑتا تھا۔ بے غرض ملتے، جی  کھول کرملتے، اجلی طبیعتیں تھیں بعض دفعہ بڑی ناگوار باتیں بھی ہو جاتیں ، مگر کیا مجال جو آنکھ پر ذرا بھی میل  آجائے ۔ تم نے ہمیں کہہ لیا ہم نے تمہیں کہہ لیا۔ ایلو دل صاف ہو گئے ۔ اچھے لوگوں میں ہی ہوتا ہے۔ زمانہ سدا ایک سا نہیں رہتا۔ جب تک بندھن بندھا ہوا ہے بندھا ہوا ہے، جب ٹو ٹا ساری تیلیاں بکھر گئیں۔ جو دم گزر جائے غنیمت ہے۔ اب وہ دن جب بھی یادآتے ہیں تو دل پر سانپ سالوٹ جاتا ہے۔ یہی کیا کم عذاب تھا کہ ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اب ان کی سناؤنی سننے کو کہاں سے پتھر کا دل لاؤں ۔ بڈھے مرے، انہیں تو مرنا ہی تھا۔ میرناصرعلی مرے، ناصر نذيرفراق مرے، میر باقرعلی داستان گومرے، علامہ راشدالخیری مرے ،مولا نا عنایت اللہ مرے،کس کس کو گناؤں؟ ایک ہو تو بتاؤں ۔ انہوں نے اچھی  گزاری اور عمرطبعی کوپہنچ کر مرے مگر جوانوں کا مرنا قیامت ہے۔

    البیلا رفیقی ، ہنس مکھ چغتائی، عجو بہ افسانہ نگار رفیق حسین، اب آخیر آخیر میں رومانی اختر اور اب پراسرار میرا جی ! ہائے کیسا کڑیل  جوان تھا، یہ کیسے لوٹ گیا؟ ہونہ ہوا سے تو زمانے کی نظر کھا گئی

    گر پیر نو سالہ بمیر دعجبے نیست!

    ایں ماتم سخت است کہ گویند جواں مرد

    بمبئی  سے خبر آئی ہے کہ میراجی کسی ہسپتال میں مر گیا ۔ انالله وانا اليہ راجعون ۔ بے کسی کی موت! ماں باپ، بہن بھائی ، دوست احباب سب کے ہوتے ساتے پردیس میں بے کسی کی موت !

    آسماں راحق بود گر خوں ببارد بر زمین

     لیکن نہیں ، میں تو جذبات کی رو میں بہہ گیا۔یہ تو ہونا ہی تھا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو تعجب ہوتا۔ جو یوں نہ ہوتا تو میرا جی کی عظمت میں فرق آجاتا۔ اس کی عظیم شخصیت کا ایسا ہی عبرتناک انجام ہونا چاہیے تھا۔ عبرتناک اس کے لیے نہیں ہمارے لیے۔ زمانے کی یہی ریت ہے ۔ رونا اس کا ہے کہ وہ عظیم شاعر، وہ عظیم نثار، وہ عظیم حسن کار اب ہم میں نہیں ہے۔ اب وہ وہاں ہے جہاں ہماری آرزوئیں رہتی ہیں۔

    حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

     موت نے اسے کس قدر پیارا بنادیا۔

    پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

    افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

     سن تو ٹھیک یاد نہیں ! ہاں پندرہ سولہ سال ادھر کی بات ہے میں حسب معمول لا ہور گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ’’نیرنگ خیال ‘‘گر رہا تھا اور ’’ادبی دنیا‘‘ا بھر رہا تھا۔ کرشن چندراور راجندر سنگھ بیدی خوب خوب لکھ رہے تھے ۔ صلاح الدین احمد اور میرا جی کی ادارت میں ’’ادبی دنیا‘‘ اس نفاست سے نکل رہا تھا کہ دیکھنے دکھانے کی چیز ہوتا تھا۔ میرا جی کی شاعری سے مجھے کچھ دلچسپی تو نہیں تھی مگر ایک عجوبہ چیز سمجھ کر اسے پڑھ ضرور لیتا تھا۔ اسے سمجھنے کی اہلیت نہ تو اس وقت تھی اور نہ اب ہے۔ اس کے مختصر سے مختصر اور طویل سے طویل مصرعے خواہ مخواہ جاذبِ نظر ہوتے تھے۔ چھوٹے سے چھوٹا مصرعہ ایک لفظ کا اور بڑے سے بڑا مصرعہ اتنا کہ ’’ادبی دنیا‘‘ کے جہازی سائز کی ایک پوری سطر سے نکل کر دوسری سطر کا بھی آدھا پونا حصہ دبا لیتا تھا۔ خیر تو مطلب وطلب تو خاک سمجھ میں آتا نہ تھا۔ البتہ میرا جی کی نظم میں وہی کشش ہوتی تھی جو ایک معمے میں ہوتی ہے مگر ان کی نثر میں بالا کی دل کشی ہوتی تھی ۔ مشرق کے شاعروں اور مغرب کے شاعروں پر انہوں نے سلسلے وار کئی مضامین لکھے تھے اور سب کے سب ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر اس کے علاوہ ادبی جائزے میں جس دقتِ نظر سے میرا جی کام لیتے ، بہت کم سخن فہم اس حد کو پہنچتے ۔ ہاں تو میں لاہور گیا تو مال روڈ پر ’’ادبی دنیا‘‘ کے دفتر بھی گیا۔ کمرے میں داخل ہوا تو صلاح الدین احمد نظر نہیں آئے ۔ سامنے ایک عجیب وضع کا انسان بیٹھا تھا۔ زلفیں چھوٹی ہوئیں، کھلی پیشانی، بڑی بڑی آنکھیں ، ستواں ناک، موزوں دہانہ، کترواں مونچھیں، منڈی ہوئی ڈاڑھی، تھوڑی سے عزم ٹپکتا تھا۔ نظریں بنفشی شعاؤں کی طرح آر پار ہو جانےوالی، خاصی اچھی صورت شکل تھی مگر نہ جانے کیا بات تھی کہ موانست کی بجائے رمیدگی کا احساس ہوا۔ گرمیوں میں گرم کوٹ ! خیال آیا کہ شاید گرم چائے کی طرح گرم کوٹ بھی گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتا ہو گا ، دل نے کہا کہ ہو نہ ہو میرا جی ہو۔ یہ تو اس شخص کی شاعری ہی سے ظاہر تھا کہ غیر معمولی انسان ہو گا۔ پوچھا ’’صلاح الدین احمد صاحب کہاں ہیں؟‘‘ بولے ۔’’ کہیں گئے ہوئے ہیں‘‘ پوچھا: ’’آپ میراجی ہیں ؟‘‘ بولے ’’جی ہاں‘‘ میں نے اپنا نام بنایا۔ تپاک سے ملے، کچھ دیر ان سے رسمی سی باتیں ہوئیں ۔ ان کے بولنے کا انداز ایسا تھا جیسے خفا ہورہے ہوں۔ نپے تلے فقرے ایک خاص لہجے میں بولتے اور چپکے ہو جاتے۔ زیادہ بات کرنے کے وہ قائل نہ تھے اور نہ انہیں تکلف کی گفتگو آتی تھی۔ پہلا اثر یہ ہوا کہ  یہ شخص اکھل کُھرا ہے۔ دماغ چوئٹا ہے۔مختصرسی بات چیت کے بعد اجازت چاہی ، باہر نکلے تو میرے ساتھی نے کہا: ”ارے میاں یہ تو ڈاکو معلوم ہوتا ہے، اس نے ضرور کوئی خون کیا ہے، دیکھا نہیں تم نے؟ اس کی آنکھیں کیسی تھیں؟“ میں نے کہا: ’’یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہےمگر آدمی اپنی وضع کا ایک ہے‘‘۔

    تھوڑےہی عرصے بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اب کے دلی میں ریڈیو پر وہ تقریر کرنے آئے تھے۔ مجھ سے ملنے میرے گھر آئے ۔ جب گئے تو بہت کچھ پہلا اثر زائل کر گئے ۔ آ دمی تو برا نہیں ہے۔ دماغ چوئٹا بھی نہیں ہے ورنہ ملنے کیوں آتا؟ پھر ایک دفعہ آئے اور بولے کہ ’’ریڈیو میں ملازمت کے لیے بلایا ہے‘‘ مجھے کچھ تعجب سا ہوا کہ یہ شخص ریڈیو میں کیا کرے گا؟ بہر حال معلوم ہوا کہ گیت لکھیں گے اور نثر کی چیزیں بھی، تنخواہ ڈیڑھ سو ملے گی ۔ میں نے کہا: ”تنخواہ کم ہے، ادبی دنیا میں آ پ کو کیا ملتا تھا ؟‘‘ بولے’’تیس روپے‘‘ میں نے حیرت سے کہا: ”بس !‘‘ کہنے لگے ’’مولانا سے دوستانہ تعلقات تھے‘‘ میں نے کہا: ’’تو ٹھیک ہے، حساب دوستاں در دل‘‘ معلوم ہوا کہ بیوی بچے تو ہیں نہیں کیوں کہ شادی ہی نہیں کی اپنے خرچے بھر کوڈیڑھ سوروپے بہت تھے۔ چناں چہ میراجی ریڈیو میں نوکر ہو گئے اور ان سے اکثر ملاقات ہونے لگی  اور ان کی نظمیں اور مضامین ساقی میں چھپنے لگے۔ ریڈیو میں اس وقت اپنے اچھے ادیب اور شاعر جمع ہوگئے تھے۔ ن م راشد، کرشن چندر، منٹو، چراغ حسن حسرت ، اوپندر ناتھ اشک، انصار ناصری ، میرا جی ، اختر الایمان وغیرہ سب خوب لکھ رہے تھے۔ اور دِلّی ریڈیو کا طوطی بول رہا تھا۔ راشد صاحب کے مشورے سے میراجی نے ایک دو سوٹ بھی سلوائے تھے مگر انہیں کپڑے پہننے  کا کبھی سلیقہ نہ آیا۔ عجیب اولو اولو معلوم ہوتے تھے۔ مارے باندھے سے کہیں کپڑے پہنے جاتے ہیں؟ کچھ مدت بعد میرا جی پھر اپنی پرانی دھج پر آگئے نہایت موٹے اور بھدے ٹپو کا اچکن نما کوٹ اور اس کا پتلون، جاڑا، گرمی ، سب میں یہی گرم لباس چلتاتھا۔

    ریڈیو کے مسودات لکھنے میں میرا جی کو کافی مہارت ہوگئی تھی اور حسب ضرورت بے تکلف لکھ لیتے تھے۔ گیت ریڈ یوہی میں آ کر لکھے اور اتنے کہ ان کا مجموعہ’’ گیت ہی گیت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ نثر میں بھی صاحب طرز تھے۔ انداز فکر فلسفیانہ اور طرزِ بیان انشاء پرداز انہ تھا۔ نظمیں جب کہنے پر آتے تھے تو کئی کئی کہہ لیتے تھے مگر خدا جانے کب کہتے تھے اور کس کیفیت میں کہتے تھے۔ چند نظمیں خودان سے سمجھیں تو سمجھ میں آئیں اور بعض خود ان کی سمجھ میں بھی نہیں آئیں۔ غزلیں بھی کہی ہیں اور بہت ستھری۔

    فی البد یہ بھی کہتے تھے۔ اشعار کے معاملے میں میرا حافظ کمزور ہے، صرف ایک مصرعہ ان کا چپک کر رہ گیا، وہ بھی اپنے عجب کی وجہ سے اور کچھ نہیں تو اس سے ان کی حاضر دماغی اور قادر الکلامی ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ ہم چند دوست چائے پینے کسی ہوٹل میں داخل ہوئے ۔ ایک صاحب نے چائے پینے سے انکار کر دیا۔ یہ کہہ کر کہ اتنی تو گرمی پڑ رہی ہے۔ دوسرے صاحب بولے ’’گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ پھر چائے والوں کے مقولوں پر بات چل نکلی ۔ کسی نے کہا:’’ اگر اشعار میں منقولے باندھے جائیں تو بہتر‘‘ دوسرےبولے اشعار میں بھی ہیں مثلاً۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                       ایک پیسہ  ماں سے لو                                                                                                                         اتنی چائے باپ کو دو

    یا

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                         یہ شخص اور اس کا بھائی                                                                                                                                                                                                       پیتے ہیں روزانہ چائے

    بھائی کے قافیے پائے پر سب سرد ھننے لگے۔ پھر کسی نے کہا: ’’گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے‘‘ بھی دراصل چائے  والوں کا مصرعہ ہی ہوگا۔ کسی نے کہا یہ  تو مصرعہ کسی طرح بن ہی نہیں سکتا۔ میرا جی اب تک چپکے  بیٹھے تھے۔ بولے ۔ مصرعہ تو بن سکتاہے ۔

    گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈ پہنچاتی ہے۔ ڈکاس پر خوب قہقہہ پڑا۔ واقعی نہ تو کوئی لفظ بڑھا اور نہ گھٹا، ہلد ی لگی نہ پھٹکری رنگ چوکھا آگیا۔

    میراجی مشاعروں اور مجلسوں میں نہیں جاتے تھے۔ یوں بھی وہ بہت کم آمیز تھے اور بڑےآدمیوں سے ملنا تو عار سمجھتے تھے۔ بڑے آدمیوں کے بڑے پن کے وہ کبھی قائل نہیں ہوئے اور کسی سے مرعوب ہونا تو وہ جانتے ہی نہیں تھے ۔ افسروں کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ یہ دفتر میں تو افسر ہوتے ہی ہیں دفتر کے باہر بھی افسر ہی بنے رہنا چاہتے ہیں ۔ دفتر کے ہوٹل تک میں ان کی کرسیاں مخصوص ہیں ۔ بخاری کی کرسی پر بیٹھنا سوءِ ادب ہے، ادبی مجلسوں میں صدر مقام ان کے لیے خالی رکھے جاتے ہیں ۔ افسر ہر جگہ افسر ہی بنا رہتا ہے۔ آدمی کبھی نہیں بنتا۔

    میراجی کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ سنا ہے کہ لاہور کی دیال سنگھ لائبریری وہ چاٹ چکے تھے۔ دِلی آ کر ان کے مطالعے کا شوق غرقِ مئے ناب ہو گیا تھا۔ نثر کی کتابوں میں الف لیلہ کے عاشق تھے۔ اردو صحیح بولتے تھے اورصحیح لکھتے تھے۔ غلطی کی پچ  کبھی نہ کرتے تھے۔ عروض سے خوب واقف تھے اور جملہ اصنافِ شعر پر حاوی ۔ ایک دفعہ ایک سٹیشن ڈائر یکٹر نے ان کے کسی مصرعہ پر اعتراض کیا کہ ناموزوں ہے ۔ اسے تو تقطیع کر کے بتا دیا کہ نا موزوں نہیں ہے، باہر نکل کر کئی دن تک اسے گالیاں دیتے رہے کہ یہ اپنے آپ کوافسرتو سمجھتا ہی ہے شاعر بھی سمجھنے لگا۔ میرا جی میں چاپلوسی کی عادت بالکل نہیں تھی۔ اور افسروں کا آگا تاگا لینا بھی وہ سخت معیوب سمجھتے تھے۔ افسروں میں راشد کے بہت گرویدہ اور مداح تھے یا پرمحمودنظامی کے۔ راشد نے میر اجی کو بہت نبھایا۔ اس وقت بھی جب کہ مجھ سمیت سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔

    شراب کی لت خدا جانے میر اجی کو کہاں سے لگی؟ جب لاہور میں انہیں تیس  روپے ملتے تھے تب بھی وہ پیتے تھے اور جب دِلی آئے اور پانچ گنی تنخواہ ملی تو اور زیادہ پینے گے۔ پہلے رات کو پیتے تھے، پھر دن کو بھی پینے لگے، پھر ہر وقت پینے لگے۔ سوڈا یا پانی ملانے کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔ یونہی بوتل سے منہ لگا کرغٹاغٹ چڑھاجاتے تھے۔ جب ریڈیو سٹیشن پرآتے تو ایک ہاتھ میں کا پیاں اور کتا ہیں ہوتیں اور دوسرے میں اٹا چی کیس ۔ اس میں بوتل رکھی رہتی تھی ۔ ذرا دیر ہوئی اور کہیں جا کر پی آئے۔ اس شراب نے میرا جی کو تباہ کر دیا اور ان میں وہ تمام خرابیاں آتی گئیں جو بالآخر ان کی اخلاقی موت کا باعث بن گئیں ۔ ادھر تنخواہ ملی اور ادھر قرض خواہوں اور شراب میں ختم ۔ پھر ایک ایک سے ادھار مانگا جا رہا ہے۔ میرا جی کے قدردانوں نے انہیں سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہیں مانے اور گرتے ہی چلے گئے ۔ پھر یہ نوبت آئی کہ قرض ملنا بند ہو گیا۔ انہوں نے اپنے مضامین اور نظموں کی کتابیں مرتب کر کر کے بیچنی  شروع کیں۔ اس میں مجھ سے سابقہ پڑا۔ ایک کتاب لے لی، دو لے لیں گھر پر ہر مہینے یا دوسرے مہینے ایک مجموعہ لے کر پہنچ جاتے۔ میں انکار کرتا اور وہ اصرار۔ میں انہیں سمجھا تا کہ ’’میرا جی میں آپ کی کتا بیں نہیں چھاپ سکتا، میرے پاس بیسیوں مسودے خریدے ہوئے رکھے ہیں، ان کے چھپنے کی نوبت بھی نہیں آتی ، کاغذ نایاب ہے۔ مگر وہ کچھ ایسے بہانے تراشتے کہ مجھے مجبور ان سے مسودہ خریدنا پڑتا۔ کبھی باپ کی بیداریکی خبر سناتے،کبھی بھائی کی تعلیم کی مجبوری بیان کرتے، کبھی کہتے والد کی آنکھیں جاتی رہیں، آپریشن ہو گا۔ میں انکار کرتا تو اتنے ہراساں ہوتے کہ ان پر ترس آنے لگتا۔ کئی دفعہ انہیں یہ بھی سمجھایا کہ میراجی آپ اپنے مسودے مجھے سستے دے جاتے ہیں ۔ آپ کسی اور کو دیجیے تو روپے بھی زیادہ ملیں گے ،مگر انہیں ضد تھی کہ نہیں میں کسی اور کواپنی کتاب نہیں دوں گا ۔ میں نے ان سے ایک ایک کر کے آٹھ مسودے لیے جن میں سے صرف تین شائع ہو سکے ۔ باقی دِلّی برد ہوئے آخری قسط جب انہوں نے روپوں کی مجھ سے مانگی تو میں نے پوچھا اب کون سا مسودہ باقی رہ گیا۔ کہنے لگے ”باتیں‘‘ جو ساقی میں لکھ رہا ہوں ، یہ بھی کبھی ایک کتاب ہو جائے  گی‘‘ ۔ بہت حیل حجت کے بعد میں نے انہیں اس شرط پر روپے دیئے کہ آئند ہ و ہ مجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگیں گے۔ مگر اس کے بعد پھر انہیں روپے کی ضرورت ہوئی تو میں نے صاف انکار کر دیا اور انہیں کچھ سخت سست بھی کہا۔ بہت افسردہ اور نادم ہوئے  ، کہنے لگے ’’الف لیلہ‘‘ کا ایک نایاب نسخہ بیس  جلدوں میں بک رہا ہے۔ ایک ناقدرے کا دادا مر گیا ہے کتب خانے کی کتابیں اونے پونے بیچ رہا ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ وہ جلدیں اپنے پاس گروی رکھ لیجیے اور ڈیڑھ سو روپے مجھے دے دیجئے ۔ میں آپ کو روپے دے کر کتابیں آئندہ چھٹرالوں گا‘‘۔ میں نے کہا: ” یک نہ شد دو شد ‘‘بھائی میں گروی گانٹھا نہیں کرتا ، مجھے تو تم معاف ہی کرو کیوں رہی سہی دوستی پر پانی پھیرتے ہو؟ میں تمہارا کتنا بڑا قدردان ہوں ۔اب مجھے اس پر تو مجبور نہ کرو کہ مجھے تم سے نفرت ہو جائے‘‘۔ یہ بات کچھ ان کی سمجھ میں آگئی اور وہ خاموش چلے گئے ۔بس اس کے بعد میرا جی نے مجھ سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کوئی مسودہ لے کر میرے پاس آئے ۔ویسے ان سے جب تک وہ دِلّی میں رہے برابر ملنا جلنا ہوتارہا اور اکثر گھر بھی آجاتے تھے۔

    کتابوں کی قیمت کے بارے میں ان کی ایک خاص مت تھی ۔ مثلاً میں نے کہا یہ کتاب تو بہت چھوٹی ہے، اس کے میں دوسو روپے سے زیادہ نہیں دوں گا، تو وہ کہتے ’’ دوسو بالکل ٹھیک رقم ہے، بائیس روپے دو آنے اور دو پائی اور بڑھا دیجئے تا کہ رقم ہموار ہو جائے ۔ یعنی دوسو بائیس روپے دو آنے ، دو پائی‘‘ اسی طرح ان کی سب کتابوں کی قیمتیں تجویز کی گئی تھیں ۔ ٣/ ٣/ ٣٣٣۔ ٤/ ٤/ ٤٤٤۔ ٥/٥/٥٥٥روپے اور ’’اجنتے کے غار ‘‘جو ان کی نظموں کا دوسرا مجموعہ تھا۔ اس کی قیمت٦/ ٦/ ٦٦٦روپے دی گئی تھی۔

    میرا جی بڑے گندے آدمی تھے۔ وہ ان میں سے تھے جو کہتے ہیں کہ یا نہلائے دائی یا نہلائیں چار بھائی ۔ انہیں بھی کسی نے نہاتے نہیں دیکھا، بلکہ منہ دھوتے بھی نہیں دیکھا، بال کٹوانے کے بڑے چور تھے۔ وحشیوں کی طرح ہمیشہ بڑھے رہتے اور ان میں کبھی تیل نہ ڈالتے اور نہ انہیں بناتے۔ جب دِلی آئے تھے تو مونچھیں بھی مونڈ ڈالی تھیں ایک دفعہ جانے دل میں کیا سمائی کہ چار ابرو کا صفایا کر کے گلے میں سادھوؤں کی سی کنٹھی بھی ڈال لی تھی ۔ ہمیشہ سنجیدہ صورت بنائے رہتے تھے، انہیں قہقہہ مار کر ہنستے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ باتیں اکثر ہنسنے ہنسانے کی کرتے مگر خود کبھی نہ ہنستے تھے ۔ بہت خوش ہوئے تو خنده ٔدندان نما فرمایا ۔ ان کے غچلے پن سے بڑی گھن آتی تھی۔ مگر یہ ان گھناؤنی چیزوں میں سے تھے جنہیں اپنے سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی قلندرانہ اور حرکتیں مجذوبانہ۔ دو چار آدمیوں نے مل کر ایک کمرہ کہیں باڑے کی طرف لے رکھا تھا مگر رات کو اگر کہیں گھاس میں پڑر ہے تو وہیں سو گئے اور اگر پٹری پر لیٹ گئے تو و ہی صبح  ہوگئی ۔ ایک دو دن نہیں برسوں یہی حال رہا۔

    شراب کے نشے میں میراجی کورونے کی دھن سوار ہو جاتی تھی اور وہ ایسے بے سدھ ہو جاتے کہ تن بدن کا بھی ہوش نہ رہتا۔ ایک دن ہم موری دروازے کے پل پر سے آرہے تھے۔ جب نہر سعادت خان کے سینما کے آگے پہنچے تو دیکھا کہ ایک مجمع سڑک پر لگ رہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ایک آدمی ڈاڑھیں مار کر رو رہا ہے اور دو ایک اسے سڑک پر سے اُٹھارہے ہیں ۔ ہم نے سوچا کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔ بے چارے کے سخت چوٹ آئی ہے، اسے فوراً ہسپتال بھیجنا چاہیے۔ اتنے میں اخلاق نے گھبرا کر کہا: ”بھائی شاہد! یہ  تو میرا جی ہیں!‘‘ اور میرا جی سڑک پر پڑے سورہے تھے اور بڑ بڑا بھی رہے تھے۔ مگر زبان قابو میں نہیں تھی  کہ بات سمجھ میں آتی ۔ ایک صاحب جو انہیں اٹھانے کی کوشش کررہے تھے وہ بھی جاننے والے ہی تھے۔ ہمیں دیکھ کر ان کی جان میں جان آئی۔ جھٹ ایک تانگہ منگا کر سب نے اٹھا کر میر اجی  کو تانگے میں ڈالا مگروہ پھسل کر نیچے  آرہے ۔ دوباره انہیں آگے کی سیٹ پر ڈالا اور اخلاق کو ساتھ بھیجا کہ ان کے گھر پہنچا کر آئے ۔ اگلے دن اخلاق نے بتایا کہ میراجی اپنی اماں کے لیے رورہے تھے۔

    یہ  اخلاق احمد ریڈیواناؤنسر تھے اور میراجی کے بڑے مداح ، میراجی نے اپنی ایک کتاب بھی ان کے نام معنون کی ہے۔ دونوں میں بہت اخلاص تھا۔

    ایک دن ان کے چند دوست انہیں  گھیر گھار کر ایک نستعلیق طوائف کے کمرے پر لے گئے۔ وہاں کچھ گانا سنا، کچھ شراب پی اور بہکنے لگے۔ زینے سے اتر کر سڑک پر آئے تو حالت اور بھی خراب ہوگئی ۔ سڑک پرلوٹنا اور چیخیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ نظموں کا دوسرا ضخیم مجموعہ مسودے کی شکل میں ان کے پاس تھا اسے اس بری طرح اچھالا کہ رات کے اندھیرے میں اس کا ایک ورق بھی کسی کے ہاتھ نہ آیا۔ دوستوں نے جوان کی یہ حالت دیکھی تو گھبرا گئے ۔ لا کھ انہیں چمکا را پچکارا مگر وہ اپنے اوسانوں میں نہ آئے ۔ اتنے ہی میں پولیس کے چند آدمی گشت کرتے آگئے ۔ دوست بے چارے سب دم بخود ہو گئے کہ اب آوارہ گردی میں سب کے سب بند ہوتے ہیں ۔ بھلا رات کے بارہ بجے اس بد نام بازار میں اور اس حالت میں دیکھ کر کون چھوڑے گا؟ مگر اخلاق احمد کے حواس قائم رہے۔ ہمت مردانہ تو ان کی بھی جواب دے چکی تھی ۔ مگر جب پولیس والوں نے ٹوکا تو اس نے جرأت رندانہ سے کام لے کر کہا:’’بیچارے کی ماں مرگئی ہے ‘‘یہ کہہ کر میرا جی کو سمجھانے لگا کہ ’’ماں باپ سدا کسی کے جیتے نہیں رہتے۔ صبر کرو صبر ، چلو اٹھو ، کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا۔ ارے بھئی تم تو بڑے بودے نکلے ۔ بچوں کی طرح رو رہے ہو، لو چلو اٹھو اور ہاں سنتری جی کوئی تانگہ ملے تو ادھر بھیج دینا‘‘۔ خدا خدا کر کے آئی بلاٹلی اور سب کی جان میں جان آئی ۔ نظموں کے دوسرے مجموعے کے ساتھ اس مہینے کی تنخواہ کا بقایا بھی میرا جی  اسی بازار میں اچھال آئے۔ چلو۔

    جان بچی لاکھوں پائے

    خیر سے بدھو گھر کو آئے

    صبح  انہیں کبھی بھی یا نہیں رہتا تھا کہ رات کو اپنی جان اور دوستوں پر کیا مصیبت توڑچکے ہیں۔

    ایک دن ریڈیو سٹیشن پر میرا جی کو دیکھا کہ جگہ جگہ سے ان کا منہ سوجا ہوا ہے اور سارےچہرے پر زخم  اور نہٹے لگے  ہوئے ہیں ۔ میں نے گھبرا کر پوچھا ’’میرا جی کیا کہیں گر پڑے ‘‘ بولے: ’’نہیں مجھے مارا ہے‘‘آپ کو کیوں مارا؟ آپ  تو لڑ نا جانتے ہی نہیں، کہنے لگے ’’مجھے سوتے میں مارا ہے، اس نے‘‘ کس نے؟’’میراشبہ ہے ایک آدمی پر‘‘ اور آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ اس بے ہوش آدمی کو کس ملعون نے مارا تھا۔ میرا جی کو زیادہ جاننے والوں میں سے بعض یہ بھی کہتے تھے کہ اس نے خود نشے میں اپنے آپ کو مارا ہے۔واللہ عالم بالصواب۔

    میرا جی پراسراریت اور حیرت کے قائل تھے۔ ان کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح پراسرار تھی۔ وضع قطع، لباس اور باتوں سے تو وہ پراسرار نظر ہی آتے تھے وہ حرکتیں بھی کچھ ایسی کرتے تھے کہ لوگ انہیں حیرت سے دیکھیں۔مثلاً ایک زمانے میں مرغی کے انڈے کے برابر لوہے کا گولا ہاتھ میں ہر وقت رکھتے تھے اور کوئی پوچھتا تھا کہ یہ کیا ہے تو کچھ نہ بتاتے تھے۔ پھر ایک کے دو گولے ہو گئے تھے اور یہ خاصہ ڈیڑھ پاؤ کا بوجھ خواہ مخواہ اٹھائے پھرتے تھے اس کے بعد ان گولوں پر سگریٹ کی پنی چڑھائی جاتی تھی۔ لکھنؤ میں جب میں نے انہیں آخری بار راشد صاحب کے ہاں دیکھا تو گولے ان کے پاس نہیں تھے۔

    کھانے میں میٹھا اور نمکین ملا کرکھاتے تھے اور دیکھنے والے یہ چہ میگوئیاں کرتے تھے۔ بعض جو انہیں جانتے تھے انہیں ’’باؤلا‘‘ کہتے تھے منٹو انہیں فراڈ کہتا تھا۔

    آواز بہت عمدہ اور بھاری پائی تھی۔ ریڈیو پر اکثر ڈراموں میں بولتے تھے۔ پنجاب کے رہنے والے تھے مگر ان کی زبان یا ان کا لہجہ چغلی نہیں کھاتا تھا ۔ انگریزی کی استعدادا علىٰ درجے کی تھی مگر جہاں تک ممکن ہوتا بولنے سے گریز کرتے ۔ موسیقی سے دلچسپی تھی۔ راگ جے جے ونتی سنتے تو وجد طاری ہو جاتا اور سر پھوڑنے لگتے۔ سمجھتے خاک نہ تھے۔

    مذہب سے میرا جی کو کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ہندوصنمیات سے انہیں شغف تھا۔ اسی کا رچا پچا تصور ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔ بس مسلمان اس لیے تھے کہ ایک مسلمان کے ہاں پیدا ہو گئے تھے۔ جوشخص اخلاقی ضابطوں کی پابندی کرنا بھی ضروری نہ سمجھتا ہو وہ بھلا مذہبی قید و  بند کو کیسے گوارا کر لیتا؟ میرا جی کے تو دل اور دماغ دونوں ہی کافر تھے۔

    میرا جی جنسی اعتبار سے ایک گنجلک تھے۔ ابتداً انہیں  عورتوں سے رغبت تھی اور یہ کوئی ہندولڑ کی ’’میرا‘‘ ہی تھی جس کی ناکام محبت میں اپنانام انہوں نے’’ میرا جی‘‘ رکھا تھا ورنہ اصلی نام تو ان کا ثناء اللہ تھا۔ خدا جانے استمنا بالید کا انہیں چسکا کہاں سے لگا کہ جیتے جی نہ چھوٹا اور انہیں کسی جوگا نہیں رکھا۔ وہ اسے فخر یہ بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کی بدولت میری سب تمنا ئیں پوری ہو جاتی ہیں ۔ آپ ایک ایک کا منہ تکتے ہیں اور دل میں حسرت لئے رہ جاتے ہیں۔ میں کسی کو دیکھتا ہوں تو اس کا لطف بھی حاصل کر لیتا ہوں ۔ ایک دن اپنے ایک اہم مذاق سے تعارف کرایا تو یہ کہہ کر کہ ’’یہ بھی دستکار ہیں‘‘ ان سے جب کہا گیا کہ یہ تو بڑی غلط چیز ہے تو جواب ملا کہ میں سائنٹفک طریقے کا دستکار ہوں ۔ اس میں کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور دستکاری میں انہیں اتنا غلوتھا کہ قید مقام سے بھی گزر چکے تھے۔ ان کے پتلون کی بائیں جیب تو بنی ہوئی تھی مگر جیب کا کپڑاغائب تھا۔

    میراجی کی سیرت میں بیسیوں خرابیاں آگئی تھیں لیکن طبعاً وہ ایک شریف انسان تھے، دوستوں کے لیے دامے، درمے، قدے، ہرطرح خدمت کرنے کو تیار رہتے تھے۔ دانشوروں کے ایک خاص طبقے میں ایک صاحب نے ایک مضمون پڑھا جو پوری اُردو شاعری پر حاوی تھا۔ اس مضمون کی بہت تعریف ہوئی ۔ اچنبھے کی بات کی تھی کہ صاحب مضمون یوں تو پڑھے لکھے تھے لیکن انہیں ادب وشعر کا کوئی خاص ذوق نہیں تھا۔ ہمارا ماتھا وہیں ٹھنکا تھا کہ یہ مضمون ان کا نہیں ہوسکتا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مضمون میرا جی کا لکھا ہوا تھا۔ شروع شروع میں جب ان کی شراب نہیں بڑھی تھی وہ روپے پیسے سے بھی بعض دوستوں کی مددکرتے تھے۔ تنخواہ میں سے کچھ پس انداز کر کے اپنے والد اور چھوٹے بھائی کو بھی کچھ بھیجا کرتے تھے اور یہ چھوٹے بھائی وہی صاحب تھے جنہوں نے میرا جی کی تمام نظمیں چند پیسوں میں بیچ  ڈالی تھیں ۔ ہوا یہ کہ انہوں نے سارے گھر کی ردی کسی پھیری والے کے ہاتھ دو تین آنے سیر کے حساب سے بیچی  اور اس میں میراجی کی وہ دو ضخیم کاپیاں بھی تول دیں جن میں ان کی نظمیں لکھی ہوئی تھیں ۔ میرا جی نے لاہور کے تمام ردی بیچنے والے چھان ڈالے مگر وہ مجموعے نہ ملنے تھے نہ ملے ۔ اس کا انہیں بے حد رنج پہنچا، اتنا کہ انہوں نے اپنا گھر اور اپنے عزیزوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا۔ جس گھر میں ان کے ہنر کی یہ تو قیر ہو وہ وہاں کیسے رہ سکتے تھے اور جن کے ہاتھوں ان کے حاصلِ عمر کا یہ حشر ہو بھلا وہ ان سے ملنا کیسے گوارہ کر سکتے تھے؟ گھر تو گھر انہوں نے لا ہور ایسا چھوڑا کہ پھرکبھی ادھر کا رخ نہیں کیا۔

     میراجی کو میں نےکبھی کسی سے بدزبانی کرتے ہیں دیکھا۔ وہ کسی سے مذاق تک نہیں کرتے تھے۔ ان کا رکھ رکھاؤ ایسا تھا کہ کیا مجال جو کوئی ان سے ناشائستہ بات کرلے۔ ادب آداب ہمیشہ ملحوظ رکھتے ۔ ان کی بھونڈی وضع قطع پر بے تکلف دوست پھبتیاں کستے مگر وہ صرف مسکرا کر رہ جاتے اورکبھی الٹ کر کوئی سخت جواب نہ دیتے۔ اس سے یہ ہوتا کہ معترض خود شرمندہ ہو جاتا۔

    عجیب بات میراجی میں یہ تھی کہ ان کی جملہ خرابیوں کے با وجود سب ان کی عزت کرتے تھے۔ انہیں دیکھ کر اندر سے دل کہتا تھا کہ یہ ایک عظیم انسان ہے اور عزت و احترام کا مستحق۔ نہ جانے اس شخص میں کیا بات تھی کہ اتنی نفرت انگیزیوں کے باوجود دل اس کی طرف کھنچتا تھا۔ ایسا مقناطیسی شخصیت کا انسان میں نے کوئی اور نہیں دیکھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ انہوں نے بھی اپنے عیبوں کو نہیں چھپایا اور نہ کبھی اپنی خوبیوں کو سراہا۔ ریا کاری ان میں نام کونہیں تھی ۔ ان کے لیے خلوت اور جلوت دونوں ایک تھے۔ اخلاقی قدریں اضافی تو ہوتی ہی ہیں ۔ ان کے نزدیک مروجہ اخلاق کی کوئی حیثیت نہیں تھی بلکہ وہ انہیں برا سمجھتے تھے اور ان کی تحقیر کرتے تھے۔ یا شاید انہوں نے انتقاماً ظا ہر کوتج  دیا تھا اور ان کا باطن ہی ظاہر بن گیا تھا اور شاید یہی ان کی عظیم شخصیت کا راز ہو۔

      

    دلی اور لاہور ہمارے لیے گھر آنگن تھا۔ جب جی چاہا منہ اٹھایا اور چل پڑے۔ کھانے دانے سے فارغ ہو کر رات کو فرنٹیر میں سوار ہوئے اور سو گئے ۔ آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ گاڑی لاہور پر کھڑی ہے۔ سال میں کئی کئی پھیرے لا ہور کے ہو جاتےتھے۔ لا ہور ادیبوں کی منڈی تھا۔ سرسید نے انہیں ’’زندہ دلان پنجاب‘‘ کہا اور واقعی یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس خطے میں زندگی ابلتی ہے اور گنگناتی گاتی پھرتی ہے، کتنا خلوص تھا یہاں کے لوگوں میں اور کتنی محبت ! ٹوٹ کر ملتے، ہاتھوں ہاتھ لیتے اور سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ ہندو ،مسلمان، سکھ ، عیسائی سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے۔ ان میں تیر میر نہیں آئی تھی ۔ ادیب اور شاعر نرےادیب اور شاعر ہی تھے۔ وہ جوکسی نے کہا ہے کہ آرٹسٹ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اس کی تصدیق لاہور ہی میں ہوتی تھی اور سچ  بھی ہے، آرٹسٹ کا مذہب تو آرٹ ہی ہوتا ہے۔ اب کی مجھے خبر نہیں، یہ کوئی ستارہ اٹھارہ سال ادھر کی باتیں ہیں ۔ اب تو زمین آسمان ہی بدل گئے تو بھلا ادب وشعر کی قدریں کیوں نہ بدلی ہوں گی؟ خیر، کچھ ہوگا، یہ وقت اس بحث میں پڑنے کا نہیں۔

    ہاں تو اچھے وقت تھے، اچھے لوگ تھے۔ ان سے مل کر جی خوش ہوتا تھا، ایک بار ملے، دوبارہ ملنے کی ہو س ! اور سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے بعض کے ساتھ برسوں یکجائی رہی اور جی نہیں  بھرا بلکہ ان سے بے ملے چین نہیں پڑتا تھا۔ بے غرض ملتے، جی  کھول کرملتے، اجلی طبیعتیں تھیں بعض دفعہ بڑی ناگوار باتیں بھی ہو جاتیں ، مگر کیا مجال جو آنکھ پر ذرا بھی میل  آجائے ۔ تم نے ہمیں کہہ لیا ہم نے تمہیں کہہ لیا۔ ایلو دل صاف ہو گئے ۔ اچھے لوگوں میں ہی ہوتا ہے۔ زمانہ سدا ایک سا نہیں رہتا۔ جب تک بندھن بندھا ہوا ہے بندھا ہوا ہے، جب ٹو ٹا ساری تیلیاں بکھر گئیں۔ جو دم گزر جائے غنیمت ہے۔ اب وہ دن جب بھی یادآتے ہیں تو دل پر سانپ سالوٹ جاتا ہے۔ یہی کیا کم عذاب تھا کہ ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اب ان کی سناؤنی سننے کو کہاں سے پتھر کا دل لاؤں ۔ بڈھے مرے، انہیں تو مرنا ہی تھا۔ میرناصرعلی مرے، ناصر نذيرفراق مرے، میر باقرعلی داستان گومرے، علامہ راشدالخیری مرے ،مولا نا عنایت اللہ مرے،کس کس کو گناؤں؟ ایک ہو تو بتاؤں ۔ انہوں نے اچھی  گزاری اور عمرطبعی کوپہنچ کر مرے مگر جوانوں کا مرنا قیامت ہے۔

    البیلا رفیقی ، ہنس مکھ چغتائی، عجو بہ افسانہ نگار رفیق حسین، اب آخیر آخیر میں رومانی اختر اور اب پراسرار میرا جی ! ہائے کیسا کڑیل  جوان تھا، یہ کیسے لوٹ گیا؟ ہونہ ہوا سے تو زمانے کی نظر کھا گئی

    گر پیر نو سالہ بمیر دعجبے نیست!

    ایں ماتم سخت است کہ گویند جواں مرد

    بمبئی  سے خبر آئی ہے کہ میراجی کسی ہسپتال میں مر گیا ۔ انالله وانا اليہ راجعون ۔ بے کسی کی موت! ماں باپ، بہن بھائی ، دوست احباب سب کے ہوتے ساتے پردیس میں بے کسی کی موت !

    آسماں راحق بود گر خوں ببارد بر زمین

     لیکن نہیں ، میں تو جذبات کی رو میں بہہ گیا۔یہ تو ہونا ہی تھا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو تعجب ہوتا۔ جو یوں نہ ہوتا تو میرا جی کی عظمت میں فرق آجاتا۔ اس کی عظیم شخصیت کا ایسا ہی عبرتناک انجام ہونا چاہیے تھا۔ عبرتناک اس کے لیے نہیں ہمارے لیے۔ زمانے کی یہی ریت ہے ۔ رونا اس کا ہے کہ وہ عظیم شاعر، وہ عظیم نثار، وہ عظیم حسن کار اب ہم میں نہیں ہے۔ اب وہ وہاں ہے جہاں ہماری آرزوئیں رہتی ہیں۔

    حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

     موت نے اسے کس قدر پیارا بنادیا۔

    پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

    افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

     سن تو ٹھیک یاد نہیں ! ہاں پندرہ سولہ سال ادھر کی بات ہے میں حسب معمول لا ہور گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ’’نیرنگ خیال ‘‘گر رہا تھا اور ’’ادبی دنیا‘‘ا بھر رہا تھا۔ کرشن چندراور راجندر سنگھ بیدی خوب خوب لکھ رہے تھے ۔ صلاح الدین احمد اور میرا جی کی ادارت میں ’’ادبی دنیا‘‘ اس نفاست سے نکل رہا تھا کہ دیکھنے دکھانے کی چیز ہوتا تھا۔ میرا جی کی شاعری سے مجھے کچھ دلچسپی تو نہیں تھی مگر ایک عجوبہ چیز سمجھ کر اسے پڑھ ضرور لیتا تھا۔ اسے سمجھنے کی اہلیت نہ تو اس وقت تھی اور نہ اب ہے۔ اس کے مختصر سے مختصر اور طویل سے طویل مصرعے خواہ مخواہ جاذبِ نظر ہوتے تھے۔ چھوٹے سے چھوٹا مصرعہ ایک لفظ کا اور بڑے سے بڑا مصرعہ اتنا کہ ’’ادبی دنیا‘‘ کے جہازی سائز کی ایک پوری سطر سے نکل کر دوسری سطر کا بھی آدھا پونا حصہ دبا لیتا تھا۔ خیر تو مطلب وطلب تو خاک سمجھ میں آتا نہ تھا۔ البتہ میرا جی کی نظم میں وہی کشش ہوتی تھی جو ایک معمے میں ہوتی ہے مگر ان کی نثر میں بالا کی دل کشی ہوتی تھی ۔ مشرق کے شاعروں اور مغرب کے شاعروں پر انہوں نے سلسلے وار کئی مضامین لکھے تھے اور سب کے سب ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر اس کے علاوہ ادبی جائزے میں جس دقتِ نظر سے میرا جی کام لیتے ، بہت کم سخن فہم اس حد کو پہنچتے ۔ ہاں تو میں لاہور گیا تو مال روڈ پر ’’ادبی دنیا‘‘ کے دفتر بھی گیا۔ کمرے میں داخل ہوا تو صلاح الدین احمد نظر نہیں آئے ۔ سامنے ایک عجیب وضع کا انسان بیٹھا تھا۔ زلفیں چھوٹی ہوئیں، کھلی پیشانی، بڑی بڑی آنکھیں ، ستواں ناک، موزوں دہانہ، کترواں مونچھیں، منڈی ہوئی ڈاڑھی، تھوڑی سے عزم ٹپکتا تھا۔ نظریں بنفشی شعاؤں کی طرح آر پار ہو جانےوالی، خاصی اچھی صورت شکل تھی مگر نہ جانے کیا بات تھی کہ موانست کی بجائے رمیدگی کا احساس ہوا۔ گرمیوں میں گرم کوٹ ! خیال آیا کہ شاید گرم چائے کی طرح گرم کوٹ بھی گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتا ہو گا ، دل نے کہا کہ ہو نہ ہو میرا جی ہو۔ یہ تو اس شخص کی شاعری ہی سے ظاہر تھا کہ غیر معمولی انسان ہو گا۔ پوچھا ’’صلاح الدین احمد صاحب کہاں ہیں؟‘‘ بولے ۔’’ کہیں گئے ہوئے ہیں‘‘ پوچھا: ’’آپ میراجی ہیں ؟‘‘ بولے ’’جی ہاں‘‘ میں نے اپنا نام بنایا۔ تپاک سے ملے، کچھ دیر ان سے رسمی سی باتیں ہوئیں ۔ ان کے بولنے کا انداز ایسا تھا جیسے خفا ہورہے ہوں۔ نپے تلے فقرے ایک خاص لہجے میں بولتے اور چپکے ہو جاتے۔ زیادہ بات کرنے کے وہ قائل نہ تھے اور نہ انہیں تکلف کی گفتگو آتی تھی۔ پہلا اثر یہ ہوا کہ   یہ شخص اکھل کُھرا ہے۔ دماغ چوئٹا ہے۔مختصرسی بات چیت کے بعد اجازت چاہی ، باہر نکلے تو میرے ساتھی نے کہا: ”ارے میاں یہ تو ڈاکو معلوم ہوتا ہے، اس نے ضرور کوئی خون کیا ہے، دیکھا نہیں تم نے؟ اس کی آنکھیں کیسی تھیں؟“ میں نے کہا: ’’یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہےمگر آدمی اپنی وضع کا ایک ہے‘‘۔

    تھوڑےہی عرصے بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اب کے دلی میں ریڈیو پر وہ تقریر کرنے آئے تھے۔ مجھ سے ملنے میرے گھر آئے ۔ جب گئے تو بہت کچھ پہلا اثر زائل کر گئے ۔ آ دمی تو برا نہیں ہے۔ دماغ چوئٹا بھی نہیں ہے ورنہ ملنے کیوں آتا؟ پھر ایک دفعہ آئے اور بولے کہ ’’ریڈیو میں ملازمت کے لیے بلایا ہے‘‘ مجھے کچھ تعجب سا ہوا کہ یہ شخص ریڈیو میں کیا کرے گا؟ بہر حال معلوم ہوا کہ گیت لکھیں گے اور نثر کی چیزیں بھی، تنخواہ ڈیڑھ سو ملے گی ۔ میں نے کہا: ”تنخواہ کم ہے، ادبی دنیا میں آ پ کو کیا ملتا تھا ؟‘‘ بولے’’تیس روپے‘‘ میں نے حیرت سے کہا: ”بس !‘‘ کہنے لگے ’’مولانا سے دوستانہ تعلقات تھے‘‘ میں نے کہا: ’’تو ٹھیک ہے، حساب دوستاں در دل‘‘ معلوم ہوا کہ بیوی بچے تو ہیں نہیں کیوں کہ شادی ہی نہیں کی اپنے خرچے بھر کوڈیڑھ سوروپے بہت تھے۔ چناں چہ میراجی ریڈیو میں نوکر ہو گئے اور ان سے اکثر ملاقات ہونے لگی  اور ان کی نظمیں اور مضامین ساقی میں چھپنے لگے۔ ریڈیو میں اس وقت اپنے اچھے ادیب اور شاعر جمع ہوگئے تھے۔ ن م راشد، کرشن چندر، منٹو، چراغ حسن حسرت ، اوپندر ناتھ اشک، انصار ناصری ، میرا جی ، اختر الایمان وغیرہ سب خوب لکھ رہے تھے۔ اور دِلّی ریڈیو کا طوطی بول رہا تھا۔ راشد صاحب کے مشورے سے میراجی نے ایک دو سوٹ بھی سلوائے تھے مگر انہیں کپڑے پہننے  کا کبھی سلیقہ نہ آیا۔ عجیب اولو اولو معلوم ہوتے تھے۔ مارے باندھے سے کہیں کپڑے پہنے جاتے ہیں؟ کچھ مدت بعد میرا جی پھر اپنی پرانی دھج پر آگئے نہایت موٹے اور بھدے ٹپو کا اچکن نما کوٹ اور اس کا پتلون، جاڑا، گرمی ، سب میں یہی گرم لباس چلتاتھا۔

    ریڈیو کے مسودات لکھنے میں میرا جی کو کافی مہارت ہوگئی تھی اور حسب ضرورت بے تکلف لکھ لیتے تھے۔ گیت ریڈ یوہی میں آ کر لکھے اور اتنے کہ ان کا مجموعہ’’ گیت ہی گیت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ نثر میں بھی صاحب طرز تھے۔ انداز فکر فلسفیانہ اور طرزِ بیان انشاء پرداز انہ تھا۔ نظمیں جب کہنے پر آتے تھے تو کئی کئی کہہ لیتے تھے مگر خدا جانے کب کہتے تھے اور کس کیفیت میں کہتے تھے۔ چند نظمیں خودان سے سمجھیں تو سمجھ میں آئیں اور بعض خود ان کی سمجھ میں بھی نہیں آئیں۔ غزلیں بھی کہی ہیں اور بہت ستھری۔

    فی البد یہ بھی کہتے تھے۔ اشعار کے معاملے میں میرا حافظ کمزور ہے، صرف ایک مصرعہ ان کا چپک کر رہ گیا، وہ بھی اپنے عجب کی وجہ سے اور کچھ نہیں تو اس سے ان کی حاضر دماغی اور قادر الکلامی ضرور ظاہر ہوتی ہے۔ ہم چند دوست چائے پینے کسی ہوٹل میں داخل ہوئے ۔ ایک صاحب نے چائے پینے سے انکار کر دیا۔ یہ کہہ کر کہ اتنی تو گرمی پڑ رہی ہے۔ دوسرے صاحب بولے ’’گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ پھر چائے والوں کے مقولوں پر بات چل نکلی ۔ کسی نے کہا:’’ اگر اشعار میں منقولے باندھے جائیں تو بہتر‘‘ دوسرےبولے اشعار میں بھی ہیں مثلاً۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                       ایک پیسہ  ماں سے لو                                                                                                                          اتنی چائے باپ کو دو

    یا

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                         یہ شخص اور اس کا بھائی                                                                                                                                                                                                        پیتے ہیں روزانہ چائے

    بھائی کے قافیے پائے پر سب سرد ھننے لگے۔ پھر کسی نے کہا: ’’گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈک پہنچاتی ہے‘‘ بھی دراصل چائے  والوں کا مصرعہ ہی ہوگا۔ کسی نے کہا یہ  تو مصرعہ کسی طرح بن ہی نہیں سکتا۔ میرا جی اب تک چپکے  بیٹھے تھے۔ بولے ۔ مصرعہ تو بن سکتاہے ۔

    گرمیوں میں گرم چائے ٹھنڈ پہنچاتی ہے۔ ڈکاس پر خوب قہقہہ پڑا۔ واقعی نہ تو کوئی لفظ بڑھا اور نہ گھٹا، ہلد ی لگی نہ پھٹکری رنگ چوکھا آگیا۔

    میراجی مشاعروں اور مجلسوں میں نہیں جاتے تھے۔ یوں بھی وہ بہت کم آمیز تھے اور بڑےآدمیوں سے ملنا تو عار سمجھتے تھے۔ بڑے آدمیوں کے بڑے پن کے وہ کبھی قائل نہیں ہوئے اور کسی سے مرعوب ہونا تو وہ جانتے ہی نہیں تھے ۔ افسروں کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ یہ دفتر میں تو افسر ہوتے ہی ہیں دفتر کے باہر بھی افسر ہی بنے رہنا چاہتے ہیں ۔ دفتر کے ہوٹل تک میں ان کی کرسیاں مخصوص ہیں ۔ بخاری کی کرسی پر بیٹھنا سوءِ ادب ہے، ادبی مجلسوں میں صدر مقام ان کے لیے خالی رکھے جاتے ہیں ۔ افسر ہر جگہ افسر ہی بنا رہتا ہے۔ آدمی کبھی نہیں بنتا۔

    میراجی کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ سنا ہے کہ لاہور کی دیال سنگھ لائبریری وہ چاٹ چکے تھے۔ دِلی آ کر ان کے مطالعے کا شوق غرقِ مئے ناب ہو گیا تھا۔ نثر کی کتابوں میں الف لیلہ کے عاشق تھے۔ اردو صحیح بولتے تھے اورصحیح لکھتے تھے۔ غلطی کی پچ  کبھی نہ کرتے تھے۔ عروض سے خوب واقف تھے اور جملہ اصنافِ شعر پر حاوی ۔ ایک دفعہ ایک سٹیشن ڈائر یکٹر نے ان کے کسی مصرعہ پر اعتراض کیا کہ ناموزوں ہے ۔ اسے تو تقطیع کر کے بتا دیا کہ نا موزوں نہیں ہے، باہر نکل کر کئی دن تک اسے گالیاں دیتے رہے کہ یہ اپنے آپ کوافسرتو سمجھتا ہی ہے شاعر بھی سمجھنے لگا۔ میرا جی میں چاپلوسی کی عادت بالکل نہیں تھی۔ اور افسروں کا آگا تاگا لینا بھی وہ سخت معیوب سمجھتے تھے۔ افسروں میں راشد کے بہت گرویدہ اور مداح تھے یا پرمحمودنظامی کے۔ راشد نے میر اجی کو بہت نبھایا۔ اس وقت بھی جب کہ مجھ سمیت سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔

    شراب کی لت خدا جانے میر اجی کو کہاں سے لگی؟ جب لاہور میں انہیں تیس  روپے ملتے تھے تب بھی وہ پیتے تھے اور جب دِلی آئے اور پانچ گنی تنخواہ ملی تو اور زیادہ پینے گے۔ پہلے رات کو پیتے تھے، پھر دن کو بھی پینے لگے، پھر ہر وقت پینے لگے۔ سوڈا یا پانی ملانے کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔ یونہی بوتل سے منہ لگا کرغٹاغٹ چڑھاجاتے تھے۔ جب ریڈیو سٹیشن پرآتے تو ایک ہاتھ میں کا پیاں اور کتا ہیں ہوتیں اور دوسرے میں اٹا چی کیس ۔ اس میں بوتل رکھی رہتی تھی ۔ ذرا دیر ہوئی اور کہیں جا کر پی آئے۔ اس شراب نے میرا جی کو تباہ کر دیا اور ان میں وہ تمام خرابیاں آتی گئیں جو بالآخر ان کی اخلاقی موت کا باعث بن گئیں ۔ ادھر تنخواہ ملی اور ادھر قرض خواہوں اور شراب میں ختم ۔ پھر ایک ایک سے ادھار مانگا جا رہا ہے۔ میرا جی کے قدردانوں نے انہیں سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہیں مانے اور گرتے ہی چلے گئے ۔ پھر یہ نوبت آئی کہ قرض ملنا بند ہو گیا۔ انہوں نے اپنے مضامین اور نظموں کی کتابیں مرتب کر کر کے بیچنی  شروع کیں۔ اس میں مجھ سے سابقہ پڑا۔ ایک کتاب لے لی، دو لے لیں گھر پر ہر مہینے یا دوسرے مہینے ایک مجموعہ لے کر پہنچ جاتے۔ میں انکار کرتا اور وہ اصرار۔ میں انہیں سمجھا تا کہ ’’میرا جی میں آپ کی کتا بیں نہیں چھاپ سکتا، میرے پاس بیسیوں مسودے خریدے ہوئے رکھے ہیں، ان کے چھپنے کی نوبت بھی نہیں آتی ، کاغذ نایاب ہے۔ مگر وہ کچھ ایسے بہانے تراشتے کہ مجھے مجبور ان سے مسودہ خریدنا پڑتا۔ کبھی باپ کی بیداریکی خبر سناتے،کبھی بھائی کی تعلیم کی مجبوری بیان کرتے، کبھی کہتے والد کی آنکھیں جاتی رہیں، آپریشن ہو گا۔ میں انکار کرتا تو اتنے ہراساں ہوتے کہ ان پر ترس آنے لگتا۔ کئی دفعہ انہیں یہ بھی سمجھایا کہ میراجی آپ اپنے مسودے مجھے سستے دے جاتے ہیں ۔ آپ کسی اور کو دیجیے تو روپے بھی زیادہ ملیں گے ،مگر انہیں ضد تھی کہ نہیں میں کسی اور کواپنی کتاب نہیں دوں گا ۔ میں نے ان سے ایک ایک کر کے آٹھ مسودے لیے جن میں سے صرف تین شائع ہو سکے ۔ باقی دِلّی برد ہوئے آخری قسط جب انہوں نے روپوں کی مجھ سے مانگی تو میں نے پوچھا اب کون سا مسودہ باقی رہ گیا۔ کہنے لگے ”باتیں‘‘ جو ساقی میں لکھ رہا ہوں ، یہ بھی کبھی ایک کتاب ہو جائے  گی‘‘ ۔ بہت حیل حجت کے بعد میں نے انہیں اس شرط پر روپے دیئے کہ آئند ہ و ہ مجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگیں گے۔ مگر اس کے بعد پھر انہیں روپے کی ضرورت ہوئی تو میں نے صاف انکار کر دیا اور انہیں کچھ سخت سست بھی کہا۔ بہت افسردہ اور نادم ہوئے  ، کہنے لگے ’’الف لیلہ‘‘ کا ایک نایاب نسخہ بیس  جلدوں میں بک رہا ہے۔ ایک ناقدرے کا دادا مر گیا ہے کتب خانے کی کتابیں اونے پونے بیچ رہا ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ وہ جلدیں اپنے پاس گروی رکھ لیجیے اور ڈیڑھ سو روپے مجھے دے دیجئے ۔ میں آپ کو روپے دے کر کتابیں آئندہ چھٹرالوں گا‘‘۔ میں نے کہا: ” یک نہ شد دو شد ‘‘بھائی میں گروی گانٹھا نہیں کرتا ، مجھے تو تم معاف ہی کرو کیوں رہی سہی دوستی پر پانی پھیرتے ہو؟ میں تمہارا کتنا بڑا قدردان ہوں ۔اب مجھے اس پر تو مجبور نہ کرو کہ مجھے تم سے نفرت ہو جائے‘‘۔ یہ بات کچھ ان کی سمجھ میں آگئی اور وہ خاموش چلے گئے ۔بس اس کے بعد میرا جی نے مجھ سے کچھ نہیں مانگا اور نہ کوئی مسودہ لے کر میرے پاس آئے ۔ویسے ان سے جب تک وہ دِلّی میں رہے برابر ملنا جلنا ہوتارہا اور اکثر گھر بھی آجاتے تھے۔

    کتابوں کی قیمت کے بارے میں ان کی ایک خاص مت تھی ۔ مثلاً میں نے کہا یہ کتاب تو بہت چھوٹی ہے، اس کے میں دوسو روپے سے زیادہ نہیں دوں گا، تو وہ کہتے ’’ دوسو بالکل ٹھیک رقم ہے، بائیس روپے دو آنے اور دو پائی اور بڑھا دیجئے تا کہ رقم ہموار ہو جائے ۔ یعنی دوسو بائیس روپے دو آنے ، دو پائی‘‘ اسی طرح ان کی سب کتابوں کی قیمتیں تجویز کی گئی تھیں ۔ ٣/ ٣/ ٣٣٣۔ ٤/ ٤/ ٤٤٤۔ ٥/٥/٥٥٥روپے اور ’’اجنتے کے غار ‘‘جو ان کی نظموں کا دوسرا مجموعہ تھا۔ اس کی قیمت٦/ ٦/ ٦٦٦روپے دی گئی تھی۔

    میرا جی بڑے گندے آدمی تھے۔ وہ ان میں سے تھے جو کہتے ہیں کہ یا نہلائے دائی یا نہلائیں چار بھائی ۔ انہیں بھی کسی نے نہاتے نہیں دیکھا، بلکہ منہ دھوتے بھی نہیں دیکھا، بال کٹوانے کے بڑے چور تھے۔ وحشیوں کی طرح ہمیشہ بڑھے رہتے اور ان میں کبھی تیل نہ ڈالتے اور نہ انہیں بناتے۔ جب دِلی آئے تھے تو مونچھیں بھی مونڈ ڈالی تھیں ایک دفعہ جانے دل میں کیا سمائی کہ چار ابرو کا صفایا کر کے گلے میں سادھوؤں کی سی کنٹھی بھی ڈال لی تھی ۔ ہمیشہ سنجیدہ صورت بنائے رہتے تھے، انہیں قہقہہ مار کر ہنستے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ باتیں اکثر ہنسنے ہنسانے کی کرتے مگر خود کبھی نہ ہنستے تھے ۔ بہت خوش ہوئے تو خنده ٔدندان نما فرمایا ۔ ان کے غچلے پن سے بڑی گھن آتی تھی۔ مگر یہ ان گھناؤنی چیزوں میں سے تھے جنہیں اپنے سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی قلندرانہ اور حرکتیں مجذوبانہ۔ دو چار آدمیوں نے مل کر ایک کمرہ کہیں باڑے کی طرف لے رکھا تھا مگر رات کو اگر کہیں گھاس میں پڑر ہے تو وہیں سو گئے اور اگر پٹری پر لیٹ گئے تو و ہی صبح  ہوگئی ۔ ایک دو دن نہیں برسوں یہی حال رہا۔

    شراب کے نشے میں میراجی کورونے کی دھن سوار ہو جاتی تھی اور وہ ایسے بے سدھ ہو جاتے کہ تن بدن کا بھی ہوش نہ رہتا۔ ایک دن ہم موری دروازے کے پل پر سے آرہے تھے۔ جب نہر سعادت خان کے سینما کے آگے پہنچے تو دیکھا کہ ایک مجمع سڑک پر لگ رہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ایک آدمی ڈاڑھیں مار کر رو رہا ہے اور دو ایک اسے سڑک پر سے اُٹھارہے ہیں ۔ ہم نے سوچا کوئی حادثہ ہو گیا ہے۔ بے چارے کے سخت چوٹ آئی ہے، اسے فوراً ہسپتال بھیجنا چاہیے۔ اتنے میں اخلاق نے گھبرا کر کہا: ”بھائی شاہد! یہ  تو میرا جی ہیں!‘‘ اور میرا جی سڑک پر پڑے سورہے تھے اور بڑ بڑا بھی رہے تھے۔ مگر زبان قابو میں نہیں تھی  کہ بات سمجھ میں آتی ۔ ایک صاحب جو انہیں اٹھانے کی کوشش کررہے تھے وہ بھی جاننے والے ہی تھے۔ ہمیں دیکھ کر ان کی جان میں جان آئی۔ جھٹ ایک تانگہ منگا کر سب نے اٹھا کر میر اجی  کو تانگے میں ڈالا مگروہ پھسل کر نیچے  آرہے ۔ دوباره انہیں آگے کی سیٹ پر ڈالا اور اخلاق کو ساتھ بھیجا کہ ان کے گھر پہنچا کر آئے ۔ اگلے دن اخلاق نے بتایا کہ میراجی اپنی اماں کے لیے رورہے تھے۔

    یہ  اخلاق احمد ریڈیواناؤنسر تھے اور میراجی کے بڑے مداح ، میراجی نے اپنی ایک کتاب بھی ان کے نام معنون کی ہے۔ دونوں میں بہت اخلاص تھا۔

    ایک دن ان کے چند دوست انہیں  گھیر گھار کر ایک نستعلیق طوائف کے کمرے پر لے گئے۔ وہاں کچھ گانا سنا، کچھ شراب پی اور بہکنے لگے۔ زینے سے اتر کر سڑک پر آئے تو حالت اور بھی خراب ہوگئی ۔ سڑک پرلوٹنا اور چیخیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ نظموں کا دوسرا ضخیم مجموعہ مسودے کی شکل میں ان کے پاس تھا اسے اس بری طرح اچھالا کہ رات کے اندھیرے میں اس کا ایک ورق بھی کسی کے ہاتھ نہ آیا۔ دوستوں نے جوان کی یہ حالت دیکھی تو گھبرا گئے ۔ لا کھ انہیں چمکا را پچکارا مگر وہ اپنے اوسانوں میں نہ آئے ۔ اتنے ہی میں پولیس کے چند آدمی گشت کرتے آگئے ۔ دوست بے چارے سب دم بخود ہو گئے کہ اب آوارہ گردی میں سب کے سب بند ہوتے ہیں ۔ بھلا رات کے بارہ بجے اس بد نام بازار میں اور اس حالت میں دیکھ کر کون چھوڑے گا؟ مگر اخلاق احمد کے حواس قائم رہے۔ ہمت مردانہ تو ان کی بھی جواب دے چکی تھی ۔ مگر جب پولیس والوں نے ٹوکا تو اس نے جرأت رندانہ سے کام لے کر کہا:’’بیچارے کی ماں مرگئی ہے ‘‘یہ کہہ کر میرا جی کو سمجھانے لگا کہ ’’ماں باپ سدا کسی کے جیتے نہیں رہتے۔ صبر کرو صبر ، چلو اٹھو ، کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا۔ ارے بھئی تم تو بڑے بودے نکلے ۔ بچوں کی طرح رو رہے ہو، لو چلو اٹھو اور ہاں سنتری جی کوئی تانگہ ملے تو ادھر بھیج دینا‘‘۔ خدا خدا کر کے آئی بلاٹلی اور سب کی جان میں جان آئی ۔ نظموں کے دوسرے مجموعے کے ساتھ اس مہینے کی تنخواہ کا بقایا بھی میرا جی  اسی بازار میں اچھال آئے۔ چلو۔

    جان بچی لاکھوں پائے

    خیر سے بدھو گھر کو آئے

    صبح  انہیں کبھی بھی یا نہیں رہتا تھا کہ رات کو اپنی جان اور دوستوں پر کیا مصیبت توڑچکے ہیں۔

    ایک دن ریڈیو سٹیشن پر میرا جی کو دیکھا کہ جگہ جگہ سے ان کا منہ سوجا ہوا ہے اور سارےچہرے پر زخم  اور نہٹے لگے  ہوئے ہیں ۔ میں نے گھبرا کر پوچھا ’’میرا جی کیا کہیں گر پڑے ‘‘ بولے: ’’نہیں مجھے مارا ہے‘‘آپ کو کیوں مارا؟ آپ  تو لڑ نا جانتے ہی نہیں، کہنے لگے ’’مجھے سوتے میں مارا ہے، اس نے‘‘ کس نے؟’’میراشبہ ہے ایک آدمی پر‘‘ اور آج تک معلوم نہ ہو سکا کہ اس بے ہوش آدمی کو کس ملعون نے مارا تھا۔ میرا جی کو زیادہ جاننے والوں میں سے بعض یہ بھی کہتے تھے کہ اس نے خود نشے میں اپنے آپ کو مارا ہے۔واللہ عالم بالصواب۔

    میرا جی پراسراریت اور حیرت کے قائل تھے۔ ان کی شخصیت بھی ان کی شاعری کی طرح پراسرار تھی۔ وضع قطع، لباس اور باتوں سے تو وہ پراسرار نظر ہی آتے تھے وہ حرکتیں بھی کچھ ایسی کرتے تھے کہ لوگ انہیں حیرت سے دیکھیں۔مثلاً ایک زمانے میں مرغی کے انڈے کے برابر لوہے کا گولا ہاتھ میں ہر وقت رکھتے تھے اور کوئی پوچھتا تھا کہ یہ کیا ہے تو کچھ نہ بتاتے تھے۔ پھر ایک کے دو گولے ہو گئے تھے اور یہ خاصہ ڈیڑھ پاؤ کا بوجھ خواہ مخواہ اٹھائے پھرتے تھے اس کے بعد ان گولوں پر سگریٹ کی پنی چڑھائی جاتی تھی۔ لکھنؤ میں جب میں نے انہیں آخری بار راشد صاحب کے ہاں دیکھا تو گولے ان کے پاس نہیں تھے۔

    کھانے میں میٹھا اور نمکین ملا کرکھاتے تھے اور دیکھنے والے یہ چہ میگوئیاں کرتے تھے۔ بعض جو انہیں جانتے تھے انہیں ’’باؤلا‘‘ کہتے تھے منٹو انہیں فراڈ کہتا تھا۔

    آواز بہت عمدہ اور بھاری پائی تھی۔ ریڈیو پر اکثر ڈراموں میں بولتے تھے۔ پنجاب کے رہنے والے تھے مگر ان کی زبان یا ان کا لہجہ چغلی نہیں کھاتا تھا ۔ انگریزی کی استعدادا علىٰ درجے کی تھی مگر جہاں تک ممکن ہوتا بولنے سے گریز کرتے ۔ موسیقی سے دلچسپی تھی۔ راگ جے جے ونتی سنتے تو وجد طاری ہو جاتا اور سر پھوڑنے لگتے۔ سمجھتے خاک نہ تھے۔

    مذہب سے میرا جی کو کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ہندوصنمیات سے انہیں شغف تھا۔ اسی کا رچا پچا تصور ان کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔ بس مسلمان اس لیے تھے کہ ایک مسلمان کے ہاں پیدا ہو گئے تھے۔ جوشخص اخلاقی ضابطوں کی پابندی کرنا بھی ضروری نہ سمجھتا ہو وہ بھلا مذہبی قید و  بند کو کیسے گوارا کر لیتا؟ میرا جی کے تو دل اور دماغ دونوں ہی کافر تھے۔

    میرا جی جنسی اعتبار سے ایک گنجلک تھے۔ ابتداً انہیں  عورتوں سے رغبت تھی اور یہ کوئی ہندولڑ کی ’’میرا‘‘ ہی تھی جس کی ناکام محبت میں اپنانام انہوں نے’’ میرا جی‘‘ رکھا تھا ورنہ اصلی نام تو ان کا ثناء اللہ تھا۔ خدا جانے استمنا بالید کا انہیں چسکا کہاں سے لگا کہ جیتے جی نہ چھوٹا اور انہیں کسی جوگا نہیں رکھا۔ وہ اسے فخر یہ بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کی بدولت میری سب تمنا ئیں پوری ہو جاتی ہیں ۔ آپ ایک ایک کا منہ تکتے ہیں اور دل میں حسرت لئے رہ جاتے ہیں۔ میں کسی کو دیکھتا ہوں تو اس کا لطف بھی حاصل کر لیتا ہوں ۔ ایک دن اپنے ایک اہم مذاق سے تعارف کرایا تو یہ کہہ کر کہ ’’یہ بھی دستکار ہیں‘‘ ان سے جب کہا گیا کہ یہ تو بڑی غلط چیز ہے تو جواب ملا کہ میں سائنٹفک طریقے کا دستکار ہوں ۔ اس میں کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور دستکاری میں انہیں اتنا غلوتھا کہ قید مقام سے بھی گزر چکے تھے۔ ان کے پتلون کی بائیں جیب تو بنی ہوئی تھی مگر جیب کا کپڑاغائب تھا۔

    میراجی کی سیرت میں بیسیوں خرابیاں آگئی تھیں لیکن طبعاً وہ ایک شریف انسان تھے، دوستوں کے لیے دامے، درمے، قدے، ہرطرح خدمت کرنے کو تیار رہتے تھے۔ دانشوروں کے ایک خاص طبقے میں ایک صاحب نے ایک مضمون پڑھا جو پوری اُردو شاعری پر حاوی تھا۔ اس مضمون کی بہت تعریف ہوئی ۔ اچنبھے کی بات کی تھی کہ صاحب مضمون یوں تو پڑھے لکھے تھے لیکن انہیں ادب وشعر کا کوئی خاص ذوق نہیں تھا۔ ہمارا ماتھا وہیں ٹھنکا تھا کہ یہ مضمون ان کا نہیں ہوسکتا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مضمون میرا جی کا لکھا ہوا تھا۔ شروع شروع میں جب ان کی شراب نہیں بڑھی تھی وہ روپے پیسے سے بھی بعض دوستوں کی مددکرتے تھے۔ تنخواہ میں سے کچھ پس انداز کر کے اپنے والد اور چھوٹے بھائی کو بھی کچھ بھیجا کرتے تھے اور یہ چھوٹے بھائی وہی صاحب تھے جنہوں نے میرا جی کی تمام نظمیں چند پیسوں میں بیچ  ڈالی تھیں ۔ ہوا یہ کہ انہوں نے سارے گھر کی ردی کسی پھیری والے کے ہاتھ دو تین آنے سیر کے حساب سے بیچی  اور اس میں میراجی کی وہ دو ضخیم کاپیاں بھی تول دیں جن میں ان کی نظمیں لکھی ہوئی تھیں ۔ میرا جی نے لاہور کے تمام ردی بیچنے والے چھان ڈالے مگر وہ مجموعے نہ ملنے تھے نہ ملے ۔ اس کا انہیں بے حد رنج پہنچا، اتنا کہ انہوں نے اپنا گھر اور اپنے عزیزوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا۔ جس گھر میں ان کے ہنر کی یہ تو قیر ہو وہ وہاں کیسے رہ سکتے تھے اور جن کے ہاتھوں ان کے حاصلِ عمر کا یہ حشر ہو بھلا وہ ان سے ملنا کیسے گوارہ کر سکتے تھے؟ گھر تو گھر انہوں نے لا ہور ایسا چھوڑا کہ پھرکبھی ادھر کا رخ نہیں کیا۔

     میراجی کو میں نےکبھی کسی سے بدزبانی کرتے ہیں دیکھا۔ وہ کسی سے مذاق تک نہیں کرتے تھے۔ ان کا رکھ رکھاؤ ایسا تھا کہ کیا مجال جو کوئی ان سے ناشائستہ بات کرلے۔ ادب آداب ہمیشہ ملحوظ رکھتے ۔ ان کی بھونڈی وضع قطع پر بے تکلف دوست پھبتیاں کستے مگر وہ صرف مسکرا کر رہ جاتے اورکبھی الٹ کر کوئی سخت جواب نہ دیتے۔ اس سے یہ ہوتا کہ معترض خود شرمندہ ہو جاتا۔

    عجیب بات میراجی میں یہ تھی کہ ان کی جملہ خرابیوں کے با وجود سب ان کی عزت کرتے تھے۔ انہیں دیکھ کر اندر سے دل کہتا تھا کہ یہ ایک عظیم انسان ہے اور عزت و احترام کا مستحق۔ نہ جانے اس شخص میں کیا بات تھی کہ اتنی نفرت انگیزیوں کے باوجود دل اس کی طرف کھنچتا تھا۔ ایسا مقناطیسی شخصیت کا انسان میں نے کوئی اور نہیں دیکھا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ انہوں نے بھی اپنے عیبوں کو نہیں چھپایا اور نہ کبھی اپنی خوبیوں کو سراہا۔ ریا کاری ان میں نام کونہیں تھی ۔ ان کے لیے خلوت اور جلوت دونوں ایک تھے۔ اخلاقی قدریں اضافی تو ہوتی ہی ہیں ۔ ان کے نزدیک مروجہ اخلاق کی کوئی حیثیت نہیں تھی بلکہ وہ انہیں برا سمجھتے تھے اور ان کی تحقیر کرتے تھے۔ یا شاید انہوں نے انتقاماً ظا ہر کوتج  دیا تھا اور ان کا باطن ہی ظاہر بن گیا تھا اور شاید یہی ان کی عظیم شخصیت کا راز ہو۔