جاوید صدیقی

جاوید صدیقی

کرسی خالی ہے

    کرسی خالی ہے!

    نیا نیا آیا تھا۔ بمبئی اچھی بھی لگتی تھی اور اجنبی بھی ۔ چھوٹی چھوٹی گلیوں کی عآدمی آنکھوں نے جب چوڑی چوڑی سڑ کوں کو دیکھا تو سہم سی گئیں اور ایسے موقعوں پر جو ہوتا ہے وہ ہونے لگا۔ بھیٹر میں آشنا چہرے اور مانوس نام ڈھونڈنے لگا۔ اس زمانے میں خلافت ہاؤس میں، جہاں میں رہتا بھی تھا اور جہاں سے شائع ہونے والے اخبار روز نامہ خلافت میں کام بھی کرتا تھا، ایک صاحب آیا کرتے تھے، جن کا نام تھا عاشق حسین ڈکا رو ۔ پتلے دبلے، لمبے سے ،چھوٹی چھوٹی تیز آنکھیں، اندر کو دھنسے ہوئے گال، بڑا سا دہانہ ۔ عام طور پر لمبی  سفید شیروانی پہنا کرتے تھے اور سر پر گاندھی ٹوپی رہتی تھی جو کبھی کبھی رامپوری ٹوپی میں بھی بدل جاتی تھی۔ ہاتھ میں چمکتا ہوا کتھئی رنگ کا ایک بید ہوتا تھا جس کے ہینڈل پر چاندی چڑھی ہوئی تھی ۔ آواز بڑی پاٹ دارتھی ۔ خلافت کے دروازے سے آواز لگاتے تھے تو پہلی منزل تک گونج جایا کرتی تھی ۔ لب ولہجہ رامپور کے اکھٹر پٹھانوں جیسا تھا۔ اور گالیاں تو ماشاء الله ... جملوں کے بیچ میں اس طرح آجاتی تھیں جیسے دودھ پر بالائی آجاتی ہے۔ کبھی کبھی تو جملوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی ، گالیوں ہی سے کام چل جاتا تھا۔ ان سے پوچھیے تو وہ کہتے تھے،’’ڈکاروخلص ہے اور مزاحیہ شاعری کرتے ہیں ۔‘‘ جب کہ حقیقت یہ تھی کہ جب عالمگیر کا قورمہ اور حاجی ہوٹل کی بریانی کھا کر ڈکار لیتے تھے تو چوپائے بھی چونک جایا کرتے تھے۔

    انہیں جب معلوم ہوا کہ میں بھی رامپور سے وارد ہوا ہوں ، تو خاص طور سے ملنے کے لیے آئے ۔ اپنا سر ٹیڑھا کر کے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا۔ آنکھوں میں ہنسی  بھی تھی اور محبت بھی، جیسے ایک ہی وقت میں مذاق بھی اڑارہے ہوں اور رحم بھی آرہا ہو۔ میرا حال پوچھا، بمبئی میں آنے کی وجہ پوچھی اور جب تجرے پہ پہنچے تو چونک کر بیٹھ گئے۔ کپ کی چائے ساسر میں ڈال کر پی رہے تھے، وہ میز پر رکھ دی، اور قدرے گرم جوشی سے بولے:” ارےاس کی ماں کی.. تم شجاعت بھائی کے بیٹے ہو؟“

    میں نے سر ہلا دیا تو آواز دبا کر کہنے لگے،’’ شیخ جی، تم غلط جگہ آگئے ہو۔ ایک تو یہ کہ یہ اخبار خلافت کچھ چلتا چلاتا نہیں ہے۔ بس جو پرانے ہیں وہی پڑھتے ہیں ۔ دوسری بات زاہد شوکت علی صاحب، جو روز نامہ خلافت کے مالک اور ایڈیٹر ہیں ، تولہ ماشہ قسم کے آدمی ہیں ۔ مہربان ہیں تو ٹھیک ہے، ناراض ہوئےتو تمہارا ٹین کا بکسا باہر پھنکوا دیں گے۔ اگر صحافت ہی کرنی ہے تو انقلاب میں جاؤ یا ہندوستان میں...‘‘

    میں نے کہا : ” دوسرے اخبار میں گیا تو رہوں گا کہاں؟“

    فرمایا،’’ گرانٹ روڈ پر میرا کمرہ ہے۔ جگہ چھوٹی ہے، میرے دو بھتیجے بھی میرے ساتھ رہتے ہیں مگر تم تو ڈیڑھ پسلی کے آدمی ہو، کہیں بھی فٹ ہو جاؤ گے۔ انقلاب والا  انصاری تو میری صورت دیکھتے ہی بھڑک جائے گا۔ مگر آرزو صاحب اچھے آدمی ہیں، اور اپنے شہر والے بھی ہیں ۔ کہو تو میں بات کروں؟‘‘

    میں نے عرض کیا:’’ ابھی تو سب ٹھیک ہے عاشق بھائی، کچھ گڑ بڑ ہوئی تو آرز وصاحب کےپاس چلا جاؤں گا۔‘‘

    یہ پہلا موقع تھا جب میں نے آرزو صاحب کا نام سنا تھا۔ کچھ دن بعد انہیں دیکھا بھی۔ زاہد صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو زندگی کا پورا مزہ لے کے جیتے ہیں، اس ندیدے بچے  کی طرح جو آئس کریم کھاتا ہے اور جب آئس کریم ختم ہوجاتی ہے تو اس کی ڈنڈی چاٹنا بھی نہیں بھولتا۔ روز شام کو خلافت ہاؤس کے کمپاؤنڈ میں بچھی ہوئی لکڑی کی سفید بنچیں دھوئی جاتیں، کپڑے سے پونچھی جاتیں، ان کے سامنے میزیں لگائی جاتیں، ایک بڑا سا بلب روشن کیا جاتا اور زاہد صاحب کی محفل جمتی۔ واہ ،کیا محفلیں تھیں ! وہ کون سا نام والا تھا جو وہاں نہیں آتا تھا۔ ایسی ہی ایک محفل تھی جس میں آرزو صاحب پہلی بار نظر آئے۔

    آرزو صاحب خوبصورت آدمی تھے، اور جوانی میں تو بہت ہی خوبصورت رہے ہوں گے۔ کوئی چھ فٹ کا قد، سرخ و سفید رنگ، ہلکے رنگ کی آنکھیں اور ہونٹوں پر پان کا لا کھا جو مسکرانے پر ہی دکھائی دیتا تھا ، ایک ڈھیلی ڈھالی پتلون اور کچھ اسی قبیل کی بش شرٹ ۔ آرزو صاحب دھیرے سے بولتے تھے اور بہت میٹھا بولتے تھے۔ میں نے ان کی اونچی آواز ایک دو بار سے زیادہ نہیں سنی۔

    یہ سڑک جو آج کل مولانا آزاد روڈ کہلاتی ہے، کسی زمانے میں رِپن روڈ ہوا کرتی تھی۔ اردو کے دو اخباروں، خلافت اور اجمل، کو چھوڑ کے، سب کے دفاتر اسی سڑک پر تھے۔ یہیں سے انقلاب بھی نکلتا تھا ، اقبال بھی ، آج اور آشکار کے دفتر بھی نہیں تھے، اردو ٹائمزبھی یہیں سے شائع ہوتا تھا، بمبئی ویکلی اور کہکشاں بھی۔ اس سڑک پر سب سے پہلا دفتر ہندوستان کا تھا۔ رولیکس ہوٹل کے اوپر، لکڑی کی پرانی بالکنی میں سے روز نامہ ہندوستان کا بورڈ جھانکتا رہتا تھا۔ پان کی دکان کے برابر دروازہ تھا، لکڑی کی پرانی زمانہ دیدہ اور زخم خوردہ سیڑھیاں اوپر جاتی تھیں۔ دفتر میں تین کمرے تھے، جس میں سے ایک کمرے کو لکڑی کا پارٹیشن لگا کر دو کمرے بنادیے گئےتھے۔ پہلے کمرے میں بہت سے کاتب گندے زیرمشق کے اوپر، پیلے مسطر بچھائے کتابت کرتے دکھائی دیتے تھے۔ پارٹیشن کی دوسری جانب ایک بڑی سی میز کے پیچھے آرز وصاحب براجمان ہوتےتھے۔ ان کے داہنے ہاتھ پر ایک دروازہ تھا جو بالکنی میں نکلتا تھا اور جس کی ریکنگ میں سے سڑک پر دوڑتی بھاگتی زندگی ہر وقت دکھائی دیتی رہتی تھی۔

    آرزو صاحب یہاں کب آئے تھے، انہوں نے یہ اخبار کب نکالا تھا، اس دفتر میں، اس کرسی پر کب آ کر بیٹھے تھے، مجھے نہیں معلوم ۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ میں نے جب بھی انہیں دیکھا۔یہیں دیکھا، اس پرانے نشانِ راہ کی طرح جو چپ چاپ سردی، گرمی، برسات جھیلتا رہتا ہے اور گزرنے والوں کو رستہ بتاتا رہتا ہے۔

    میرا خیال ہے میں نے یح لفظ استعمال کیا۔ آرزو صاحب چ مچ نشان راہ تھے۔ دنیا بدلی، سیاست بدلی صحافت بدلی صحافی بد لے مگر آرزوصاحب بھی نہیں بدلے۔

    وہ جن اصولوں کو مانتے تھے ان پر آخر تک قائم رہے۔ وہ مارکسسٹ نہیں تھے مگر سرمائے کی ناہموارتقسیم کے خلاف تھے۔ ظلم وزیادتی اور استحصال کے خلاف ہمیشہ لڑتے رہے۔

    ایک زمانے میں جب اردو اخباروں نے ان چور مشتہرین کے خلاف آواز اٹھائی جو کمپنیوں سے پورے پیسے لیتے تھے مگر اخباروں کو پچاس فیصد اور کبھی کبھی اس سے بھی کم دیتے تھے، تو آرزو صاحب وہ پہلے آدمی تھے جو اپنے اختلاف بھول کر ہر اردو اخبار کے دفتر میں گئے اور ہر اخبار والے کوراضی کیا کہ وہ متحد ہو کر مشتہرین کی دھاندلی کا مقابلہ کرے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہفتوں ہندوستان میں ایک بھی اشتہار نہیں چھپا۔ اور اشتہار کے بغیر اخبار نکالنا کتنا مشکل کام ہے، یہ کوئی اخبار والا ہی جان سکتا ہے۔ مگر آرز وصاحب ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنی لا کھا لگی  مسکراہٹ کے ساتھ بار بار ایک ہی بات کہتے رہے:’’ اگر ہم میں اتحاد باقی رہا تو چوروں کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑھیں گے... ‘‘اور ہوا بھی وہی۔

    آرزو صاحب کو اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے شہر سے بڑا پیار تھا۔ اردو کی بات ہوتی تو سنبھل کر بیٹھ جاتے۔ پرانی وضع داریوں کا ذکر آتا تو مسکراہٹ دور تک پھیل جاتی۔ اور کوئی رامپور کا نام لے لیتا تو آنکھوں میں ایسی چمک آتی جیسے کوئی تارا ٹوٹ گیا ہو۔ وہ انجمن ِرام پور کے صدر تھے اور آخر وقت تک رہے۔ یہ انجمن پتا نہیں کب بنی تھی ، کس طرح بنی تھی اور اس کا دفتر کہاں تھا۔ مگر دو باتیں سب کو معلوم تھیں: ایک تو یہ کہ آرز وصاحب اس کے صدر ہیں، دوسری بات یہ کہ عاشق حسین ڈکارواس کے سیکرٹری ہیں۔

    کبھی کبھار رامپور کی کوئی بڑی ہستی بمبئی آتی تو انجمن کی طرف سے اسے ہار پھول پیش کیے جاتے ،مگر اس کے علاوہ انجمن رام پور میں کوئی نقل وحرکت نہیں دیکھی جاتی تھی۔ انجمن کی اس حالت زار پر بمبئی میں رہنے والے کچھ رامپوری نوجوانوں کو غصہ آگیا۔ انہوں نے ڈمٹمگر روڈ پرغنی خاں مرحوم کے گھر میں ایک جلسہ کر ڈالا۔ اس جلسے میں طرح طرح کے رامپوری جمع ہوئے۔ ان میں نیفے میں چاقو رکھنے والے اور ٹیڑھی ٹوپی لگانے والے خاں صاحب لوگ بھی تھے ، فرنیچر بنانے والے اور بیچنے والے کارخانے دار بھی تھے، لوہار بھی تھے، بڑھئی بھی تھے، بزنس مین بھی تھے اور وہ بھی تھے جو آج کل کے محاورے میں دونمبر کا دھندا کرتے ہیں۔

    خوب گرما گرم تقریر میں ہوئیں۔ ہر ایک نے اپنی استعداد اور حیثیت کے مطابق دل کی بھڑاس نکالی، مگر مضمون ایک ہی تھا کہ اس شہر بمبئی  میں پندرہ بیس ہزار رامپور والے رہتے ہیں، مگر کوئی کسی کا پرسانِ حال نہیں ہے۔ یہ کتنے شرم کی بات ہے۔ اس کے لیے انجمن میں دوبارہ جان پھونکی  جائے اور رامپور والوں کی بہبودی کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ اس محفل میں عاشق بھائی نے اچانک مجھ سے کہا،’’ شیخ جی ، آپ بھی کچھ بولیے!‘‘

    اب یہ تو یاد نہیں کہ میں نے کیا کہا تھا، مگر جو کچھ کہا تھا اس کا اثر بہت اچھا ہوا تھا۔ لوگوں کو ایسالگا کہ یہ لونڈا ہے تو کم عمر ،مگر پڑھالکھا اور سمجھ دارمعلوم ہوتا ہے۔ اس لیے جب انجمن کی تنظیم نو ہوئی ،تو اس میں جوائنٹ سیکرٹری کی عظیم ذمے داری ان کمزور کندھوں پر ڈال دی گئی ۔عظیم اس لیے کہ جن صاحب کو انجمن کا نیا سیکرٹری چنا گیا تھا وہ اس جلسے کے بعد سے پھر کبھی نظر نہیں آئےاور جو بھی گزرنی تھی وہ مجھ ا کیلے پرگزری ۔

     اس رات انجمن کے دوبارہ زندہ ہونے کی خوشی میں جب تا رروٹی ( تندوری روٹی اور قورمہ ) کی دعوت ہوئی تو میں نے پہلی بارسات پشت کے کھرے روہیلہ پٹھان غلام احمد خاں آرزو کو سناروں ،لو ہاروں اور مزدوروں کے ساتھ ایک ہی صف میں بیٹھ کر کھانا کھاتے دیکھا اور آج جب میں اس دعوت کو یادکرتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ سماجی برابری کی باتیں کرنا آسان ہے اور اس کا ثبوت دینا کتنا مشکل...

    انجمن کے رشتے سے میرا اور آرزو صاحب کا بڑ المبا ساتھ رہا۔ سارے وسائل محدود تھے مگر اس کے باوجود اسکولی بچوں کو کتا بیں کاپیاں تقسیم کی جاتی تھیں، بے سہارا عورتوں کو کپڑا سینے کی مشینیں بھی دی جاتی تھیں، کچھ بیواؤں اور کچھ ہونہار طالب علموں کے وظیفے بھی تھے ،اور یہ سارے کام بڑی خاموشی سے ہوجاتے تھے۔ آرز و صاحب کا کہنا تھا،’’ پبلسٹی سے نام ضرور بڑا ہو جا تا ہے ، مگر آدمی چھوٹا ہو جا تا ہے ۔“

    لوگ کہتے ہیں ،آرز و صاحب شاعر تھے اور اچھے شاعر تھے ۔میری بدنصیبی یہ کہ میں نے ان سے ان کا کلام کبھی نہیں سنا۔ ان کے لطیفے ضرور سنے ہیں ، جو آرز و صاحب بہت سوکھے منہ سے سنایا کرتے تھے۔ جن دنوں میں ہندوستان میں کام کر رہا تھا، مجھے بلا کر بولے، ’’امیر آدمی بننا ہے تو ایک بات ہمیشہ یادرکھنا۔“

    ’’میں نے کہا،فرمایئے!‘‘

    کہنے لگے ”جب کوئی پیسے مانگے تو پہلے پوچھنا، کا ہے کے پیسے؟ اور جب وہ بتادے تو جیب میں ہاتھ ڈالنا۔مگر جب کوئی پیسے دے تو پہلے جیب میں رکھنا ، پھر پوچھنا، کا ہے کےپیسے ؟‘‘

    میں نے ان کا ایک اور مزے دار قصہ سنا ہے۔

     روس کے ڈکٹیٹر اسٹالن کے آخری دن تھے۔ وہ بہت دنوں سے کوما میں تھا۔ روز خبر میں چھپتی تھیں، اب مراتب مرا،مگر کمبخت ایسا سخت جان تھا کہ مرتا ہی نہیں تھا۔ اخبار والے اس کا صحت نامہ چھاپ چھاپ کے تنگ آ چکے تھے۔

    ایک دن شام کو خبر آئی کہ اسٹالن کی حالت بہت نازک ہوچکی ہے اور کچھ گھڑی کا مہمان ہے۔ آرزو صاحب نے کہا، ’’بھئی سویرے تک تو مر ہی جائے گا ، اس لیے بڑی سرخی لگا دو ‘‘ان کے علم کے مطابق پوری رپورٹ تیار کی گئی اور صفحہ اول پر سرخی لگائی گئی: ’’روسی ڈکٹیٹرا سٹالن فوت ہو گئے ۔“

    اخبار جیسے ہی بازار میں آیا ،گرم چنوں کی طرح بک گیا، کیوں کہ ہندوستان کے علاوہ کسی بھی اخبار میں اسٹالن کی موت کی خبر نہیں تھی۔ حد یہ ہے کہ ٹائمز آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس بھی خالی تھے۔ ہر ایک کو حیرت تھی کہ وہ خبر جو کسی کو نہیں ملی ، آرزو صاحب کو کیسے مل  گئی ۔ تب تک پی ٹی آئی اور ریڈیو کے ذریعے تصدیق ہوچکی تھی کہ اسٹالن سچ مچ مر چکا ہے۔ چناں چہ شام کو انڈین ایکسپریس کا رپورٹر آرزو صاحب کا انٹرویو لینے پہنچ  گیا۔ اس نے پوچھا، اسٹالن کی موت کی خبر سب سے پہلے آپ کو کیسے گئی؟‘‘

    آرزو صاحب نے بڑے غرور سے کہا ” ماسکو میں ہمارا نمائندہ ہے۔‘‘

     رپورٹر نے پوچھا ،’’اس نے یہ خبر آپ کو کس طرح بھیجی؟“

    آرزو صاحب نے کہا: ’’ٹیلیفون کے ذریعے...‘‘

    رپورٹر نے کہا ،’’مگر اسٹالن کی موت ہندوستانی وقت کے مطابق سویرے ہوئی ہے۔ تب تک تو آپ کا اخبار چھپ گیا ہوگا ۔‘‘

    آرزو صاحب بڑی ادا سے مسکرائے اور راز دارانہ انداز میں بولے،’’عجیب گھامڑ آدمی ہو! جرنلسٹ ہو کر اتنا بھی نہیں جانتے کہ بڑی خبر آنے والی ہوتو کاپی روک کے رکھتے ہیں۔‘‘

     اللہ جانے رپورٹر نے مانا یا نہیں مانا۔ یہ کہانی ایک دوسرے اخبار کے بارےمیں بھی سنائی جاتی ہے مگر جو لوگ آرز وصاحب کے مزاج داں ہیں وہ کہتے ہیں ایسا کام آرز وصاحب ہی کر سکتے تھے۔

    آرزو صاحب کھانے پینے کے بڑے شوقین تھے۔ جب کبھی کسی پارٹی میں جاتے تو آرزو صاحب سب سے پہلے کھانے پینے کا جائزہ لیتے ، اور ایسی پارٹیاں تو تقریباً ہر روز ہوتی تھیں جن میں صحافیوں کو بلایا جاتا تھا۔ اگر انہیں بتایا جاتا کہ معاملہ چائے بسکٹ تک ہی محدود رہے گا تو ان کا موڈخراب ہو جاتا ۔”لعنت ہے، اتنی دور سے دھکے کھاتے ہوئے آئے ہیں، وقت برباد کیا ہے، اب اپنا کالم بر باد کریں گے اور یہ خبر چھاپیں گے۔ اور ملے گا کیا؟... ایک پیالی چائے ۔‘‘ لیکن جب بھی کھانوں سے لدی ہوئی میز دکھائی دے جاتی تو چہرہ کھل اٹھتا اور ہونٹوں پر ایک بڑی میٹھی سی مسکراہٹ دوڑ جاتی ۔ اگر بوفے ( Buffet ) ہوتا تو پہلے اِس سرے سے اُس سرے تک تمام کھانوں کا جائزہ لیتے اور پھر یکے بعد دیگرے تمام ڈشز کو فتح کرتے چلے جاتے۔

    ایک بار کا واقعہ ہے کہ شہر میں کوئی غیرملکی لیڈر آیا ہوا تھا۔ اس کی پریس کانفرنس تھی اور بعد میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں لنچ  کا بندوبست تھا۔ اب یا دنہیں کہ وہ لیڈ ر کون تھا مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ ہوٹل کا ہال بھانت بھانت کے صحافیوں سے بھرا ہوا تھا۔ پریس کانفرنس کے بعد جب کھانے کا وقت ہواتو آرزو صاحب غائب ہو گئے ۔ میں نے ڈھونڈا تو دیکھا کہ ایک کونے میں پلیٹ لیے کھڑے ہیں اور بڑےانہماک سے کھانے میں مصروف ہیں ۔ لیکن جب پاس پہنچا تو دیکھا ، ان کی پلیٹ میں سلامی کے ٹکڑے رکھے ہوئے تھے۔ اسلامی ایک قسم کا کولڈ کٹ ( cold-cut )  ہوتا ہے جس کے بیچ میں انڈے ڈال کر اور باریک باریک پرت کاٹ کر بہت خوش شکل بنادیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ سؤر کا گوشت ہوتا ہے۔ میں دھک سے رہ گیا ۔ موصوف اپنی لاعلمی اور کھانے کے شوق میں ایمان کو داؤں  پرلگا چکے تھے ۔ جیسے ہی مجھے دیکھا ، چہک کر بولے، ’’اماں یہ کیا چیز ہے، بہت مزےدار ہے۔ ‘‘ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔ ان سے کہہ دوں کہ وہ کیا کھارہے ہیں؟ یا پلیٹ ہاتھ سے لے کر پھینک دوں؟ ڈر یہ بھی لگ رہا تھا کہ اگر انہیں معلوم ہوا کہ ان سے وہ کام ہو گیا ہے جس کی سخت ممانعت ہے تو پتا نہیں کیا ری ایکشن ہو۔ شور مچانے ، گالیاں دینے لگیں یا طبیعت خراب ہوجائے۔ لیکن انہیں روکنا بھی ضروری   تھا۔ نہ جانے کیسے دماغ میں ایک بات آئی اور میں نے مسکرا کر آرزو صاحب سے پوچھا:

    ’’مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ مینڈک وغیرہ بھی کھا لیتے ہیں ۔‘‘

     آرزو صاحب کا ہاتھ جہاں تھا وہیں رک گیا، اور کچھ  بوکھلا کر بولے، ” مینڈک؟“

    میں نے بڑی معصومیت سے کہا،’’ جی ، یہ جو آپ کھارہے ہیں ، مینڈک کا گوشت ہے۔“

    انہوں نے تقریباً چیخ  کر کہا :”لاحول ولاقوة...‘‘ اور پلیٹ پھینک کر گالیاں دیتے ہوئے واش روم کی طرف چلے گئے۔

    میں آج بھی اس قصے کو یاد کرتا ہوں تو ہنسی  آنے لگتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دوسری دنیا میں انہیں کوئی سزانہیں ملی ہوگی ، کیوں کہ گناہ تو ہوامگر گناہگارمعصوم تھا۔

    جنگِ آزادی میں حصہ لینے اور جیل جانے کے اعتراف میں جب سرکار نے آرزو صاحب کو ’’تامڑ پتر‘‘ دیا تو بہت سے احباب مبارک باد دینے کے لیے پہنچے، تو آرزو صاحب نے کہا: ”ارے میاں، اچھا ہوا جو یہ سرٹیفکیٹ مل گیا۔ میں تو اپنی کمر پہ لاٹھیوں کے نشان دکھا دکھا کے تنگ آچکا تھا۔اب جو کوئی بھی پوچھے گا اسے تامڑ پتر دکھا دیا کروں گا۔“

    رولیکس ہوٹل کے اوپر ہندوستان کا دفتر آج بھی ہے۔ اخبار آج بھی نکلتا ہے۔ سرفراز آرزو اپنے باپ کی روشن کی ہوئی شمع کو دونوں ہاتھوں سے گھیرے بیٹھے ہیں کہ بجھ  نہ جائے۔

    سب کچھ وہی ہے کہ جو تھا۔ مگر میں جب بھی وہاں جاتا ہوں، مجھے وہ کرسی خالی دکھائی دیتی ہے جس پر ایک شخص بیٹھا کرتا تھا جو آدھی صدی کی صحافت کی تاریخ تھا، جو پرانی وضع داری اور شرافت کا نشان تھا، جس کی آنکھوں کے ٹوٹتے  تارے زاروں کور وشنی دکھایا کرتے تھے:

    مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم

    تو نے وہ گنج ہاے گراں مایہ کیا کیے