بڑے پاپا
بڑے پاپا
ہوا یوں کہ میری بیٹی لبنیٰ کی شادی لکھنؤ کے ایک ہونہار نو جوان سلیم عارف کے ساتھ ہوئی لبنیٰ جب اپنے سسرال لکھنؤ پہنچی تو ، جیسا کہ دستور ہے، سلیم کے رشتے داروں اور دوستوں نے بہت سی دعوتیں اور پارٹیاں دےڈالیں۔ ایسی ہی ایک دعوت سلیم کے دوست اور اسکول کے ساتھی سنیل ستیہ و کتا کے گھر بھی ہوئی ۔ سنیل نے لبنیٰ کو ایک پنسل اسکیچ دکھایا جوسلیم نے بنایا تھا۔
لبنیٰ نے تصویر کو پہچان لیا اور کہا ،’’یہ تو دیوان شیام بہادر کی تصویر ہے، اور یہ تصویر میرے پاپانے کھینچی تھی۔‘‘
سنیل کے والد نے چونک کر پوچھا،’’ کیا نام ہے تمہارے پاپا کا ؟‘‘
اور جب لبنیٰ نے بتایا تو سریش صاحب نے اسے گلے سے لگا کر سلیم سے کہا:
’’میاں صاحبزادے!تم بہو کو لے کر ہمارے گھر آئے تھے، مگر یہ تو ہماری بیٹی نکل آئی ۔‘‘
لبنیٰ بہو سے بیٹی کیسے بن گئی؟... یہ کہانی رام پور سے شروع ہوتی ہے۔
ہمارے گھر سے دو دروازے چھوڑ کر دیوان ہاؤس تھا۔ یہ ایک لمبی چوڑی شاندار حویلی تھی۔ اوپر نیچے ملا کر کوئی اٹھارہ بیس کمرے تھے۔ زنانے اور مردانے حصوں میں دو بڑے بڑے صحن ، ایک کونے میں چھوٹا سا گارڈن۔ پھاٹک میں گھسو تو دونوں طرف برآمدے تھے، جس میں ایک طرف نوکر رہتے تھے، دوسری طرف آنے جانے والوں کے بیٹھنے کا بندوبست تھا۔ برآمدوں سے گزرتے ہوئےکورٹ یارڈ میں آنے پر اس سرے سے اُس سرے تک انگور کی بیلیں پھیلی ہوئی تھیں جن میں سبزی مائل سنہرے خوشے لٹکے رہتے تھے۔ سامنے ایک بڑا سا ہال تھا، جس میں پرانی قد آدم تصویریں، جانوروں کے بھوسا بھرے ہوئے سر اور پرانے فرنیچر کی آرائش کی۔
لکڑی کے بے حد موٹے دروازے والا پھاٹک ہمیشہ کھلا ہی رہتا تھا، اس لیے آتے جاتے اندر کی طرف نظر مڑہی جاتی تھی۔ زیادہ تر ایسا ہوتا تھا کہ ہال کے باہر والے چبوترے یا برآمدے میں، جس کی محراب پر پیلی گلاب کی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں، ایک آرام کرسی پر آدھے لیٹے ، آدھے بیٹھے بڑےپاپا دکھائی دیتے تھے۔ کبھی کتاب پڑھتے ہوئے تو کبھی اخبار یا کبھی دھوپ سینکتے ہوئے۔
دوہرا بدن جو موٹاپے کی حدوں کو چھو رہا تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی بتاتا تھا کہ یہ بدن کسی زمانے میں خاصا سڈول رہا ہوگا، کھلتا ہوا سانولا رنگ، ذہین چمکتی ہوئی آنکھیں، آنکھوں پہ چشمہ، چھوٹے چھوٹے سفید بال، بدن پہ ململ کا بار یک کُرتا اور چست پاجامہ، پاؤں میں چیل یا بو ( Bow ) والے پمپ شوز۔
میری سمجھ میں آج تک نہیں آیا کہ بڑے پاپا کو دیکھ کے اتنا پیار کیوں آتا تھا۔ جی چاہتا تھا۔ ان کے گلے لگ جا ئیں، وہ پیار سے سر پر ہاتھ پھیر یں اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ ہمارا حال چال پوچھیں ۔ ان کے پورے وجود میں ایک عجیب سی شفقت تھی ۔ ایک ایسی محبت جو کسی ایکسپریشن کی محتاج نہیں ہوتی ۔خوشبو کی طرح پھیلتی ہے اور جو بھی سامنے ہوتا ہے، اسے اپنی بانہوں میں لپیٹ لیتی ہے۔
کہنے کو بڑے پاپا میرے ہم عمروں کے دادا تھے۔ میرے ابو نہیں چاچا کہا کرتے تھے اور میرے خاندان کے سب لوگ ان کا بے حد احترام کیا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے وہ میرے لیے بھی دادا جیسی محتر م ہستی ہونی چاہیے تھے، مگر ایسا نہیں تھا؛ وہ میرے دوست تھے۔ پتانہیں دوسرے بچوں کے ساتھ بھی ان کا وہی سلوک تھا یانہیں ، مگر میرے ساتھ تو ان کی دوستی ہی تھی۔ یہ دوستی اس وقت شروع ہوئی تھی جب مجھے اپنی لائبریری کھولنے کا خیال آیا تھا۔ پڑھنے کا شوق تھا، کتا بیں گھر میں بھی تھیں مگر زیادہ تر ایسی کتابیں تھیں جو پڑھ تو لیتا تھا مگر سمجھ میں نہیں آتی تھیں ۔ صولت پبلک لائبریری سے کتابیں مل جایا کرتی تھیں مگر وہاں مصیبت یہ تھی کے گھنٹہ بھر تک رجسٹر چھاننے کے بعد جب کسی اچھے سے ناول پر دل آتا تو پتا چلتا کہ وہ باہر گیا ہوا ہے۔ اب ایسی صورت میں لے دے کے شمسی صاحب کا سہارا تھا۔ شمسی کا نام کیا تھا، یہ تو اب یاد نہیں مگر اس نے چلتی پھرتی لائبریری کا ایک انوکھا تجربہ کیا تھا۔ وہ حضرت سائیکل پر آتے، دو تھیلے سائیکل کے ہینڈل میں ٹنگے ہوتے اور دو بڑےبڑے تھیلے پچھلے ٹائر کے اوپر کریٹ میں پھنسے ہوتے۔ ان چاروں تھیلوں میں کتابیں بھری رہتیں۔ میرے خاندان کی کچھ ریٹائرڈ خواتین بڑے ذوق وشوق سے رئیس احمد جعفری ،قیسی رام پوری ،گلشن ننده، صادق سردھنوی ، نسیم حجازی کے ناول لیا کرتیں اور مزے لے لے کر پڑھا کرتیں ۔ شمسی ایک ناول کے چار آنے یا تیس پیسے لیا کرتے تھے اور ہر ہفتے آکر ناول بدل دیا کرتے تھے۔ میں نےشمسی سے دوستی کر لی تھی اور ان کی دکان پہ جا کے کتا بیں لے آیا کرتا تھا، جس کے پیسے وہ کبھی لیتے اور کبھی گھر کا بچہ سمجھ کر معاف کر دیتے۔
میری پڑھنے کی رفتار اتنی تیزتھی کہ چار پانچ سو صفحات کا ناول چوبیس گھنٹے میں چٹ کر جاتا۔ دادی برا بھلا کہتیں تو گھر کے کسی کونے میں چھپ جاتا یا چھت پر چلا جاتا، مگر کتاب ہاتھ سے نہ چھوٹتی۔ کوئی دلچسپ ناول ہاتھ لگ جاتا تو کھاتے وقت بھی پڑھائی کا سلسلہ جاری رہتا۔ یہ عادت تو ابھی کچھ عرصہ پہلے تک رہی ہے اور بیوی کی مستقل ڈانٹ سے چھوٹی ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا تھاکہ دادی غصے میں آ کر لائٹ بند کر دیا کرتی تھیں اور میں چاند کی روشنی میں پڑھا کرتا تھا۔ ہاں، تو بات ہورہی تھی لائبریری کی۔ شمسی صاحب نے مجھے بہت انسپائر کیا۔ یہ اچھا دھندا ہے، کتا میں بھی پڑھنےکوملیں اور پیسے ملیں سوالگ۔ میرے پاس کوئی پچاس ساٹھ ناول اور رسالے ہوں گے ،لیکن میں نے اپنے رشتے داروں میں اپنی اسکیم کا ذکر کیا کہ میں ایک لائبریری کھولنا چاہتا ہوں تو سب نے بڑی ہمت افزائی کی۔ ہر گھر میں سے جتنی پرانی کتابیں اور رسالے تھے، سب مجھے دان کر دیے گئے ۔ میں نے پرانی کتابوں کی مرمت کی ، انہیں ٹھیک ٹھاک کیا، ان پر کور چڑھائے ، نام لکھے، ایک رجسٹر بنایا اور لائبریری کھولنے کی پوری تیاری کر لی۔
ہماری بیٹھک کا دروازہ سڑک کی طرف کھلتا تھا۔ اس سے مناسب جگہ لائبریری کے لیے نہیں مل سکتی تھی۔ اسی لیے بیٹھک کی دیوار پر موٹا موٹا ’’شمع لائبریری‘‘ لکھا گیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے، شمع کے ’’شین‘‘ کو کھینچ کر دیے کی شکل دی گئی تھی اور ’’شین‘‘ کے نقطے اس طرح لگائے گئے تھے، جیسے کرنیں پھوٹ رہی ہوں۔
شمع لائبریری کے پہلے ممبر بڑے پاپا تھے۔ وہ شاید کسی سے مل کر آرہے تھے۔ بیٹھک کھلی دیکھی اور دیوار پر ’’شمع لائبریری‘‘ لکھا دیکھا تو رک گئے، اندر آئے اور بہت دیر تک کتابوں اوررسالوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتے رہے۔ پھر کہنے لگے:
’’بھیا تمہاری لائبریری کی فیس کتنی ہے؟‘‘
میں نے کہا تین روپے ڈپوزٹ ، جو کتاب کے کھو جانے ،پھٹ جانے یا واپس نہ کرنے کی صورت میں ضبط کر لیے جائیں گے ۔ کتاب تین دن کے اندر اندر واپس کرنی ہوگی اور اس کا کرایہ ہوگا دس پیسے۔“
بڑے پاپا نے شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک نوٹ نکال کر کہنے لگے:
’’بھئی فی الحال ہمارے پاس دو ہی روپے ہیں۔ ‘‘
میں نے کہا،’’ کوئی بات نہیں، آپ تو اپنے ہی ہیں۔ آپ سے کیا ڈپوزٹ لینا، کتاب لے جایئے۔‘‘
کہنے لگے : ’’نہیں بھائی ، بزنس بزنس ہوتا ہے۔ یہ دوروپے رکھو اور یہ دس پیسے کرایہ بھی رکھ لو۔ باقی حساب بعد میں کریں گے ۔‘‘
کتاب لے کر بڑے پاپا چلے گئے ۔ ہفتہ بھر گزرا، پندرہ دن گزر گئے۔ مہینہ گزر گیا تو میں نے یاد دلایا ۔’’بڑےپایا ، وہ ناول آپ نے ابھی تک ختم نہیں کیا؟‘‘
’’ ارے یار ، کیا بتائیں، وہ ناول تو ہم کئی بار ختم کر چکے ہیں۔“
’’اچھا! اتنا مزےدار ناول ہے کیا؟‘‘
بڑے پاپا کچھ دیر سوچتے رہے ، سر ہلاتے رہے، پھر دھیرے سے بولے،’’ دراصل بات یہ ہے کہ ہم اگلا پڑھتے ہیں تو پچھلا بھول جاتے ہیں، اس لیے پھر سے پڑھنا شروع کردیتے ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے، تمھارا نقصان ہور ہا ہوگا مگر ہم شام کو آئیں گے تو نئی کتابیں بھی لے لیں گے اور پرانا حساب بھی کر دیں گے ۔‘‘
بڑےپاپا نے اس کے بعد کئی کتا ہیں لیں اور ہر کتاب مہینوں بعد واپس آئی ۔شمع لائبر یری تو کچھ عرصے بعد بند ہوگئی کیوں کہ اس میں کبھی اتنے پیسے ہی نہیں جڑے کی نئی کتا بیں آسکیں۔ اور ممبرزنئی کتابیں مانگتے تھے۔ مگر بڑے پاپا کے ساتھ کتابوں کا لین دین اور ان پر بحث و مباحثہ میرے رام پور چھوڑنے تک جاری رہا۔
بڑے پاپا نے بھی مجھے بہت سی کتابیں دیں جن میں سب سے زیادہ قیمتی چیز رسالہ زمانہ، کانپور کے تقریباً سب ہی شمارے تھے، جن کے ضائع ہوجانے کا مجھے آج تک افسوس ہے۔
بڑے پاپایعنی دیوان شیام بہادر کا بھرا پرا گھر تھا۔ ہر عمر، ہر حلیے اور مزاج کے بیٹے بیٹیاں، بھائیوں کے بچے اور بہنوں کے بچے بھرے ہوئے تھے۔ کھانے بیٹھتے تو ایسالگتا جیسے پارٹی ہورہی ہو۔ ان میں پتلے دبلے نازک سے بڑے للا تھے جو مختصر ہو کر ’’بڑلا صاحب“ کہلاتے تھے، سریش صاحب جو میرے ابو کے بہت عزیز دوستوں میں تھے، شموصاحب جو بمبئی آ گئے تھے اور جنہوں نے کئی فلموں میں کام بھی کیا تھا، اور روبی صاحب تھے جو ہم سے زیادہ بڑےتو نہیں تھے مگر ر ہتے ہمیشہ بڑوں کے ساتھ ہی تھے ، نیلم جی تھیں، مادھوری جی تھیں، کسم، ششی اور انگا، اور میرے ہم عمر تارا صاحب، رائے صاحب، راجہ صاحب ، مسٹر اورننھا منا خوبصورت سا بچہ راکیش ۔ اس گھر کے ہر بچے کے ساتھ صاحب کیوں لگا ہوا تھا، مجھے آج تک نہیں معلوم، مگر اس طرح لگا ہوا تھا جیسے نام ہی کا ایک حصہ ہو۔
عجیب رونقیں ہیں۔ دیوان ہاؤس کا صحن بچوں کے شور اور ہنسی کی آوازوں سے گونجتا رہتا۔ کرکٹ ہو یا آنکھ مچولی ، سات پتھر ہو یا کبڈی، ’ایک ہنگامے پہ موقوف تھی گھر کی رونق‘۔ اس ہنگامے میں ان کے گھر کے سارے بچوں کے علاوہ میں اور میری دو کزن پروین اور شاہین، ڈاکٹر بہل کے دو بیٹے یش پال اور ستیہ پال اور محلے کے بہت سے بچے شامل ہوتے۔
بڑے پاپا جہاں دیدہ آدمی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کھیل میں مگن بچے بھڑ کے گھوڑوں کی طرح ہوتے ہیں، جن پر قابو پانا آسان نہیں ہوتا ، اس لیے خود اِدھر اُدھر ٹل جایا کرتے تھے یا اپنے کبوتروں کی مزاج پرسی کے لیے اوپر چلے جاتے تھے۔ بڑی اماں شور شرابے سے بہت گھبراتی تھیں۔ ہر تھوڑی دیر میں ان کی آواز سنائی دیتی:
”ارے میّاں، ان بچوں نے تو جینا دوبھر کردیا ہے۔ ارے نالائقو ! تم لوگ کوئی چپکے کا کھیل نہیں کھیل سکتے کیا؟‘‘ مگر بھڑ کے ہوئے گھوڑےکہاں سنتے ہیں۔
یوں تو بڑی اماں ہماری شرارتوں سے تنگ رہتی تھیں مگر کبھی کبھی انہیں ترس بھی آجاتا اور وہ ہم کو ڈانٹنے کے بدلے ہمارا حال چال پوچھ لیتیں:
ارے تم لوگ سویرے سے کھیل میں جٹے ہو، کچھ کھانے پینے کا بھی ہوش ہے یا نہیں؟‘‘
بچے جس عمر میں تھے اس میں کہاں کی بات کا ہوش رہتا ہے اور کھیل میں بھوک پیاس کے کسے ہے ! بڑی اماں اپنے چوکے کے باہر بچوں کو بیٹھ جانے کا حکم دیتیں مگر اس سے پہلے پیسنے میں بھیگے ہوئے ہاتھ اور مٹی میں سنے ہوئے پیر دھلوائے جاتے ۔ پھر سب کے ہاتھ میں ایک ایک پلیٹ پکڑائی جاتی اور بڑی اماں کے ہاتھ کی پوری کچوری اور بھاجی اس وارننگ کے ساتھ دی جاتی کہ ’’خبردار جو پلیٹ میں کچھ چھوڑ اتو۔‘‘ جب تک بچے کھاتے رہتے بڑی اماں اپنی ساڑی کا پلوسر پر لیے چوکے کے چوکھٹ پر کھڑی رہتیں اور سب کو دیکھتی رہتیں ۔ دھان پان سی تھیں، قد بھی اونچا نہیں تھا مگر سب ان سے ڈرتے تھے، یہاں تک کہ بڑے پاپا بھی۔
بڑی اماں کو کبوتر پسند نہیں تھے۔ ’’اے ہے، ناس پیٹے اتنی گندھ پھیلاتے ہیں اور اتنی آوازیں کرتے ہیں کہ بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ’’مگر بڑے پاپا کو کبوتر وں سے عشق تھا۔ ٹیرس پر ایک بڑی سی لکڑی کی کا بک تھی، جس میں سوڈیڑھ سو کبوتروں کے رہنے سہنے کا بندوبست تھا۔ روزسویرے ایک پتلے دبلے بزرگ آیا کرتے تھے، جن کے سر پر رامپوری ٹوپی ، جسم پر شیروانی، گلے میں رومال اور منہ میں پایان ، مجھے آج بھی یاد ہے۔ یہ دولہا خان کبوتر باز تھے۔ بڑے پاپا اور دولہا خان کبوتر باز اوپر پہنچتے اور ہر کبوتر کا حال چال پوچھتے ۔ کسی کے پر پھیلا کر کلیاں کاٹی جاتیں، کسی کے زخم پہ ہلدی اور چونا لگا یا جاتا، کسی کو ہتھیلی پہ دانہ رکھ کے کھلایا جاتا ۔ اور پھر دولہا خان ایک جھنڈی ہلاتے اور ستراسی کبوتروں کا جھنڈ ایک ساتھ آسمان پر بلند ہوتا ۔ دور تک سفید دهندسی چھاجاتی اور اڑتے ہوئے پروں کی آوازوں کے سوا کوئی اور آواز سنائی نہ دیتی۔ دوسری طرف سے اتنے ہی کبوتروں کی دوسری ٹکڑی آتی ہوئی دکھائی دیتی ۔یہ ننھوخان پتنگ باز کے کبوتر ہوتے۔ کبوتروں کی دونوں ٹکڑیاں آپس میں لڑ جا تیں ۔ جہاں تک نظر جاتی ، کبوتر ہی کبوتر دکھائی دیتے ۔ اور جب دونوں ٹکڑ یاں ایک دوسرے کے ساتھ گتھ جاتیں تو دولہا خان ایک سفید جھنڈاہلانے لگتے اور بڑے پا پا زور زور سے چیختے :”آ... آ... آ...‘‘ اور نہ جانے کیسے سینکڑوں گز کی اونچائی سے کبوتر اپنے مالک کی آواز پہچان لیتے اور پرا کا پرا ٹیرس پر اس طرح اتر آتا جیسے کوئی بڑی سی چادر زمین پر پھیلا دی جائے ۔ اس کوٹکڑی لڑانا کہتے ہیں اور کھیل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ٹکڑی دشمن کی ٹکڑی سے کچھ کبوتر توڑ لائے۔ اگر کبھی کوئی اچھا سا شیرازی یا لقا آجاتا تو پاپا جی کے چہرے کی چمک اور ہونٹوں کی مسکراہٹ دیکھنےجیسی ہوتی۔
میں آج جب ریپبلک ڈے پر ہوائی جہازوں کے کرتب دیکھتا ہوں تو مجھے بڑے پاپا کے کبوتروں کی لکڑی بہت یاد آتی ہے۔
ہر ہولی پر ہمارے خاندان کے بزرگ اپنے دیوان خانے کے برآمدے میں سفید کپڑے پہن کر بیٹھ جاتے ۔ سب سے پہلے ہولی کھیلنے کے لیے آنے والوں میں بڑے پاپا اور ان کے گھر والے ہوتے ۔ کپتان دادا سے گلے ملتے ، ان کی سفید براق داڑھی میں گلال لگاتے ۔ ہم بچے پان، الائچی ، سپاری اور مصری کی تھالیاں لیے کھڑےرہتے اور مہمانوں کی خاطر کرتے ۔ بڑے پاپاسب کے سروں پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ، گالوں پر ذرا سارنگ چھواتے اور چلے جاتے۔
عید پر جب ہمارے خاندان کے لوگ ان کے سلام کو جاتے تو چھوٹا ہو یا بڑا، ہر کسی کو چاندی کا چمکتا ہوا ایک روپے کا سکہ عیدی کے طور پر ملتا اور منہ میٹھا کرایا جاتا ۔کبھی کبھی جب ہولی آتی ہے تو مجھے رنگوں میں ڈوبی ہوئی ایک سفید داڑھی ضرور یاد آتی ہے، اور کبھی کبھار کسی عید پر چاندی کا ایک روپیہ بھی یادوں کے اندھیروں میں کوند جا تا ہے۔
عجیب آدمی تھے بڑے پاپا۔ کوئی غلط بات تو برداشت ہی نہیں کرتے تھے۔ ایک شام اپنی ٹمٹم پر کلب جارہے تھے۔ راستے میں دو بچوں کو لڑتے دیکھا توٹمٹم رکوائی، نیچے اترے اور دونوں کو ایک ایک طمانچہ رسید کیا۔ بہت سے لوگ جمع ہو گئے اور وجہ پوچھی تو کہا، ’’شریف زادے سڑکوں پر نہیں لڑا کرتے‘‘، دونوں کوٹمٹم پر بٹھا کر ان کے گھر چھوڑا اور پھر کلب چلے گئے۔
بڑے پاپا کی ایمانداری اور صاف گوئی کے بہت سے قصے سنے ہیں میں نے ۔ جب وہ ریاست کے دیوان تھے تو ایک دن انگریز پولیٹکل ایجنٹ نے انہیں بلا کر یہ جاننا چاہا کہ ریاست کے سرکاری خزانے میں کتنا مال ہے اور کہاں ہے؟ دیوان شیام بہادر بات کی اہمیت کو تاڑ گئے اور کسی طرح بات کو ٹال گئے ۔ لیکن دوسرے دن دربار میں حاضر ہو ئے اور نواب صاحب کو استعفیٰ پیش کر دیا ۔ نواب صاحب نے وجہ پوچھی تو پولیٹیکل ایجنٹ کا سارا قصہ سنادیا اور عرض کیا : ’’سرکار، میں جھوٹ نہیں بول سکتا اور سچ بولنا حضور کی نمک حرامی ہوگی ۔ اس لیے استعفیٰ دے رہا ہوں ۔ جب دیوان ہی نہیں رہوں گا تو اس کے سوال کا جواب دینے کا پابند نہیں رہوں گا ۔‘‘ نواب صاحب نے اس نمک حلالی سے خوش ہو کر اپنے وفادار کو دو گاؤں انعام میں دیے اور چار ہزار گز زمین دیوان ہاؤس تعمیر کرنے کے لیے عطا کی گئی۔ ہاں بڑے پاپا کو پنشن بھی ملتی تھی: ستاون روپے چھ آنے مہینہ۔
بمبئی آنے سے کچھ دن پہلے میں بڑے پاپا سے ملنے گیا۔ بڑی دیر تک غور سے مجھے دیکھتے رہے، پھر کہنے لگے:
’’کیوں جارہے ہو؟ ‘‘
میں نے کہا، ’’یہاں تو کوئی فیوچر دکھائی نہیں دیتا ، وہاں شاید کوئی بات بن جائے۔‘‘
کہنے لگے، ’’میری رائے مانو تو اپنی تعلیم پوری کرلو۔ تم نے ہائی اسکول تو کیا ہے۔ کم سے کم بی اےکر کے جاؤ تو اچھی نوکری مل سکتی ہے۔‘‘
میں نے کہا، ’’بڑے پاپا، آپ تو ہمارے حالات جانتے ہیں، آگے پڑھنے کا خرچہ کون اٹھانے والا ہے؟‘‘
کہنے لگے ،’’کتابوں کا جتنا خرچ آئے گا میں دینے کے لیے تیار ہوں۔“
میں نے بہت شکریہ ادا کیا اور انکار کر دیا۔ چلتے وقت دروازے تک چھوڑنے کے لیے آئے اور ایک لفافہ دیتے ہوئےکہا:
’’ اس لفانے میں میرےایک دوست کا پتا ہے جو بمبئی میں رہتے ہیں۔ کبھی بھی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو چلے جانا۔ ‘‘ بمبئی آنے کے کئی مہینے کے بعد ایک دن وہ لفافہ میرے ہاتھ آ گیا۔ میں نے لفافہ کھول کے دیکھا۔ اس میں ایک پتاتو تھا مگر اس کے ساتھ ہی دس روپے کا ایک نوٹ بھی تھا اور نوٹ کے اوپر لکھا تھا:’’سفر خرچ کے لیے، دعا کے ساتھ۔‘‘
بڑے پاپا سے میری آخری ملاقات ان کے مرنے سے دو دن پہلے ہوئی ۔ میں اپنی بیوی اور بچی کو لے کر رام پور گیا تو بڑے پاپا کے سلام کو بھی گیا۔ دیوان ہاؤس کی رونق بہت کم ہوگئی تھی۔ انگور کی گھنی بیلیں اب اتنی گھنی نہیں تھیں اور ان کے پتے پیلے ہو گئے تھے۔ نیم کے اوپر چڑھی ہوئی گلو کی بیل ، لوگ جس کے ٹکڑےکھانسی اور دمے کے لیے لے جایا کرتے تھے ، سوکھ گئی تھی۔ برآمدے کی محراب پر پھیلی ہوئی پیلے گلابوں کی بیل غائب تھی اور کبوتروں کی آوازیں بند تھیں۔ چاروں طرف ایک عجیب سا سناٹا پھیلا ہوا تھا۔ بڑے پاپا بیمار تھے اور آنکھیں بند کیے لیٹے تھے۔ بڑی اماں سرہانے بیٹھی رومال ہلا رہی تھیں ۔ میں نے اشارے سے خیر خیریت پوچھی اور لوٹنے لگا۔ بڑی اماں نے میرا نام لیا تو فوراً آنکھیں کھول دیں۔ بڑی اماں نے کہا ،’’ بہو آئی ہے،‘‘ تو اٹھ کر بیٹھ گئے۔ مجھے، فریده اورلبنیٰ کو پیار کیا۔ پھر وہ تمام رسمیں ادا کی گئیں جو بہو کے آنے پر ہوتی ہیں۔ آرتی اتاری گئی، تلک دیا گیا، ایک جوڑا، ایک سو ایک روپے کی سلامی وغیرہ وغیرہ...
بڑے پاپا کو اس کمزور اور مرجھائی ہوئی حالت میں دیکھ کر میرا دل بھر آیا، پھر بھی ڈرتے ڈرتے بولا ’’پاپا، اگر آپ اجازت دیں تو آپ کی ایک تصویر لے لوں؟“ فوراً راضی ہو گئے ۔ ان کی کرسی پیلی ہوتی دھوپ میں رکھوادی گئی ۔ بڑے پاپا شال لپیٹ کر بیٹھ گئے۔ اس وقت گھر میں جتنے بھی بچے و بڑے تھے، سب ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور میں نے تصویر کھینچی ۔ دس دن بعد خبر ملی کہ بڑے پاپا دنیا میں نہیں رہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک خط بھی ملا جس میں لکھا تھا کہ وہ تصویر جومیں نے اتاری تھی، وہ بڑے پاپا کی آخری تصویر تھی، اگر اس تصویر کی ایک کاپی مل جائے تو بڑی مہربانی ہوگی ۔ میں نے وہ تصویر انلارج کرا کے سریش صاحب کوبھیج دی ۔ یہی وہ تصویرتھی جسے پہچان کرلبنیٰ بہو سے بیٹی بن گئی تھی۔
سریش صاحب زندہ ہیں۔ لکھنو ٔمیں رہتے ہیں ۔ اور میں جب بھی لکھنؤ جانتا ہوں، کم سے کم ایک وقت کا کھانا ان کے وہاں ضرور کھاتا ہوں ۔ اور جتنا وقت ملتا ہے، ہم دونوں دیوان ہاؤس کی باتیں کرتے ہیں، بڑے پاپا کی باتیں کرتے ہیں اور ان رشتوں کی باتیں کرتے ہیں جو کسی دھرم یا مذہب کی سمجھ میں نہیں آسکتے ، کیوں کہ یہ دل کے رشتے ہیں، اور دل نہ ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان!