مما اور بجیا
مما اور بجیا
سر پر ہوا ظلم چلے ، سوتن کے ساتھ
اپنی کلاه کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ
مجھے یقین ہے کہ مجروح سلطانپوری شمومما یا بجیا جیسی کسی ہستی سے ضرور ملے ہوں گے اور نہ اس تیور کا شعر نہیں کہہ سکتے تھے۔
شمومما اور بجیا میری دادی کے سگے بہن بھائی تھے مگر عمر میں دونوں ہی میرے والد سے چھوٹے تھے، اس لیے دادا اور دادی والا رشتہ تو قائم نہیں ہو سکا ۔ شمشاد علی چوں کہ جگت مماتھے اس لیے میرے لیے بھی ہمیشہ شمومما ہی رہے ۔ زیتون بیگم کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ سب انھیں بجیا کہتے تھے اس لیے میں کوئی الگ رشتہ کیوں جوڑتا۔
دونوں بہن بھائی اپنے پرانے آبائی مکان میں بڑی شان سے رہتے تھے۔
کچھ لوگ غریبی کو اس طرح جیتے ہیں کہ دولت بیچاری شرمندہ ہو کر دور سے ہی دیکھتی رہ جاتی ہے ۔ شمومما بھی ایسی ہی ایک ہستی تھے۔ رسول الله ﷺ کی حدیث ’’الفقر فخری‘‘ (فقیری میر افخر ہے) پر ایسا زوردارعمل شاید ہی کسی نے کیا ہو۔
شمومما اپنی چھ بہنوں کی تیئیس اولادوں کے ماموں تھے۔ بھانجوں کے دوست اور بھانجیوں کی سہیلیاں بھی اسی رشتے کو مانتے تھے۔ اب اگر اتنے بہت سے ماموں کہنے والے ہوں تو شمشادمما کا جگت مما ہو جانا ایک قدرتی عمل ہے اور اس میں کسی بندہ بشر کی کوئی شرارت شامل نہیں ۔ اور تو اور مما کے بھانجے بھانجیوں کی اولاد یں یعنی ہم لوگ بھی مما ہی کہنے لگے ۔
شمو مما چھوٹے سے پتلے دبلے، نازک سے آدمی تھے۔ جب ہم نے دیکھا تو سر کے بال اڑ چکے تھے اور بقول ان کے ’’اس فارغ البالی کی وجہ سے وضو کرتے وقت یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ منہ کہاں تک دھونا ہے؟‘‘ جسم پر ایک پرانی شیروانی ، جو گرمیوں میں کریم کلر کی ہوتی تھی اور سردیوں میں ڈارک براؤن ہوجاتی تھی ۔ او نچی مہری کا علی گڑھ پاجامہ، پاؤں میں سلیم شاہی یابا ٹا کے سینڈل۔ پھر تیلے آدمی تھے۔ چلتے تھے تو معلوم ہوتا تھا لپک رہے ہیں۔ کسی کے گھر جائیں گے تو اس طرح جیسے کتا پیچھے لگا ہو۔ بولتے بولتے اندر آئے، چلتے چلتے بات کی اور غائب ہوگئے ۔ سننے والے ’’ مما ... مما... ارے شمو ... ارے شمشاد‘‘ کر کے رہ گئے۔
اب بجیا کا حال سنیے۔ تحصیل دار امتیاز علی خاں کے گھر میں جب نویں اولاد ہوئی تو سب کی چیخیں نکل گئیں ۔ چارخوبصورت بیٹوں اور چار حسین بیٹیوں کو پیدا کرنے والی رقیہ بیگم نے خدا جانے کس چیز کو جنم دیا تھا۔ کہنے کو تو وہ لڑکی تھی ، مگر کیا لڑکی تھی، اللہ تو بہ ! بڑا سا سر، کالا رنگ، کمر میں کُب، پتلے پتلے ہاتھ اور ٹانگوں کی جگہ دوسوکھی ہوئی ٹیڑھی ٹہنیوں جیسی ٹانگیں ۔ ایک پیر کا تو پنجہ بھی گھوما ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اللہ میاں نے کسی ادھوری بیٹی کے سر لگا دیا ہو۔
کسی دوسرے کی اولاد ہوتی تو چڑیل، بھوتنی، پچھل پیری نہ جانے کیا کیا کہا جاتا اور خدا جانے کیا سلوک کیا جاتا۔ شاید کہیں پھنکوا دی جاتی یا ٹیٹو ادبا کے ختم کردی جاتی ۔ مگر رقیہ بیگم جیسی نیک بیوی نے آنکھوں میں آنسو بھر کے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ’’وہ مالک ہے، جانوروں کو انسان بناسکتا ہے اور انسان کے پیٹ سے جانور پیدا کرسکتا ہے۔‘‘
نام زیتون رکھا گیا ۔ زیتون کی شاخ صلح اور امن کا نشان ہوتی ہے ، مگر زیتون...
سنا ہے، بچپن میں بھی تتیا مرچ تھیں ۔ سیدھی تو ہو نہیں سکتی تھیں مگر دو ہاتھ اور ایک پیر کے سہارے لنگڑی بلی کی طرح اچھل اچھل کر ہر جگہ پہنچ جاتی تھیں ۔ ہرکھیل میں حصہ لینا چاہتی تھیں اور جب ان کی مجبوری کی وجہ سے نہ کھلایا جاتا تو زبان سے زہر کی ایسی بارش ہوتی کہ جو سنتا اس کے کان میں چھالے پڑ جاتے۔
میں نے جب سے ہوش سنبھالا، بجیا شمومما کے ساتھ ہی رہتی تھیں ۔ گھر کے بیچ میں ایک اینٹ کی پتلی سی دیوار کھڑی کر دی گئی تھی جس کے دونوں طرف سے جانے آنے کا راستہ تھا؛ او پر سے جھانکا بھی جاسکتا تھا اور چھلانگ بھی لگائی جاسکتی تھی ۔ خدا جانے اس دیوار کا مقصد کیا تھا۔ اس کے ایک طرف شمومما کی حکومت، دوسری طرف بجیا کا علاقہ تھا۔ بجیا کے حصے کو گھر کہنا ذرا زیادتی ہوگی ، لکڑی کے دروں پر کھٹری ایک نیچی سی کھپریل تھی جس کے آخر میں ایک چھوٹی سی کوٹھری تھی ، جو بجیا کا گودام تھا۔ ساری دنیا کا الم غلم اس میں بھرا رہتا تھا۔ بجیا خود دیوار سے لگے ایک پلنگ پر براجمان رہتیں ۔ پلنگ کے پیچھے ایک میزجیسی تھی جس پر ان کے برتن، چائے کا سامان رکھا رہتا۔ میز کے نیچے کچھ ڈبے تھے، جہاں آٹا، چاول، دال اور مسالوں کا اسٹاک رہتا۔
پلنگ کے دوسری طرف ایک او نچی سی انگیٹھی رکھی رہتی، جس پر وہ پلنگ پر بیٹھے بیٹھے کھانا بنایا کرتی تھیں۔ ایک چھوٹا ساصحن تھا جس کے دو پیڑ میں کبھی نہیں بھولتا ۔ ایک بہت خوبصورت پام ٹری جس کے پتے اس طرح پھیلے رہتے تھے جیسے مور نے دم پھیلا دی ہو، اور ایک ان کی بیری، یہ بڑے بڑےمیٹھے قلمی بیروں سے لدی ہوئی ۔ پکے تو چھوڑیے، اس کے کچے بیر بھی میٹھے ہوتے تھے۔
پام کے پاس ایک چبوتر اتھا جس کے کونے پر بیٹھ کر مما وضو کرتے اور پھر اسی چبوترے پر نماز پڑھتے ۔ یہی چبوتر ان بچیوں کے کام بھی آتا جو بجیا سے قرآن شریف پڑھنے آتی تھیں ۔ بجیا نے اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ اپاہج ہیں ۔ پاؤں نہیں ہیں نہ سہی ، ہاتھ تو ہیں۔
بجیا سلائی میں ماہرتھیں ۔ کپڑےتو ایسے سیتی تھیں کہ جو ایک بار پہن لے، پھرکبھی کسی دوسرے کے ہاتھ کا سلانہ پہنے۔ تُر پائی ایسی ہوتی تھی کہ کھونپ دکھائی ہی نہیں دیتی تھی ۔ چکن کا کام، آری، شیڈو ورک، اپلیک ورک، اور خدا جانے کیا کیا۔ ان کا کام اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ لوگ دیکھتے ہی پہچان لیا کرتے تھے:’’یہ تو زیتون کے ہاتھ کا سلا کُرتا ہے۔‘‘
وہ کافی مہنگی بھی تھیں۔ جب کُرتے کی سلائی چودہ آنے یا ایک روپے تھی، بجیا ڈھائی روپے اور تین روپے لیا کرتی تھیں۔
صبح سویرےان کے گھر جائیے تو دیکھنے کا منظر ہوتا تھا۔ بجیا اپنا پلنگ آدھا دالان میں ، آدھا صحن میں کر کے اس طرح بیٹھی ہوتی تھیں کہ روی تو آئے مگر دھوپ نہ آئے ۔ پلنگ کے پاس رکھی انگیٹھی پر چڑھی پتیلی، جسے وہ چلاتی بھی جاتی تھیں اور سلائی بھی کرتی جاتی تھیں ۔ آنکھیں کُرتے پر اور کان بچیوں کی آوازوں پر۔ جہاں تک مجھے یاد ہے وہ حافظ ِقرآن نہیں تھیں، مگر کسی لڑکی نے غلطی کی نہیں کہ بجیا کڑ کیں: ’’کیا بولی؟“ اور بچی سہم کرصحیح پڑھنے لگی یا بجیا نے صحیح لفظ بتادیا۔
ممانے کہاں تک پڑھا تھا، معلوم نہیں ۔ شاید ایف اے پاس کیا تھا یا میٹرک تھے، مگر اردو، فارسی اور انگلش پر عبور تھا۔ باقی سارے مضامین بھی آسانی سے پڑھ لیا کرتے تھے۔ ان کے دروازے کے باہر ایک گلی تھی، جس میں کرسیاں لگ جاتی تھیں ۔ سردیوں کی ٹھٹھری ہوئی بھاپ اڑاتی ہوئی صبحیں، شامیں اور چادر میں لپیٹے اسٹوڈنٹس اور بیچ میں مما۔ مجھے آج تک یاد ہے۔
ہم میں سے کسی بچے کو پڑھتے دیکھتے تو رک جاتے ۔ ’’کیا پڑھ رہے ہو؟“
ہم بتا دیتے۔
اگر ہم میں سے کسی کو کوئی پرابلم ہوتا تو وہ کھڑےکھڑے ایک پاؤں چار پائی کی پٹی پر رکھتے ، گر دن لمبی کر کے کتاب میں جھانکتے اور شروع ہوجاتے ۔ ایسا لگتا تھا جیسے رٹ کے آئے ہوں ۔ کبھی کبھار تو لگتا تھا کہ چلتی پھرتی انسائیکلو پیڈیا ہیں ،ننھی منی پاکٹ سائز انسائیکلوپیڈیا۔
مما کی ایک عجیب عادت تھی۔ جب بازار جاتے ہوتے تھے تو راستے کے دو چار گھروں میں ضرور جھا نک لیتے۔ ’’بڑی آپا، بازار سے کچھ منگوانا ہے؟‘‘
"ارے بچے ، جیتارہ! ایک پاؤ بھر شلجم لیتا آئیو۔ رات کوشلجم گوشت بناؤں گی ۔‘‘ اور مماغائب۔ "ارے پیسے تو لیتا جا...شمو... شمو...‘‘
دور سے کہیں آواز سنائی دیتی: ’’بعد میں ... بعد میں ..‘‘
کبھی وہ دھڑ دھڑاتے ہوئے داخل ہوتے۔’’ بڑی آپا ،کیا پک رہا ہے تمہارے یہاں؟‘‘
’’مولی کی بھجیا ہے... کھاؤ گے؟‘‘
’’لاؤ، دے دو۔‘‘
’’ روٹی بھی گرم ہے... یہیں بیٹھ کر کھالونا۔‘‘
’’نہیں تمہاری روٹی ووٹی نہیں چاہیے، ہمارے پاس رات کی دو چپاتیاں رکھی ہیں ۔‘‘
’’ارے دو چپاتیوں سے کیا ہو گا... یہ لے، اور دو رکھ لے ۔‘‘
’’ بالکل نہیں، بالکل نہیں، بچ کے جائے گی۔ بس مولی کی بھاجی دے دو ۔‘‘ اور مما یہ گئے وہ گئے۔
بجیا کا پلنگ ان کا بیڈ روم بھی تھا، ڈرائنگ روم بھی ، باورچی خانہ بھی اور کارخانہ بھی۔ پلنگ کیا تھا عمروعیار کی زنبیل تھی۔ تکیے کے ایک طرف ان کاپنج سورہ اور تسبیح ، دوسری طرف ان کا بٹوا۔ کھلے پیسےتکیے کے نیچے، دری کےنیچے کچھ کتابیں، کچھ کاغذ، ایک پرانی کاپی جس پر وہ اپنا حساب کتاب لکھا کرتی تھیں، کاپی کے اندر رکھا ہوا ایک موٹا سا قلم ، پیروں کے پاس بید کی ایک پٹاری اور اس کے پاس ایک چھوٹا سا قلعی اترا ہوا نقشین پاندان۔ بجیا کے پان کی شہرت دور دور تک تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے وہ خود کبھی کسی کو پان آفر نہیں کرتی تھیں، مگر کوئی منہ چڑھا مانگ بیٹھے تو انکار بھی نہیں کرتی تھیں۔
’’بجیا، پان کھلاؤ۔ “
’’چلو ہوا کھاؤ ، پان بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔‘‘
اب کھلا بھی دو بجیا۔ گھر آئے مہمان کو ایک پان کی کتر بھی نصیب نہ ہو تو دنیا کیا کہے؟ ‘‘
” چلے آتے ہیں نامرادمنہ اٹھائے ہوئے، جیسے ان کے باپ پان کی ڈھولی بھجوا گئے ہوں۔ “
بجیا ایک جھٹکے سے ادھ سلا کُرتا ایک طرف ہٹا تیں، پاندان اپنی طرف کھسکا تیں۔ گیلے کپڑے میں رکھا ہوا ایک پان نکالیں۔ بڑے سے پان کی نوک اور دم نوچ کر پھینکتیں۔ پھر اس کے چار برابر کے ٹکڑے کرتیں اور دوٹکڑوں پر کتھا چونا لگا کر اس میں دو دانے سپاری کے اور دو دانے ایلائچی کے ڈالتیں ۔ اپنی پتلی لمبی انگلی پہ لپیٹ کے ایک چھوٹی سی گلوری بنا کے اپنی داڑھ میں ڈالتیں اور دوسری گلوری مانگنے والے کو پیش کر دیتیں۔ نیچے جھک کر بالٹی میں رکھے پانی میں اپنی انگلیاں دھوتیں اور پھر اپنی سلائی میں لگ جائیں ۔ انچ بھر کی گلوری منٹ دو منٹ میں کھل جاتی مگر عجیب مزہ تھا اس پان میں کہ آج بھی آنکھیں بند کرو تو ذائقہ زبان پر آ جاتا ہے۔
مما خود بہت کم ہنستے تھے مگر ہنساتے بہت تھے۔ لطیفے سنانا ، One Liner مارنا تو ہر روز کا کام تھا۔ پر یٹیکل چٹکلے بھی چھوڑتے رہتے تھے۔ مما کے گھر میں کافی مرغیاں تھیں۔ تھیں تو وہ شاید زیتون با جی کی، مگر مما بھی ان کا کافی لاڈ کرتے تھے۔ سب کے نام تھے، اور مما ہر مرغی کو اس کے نام سے مخاطب کرتے تھے ۔ اور نام تو یاد نہیں، مگر ایک مرغا اور اس کا نام یاد ہے۔ بڑا خوبصورت مرغاتھا۔ سر پر اونچی لال کلغی، گردن پر ہرے سرخ چمکتے ہوئے پر اور زمین پڑلٹکتی ہوئی دم ۔مما نے اس کا نام مرزا بیدار بخت رکھا تھا، کیوں کہ سب سے پہلے وہی اٹھتا تھا اور با نگ د ےکر سب کو اٹھا دیا کرتا تھا۔ اپنے ہاتھوں سے مرغیوں کی ڈھابلی بنائی تھی ۔ خود اینٹ رکھ کے دیواریں اٹھائی تھیں، بانس، پھوس اور ٹھیکریں رکھ کے کھپریل ڈالی تھی اور اس میں لکڑی کا درواز ہ لگا یا تھا۔ ہوا جانے کے لیے دیواروں میں سوراخ بھی چھوڑ دیے گئے تھے ۔ ڈھابلی اتنی مضبوط تھی کہ گرمی ،سردی، برسات ہرموسم جھیل لیتی تھی ۔ بلی بھی حسرت سے دیکھتی تھی اور چلی جاتی تھی ۔
ایک دن کہیں سے گیرو لے آئے ۔اسے پانی میں گھولا ۔ بانس کے ایک پتلے سے ٹکڑے کا ایک سرا اتنا کوٹا گیا کہ بانس کا ایک ایک ریشہ الگ ہو گیا۔ یہ بن گیا برش ۔مما نے ڈھابلی کے او پر بڑے بڑے حروف میں پینٹ کیا:’’مرغ منزل ‘‘۔ جس نے بھی اس مرغ منزل کو دیکھا ، اپنی ہنسی نہیں روک سکا۔ وجہ پوچھنے پر ممانے بہت سنجیدگی سے بتایا، ’’کمبختوں کو جب بھی بند کرو، اِدھر اُدھر بھاگنے لگتی ہیں ۔ اب سیدھی اپنے گھر جائیں گی ۔ پہچاننے میں دشواری نہیں ہوگی ۔“
ایک زمانے تک مما کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔لڑ کے پڑھنے آتے تھے ،مگر وہ کیا دیتے ہوں گے اور مما کیا لیتے ہوں گے؟ کُر تے کے رفو اور شیروانی کے پھٹے کالر سے پتا چلتا تھا کہ کیا گزر رہی ہے،مگر مما کے تیور سے اندازہ کرنا محال تھا۔ انہوں نے بھی کسی سے کسی قسم کی مددنہیں لی ، اور اگر کسی عزیز رشتے دار نے ہمدردی دکھانے کی کوشش کی تو مما نے ایسا آڑے ہاتھوں لیا کہ لینے کے دینے پڑ گئے ۔
ایک قصہ مجھے یاد ہے ۔مما اپنے کمرے میں لیٹے ، کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی میں کتاب پڑھ رہے تھے۔ مجھے دیکھا تو کتاب بند کر دی۔ ’’آؤ میاں ، بیٹھو ... پانی پینا ہے تو گھڑا سامنے ہے، پی لو ...ذرا سا مجھے بھی دینا۔“
’’یہ تو چائے کا وقت ہے مما۔“
”ہاں، ہے تو ۔“
’ میں بناؤں آپ کے لیے چائے؟‘‘
’’نہیں بھائی ، میں یہ خطرہ نہیں مول لے سکتا۔“
’’ارے، میں بہت اچھی چائے بنا تا ہوں مما!‘‘
’’ لگتا ہے تمہارا دل چائے کو چاہ رہا ہے؟“
”جی“
مما اٹھے ۔ کھونٹی پر لٹکی شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ ڈھونڈتے رہے، پھر بولے ”یہ لو اکنی... دودھ لے آؤ۔‘‘
’’اکنی کا دودھ؟ اِتّا سا ہوگا ۔‘‘
’’بھئی اس گھر کا کل سرمایہ یہ اکنی ہے... بچانا چاہتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ لیکن چائے ہم نے بھی نہیں پی ہے، اس لیے تم دودھ لے ہی آؤ۔ اور زیتون سے مانگیں گے نہیں ، ان کا موڈ بہت خراب ہے۔‘‘
بجیا کا موڈ ایسا ہی تھا ، موسم کے ساتھ بدل جاتا تھا۔ اور کب کیا موسم ہوگا یہ تو ماہرین بھی نہیں بتا سکتے ۔ ان کے لکڑی کے پرانے دروازے پرگھنٹی ونٹی توتھی نہیں ۔ یا تو زور سے ہاتھ ماریے یا پھر آواز لگائیے ۔ دروازہ عام طور پر کھلا ہی رہتا تھا، مگر اس کے سامنے لکڑی کا ایک اوٹا سا کھڑا کر دیا گیا تھا تا کہ بے پردگی نہ ہو ۔ کھٹ ہوئی نہیں کہ بجیا کی آواز آئی:
’’کون؟‘‘
’’جی میں ...“
بجیا نے جیسے ہی آواز پہچانی ، لہجہ بدل گیا۔
’’ ارے آؤ آؤ، حرامی پلے...خدا تمہیں غارت کرے، ، کہاں مر گئے تھے اتنے دن سے؟ ... اب کھٹر ے کیا ہو؟ اپنا جنازہ ادھر لاؤ۔‘‘
بجیا کا بات کرنے کا یہ انداز یونیک تھا اور اس پر بجیا کا کاپی رائٹ تھا۔ میں نے کسی کو اس طرح اتنے پیار سے گالی کو سنے دیتے بھی نہیں سنا۔ ان کے منہ سے برا بھی بھلا لگتا تھا۔ باجی اپنے ہاتھ پھیلا دیتیں اور گلے لگا لیتیں۔
زیتون با جی کے چار بھائی اور پانچ بہنیں تھیں ۔ سب سے بڑی بہن میری دادی مرتضائی بیگم، جومدارالمہام سردار ڈیوڑھی حافظ احمد علی خان شوق کی بہوتھیں تیسری فیاضی بیگم جو کپتان واجدعلی خان کی بیگم تھیں اور آخر وقت تک سارے خاندان میں سب سے زیادہ مقبول اور سب سے زیادہ مالدار گنی جاتی رہیں ۔ بھائیوں میں صدیق صاحب سب سے بڑے تھے اور بہت بڑے آدمی تھے۔ ایک زمانے میں ریاست کے ہوم سیکرٹری بھی ہو گئے تھے۔ رام پور میں الیکٹریسٹی لانے کا سہرانہی کے سر ہے۔ پہلا بجلی گھر بھی انہوں نے ہی بنوایا تھا اور شہر کے باہر ان کی شاندار کوٹھی اور آم کا باغ ہزاروں گز پر پھیلے ہوئے تھے۔ باقی بھائی بہن بھی کھاتے پیتے لوگ تھے۔ سب کے اپنے گھر، اپنی جائدادیں اور اپنی دنیائیں تھیں۔
اس تفصیل میں جانے کا مقصد یہ ہے کہ بجیا اگر چاہیں تو ڈھائی روپے میں کپڑے سیے بغیر بھی آرام سے رہ سکتی تھیں مگر ان کی زبان جتنی لمبی تھی، اس سے زیادہ لمبی ان کی ناک تھی۔ کسی کا احسان لینا تو بہت دور کی بات ہے، کوئی ہمدردی بھی کرے تو بخیے ادھیڑ ڈالتی تھیں ۔ بہت تاپ تول کے بات کرنی پڑتی تھی۔ کیا پتا کون سالفظ طبع نازک پر گراں گزر جائے ، اس لیے بہت کم لوگوں سے بنتی تھی۔ اگر کسی سے کسی حد تک بنتی تھی تو شمومما سے، مگر بجیا ان کا احسان لینا بھی پسند نہیں کرتی تھیں۔گھر کے سارے خرچ کا حساب رکھتی تھیں اور مہینے کے آخر میں مما کو بتادیا کرتی تھیں کہ کس نے کتنا خرچ کیا تا کہ حساب صاف رہے۔
مما اور بجیا اوپر تلے کے بھائی بہن تھے، اس لیے دوسروں کے مقابلے میں لگاؤ کچھ زیادہ ہی تھا۔ دونوں کی عادتیں بھی ایک جیسی تھیں اور تیور بھی۔ دونوں کے حالات خراب تھے مگر اپنی غریبی پر شرمندہ نہیں تھے۔ ایک عجیب ساغرور تھا دونوں کے اندر؛ شاید یہی غروران دونوں کو آپس میں باندھے ہوئےتھا۔
ایک دفعہ ایسا ہوا کہ مما کو گورنمنٹ کاٹیج انڈسٹریز میں نوکری مل گئی۔ برسوں کے بعد تھوڑی سی خوشحالی کا منہ دکھائی دیا تو سب ہی خوش ہو گئے۔ پھر ایک دن پتا چلا کہ انہوں نے نوکری سے استعفیٰ د ے دیا۔ وجہ یہ تھی کہ کسی بات پر لطافت چچا سے، جو کاٹیج انڈسٹریز کے سپرنٹنڈنٹ تھے اور جنہوں نے مما کو نوکری دلائی تھی ، ناراضگی ہوگئی تھی۔ اب جس سے بات چیت بند ہوجائے ، اس کے احکامات سننے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیے خدا حافظ!
مما کا ایک مزےدار قصہ اور بھی ہے جو ان کے انوکھے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ مما کے گھر کے سامنے سڑک پار کر کے جو مکان تھا، وہ لمبی استانی کا گھر کہلاتا تھا، کیوں کہ اس میں ایک پتلی دبلی، چشمے والی استانی رہا کرتی تھیں۔ دور سے دیکھنے پر ایسی لگتی تھیں جیسے بند چھتری چلی آرہی ہو۔
ایک دن استانی جی سب سے مل کر رخصت ہوگئیں۔ پتا چلا کہ انہوں نے گھر پاکستان سے آئی ہوئی ایک فیملی کو دے دیا ہے۔ ہم سب بچے جھانک جھانک کر دیکھا کرتے تھے، کیوں کہ ہم نے اس سے پہلے بڑی بڑی شلواروں والے مرد نہیں دیکھے تھے۔
شرنارتھیوں کے اس خاندان میں میری عمر کے دولڑ کے بھی تھے، ہریش اور رمیش ۔ ان لوگوں نے گھر تو لے لیا تھا مسلم محلے میں مگر مسلمانوں سےبچ کر ہی رہتے تھے۔ نہ سلام نہ دعا ۔قریب قریب سبھی لوگ اپنے کاموں پر نکل جاتے اور شام کو ان کی موجودگی کا پتا اس طرح چلتا جب ملگجے اندھیرے میں آرتی سنائی دیتی:
’’ادم ج جگدیش ہرے /بھکت جنوں کے سنکٹ /شنڑ میں دور کرے۔ ‘‘
اب بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں، ہماری دوستی ہوگئی ۔ ہریش کرکٹ بہت اچھی کھیلتا تھا، اور رمیش بالکل میری طرح تھا، یعنی کسی بھی کام میں ایکسپرٹ نہیں تھا۔ وہ پڑھائی میں بھی کافی کمزور تھا۔ ہریش کا داخلہ تو ہو گیا مگر رمیش ٹسٹ میں فیل ہوگیا۔ مما کو پتالگا تو مجھ سے کہا: ”جاؤ، رمیش کو بلا کے لا ؤ۔ ‘‘ پہلے تو وہ بہت ڈرا، پھر سمجھانے بجھانے پر آیا تو سہما ہوا۔ ممانے کہا:”کل سویرے اپنی ساری کتابیں لے کر آجانا ۔ میں دیکھتا ہوں اسکول والے تمہیں داخلہ کیسے نہیں دیتے۔ میں تمہیں پڑھاؤں گا۔“
ہم سمجھے ، مما جیسے دوسروں کو پڑھاتے ہیں ویسے اس کو بھی پڑھائیں گے ، مگر وہ تو رمیش کے پیچھے ہی پڑ گئے۔ جب دیکھو، مما کے گھر میں آیا ہوا ہے۔ مما اپنا کام کررہے ہیں، وضو کر رہے ہیں، نماز پڑھ رہے ہیں ، مرغیوں کو دانہ ڈال رہے ہیں ، مگر بیچ بیچ میں رمیش کی خیر خبر بھی کی جارہی ہے۔ ایک دن صبح صبح مما رمیش کو لے کر غائب ہو گئے۔ جب دوپہر بعد لوٹے تو دونوں کے چہرے چمک رہےتھے۔ دروازے پہ پہنچ کے ممانے رمیش سے کہا ، ’’اب جاؤ، مگر شام کو خالی ہاتھ مت آنا۔ چوّامل کے ہاں سے بالوشاہی لے کر آنا۔‘‘
شام کو میں نے دیکھا ، مما کے گھر میں رمیش ہی نہیں، اس کا سارا خاندان جمع تھا۔ رمیش کی ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ اپنے ٹھیٹ پنجابی لہجے میں کہہ رہی تھی،’’یہ تو مینو پتا ہی نہیں تھا، مسلمان ایسے بھی ہوتے ہیں ۔‘‘
رمیش کو داخل مل گیا تھا اور ممانے فیس بھر دی تھی۔
مما جب تک جیے ، اپنے ٹرمز ( Terms ) پر جیے ۔ ان رشتے داروں نے جو پاکستان چلےگئے تھے اور بہت اچھے حالات میں تھے ، مما پر بہت زور ڈالا کہ پاکستان چلے چلیں ، اتنے قابل آدی کو نوکری اور سٹیزن شپ ملنے میں دیر نہیں لگے گی، مگر مما کس کو کندھے پر ہاتھ رکھنے دیتے ہیں!
’’بھئی سنا ہے تمہارے پاکستان میں سندھی بولنی پڑتی ہے؟‘‘
’’ نہیں تو۔ کس نے کہا؟ ‘‘
’’ اچھا ، پنجابی پڑھنا تو لازمی ہے نا؟ ‘‘
’’ارےکس نے یہ بے وقوفی کی باتیں پھیلائی ہیں؟... ہمارے پاکستان میں ہم سب اردو بولتے ہیں ۔‘‘
’’اردو؟ تو پھر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو ہم یہاں بھی بولتے ہیں ۔‘‘
ایساہی معاملہ شادی کا تھا۔
’’ارےشمو ! اللہ کے واسطے شادی کر لے بچے ! کوئی دو روٹی سینک کے دینے والی تو ہو۔‘‘
’’ میں تو کر لوں آپا... مگر گورنمنٹ نے قانون بنادیا ہے... گنجوں کا شادی کرنا جرم ہے۔‘‘
’’ اے ہٹ ! ایسا کوئی قانون و انون نہیں ہے۔‘‘
’’ تمہاری قسم آپا گنجوں کی شادی پر پابندی ہے۔ شادی ہوتے ہی بال اڑ جائیں تو کوئی حرج نہیں۔‘‘
لیکن جانے والے جانتے ہیں کہ وہ زندگی بھر اس لیے کنوارے رہے کہ اپنی اپاہج بہن کو الا وارث نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔
جب ہمارا گھر نیلام ہورہا تھا تو مما دادی کے پاس آئے۔
’’ آپا !میرے گھر کی حالت تو تمہیں معلوم ہے۔ ابا میاں کی موت سے آج تک کبھی مرمت نہیں ہوئی ۔ اینٹو ں نے گارا چھوڑ دیا ہے۔ دیواریں کبھی بھی گرسکتی ہیں۔ مگر جب تک نہ گر یں، تم اس میں رہ سکتی ہو۔‘‘
میں جب بمبئی آرہا تھا تو مما ملنے کو آئے۔
’’چاندی کا ایک روپیہ ہے تمہارے پاس؟ ‘‘
’’ہاں ہے... کیوں؟‘‘
ہماری طرف سے امام ضامن باندھ لو۔ بمبئی پہنچ کے کچھ کھالینا۔ تم بھی تو آدھے سید ہو، ثواب کہیں نہیں جائے گا ۔‘‘
شروع شروع میں انہوں نے کچھ خط بھی لکھے ۔ صاف ستھری شفاف تحریر، موتیوں جیسے الفاظ ، بے لوث، بے غرض محبت سے لبریز خط۔
ایک دن سنا کہ نمونیا ہوا۔ دودن بیمار ہے، تیسرے دن چل دیے۔ وہ ہمیشہ جلدی میں رہتے تھے، اس لیے جلدی سے چلے بھی گئے۔
شادی کے بعد جب میں پہلی با رفریدہ اور دو سال کی لبنیٰ کو لے کر رام پور گیا تو بجیا سے ملنے ان کے گھر بھی گیا۔
میں نے آواز دی:
’’بجیا!‘‘
بجیا نے آواز فوراً پہچان لی اور وہیں سے چلا ئیں:
’’ارے آؤ آؤ میرےحرامی پلے ! کہاں مرے ہوئے تھے اتنے دنوں سے؟ بمبئی میں تھے کہ کسی قبرستان میں؟ میں تو فاتحہ بھی پڑھ چکی تھی ۔ ایک خط بھی نہیں بھیجا۔ ہاتھ ٹوٹ گئے تھے کیا؟‘‘
فریدہ کا منہ چیرت سے کھل گیا ۔’’ یہ کیسا استقبال ہے؟‘‘
میں نے سمجھایا، ’’ یہ بجیا ہیں اور یہ انداز ان کا ٹریڈ مارک ہے۔ چلو سلام کرو۔“
بجیا ویسی کی ویسی ہی تھیں جیسی چھوڑ کر گیا تھا ، بس کنپٹی کے بال کچھ زیادہ سفید ہو گئے تھے۔ بہو اور بچی سے مل کر بہت خوش ہوئیں ۔ میں نے ایک لفافہ ڈرتے ڈرتے بڑھایا اور کہا، ” بجیا، ہم لوگ آپ کے لیے کوئی تحفہ نہ لا سکے ۔ سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ آپ کو کیا اچھا لگے گا ، اس لیے ...‘‘
با جی نے سر ٹیڑھا کر کے لفافہ کھولا ، اس میں رکھے نوٹ دیکھے اور فریدہ سے بولیں:’’ دیکھو ... دیکھو اس بے غیرت کو! دس سال کے بعد لوٹا ہے اور پانچ سوروپلی تھما ر ہا ہے حرامی پلا ۔ ارے کم سے کم پانچ ہزار تولا یا ہوتا مردار!‘‘
’’وہ دن بھی آئے گا۔‘‘
’’جب وہ دن آئے تو تم بھی اپنا کالا منہ لے کر آجانا۔‘‘
انہوں نے لفافہ میرےاوپر پھینک دیا۔ اس دن بہت اچھے موڈ میں تھیں ، شایدلبنیٰ کو دیکھ کر، اس لیے تھوڑی خوشامد پر راضی ہو گئیں اور لفافہ تکیے کے نیچے رکھ لیا۔
کچھ دن بعد جب ہم بمبئی واپس جانے والے تھے تو کھانے پر بلایا۔ بڑے پیار سے کھلایا اور چلتے وقت فریدہ کو جوڑا دیا اور بچی کے ہاتھ پہ ایک لفافہ رکھ دیا۔ جب میں نے کھول کر دیکھا تو اس میں پانچ سو اکیاون روپے رکھے تھے۔
تو ایسے تھے ہمارےشمومما اور زیتون بجیا ۔ خود مٹ گئے ،مگر اپنے بانکپن اور کج کلاہی کے نشان دلوں پر چھوڑ گئے۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ