اسلامی خطاطی
اسلامی خطاطی
ابتدائے آفرنیش سے انسان نے اپنے جذبات کے اظہار اور خیالات کے ابلاغ کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے۔ سب سے پہلے انسان نے اشاروں سے جذبات کا اظہار کیا ، دوسرے مرحلے میں جانوروں کی بولیاں بول کر اپنا مقصد بیان کرنے کی کوشش کی ، بعد ازاں اس نے ابلاغ کے زر یعے اپنی سمجھ کے مطابق محسوس نشانات مقرر کئے ۔ انسان کی پہلی تحریر بڑی سادہ تھی ، شروع میں تصویروں سے کچھ تصورات محسوس کئے گئے ، پھر تصور کو نام دے دیا گیا اور پیغام رسانی کے لیے تصویری خاکے ایجاد ہوئے ۔ ( ۱) خوش نویسی، شاعری ،مصوری ،موسیقی فنون لطیفہ کے زمرے میں آتے ہیں انسائیکو پیڈیا بریٹا نیکا میں خطاطی کی تعریف یوں کی گئی ہے۔
Calligraphy is writing as an art. The term derives from the Greek words for good or 'beautiful and for 'writing or drawing, and refers to what writing masters, called the art of fair writing (2)
جبکہ انسائیکلو پیڈیا آف آرٹس میں خطاطی کی تحرم کو ان کے انداز میں لکھنے کا نام ہے کیلیگرافی کی اصطلاح یونانی زبان کے دو الفاظ سے مرکب ہے یعنی " کالوس " ، بمعنی خوش شکل " اور گرافوس یعنی " لکھائی " یا " خوبصورت لکھائی کا فن۔ "
of all the visual arts calligraphy (khatt) alone appears to have been regarded as a fine art by the Muslims. It is termed a spiritual Geometry (3)
"تمام بصری فنون میں صرف خطاطی کو مسلمانوں نے فنون لطیفہ کا درجہ دیا ہے اس کو روحانی علم ہندسہ بھی کہا جاتا ہے"
"زبان کے بعد انسان کی سب سے بڑی ایجاد فن تحریر ہے۔ جس پر ہماری تہذیب و شائستگی کا دارومدار ہے بغیر اس مفید فن کے ہم کسی تہذیب کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اگر انسان نے لکھناایجاد نہ کیا ہوتا تو اس کی زندگی آج بھی وحشیوں کی طرح بسر ہوتی ۔،، (۴)
تحریر کا فن سب سے پہلے دجلہ اور فرات کی وادی میں وجع ہو۱(۵) فوگو نیفیوں نے بھی یہ ہنر جلد سیکھ لیا لیکن اولیت صرف عراق قر یم کو حاصل ہے۔ یہ انقلابی ایجاد آج سے تقریبا ساڑھے پانچ ہزار قبل سو میر کے شہر ارک ( Uruk ) کے ایک معبد میں ہوئی جو اس وقت عراق کا سب سے ترقی یافتہ خوشحال شہر تھا۔ بعض کے نزدیک رسم الحظ کی ابتداء مسیح علیہ السلام سے پندرہ ہزار برس قبل مصریوں نے اپنے افکار و خیالات کو ظاہر کرنے کے لیے انسانی اور حیوانی اشکال کے لیے جو صورتیں خیالی تھیں ان کے لیے علامات مقررکر لی گئیں (۲) ورقہ کے ٹیلوں کی کھدائی سے جرمنوں نے ۱۳۴۳ھ/ ۱۹۴۴ء میں ایک تختی دریافت کی جس پر تصویری حروف کندہ تھے اس تختی پر بیل کا سراورکئی قسم کی بھیڑ یں بنی ہوئی تھیں، یہ انسان کی پہلی تحریر تھی جو ۳۵۰۰ ق م کے قریب لکھی گئی(7)اس تصویری تحریر کا مفہوم خاصا واضح تھا مثلا مرتبان کی شکل فقط مرتبان کی علامت نہیں بلکہ مرتبان میں رکھی ہوئی کسی چیز یعنی تیل وغیرہ کا وزن بھی بتاتی ہے۔(۸) اس تختی سے صاف پتہ چلتا ہے کہ تختی پر مندر کی املاک کا حساب درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریر کا فن دراصل مندروں کی معاشی ضروریات کے تحت وجود میں آیا۔ (9)اسی طرح ابتداء میں برتنوں پر بھی نشانات اور تحریریں ملیں۔
"Writing began at the time when man learned how to communicate his thoughts and feelings by means of visible signs, understandable not only to himself but also to all other persons more or less initiated in particular system."(10)
" لکھنے کا فن اس وقت شروع ہوا جب آدمی نے اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار ظاہری نشانیوں سے کرنا شروع کیا۔ ایسا طریقہ اظہار نہ صرف وہ خود سمجھ سکتا تھا بلکہ ایک خاص نظام کے اندردوسرے افر ادبھی اسے سمجھ سکتے تھے۔"
کاغذ کی جگہ مختلف رنگ کے پتحر اور قلم کی جگہ تیشہ استعمال ہوا اور اس طرح حالات و واقعات کو ضبط تحریر میں لانے کا آغاز ہوا۔ اظہار محبت کے لیے کبوتر ، عداوت کے لیے سانپ، جنگ و جدل کے لیے شیر، صلح وسلامتی کے لیے بکری اور ہرن خوشی اور مسرت
کے لیے طنبورابجاتی ہوئی عورت یا ناچتا ہوا مرد، عیاری اور جاسوسی کے لیے گیدڑاسی طرح دوسرے معاملات کے لیے دیگر اشکال تجویز کی گئیں ۔(ع۔4) یورپ والوں نے اس خط کو ہیروگلیفی ( Hero glyphic ) کے نام سے موسوم کیا اور اس کی ترقی یافتہ شکلوں کو ہیرو تیقی ، ویموتیقی،فوتیقی،آرامی،شطر نجی،یس سطر نجیلی نبطی کہتے ہیں۔ بعض مؤرخین کے نزدیک خطاطی کا آغاز اس طرح ہوا۔
"Writing in the broad sense of graphic symbols of specific thoughts probably began with marks impressed by finger-nails upon soft clay to adorn or to identify pottery. There are four great systems of ancient world-writing Egyptian, Sumerian. Hittite and Chinese."(10)
لکھائی کا فن اپنے وسیع تر معانی میں مخصوص خیالات کو واضح اشاروں میں بیان کرنے کا نام ہے۔ اس کی ابتداء غالباً نرم مٹی کے برتنوں ناخنوں کے دباؤ کے نشان لگانے سے ہوئی۔ اس کا مقصد برتنوں کی سجاوٹ یا پہچان تھا۔ قدیم علم التحریر کے چار نظام ہیں۔ مصری ، سمیری ، حتیٰ اور چینی ۔"
کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور عقل کار ساز رہی ہے کہ عقل کی رہنمائی میں مختلف اصوات اشارات و سکنات کا یہ عطیہ آ ہستہ آہستہ ایک مدت مدیر میں حروف اور حروف سے بامعنی اور مہمل الفاظ کے روپ میں سامنے آنے لگا ابتداء میں یہ تمام الفاظ منفرد تھے، جب ان کی تعداد زیادہ ہوئی تو مرکب الفاظ کی باری آئی ان کی بنیا دبھی انہی اصوات کی مرہون منت تھی ۔ (۱۱) جب انسان اسم کلمہ اور فعل سے نا واقف تھا تو یہی تصویر یں یعنی ( ہیرو غلطی خط )اس کے خیال کا پرتو بنیں۔ یہی تصویریں میں خطاطی کا سنگ بنیاد اور خطاطی و مصوری کا مشترکہ سرمایا بنیں۔ (۱۳) عبدالقیوم کی تحقیق کے مطابق خطاطی کے ارتقا اور متعلق تین نظریات ہیں ۔ (۱۳)
(الف) نظر یہ توقیف
اس نظریے کی رو سے حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی سے تمام زبانوں کی کتابت سکھائی جنہوں نے مختلف زبانوں کی ابجد الگ الگ تختیوں پر لکھ کر اپنی اولاد کے لیے رکھ لی۔ طوفان نوح میں کئی تختیاں گم ہو گئیں جن میں عربی کی تختی بھی تھی ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے وحی الٰہی کے اشارے سے یہ گمشده تختی دریافت کی اور اس طرح عربی خط کا آغاز ہوا۔ عربی زبان کا پہلا کاتب حضرت آدم علیہ السلام اور بعد از طوفان حضرت اسماعیل علیہ اسلام ہیں (۱۴)
(ب) نظریہ حمیری
اس کی رو سے قبل از اسلام کا حجازی خط یا خط مسند سے نکلا جو جنوبی عرب بالخصوص یمن کا قدیم ترین خط تھا۔ ممکن ہے کہ یہ خط یمن سے براہِ راست حجاز پہنچا ہو۔ ۲۰۰۶ ق م کے لگ بھگ سبا اور حمیر کے عہد میں جبکہ یمن کی ثقافت پورے عروج پر تھی اور شمالی عرب کے بعض علاقے سیاسی طور پر ان کے زیر اثر تھے اس وقت یہ خط یمن سے حیرو کے نواحی علاقوں میں پہنچا ہو اور وہاں سے حجاز میں آیا ہو۔ لیکن اس نظر یہ کے رد میں بڑی دلیل ہے کہ زمانہ قبل از اسلام کے حجازی خط اور قدیم حمیری خط کے نمونوں میں کوئی مناسبت او رتعلق نظر نہیں آتا۔ ابن خلدون کے مطابق بھی حجاز کے قریشی خط اور یمن کے مسند کے درمیان نمایاں فرق ہے۔
علامہ بالا ڈ ری نے حجازی خط کی اصل کے بارے میں اس نظریعے کا ذکر کیا ہے کہ شام عرب کے تین آدمیوں نے یہ خط سریانی زبان سے اخذ کر کے ایجاد کیا، پھر انبار اور حیرہ وغیرہ اس خط کے پہلے مر کزبنے اور وہاں سے بشر بن عبدالملک ، صاحب دو متہ الجندال یا ابوکیس ابن عبدالمناف کے ذریعے یہ خط حجاز میں آیا ۔ اسلام سے صدیوں پہلے عرب کے شمال میں وادی فرات اور جنوب میں یمن تہذیب و ثقافت کے مراکز رہے ہیں، چونکہ اس زمانے کے حجازی خط کی جعلی خط کی چھاپ بہت زیادہ ہے اسی لیے یہ اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ حجاز میں جو خط رائج ہوا وہ اس شمالی نبطی خط کی ایک اہم شکل تھی۔یہی وجہ ہے کہ وہ دورنبوی ﷺ کے نبطی خط کو حمیری اور انباری خط بھی کہا گیا۔ خود نبطی خط شمالی عرب کے قبائل نے قدیم آرامی سے اخذ کیا نبطی حکومت( 129۔102)ق م کے مٹ جانے کے بعد بھی یہ خط شمالی عرب میں رائج تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے دو صدیوں کے درمیان یہ خط حجاز میں اپنی موجودہ صورت میں نمودار ہوا جہاں سے اس کی تاریخ کا اسلامی دور شروع ہوتا ہے۔ حجاز اسے جب یہ خط دوسرے علاقوں میں منتقل ہوا تو ابتدا میں اسے حجازی، مکی یا مدنی خط بھی کہا گیا۔(ع۔5) جہاں تک خط اسلامی کا تعلق ہے اس میں شائستگی کی بنیادی وجہ روحانی بالیدگی ہے۔
عربی خط کے بارے میں مستشرقین کی رائے ہے۔
"The Arabic Script came to possess a spiritual force difficult for non Muslims to comprehend."(15)
عربی رسم الخط اپنے اندر ایک ایسی روحانی قوت رکھتا ہے ۔ جس کا احاطہ کرنا غیرمسلموں کے لئے ذرا مشکل ہی ہوتا ہے۔"
عربی رسم الخط کے بارے میں ایک اور سکالر رقم طراز ہے۔
"The art of Arabic writing is by definition the most Arab of all the plastic arts of Islam. It belongs never the less to the entire Islamic world, and is even considered to be the most noble example of the art. Because it gives visible form to the revealed word of the Quran"(16)
"اگر چہ عربی رسم الخط اسلامی فنون لطیفہ میں سب سے زیادہ عربی النسل ہے۔لیکن پھر بھی بین الاسلامی خواص کا حامل ہے۔ اور چونکہ یہ قرآنی آیات کو ظاہری شکل و صورت عطاکرتا ہے اس لیے اسے اسلامی فنون میں سب سے زیاد و مقدس خیال کیا جا تا ہے۔"
"If it (Calligraphy) was carried out in a trained and disciplined manner, the very act of writing could produce a beautiful work of art that was also a pious expression of faith."(17)
"اگر خطاطی کو تربیت یافتہ ہاتھ کے ذریعے منفرد انداز میں پیش کیا جائے تو نہ صرف یہ ایک خوبصورت فن کے نمونے کے طور پر سامنے آتا ہے بلکہ یہ ہمارے اعتقادات کو بڑے پاک انداز میں پیش کرتا ہے۔"
"The art of calligraphy or beautiful writing was cultivated by the Muhammadans from earliest times and was more esteemed than that of painting.” (18)
"خطاطی یا خوش خطی کے فن کی مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور سے ہی پرورش شروع کر دی تھی اور اسے فن مصوری سے زیادہ عزت دی"۔
"The Letter a magical power of spiritual geometry emanating from the pen of invention."(19)
"لفظ( Letter ) کی جادوئی طاقت دراصل ایک ایسی رومانی جیومیٹری کا نام ہے جو قلم کی ایجاد کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔"
عباسی خلیفہ مامون نے اپنے خط سے لکھی ہوئی سرکاری دستاویز دیکھی اور کہا۔
"کیا عجیب قلم ہے کس طرح شاہی شکوہ کو بن رہا ہے اور اطراف دولت کو سجا رہا ہے اور اعلام خلافت کو کھڑا کر رہا ہے ۔ (۲۰)
مامون کے خطاط احمد بن یوسف (المتوفی 313، 925 ) نے کہا کہ با عصمت عورتوں کے رخساروں پر آنسو اتنے خوبصورت دکھائی نہیں دیتے جتنے قلموں کے آنسوکتابوں کے مسوعدوں پر۔(21)"
معروف خطاط ابراہیم نے کہا:
جس کی روح کو عقل ، زبان کو بلاغت ، ہاتھ کو خطاطی ، ہیت میں رعب اور خصائل میں حلاوت عطا ہو ئیں تو اس کے لیے خو بیاں منظم ہو گئیں اور فضائل ان پر نچھاور ہوئے اور صرف شکر کرنا باقی رہ گیااور یہ کمالات اسے کس طرح حاصل ہو سکتے تھے۔ (۲۲)
اب سوال یہ ہے اچھی خطاطی کس طرح سے ممکن ہے؟ اس کی پہچان کیا ہے؟ اسے کن زاویوں سے مسحورکن بنایا جاسکتاہے ؟ ٹی ویلیچ کے مطابق یہ اسی وقت ممکن ہے جب۔
"when" its parts are symmetricalits alif ( ا ) and its lam (ل) made long. Its lines regular, its terminals made similar to its upstrokes, its ayns (ع) opened. Its ra (ر) ( clearly distinguishable from its nun
. its paper polished, its ink sufficiently black, with no commixture of styles permitting of rapid visualization of outline and quick comprehension of content, its thinness and thickness in due proportion (23)
"جب اس کے اجزاء میں ترتیب باہمی ہو ، اس کے "الف "اور "لام"لمبے ہوں ، اس کی سطور با قاعده ہوں، اس کے آخری سرے ، اس کے قلم کی کھڑی حرکات کے مطابق ہوں، اس کی "عین"کھلی یا وسیع ہو، اس کے "را" اس کی "نون" سے واضح طور پر علیحدہ نظر آتی ہو، اس کا کاغذچمکدار ہو ، اس کی روشنائی کافی حد تک سیاه ہو۔مختلف انداز ( Styles ) اسی طرح ایک دوسرے میں غلط نہ ہوں جس سے سطور کی خاکے جلد نظر آ تے ہیں عبارت کے مطابق جلدی سمجھ سکنے میں مدد نہ مل سکے ۔ اس کے خط کی باریکی اور موٹائی ہر دو متناسب ہوں ۔"
ماہرین خطاطی کا کہنا ہے کہ دنیا میں تین صنعتوں کا ہونا ضروری ہے۔
(الف) پہنچ اور آسانی سے پڑھا جانے والا۔
(ب) آسانی سے لکھا جانے والا
(ج) خوشنما
ان تینوں صنعتوں پر مختلف خطوط کو پرکھا جائے تو منطقی طور پر خط مکمل ہوگا یا ناقص یا ان دونوں کے مابین ، جبکہ تینوں صنعتوں کا حامل خط مکمل کہلائے گا جو اب تک و جود نہیں رکھتا یا تینوں صنعتوں سے خالی خط ناقص محض ہوگا جیسے تصویری سومیری، منجی، مصری ، ہیرو غلیفی، تسخ ناقص و کوئی یا جوخط تینوں صفات ایک خاص تناسب سے رکھتا ہو درمیانے درجے کا خط ہے اور دنیائے اسلام میں بیشتر خط اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ اسلامی خطوط میں نسخ، نستعلیق اور شکستہ کو تمام خطوط سے مقبول ترین اور کامل ترین قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ نسخ پہنچ اور آسانی سے پڑھا جانے والا، جب کہ خط شکستہ آسانی سے لکھا جانے والا اور نستعلیق خوشنمائی کے سبب پہلے درجے پر آتا ہے۔
ان المر زبان کاتب کے مطابق
"خط ایک مشکل جیومیٹری (علم الہندسہ ) اور ایک سخت صنعت ہے کیونکہ جب یہ نفیس ہو گا تو کمزور ہوگا، اگر ٹھوس ہوتو پونچھاجائے گا اور اگر پڑا ہو تو سخت ہو گا، اگر باریک ہو تو بکحرا ہواہوگا، اگر گول ہوتو موٹاہوگا ، بس ایسی شکل جو ہر چھوٹی بڑی صنعت کی جامع ہو تو شاذ ونا در صورتوں میں ہی مل سکتی ہے۔ (۲۴)
اروان این کے مطابق
فنون لطیفہ عالم محسوسات کو گہرائی نہیں بخشتے کچھ اور بھی کام کرتے ہیں ، وہ زندگی کے معمولات میں برابر پیدا ہونے والے یکساں قواعد اور یکساں حسی رد عمل پیدا کرتے ہیں جوآنکھیں روزمرہ کے معمولات سے متاثر ہو کر تھک چکی ہیں وہ ثقافتی مصوری یا خطاطی کے نمونے دیکھا کر پھر سے تیز بین ہوجاتی ہیں ۔ (۲۵)
عربی مقولہ ہے " الخط ریاض العلوم " اور "القلم سفیر العقل"شیخ شمس الدین خانی کے الفاظ میں خط کی تعریف یہ ہے کہ الفاط صرف معنی مفہوم ادا کرتے ہیں اور خط الفاظ کے حسن صوری کو پیش کرتا ہے ۔ خطاطی ایک ایسا پیشہ ہے جس سے مختلف قسم کے ہنر مند اپنی روزی کا سامان پیدا کرتے ہیں، ان میں سٹار،مخطوطات ، کاغذسازی ، سنگ تراش، صنعت روشنائی ، جلدساز، قلم دان سازی کا کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔
اقلیدس کے مطابق "خدا یک روحانی جیومیٹری ہے جو جسمانی آلے سے ظاہر ہوتی ہے۔ "(۲۲)
افلاطون نے کہا
" قلم عقل کی بیز یاں ہیں خط کا ارتقاء اور روح کی تمنا اس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے – "(۲۷)
بانوی نے کہا
"قلم خط کا طبیب ہے خط روح کی تدبیر کرتا ہے اور محنت کا سر چشمہ ہے۔ (۲۸)
سکندر کے مطابق
"اگر قلم نہ ہوتا تو سلطنت بھی قائم نہ ہو سکتی اور ہرچیز عقل اور زبان کے ماتحت ہے کیونکہ یہ دونوں چیز یں ہر چیز پرحاکم ہیں اور جو چیز کی خبر دینے والی ہیں اور قلم ہی تجھے یہ دونوں چیز میں دکھاتا ہے اور تیرے پاس نہیں حاضرکرتا ہے۔" (۲۹)
اہمیت خطاطی
تاریخ نویسی کے لیے دستاویزات خصوصی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ۔ ان دستاویزات کی کثرت کے سبب John Martin Vincent نے اپنی کتاب Historical Research میں ان کی جماعت بندی کر دی ہے اسی طرح Sir Charles Quan نے اپنی کتاب Rushbrooke William,Ion Writing of History نےاپنی تصنیف The Handling of Historical Material میں دستاویزات کی ماہیت واضح کی ہے اور او رمند رجہ بالا تمام کتب کی معاونت سے دستاویزات کی یوں درجہ بندی ہوتی ہے۔
1۔ غیر دستاویزی( Undocumented )
2۔ دستاویزی ( Documented )
غیر دستاویز ی ۔ جو تحریر ی طور پر نایاب ہیں مگر مختلف آثار کی صورت میں پائے جاتے ہیں اور وقائع نگاری میں مدددیتے ہیں اوران میں آثار قدیمہ سے مدد لی جاتی ہے جن میں خطاطی ایک قدر مشترک ہے جو دونوں دستاویزات کے مطالعے کے لیے ضروری عنصر مہیا کرتی ہے اگر رسم الخط یا زبان کا علم نہ ہو تو تاریخ کا علم بے معنی ہے موہن جوداڑوکی خطاطی نہ پڑھی جانے کے باعث اس تہذیب کے بارے میں خاطر خواہ معلومات حاصل نہیں ہوئیں ۔
کتبات
غیر دستاویزی درجہ بندی کے تحت کتبات کی اہمیت مسلمہ ہے اب کتبا ت ہی کی مدد سے ہم متعلقہ دور کی تاریخ میں داخل ہو سکتے ہیں اگر روز یٹا سٹون ( Rosetta Stone ) دریافت نہ ہوتا تو خط منجی کی کنجی نہ ملتی۔ ۔ اس کی مدد سے خط منجی 43حروف تہجی پڑھ کر سو میری تہذیب سے آشنائی ہوئی ۔ اس طرح دارا کے مدفن کا کتبہ جو (۱۳۵۳ - ۱۳۵۹ و ۱۸۳۷ ۱۸۴۳ء) میں سر ہنری والناس نے کرمان شاہ کے قریب دریافت کیا تھا اس میں تین زبانیں استعمال کی گئی ہیں ۔ یہ کتبات کسی عمارت کی تاریخ بنا، اس کے بنانے والا، کاتب ، سنگ تراش ، اس دور کی خطاطی، رسم الخط تراشی سنگ تراشی ، نقش و نگاری، اور فن جیسے علوم کے بارے میں معلومات مہیا کرتے ہیں۔ اگر خط کی مروجہ اقسام کا علم مورخ کو نہ ہو تو اسے اتنا پانی تو اُسے کتاب فہمی میں مشکل پیش آئے گی اور اسے کسی ماہر خطاط کی طرف رجوع کرنا پڑے گا کتبا ت ہمیں صرف مذکورہ عمارت کی تاریخ مرتب کرنے میں آسانی ہی مہیا نہیں کرتے بلکہ ان کے ذریعے اس دور کے مروجہ رسم الخطوط کا پتہ بھی ملتاہے ان کی مدد سے بعض دفعہ طرز خطا طی کے دور کا تعین کر کے خطاطی کے ارتقائی مراحل کا پتہ چل جاتا ہے تاریخ مرتب کرنے میں اشوک کے کتبےاور مغلوں کی عمارتی خطاطی ان کی وسعت سلطنت زبان اور طرزتعمیرکوواقعات کی ایک کڑی میں پروئے چلے جاتے ہیں ۔ کتبہ خوانی کے لیے خطاطی کا بنیادی علم اور تاریخ خطاطی کا علم ہونا بہت ضروری ہے اسی طرح تاریخی ماخذ کے طور پر سکوں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے سکوں پر عموماً پیچیدہ خطاطی ( طغرائی ) و غیر ہ کا رواج یا الفاظ کو باہم ایک دوسرے میں پیوست کر کے ڈیزائن کی صورت دی جاتی ہے ۔ اس طرح مسکوکات کے مطالعے کے لیے بھی خطاطی کا علم بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔
سندات
قدیم عدالتی فیصلوں کے مطالعہ کے لیے بھی خطاطی کے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔
علم کتبہ خوانی ( Deciphering Inscriptions )
کتبہ خوانی کے لیے خطاط اور خط کے موثر اوقاف کا پتہ ہونا ضروری ہے بعض اوقات ایسے کتبات سامنے آتے ہیں جن کی زبان تا حال پڑھی نہیں جا سکی اس کی مثال ایسے خزانے کی ہے۔ جس کو صندوق میں بند کر کے اس کی چابی کو زنگ آلود کر دیا جائے ۔ اسی طرح جب دستاویز کی معاونین کی طرف رجوع کریں تو ہمیں جو دستاویزات میسر آتی ہیں ان میں بھی اہم خطاطی کے رہیں منت ہوتے ہیں ان دستاویزات میں - (1) اول معاہدات ، دوئم منشورات ، سوئم فرامیں شامل ہیں۔
وقائع نگاری
وقائع نگاری کے لیے عموماً شکستہ دیوانی طرزتحریر مروج تھی۔ اس کے پڑھنے کے لیے اس کے مروجہ اسالیب جاننا ضروری ہے۔ شکستہ خط کے پڑھنے کے لیے بھی اس کے مروجہ قوانین کا پتہ ہونا ضروری ہے۔ دستاویزات ، عطیات ، مراعات حقوق زمیں کے متعلق فرامیں بھی شکستہ یا دیوانی میں لکھے جاتے رہے ہیں اور ان پر مہریں طغرائی طرز میں ہوتی ہیں جو بذات خود اعلی نمونہ ہائے خطاطی کی مثال پیش کرتے ہیں ان دستاویزات کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے صرف ایک اچھا سکالر محقق ہونا کافی نہیں بلکہ ان کو پڑھنے کی مہارت ہونا بھی ضروری ہے۔
روزنامچے
عمار ہ بن وطیمہ نے نویں ہجری / پندرہویں صدی میں روز نا مچہ کی تاریخ لکھی۔ سوانح عمریاں ، خو دنوشت سوانح، خط و کتابت سفرنامے ان سب کی خواندگی کے لیے خطاطی کا علم از بس کہ ضروری ہے۔ حاصل بحث یہ ہے مطالعہ تاریخ کے تاریخ کے لیے کہیں بھی چلے جائیں دنیا کے کسی گوشے کی تا ریخ ہو ان سب کے ماخذایک ہیں اوران ما خدمات تک رسائی کے لیے خطاطی چاہیے انگریز ی ہو یا لاطینی، عربی ہو یا فارسی گور مکھی ہو یا سنسکرت ۔ اس کا بہتر علم اس کے رسم الخط کی پہچان اور اس کے اصول و ضوابط سے میسر ہو سکتاہے اور خطاطی کو سمجھنے کیلئے ہمیں زمانہ قدیم کے رسم الخطوط کا ادراک ضروری ہے ذیل میں ان قدیم رسم الخطوط کا تعارف د یا جارہا ہے تاکہ خطاطی کو سمجھنے میں مشکل پیش نہ آئے۔
اقسام خطاطی
میری ہیرغلیفی
ارک ( Uruk ) کے دور میں تصویری حروف کی تعدا دو ہزار سے متجاوزتھی رفتہ رفتہ ان میں تخفیف ہوتی گئی اہل سمیر گیلی مٹی کی چھوٹی لوحوں پرسرکنڈے بید اور مشک کے قلم سے لکھتے تھے جبکہ مصری قرطاس ہپسی رس Papyrus پر روشنائی سے لکھتے تھے اس لیے ان کے تصویری حروف زیاد ہ حسین معلوم ہوتے ہیں ۲۰۰۰ ق م میں اہل بابل نے اکادی زبان پورے مشرق قریب کی تہذیب اور امور سلطنت کی زبان ہوگئی ، سو میری زبان رفتہ رفتہ ختم ہو گئی ۔ (۳۰) ہیروغلیفی کا دوسرا نام تصویری خط ہے (ع -۴۔۳) اس خط کو دنیا کے تمام رسم الخطو ط کا ماخذمانا جاتا ہے اس خط کے تین مراکز مصر، عراق ، چین ہیں یہ خط دائیں سے بائیں لکھا جاتا تھا مصری ہیر وغلیفی ہے جو اب تک چین میں رائج ہے دوسری عرضی صورت جس طرح آج کل حروف سطر بہ سطر لکھے جاتے ہیں اس خط کو اشاعت کا سبب بنے والے مصری ، بابلی ،عراقی چینی ہیتی تس Hitites ،شامی ، فلسطینی ، سو میری تھے۔ (۳۱) یہ خط مصر اور عراق میں 2700ق م اور بعض تحقیقات کے مطابق 5000م میں رائج ہوا۔
مصری ہیرو غلیفی کی تقسیم بلحاظ صورت و عمل تین طرح سے ہے۔
(1) تصویرنویسی Pictography
یہ صورت ہیر غلیفی خط کی ابتدائی صورت ہے جس کا ایک جزو اب بھی بصورت نشان گھنتے گھنتے حرف میں باقی رہ گیاچین اور جاپان میں تو یہ آج بھی اصل صورت میں کم و بیش ہے۔
(ب) خیال نویسی Ideography
یہ ہیرو غلیفی خط کی وہ صورت ہے جس میں خیالات کو اشاروں اور عورتوں کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے یعنی جس چیز کی تصویر بنائی جاتی ہے اس کی مخصوص صفت یا مخصوص عمل کی طرف خیال کو لے جا کر اس سے کام لیا جاتا ہے۔
(ج) صورت نویسی Hierography
یہ وہ آخری ترقی پذیر صورت ہے جب آواز کے لیے نشان مقرر کرنے کے راز سے انسان کو آگا ہی حاصل ہوئی اور ہرآواز کے لیے اس کی منا سبت اور مشابہت ہوتی ہے جس صورت کے نام میں اس کی آواز کے ابتدائی حرف سے کان آشنا ہوئے ان کی تصویر بنا دی گئی یہ وہ منزل ہے جہاں صوت اور صورت کا ملاپ ہوا ہے اور میں صورت آگے چل کر صاف ہوتے ہوئے حروف کی شکل بن گئی کہ خوبصورت یا تصویر کا ایک جز وحرف بن گیامثلاً بیل کا نام مصری زبان میں چاہے جس طرح اور جس آواز اور حرکت کی وجہ سے "الفا" پڑا ہو۔ جب الف کے قسم کی آواز کی تصویر سے ادا کر تا ہوتا تھا تو پہلے پورا بیل پھربیل کا سرمع سینگ کے بنا دیا جاتا تھا ۔ یہی تصویر مختصر ہوتے ہوتے بیلوں کے دو سینگوں جیسی ہوئی گئی روس رومن رسم الخط A میں اب تک قائم ہے اہل عرب نے اس کو اور مختصر کیا اور خط کوفی میں سینگ کا ایک سرارہ گیا جو نیچے کی طرف سینگ کے داہنی طرف جھکا رہتا تھا مثلاً خط نسخ عربی خط کے الف کی یہ صورت ہے قد ایک سین کی یادگاره گیا اور دوسرے سینگ کے بجائے صرف ایک منڈی کی انوک باقی رہ گئی جیسے سینگ ٹوٹ جانے پر ہوتی ہے لیکن نستعلیق کی رعنائی نے اسے بھی گوارا نہ کیا اور الف میں حسن پیدا کرنے کے لیے اس کی سروسہی یا "قد یار" بنا دیا۔ نستعلیق کے الف کی صورت یہ ہے کہ "الف" فنیقی خط میں بیل کے سینگوں کے سر سے اوپر کر دیئے گئے اور انگریزی A کو الٹ دیا گیا مثلاً A جبکہ یونانیوں میں اس کی شکل AAA بابلی خط منجی میں آلپوبیل کو کہتے ہیں اور اس کی یہی صورت ہےآج ہندوستانی قدیم خط مشقہ میں یہ صورت قدیم ہندی جبکہ صافی خط میں یہ صورت صافی میں یہ یہی حال اور زبانوں کے خط کا ہے اور اسی طرح ہم دنیا کی مختلف زبانوں کا جائزہ لے کر حروف میں تغیرات جو ارتقائی عمل کے تحت ہوئے مطالعہ کر سکتے ہیں ۔ مثلاً ہیرو ٖغلیفی کے ابتدائی دور میں مصری پہلے تو تو29 تصویروں سے اپنا مطلب ظاہر کرتے جن کی تعداد بڑھتے بڑھتے ۹۰ اورا یک مدت میں ۲۰۰۰ تصویروں تک پہنچ گئی ۔ (32) ہیرو غلیفی مخصوص مذہبی طبقے کا خط تھا۔
ہیراتی خط
علماء کے طبقے کے لیے ایک الگ خط کی ضرورت تھی اس کے لیے ہی ہیرو غلیفی سے ہیراتیقی خط ایجاد ہوا۔ ہیراتی خط ہیر هایی سے زیادہ مشابہ نہ تھا یہ خط نہیں سب کے لیے استعمال ہوتا تھا اس لیے اس کا نام ہیرا لینا پڑا جس کے معنی اند کسب و پیشوایان دین ہے عوام این طورا و رتاییش کے مجاز نہ تھے۔ دیوی خط ہیر وانی کی ایک اور ترقی یا باشکل سامنے آئی جس کا نام و یہود میں تھا اس
لیے کہ دیمو ( Demos ) کے معنی عوام الناس کے ہیں یہ روانہ ڈر تھا ۔ ان خطوط کے کان میں شمار ہوتی تھی اس لیے آج کل کے نا شکست کے جسم کا ایک خط ہیراتیا ط سے ایج و ہوا جو بات ہی رات میں خبط مار کرتا جا نتا تھا اس کا نام کر بیٹی دیا تھا اس خط میں بیان کیے ہیں اور پھر تصویر میں تھیں ۔ (۳۳) یہ خدا تصور میں ۲۰۰ سال ق م تک رہے۔
حال بحث یہ ہے کہ خطوط زبان و مکان کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ ہیرو غلیفی خط کا ہر لفظ تصویری تھا اس کے بعد جب تصور مختصر رہ گئی اور حروف ٹیڑھے ہو گئے تو ہیرا تیقی کہلا ئے مصری تہذیب کے بعد سے فونیقی تہذیب نے جنم لیا اور خط فونیقی ، سنامی ، اور سطر بخیلی ادوار سے گزرتا ہوا حمیری مسند تک پہنچا۔ جیسے اہل حیرہ نے تو حیری کہلایا یہی وہ خط ہے جو عرب میں ظہور اسلام کے وقت رائج تھا۔ حیری خط کے بعد ہم قدیم کوفی سے ہوتے ہوئے جد ید کوفی تک پہنچتے ہیں ( ع ۔ا) جدید کوفی چونکہ کوفہ میں سرکاری سرپرستی میں پھیلا پھولا اسی لیے کوفی کہلایا اگر چہ اس خط کی عمر کوفہ کے آباد ہونے سے ایک صدی زائد ہے ۔ جد ید کوفی کے جدید قلم تو ہارون الرشید کے عہد تک مستند ہو چکے تھے لیکن القاہر باللہ کے عہد میں ابن مقلہ نے جب چھ قلم مز ید ایجاد کئے تو پہلے والے سب خط متروک ہو گئے ۔
ہڑپانی خط
پاکستان میں پنجاب کے شہروں ملتان اور لاہور کے درمیان ایک مقام ہڑپا ہے جہاں اونچے اونچے ٹیلوں کا سلسلہ دور تلک پھیلا تھا۔ ۱۹۲۱ء میں رائے بہادر دیا رام ساہی نے یہاں کھدائی کی 1922 ء میں رکھل داس نیر جی نے ہڑپا سے 450میل دور سندھ میں موہنجوداڑو کے آثار دریافت کئے پھر سر جان مارشل نے1922، سے 1927تک کھدائی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ رائے بہادردیارام سامنی اورمادھو سروپ وتس نے1929ء سے لے کر 1934تک ہڑپا میں کھدائی کی اس طرح وادی سندھ کی شاندارتہذیب کا پتہ چلا جو 2350اور 2750 ق م کے درمیان عروج پر تھی جس کا اپنا ایک رسم الخط تھا جو "تصویری تھا۔ (ع۔5) اب تک اس لکھائی کے جتنے بھی کتبے ملے ہیں وہ مہروں اور تعویزوں پر پائے جاتے ہیں جو ایک خاص قسم کے پتحر steatite پر بنی ہیں ۔ ڈاکٹر جی آرہنٹر نے ان کی تعداد 253ظاہر کی ہے (34) پروفیسر اسٹیفن لیکدن نے 288۔ سی جے بیڈ اور مدنی اسمتھ نے 356، اسٹورٹ پلٹ نے 400(35) ڈاکٹر سیف الرحمٰن ڈار کی تحقیق کے مطابق 54بنیادی نشان ہیں (32) سرجان مارشل (37)نے اپنی کتاب میں ہڑپاکی تقریباً900مہروں کے اور محمد اسحاق صدیقی کے مطابق 750اندراج ہیں۔ جہاں تک نشانات کی اقسام کا تعلق ہے ان میں آدمیوں، جانوروں، مچھلیوں، پہاڑ وغیرہ کی تصاویر کو پہچانا جا سکتا ہےلیکن بیشتر کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کسی کی تصویر ہے تحریر کا رُخ دائیں ہے یا بائیں اور پھر بائیں سے دائیں تھا(38)اسی ہرز نگارش کو ( Boustrophon ) کہا گیا ہےیعنی جیسے بیل حل چلاتا ہےجب کہ ہیرو غلیفی خط کو اس طرف سے پڑھا جا سکتا تھا جس طرف تصویروں کا رُخ ہوتا ہے ۔ وادی سندھ کا رسم البنیا ایکم (موجودہ خوزستان یا جنوبی ایران) کے رسم الخط سے زیادہ مشابہ تھا اور سمیری رسم الخط سے نسبتاً کم مگر یہ عجیب بات ہے کہ اس لکھائی کی انسانی تصاویر نہ تو سمیر ی سے ملتی ہیں اور نہ ایلمی سے بلکہ ان کے بنانے کا انداز مصری ہیرو غلیفی سے مشابہ
ڈاکٹر ہنٹر نے واد ی سندھ کے نشانات کا کا جنوبی عرب کے حمیر ی اور سبائی خط ، فونیقی خط اور جزیرہ قبرص کے قبرصی خط سے مقابلہ کر کے یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کا ماخذ وادی سندھ کا رسم الخط تھا۔ (39) مگر بعض مؤرخین خط نے اسکی صحت سے انکار اس لیے کیا ہے کہ سندھ کی لکھائی سبائی اور فوتیقی رسم الخط کے وجود میں آنے سے 2000 سال پہلے فنا ہو چکی تھی۔ بہر حال اس میں شبے کی گنجائش قطعی نہیں ہے کہ پاکستاننی پنجاب ہمیشہ سے عظیم الشان تہذیبوں کا مسکن رہا ہے اور اس خطے نے ہزار ہا سال سے اپنے الگ رسم الخط کی بنیاد رکھی جو مصری ہیرو غلیفی سے کسی بھی طرح سے کم تر نہیں ہے۔ "ا"، "ب" کی ایجاد میں ایک خاص اصول ہے مدد لی گئی جسے Aorophony کہتے ہیں۔ یعنی کسی لفظ کے شروع کی آواز لے کر بقیہ حصے کو حذف کر دینا اس اصول سے فائدہ اُٹھا کر ساری قوم نے لفظوں کی علامات کو حروف تہجی میں منتقل کرایا چنانچہ آج بھی عربی خط میں یہ صورت پائی جاتی ہے۔ جب تصویری خط کے دوران رواج میں آواز کے لیے تصویر کا رخ تعین ہو چکا تو 22قسم کی آوازوں کے لئے 22 تصویریں بنائی جانے لگیں یہ 22 تصاویر رفتہ رفتہ تصویری باس اتار کر ایک ایک حرف کا نشان بن گئیں اور یہ وہی 22حروف ہیں جو صدیوں کے بعد ابجد، ہوز، حطی، کلمن، سفعص قرشت تک محدود ہوئے جب عربوں نے ہزار ہا سال بعد اس میں چھ حروف بڑھائے تو ثخذ نفطع ہو گیا۔
پیر مہر علی شاہ صاحب حضرت عمروہ بن زبیرؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں ابجد، ہوز حطی، کلمن، سعفص قرشت یمن کے بادشاہ تھے اور یہ تمام خطاط تھے۔(40) ایرانیوں نے پ، چ۔ ژ۔گ اور ہندیوں نے اردو کی ایجاد کے وقت ہندی بھاشا کے الفاط کے تلفظ کے لیے ٹ، ڈ، ر بڑھا دی یہی ابجد ضظغ تک کے حروف تھے جس کے بجائے حرف کے اعداد بہت پہلے سے معین کیے جا چکے تھے اور ہارون الرشید کے زمانے میں نیا فن تاریخ گوئی ایجاد ہوا جس سے عمارت وغیرہ کے سن تعمیر کے اعداد حروف سے نکالے جاتے تھے۔ اور عمارتوں پر کنندہ کرا کے تاریخیں لگائی جانے لگیں۔ تاریخی معلومات کو حروف کے اورزان میں پوشیدہ انداز میں مرتب کیا گیا۔(41) تاریخ نکالنے کا طریقہ مغل ایران سے لائے اس سے قبل جو تاریخ کتبات کی صورت لکھی جاتی تھی اس کی مثال لعل شہباز قلندرؒ کے مزار کا کتبہ ہے۔(42) اسی طرح مسجد خراسیاں لاہور کے کتبہ میں دو طرح سے تاریخ بنا دی گئی ہے۔(43)
پیکانی یا منیحی خط
قدیم مصریوں کے یہاں تاریخ تعمیر کی تحریر کا کام تصویروں سے لیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں جبکہ مصر میں تصویری خط رائج تھا۔ ساتھ ہی ساتھ عراق کے شہروں بابل و نیٹوا میں ایک خاص قسم کا تصویری خط بھی رائج تھا۔ جس میں میخوں یا تیروں کی طرح کے خط سے تصویر بنائی جاتی تھی۔(ع۔6) جسے خط منیحی کا نام دیا گیا اور کچھ خیالات ادا کرنے کے طریقے قریب قریب اسی طرح کے رائج تھے جس کا ذکر تفصیل سے مصری ہیرو غلیفی کے اقسام اور عنوان کے خط کے تحت بیان کیا جا چکا ہے جسے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں مصری اور بابلی خط سے جو ادر خط نکلے ان کا ذکر ایک ساتھ کیا جائے گا۔ پہلے اصل ماخذ یعنی بابلی تصویری خط جس کا نام خط میخی یا مسماری پیکانی ہے کا ذکر کر دینا ضروری ہے۔ خط میخی کی 19 اقسام تھیں اس خط کا رواج عراق، ایران اور ایشائے کو چک وغیرہ میں تھا۔مصر میں مصریوں کا خط تصویر اور خط میخی دونوں رائج تھے میخی خط بھی مصر کے ہیرو غلیفی کی طرح دنیا کا قدیم ترین خط شمار کیا جاتا ہے یہ خط بائیں طرف سے دہنی طرف کو لکھا جاتا تھا۔5000ق م سے چوتھی صدی عیسوی تک اس کا رواج رہا بابل کے ابتدائے دور تمدن سے اس کی ابتداء ہوئی اور یہ خط نیٹو اور ایران تک پھیل گیا اس خط کا سب سے قدیم کتبہ بابل کے قدیم شہر ورقہ میں پایا گیا جبکہ نیٹو اور ایران وغیرہ میں بھی بے شمار کتبے ملتے ہیں مصر کی ہیرو علیفی کےسلسلہ میں جو صورتیں تصویر نویسی اور خیالی نویسی کی ظاہر کی گئی ہیں سب اس میں پائی جاتی ہیں مثلاً لفظ نیٹوا کو خط میخی میں مکان کے اندر مچھلی شکل بنا کر لکھا کرتے تھے۔ جس سے مراد ہے کہ نیٹوا میں پہلے ماہی گیروں کے بہت سے مکانات تھے ورقہ کے عجائب خانے میں کئی سو کتبات ایسے ہیں جن میں عراق اور بابل قدیم کے مکانوں کے بیع نامے اراضی کو لگان پر دینے کی اسناد بروو فروشی کے متعلق تحریریں، شادی کے معاہدے، تنسیخ معاہدہ کی دستاویز اور معاملات دیوانی کے فیصلے مٹی کی پختہ تختیوں پر منقوش ہیں جن کی نسبت اس خط کے محققین کی رائے ہے کہ ادبی لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔
فونیقی خط
539ق م کو روش (Cyrus) کی فتح بابل کے بعد میخی رسم الخط کا استعمال رفتہ رفتہ کم ہو گیا اس کا ایک دوسرا سبب فونیقی رسم الخط کی ایجاد بھی تھی۔(44) فونیقی رسم الخط میں کل 22حروف کام آتے ہیں جن کا لکھنا آسان تھا فونیقی رسم الخط کی آرامی شکل 8ویں صدی ق م شام میں رائج ہو گئی تھی۔ اور اس کا رواج بابل اور آشوریہ میں بھی ہونے لگا لیکن جب تک یہ ملک آزاد رہے آرامی خط میخی کی جگہ نہ لے سکا۔
قبطی خط (Koptic)
اسی زمانے میں مصریوں میں کچھ لوگ دین مسیح میں داخل ہو گئے ان کو قبطی Koptic اور ان کے خط کو قبطی خط کہا گیا قبطیوں نے 25حروف یونانیوں کے خط سے لیے اور دیمو تیقی حروف سے 7اور حروف ملا کر 32حروف سے اپنا حروف تہجی ایجاد کیا قبطی حروف کی شکل قریب قریب وہی ہے جو مختلف حرفوں کی شکل میں چھوٹے اور بڑے انگریزی حروف کی شکل و صورت ہے۔
ارامی خط
جس زمانے میں فونیقیوں کا خط ایشیا ئے صغیر میں رائج تھا ایک اور قوم آرامی ابھری یہ قوم شمالی فرات اور دجلہ کے نواح میں آباد تھی اس نے فونیقیوں کے خط سے ایک خط اپنی قوم کے لیے مرتب کیا جو فونیقی خط سے مشابہ تھا۔ یہ خط رفتہ رفتہ انطا کیہ سے مکہ اور مصر سے وسط ایران تک پھیل گیا اور اس خط کی مدد سے بہت سے بند قدے کھلے۔ آرامی خط بابل میں چھٹی صدی ق م یا پانچویں صدی ق م کے آغاز سے پہلے ظاہر نہیں ہوتا۔
پہلوی خط
ایران کا قدیم خط تھا مصر اور عراق سے ایرانیوں کے قدیم تعلقات فتوحات، تہذیب و تمدن کی ایک کڑی ان کا خط بھی ہے۔ مدتوں کے بعد تحریر کی سہولت کے لیے اسی زبان میں مصری اور فونیقی اپنے اپنے خطوط کی ترقی اور اصلاح میں سر گرم تھے تب خط پہلوی رائج ہوا یہ خط اس زمانے کے بعض خطوط سے جو مصر میں رائج تھے قدرے صورتا اور ہندوستان کے ہندی خط سے بہت مشابہ ہیں۔ ممکن ہے کہ الفاظ اور نسلی اشتراک کی طرح ہندی خط کے ماخذ میں بھی اشتراک کی کوئی صورت ہو۔
یونانی خط
ایران میں خط میخی اور پہلوی کے علاوہ خط ارامی اور ساسانی خطوط بھی رائج تھے پہلے یونانیوں نے فونیقیوں اور مصریوں سے حروف تہجی سیکھے پھر قبطیوں کے خط سے چھٹی صید عیسوی میں استخراج کر کے اپنے لیے الگ حروف تہجی کی بنیاد ڈالی یونانی خط قبطی شامی اور آر میںی خط سے بہت مشابہ ہے انہوں نے فونیقیوں سے جو حروف لیے تھے ان کی صورت میں بہت اصلاھات کیں اور مختلف کر کے جاذب نظر بنایا پہلے خط داہنی طرف سےبائیں طرف کو لکھا جاتا تھا یونانیوں نے الٹ کر بائیں سے دائیں طرف لکھنا شروع کیا انہوں نے حروف کو ملا کر لکھنے کی ابتداء کی جس سے تحریر اور کتابت میں روانی آ گئی یونانیوں سے اہل روم نے حروف اخذ کئے یہیں مغرب مشرق کے خطوط الگ ہو گئے اور یہی وہ دور ہے کہ پہلے پہل قدیم مصری یا فونیقی خط دو حصوں میں تقسیم ہوا ایک مشرقی او ر دوسرا مغربی قرار پایا۔
لاطینی خط
یونانیوں سے اہل روم کے خاصے تعلقات تھے انہیں کے حروف تہجی سے اطالیہ نے خط اتروسک (Etruscan) ایجاد کیا اس خط میں20 حروف تھے اس خط سے لاطینی خط ایجاد ہوا یہ خط رفتہ رفتہ تبدیلی ہیئت سے تمام ممالک یورپ، جرمنی فرانس، ہالینڈ، پرتگال، اٹلی، انگستان، فرانس، افریقہ و امریکہ میں پھیل گیا روس میں (Cyrallic) بھی اسی خط کی ایک شاخ ہے۔
عبرانی خط
جس زمانے میں فونیقی اپنے حروف تہجی کی ترقی میں مصروف تھے اسی زمانے میں یہودیوں نے اسی قوم کے لیے فونیقی خط کی مدد سے عبرانی ایجاد کیا تو ریت اسی قدیم خط میں ملی یہ خط اب معدوم ہو چکا ہے جدید قسم کا عبرانی خط پہلی صدی ق م میں ایجاد ہوا یہ خط فونیقی خط سے بہت مشابہ ہے۔
مسند حمیری
حمیری خط کا دوسرا نام مسند ہے اس لیے اسے مسند حمیری کہتے ہیں یمن میں تین قبیلے حمیر، معین، سبا تھے ان سب میں یہ خط رائج تھا حمیر جن سے یہ خط منسوب ہے ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ سے دو ہزار ایک سو چھبیس سال قبل ہے حمیری خط لوہے کی کیلوں سے بہت مشابہ ہے مسٹر بالو ے نے جو کتبے یمن میں پائے وہ اسی خط میں ہیں فرانس اور انگلستان کے سیاحوں کو بیت الحکمت مارب صنعا کے کھنڈروں میں اسی خط کے کتبے ملے ہیں۔
نبطی خط
پہلے پہل یہ خط یمن میں راج ہوا پھر عرب میں پھیل گیا بنو حمیر سے حیرہ(کوفہ9 والوں نے اور اہل کوفہ سے قریش اور پھر اہل طائف نے سیکھا۔ ظہور اسلام کے وقت عرب میں قبطی مسند یا حمیری رائج تھا حجاز میں ظہور اسلام سے قبل جو خط رائج تھا وہ دوسری قسم کے عوامی خط سے ملتا جلتا تھا حضورﷺ کے دو تین محفوظ نامہ ہائے مبارک میں کم از کم دو کے اندر حروف میں گولائی یا دائرے کا عنصر موجود ہے۔(ع۔7)302ھ/914، میں عمرو بن العاص حاکم مصر کا ایک ماتحت افسر کی طرف سے اہنانسیہ(مصر) کے باشندوں کے لیے جو فرمان لکھا گیا اس کے حروف میں بھی گولائی موجود تھی۔(45) دراصل نبطی خط ہی حجازی عربی خط کی اصل تھا جو پالمیری خط سے نکلا ہے۔ لیکن اس خط کی بھی دو اشکال تھیں زاویہ دار جس میں حروف کی گولائی نہیں ہوتی تھی بلکہ زاویے نمایاں ہوتے یہ خط عمارتی کتبات شاہی فرا میں میں استعمال ہوتا تھا دوسری شکل میں حروف کے زاویے گولائی کی طرف مائل ہوئے یہ خط عوامی استعمال میں تھا۔ خط قبطی حضرت ابراہیم ؑکے قبیلہ نبطی، انبط، نباط، نباطی، انباط سے منسوب ہے یہ قوم فلسطین اور سینا کے مابین آباد تھی اور دوسری صدی عیسوی میں اہل روم سے پریشان ہو کر عرب میں آئی اور حجاز کے شمال انباط میں آباد ہوئی یہ خط بدوؤں اور صحرانشینوں کا خط تھا جو اہل عرب کے مورث تھے۔
پالمیری خط
اس خط کی ایجاد آرامی سے ہوئی اور یہ عراق کے مقام پالمیرہ، (تلمود) سے منسوب ہے جس طرح نبطی بدوؤں کا خط تھا پالمیری خط شہری اور متمدن اقوام میں رائج تھا اس خط کے کتبات لندن، پیرس اور آکسفورڈ کے عجائب خانوں میں موجود ہیں اس کی ایجاد کے زمانہ دراز کے بعد پالمیری کے حروف تہجی سے سیریاک اور استر نجیلو خط ایجاد ہوا۔
سیر یاک یا شامی خط: Syria-Syriac
خط سیر یاک کا تعلق مشرق کے عیسائیوں سے ہے چھ سو سال قبل مسیح اس کا رواج ہوا اور آٹھویں صدی عیسوی میں یہ خط ختم ہوا اس کی مختلف شاخوں سے مختلف خطوط نکلے۔ یہ خط پالمیری خط سے ایجاد ہو کر مشرق میں چین تک پہنچ گیا جو ملک شام یا سوریہ میں اب تک رائج ہے مذہبی تحریروں کی ضرورتوں نے آرامی خطوط میں بہت تغیرات گئے۔
سریانی خط
اس خط کو سطر نجیلی خط بھی کہتے ہیں عراق عرب میں اس کا رواج بہت پہلے سے تھا اور کوفہ میں بھی سریانی خط سطر نجیلی میں ہی اپنی مقدس کتاب انجیل لکھتے اور نبطی خط میں روزنامچے کی باتیں لکھتے کوفی خط سطر نجیلی سے بہت مشابہ ہے اور اس کے بعض قواعد خط کوفی نے اختیار کئے خط سطر نجیلی میں جب الف مد وہ کسی لفظ کے درمیان میں آتا تھا تو الف کو الگ نہیں لکھتے تھے۔ مثلاً ظالمیں اور عالمیں کو ظلمیں اور علمیں کی طرح لکھتے تھے اور الف الگ سے اس کے اوپر لکھ دیتے تھے جیسے کہ خط کوفی کی تمام کتابت میں اور آج اکثر قرآن جو خط نسخ میں لکھے گئے ہیں ان میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں جیسا کہ تاریخ گوئی میں جن لوگوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے اعداد 786قرار دئیے ہیں انہوں نے سطر نجیلی خط کے اصول پر رحمٰن کو ملا کر لکھنے کی وجہ سے الف کا ایک عدد چھوڑ دیا ہے اور جن لوگوں نے 786 کو اس کا عدد قرار دیا ہے وہ رحمان کو الف کے ساتھ لکھتے ہیں نستعلیق اور اردو فارسی خط میں بھی یہی اصول کار فرما ہے سریانی خط سریانیوں یہودیوں اور کلدانیوں کا مخصوص خط ہے عرب کے بہت برے حصے میں خط کوفی کی ایجاد سے قبل یہ خط رائج رہا ورقہ بن نوفل سریانی اور عبرانی زبانوں اور خطوط کے ماہر تھے۔
اگرچہ عربی رسم الخط دنیا کا سب سے کم عمر خط ہے۔ مگر استعمال کے لحاظ سے رومن رسم الخط کے بعد اس کا دوسرا نمبر ہے۔(24)
کوفی خط
عربی خط نے اسلام کے زیر سایہ سب سے پہلے جو جمالیاتی لباس پہنا اسے خط کوفی کہا گیا جس کی ایجاد چوتھی صدی عیسوی میں نبطی خط اور خط سیر یاک یا سطر نجیلی سے ہوئی انبار میں یہ خط ایجاد ہوا حجاز انبار اور حیرہ(کوفہ) میں یہ خط لکھا جاتا تھا حرب بن امیہ کوفہ سے یہ خط سیکھ کر آئے جس کی وجہ سے اس خط کا نام کوفی پڑا اور رفتہ رفتہ یہی نام اس خط کے لیے مستعمل ہوا۔ کوفی خط کو اس کی مروجہ اقسام کی بنا پر "ام الخطوط" کہا گیا۔(47)
ابن ندیم(متوفی 390/1000ء) پہلا شخص ہے جس نے اس خط کو کوفی کے نام سے یاد کیا۔(48)
طلوع اسلام کے وقت حجاز و عرب میں مسند حمیری، عبرانی، سریانی، نبطی اور کوفی خطوط رائج تھے پہلے خط کوفی میں نقطے اور اعراب نہ تھے۔ ابوالا سودہئیلی نے 40ھ/660عیسوی سے قبل حرکت یعنی زیر زبر پیش ظاہر کرنے کے لیے نقاط کا آغاز کیا یہ نقاط گول تھے پھر بھی ت ث ب وغیرہ میں امتیاز کے لیے نقاط نہ تھے۔ جب اسلامی ممالک میں فتوحات سے وسعت ہوئی لوگ کثرت سے دین اسلام میں داخل ہوئے تو حروف پر نقاط نہ ہونے سے قرآن اور دیگر عبارتیں پڑھنے میں مشکل پیش آتی اس وقت بنی عباس کے عہد کے خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھا اور اس کے حکم سے نصر بن عاصم نے متشابہ حروف ب ت ث کے لیے نقاط کی ایجاد کی اور اسی کے ساتھ حرکت زیر زبر پیش کے قواعد مرتب ہوئے اور عبارت میں وقف کی علامتیں مقرر ہوئیں قرن اول کے خط کوفی میں جتنے قرآن لکھے گئے اور خط کوفی کی جو تحریریں مصر وغیرہ کے عجائب خانوں میں ہیں ان پر نقاط نہیں ہیں۔(ع۔7)
“Thus a hand writing without dots and diacritical points is like barren soil. On the other hand, a hand writing that is provided with dots and diacritical points is like a garden in bloom.”(49)
"اس طرح ایک وستی تحریر جو نقاط اور زیر وزبر اور پیش یا اعراب وغیرہ کے بغیر ہو۔ ایک بنجر زمیں کی مانند ہوتی ہے جبکہ وہ تحریر جس میں یہ سارے لوازمات شامل ہوں ایک ایسے گلستان کی مانند ہوتی ہے جس میں ہر طرف پھول کھلے ہوں"۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ خط کوفی اپنی ابتدائی شکل میں خود کوفہ کے آیا ہونے سے بھی کوئی ایک سو سال قبل موجود تھا۔ دراصل یہ زاویہ دار نبطی خط ہی کی ایک شکل ہے۔ کوفہ شہر حیرہ اور انبار کے قریب آباد ہوا۔ دو جاہلیت میں بھی اس خط کے مراکز تھے ان شہروں کے اکثر باشندے کوفہ اور بصرہ کے نئے شہروں میں آباد ہو گئے اسلام کے ابتدائی تین سو سال تک یہ خط اسلام کا مکمل ترین خط رہا اسی درمیانی مدت میں اس خط نے کئی ارتقائی منازل طے کیں اور عربی خط میں نقاط اور حرکات کی ایجاد ہوئی مختلف قسم کا کاغذ ایجاد ہوا جس نےخط کے ارتقاء پر بھی اثر ڈالا مختلف ممالک کے خطاطوں نے خط کوفی میں علاقائی خصوصیات پیدا کیں۔ مثلاً ایرانی کوفی، مصری اور عراقی کوفی کی نسبت عمودی خطوط افقی خطوط کے مقابلے میں زیادہ نمایاں لکھے جاتے ہیں۔(50)
عہد اسلام سے قبل ہر ملک میں ہر زبان مختلف اشکال میں لکھی جاتی تھی بقول ضیاء الدین۔
“Different style of Kufic developed gradually. Abdul Aswad (69. A.h) a disciple of the Khalif Ali is reported to have improved the calligraphy of Koran and introduced vowel marks in the form of dots. His system was followed for about a century. His disciples improved upon his style. Qutba is the next great calligraphist who is said to have invented four styles of kufic. After him we hear of Khalid (96A. H7 15A.d.) who stood out foremost amongst the artists of his period. The folden inscription on the Prophet’s mosque is believed to be the work of high penmanship. He also copied the first Quran. The Kufic reached its excellence by the calligraphist Ibn-e-Muqla (338 A.H) who was a renowned artist of the reign of Qahir Billa, the Abbaside.” (51)
"خط کوفی کے مختلف انداز اہستہ آہستہ ارتقاء پذیر ہوئے۔ ابو الاسود (29ھجری) جو خلیفہ علی کا پیروکار تھا، نے قرآن کریم کی خطاطی کو کافی ترقی دی اور نقاط کی شکل میں اعراب کو متعارف کرایا۔ اس کا متعارف کیا گیا نظام ایک سو سال تک چلتا رہا۔ اس کے پیروکار ان نے اس میں مزید بہتری پیدا کی۔ قطبہ، جو ایک اور عظیم خطاط تھا نے 715ء میں خط کوفی کے چار اور خط ایجاد کئے اس کے بعد ہمیں خالد(92ھجری/715عیسوی) کا نام ملتا ہے۔ وہ اپنے عہد کے خطاطوں کا امام تھا۔ خیال کیاجاتا ہے کہ مسجد نبوی کی دیواروں پر سنہری حروف میں لکھی گئی سورۃ و الشمس اس کے قلم کا شاہکار تھی۔
قرآن کریم کا پہلا نسخہ بھی اسی نے تیار کیا۔ ابن مقلہ(833ھجری) کے دور میں خط کوفی اپنے عروج پر تھا۔ یہ شخص عباسی خلیفہ قاہر با اللہ کے دور کا ایک مشہور خطاط تھا۔"
عہد رسالت میں خط نبطی سے جو مہذب خط نکلا وہ خط مسند حمیری تھا اور پھر مسند حمیری سے خط حمیری مجوز ہوا چنانچہ رسول ﷺ خدا نے جو خطوط فرما ں روایان عجم اور مصروغیرہ کو روانہ کئے وہ اسی خط حمیری مذہب میں تھے۔(52)
ضیاء الدین لکھتے ہیں۔
“The letter, believed to be the very epistle of the prophet that he wrote to the Mukaukas, written in the 7th year of Hijra is perhaps the earliest specimen of Arabic writing of the Moslem period. It differs from cursive only in its stiffness and angularity. It presents the very form of the Arabic System of writing that calligraphers set to improve and beautify a few years later. A definite improvement is observable in the monuments of the period immediately following that of the prophet. The milestone marking 109 miles from Damascus belonging to the regin of the Khalif Abdul Malik bin marwan (65-86-a.H) shows the marked improvement that calligraphy had gained over the previous style.” (53)
"وہ خط جو رسول کریم ﷺ نے حاکم مققس کو سات سن ہجری میں لکھا تھا(ع۔8) مسلمانوں کے دور کی قدیم ترین عربی تحریر کا حامل ہے۔ Cursive تحریر ہے صرف اپنی سختی اور زاویہ دار ہونے کی وجہ سے مختلف ہے۔ یہ اس نظام تحریر کو پیش کرتا ہے جسے چند سال بعد ہی خطاطوں نے بہتر شکل دینے اور خوبصورت بنانے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ اس خط کی بہتر شکل میں ان عمارتوں میں ملتی ہے جو رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ دمشق کے قریب 109سنگ میل جو خلیفہ عبدالملک بن مروان(82۔65ھ) کے عہد کا ہے ان تمام خوبیوں کا حامل ہے جو زمانہ رسالت کے بعد وجود میں آئیں"۔
کوفہ والوں نے حیری میں اصلاح کر کے اسے جزم یا خط کوفی سے منسوب کیا چنانچہ حضرت عثمان کے عہد میں قرآن پاک کے چند نسخے مرتب ہوئے جنہیں اسی طرح طرز تحریر میں نقل کرنا محال تھا، خطوط اور عام ماسلت کے علاوہ عہد عثمانی میں جس قدر قرآن پاک کے نسخے لکھے گئے وہ سب خط حیری میں تھے حضرت علی نے جو قرآن کریم لکھا وہ بھی اس طرز تحریر کا نمونہ تھا کتابت مصاحف کے لیے دیگر کاتبین وحی کے علاوہ نافع بن ظریب المنوفلی جو حضرت عمر کے کاتب تھے کے علاوہ ناجیہ الطفاوی بھی کتاب مصاحف میں شامل رہے خط حمیری یمن کی تہذیب کا عکاس تھا جبکہ حیری کوفی خط کی ابتدائی شکل تھی۔ حضور ﷺ کے نامہ ہائے مبارک خط حمیری میں ہیں۔ ان مصاحف کی کاروائی ازروئے تحقیق 25ھ/245ء کے اواخر سے شروع ہو کر 30ھ/650تک جاری رہی تمام نسخے اس وقت کے مراجہ خط الجزم میں لکھے گئے جسے بعد میں خط کوفی کا نام دیا گیا۔(54)
اس وقت خط جزم نقط و شکل سے کالی ہوا کرتا تھا اس لیے مصاحف عثمانیہ بھی اعراب اور نقاط سے یکسر مبریٰ تھے خلافت راشدہ کے بعد جب دمشق میں امیر معاویہ کی حکومت قائم ہوئی اور اس کاندان میں بڑے بڑے خلفاء ہوئے اور درس و تدریس کا سلسلہ باقاعدہ طور پر جاری ہوا تو خطاطی باقاعدہ ایک فن کا درجہ اختیار کر گئی اس دور میں بڑے جلیل القدر اساتذہ فن نے اسے مزید جلا بخشی جن میں منصور دوانیقی کے دور میں اسحاق بن حماد خوشنو یس گزارا ہے جس نے 158ھ/774ء میں خط کوفی کو 137اقسام میں لکھا۔ جو اپنی ضرورت مثلاً مخطوطات عمارات، مسکوکات پر استعمال ہوتی رہیں۔(55) اس زمانہ میں قطبہ نامی کاتب تھا جس نے اس خط کو چار طرح لکھا اس خط میں قرآن پاک کا پہلا نسخہ بھی کتابت کیا۔(52) ولید بن عبدالملک کے عہد(96/714ء) میں خالد بن ابی البیاج خط کوفی کے مصلح اعظم مانے گئے ہیں انہوں نے مسجد نبوی ﷺ میں سورہ الشمس آب زر سے لکھی (57) ساتویں صدی عیسوی کے اختتام پر سکوں پر حکمرانوں کی تصویر کو ختم کر کے انہیں کوفی خط سے مزین کیا جانے لگا۔(58)
مامون الرشید کے عہد میں علم الخط کو بڑی ترقی ہوئی جسے قدیم خطاطوں کی وصلیاں جمع کرنے کا بہت شوق تھا اس عہد میں خط کوفی مختلف طرزوں میں لکھا جاتا تھا جو عربی سے ملتا جلتا تھا۔ قرآنی خطاطی میں چوتھی صدی ہجری دویں صدی عیسوی میں خط نسخ نے کوفی کی جگہ لے لی۔
کریسویل کے الفاط میں:
“Koran has rounder curves and slantingly pointed tips. By the middle of the 4th Centkufic gives way to the naskhi that is to a little rounder script more or less, ceases to be employed in the copying of Koran through continuous to be used as ornament.”(59)
"قرآن کریم کی تحریر میں مدور گولائیاں اور تیزانیاں نوک پلک ہیں چوتھی صدی کے وسط میں کوفی خط کی جگہ نسخی خط نے لے لی تھی۔ یہ خط زیادہ گول ہے خط نسخی کے استعمال میں آنے کے بعد خط کوفی میں قرآن لکھا جانا تو موقوف ہو گیا لیکن زیبائش کے طور پراس کا استعمال جاری رہا۔"
بقول انتھونی ویلچ خط کوفی پانچویں صدی ہجری تک قرآنی کتابت، مسودات کے ٹائٹل، ابواب کے عنوانات اور عبارت کے شروع میں "بسم اللہ" لکھنے کے لیے مروج رہا۔ رفتہ رفتہ ساتویں صدی ہجری اور تیرہویں صدی عیسوی تک اس کی حیثیت محض آرائشی رہ گئی۔ اور یہ محض سورتوں کے عنوانات یا مخطوطات کے عنوانات اور عماراتی آرائش کے لیے مخصوص ہو گیا۔(60) اس کے بعد ابن مقلہ نے 272۔328ء کوفی میں سے 6 خطوط ایجاد کئے جن سے سابقہ خطوط متروک ہو گئے ان وضع کردہ خطوط میں ریحان، چلث توقیع، محقق، رقاع، نسخ جن کے بارے میں مولانا جامی" رقمطراز ہیں۔
ابن مقلہ وضع کردہ اس شش خط اندر عرب ثلث و ریحان و محقق نسخ و توقیع رقاع بعد ازاں از خط توقع و رقاع اہل عجم ہفتی خط دگر تعلیق کردند اختراع
ابن مقلہ القاہر باللہ عباسی کا وزیر تھا برے حالات کی وجہ سے اس کے ہاتھوں کے ساتھ زبان بھی کاٹ دی گئی 56سال کی عمر میں قید کی حالت میں فوت ہوا موجودہ اعراب ثلاثہ اور جزم تشدید و تنویں اس کی ایجاد ہیں۔(61) ابن مقلہ کے بیٹوں علی اور عبداللہ کے قلم نے اسلامی خط کو مزید جلا بخشی۔ علی نے محقق میں جبکہ عبداللہ نے نسخ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ان دونوں نے یہ فن ابن عیسیٰ سے سیکھا۔(62) چھ خطوط کے بعد ساتواں خط تعلیق یا قوت المستعصمی نے ایجاد کیا تعلیق کے معنی معلق کرنا یا لٹکانا ہیں اس خط میں ایک حرف کو دوسرے سے باہم اس طرح ملا دیا جاتا ہے کہ ایک تارے لٹکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں یہ خط رقاع اور توقع کو ملا کر بنایا گیا۔
اس کے حروف آپس میں اس قدر ملے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کو علیحدہ کرنا یا تحریف کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے یہ خط مراسلات و فرامیں کے لیے موزوں قرار پایا ترک اور مصری اس خط کو دیوانی کہتے ہیں ایرانی تعلیق یا ترسل جبکہ ابو الفضل کے مطابق یہ خط ہندوستان میں 400برس تک جاری رہا۔(63) ابن مقلہ کے ایجاد کردہ خطوط میں خط محقق سر فہرست ہے۔
محقق خط
خط محقق ساتویں صدی ہجری/گیارہویں صدی عیسوی تک عمومی طور پر بڑے سائز کے مصاحف کے ورق کی پہلی درمیانی اور آخری سطور لکھی جاتی رہی۔ یہ خط جلی حروف واضح کھلے لمبے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس میں خط کی بنیادی پہچان حروف ت پ ب ی و ن م ل ک ق ف ض ص ش س ش ذ ر ذ د ث بائیں طرف سے زاویہ دار ہوتے ہیں جن میں نیچے کی طرف قدرے جھکاؤ ہوتا ہے اورال ط ظ ک جیسے حروف زاویہ دار حروف کے پیٹ میں آتے ہیں اس خط کا علاقہ وسط ایشیائی ہے۔(ع۔9) خط محقق ساتویں صدی ہجری/گیارہویں صدی عیسوی میں محقق کی جگہ چلچ نے لے لی۔
ریحان خط
رحان، ریحانی، ریحان کے معنی ایسے گلدستے کے ہیں جو پھولوں سے ملک رہا ہواس میں زاویہ دار حروف یعنی ی ن ل ق ض ص ش س کے دائرے محقق خط کی نسبت تنگ ہوتے ہیں۔ اور ا ل ط ظ ک جیسے حروف زاویہ دار یا دائرہ والے حروف سے علیحدہ لکھے جاتے ہیں اس میں قلم کی تیزی روانی بین اسطور اور نازکی اس طرح ہوتی ہے کہ حروف گلدستے کی مانند نظر آتے ہیں اور یہ خط قرآنی کفی کتابت کے لیے گیارہویں صدی ہجری/سترہویں صدی عیسوی تک مروج رہا بعد میں اس خط کی جگہ نسخ نے لے لی۔ رحان، ریحانی، ریحان کے علاوہ قرآنی کتابت کی نسبت سے اس کا نام روحانی خط بھی ہو سکتا ہے بعض مؤرخین خط نے اس پہچان کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی تعریف دو جملوں میں کی کہ گیارہویں صدی ہجری/ستررہویں صدی عیسوی تک لکھے گئے قرآن کریم کے خفی کتابت ریحان ہے اور جلی کتابت محقق ہے اس خط کا علاقہ وسط ایشیائی ہے۔(25)
ثلث خط
ابن مقلہ کے بعد ابوالحسن علی ابن بلال جو ابن البواب کے نام سے مشہور ہوا نے اسلامی خط میں جاذب نظر اضافے کئے مگر اسے وہ مقام نہ دے سکا جو یاقوت امستعصمی(ع۔11،12) کے ہاتھوں ملا ابن البواب قلم کو درمیان سے قطع کیا۔ اس طرح خفیف سی تبدیلی سے خط میں وہ مقام پیدا ہوا آج تک قلم کو درمیان سے خطاطی میں اجتہادی اضافے کیے۔(ع۔12) جس کی بناء پر وہ "قبلہ الکتاب" ٹائیٹل کا مستحق ہوا۔(67) اور خط ثلث بام عروج پر پہنچایاجسےشیخ احمد اللہ 833۔962ھ/1429۔1520نے مزید جلا بخشی۔ اس خط میں حرف کا 3/1 حصہ جھکاؤ اور پھیلاؤ میں ہوتا ہے یہ خط زیادہ تر کوفی آمیز ثلث کے بعد پندرہویں صدی عیسوی میں عمارتی خطاطی اور اسلامی ممالک میں چھپنے والی کتب کے ٹائٹل لکھنے کے لیے بھی مستعمل رہا۔ اگرچہ مختلف رسم الخطوط بے انتہا مہارت، محنت، خط کے بارے کافی علم قلم پر مضبوط گرفت اور چابکدستی کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن خط ثلث ان فنی محاسن کے ساتھ ساتھ اپنے اندر بے انتہا وسعت اور پھیلاؤ کی وجہ سے خطاط اپنی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ خط ثلث اپنی بناوٹ اور خوبصورتی کے لحاظ سے آج سے دو سو سال قبل ہی مکمل ہو گیا تھا اس کے بعد اس خط میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہو پایا۔ اسی میں کمپوزیشن کی جامعیت کے لحاظ سے خوبصورت تجربات کئے گئے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے میری نظر میں اچھی کمپوزیشن کے اصول یہ ہیں کہ کسی بھی عبارت میں تہجی حروف بڑے ہوں گے بقایا چھوٹے تہجی حروف باقی حروف کی نسبت زیادہ متبرک اور اہم ہوتے ہیں۔ لہٰذا چھوٹے حروف یا الفاظ بڑے الفاط کی گود میں بیٹھیں گے یا ان کی بغل میں پناہ حاصل کریں گے۔ اور اہم الفاظ باقی چھوٹے بڑے الفاظ، کندھوں یا سر پرکھے جائیں گے۔ اس کی کمپوزیشن میں صرف ہر عبارت کے الفاط کو قطع کر سکتے ہیں جبکہ دیگر اعراب نہیں۔ ماسوائے پیش کے۔ عبدالقادر کا ثلث خط کمپوزیشن کی عمدہ مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔
طغریٰ خط
خط ثلث کی پگڑی نما شکل میں لکھا جاتا ہے۔ یہ خط بالخصوص ترک حکمرانوں نے فرامیں کے اوپر شدومد سے لکھوایا اور بعد میں اس میں بےپناہ اضافے کیے۔(ع۔23تا28)
نسخ خط
310ھ/922ء میں بطی خط کی مدد سے خلیفہ المقتدر باللہ کے زمانے میں ابن مقلہ نے ایجاد کیا۔ جسے نسخ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ سابقہ خطوط کا ناسخ ہے۔ پانچویں صدی ہجری سے گیارہویں صدی عیسوی تک قرآن خطاطی کے لیے کوفی کا رواج ختم ہو گیا اور نسخ نے کوفی کی جگہ لے لی۔ اس خط میں قرآن کریم اور دیگر عبارات لکھی جاتی تھیں اور عموماً یہ خط خفی حالت میں زیادہ لکھا گیا ہے نسخ کے ساتھ ہی ریحان بھی قرآنی خطاطی کے لیے مستعمل رہا۔ خط نسخ بارہویں صدی کے پہلے نصف میں فاطمی دور حکومت کے آخر میں اپنے ارتقاء کے عروج پر پہنچ چکا تھا۔(28) نسخی خط اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ مذہبی امور کے لیے مروج رہا جس کی بہترین مثال حروہ اور غباری رسم الخطوط ہیں۔ (ع۔29) جو نسخ کے ذیلی خطوط میں شمار ہوتے ہیں۔ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔
“Naskhi continued to be used in religious work it has fine and broad varieties. The very fine ones are known as Hurda and Gubari. The kind knownas naskhi and kirmasi is a type of writing employing no vowel points Gubari is an extremely fine style of writing” (69)
"خط نسخ مزہبی کتب لکھنے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ کئی خوبصورت اور وسیع انداز ہیں۔ دو خوبصورت ترین انداز حردہ اور غباری کہلاتے ہیں اس کی دو اور اقسام نسخی اور گرما سی کہلاتی ہیں ان میں کسی اعراب اور نقاط کا استعمال نہیں ہوتا۔ خط غباری ایک خوش خطی کی ایک انتہائی جمیل طرز ہے"۔
منگول دور میں وقتی زوال کے بعد نسخ نے اپنا کھویا ہوا وقار جلد ہی تیموری دور میں حاصل کر لیا مگر 18ویں19ویں صدی میں وہ جازبیت نہ رہی جو مغل دور کا خاصا تھی جبکہ ایرانی نسخ میں خط ریحان کا عنصر غالب رہا۔ 18ویں صدی عیسوی میں ایرانی خطاط احمد نیر یزی نے نسخ میں تبدیلیاں کیں جس سے اس میں نستعلیق کا عنصر نمایاں ہوا۔ برصغیر اور ایران میں آج کل کے خطاط احمد نیر یزی کے خط کو ہی قرآنی کتابت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
توقیع خط
ابن مقلہ کے ایجاد کردہ خطوط میں سے خط توقیع ثلث کی ایک ذیلی قسم ہے۔ علی الپ ارسلان کے مطابق۔
“Tawaki is a veriety of thuluth, with its letters somewhat more compressed and rounded. An other special feature of it is that the letter like و۔ل۔ر۔ز۔ذare joined to the letters following them. Some times, however, one may come across examples of Tawki in which all the letters are almost joined together, some times the final letter of a word would be joined with the first letter of the following word. This script was used in Persia for the final page, so that with the calpohon showing the date and place of copying and scribes name of elongated format Kurans.”(70)
"خط توقیع، خط ثلث کی یہی ایک قسم ہے۔ اول الذکر کے حروف ذرا دبے ہوئے اور مدور ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے بعض حروف(و، ل، ڑ، د،ذ اور ا) اپنے بعد انے والے حروف کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات خط توقیع کے ایسے نمونے بھی ملتے ہیں جن میں تمام حروف ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو کسی لفظ کا آخری حرف اپنے بعد آنے والے لفظ کے پہلے حرف سے جدا ہوتا ہے ایران میں اس خط کا استعمال کتاب کے اس آخری صفحہ تک محدود ہوتا تھا جس کے ذریعہ کتاب کی اختتامی تحریر کے ذریعے تاریخ تحریر اور خطاط کا نام دینا مقصود ہوتا تھا"۔
خط رقعہ
رقعہ خط توقیع کی ذیلی شکل ہے۔(ع۔30) اور اسے اصولوں پر لکھا جاتا ہے۔ یہ خط پہلے خطوط، جنگ نامے، اور کہانی لکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ دولت عثمانیہ کے خطاطوں نے اسے اجازہ (Idjaza) کا نام دیا ہے۔
غباریا غباری خط
یہ خط نہایت خفی حالت میں لکھا جاتا ہے۔ جو ننگی انکھ سے نہیں پرھا جا سکتایہ کسی بھی خط کی ایک ذیلی شکل ہے۔ بعض مکمل قرآن کریم کے نسخے اس خط میں لکھے گئے ہیں۔(71)
مسلسل خط
یہ کوئی علیحدہ خط نہیں ہے۔ خط ثلث میں کسی تحریر کو جب باہم جوڑ کر لکھا جائے تو اسے خط مسلسل کہا جاتا ہے۔(72) (ع۔32)
شقیہ خط
خیال کیا جاتا ہے کہ خط شقیہ (خط سیاک) عہد اموی اور اس کے بعد میں استعمال ہوتا رہا اس کی کوئی فنی خصوصیت نہیں تھی۔ یہ مالی معاملات کی کتابوں میں استعمال ہوتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ خط سا سانی عہد میں استعمال ہوتا تھا۔(73)
تعلیق خط
تعلیق کے معنی لٹکانے کے ہیں چوں کہ اس خط کا ایک حرف دوسرے حرف سے ملا دیا جاتا ہے اس لیے یہ خط تعلیق کے نام سے موسوم ہوا۔ یہ خط نسخ کی ایک شاخ اور خط رقاع و توقیع سے انسباط ہے لیکن نسخ کے اصولوں کی پابندی سے آزاد ہے اس میں کچھ خصوصیات نسخ کی اور کچھ نستعلیق کی ہیں۔ حروف کی کہنیاں نسخ کی اور دامن نستعلیق کے ہیں۔ لمبی سطح والے بعض حروف کے آخری حصے کو نوک کی بجائے خط معکوس کی صورت دی جاتی ہے اور اس کے حروف دائیں سے بائیں جانب جھکاؤ رکھتے ہیں اس خط کے حروف کا تبدیل کرنا ممکن نہیں اور طرز میں بھی روانی ہے اس لیے فرامیں و مسودات و مراسلت کے لیے نہایت موزوں اور مناسب سمجھا جاتا تھا۔ ترک اور مصری اس خط کو دیوانی اور ایرانی تعلیق و ترسل کہتے ہیں۔(ع۔33) بعض مورخین خط کے نزدیک اس کی ایجاد سفو یوں کے زمانہ میں ہوئی مگر اس کے خطی نسخے اس سے قبل بھی ملتے ہیں۔ عموما کہا جاتا ہے کہ یہ خط حسن حسنی بن علی فارس نے 700ھ/1300ء میں ایجاد کیا انسائیکلو پیڈیا آف اسلام میں خط کے تحت مندرج ہے کہ یہ خط ابوالعالی کی ایجاد ہے۔(74) یہ خط تقریباً چار سو سال تک ایران تر کستان اور مصر اور پاکستان وہند وغیرہ میں رائج رہا اس میں بہت سے باکمال خطاط گزرے ہیں ایسے کاتبوں میں مولانا درویش نے سلطان حسین مرزا کے زمانے میں ناموری حاصل کی انڈیا آفس لائبریری میں کلیات سعدی مکتوبہ فیروز بخت/صفہان شاہ مکتوبہ محرم 819ھ/1416ء موجود ہے جو قدیمی تعلیق میں ہے۔
شکستہ خط
یک گونہ شکستی کے باعث یہ طرز تحریر خط شکستہ کے نام سے موسوم ہوا۔ تعلیق اور نستعلیق کو ملا کر اس کی ایجاد زود نویسی کی غرض سے ہوئی اسی خوبی کے باعث زیادہ تر عدالتی فیصلوں، فرامیں، دستاویزات، مراسلات اسی خط میں ملتے ہیں(ع۔34) اس خط کا موجد مرزا محمد حسین ابن مرزا شکر اللہ تھا جو صفوی کا رشتے دار اور سلطان محمد بن خدا بندہ جائیتو شاہ طہماپ بن شاہ اسماعیل کے بعض امراء کے حسد کے باعث ہندوستان آ کر شہنشاہ ہماریوں کے دربار میں اعزاز سے سرفراز ہوا پھر امرائے اکبری میں میں شامل ہو گیا اس کے زمانے تک خط شکستہ کا کوئی اسلوب یا ضابطہ نہ تھا اور نہ ہی یہ باضابطہ خطوط میں شامل ہوتا تھا اسی خطاط نے اس کے اصول و جوابط مقرر کر کے اس کو بدرجہ کمال تک پہنچایا یہ خط ایران اور دیگر ممالک کے علاوہ عہد شاہ جہانی میں ہندوستان میں پورے عروج پر تھا۔ آج بھی یہ خط پاکستانی عدالتوں میں منشیانہ کاروائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پنڈت شنکر ناتھ کے استاد مولوی حیات علی کو شکستہ بخط جلی کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔
نستعلیق خط
نسخ اور تعلیق سے ایرانیوں نے ایک نیا خط ایجاد کیا جو نستعلیق کہلایا۔ عام طور پراس کا موجد میر علی تبریزی کو قرار دیا جاتا ہے بعد ازاں اس خط کو میر علی ہروی نے پروان چڑھایا۔ حتمی رائے یہی ہے کہ میر علی تبریزی سے پہلے یہ خط موجود تھا یہ اور بہت ممکن ہے کہ میر علی تبریزی نے اسے موجودہ صورت دی ہواس کے بعد سلطان علی مشہدی نے اسے مزید بہتر شکل دی سلطان علی کے شاگردوں میں مولانا محمد ابریشمی مولانا سلطان محمد نور مولانا محمد خنداں، مولانا زین العابدین محمود، مولانا میر علی حاجی، میر علی کاتب کے نمونے ملتے ہیں میر علی نستعلیق میں نمایاں حیثیت کا حامل تھاجوہرات کا باشندہ اور زین الدین محمود کا شاگرد تھا جو بعد میں مشہد چلا گیا جہاں مولانا سلطان علی مشہدی کی شاگردی اختیار کی اس کی خطاطی کے مرتبہ کو صرف دو خطاط مہر عماد اور محمد حسین کشمیری پہنچے۔(83) میر سید علی، خواجہ عبدالحمید، سید عبدالرحیم اور عماد الحینی، عبدالرشید علیمی اس خط کے مشہور اساتذہ گزرے ہیں یہ خط مغلیہ دور میں پاکستان و ہند میں وارد ہوا جس میں عبدالرشید ویلمی نے قدیم طرز میں کچھ اختراعات کیں محمد امیر پنجہ کش دہلوی مغلیہ دور کے آخری نمور کاتب تھے 19ویں صدی کے نصف آخر میں لاہور میں امام ویروی نے مروجہ طرز خطاطی میں جاذب نظر تبدیلیاں کیں۔ عبدالمجید پرویں رقم لاہوری نے طرز نگارش میں کچھ حسین تبدیلیاں پیدا کر کے موجودہ لاہوری طرز نستعلیق کو رائج کیا اسی زمانے میں دہلی میں یوسف دہلوی نے لاہوری طرز سے قدرے مختلف خطاطی کا الگ دبستان قائم کیا دلی اور کراچی کی طرز سے اس خط سے جنم لیا۔ سلطان علی مشہدی، میر علی تبریزی اور میر عماد نستعلیق کے مسلح گردانے جاتے ہیں ان سے قبل کے کتبات میں بالخصوص نستعلیق میں عربیت کی چھاپ کے زیر اثر حروف کے دائرے کھلے شوشے طویل اور دائرے کھڑے اور سیدھے جب کہ پیوند کھلے ہیں۔ نیشنل میوزیم کراچی کے سبزہ زار میں تریر نمائش مسجد حاجی کے کتبات اور شہاب المعمائی کے کتابت کردہ نظام الدین اولیاء کے مزار کے کتبات اس کی عمدہ مثال ہیں۔ نستعلیق نگاری میں لاہور نے ہمیشہ انفرادیت قائم رکھی اور اس طرز کو دیگر اسلامی ممالک میں بھی سراہا گیا۔ اب یہ امر مسلمہ ہے کہ رومن رسم الخط کے بعد عربی رسم الخط کو عالمگیر اہمیت حاصل ہے چین کی سرحد سے لے کر شمالی افریقہ کے ساحل اور استنبول سے ملایا تک یہ رسم الخط اپنے علاقائی اثرات کے تحت موجود ہے اسلامی خط کی اس ہمہ گیریت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ عراق شام اور فلسطین میں شامی اور یونانی خط پس پردہ چلے گئے فارس میں پہلوی رسم الخط بھی غائب ہو گیا مصر میں نبطی جگہ عربی خط نے لے لی شمالی افریقہ میں بھی بر بری خط بھی اس کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلم فرمانرواں نے جس علم و فضل کی بنیاد رکھی۔ وہ ہندی عہد میں صرف پنڈتوں تک محدود تھا مسلمانوں نے ان علوم و فنون کو عوام میں پھیلایا اور بادشاہوں نے جگہ جگہ کتب خانے قائم کئے اور بعض کتب خانوں میں ایک لاکھ کتابیں بھی موجود تھیں اس وقت تولاہور میں دو تین ہی بڑے کتب خانے ہیں مگر مغلیہ عہد میں کئی کتب خانے یہاں موجود تھے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شہر میں فن خطاطی کس قدر عروج پر تھا اور اتنی کثیر تعداد میں کتابوں کی تیاری کے لیے کس قدر خطاط یہاں موجود ہوں گے۔(84)
آج بھی پاکستان بھر میں ہر قسم کی جلی خفی کتابت کے نمائندہ خطاط موجود ہیں جو قلم کی جولانیاں دکھا کر قرطاس کو سدا بہار بنا رہے ہیں ان کا تعلق کم و بیش20 شعبہ جات سے ہے جن خطاطوں کی خطاطی کی نوعیت اپنے شعبہ کے اعتبار سے منفرد ہے اس کی خصوصاً پچھلے 4 سو برس میں جو ترقی پنجاب میں ہوئی وہ ماسوائے لاہور کے کسی اور شہر کو میسر نہ تھی۔(ع۔35تا37)
ڈاکٹر سری واستو کا تبوں کے بارے ایک جگہ لکھتے ہیں:
“This author has been successful in unearthing about five thousand artists and calligraphers who flourished in the land of five rivers during the last four hundred years. Their illustrated manuscripts and calligraphed architectural mausoleums, mosques, city, victory gates, palaces wells are replete with the cultural history of the period.”(85)
"مصنف ایسے 5000فن کاروں اور خطاطوں کے نام دریافت کرنے میں کامیاب ہوا ہے جنہوں نے پچھلے چار سالوں میں اس پانچ دریاؤں کی دحرتی پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ انہوں نے اپنے پیچھے مصور مسودوں مقابر اور مساجد، محلات، ، دروازوں اور کنوؤں پر عمارتی خطاطی کے نمونوں میں کئی شکل میں، ہماری تاریخ اور ثقافت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں"۔