جاوید صدیقی

جاوید صدیقی

ایک تھے بھائی

    ایک تھے بھائی

    جب بھی کوئی غریب بچہ یتیم ہو جاتا ہے تو عزیز ، رشتے دار، پڑوی، ملنے جلنے والے، سب کے سب ایک ہی سوال کرنے لگتے ہیں: ’’ہائے، اب اس معصوم کا کیا ہوگا ؟‘‘

    میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ابو کو جیل ہوگئی تھی ۔ وہ پکے سیاسی آدمی تھے مگر افسوس کہ ایمانداربھی تھے۔ سوشلسٹ تھے، آچاریہ کر پلانی کو گرو مانتے تھے اور حسرت موہانی کو اپنا آئیڈیل ۔ انہوں نے اپنی تقریروں میں کچھ ایسی باتیں کہہ ڈالیں جو اس وقت کے فرماں رواؤں کو اچھی نہیں لگیں۔ آزآدمی نئی نئی ملی تھی ۔ وہ سب جو بھی آزآدمی کے مجاہد تھے، اس کے محافظ بنانے کے بجائے اپنی غیر متوقع کامیابی کے نشے میں جھوم رہے تھے، اور پہلی دھار کی شراب کتنی تیز ہوتی ہے، یہ بات پرانے پینے والے ہی جانتے ہیں ۔ تازه واردان بساطِ ہواےدل کو کیا معلوم ۔ اب ایسی نگین محفل میں اگر کوئی سر پھرا کھڑا ہو جائے اور چلانے لگے کہ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے، بند کرو یہ بندر بانٹ ۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ جشن منایا جائے ۔ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں...‘‘ تو کسے اچھا لگے گا!اس کی سزا یہی ہے کہ اس کا منہ بند کر دیا جائے اور وہ پھر بھی خاموش نہ ہو تو اسے جیل کی کسی ایسی کوٹھری میں ڈال دیا جائے جہاں اس کی آواز سلاخوں سے سرنکرا کے زخمی  ہوتی رہے اور ایک دن دم توڑ دے۔

     ابو کو گیارہ مہینے تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ انہوں نے ایسا کون سا جرم کیا ہوگا جس پر نہ کوئی مقدمہ چلا ، نہ فردِ جرم عائد ہوئی مگر Preventive Detention Act ( احتیاطی نظر بندی کے نام نہاد قانون) کے تحت ان کو نظر بند رکھا گیا اور وہ تمام اذیتیں دی گئیں جو سیاسی قیدیوں کو تو چھوڑیے، عام مجرموں کو بھی نہیں دی جاتیں۔ جب وہ باہر نکلے تو سب کچھ بدل چکا تھا ، سواے ان کی بڑی بڑی مغرور آنکھوں کے جو کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی تھیں ۔ وزن کم ہوکےتقریباً پچاس کلو رہ گیا تھا، گالوں کی ہڈیاں نکل آئی تھیں ، سر کے بال بہت کم ہو گئے تھے اور رنگ اتنا پیلا تھا جیسے سہ پہر کی دھوپ جم گئی ہو۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ چپ ہوگئے تھے۔ اخبار والوں سے لے کر گھر والوں تک سبھی نے ان سے جاننا چاہا کہ جیل میں ان کے اوپر کیا بیتی ، اور جو کچھ بیتی اس کا ذمے دار کون ہے، مگر انہوں نے کبھی کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ کبھی کبھی تو لگتا تھا کہ یہ خاموشی ہی ان کا جواب ہے۔

     ہمارے حالات تو ایسے تھے ہی نہیں کہ کسی بڑے ڈاکٹر کو دکھایا جاتا ۔ خدا بھلا کرے حکیم سید ذوالفقارحسنین کا، جو  پڑوسی بھی تھے اور ہمدردبھی ۔ دوسرے تیسرےدن آ کر دیکھ جایا کرتے تھے، کچھ دو ائیں لکھ دیتے تھے اور کچھ اپنے پاس سے دے دیا کرتے تھے۔ مگر ابو میری آنکھوں کے سامنے پگھلتے چلے گئے اور کچھ ہی مہینے بعد ایک دن جب فجر کی اذان ہورہی تھی، انہوں نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور پھر وہ مغرور آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔

    ابو کی موت کے بعد سب لوگ جس طرح مجھے دیکھتے تھے، اس سے چڑ ہونے لگی تھی۔ ہر نظر ترس کھاتی ہوئی دکھائی دیتی تھی اور ہر ہونٹ افسوس کرتا ہوا سنائی دیتا تھا۔ جب بھی کوئی بزرگ سر پر ہاتھ پھیرتا تو ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ ہاتھ بول رہا ہو:’’ہائے ، اب اس معصوم کا کیا ہوگا؟‘‘

    صرف ایک گھر ایسا تھا جہاں بے مطلب افسوس اور بے معنی ہمدردی کی برسات نہیں ہوتی تھی، مگر وہ گھر شہر سے بہت دور تھا۔ پھر بھی جب دل بہت گھبرانے لگتا تو دو آنے گھنٹے کی سائیکل کرائے پر لیتا یا کسی دوست سے مانگ لیتا اور قمر باجی کے گھر پہنچ جاتا۔

    ریلوے اسٹیشن کے بالکل سامنے ایک کچی  پکی سڑک ڈھلان پر اترتی ہوئی دکھائی دیتی تھی ۔ جہاں سے یہ سڑک شروع ہوتی تھی اس کے دونوں طرف آمنے سامنے دو دکانیں تھیں ۔ ایک ہندو حلوائی کی دکان ، جس پر پوری، کچوری، جلیبی  ، ربڑی اور گرم دودھ ہر وقت ملتا تھا، اور سامنے ایک مسلمان کا چائے خانہ تھا۔ پتھر کے کوئلوں پر ابلتی ہوئی چائے ، اس کے برابر ٹین کے کان لگے ہوئے میلے ڈبوں میں بسکٹ، نان کھتائی اور سینکے ہوئے ٹوسٹ، جنہیں  وہاں کی زبان میں پاپے کہا جاتا ہے۔ لکڑی کی گندی کالی بنچوں پر بیٹھے ہوئےلوگ اور کچھ اونگھتے ہوئے کتے۔ کسی ٹرین کے آنے یا جانے کا وقت ہوتا تو اس حصے میں تھوڑی سی ہلچل  دکھائی دیتی ور نہ ایک عجیب سی خاموشی چھائی رہتی۔

    سڑک کے دونوں طرف کچھ کھیت یا خالی میدان دکھائی دیتے۔ جن جگہوں پہ کھیتی نہیں ہوسکتی تھی وہاں کچھ عمارتیں بن گئی تھیں جن میں سے کبھی کبھی کچھ چہرے بھی جھانکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔

    یہ سڑک ایک بڑے سے گیٹ پر جا کر ختم ہوتی تھی، جس کے اوپر ایک بورڈ نیم دائرےکی شکل میں لگا ہوا تھا۔ اس پر انگلش میں لکھا تھا: ’’رامپور رضا شوگر فیکٹری لمیٹڈ‘‘۔ کالے بورڈ پر سفید حروف بہت سی برساتیں جھیلتے جھیلتے دھندلے ہو گئے تھے۔ بورڈ کے بالکل نیچے پتھر کی ایک بنچ بنی ہوئی تھی جس پر خاکی وردی پہنے کبھی ایک موٹا مونچھوں والا بوڑھا دکھائی دیتا اور کبھی ایک مریل سالڑکا۔ بنچ  کے پیچھے ہی واچ مین کا کیبن تھا جس کے دروازے پر ایک گندا سالال انگوچھا ہمیشہ لٹکا رہتا تھا۔ فیکٹری کئی کلو میٹر میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس گیٹ سے فیکٹری کے اندر تک تمام سڑکیں سیمنٹ کی بنی ہوئی تھیں جس پر مٹی تو نہیں ہوتی تھی مگر چاروں طرف سے اڑ کر آنے والی ریت جوتوں کے نیچے آکر شور مچاتی رہتی تھی۔ گیٹ کے دونوں طرف دور تک ملازمین کے کوارٹرز تھے۔ سامنے کی طرف بچوں کے کھیلنے کے میدان کے پیچھے کمپنی کے دفاتر تھے اور اس کے پیچھے وہ پلانٹ جس میں شکر بنائی جاتی تھی۔

    فیکٹری کے بیچوں بیچ سے ایک تین فٹ چوڑی ریلوے لائن گزرتی تھی جس پر اکثر ایک ننھا منا سا انجن اپنے چھوٹے چھوٹے چھوٹے ڈبوں کو کھینچتا ہوا دکھائی دیتا تھا، جن پر گنا لدا ہوتا تھا۔ یہ مال گاڑی ان دیہاتوں سے گنا لے کر آیا کرتی تھی جہاں سے ٹرک اور بیل گاڑی کے ذریعے آمدورفت آسان نہیں تھی۔

    فیکٹری میں گھستے  ہی دو چیزیں بڑھ کر استقبال کرتی تھیں۔ ایک تو گنے کے ابلتے ہوے رس کی تیز بو، اور دوسری گنے کی جلی ہوئی کھوئی کے کالے کالے ریشے جو ہوا میں اڑتے رہتے تھے اور سفید کپڑوں کے سخت دشمن تھے اور کبھی اپنانشان چھوڑےبغیر نہیں جاتے تھے۔

     گیٹ سے گھستے  ہی دائیں طرف چوتھا کوارٹر باجی کا تھا۔ ایک چھوٹا سا پکا صحن جس کے ایک طرف پاخانہ، غسل خانہ اور باورچی خانہ بنا ہوا تھا اور سامنے ایک مختصر سا دالان تھا جس میں دو کمرے تھے۔ ان دونوں کمروں کی کھڑکیاں فیکٹری کے باہر پھیلے ہوئے کھیتوں کی طرف کھلتی  تھیں۔

    گھر میں گھستے ہی جس چیز پر سب سے پہلے نظر پڑتی تھی وہ ایک گائے تھی جو دروازے کے بالکل سامنے کھونٹے سے بندھی رہتی تھی۔ مجھے وہ گائے کبھی پسند نہیں آئی ۔ ایک تو اتنے چھوٹے سے گھر کے اندر اتنابڑا جانور ، اور وہ بھی ایسا جو دن بھر کھانے اور گندگی کرنے کے سوا کچھ نہ کرے ۔مگر بھائی کا خیال تھا کہ اگر پانچ بچوں کے لیے بازارسے دودھ لیا جائے تو ان کی تھوڑی سی تنخواہ برداشت نہ کر سکے گی، اس لیے:

    رب کا شکر ادا کر بھائی

    جس نے ہماری گائے بنائی

     وہ گائے جیسی  بھی تھی مگر بچوں کے دودھ اور باجی  کی چائے کا مکمل کر دی تھی۔

    باجی تھیں تو میری پھوپھی زاد بہن مگر محبت کے معاملے میں کسی بھی سگی بہن کو پیچھے چھوڑ سکتی تھیں۔ سکتی تھیں کیا مطلب سکتی ہیں کہنا چاہیے، کیوں کہ باجی ماشاء اللہ حیات ہیں اور ان کی محبت و شفقت میں وقت کے ساتھ اور اضافہ ہوگیا ہے۔

    میں جب بھی فیکٹری پہنچتا، باجی عام طور پر کسی موٹی سی کتاب میں کھوئی ہوئی پائی جاتیں۔ کتا بیں ان کی بہت بڑی کمزوری تھیں۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ پتیلی چولھے پہ ہوتی ، ایک ہاتھ چمچہ چلاتا ہوتا اور دوسرا ہاتھ کتاب کے ورق الٹتا ہوتا۔ باجی جب بھی مجھے دیکھتیں، ان کا سانولا چہرہ کھل اٹھتا، ایک بڑی سی مسکراہٹ دور تک پھیل جاتی۔ وہ احتیاط سے کتاب کے بیچ میں کوئی نشان رکھتیں، اسے بند کرتیں اور علیک سلیک سے پہلے پوچھتیں :”چائے پیو گے؟‘‘ مجھ سے پوچھنا تو ایک بہانہ تھا، اصل میں چائے باجی کی دوسری کمزوری تھی۔ ان کا بس نہیں چلتا تھاور نہ ان کی تصویر یوں بنتی کہ ایک ہاتھ میں کتاب ہوتی اور دوسرے میں چائے کا پیالہ۔ اور چائے بھی کوئی ایسی ویسی نہیں ، گھر کی گائے کا خالص دودھ جسے رامپوروا لے ’’تھن تلے کا دودھ‘‘  کہتے ہیں، یعنی وہ دودھ جس میں پانی کی ایک بوند بھی نہ ملی ہو۔ اس میں چائے کی پتی ڈالی جاتی اور اس قدر ابالا جاتا کہ دودھ کا رنگ گرمی میں تپتی ہوئی کسی حسینہ کے گالوں جیسا ہو جاتا ۔کبھی کبھی اس میں الا ئچی بھی ڈال دی جاتی تا کہ ذائقے میں خوشبوبھی شامل ہوجائے ۔ ہم دونوں چائے کے بڑے بڑے مگ بھر کے آمنے سامنے بیٹھ جاتے اور گپیں مارتے۔ چوں کہ باجی  کی طرح مجھے بھی پڑھنے کا بہت شوق تھا اس لیے زیادہ تر باتیں تو کتابوں کے اوپر ہی ہوتیں، کبھی کبھی اِدھر اُدھر کی باتیں بھی کرلیا کرتے۔ یہ سلسلہ اسی طرح ابو کے انتقال کے بعد بھی جاری رہا۔ باجی نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتیں، نہ ان کی آنکھوں میں وہ ہمدردی دکھائی دیتی جس سے مجھے گھن آنے لگی تھی۔ وہ مجھ سے نارمل آدمیوں کی طرح نارمل باتیں کرتیں: دنیا کی باتیں، کتابوں کی باتیں ، کھانے پینے کی باتیں ۔ انہوں نے مجھ سے وہ ذلیل سوال کبھی نہیں کیا کہ اب کیا ہوگا اور تم کیا کرو گے؟ مگر ان کے شوہر ایسے نہیں تھے۔ وہ حاجی شجاعت علی یا داڑھی والے شجاعت کہلاتے تھے، کیوں کہ میرے والد کا نام بھی شجاعت تھا اور دونوں قریبی رشتے دار تھے اس لیے تخصیص ضروری تھی۔ ان سے جب بھی سامنا ہوتا ، وہ اپنی ٹوپی اور شیروانی اتارتے اتارتے پوچھ ہی لیتے ،’’ہاں بھائی ، تو کیا سوچا تم نے؟ کیا کرنے کا ارادہ ہے آگے؟‘‘اب میں انہیں کیا جواب دیتا۔ کیوں کہ مجھے خود ہی نہیں معلوم تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے، بلکہ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کرسکتا ہوں ۔ مجھے تو ایسا لگتا تھا کہ میں کر ہی کیا سکتا ہوں ؟ ایک ایسے یتیم بچے کے پاس، جس کے باپ کا کفن دفن بھی کچھ رشتے داروں کی مہربانی سے ہوا ہو، اس کے پاس آپشنز ہی کہاں ہوتے ہیں ۔ میں انہیں بھائی کہا کرتا تھا۔ چوں کہ دولہا بھائی کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا اور شجاعت بھائی کہنا یعنی ان کا نام لیا ادب کے خلاف تھا، اس لیے میں نے اختصار سے کام لے کر اسے بھائی بنادیا۔

    بہت بڑا سا سر، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، بہت سلیقے سے ترشی ہوئی گول داڑھی جس میں ایک دو سفید بال آ چکے تھے، ماتھے پر ایک بڑا سا کالا نشان جوان کے پنج وقتہ نمازی ہونے کا ثبوت تھا۔ ہمارے خاندان میں کہا جاتا ہے کہ بھائی نے کبھی کوئی نماز قضا نہیں کی ۔ نہایت دیندار آدمی تھے۔ مذہبی کتابوں اور قرآن مجید کے علاوہ کبھی کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ ہمیشہ شیروانی پہنتے تھے اور اسی کپڑے کی ٹوپی سر پہ ہوتی تھی ۔ شوگر فیکٹری میں کام کرتے تھے اور اس ننھی منی چھک چھک گاڑی کے ٹریک پروائزر تھے جو فیکٹری میں گنا لایا کرتی تھی۔

    میں بھائی کے پسندیدہ لوگوں میں سے نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا کہ میں بہت بدتمیز اور نہایت گستاخ ہوں اور دآدمی کے بیجا لاڈ پیار نے مجھے خراب کر دیا ہے۔ ان کی اس رائے کے پیچھے ایک دلچسپ مگر کسی حد تک افسوسناک کہانی ہے۔

    یوں ہوا تھا کہ کچھ برس پہلے بھائی کے پیر و مرشد تشریف لائے تھے۔ انہیں کپتان واجد علی خان کے وسیع اور شاندار دیوان خانے میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہوگی ، اور وہ دیوان خانہ اور اس کا کمپاؤنڈ ہم سب بچوں کے کھیلنے کا میدان تھا، جو تعداد میں ایک درجن کے قریب تھے اور میں جن کا سرغنہ تھا۔ پیرومرشد کی آمد پر دیوان خانے کے کمروں کے دروازے بندکر دیے گئے، برآمدے میں چقیں ڈال دی گئیں اور ہمیں وہاں کھیلنے سے منع کر دیا گیا۔ ہم سب بچے حیران تھے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ اس دیوان خانے میں تو بہت سے مہمان آئے اور بڑے بڑے لوگ ٹھہرائے گئے، مگر یہ کبھی اسی پردہ داریاں کی گئیں ، نہ پابندیاں لگائی گئیں۔

    ہم سب ایک کونے میں جمع ہوئے اور میٹنگ میں طے پایا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو یہ پتا لگائے کہ یہ چکر کیا ہے اور ہم بچوں کو ہمارے حقوق سے محروم کیوں کیا جارہا ہے۔ چناں چہ پانچ بچوں کا انتخاب کیا گیا جو سمجھ دار بھی تھے اور دوسرےبچوں سے بڑے بھی۔ دو بچوں کو عالیہ دادسی کی چھت پہ بھیجا گیا جہاں سے دیوان خانے کے تمام حصوں پر نظر رکھی جاسکتی تھی ۔ انہیں ہدایت کی گئی کہ چھت کے اوپر ذرا سی بھی آواز نہ کریں کیوں کہ عالی دآدمی کے کان بہت تیز ہیں ۔ چھت پر جیسے ہی بچے کے چلنے کی آواز سنتی ہیں ، چیخنا چلانا شروع کردیتی ہیں ۔ دو بچوں کو چاندنی کے پیڑوں کے جھنڈ میں چھپادیا گیا کیوں کہ وہ برآمدے کے بالکل سامنے تھا۔ امید یہ تھی کہ کبھی نہ کبھی تو کوئی پردہ ہٹے گا اور اندر کا منظر نظر آجائے گا ۔ اور میں خود اِدھر سے اُدھر چکر لگانے لگا۔ جب ایک بزرگ نے بھری دوپہر میں اس طرح اکیلے گھومنے کا سبب پوچھا تو میں نے عرض کیا ” با قی بچوں کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔ نہ جانے کہاں چھپ گئے ہیں ۔ شاید اندر ہوں گے۔‘‘ مگر ان بزرگ نے اندر جانے کی اجازت نہیں دی ۔ غصہ تو بہت آیا ۔ کوئی دوسرا وقت ہوتا تو انہیں ضرور سزا دینا، ان کے حقے کی منہ نال میں مٹی تو ضرور ہی بھر دیتا ،مگر مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ میں فی الوقت ٹل جاؤں اور بعد میں اپنی کوشش جاری رکھوں ۔ اس دن تو کوئی کامیابی نہیں ملی مگر دوسرےدن چاندنی کے پیڑوں میں چھے ہوئے جاسوسوں نے خبر دی کہ اندر کوئی لڑکی ہے جس کی وجہ سے یہ دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور چقتیں ڈال دی گئی ہیں۔ اب مشکل یہ تھی کہ اس لڑکی کو دیکھا کیسے جائے۔

    میری لیفٹیننٹ پروین نے یہ مسئلہ حل کر دیا۔ اس کے گھر کھیر بنی تھی ۔ وہ ایک پیالہ بھر کھیر لے آئی اور ہم چار پانچ شیطان چہروں پر معصومیت اور ہاتھ میں کھیر لے کر دھڑ سے اندر گھس گئے۔ سامنے مسہری پر پیر و مرشد نیم دراز تھے۔ نہایت گول مٹول آدمی تھے۔ چہرے پر داڑھی نہ ہوتی تو رگبی  کی گیند نظر آتے ۔ رنگ سرخ و سفید تھا۔ سر اور داڑھی کے بال اس قدر سفید تھے کہ کرتے پاجامے کے رنگ میں مل گئے تھے۔ ایک پتلی دبلی لڑکی، جو عمر میں میرے برابر کی ہوگی یا زیادہ سے زیادہ چودہ پندرہ کی ہوگی ، کافی شوخ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ان کے برابر بیٹھی تھی اور شاید ان کے سر میں تیل لگا رہی تھی ۔ ہمیں اندر گھستا دیکھ کر ووٹ کی گھبرا کر کھڑی ہوگئی ۔ پیرومرشد بھی سنبھل کر بیٹھ گئے اور تیز آواز میں بولے ”کیا ہے؟‘‘ پروین کانپ گئی۔ مجھے ایسا لگا جیسے اس کے ہاتھ سے تھالی گرجائے گی مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔جلدی سے تھالی اس کے ہاتھ سے لی اور بہت ادب سے آواز کو نیچا کر کے کہا:”جی یہ کھیر...مہرو پھو پھونے بھیجی ہے... اس کی امی نے۔“

    پیرومرشد کے چہرے کی سختی غائب ہوگئی ۔ انہوں نے دونوں ہاتھ اپنی طویل وعریض داڑھی پر پھیرے اور لڑکی کی طرف دیکھ کے بولے،’’ لے لو!‘‘میں نے کھیر لڑکی کی طرف بڑھآدمی۔ اس کھلتے ہوئےسانولے رنگ کی لڑکی کی آنکھیں مجھے آج بھی یاد ہیں۔ بہت بڑی بڑی آنکھیں تھیں اور کاجل سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کے بال بھی بڑے لمبے تھے جو لال رنگ کے چنے ہوئے دوپٹے کے ساتھ نیچے تک لنک رہے تھے۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں سونے اور کانچ کی بہت سی چوڑیاں بھری ہوئی تھیں ۔ وہ مسکرائی اور اس نے تھالی میرے ہاتھ سے لے لی۔ مشن کامیاب ہو چکا تھا۔ میں جانے کے لیے تیزی سے پلٹا تو دیکھا کہ میرےسارے بہادر ساتھی پہلے ہی غائب ہو چکے تھے۔

    دوسرے دن بھائی جب اپنے پیرومرشد کی قدم بوسی کے لیے آئے تو تھوڑی دیر کے لیے ہمارے گھر بھی آگئے ۔ کیوں کہ اس وقت تک ہماری حویلی نیلام نہیں ہوئی تھی اور دیوان خانے کے سامنے ہی تھی۔ میں نے پوچھا بھائی ،’’و ہ لڑکی کون ہے جو پیر صاحب کے ساتھ آئی ہے؟‘‘

    ’’کیوں؟ ‘‘انہوں نے پوچھا۔

    ’’ارے وہ تو میری عمر کی ہے، اس کو اتنے پردوں میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے ساتھ کھیلے گی تو بہت مزہ آئے گا۔‘‘

    ”وہ تم لوگوں کے ساتھ نہیں کھیل سکتیں۔ “

    ’’کیوں؟ ‘‘

    بھائی کے لہجے میں ذرا سی سختی آگئی۔’’ بدتمیزی مت کرو، وہ حضرت صاحب کی بیگم ہیں۔“

    میری عمر ضرور کم تھی مگر عقل کم نہیں تھی، اور پھر طرح طرح کی کتابیں پڑھ کے دنیا کے بارے میں کافی معلومات حاصل کر چکا تھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے کہا:”بیگم؟... ارے وہ پیر صاحب تواتنے بڈھے ہیں ، وہ اتنی چھوٹی سی بچی کے ساتھ شادی کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘

     بھائی کی آنکھیں غصے میں اور چھوٹی ہو گئیں ۔ انہوں نے جھلا کر کہا،’’ کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘

     ”وہ لونڈیا تو ان کی بیٹی کی بیٹی لگتی ہے‘‘، میں نے تڑ سے جواب دیا۔

    بھائی دانت پیس کر کھڑے ہو گئے ۔’’ تم بہت بدتمیز ہو، بہت زیادہ بدتمیز ...‘‘  وہ غصے میں تمتماتے ہوئے چلے گئے، اور پھر ایک زمانے تک کبھی سیدھے منہ بات نہیں کی ۔ اصل میں غلطی سے میرا ہاتھ ان کی دکھتی رگ پر لگ گیا تھا۔ جب ان کے حضرت نے اپنی عمر کی پروانہ کرتے ہوئے اپنے ایک مرید کی نابالغ بیٹی کو اپنے نکاح میں لے لیا تو بہت سے مریدوں کو اچھا نہیں لگا۔ میرا خیال ہے، وہ بھائی کی شرمندگی تھی جوغصہ بن کر نکلی تھی۔

    تو ایسے تھے میرے اور بھائی کے تعلقات۔ اس لیے وہ جب بھی میرا حال پوچھتے ، مجھے ایسا لگتا جیسے وہ میرا مذاق اڑا رہے ہوں ۔ مگر باجی کا کہنا یہ تھا کہ وہ سچ مچ میرے لیے پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں اپنی پڑھائی پوری کروں۔ مگر سوال یہی آتا ہے کہ اخراجات کون برداشت کرےگا۔

    ایک وقت ایسا آیا کہ جب سب لوگ میرے بارے میں سوچ سوچ کر اتنا پریشان ہو گئے کہ انہوں نے سوچناہی چھوڑ دیا۔ تب ایک حیرت انگیز واقعہ ہوا۔ بمبئی سے ہمارےایک رشتے دار اور روز نامہ خلافت کے ایڈیٹر زاہد شوکت علی کا خط آیا جس میں ابو کے انتقال پر افسوس کے بعد مشورہ دیا گیا تھا کہ مجھے بمبئی  بھیج دیا جائے ۔ انہوں نے لکھا تھا:”اس لڑکے کی کہانیوں اور اخبار کے مزاحیہ کالم ’’باغ و بہار‘‘  کے لیے بھیجے گئے مضامین کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لڑ کا کافی ذہین  ہے اور اگر اس کی صلاحیت کو نکھاراجائے تو یہ ایک اچھا صحافی بن سکتا ہے۔ اسے بمبئی میں رہنے سہنے کی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی، کیوں کہ خلافت ہاؤس بہت بڑا ہے، اس میں بہت سے لوگ رہتے ہیں۔ اس کے لیے بھی گنجائش نکل ہی آئے گی۔“

    اگر امریکی حکومت کسی ہندوستانی کو نیو یارک میں رہنے کی دعوت د ے اور ساتھ میں گرین کارڈ بھی بھیج دے تو جو خوشی ہوگی ویسا ہی کچھ میرا حال بھی ہوا۔ پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ چھپر پھٹا کیسے، کیوں کہ زاہد شوکت علی صاحب اپنے خاندان والوں کو ذرا کم ہی منہ لگاتے تھے، اور پھر دوریاں بھی اتنی تھیں کہ تصور ہانپنے لگتا تھا۔ باقی سب لوگ تو خوش ہوئے مگر میری نیندیں حرام ہو گئیں۔ جب بھی آنکھیں بند کرتا،بمبئی  کی وہ تمام تصویریں جو کتابوں اور رسالوں میں دیکھی تھیں، سامنے آ کھڑی ہوئیں۔

    گیٹ وے آف انڈیا دکھائی دیتا، جو ہو کا سمندر دکھائی دیتا، سڑکوں پر دوڑتی ہوئی دو منزلہ بسیں دکھائی دیتیں  ۔ عالم یہ تھا کہ جدھر دیکھتا ہوں اُدھر تو ہی تو ہے۔ تمام یاروں دوستوں کوڈ ھونڈ ڈھونڈ کے خوشخبری سنائی اور ان کی آنکھوں میں رشک دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ مگر یہ خوشی کچھ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی۔

    ایک دن جب میں اپنی دادی کے ساتھ بیٹھ کر اس سامان کی فہرست بنا رہا تھا جو اپنے ساتھ بمبئی لے جانا چاہتا تھا تو وہ اچانک پھٹ پڑیں۔’’ارے رہنے دے یہ سب کچھ ! بمبئی جانا اتنا آسان نہیں ہے۔‘‘

    ’’کیوں نہیں ہے؟ ‘‘میں تلملا گیا۔’’ زاہد چچا نے خود بلایا ہے۔‘‘

    ’’اس کے بلانے سے کیا ہوتا ہے؟ کوئی بھیجنے والا بھی تو ہونا چاہیے۔ ڈیڑھ دو سو کا خرچہ ہے، کون دے گا؟‘‘

    مجھے بالکل ایسا لگا جیسے کسی نے میرے پیٹ میں گھونسا مار دیا ہو اور مجھے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہو۔

    ’’ڈیڑھ دو سو کا خر چہ؟‘‘ یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔

     وہ سوال جوکہیں منہ چھپا کے بیٹھ گیا تھا، پھر اچانک اچھل کر باہر آ گیا:’’ اب کیا ہوگا؟‘‘

     یہ بات نہیں تھی کہ خاندان میں ایسا کوئی نہیں تھا جو یہ چھوٹی سی رقم دےسکتا۔ ماشاء اللہ زیادہ تر رشتے دار وہ تھے جنہیں میں بڑا آدمی کہا جاتا ہے، مگر ہر بڑے آدمی کی طرح ان میں بھی یہ کمزوری تھی کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھیان نہیں دیتے تھے، اور یہ تو  بہت ہی چھوٹی سی بات تھی کہ ایک لڑکا کسی وجہ سے وہاں نہیں جا سکتا جہاں وہ جانا چاہتا ہے۔ اتنی معمولی سی بات پرتوسوچنے کا وقت بھی نہیں تھا کسی کے پاس۔

    میں جانتا تھا کہ دآدمی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گی ۔ انہوں نے جس آن بان سے فاقے کیے ، تنگ دستی کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی ۔ چناں چہ میں نے وہی کیا جو ایسے موقعوں پر ہمیشہ کرتا تھا ۔ سائیکل اٹھائی اور باجی کے گھر جا پہنچا۔

    باجی نے پوری کہانی سنی ، میری آنکھوں کی سرخی اور پلکوں کی نمی بھی دیکھی مگر کچھ بولیں نہیں ۔ چپ چاپ چائے کی چسکیاں لیتی رہیں، اور اس گائے کو دیکھتی رہیں جو کونے میں بیٹھی ہوئی جگالی کر رہی تھی اور دم سے مکھیاں اڑائی جارہی تھی۔

    شام ہورہی تھی، بھائی کے آنے کا وقت بھی ہو چکا تھا۔ میں جانے کے لیے اٹھا تو باجی نے روک لیا۔ ”ذرا دیرٹھہر جاؤ ، میاں جی آتے ہی ہوں گے ،مل کے جانا ۔‘‘ مجھے تھوڑا سا تعجب ہوا کیوں کہ با جی کو معلوم تھا، میں بھائی کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہوں اور وہ بھی مجھے دیکھ کر کسی خوشی کا اظہار نہیں کرتے۔ میں نے بہانہ بنایا اور جانے لگا۔ مگر بھائی ایک دم سے اندر آ گئے ۔ انہوں نے سلام دعا کرتے کرتے اپنی شیروانی اور ٹوپی اتاری، اورنل کے سامنے وضو کرنے کے لیے بیٹھ گئے ۔ پاؤں دھوتے دھوتے اچانک میری طرف مڑےاور پوچھا، ’’کیا ہوا تمہارے بمبئی جانے کا؟“

    ’’جی وہ  ... ‘‘میں اس کے آگے نہیں بول سکا۔ باجی نے کم سے کم لفظوں میں بتایا کہ’’ جانا تو طے ہے، مگر ابھی تک کرائے کا بھی انتظام نہیں ہوا ہے۔ دو چار جوڑےکپڑے اور ایک آدھ اچھا جوتا بھی چاہیے ہوگا ۔‘‘‘ بھائی نے ایک بھی کیا ’’ہوں‘‘ کی اور بولے: ’’میں نے رام دین سے کہہ دیا ہے، وہ اَجوان لے کر آئے گا، گائے کو کھلا دینا۔ دو دن سے چارا چھوڑ رہی ہے، شاید پیٹ خراب ہے،‘‘ اور مصلیٰ بچھا کے نماز کی نیت باندھ لی ۔ مجھے معلوم تھا وہ کچھ نہیں کہیں گے اور نہ کچھ کریں گے۔ انہیں مجھ سے زیادہ اپنی گائے کی پرواہے جس کا پیٹ خراب ہے؛ کسی کی زندگی خراب ہورہی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ میں چپکے سے باہر نکلا ، سائیکل اٹھائی اور اس کچی  سڑک پر ہولیا جو میرے گھر کی طرف جاتی تھی۔

    کئی دن تک ایسا لگا جیسے بمبئی  ٹوٹ ٹوٹ کر میرے اوپر گر رہی ہے۔ وہ ساری تصویریں جو آنکھوں میں تیرتی تھیں، اب ڈوبتی  اور ابھرتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ کتابوں میں دل لگایا مگر نہیں لگا۔ کچھ لکھنے کی کوشش کی مگر لفظوں نے ہڑتال کر دی ۔ کمبخت پکڑ ہی میں نہیں آتے تھے ۔ اور ایک دن رضا لائبریری کی سیڑھیوں پہ ایک ناول کے سہارے صبح سے شام کرنے کے بعد جب گھر لوٹا تو ہم بھبا یعنی میری دآدمی نے بتایا کہ’’ کنور صاحب کا نوکر آیا تھا۔ یہ پچاس روپے دے گیا ہے تمہارے ریل کے ٹکٹ کے لیے۔‘‘ ساری مرده امیدیں زندہ ہو گئیں۔ اس دن سمجھ میں آیا کہ سوکھے دھان میں پانی پڑنے کا مطلب کیا ہوتا ہے مگر پھر فوراً ہی اس خیال سے دل بیٹھ گیا کہ پچاس روپے میں کیا ہو گا ۔ اور بھی کتنی چیزیں ہیں جن کا ہونا ضروری ہے۔ اور بمبئی جیسی جگہ میں خلافت جیسے اخبار میں کام کرنے والے کے پاس اگر اچھے کپڑے نہ ہوں تو کتنی بے عزتی ہوگی ۔ ابو کی الماری کھول کر ان کے کپڑوں کا جائزہ لیا تو ہاتھ کی بنی ہوئی کھآدمی کے کرتے پاجاموں کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ وہ بھی دو تین ہی تھے۔

    ایک کونے میں سے شارک اسکن کی دو پتلونیں مل گئیں جن کے بکل زنگ کھا کے کپڑے سے چپک گئے تھے۔ پتا نہیں کب سے کسمپرسی کے عالم میں پڑی ہوئی تھیں ۔ اس الماری میں کچھ جوتے بھی تھے مگر وہ میرے لیے بیکار تھے کیوں کہ ابو کا پاؤں مجھ سے ایک نمبر چھوٹا تھا لیکن ان کے پٹھانی سینڈل کام آ گئے کیوں کہ وہ پیچھے سے کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور ایڑی ذراسی باہر بھی رہے تو کون دیکھتا ہے۔ پتلونیں چھوٹی کرنے کودے دیں اور سینڈل پر پالش کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ابوصرف قرضہ ہی چھوڑ کر نہیں مرے تھے، کچھ  جوتے اور پرانے کپڑے بھی چھوڑ گئے تھے۔

    کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ میرے اندر ایک نہیں، دو آدمی ہیں ۔ ایک تو بچہ ہے جو بڑھنا چاہتا ہے، پڑھنا چاہتا ہے ، ترقی کرنا چاہتا ہے، جس کے خواب ہیں اور خوابوں کو پورا کرنے کی ہمت بھی۔ دوسرا وہ بوڑھا ہے جو پیدا ہی بوڑھا ہوا تھا، جس نے زندگی کے چہرے کی ساری جھریاں بہت قریب سے دیکھی ہیں ، جس نے توہین دیکھی ہے ، بھوک دیکھی ہے، بےکسی دیکھی ہے اور وہ غرور بھی دیکھا ہے جو سر کو شانوں پر سیدھا رکھتا ہے، جو بہت ہوشیار اور تجربے کار ہے۔ یہ بوڑھا اس بچے کو سمجھاتا رہتاہے: ’’جوتو سوچ رہا ہے وہ نہیں ہوسکتا۔ تو ہوا کو پکڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیا ہوا اگر تو بمبئی نہیں جا سکتا۔ کچھ بننے کے لیے بمبئی جانا ضروری نہیں ہے۔ جنہیں کچھ بننا ہوتا ہے وہ اس چھوٹے سے شہر میں رہتے ہوئے بھی بن سکتے ہیں...‘‘ مگر وہ بچہ ہی کیا جو ضدی نہ ہو۔ میں نے بھی طے کرلیا تھا کہ چاہے کچھ ہو جائے مگر بمبئی  ضرور جاؤں گا۔ پچاس روپے میرے پاس ہیں، کچھ کپڑوں جوتوں کا بندوبست بھی ہے، ایک پرانا سوٹ کیس بھی مل گیا ہے، لیکن آدھا مرحلہ تو طے ہو چکا ہے۔ اب اگر تھوڑے سے پیسے کم ہیں تو اتنا مایوس ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

     میں نے سوچنا شروع کیا کہ ایسا کون ہے جو کچھ پیسے ادھار دےدے۔۔ میرا دوست شکیل دے سکتا تھا۔ میوہ منڈی میں اس کے باپ کی آموں کی آڑھت تھی ۔مگر اس سال آم کی فصل بہت خراب ہوئی تھی ۔ سارے بیوپاری پریشان تھے۔ اس لیے فہرست سے شکیل کا نام کاٹ دیا گیا۔ دوسری امید کنور لطف علی خاں سے تھی ۔ وہ ابو کے سگے پھوپھا تھے اور پچاس روپے بھیج بھی چکے تھے۔ اگر تھوڑی کی مدد اور کر دیتے تو... مگر پتا چلا کہ وہ گرمیاں گزارنے کے لیے نینی تال جا چکے ہیں اور دو مہینے بعد لوٹیں گے ۔ ان کا نام بھی کٹ گیا۔ تیسرا نام باجی کا تھا مگر جیسے ہی بھائی کی شکل آنکھوں میں آئی، ان کا نام خود بخود کٹ گیا۔ اب لے دے کے بچی  تھیں میری پھوپھی، جو دوسرے شہر میں رہتی تھیں مگر شہر زیادہ دور نہیں تھا۔ رامپور اور مراد آباد کے بیچ کا فاصلہ کوئی بائیس پچیس میل ہے۔ یعنی اگر کوشش کی جائے تو امیدوں کے پیڑ میں پھل آسکتا ہے۔

    میں کئی دن تک اپنی پھوپھی اور پھوپھا کے بارے میں سوچتا رہا۔

    آج اتنی عمر گزرجانے کے بعد بھی اپنے ذہن پہ زور ڈالتا ہوں تو ایسا کوئی لمحہ یا دنہیں آتا جس میں ان دونوں بزرگوں کو ہنستے دیکھا ہو۔

    پھوپھی کی صورت بری نہیں تھی۔ سانولی تھیں مگر جوانی میں خوبصورت رہی ہوں گی۔ چہرے پر ہمیشہ ایسا ایکسپریشن رہتا تھا جیسے دنیا سے بیزار ہوں اور ہر چیز بری لگ رہی ہو۔ تھوڑی تھوڑی دیرکے بعد ماتھے پر بل پڑتے رہتے تھے اور ایک بل تو ایسا جم گیا تھا جیسے آئینے میں بال آ گیا ہو جسے نکالا ہی نہیں جاسکتا۔ میں اپنے پھو پھا کو ’’باپو‘‘ کہا کرتا تھا کیوں کہ ان کے بچے بھی یہی کہتے تھے۔ پتانہیں ایک روایتی مسلمان گھرانے میں یہ لفظ کیسے گھس گیا۔ ہوسکتا ہے یہ اس وقت کی ملی جلی تہذیب کا اثر ہو آج کل جس کے کھنڈر بھی نہیں دکھائی دیتے۔ باپو بڑےآدمی تھےیعنی  افسر خزانہ (ٹریژری آفیسر) تھے اور ایک بڑی سی کوٹھی میں رہتے تھے۔ چہرےمہرے میں بھی کوئی چیز چھوٹی نہیں تھی۔ بڑا ساماتھا، بڑی بڑی آنکھیں، اونچی ناک جس کے نیچے جو دانت تھے وہ بھی غیر معمولی بڑے تھے۔ باپو کے ایک دوست ہوا کرتے تھے، عابد صاحب، جو مولانا شوکت علی کے بیٹے تھے اور چھوٹے موٹے شاعربھی تھے۔ انہوں نے باپو کا ایک قصیدہ لکھا تھا جو آج بھی میرے پاس ہے۔ اس کا مطلع ہے:

    کہوں کیا ان کے بارے میں شجاعت جن کے سالے ہیں

    مرے اللہ نے ان کو دیے بتیس بھالے ہیں

     انہیں بھی میں نے کبھی ہنسے  یامسکراتے نہیں دیکھا۔ دید بہ ایسا تھا کہ جب گھر میں آتے تھے تو پنجرے کا طوطا بھی بولنا بند کردیتا تھا۔ چاروں طرف ایک سناٹا پھیل جاتا تھا۔ بچے کتابیں لے کر اس طرح بیٹھ جاتے تھے جیسے وہ کتابیں نہیں ان کے جسم کا کوئی حصہ ہوں ۔ میں نے ان دونوں کو آپس میں باتیں کرتے بھی نہیں دیکھا۔ کبھی کبھار دو چار جملوں کا تبادلہ ہوتا بھی تھا تو اس طرح کہ پھو پھو دیوار کی طرف منہ کر کے کہتیں ،’’چھمی  کے ہاں بچہ ہوا ہے، سہوارہ جانا پڑے گا۔‘‘  اور باپو حقے کی چلم کو مخاطب کر کے جواب دیتے،’’ بچوں کی چھٹیوں میں سوچیں گے...‘‘ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ دونوں میں ایک قانونی رشتے کے سوا کوئی رشتہ نہیں تھا، پھر بھی آٹھ بچے پیدا ہوئے اور کوئی ذہنی ہم آہنگی نہ ہوتے ہوئے بھی اولادوں کو اچھی تعلیم بھی دی اور عمدہ تربیت بھی ۔ پھوپھی کے گھر جانے اور ان سے پیسے مانگنے کا تصور ہی ہمت توڑ دینے کے لیے کافی تھا ، حالاں کہ ان کی حقارت بھری نظریں کوئی نئی چیزنہیں تھیں اور نہ ہی وہ جملے انوکھے تھے جن سے تیزاب کی بو آتی تھی۔ میرے بارے میں ان کی رائے تھی کہ میں آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومتا ہوں ، گندے ناول پڑھتا ہوں اور کام چور ہوں ۔ ان کی پیشین گوئی تھی کہ یہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ایسے ہی جوتیاں چٹخا تا پھرے گا اور کرے گا بھی تو رکشا چلائے گا یا بیڑیاں بنائے گا۔ اس وقت یہ با تیں بلیڈ کی طرح کاٹ دیا کرتی تھیں، آنکھوں میں آنسو آ جایا کرتےتھے، مگر اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے شاید میرے مستقبل کے بارے میں ان کی پریشانی نے جلی کٹی کا روپ لے لیا تھا۔ مگر اس وقت تو ان کی جلی کٹی کو برداشت کر لینا بڑا مشکل کام تھا۔ میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ آخر اپنی سگی پھوپھی ہیں، اگر کھری کھوئی سنا بھی دیں گی تو کیا فرق پڑ جائے گا۔

    میں نے ایک دوست سے سائیکل مانگی اور مراد آباد کے لیے چل پڑا۔ یہ سائیکل ان سائیکلوں میں سے تھی جو دو تین نسلوں کی سواری کے بعد بھی چوں تک نہیں کرتی تھی ۔ نہایت بھاری بھر کم فولاد کی بنی ہوئی مشین تھی ۔ گدی اتنی چوڑی تھی کہ موٹے آدمی کو بھی تکلیف نہ ہو، اور اتنی اونچی تھی کہ میرے پیر پیڈل سے دوا نچ چھوٹے پڑ گئے تھے جس کی وجہ سے پاؤں کو ٹیڑھا کر کے پنجوں کے بل چلا نا پڑ رہا تھا۔ سائیکل میں کریٹ لگا ہوا تھا جس کے دونوں طرف لوہے کے چھوٹے چھوٹے ہُک لٹکے ہوئےتھے۔ شاید یہ ہُک سامان ڈھونے یا کوئی چیز لٹکانے کے کام آتے ہوں گے۔ جب سائیکل چلتی تھی تو یہ ہُک اچھل اچھل کر بیک گراؤنڈ میوزک دینے لگتے تھے۔ ان کی آواز سے سڑک کے اچھے یا برے ہونے کا اندازہ لگا یا جا سکتا تھا۔ اس قدیم پشتینی  سائیکل کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد چین اتر جایا کرتی تھی۔ نتیجے میں بار بار اترنا پڑتا تھا اور چین چڑھا کر احتیاط سے پیڈل مارنے پڑتے تھے تا کہ وہ نازک مزاج چین دوبارہ ناراض نہ ہوجائے ۔ سارے رستے چین اترنے اور سائیکل سے میرے اترنے کا سلسلہ جاری رہا۔

    بعد میں جب پطرس بخاری کا مضمون پڑھا جس میں ایسی ہی کسی سائیکل کا ذکر ہے تو شک ہوا کہ کہیں موصوف نے اسی عجوبہ  سائیکل کی سواری تونہیں کی تھی جو میرے حصے میں آئی تھی ۔ دنیا بہت چھوٹی ہے اور یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

    مراد آبا دتو کئی بار گیا تھا مگر سائیکل پرکبھی نہیں گیا تھا۔ چوں کہ دل کو لگی  ہوئی تھی اس لیے بھٹکتے بھٹکتے ڈپٹی گنج تک پہنچ ہی گیا جہاں افسر خزانہ کی کوٹھی تھی۔ جب اندر گھسا تو حال یہ تھا کہ ہاتھوں میں چین کا گریس لگا ہوا تھا، پاجامے کے پائنچے  بھی کالے ہو گئے تھے، سر کے بال مٹی اور پسینے سے الجھ کر کھڑے ہو گئے تھے اور جون کی تپتی ہوئی دو پہر چہرے کا جو حال بناسکتی تھی وہ بنا چکی تھی۔

    پھوپھو نے مجھے دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کے اس طرح کھڑی ہوگئیں جیسے یہ سمجھنے کی کوشش کررہی ہوں کہ یہ جانور اندر کیسے گھس آیا:’’خیر یت؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ ’’یہاں کیسے آگئے؟‘‘

    ’’ جی، آپ سے کچھ کام تھا۔‘‘

     انہوں نے سر ہلایا۔ ”جاؤ، پہلے ہاتھ منہ دھوؤ، غسل خانہ سامنے ہے۔‘‘

    جب میں نے آنے کی وجہ بتائی تو وہ بہت دیر تک چپ رہیں ۔ پھر بولیں،’’ شام کو یہ آئیں گے تو بات کروں گی۔‘‘ مگر ان کے ماتھے کے بل اور چہرے کی بیزاری صاف بتارہی تھی کہ جواب کیا ہوگا۔

    کتنی عجیب بات ہے کہ جس پھو پھی نے حقارت کے سوا کبھی کچھ نہیں دیا اس کے بچوں نے اتنی محبت دی کہ رشتوں کا مطلب بدل گیا۔ آصفہ اور عادل کے لیے تو پتا نہیں میں کیا تھا۔ دونوں جب بھی مجھے دیکھتے تھے، ان کی آنکھوں میں ستارے اتر آتے تھے۔ آصفہ زبان کی بہت تیزتھی ، ہر وقت لڑنے مرنے کے لیے تیار رہتی تھی، مگر مجھ سے بے حد پیار کرتی تھی بلکہ اب بھی کرتی ہے۔ اور عادل کا تو فرینڈ، فلاسفر، گائیڈ ، سب کچھ میں ہی تھا۔ شام کو جب با پو آئے تو انہیں سلام کرنے کے بعد میں غائب ہو گیا اور رات گئے تک ان دونوں بہن بھائی کو جھوٹے سچے قصے اور لطیفے سنا کر ہنساتا رہا۔ اور دوسرے دن جب بچے اسکول چلے گئے اور باپو آفس ،تو میں نے ڈرتے ڈرتے کہا:’’ اچھا میں بھی چلتا ہوں۔“

    پھوپھو نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا :” دیکھو بیٹا، ہمارےباپ دادا بھی کوئی جائیداد چھوڑ کر تو مرےنہیں تھے ۔ تمہارے باپو کیسے ہیں ، تم اچھی طرح جانتے ہو۔ ایک پیسہ رشوت نہیں لیتے۔ جو کچھ ہے بس ان کی تنخواہ ہے۔ مجھے معلوم ہے، کنور صاحب نے پچاس روپے بجھوادیے ہیں تم سچ مچ بتاؤ ،تمہیں  کتنے پیسے کی ضرورت ہے۔ جھوٹ مت بولنا۔“

    میں نے اپنے گریس لگے پاجامے کو دیکھا جو چین میں آتے آتے کی جگہ سے پھٹ بھی گیا تھا۔ ’’پھوپھو، میرے پاس کپڑے نہیں ہیں۔‘‘ ان کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آگئی۔ صاف لگ رہا تھا کہ انہیں میری بات پر یقین نہیں آیا تھا۔

    پھوپھو نے پانچ پانچ کے کچھ  نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ دیے۔ ’’یہ لو ، سنبھال کر لے جانا۔ ‘‘

    ڈپٹی گنج  سے نکلتے نکلتے جب پہلی بار چین اتری تو میں نے جیب سے نکال کر گنے، پانچ پانچ کے چارنوٹ تھے۔ بیس  روپے کی خطیر رقم جو میری پھوپھی نے مجھے اپنا مستقبل تعمیر کرنے کے لیے دی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں ۔ لوٹ کر جاؤں اور روپے واپس کردوں یا چپ چاپ رکھ لوں۔ سوچتے سوچتے کوسی کے پل پر آ گیا جس کے بعد ریلوے لائن ہے۔ بہت کی بسیں گاڑیاں اور ٹرک رکے ہوئے تھے۔ دو چارسائیکلیں بھی تھیں۔ مجھے بہت سے بھکاریوں نے گھیرلیا اور میں انہیں دیکھ دیکھ کر مسکراتا رہا۔ ان بیچاروں کو کیا معلوم کہ میری حالت ان سے زیادہ خراب ہے۔ اچانک میری نظر پانچ چھ برس کے ایک بچے پر پڑی جو کیلے والے سے ایک کیلے کی بھیک مانگ رہا تھا۔ مجھے پتا نہیں کیا ہوا۔ میں نے اسے پاس بلایا اور پانچ پانچ کے دونوٹ اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ میں اس بچے کے چہرے کا ایکسپریشن کبھی نہیں بھول سکتا۔ بہت دیر تک تو ایسا لگا جیسے وہ فریز ( freeze ) ہو گیا ہے، پھر اچانک مڑ کر تیزی سے بھاگا اور نہ جانے کہاں غائب ہو گیا۔ میں جب شہر پہنچا تو رات ہوچکی تھی مگر متھراحلوائی کی دکان جاگ رہی تھی۔ میں نے دو گلاس ڈبل ملائی والا گرم دودھ پیا، ایک دو نار بڑی کھائی ، اور جب میں اس کی دکان سے اٹھا تو دل بڑا ہلکا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں پھوپھو سے اپنا انتقام لے چکا ہوں ۔ بیس  روپے ختم ہو چکے تھے۔

    دو چار دن بعد میں نے شہر کے بکنگ آفس سے بمبئی  کاٹکٹ خرید لیا۔ ریزرویشن کے ساتھ بتیس  روپے پچاس پیسے کاٹکٹ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ساڑھے سترہ روپے پھر بھی باقی تھے، حالاں کہ سفر بہت لمبا تھا۔ اس زمانے میں دہرادون ایکسپریس سب سے سستی ٹرین تھی اور سب سے سست بھی۔دلی سے بمبئی تقریباً اڑتیس  گھنٹے میں پہنچتی تھی۔ یعنی دیکھ بھال کر خرچ کیا جائے تو رستہ تو کٹ ہی جائے گا، باقی اللہ مالک ہے۔ شام تک یہ خبرسب کومل چکی تھی کہ میں سچ مچ جارہا ہوں اورٹکٹ بھی آچکا ہے۔

    دو دن بعد جب ایک جہاں دیدہ بزرگ مجھے سمجھارہے تھے کہ بڑے شہروں میں کس طرح رہنا چاہیے، کن باتوں سے بچنا چاہیے اور کس طرح کام نکالنا چاہیے، کہ بھائی آگئے ۔ وہ کافی خوش نظر آرہے تھے۔’’ کب جارہے ہو؟“

    ’’تیرہ تاریخ کاٹکٹ ہے۔‘‘

    ’’تیاری ہو چکی؟‘‘

    میرا دل چاہا کہ انہیں ایک موٹی سی گالی دوں ۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جب کچھ ہے ہی نہیں تو تیاری کس بات کی کی جائے گی ۔ دو مہینے ہو گئے اس بھاگ دوڑ میں ،مگر پرانے سوٹ کیس کے اندر ابو کی دو پرانی پتلونوں اور میرے دو کپڑوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اتنے سے سامان کے لیے سوٹ کیس لے جانا بھی سوٹ کیس کی توہین ہے، یہ سب تو پلاسٹک کی ایک تھیلی میں آ سکتا ہے۔ مگر میں چلتے وقت ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا کہ بعد میں یہ حضرت باجی کو طعنے دیں اور کہیں کہ دیکھو، تمہارا بھائی کتنا نالائق ہے۔ میں نے کہا۔ ”آپ کو تو معلوم ہے...‘‘

    وہ کھڑے ہو گئے ۔’’چلو بازار چلتے ہیں ۔‘‘ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ مجھے بازار کیوں لے جانا چاہتے ہیں ۔ مگر بھبا، جو چپ چاپ سن رہی تھیں اور چھالیہ کاٹتی جارہی تھیں، اچانک بولیں، ’’بھائی کے ساتھ جاتا کیوں نہیں؟ جا۔ لوٹتے ہوئے میرے لیے پان بھی لیتا آئیو۔“

    بھائی نے چوک سے کچھ  قمیصوں پاجاموں کا کپڑادلا یا ، باٹا کا ایک جوڑ سینڈل اور گھر میں پہننے  کے لیے ہوائی چپل خریدے گئے، کچھ  اور ضروری چیزیں جیسے بنیان، رومال، ٹوتھ پیسٹ، برش وغیرہ... ہاں، ایک بڑی سی چار خانے والی چادر بھی تھی اور ایک ربر کا تکیے جس میں منہ سے پھونک بھر کے پلایا جاسکتا تھا۔

    شوکت باجی نے راتوں رات پاجامے سی دیے، حبیبہ  آپا قمیص  سینے کی ایکسپرٹ تھیں، انہوں نے کاٹے بھی خود اور سیے بھی خود ۔ اور ایسی فٹنگ دی کہ کوئی درزی بھی کیا دے گا۔ میرا سوٹ کیس بھر چکا تھا اور اس میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ یہاں تک کہ اماں نے اس میں ایک پھٹا ہوا کپڑا بھی رکھ دیا تھا، اور میرے پوچھنے پر بتایا تھا،’’ ارے بچے ، جوتے صاف کرے گا تو کیا رومال سے کرے گا؟‘‘

    یہ سب کچھ ہورہا تھا مگر دل بار بار کہہ رہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ وہ آدمی جس نے مجھے کبھی پند نہیں کیا، سیدھے منہ بات نہیں کی، اچانک بدل کیسے گیا؟ یہ ہمدردی کہاں سے آگئی؟ بھائی کی مہربانیوں کے پیچھے ضرور کوئی اور ہے، مگر کون ہوسکتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا تھا۔

    بہرحال، جب ساری تیاریاں مکمل ہوگئیں اور میں سب سے رخصت ہولیا تو باجی اور بھائی سے ملنے کے لیے رضاشگر فیکٹری پہنچا۔ اندر گھسا تو گھر کچھ بدلا بدلاسا نظر آیا۔ وہ گائے جو ہمیشہ دروازے کے سامنے دم ہلاتی ہوئی ملتی تھی ، غائب تھی۔ اس کا کوئی سامان بھی نہیں تھا اور صحن  کو دھو کر صاف کیا جاچکا تھا۔

    ’’گائے کہاں چلی گئی؟“ میں نے باجی  سے پوچھا۔

    ’’بک  گئی‘‘، انہوں نے جواب دیا۔

    ’’ کب؟‘‘

    ’’کئی دن ہو گئے ۔‘‘

    مجھے یہ سمجھنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا کہ گائے کیوں بیچی گئی ۔ تب تک بھائی کمرے سے باہر آچکے تھے۔ میں نے ان سے کہا:

    ’’آپ نے گائے بیچ  دی؟‘‘

    ’’ارے بھائی ، گائے کا کیا ہے، پھر آجائے گی ۔ تمہارا جانا زیادہ ضروری ہے۔ جاؤ ، اللہ تمہیں کامیاب کرے۔‘‘

    میں ان سے لپٹ گیا اور وہ آنسو جو ابو کی موت پر بھی نہیں گرے تھے اچانک بہہ نکلے۔ تبھی مجھے باجی کی آواز سنائی دی:

    ’’بازار کا دودھ ہے، مگر اچھا ہے۔ چائے پیو گے؟ ‘‘

    میں نے باجی کی طرف دیکھا۔ ان کا سانولا چہرہ کھلا ہوا تھا اور مسکراہٹ دور تک پھیلی ہوئی تھی۔

    جب کبھی یہ آدھی صدی پرانا قصہ یاد آتا ہے، تو سوچتا ہوں کہ ہم لوگ دوسروں کے بارے میں اپنی رائے بنانے میں کتنی جلدی کرتے ہیں اور پھر اس پہ قائم بھی رہتے ہیں۔ ذرا نہیں سوچتے کہ یہ رائے غلط بھی ہوسکتی ہے۔

    تو چہ دانی کہ  دریں گردسوارےباشد