حجیانی
حجیانی
آدھی صدی بعد اپنے گھر کو دیکھا تو آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔
اس لمبی چوڑی حویلی کے تین ٹکڑے کر دیے گئے ہیں ۔ ایک حصے میں ایک اسکول ہے، دوسرے میں ایک اونچی کی رہائشی عمارت کھڑی ہے۔ حویلی کے صحن میں، جہاں کبھی پھلوں سے لدے ہوئے درجنوں پیڑ ہوا کرتے تھے، اب گھاس کا ایک جنگل دکھائی دیتا ہے جس میں ویرانی اور اداسی کے سوا کوئی نہیں رہتا۔
ٹوٹے ہوئے پھاٹک کی دراروں میں سے گھاس کے جنگل کو دیکھتے دیکھتے بہت کچھ یاد آنے لگا ، بالکل اسی طرح جیسے کچی نیند کا دھندلا سا خواب یاد آتا ہے۔
یہ ویران حویلی کسی وقت بھری ہوئی بھی تھی۔
پھاٹک پر مونڈھاڈالے ایک بزرگ بیٹھے رہا کرتے تھے۔ ان کا نام تو پتا نہیں کیا تھا، شاید عزیز خاں یا اسحاق خاں ر ہا ہو گا ۔ بڑے میاں کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ پھاٹک کے ساتھ لگا ہوا ایک آوٹ ہاؤس جیسا تھا۔ اس میں نوکروں کا ایک خاندان رہا کرتا تھا۔ خدمت گار کا نام برکت یا کرامت تھا۔ اس کی ایک بڑی بدصورت موٹی سی بیوی تھی اور بیوی ہی کی شکل کی ایک بیٹی بھی تھی۔ دونوں ماں بیٹیاں قد کی لمبائی کو چھوڑ کر بالکل ایک جیسی دکھائی دیتی تھیں ۔ بیٹی کی تو صورت دیکھتے ہی غصہ آنے لگتا تھا۔ نالائق ہر وقت دونوں ہاتھوں سے سر کھجاتی رہتی تھی اور اپنے باپ کو ’’باپ‘‘ کہتی تھی ۔ وہ جب بھی منہ پھاڑ کر چلاتی : ’’با آآ آپ...‘‘ تو اس کا گلا گھونٹ دینے کو جی چاہتا۔ بد ذات لڑ کی ابو، ابا، با با کچھ بھی پکار سکتی تھی مگر وہ کہتی تھی باپ۔
اس کا باپ ، برکت یا کرامت جو بھی تھا، کچھ ہر فن مولا قسم کا آدمی تھا۔ جب دیکھو حویلی کےاندر کچھ نہ کچھ کرتا رہتا تھا۔ کبھی باورچی خانے کی کھپریل ٹھیک کر رہا ہے، کبھی کرسی میں کیل ٹھونک رہا ہے ،کبھی نیم کے پیڑ پر چڑھا ہوا بچوں کے لیے جھولا ڈال رہا ہے اور کبھی ہماری چھوٹی سی کھیتی کو کنوئیں سے پانی دے رہا ہے۔ اس کو کبھی کوئی ایک یا ایک جیسا کام کرتے نہیں دیکھا، شاید اس کا یہی کام تھا۔ اس کی موٹی کی بیوی آنگن میں جھاڑو دیتی تھی اور پیڑوں کے سوکھے پتے جمع کر کے ہر روز رات کو جلاتی تھی تا کہ مچھر بھاگ جائیں ۔ آنگن کے آخری حصے میں ایک بارہ دری جیسی تھی جس میں اوپر نیچے کئی کمرے تھے۔ یہ کمرے ہمیشہ بہت ٹھنڈے رہا کرتے تھے کیوں کہ ان کے اوپر نیم کا ایک بڑا سا پیڑ سایہ کیے رہتا تھا، اور آم کا پیڑ دھوپ کو اندر نہیں آنے دیتا تھا۔ ان کمروں میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی مہمان ٹھہرارہتا تھا۔ پتا نہیں کون کون وہاں آیا اور رہا۔ مجھے ایک پیر صاحب یاد ہیں، اس لیے کہ وہ بانسری بہت اچھی بجاتے تھے، اور کمال یہ تھا کہ ہونٹوں سے نہیں بلکہ ناک سے بجاتے تھے۔ میرے کمرے کی کھٹر کی بارہ دری کی طرف کھلتی تھی۔ کبھی کبھی صبح کے اندھیرےمیں جب ان کی بانسری کی آواز آتی تو لیٹا ہوا چپ چاپ سنتا رہتا۔ میرے برابر والا بڑا کمره دادی کا تھا۔ گھر میں ایک بیٹھک بھی تھی جس کا ایک دروازہ سڑک کی طرف کھلتا تھا، جس میں چھوٹے چچا نے اپنا مطب قائم کر رکھا تھا۔ وہ ہومیوپیتھی کے ڈاکٹر تھے۔
امرود، انجیر، لیموں، سنترے اور لوکاٹ کے پیڑوں سے ملی ہوئی جو لمبی کھپریل تھی، اس میں باورچی خانہ، گودام اور ایک بڑا سا کمرہ تھا جس میں حجیانی رہا کرتی تھیں، اور یہ سارا علاقہ ان کی عملداری میں تھا۔ اس میں دادی کے سوا کسی کو پھٹکنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ حد یہ ہے کہ دادی کی منہ چڑھی مرغیاں بھی دور دور ہی رہتی تھیں۔ اگر کبھی کوئی مرغی یا مرغا اپنی اوقات بھولا اور باورچی خانے تک آیا تو حجیانی چمٹا یا پھکنی پھینک کرایسانشانہ لگا تیں کہ لینے کے دینے پڑ جاتے ، اور ساری مرغیاں چیختی چلاتی پر پھڑ پھڑاتی دور بھاگ جاتیں۔ بس موتی بیگم کو اجازت تھی کہ وہ حجیانی کے پاس ایک پیڑھی پر آنکھیں بند کیے بیٹھی رہا کریں اورحویلی والوں کے لیے دعا کرتی رہیں۔ موتی میری بلی کا نام تھا۔ اس کا رنگ بالکل سفید تھا۔ چاندنی پربیٹھی ہوتی تھی تو نظر بھی نہیں آتی تھی۔ مجھے اس کی آنکھیں اب تک یاد ہیں، جو بہت خوبصورت تھیں۔ چمکتے ہوئے گہرے ہرے رنگ کی بڑی بڑی آنکھیں اور ان کے بیچ میں بادامی رنگ کی پُتلی۔
حجیانی بہت ننھی منی سی تھیں ۔ سر پر کھچڑی بال، گہرے سانولے چہرے پر بہت سی جھریاں، بہت چھوٹی چھوٹی مگر چمکتی ہوئی آنکھیں، چھوٹی سی ناک جس میں چاندی کی بڑی سی لونگ جو دور سے مے کی طرح دکھائی دیتی تھی، کان اوپر سے نیچے تک چھدےہوئے تھے جن میں چاندی کی چھوٹی چھوٹی بالیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ بالیوں میں لال ہرے اور سفید موتی جھولتے رہتے تھے اور ان کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ ان کا اوپری حصہ دوہرا ہو گیا تھا۔ کان کا یہ زیور بالی پتے کہلاتا ہے۔ مجھے یقین ہے یہ بالی پتے جب سے ان کے کانوں تک پہنچے تھے نہ کبھی اترے تھے اور نہ کبھی صاف ہوئے تھے۔ ہاتھوں میں چاندی کی دو دو چوڑیاں پڑی ہوئی تھیں جو ہر وقت دھلتے رہنے کے باوجود کالی ہی رہتی تھیں۔ ہاتھوں کی نسیں ابھر آئی تھیں، اور ناخن تو دکھائی ہی نہیں دیتے تھے۔ پیر میں موٹے چمڑے کی جوتی پہنتی تھیں جس کا پچھلا حصہ ایڑی کے نیچے دبا رہتا تھا۔ سیدھی کاٹ کا چست پاجامہ جس کا نچلا حصہ، جس میں چوڑیاں پڑتی تھیں، ہمیشہ کسی دوسرےکپڑےاور دوسرے رنگ کا ہوتا تھا۔ ڈھیلا ڈھالا کرتا جو کرتی سے ذرا سا ہی لمبا ہوتا تھا۔ سر پر تین گز کا دوپٹہ جو زیادہ تر کسی موٹے کپڑے کا ہوتا تھا اور جس پر رنگین گوٹ لگی ہوتی تھی تا کہ اوڑھنی کے کام بھی آسکے۔
حویلی میں حجیانی کی وہی حیثیت تھی جو انگریزوں کے راج میں ریاست کے ریزیڈنٹ کی ہوا کرتی تھی۔ کہنے کو ہر ریاست میں کسی راجہ مہاراجہ یا نواب کی حکومت ہوتی تھی مگر حکم چلتا تھا ریزیڈنٹ بہادر کا۔ یوں تو وہ نوکرانی تھیں، چھوٹی سی تھیں جب یہاں آئی تھیں ۔ یہیں ان پر جوانی آئی ، یہیں سے ان کی شادی ہوئی ،مگر شادی کے بعد بھی وہ کبھی سسرال نہیں گئیں ۔ بلکہ ان کے شوہر کو حویلی میں ہی ایک کوٹھری دے دی گئی تھی۔ حجیانی کا بیٹا جمّا اسی گھر میں پیدا ہوا۔ مگر بیچاری حجیانی جوانی میں ہی بیوہ ہوگئیں۔ مچھلی کی بڑی شوقین تھیں اور ان کا فدوی قسم کا شوہر ہر ہفتے ندی سے ٹوکری بھر کے مچھلی پکڑ لاتا اور سب کو کھلاتا۔ ایک دن شکار کھیلنے گیا۔ گرمی کے دن تھے۔ لوٹا تو رستے میں لُو لگ گئی،غریب شام تک ٹھنڈا ہو گیا۔ بچے کو اس کا دادا لے گیا، اس نے پالا ۔ حجیانی جوان تھیں، بہت زور لگا مگر انہوں نے اپنی دوسری شادی کے لیے ہاں نہیں کی ۔ البتہ بیٹے کی شادی بڑی دھوم دھام سےکی ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی میں وہی چار دن تھے جب وہ حویلی سے غائب رہیں۔ بیٹے کو نواب صاحب کے ہاں خاص باغ پیلس میں پہرے دار کی نوکری مل گئی تھی۔ ایک سرکاری کوارٹر بھی ملا ہوا تھا۔ اس نے بہت ہاتھ پاؤں جوڑے، سب سے سفارش بھی کرائی مگر حجیانی نے کبھی ایک رات بھی اس کے گھر میں نہیں گزاری۔ دادی یعنی بڑی بیگم کی بہت منہ چڑھی تھیں ۔ انہیں جواب دینے بلکہ ڈانٹ دینے کی ہمت اگر کسی میں تھی تو وہ حجیانی ہی میں تھی۔
خاندان میں سب لوگ انہیں حجیانی کہا کرتے تھے حالاں کہ انہوں نے حج نہیں کیا تھا۔ قصہ کچھ یوں مشہور ہے کہ وہ بمبئی گئی ضرور تھیں مگر پانی کو دیکھ کر انہیں چکر آنے لگے۔ بیمار ہوگئیں اور ایسی بیمار ہوئیں کہ جہاز جدہ چلا گیا اور حجیانی اسپتال ۔ مگر جب حاجیوں کے پہلے قافلے کے ساتھ اپنے گھر واپس آئیں تو حجیانی مشہور ہو گئیں ۔ حالاں کہ ان بیچاری نے کبھی نہیں کہا کہ وہ حج کر کے آئی ہیں مگر یہ لفظ حجیانی ان کے نام کے ساتھ آخر تک جڑارہا، بلکہ ان کا نام ہی بن گیا۔
جب میں نے ہوش سنبھالا تو اس حویلی میں، جو ہمیشہ بھری رہتی تھی ، صرف تین آدمی تھے۔ ایک میں، میری دادی اور حجیانی، جنہیں میں میّا ں کہا کرتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب زمیندار یاں ختم ہوچکی تھیں ۔ گاؤں سے جو پیسہ اور اناج آیا کرتا تھا، بند ہو چکا تھا اور وہ پیسہ جو آڑے وقتوں کے لیے بچا کے رکھ لیا گیا تھا، سرکاری افسروں اور وکیلوں کی جیبوں میں جارہا تھا کیوں کہ حکومت سے مقدے بازی ہورہی تھی اور بات ہائی کورٹ تک پہنچ چکی تھی۔ پھاٹک پہ بیٹھنے والے بڑےمیاں مر چکے تھے۔ برکت اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کے کسی گاؤں میں چلا گیا تھا۔ بانسری بجانے والے پیر نرالے میاں پیشکار صاحب کے گھر ٹھہر نے لگے تھے، اور چھوٹے چچا کی ڈسپنسری چوک کی ایک دکان میں منتقل ہوگئی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس گھر سے لوگ ہی نہیں گئے ، آوازیں بھی چلی گئیں ۔ ہم تینوں آپس میں بہت کم بولتے تھے، اور بات کرنے کو تھا بھی کیا۔ گرمی کی تپتی ہوئی دو پہر جیسا سناٹا تھا جو ہر وقت چاروں طرف پھیلا رہتا تھا۔ مگر اپنا گھر چاہے ویران ہو یا بھرا ہوا، اپنا ہی ہوتا ہے، اس لیے دادی اور میں تو اسے چھوڑ کر جا ہی نہیں سکتے تھے ۔ میری بلی موتی کا بھی کوئی دوسرا ٹھکا نہ نہیں تھا، وہ بھی ساتھ رہتی تھی۔ مگر حجیانی ہمارےساتھ کیوں تھیں، اس کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن دادی یعنی بڑی بیگم نے سارے نوکروں کو جمع کیا اور سب کا حساب صاف کر دیا۔ بے چارے دوتین ہی تو رہ گئے تھے۔ گجر یا بھنگن اور مسیتا بھشتی کو چھوڑ کر، سبھی آنسو پونچھتے اور دعائیں دیتے چلے گئے ۔
حجیانی بڑے آرام سے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں چکماتی رہیں اور منہ میں رکھا پان چباتی رہیں ۔ جب سب چلے گئے تو بڑی بیگم نے ایک لمبی ٹھنڈی سانس لی اور حجیانی کی طرف مڑیں ،مگران کے منہ کھولنے سے پہلے ہی حجیانی جھپاک سے انہیں اور سامنے آ کر کھڑی ہوگئیں۔انہوں نے سر پہ دو پٹہ ٹھیک کیا اور کمر پہ ہاتھ رکھ کے ذراسی ٹیڑھی ہوگئیں ۔منہ سے جو آواز نکلی وہ بھی عام دنوں کے مقابلے میں دوسُر اونچی تھی: ’’کیا میرا حساب بھی صاف کر رہی ہو؟“
بڑی بیگم نے تھکی تھکی آنکھوں سے حجیانی کو دیکھا اور بہت دھیرے سے بولیں ،’’ تجھے تو سب کچھ معلوم ہے ، حجیانی ۔ اب اللہ کے سوا کوئی آسرا نہیں ۔ نہ کسی اور سے کوئی امید ہے۔ میں تو فاقہ بھی کرلوں گی مگر میرے خدمت گار بھو کے رہیں ، یہ نہیں دیکھا جائے گا ۔‘‘ بڑی بیگم نے لال مخمل کی ایک پرانی سی تھیلی جس میں چاندی کے کچھ روپے بچے ہوئے تھے، حجیانی کی طرف بڑھادی۔’’ اس میں سے جتنا چاہے اٹھا لے۔ ہمارا کہاسنا معاف کردینا۔“
حجیانی نے زور سے سر ہلا یا اور اس اونچی آواز میں تڑ سے بولیں،’’ ایسے نہیں جاؤں گی بی بی ، حساب صاف کرنا ہے تو پورا حساب کرو ۔“
بڑی بیگم نے حیرت سے حجیانی کو دیکھا۔’’ کیا مطلب ہے تیرا؟“
’’سات برس کی تھی جب آئی تھی اس گھر میں ۔ پانچ او پر پچاس برس ہو گئے خدمت کر تے کرتے ۔ کرلوحساب ۔ وہ جو ملکہ بیگم کے گھر میں نصیین کام کرتی ہے، ہنڈیا میں چمچہ گھمانا بھی نہیں آتا جھانپل کو ،مگر مہینے کے مہینے سات روپے گنوالیتی ہے ۔ میں اس سے بھی گئی گزری ہوں کیا ؟ کسی شادی بیاہ میں جو کچھ دیا ہے وہ کاٹ کے جوڑو تو بھی ہزاروں روپے ہوتے ہیں ۔ اور نہیں تو کیا؟ ... یہ کیا چاندی کے چار روپے دکھارہی ہو۔“
کوئی دوسراوقت ہوتا یا کوئی دوسرا نوکر ہوتا تو اب تک جو تے مارکر حویلی کے پھاٹک سے باہر نکال دیا گیا ہوتا۔ مگر ایک تو یہ کہ حجیانی بڑی بیگم کی منہ چڑھی بلکہ لاڈلی تھیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ جو کچھ کہہ رہی تھیں وہ بالکل درست تھا۔ بڑی بیگم نے سر جھکا لیا۔ انہیں حجیانی کے غصے پر بہت پیار آیا، آنکھوں میں آنسو بھی آ گئے ۔انہوں نے ایک لمبی سانس کھینچی اور بولیں ،’’یہ غصہ دکھانے کا وقت نہیں ہے، حجیانی تو جا، اپنے بیٹے بہو کے ساتھ رہ۔ تیری دو روٹی انہیں بھاری نہیں ہوگی ۔اگر ہمارا وقت بدل گیا تو پھر بلالیں گے ۔“
حجیانی چمک کر بولیں ”اے تم کون ہوتی ہو میری روٹی کا بندوبست کر نے والی!. . . روٹی کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ میں جمّا کے ساتھ رہوں یا اس گھر میں ، میرے حصے کا رزق مجھے مل جائے گا۔تم اپنی سوچو۔“
بڑی بیگم بہت دیر تک حجیانی کو دیکھتی رہیں ، پھر اپنا پاندان اٹھا یا اور چپ چاپ اپنے کمرےمیں جا کے بیٹھ گئیں۔
حجیانی نے کمرے کی طرف منہ کیا اور بہت زور سے بولیں ،’ خاطر جمع رکھو، میں اتنی آسانی سے نہیں جانے والی ہوں ۔ اصل نسل کی کہاری ہوں ، اصل نسل کی ۔ نمک کھایا ہے تو نمک کا حق بھی ادا کروں گی ۔‘‘ انہوں نے روپوں کی تھیلی کمرے کی چوکھٹ پہ رکھی اور بڑبڑاتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئیں۔
اس دن کے بعد پھر کبھی کسی نے حجیانی کو جانے کے لیے نہیں کہا۔ وہ ہمارے ساتھ بالکل اس طرح رہتی تھیں جیسے کوئی قریبی رشتے دار ہوں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں کچھ نہیں ملنے والا ہے، وہ اپنے تمام کام اسی طرح کرتی رہیں جس طرح کرتی آئی تھیں، بلکہ باقی نوکروں کے جانے کے بعدان کا کام بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ فجر کی نماز پڑھ کے سارے گھر میں جھاڑو لگاتیں، پیڑوں میں پانی ڈالتیں ، چائے بنا تیں اور ٹرے میں سجا کے دالان میں بچھی ہوئی چوکیوں کے فرش پہ رکھ دیتیں ۔ جب سے بارہ آدمیوں کی ڈائننگ ٹیبل اور اس کے ساتھ کی آبنوی کرسیاں بکی تھیں، یہ چوکیاں ہماری ڈائننگ ٹیبل بن چکی تھیں۔اگر گھر میں پیسے ہوتے تو موٹے موٹے گول بسکٹ اور ڈھائی آنے والی سفید مکھن کی ٹکیہ ناشتے میں ملتی ، ورنہ رات کی باسی روٹی کونمک مرچ کے پانی میں گیلا کر کے ذراساتل دیتیں ۔ باسی روٹی کے وہ پراٹھے چائے کے ساتھ کھانے میں جومزہ آیا کرتا تھا وہ اب کسی بر یک فاسٹ میں نہیں آتا۔
سارے زیور اور چاندی کے برتن تو پہلے ہی بک چکے تھے۔گھر کا وہ تمام سامان بھی جوضروری نہیں تھا، پرانا گنج کے ایک کباڑی کی دکان پر جا چکا تھا ۔ دادی کے پاس ایک گلوبند رہ گیا تھا، یا شاید انہوں نے جان بوجھ کر روک لیا تھا۔سونے کا بڑا خوبصورت گلو بند تھا۔ایک ایک انچ کے سات آٹھ ٹکڑے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔اس کی خوبی یہ تھی کہ اسے دونوں طرف سے پہنا جاسکتا تھا۔
ایک طرف سفید کندن تھا اور دوسری طرف سبز مینا۔ وہ اسے میری دلہن کو منہ دکھائی میں دینا چاہتی تھیں ۔ مگر روٹی دلہن کی منہ دکھائی سے زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے جب بھی حجیانی بازار جانےسے پہلے پیسے مانگنے کے لیے کھڑی ہوئیں تو دادی چھالیہ کانٹے کا سرو تا پا ندان میں سے نکالیں، اس اندھیرے کمرے میں جاتیں جہاں کچھ صندوق اب بھی رکھے ہوئے تھے، کسی ایک صندوق سے ایک ڈبہ نکا لتیں، اسے کھول کر اس میں رکھے ہوئے گلو بند کو دیر تک دیکھتی رہتیں ۔ پھر سروتے سے سونے کا ایک ٹکڑا کاٹتیں اور حجیانی کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیتیں۔
ٹکڑ اٹکڑا کر کے وہ گلو بند بک گیا اور دھیرے دھیرے گھر بھی سامان سے خالی ہو گیا۔ اونچی اونچی الماریاں ، جن میں جرمن کانچ لگے ہوئے تھے ، ٹی سیٹ اور ڈنرسیٹ جن کے او پر جارج پنجم اور ملکہ میری کی تصویریں بنی ہوئی تھیں ، ہاتھ کے بنے ہوئے کانچ کے گلاس جن کے او پرسنہری کام کیا ہوا تھا ، ہاتھی دانت کے پایوں والی مسہری، تا نبے پیتل کے برتن اور نہ جانے کیا کیا۔ ایک تو وہ حویلی تھی ہی بڑی ، خالی ہوئی تو اور بھی بڑی معلوم ہونے لگی ۔ پہلی مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ گھر ویران ہوتو ڈر لگتا ہے، چاہے وہ اپنا ہی کیوں نہ ہو۔ بات یہاں تک پہنچی کہ مرغیاں اور پیڑوں کی فصلیں بھی بیچ دی گئیں ۔ صاحب جان پھل والا آیا اور کاغذی لیموں تین روپے سینکڑ ا کے حساب سے گن کے لے گیا۔ سنترے، لوکاٹ اور انجیرتو بہت کم تھے مگربیس سیر کچے پپیتے کے دام بہت اچھے ملے۔
یہ سب مول بھاؤ حجیانی کیا کرتی تھیں ۔ دادی تو تسبیح ہاتھ میں لے کے دالان میں ٹہلتی رہتیں یا پھر کسی در سے کندھا ٹکا کے کھڑی ہو جاتیں اور چپ چاپ ان چیزوں کو باہر جاتے دیکھتی رہتیں جو انہوں نے بڑے ارمانوں سے جمع کی تھیں اور جو پھر کبھی واپس نہیں آنے والی تھیں ۔ اور ایک دن ایسا بھی آیا جب اس پانچ ہزار گز میں پھیلی ہوئی بائیس کمروں والی حویلی میں ایک چیز بھی ایسی نہیں بچی جسے بیچ کر پاؤ بھر آٹا منگایا جا سکے۔
ایسا نہیں تھا کہ اگر مانگا جاتا تو کوئی انکار کر دیا۔ آس پاس کے سارے گھر رشتے داروں کے تھے اور ماشاء اللہ سبھی کھاتے پیتے تھے۔ مگر وہ ہاتھ بڑی بیگم کا ہاتھ تھا، جو اپنی اولاد کے سامنے نہیں پھیلا تو کسی اور کے آگے کیسے پھیل سکتا تھا۔ اس رات میں کچھ کچے پکے امرود کھا کے سوگیا۔ موتی رات بھر بھوک سے بلبلاتی رہی اور دادی کے پیروں میں لوٹتی رہی، جو ہاتھ میں تسبیح لیے دالان کے اس کونے سے اس کونے تک چکر لگا رہی تھیں ۔ دوسرےدن صبح جب میں سوکر اٹھا تو دادی پریشانی کے عالم میں گھوم رہی تھیں ۔ پتا چلا کہ حجیانی غائب ہیں ۔پھاٹک کا چھوٹا دروازہ کھلا ہوا تھا، پھر بھی ساراگھر چھان مارا۔ زور زور سے آوازیں دیں، پاخانہ،غسل خانہ بھی دیکھ لیامگر ان کا کہیں پتانہیں تھا۔ کئی بار دروازے پہ جا کے باہر دیکھا۔ ایک بار تو کنویں کے اوپر رکھا ہوا ٹین کا ٹکڑا ہٹا کے کنویں میں بھی جھانکا۔ دن چڑھتے چڑھتے دادی کی پریشانی غصے میں بدل گئی ۔”اے خدا غارت کرے، اللہ ماری کو جانا تھا تو بول کے چلی جاتی ۔ پتا نہیں کہاں جا کے مرگئی بدذات۔ بیٹا ذرا جا کے دیکھ کے تو آ۔ کسی کے گھر میں بیٹھی ہوئی باتیں بنارہی ہوگی۔ ‘‘
مجھے بھی ان کا جانا کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ بنابولے اچانک غائب ہوگئی تھیں بلکہ اس لیے کہ وہ گھر میں ہوتیں تو ناشتے کے نام پر کچھ نہ کچھ ضرور کھلا دیتیں۔
میں نے آس پاس کے سارے گھر دیکھ ڈالے گر حجیانی کا کوئی پتا نہیں تھا۔
دادی تسبیح لیے ہوئے دالان میں ٹہل رہی تھیں اور بار بار جیسے خود سے پوچھتی تھیں، ’’کہاں جاسکتی ہے؟ پتانہیں کہاں گئی ہوگی ؟ نامراد کو برابر دکھائی بھی تو نہیں دیتا۔ ٹھوکریں کھاتی چلتی ہے۔ کسی ٹھیلے تانگے کے زد میں آگئی ہوگی...کم بخت بول کے جاتی تو زبان گھس جاتی کیا...‘‘
دوپہر کو جب سورج سر پر آگیا، نیم کا ٹھنڈا سایہ سمٹ کر اس کی جڑوں میں چھپ گیا اور آم کے پتوں سے گرم ہوا نکلنے لگی تو کسی نے زنجیر عدل کھینچی ۔
یہ زنجیر عدل ایک لمبی سی رسی تھی جس کا ایک سرا دروازے پر بندھا ہوا تھا اور دوسرےسرے پر ایک بڑی سی گھنٹی تھی جیسی بیلوں کے گلے میں ڈالتے ہیں، اور یہ گھنٹی لیموں کے پیڑ سے لٹکی رہتی تھی۔ دروازے سے دالان کافی دور تھا۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ کنڈی کھڑکھڑانے کی آواز نہیں پہنچتی تھی ، اور گھر میں الیکٹرسٹی تو تھی نہیں کہ بجلی کی گھنٹی لگائی جا سکے، اس لیے میری ذہانت نے یہ راستہ نکال لیا تھا۔
گھنٹی زور زور سے کئی بار بھی اور موتی میاؤں میاؤں کرتی ہوئی لپکی تو میں سمجھ گیا کہ میّا آگئی ہیں ۔ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے پیسنے میں نہائی ہوئی ، ہاتھوں میں دو بڑے بڑے تھیلے اٹھائے، حجیانی دکھائی دیں ۔ انہوں نے سامان چوکی پر رکھا اور ہانپتے ہوئے پسینہ پونچھنے لگیں ۔ تب تک دادی بھی کمرے سے باہر آ چکی تھیں ۔ حجیانی کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئیں ۔ ’’کہاں مر گئی تھی تو ؟ بول کے جاتی تو منہ میں دانہ نکل آتا کیا؟‘‘
’’چلاؤ مت ! جمّا کے پاس گئی تھی،‘‘حجیانی نے تڑسے جواب دیا۔
’’خدا تجھے غارت کرے،، اگر مجھے بتا کے جاتی تو کیا میں تجھے روک لیتی؟ صبح سے یہ وقت ہوگیا، بچہ پریشان، گھر گھر میں ڈھونڈتا پھرا ، اورممتا کی ماری اماں جان بیٹے سے ملنے گئیں!‘‘
’’بتاتی تو تم کبھی نہیں جانے دیتیں۔ اچھی طرح جانتی ہوں تمھیں...‘‘
دادی کی سمجھ میں نہیں آیا،، وہ جھلا کے بولیں،’’ کیوں نہیں جانے دیتی؟...کیا میں نے کہیں آنے جانے سے روکا ہے؟‘‘
حجیانی نے برا سا منہ بنایا اور تھیلے اٹھاتے ہوئے بولیں:”اے اب بس بھی کرو، مجھے بہت کام ہے، میں چلی۔‘‘حجیانی تھیلے اٹھا کے باورچی خانے کی طرف جانے لگیں تو دادی نے روک لیا۔ ’’ان تھیلوں میں کیا لائی ہو؟‘‘
’’کھانے پینے کا سامان ہے۔ بکری کا گوشت بھی ہے۔ گرمی بہت ہے، ابھی نہیں پکایا تو خراب ہوجائے گا۔ اے خدا غارت کرے، آگ لگی ہوئی ہے بازار میں، ہر چیز کتنی مہنگی ہوگئی ہے۔ گوشت ڈھائی روپیہ سیر ہو گیا، وہ بھی ہڈیوں بھرا۔“
دادی نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا اور حجیانی کا راستہ روک لیا۔ ”تو جما سے پیسے لانے گئی تھی؟‘‘
حجیانی نے تھیلے پٹک دیے۔ ”اے بی بی !تمہیں اپنی بھڑاس نکالنے کا دل ہورہا ہے تو نکال لو۔ ہاں گئی تھی! کیوں نہیں جاتی؟ بیٹا ہے میرا۔ حرامی پلے کونو مہینے پیٹ میں رکھا ہے۔ میرا کچھ حق ہے یانہیں؟‘‘
دادی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہیں۔ بہت دیر تک حجیانی کی آنکھوں میں دیکھتی رہیں، پھر بولیں،’’ کیا تو نے اسے بتایا کہ اس گھر میں ...‘‘
’’ اے کیا دیوانی ہوئی ہو! مجھے کیا اللہ کی مارتھی جو میں اپنے دکھڑے لے کے بیٹھ جاتی۔ میں نے کہا، مجھے پیسے چاہیے، اس نے دے دیے۔ الله الله خیرسلّا۔“
’’تونے اچھا نہیں کیا حجیانی۔ تجھے جمّا کے پاس نہیں جانا چاہیے تھا۔‘‘
حجیانی نے اپنا کالا جھریوں بھرا ہاتھ دادی کے سامنے نچایا اور چیخ کر بولیں،’’ یہ اونچی ناک اپنے پاس رکھوسنبھال کے! ہوش کی دوا کرو، ہوش کی۔ معصوم بچہ کل سے بھوکا ہے۔ کچے پھل کھا کے کب تک پیٹ بھرے گا؟ بیمار ہو گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے “
بڑی بیگم نے ہونٹ کھولے۔ ان کی آنکھوں سے لگا جیسے وہ برسں ہی تو پڑیں گی لیکن منہ سے نکلا:’’مگرحجیانی...‘‘
حجیانی تھیلے اٹھاتے ہوئے بولیں،’’ چولہے میں گئی تمہاری اگر اورمگر ... میں چلی۔ تمہیں کھانا ہو تو کھانا نہیں کھانا ہومت کھانا ‘‘۔ حجیانی باورچی خانے کی طرف چل پڑیں۔
موتی ایک تھیلےکو بار بار سونگھ رہی تھی اور زور زور سے چلا رہی تھی۔ حجیانی نے اسے دیکھا اور زور سے ڈانٹا:’’لائی ہوں، مرات پیٹی، تیرے لیے بھی لائی ہوں ۔ مری کیوں جارہی ہے؟‘‘
ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد جب بڑی بیگم نے سلام پھیرا تو حجیانی سامنے کھڑی تھیں ۔ ان کے ہاتھ میں ہمیشہ کی طرح لوٹا اور سلفچی تھا۔ ’’دسترخوان لگ گیا ہے، ہاتھ دھولو۔ میاں کو کھلا دیا ہے۔‘‘
تھوڑی دیر کو ایسا لگا جیسے بڑی بیگم پتھر کی ہوگئی ہوں ۔ وہ جس طرح بیٹھی تھیں اسی طرح بیٹھی رہیں۔
”ارے اب چلونا، قورمہ ٹھنڈا ہوجائے گا تو مزہ بھی نہیں آئے گا۔‘‘
اور پھر جب مدارالمہام، سردار ڈیوڑھی ، افسر ذات خاص، حافظ احمد علی خاں بہادر کی بہو اور تحصیل دار اشرف علی خاں صاحب بہادر کی بیوہ نے چار وقت کے فاقے کے بعد روٹی کا ٹکڑا توڑ اتو اچانک رک گئیں ۔ انہوں نے حجیانی کی طرف دیکھا جو پاس ہی کھڑی تھیں۔’’ تو بھی بیٹھ جاحجیانی ، تو نے بھی تو کچھ نہیں کھایا ہوگا۔‘‘
’’یہ لو، میں بیٹھ گئی تو گرم پھلکا کون لائے گا؟... اللہ! پتھر پڑیں میری عقل پہ، چٹنی رکھنا تو بھول ہی گئی۔ ابھی لائی۔ ‘‘
حجیانی جوتی گھسیٹتی ہوئی تیزی سے باورچی خانے کی طرف بھاگیں۔ بڑی بیگم نے آسمان کی طرف منہ اٹھا یا اور دھیرے سے بولیں: ’’اس نمک کاحق کیسے ادا ہوگا مولا ؟‘‘... پھر سر جھکایا اور نوالہ منہ میں رکھ لیا۔