لاہور کی خطاطی پر دیگر اسلامی ممالک کے اثرات
لاہور کی خطاطی پر دیگر اسلامی ممالک کے اثرات
آپ کے حتی کے بقول اگر ساتویں صدی عیسی کی پہلی تہائی میں کوئی شخص جرات سے کام لے کر یہ پیش گوئی کر دیتا کہ سر زمیں عرب سے جو اس وقت تک غیر معروف اور کم متمدن چلی آ رہی تھی وہاں دس برس کے قلیل عرصہ میں ایک نادیدہ قوت کسی خاص سازوسامان کے بغیر اٹھے گی اور اس وقت کی وہ عالمی(ساسانی اور بازنطینی) سلطنتوں کی وارچ بن جائے گی ایسا شخص بقیناً عقل و دانش سے میری سمجھا جاتا تا ہم ایسی ہی صورت حال پیش آئی پیغمبر اسلام ﷺ کے وصال کے بعد اچانک یہ نقشہ پیش آیا کہ خالد بن ولید اور عمر بن العاض نے عراق، شام، ایران، مصر میں فتح کے علم لند کیے مسلمانوں نے اس وقت کی دو عظیم الشان طاقتوں باز نطینی اور ساسانی حکومتوں کو تہ و بالا کیا(1) فشر کے الفاظ میں عربوں نے مصر اور شام کو فتح کیا ایران ان کا مقابلہ نہ کر سکا باز نطینی اور بربریوں کے ہاتھوں سے افریقہ نکل گیا المانی ہسپانیہ کھو بیٹھے۔ مغرب میں فرانس اور مشرق میں قسطنطنیہ ان کے نام سے لرز اٹھا یہاں تک کہ آٹھویں صدی کے آغاز میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ دنیا کی کوئی ایسی طاقت ہے جو عربوں کا مقابلہ کر سکے۔(2) یونانیوں اور رومیوں کے تحت فاقہ مست مصر عربوں کے عہد میں ایک خوشحال اور شاداب ملک بن گیا۔ سپین سے سمر قند تک عربوں کی دھاک بیٹھ گئی۔ جب مغرب میں عقبہ بن نافع اوقیانوس کی نہروں کو چیر رہا تھا تو مشرق میں مہب بن ابی صفراء سندھ کی زریں وادی کو فتح کرنے میں مصروف تھا(3) مشرقی افغانستان کے علاوہ عربوں نے بخارا اور سمر قند فتح کئے۔ شام اور مصر پر عبدالمنک بن مروان کا قبضہ تھا عراق کے علاوہ سیستان، کرمان، خراسان کابل ترکمان کے علاقے حجاج کے ماتحت تھے۔ مسلمانوں نے نہایت قلیل عرصہ میں اپنے ان مٹ نقوش دنیا کی عظیم الشان سلطنتوں پر مرتب کیے۔ کتابوں کی شکل میں خطاطی کے علاوہ مسلمانوں نے عمارتوں اور ظروف پر خطاطی صنعت روشنائی، کاغذ سازی، قلمدان سازی، جلد سازی اور چھوٹی تصاویر میں خوف مہارت حاصل کی۔(4) موصل کے فلزئی کاموں کے شاہکاروں میں پیتل کے وہ مستطیل قلمدان بھی تھے جو کاتبوں اور دولتمندوں کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ جبکہ برصغیر میں کشمیر کے بنے ہوئے پیپر ماشی یا کاغذ کے گودے سے بنائے گئے قلم دان خاص شہرت کے حامل ہیں جن کے نمونے ہمیں لاہور کے عجائب گھر میں میسر ہیں۔(ع۔ا) بھارت کے شہر مراد آباد میں مراد آبادی اور بدری کے کام سے مزین قلم دان اور دواتیس خاص طور پر بنائے جاتے تھے(ع۔2) اور جہاں تک خطاطی کا تعلق ہے جہاں جہاں بھی اسلام کا پیغام پہنچا چاہے وہ فتح کے ذریعے یا تبلیغ کے ذریعے اسلامی خطاطی قرآن کریم کے ذریعے وہاں ضرور پہنچی۔ اقوام عام نے قرآن کو پرھا۔ بعض نے سمجھا اور بعض اس کے فنی محاسن سے محفوظ ہوئے۔(5) دراصل عربوں کی آمدو رفت اس ملک میں ہزار ہا سال سے جاری رہی۔ تو رات سے ثابت ہے کہ مسیح سے دو ہزار سال قبل جو عرب تا جر مصر کوجاتے ان کے سامان تجارت میں آب دار فولاد اور مصالحے شامل ہوتے جو ہندوستان کے سوا کہیں اور میسر نہ تھے۔ حضرت ابراہیم کے دو نسلوں بعد حضرت یوسف کے زمانے میں عربوں کے تجارتی قافلے کو اسی راستے سے گزرتا پاتے ہیں یہ وہی کارواں ہے جو حضرت یوسف کو مصر پہنچاتا ہے اس راستے کا ذکر یونانی مؤرخین نے بھی کیا ہے غرض کہ حضرت یوسف کے عہد سے لے کر مارکویولو اور رواسکوڈی گاما کے زمانے تک ہندوستان کی تجارت کے مالک عرب ہی تھے۔ عربوں کا راستہ مصر اور شام کے شہروں سے چل کر خشکی راہ بھر احمر کے کنارے حجاز کو طے کر کے یمن اور وہاں سے بادبانی کشتیوں میں بیٹھ کر کچھ تو افریقہ اور حبشہ کو چلے جاتے اور کچھ وہیں سمندر کے کنارے حضر موت، عمان، بھرین اور عراق کے کناروں کو طے کر کے خلیج فارس کے ایرانی ساحلوں سے گزر کر یا تو بلوچستان کی بندر گاہ تیز میں اتر پڑتے اور پھر آگے بڑھ کر سندھ کی بندرگاہ دیبل چلے آتے اور پھر سمندری راستے سے کالی کٹ راس کماری تک پہنچ جاتے۔(6) اس تعلق کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دنوں یعنی عہد صدیقی میں جنگ ذات السلاسل میں12ھ/233ء میں سندھی پاؤں میں زنجیر باندھ کر لڑے۔ ہزاروں جاٹ(عربی زط) عربوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے خالد بن ولید نے ہر مزکو کو قتل کیا۔ ایرانیوں کی فون میں سندھی جاٹ شامل تھے۔ یزد جرد کے زمانہ میں جنگ قادسیہ میں ایک سفید ہاتھی جو سندھ کے راجہ نے بھیجا تھا میدان جنگ میں دیکھا گیا۔(7) مسعودی جو 305ھ/917ء میں ہندوستان آیا وہ بلخ اور خراسان سے بھی گزارا۔ بیان کرتا ہے کہ خراسان سے چین کو خشکی کا راستہ جو ہندوستان کو ملک خراسان سے ملاتا ہے اور سندھ سے ایک طرف ملتان اور دوسری طرف منصورہ ہے(ع۔3) اور قافلے خراسان سے سندھ کو اور ہندوستان برابر آتے جاتے ہیں جہاں یہ ملک افغانستان(زابستان) سے مل جاتا ہے(8) تجارتی تعلقات کے علاوہ عرب اور ہند میں علمی تعلقات بھی قدیمی ہیں 800ق۔م سے قبل ہندوستان میں لکھنے کا رواج کم تھا جیسا کہ خاندان موریہ اور خاندان اندحرا کے تمام کتبات آرامی حروف میں جو دائیں طرف سے بائیں طرف کونکھے اور پڑھے جاتے ہیں بعد میں یہی خط ایک دوسری شکل میں مروج ہوا جسے شروع شروع میں آر ین پالی یا گندھار لیپی کا نام دیا گیا ہے۔(9) لیکن آج کل اسے خروشتی لیپی کا نام دیا گیا ہے۔ عرب تاجروں نے یہاں نیا طرز تحریر جاری کیا۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں مختلف ملکوں کے اندر ہر قوم نے اپنے اپنے علاقے کے علاقائی اثرات کو لے کر فنون کا بہترین امتزاج پیش کیا۔
چھٹی صدی عیسوی میں اسلامی خط کی ابتدامدینہ سے ہوئی جب حضور اکرمﷺ نے مختلف فرمانرواؤں کو تبلیغی خطوط ارسال کئے اس وقت کوئی نہ جانتا تھا کہ یہ خطوط آگے چل کر عالم اسلامی کی جغرافیائی حدود کو وسعت بخشتے ہوئے ہندوستانی بھوج پتر کو ریزہ ریزہ کرتا ہوا اس قدر عام ہو گا کہ آج کے ہندوستان میں بھی اپنا الگ تشخص برقرار رکھے گا۔ خلفائے راشدین کے دور میں ہی خطاطی کا دائرہ کار اتنا وسیع تھا کہ کاتبان وحی کی تعداد 42 تک پہنچتی ہے۔(10) حضرت خالد بن سعید بن ابی وقاص نے ربیع الاول 4ھ/625 ء میں بسم اللہ لکھی اور آخری وحی حجرت ابی کعب نے لکھی۔(11) نبطی خط سے لکھنے والا یہ خط عالم اسلام اور سپین سے لے کر ہندوستان تک پھیلا۔ مکہ مدینہ، سپین، گرناطہ، قرطبہ، شمالی افریقہ، مصر، شام، یمن، ترکی، بغداد، عراق، ایران، وسطی ایشیاء، افغانستان، ہندوستان، اندلس، قاہرہ، سکندریہ، دمشق، قونیہ، استنبول، ازنیق، مرو، موصل نیشاپور، طوس، رے قز ین، کاشان، اصفہان، شیراز" "تبریز، سمر قند، بخارا، ہرات، غزنی، لاہور، دہلی، لکھنو ، حیدر آباد دکن جیسے شہروں میں اپنے اپنے علاقائی اثرات کے تحت اسلامی خطاطی کے مراکز قائم ہوئے اگر ایک شہر سے خطاطی زوال پذیر ہوتی تو دوسرے شہر میں عروج پر ہوتی۔
حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابوبکر کے حکم سے قرآن پاک کی کتابت چمڑے کے تکڑوں پر کی یہ نسخہ خط حیری میں لکھا گیا جسے ام کہتے ہیں۔ امام ابن حزم نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانے میں کوئی شہر ایسانہ تھا جہاں لوگوں کے پاس بکثرت قرآن پاک موجود نہ ہوں۔ (12) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کتنے خطاط مدینہ میں موجود ہوں گے عہد صدقی کے ایک مصحف کا ورق جس پر "سورۃ جن" کی آیات لکھی ہوئی ہیں یور کے مشہور کتب خانہ باذلین لائبریری میں موجود ہے۔
حضرت عمر کے عہد میں فتوھات فرانس سے ایران تک پھیلیں آپ کے دور میں مصر عراق، شام، یمن، ایران میں قرآن پاک کے ایک لاکھ سے زائد نسخے موجود تھے۔(13) حضرت عمر کا یہ قول بہت مشہور ہے۔
" لا یملین فی مصاحفد ا الاغلمان فریش ونف "
قریش اور تقیف کے نوجوان مصاحف میں تبدیلی یا اضافہ کر دیں۔
ابو منظر ہشام بن محمد الکبی کا بیان ہے کہ نافع بن ظریب النوفلی حضرت عمر کے لئے مصاحف کی کتابت کیا کرتے تھے۔ ناجیہ الطفاوی نقل مصاحف کا مشغلہ رکھتے تھے۔(14)
رسول اکرمﷺ کے وصول کے صرف15 برس بعد یعنی حجرت عثمان کے زمانہ میں مسلم افراج ایک طرف سے اندلس(یورپ) دوسری طرف سے ماور النہر سے آ کر چین کے اندر گھس گئیں جنوب میں مغربی ہند اور پاکستان کے ساحلی علاقے بھی ان کے زیرنگیں آ گئے اور تین بر اعظموں ایشیاء یورپ او ر افریقہ پر وہ حکومت کرنے لگے اس سے نہ صرف عربی زبان میں ایک بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گئی بلکہ دیگر علوم و فنون کے ساتھ ساتھ اسلامی خطاطی نے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کیا۔(15) زید بن ثابت حضرت سعید بن العاص حضرت عبدالرحمٰن بن حارث، عبداللہ بن زبیر نے قرآن پاک کی تدوین اور لغت قریش پر نسخہ تیار کیا جس وجہ سے حضرت عثمان جامع القرآن مشہور ہوئے اس نسخے سے آٹھ مزید نسخے تیار ہوئے جو مکہ، مدینہ، بصرو، کوفہ، یمن، شام، بھرین ارسال کئے گئے یہ نسخے" "خط الجزم" میں جسے عبد میں کوفی کا نام دیا گیا لکھے گئے۔(16)
عہد عثمانی تک جس قدر قرآن کریم کتابت ہوئے وہ سب خط حمیری میں تھے حضرت علی کے دور میں آپ کے ندیم خاص اور نامور شاگرد ابو الا سودو ئیلی29ھ/688ء نے رسم الخط میں ترمیم کی اور قرآن کریم میں اعراب لگوائے۔(17) اس دور میں نصر بن عاصم، ےیحیٰ حمر عدوانی، میمون بن اقرار، عقبہ بن معدان فہری معروف خفاط تھے۔
امیر معاویہ کے دور 41ھ/661ء میں مشہور سپہ سالار مہلب بن ابی صفر ہ نے فیقان جو سندھ اور خراسان کی سرحد پر قنات کے قریب واقع ہے حملہ کیا اور لاہور تک آ گیا جو کابل اور ملتان کے درمیان واقع ہے۔(18)اسلام سر زمیں حجاز سے باہر دور دراز کے ملکوں میں پھیلا اعراق، شام، مصر اور ایران کے ممالک فتح ہوئے۔ اس دوران مسلمان جہاں جہاں پہنچے عربی خط ان کے ساتھ ساتھ رہا۔(19)
ولید بن عبدالملک86۔96ھ/705۔714ء کے دور میں بیرونی فتوحات انتہائی کامیاب رہیں اور اسلامی حکومت کی حدود چین سے یورپ تک جا ملیں یہ دورر بنو امیہ کا بہترین دور کہلایا۔ ولید کے چار جرنیلوں قنبیہ بن مسلم نے ترکستان چین، موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد نے اندلس، محمد بن قاسم نے سندھ، مسلم بن عبدالملک نے شام کی طرف فتوحات کیس حجاج نے قنبیہ بن مسلم کو 86ھ/705ء میں امیر خراسان مقرر کیا جو محمد بن قاسم سے سات سال قبل کا عرصہ ہے۔ اسی وقت سے لاہور کے ثقافتی رشتے وسط ایشیاء سے قدرتی طور پر منسلک ہیں جس کی وجہ سے لاہور پر مسلم ثقافت کے اثرات اسی وقت شروع ہو گئے تھے جب 31ھ/651ء میں مسلمانوں نے بلخ فتح کیا اور 86ھ/705ء میں مشہور سپہ سالار خراسان قنیبہ بن مسلم نے اسے دائرہ اسلام میں داخل کیا۔(20) اسی جرنیل نے 93ھ/711 ء تک بخارا، فرغانہ 96ھ/714ء میں سمر قند اور 94ھ/712 ء میں شغر تک کے علاقے فتخ کئے۔ قتیبہ بن مسلم سے قبل وسط ایشیاء کے ھاکم پہلے ہی مہلب بن ابی سفرہ سے مرعوب تھے اسی لئے وہ مسلمانوں کے باجگز اربن گئے مہلب بن ابی صفر کے اثرات لاہور تک رہے۔(21) دوسری طرف محمد بن قسم 94ھ/712ء میں سندھ میں داخل ہوا اور ملتان تک بڑھ آیا اور یہاں کوئی رسم الخط جاری کیا(ع۔4) اس کے بعد تیسری طرف91۔95ھ/709۔713ء میں طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر نے فتھ اندلس کے بعد فرانس کی طرف پیش قدمی کی۔(22) چوتھی طرف روم کی سرحد پر ولید کا بھائی مسلمہ بن عبدالملک تعینات رہا جو شام کی طرف بڑھا۔(23) ایک ہی دور میں ان چارون جرنیلوں نے خراسان، سمر قند، بخارا، افریقہ، سندھ اور روم کے علاقے فتح کئے اور اس طرح ان تمام ممالک میں اسلامی خطاطی کا اثر و نفوذ ہوا جو عراق اثرات کے تحت تھا۔(ع۔5) یہ اسلامی دنیا میں خطاطی اور مسلمانوں کے تہذیبی اور ثقافتی مراکز کا مختصر جائزہ تھا اب لاہور میں خطاطی کے وردو کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ اگرچہ محمد بن قاسم نے صحرائے سندھ میں جو سرچشمہ فیض جاری کیا وہ مدتوں تک کشک نہ ہوا لیکن اس کے جانشین اسے وہ وسعت اور گہرائی نہ دے سکے جس کا وہ حقدار تھا اور جو نہریں اس چشمہ سے نکلی تھیں وہ ملتان تک آتے آتے خشک ہو گئیں پنجاب اور شمالی ہند کے باقی علاقوں میں اسلام کے پودے کی آبیاری ان لوگوں نے کی جو عرب سے نہیں بلکہ درہ خیبر کے راستے افغانستان سے آئے اور انہیں بھی یہاں پہنچتے پہنچتے ایک زمانہ لگا۔(24)
برصغیر کے رسم الخطوط پر پہلا اثر تو یہ پڑا کہ محمد بن قاسم 94ھ/712ء کے ساتھ جو عربی خط یہاں ایا وہ مصری کوفی تزکینی کی ابتدائی شکل تھی جس نے مقامی ثقافت کو اس حد تک متاثر کیا کہ سندھی رسم الخط عربی رسم الخط میں آج تک لکھا جا رہا ہے اور یہاں کے رہنے والے عربی وضع قطع کا لباس پہنتے تھے گو یہ اثرات ملتان تک رہے مگر افغانستان کے راستے وسط ایشیائی اثرات کے تحت یہاں پہنچنے والا خط چلث تھا۔ درہ خیبر کے راستے یہاں آنے والے ترک ممنوک جنہوں نے لاہور اور دہلی کو اپنی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ محمد بن قاسم نے تین برس کی مدت میں ملتان سے کچھ تک دوسری طرف سرحد تک اور بعض ماخذات میں محمد بن قاسم کے اوکاڑہ تک آنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔(ع۔69 132ھ/750ء تک سندھ میں بنو امیہ کی حکومت رہی اس کے بعد عباسی دور شروع ہوا تو سندھ کی حکومت کا اقتدار اعلیٰ دمشق سے بغداد ہو گیا۔228ھ/742ء تک عباسی سلطنت مستحکم رہی۔ محمد بن قسم نے منتوحہ علاقوں میں مساجد تعمیر کرائیں اور عربی خط کو باقاعدہ رائج کیا اس دوران خط کوفی کی متعدد اقسام کی شہادت ملتی ہے۔ جب مسلمہ بن عبدالملک کردستان، آرمیںیہ، ایشیا ئے کوچک کے اہم مقام فتح کر رہا تھا تو محمد بن قاسم سندھ اور پنجاب کے ایک حصہ پر قابض تھا۔ 94ھ/712، میں موسیٰ بن نصیر نے طارق بن زیاد کو سات ہزار سپاہیوں کی کمان میں ہسپانیہ پر حمہلہ کرنے بھیجا۔ اموی خلفاء کی سلطنت سندھ سے سپین تک پھیل گئی۔ 101ھ/719ء میں عرب جنوبی فرانس میں تھے۔ امیر معاویہ کے زمانے میں قطبہ کا تب نے آب زر سے قرآن پاک لکھا اور ولید بن عبدالملک م 96ھ/714ء کے عہد میں خالد بن ابی البیاج نے مسجد نبوی پر سورۃ والشمس لکھی جو خط کوفی کے مصلح مانے جانتے تھے۔ دنیا بھر سے مدینتہ الرسول میں آنے ولاے خطاط اس کی خطاطی سے نظری استفادہ کرتے جبکہ اس دور کے دوسرے باکمال خطاط حسن بصری، ابو یحیٰ مالک بن دینار، سامہ بن لوی بن غالب تھے۔(25)
ہشام بن عبدالملک کی موت کے وقت ایشیاء میں عربوں کی سلطنت صحرائے سینا سے منگو لیا کے ریگزاروں تک پھیل چکی تھی۔ افریقہ میں خاکنائے سویز سے آبنائے جبل الطارق تک کا علاقہ عربوں کی سلطنت میں شامل تھا۔ یورپ میں جنوبی فرانس اور ہسپانیہ پر عربوں کا قبضہ تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عرب سارا یورپ فتح کرنے کی غرض سے ایک طرف سے فاسفورس اور دوسری طرف سے آبنائے جبلی الطارق سے بڑھنا چاہتے تھے۔(ع۔7) قسطنطنیہ پر اسی خیال سے حملے کیے گئے کہ ہسپانیہ کے بعد فرانس فتخ کرنے کی معمولی کوششیں کی گئیں۔ 114ھ/732ء میں عرب افواج بیگورل کی دیواروں میں سے گزر کر فرانس میں داخل ہوئیں ہشام کی زندگی کے آخری دنوں میں عراق اور کراسنا میں مسلمانوں کی دعوت بہت موثر ہو رہی تھی۔ اموی عہد میں دمشق، بصرہ، کوفہ، علوم و فنون، کے مراکز رہے جبکہ بغداد 656۔746ھ 1348۔1258ء تک مرکز رہا۔(26) 133ھ/750ئ تک امویوں کی خلافت رہی اس کے بعد عباسیوں کا دور حکومت شرو ع ہوا۔
عباسی دور میں ہارون الرشید عہد کی ترقیون میں بلخ کے نو مسلم کاندان برا مکہ کا بڑا حصہ ہے۔ معتصم 218۔228ھ/733۔842ء نے وسط ایشیاء کے ترک غلاموں اور سپاہیوں کی ایک فون مرتب کی اور اس مملو کی فوج نے بہت جلد رومی سلطنت کے پری تورین دستوں کی طرح شاہ گری کے اختیارات حاصل کر لئے جسے چاہتے تخت پر بٹھا دیتے جسے چاہتے اتار دیتے معصم نے بغداد چھوڑ کر اپنا ہیڈ کواٹر سمارا میں بنایا جہاں وہ اپنے ارھائی لاکھ مملوک سپاہیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ (27) متوکل کے عہد 233۔247ھ/847۔861ئ تک ترک مملوکوں پری تورین وستوں نے کافی اقتدار حاصل کر لیا متوکل کو انہوں نے قتل کر کے معصم کے پوتے مستعین کو تخت پر بٹھایا بنو طاہر نے کراسان(نیشاپور ) میں اپنی آزاد مملکت قائم کر لی۔ طولون مصر کا آزاد حکمران بن گیا۔(28) عباسی عہد حکومت میں اندلس سے لے کر ہندوستان تک اسلامی تہذیب اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی اور بغداد اسلامی تہذیب کا مرکز بن چکا تھا۔(29) ابوالعباس سفاح عباسی کے عہد میں جحاک بن عجلان 154ھ/770ء اور اسحاق بن حماد مشہور کاتب تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں کشنام بصری اور مہدی کوئی مشہور کاتب قرآن تھے۔ مامون الرشید کے زمانہ میں خط کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ اور اس کے استاد مام کسائی م 182ھ/798ء ،نحو، ادب قرات اور علم خط کے امام تھے انہوں نے خط میں اصلاحات کیں ان کے اصلاح کردہ خط میں قرآن پاک کی کتابت ہونے لگی۔(30) یاسین حامدی سفادی کے مطابق۔
“In the late 10th Cent. Kufic began to acquire new and distinctly variant characteristics which eveloved into new styles. One in the eastern wing, known as Western Kufic. Eastern Kufic in arguably the most elegant of the ornamental scripts, whereas Western Kufic developed into the various scripts of northwest Africa and Andalusia, of which the Maghribi script is still currently used.” 31
ترجمہ: "دسویں صدی کے آخر میں خط کوفی کی ہیئت اور صفات میں بعض نمایاں تبدیلیاں ظاہر ہونی شروع ہوئیں جو بالآخر دو نئے اسالیب پر منتج ہوئیں۔ اس سلطنت کے مشرقی حصہ میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلی کو مغربی کوفی کے نام دئیے گئے ان میں جہاں مشرقی کوفی زیبائشی خطوط کی خوبصورت ترین شکل تسلیم کی گئی ہے وہیں مغربی کوفی کے بطن سے شمال مغربی افریقہ اور اندلسیہ میں بہت سے نئے اسالیب سامنے آئے۔ ان میں خط مغربی اب تک مستعمل ہے۔"
بغداد اور نیشا پور کے بعد مسلمانوں کی ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہرات، سمر قند اور بخارا کی طرف منتقل ہو گیا یہی وہ علاقہ تھا جہاں سے مغل ہندوستان آئے(32) انہیں مراکز سے علوم و فنون، کے چشمے رواں ہوئے غزنوی دور میں مصر میں فاطمی359۔567ھ/969۔1171بغداد میں سلجوقی 430۔591ھ/1038۔1194ئ حکمران تھے اور غزنوی سرحدیں سلجو قیوں سے ملحق تھیں۔ فاطمی اگرچہ علوم و فنون کی روایات کے امیں تھے مگر برصغیر میں پیر بلخی مزار سے منسوب کتبہ اور غزنوی عہد سے تغلق عہد تک کے سکے(ع۔8) اور عمارات پر سلجوتی اثرات نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ ان ادوار میں ایران، عراق، مصر، پاکستان کی عمارات پر یہی اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ مظفر گڑھ کے نزدیک بلبن دور کے شیخ سادہن شہید(ع۔9) کے مزار پر م 674ھ/1275ء مملوک سلجوقی اثرات ملتے ہیں جہاں لفظ یا اللہ کے الفاط(14 مرتبہ) کے کتبات Cutbirk work میں مملوک اثرات کے تحت ہیں۔ خطاطی پھول پتیوں سے مرجع ہے یہ برصغیر پاک و ہند کی پہلی عمارت ہے جہاں یا اللہ لکھا ہوا ملتا ہے(33) جہاں تک مخطوطات میں خطاطی کا تعلق ہے اس میں خط نسخ ملتا ہے جبکہ قرآن کریم کی کتابت کے ضمن میں ہمیں کوفی سے لے کر یا قوت مستعصمی کے طرز تحریر محقق، ثلث، ریحان کے نمونے میسر آتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمان حکمرانوں نے ایران سے بھی کئی خطاطوں کو اپنے درباروں میں جگہ دی۔ عالم اسلام کے بعض سلاطین کی طرح برصغیر کے کئی حکمران خود بھی خطاط تھے۔
خلیفہ المقتدر باللہ کے دور میں ابو بھی محمد بن علی ابن مقلہ نے 6 خطوط ایجاد کئے جس کے ابن البواب نے نہیں مزید ترقی دی جو 50ھ/961ئ میں پیدا ہوا اور 431ھ/1039، میں القادر باللہ کے عہد میں فوت ہوا اس نے اپنی زندگی میں 64قران پاک تحریر کئے۔ ابن ابواب نے ابن مقلہ کے شاگرد عبداللہ بن آس بن علی القاری سے یہ فن سیکھا۔
قادر باللہ نے معتزلیوں کے خلاف کئی ایک کتابیں لکھیں اس کے عہد میں سامانیوں کا دور حکومت ختم ہوا اور اس کی جگہ غزنویوں نے لے لی جب محمود نے خراسان فتح کیا تو خلیفہ کی طرف سے اسے امیں الملت کا خطاب دیا گیا۔ قادر باللہ کے عہد حکومت 384۔423ھ/991۔1031میں سلجوقیوں نے خراسان میں اقتدار حاصل کیا۔ قادر باللہ کی وفات کے بعد قائم باللہ تخت نشین ہوا جو طغرل بیگ سلجوقی کی امداد سے بغداد کے تخت پر بیٹھا رہا۔ 556ھ/1160ٰء میں صلاح الدین نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔(34)
سلجوقی اثرات
جب سلجوقیوں نے گیارہویں صدی میں اپنا تاریخی مقام حاصل کیا تو اس وقت بغداد کی خلافت انا سیاسی اقتدار کھو چکی تھی۔ کرغز ہ کے میدانوں سے سلجوق اپنے قبیلہ کو لے کر بخارا پہنچا۔ 429ھ/103ء میں سلجوق کے پوتے طغرل نے غزنویوں سے مروا ورنیشا پور چھین کر بہت جلد بلخ، جر جان، طبر ستان، خوارازم، ہمدان، اصفہان بلکہ 447/1055ء تک ظغرال اپنے ترکمانوں سمیت بغداد کے دروازوں تک پہنچ گیا اور خلیفہ قائم بغداد 423۔468/1031۔1075ء کی خلافت ظغرل کی سرپرستی میں آ گئی مشرق کے مسلم ممالک پر سلجوقیوں کا اقتدار 55 سال تک رہا جو ایک خاص رسم الخط اور تزئین کے امین ہیں۔
تیرہویں صدی میں تا تاریں اور چھودھویں صدی میں عثمانیوں نے بھی سلجوتی روایات کو دحرایا۔ سلجوتی سلاطین علوم و فنون کے سر پرست اور شاعروں، سائنس دانوں، کتب سازوں کے دوست و مربی ہوئے جہاں کہیں بھی سلجوق حکمران گئے اپنے ساتھ جری اور جاندار فنون بھی لائے طٖغرل کی موت کے بعد 429۔455ھ/7301۔1063ء اس کا بھتیجا الپ ارسلان خلافت بغداد کانگران مقرر ہوا جس کے عہد کے شروع میں قسطنطنیہ سے دو لاکھ سپاہیوں پر مشتمل ایک فون بغداد کو تباہ کرنے کے لئے بھیجی اس کی بڑی کامیابی مصر سے فاطمی سلطنت کا خاتمہ تھا الپ ارسلان کے ایک بھائی نے اناطوبیہ میں شاہان روم کا ایک سلسلہ قائم کیا اسے نئی سلطنت راجدھنانی بنایا ملک شاہ 465۔485/1074۔1092ء کا عہد خطاطی کے نقطہ نظر سے سلجوقیوں کا عہد زریں تھا۔ (35) سلجوقیوں کے خط اور نقش نگاری کی اپنی جداگانہ حیثیت ہے۔ جو فنون کے اعتبار سے کم ہی قوموں کو میسر آئی ہے۔
مصری اثرات
مصر میں عربی خط عہد فاروقی میں پہنچا یہ علاقہ مشرقی و مغربی اسلامی ممالک کے درمیان اہم رابطہ تھا۔ فاطمی خلافت کے قیام سے قبل مصری خطاطوں میں سبطب کا تب احمد بن طولون اور شرالشیر المصری کے نام معروف ہیں فاطمی خلیفہ سیاست کی طرح ثقافت میں بھی خلافت بغداد کے حریف تھے۔ بغداد کو خطاطی کا مرکز بنتے دیکھ کر انہوں نے بھی خطاطی کی سرپرستی کی۔ جس کے نتیجے میں فسطاط اور قاہرہ خطاطی کے مراکز بنے بعض فاطمہ خلفاء خود اچھے خطاط تھے۔ فامیوں کے بعد مملوکوں کے دور میں شیخ شمس الدیں بن علی انرقتادی الالعلشقدی، صبح الاعشر، شیخ زین الدین اچھے خطاط تھے۔ ان میں شعبان بن داود الا ماری نے سب سے پہلے خطاطوں میں سند کو رواج دیا۔ ادحر صلاح الدین ایوبی نے وفات 589ھ/1193ء سے قبل ایک عظیم سلطنت چھوڑی چو مصر، یمن، شام، فلسطین پر مشتمل تھی۔ صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں مراکز علوم و فنون ، دمشق اور قاہرہ تھے۔ چہار پری دستوں کی امداد سے ان ممالک میں اپنی طاقت کے مطابق سلطان بنایا جاتا ۔ ادحر یہی کیفیت برصغیر میں تھی یعنی امرائے چہلگانی کو روج اور اصل طاقت حاصل تھی۔ چہار پری دستوں کی یہی افران تھیں جنہوں نے مصر کو Crusade of Lovis کے حملوں سے نہ صرف محفوط رکھا بلکہ اسے 247ھ/861ء میں منصورہ کی جنگ میں گرفتار بھی کیا۔ توران شاہ نے اسی رجمنٹ سے طاقت حاصل کی جس رجمنٹ کو بہار یہ کہا گیا انہوں نے اسے ترکی مملوکوں کو بنایا۔ سلیم اول کے زمانے میں جب مصر سلطنت عثمانیہ کا ایک حصہ بن گیا تو مصر کے مشہور خطاطوں نے بھی ترکیہ کا رخ کیا۔
جہاں وہ خطاطی کے عروج کا سبب بنے گزشتہ صدی میں جب محمد علی پاشا مصر پہنچا تو اس نے ترکیہ کے مشہور خطاطوں کو بھی اپنے ہاں ملازم رکھا اور ان سے زیادہ تر عمارتی کتبات لکھوانے کا کام لیا جاتا۔ خد یو اسماعیل خطاطی کی مزید قدر افزائی کی اس نے ترکیہ کے مشہور خطاط عبداللہ الزھدی کو مدرسہ خدیویہ بھی مدرس مقر کیا۔
خطاطی افریقہ و اندلس میں
تیسری صدی ہجری، دسویں صدی عیسوی سے پہلے تک مصر سے مغرب کی طرف کے افریقی ممالک میں بھی خط کوفی متعارف ہوا۔ افریقہ اور اندلس میں خط نے ایک مخصوص اور ممتاز صورت میں ارتقائی منازل طے کیں جسے مجموعی طور پر خط مغربی کہا گیا۔ یہ خط کوفی اور نسخ سے مشابہ سے غالباً تیسری یا چوتھی صدی ہجری میں قیروان میں جو (50ھ/670ء) میں آباد ہوا تھا موجودہ خط مغری کی بنیاد پڑی۔ جب تک قیروان بنا گلب کا صدر مقام اور شمالی افریقہ کی تہذیب و ثقافت کا مرکز رہا یہ خط بھی قیروانی خط کہلاتا رہا بعد میں اسے خط مغربی کہا جانے لگا اندلس میں ایک خاص قسم کا خط ایجاد ہوا جسے اندلسی یا قرطبی خط کہتے ہیں الحمراء کے کتبات خط کوفی اور اندلسی دونوں میں لکھے گئے۔ تیونس اور الجزائر کا خط نسخ سے بہت مشابہ ہے البتہ مراکش کا خط مختلف ہے 610ھ/1213ء میں ٹمبکٹوکا شہر آباد ہوا۔ جو وسطی افریقہ میں اسلامی حکومت کا مرکز تھا۔ قاہرہ، بغداد اور قرطبہ کی طرح ٹمبکو بھی بہت جلد اسلامی ثقافت کا چوتھا مرکز بن گیا بارہویں صدی ہجری یا سترہویں صدی عیسوی تک اس شہر کی اہمیت مسلمہ تھی یہیں پر عربی خط کی وہ قسم پروان چڑھی جسے سوڈانی خط کہا جاتا ہے۔ نائجیر یا اور گنی میں یہی خط کتابت مصاحف کے لیے مستعمل رہا اس خط کی ذرا مختلف شکل سوڈان اور حبشہ کے مسلمانوں میں رائج ہے۔ خط کی تحسین و تجوید اور ایجاد و اختراع کے مراکز بیشتر عراق، ایران، ترکی، مصر، پاکستان ہی رہے مگر ان مراکز سے نکلنے والا ہر خط کم و بیش دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں پھیل گیا۔ افریقہ، ایشیاء اور یور کے اکثر مسلمان آبادی والے ملکوں نے اپنی زبانوں کے لئے بھی عربی حروف اور خط نسخ اپنا لئے ان ملکوں میں بر بر سوڈان حبشہ، صومالیہ، زنجیار، ملاغا سے مدغا سکر، نائجیریا، گتی، ایران، ترکیہ، اذربجان ترکستان، افغانستان پاک و ہند، ملایا، چین، انڈونیشیا، سسلی، اطالیہ، البانیہ اور بلقان شامل ہیں فنکاروں نے اس فن میں زیادہ سے زیادہ صنائع پیدا کیں مثلاً گلزار، غبار، ناخن، لرزان، ماہی، طومار، طٖریٰ وگیرہ ایجاد کئے، خط کے بجائے انتہائی آرائشی رجھان کو فی کے زوال کا سبب تھا صرف نستعلیق خط ہی ایسا ہے جو گزشتہ 400سو سال سے نسخ کے پہلو بہ پہلو چل رہا ہے۔ بقول ڈاکٹر سیف الرحمٰن ڈار
“In each place where Islam trumphed, in war or religion, the native culture represented calligraphy and re-established it in the duality of its vision, a number and variety of scripts, each with its typical local overtones, were developed. Thus Chinese, Indonesian, Indian, Morocan, Andalusi and Iranian Muslims interpreted Islamic script in their own way.” (36)
ہر اس جگہ جہاں اسلام نے جنگ یا مذہبی فتھ پائی مقامی ثقافت کی نمائندگی خطاطی کے ذریعے ہوئی۔ ہر علاقے کی خطاطی نے اپنی دوہری پہچان کی وجہ سے خطاطی کے کئی اسالیب ایجاد کئے لیکن ان میں ہر ایک کا مقامی رنگ نمایاں تھا۔ اس طرح چینی ، انڈونیشی، ہندوستانی، مراکشی، اندلسی اور ایرانی مسلمانوں نے اسلامی خطاطی کو اپنے اپنے انداز میں دکھا کر اپنے اپنے انداز میں پیش کیا۔615ھ/1218ء میں جب تاتاریوں کے سردار چنگیز خان نے دس لاکھ افواج سے خوارزم شاہی مملکت پر حملہ کیا اور فرغانہ ، کجند، بکارا، سمر قند، ہرات، رے پر قبضہ کر لیا(37) تاتاریوں کے ھملوں سے تنگ آ کر علماء، خطاط، فنکار، ماہرین تعمیرات، سب کا رک ہند کی طرف ہو گیا۔ جہاں آتے وقت ان کی پہلی منزل لاہور تھی۔ شیخ محمد اکرام تاریخ سلاطین آل غزنین کے حوالے سے لکھتے ہیں۔
"وجوق جوق تشنگان علوم از سائز بلادہند ولایت ہائے کا شعر ، عراق و بخارا و سمر قند خراسان وغننی وغیرہ ڈائک ازاں خیرات منبع منتقع سے شدید چنداتکہ یک آبادائی تو درھد 1129 لاہور پد پد آمد"(38)
"اورتشنگان علم، ہند کے دوسرے علاقوں، کا شغر، النبر عراق، بکارا، سمر قند خراسان، غزنی اور دیگر علاقوں سے یہاں آتے تھے۔ یہاں تک کہ لاہور میں ایک الگ آبادی قائم ہو گئی۔
عثمانی سلطنت
ادھر خراسان کے بدوی ترکوں کا ایک عام قبیہ ایشیاء کو چک کا رخ کرتا ہے چار ہزار ترک اپنے سردار سلیمان شاہ کی قیادت میں ارض روم کے آس پاس ڈیرہ ڈالتے ہیں سردار کے دو بیٹے طٖغرل اور رندر اپنے اپنے ساتھیوں سمیت سلجوق کے کچھ حصوں میں داخل ہوتے ہیں۔ طٖغرل کے بیٹے عثمان نے 634۔687ھ/1236۔1288ء میں یہ ایشائے کو چک میں داخل ہوئے اور وہاں کے سلجوقیوں پر غلبہ پایا۔ 1258ء میں بغداد تباہ کیا اور کتابوں کو پھاڑ کر گھوڑوں کے بستروں کے طور پر استعمال کیا پھر جوزور انہوں نے ممالک کی تباہی کے لیے لگایا تھا اس جذبے سے ان کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں ہوئے۔ غازان خان جو 695ھ/1295ء میں تخت نشین ہوا تو اس نے تبریز کو علم و فنون کا مرکز بنا دیا اس کے وزیر رشید الدین نے تبریز کے جنوبی پہلو میں ایک بستی تعمیر کی جو مذہبی مدارس کتب خانے محل اور ہسپتال اور وسیع باغات پر مشتمل تھی۔ یہاں سینکڑوں مکانوں اور دکانوں میں علماء کی خاص رہائش گاہیں تھیں۔ طالب علموں ، خوشنو سیوں اور کتابوں کے زینت کاروں کا وہاں خیر مقدم کیا جاتا تھا اور انہیں مفت قیام کی آسانیاں اور اخراجات بودو باش کے لیے نقد روپیہ دیا جاتا اور ماور النہر اور ایران کے فنکار تبریز مراغہ اور سلطانیہ کے ہمسایہ شہروں میں جمع ہونے لگے۔
ایلخانی سلطنت
ایلخانی ایران اور عراق میں منتظم ہوئے جو کوف اور سلطنت کے اختتام کی علامت تھے۔ مملوک شام کی کالی پتی میں داخل ہوئے جہاں ایوبیونںکو منگول گھوڑ سوار ختم کر چکے تھے جب ایلخانی حکمرانوں نے 656ھ/1258ء میں بغداد فتح کیا تو بغداد اور خراسان سے پندرہ شہزادے خانماں برباد ہو کر دہلی پہنچے۔(40) سلجوقیوں نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کیلئے ایلخانیوں سے اچھے تعلقات قائم کر لیے جن کا رسم الخط اپنی جداگانہ حیثیت رکھتا ہے قرآنی خطاطی میں یہ اپنے ایک خاص طرز کی وجہ سے اعلیٰ روایات کے امیں رہے۔
غزنوی سلطنت
محمود غزنوی کو خراسان کے ساتھ ساتھ لاہورپر بھی مکمل کنٹرول تھا۔ غزنوی نے لاہور میں جدید علوم کے مدرسے جاری کئے اور لاہور وسطی ایشیا کے مہذب ترین شہروں میں شامل ہو گیا اس شہر میں غزنویوں نے ایک ایسی زبان کی بنیاد رکھی جس نے آگے چل کر "اُردو" کی شمل اختیا ر کی (41) دراصل پنجاب میں تذہیبری اور خطاطی کے جو اثرات پہنچے وہ غزنوی سلجوقی، ترکی، ایرانی، عراقی اثرات کے حامل تھے۔ میورال خطاطی میں غزنی نے نمایاں ترقی کی جو کہ غزنی موجود عمارتوں پر دیکھی جا سکتی ہے ان عمارتوں پر کوفی کی پانچ اقسام دیکھنے میں آتی ہیں جن میں Kufic, foliated, bordered interlaced, floriated ایک مسلسل بیل کی طرح میں بعض کتبے کوئی امیز ثلث میں سے ہیں۔(42)
برصغیر میں ممالیک
سلطان محمود غزنوی کی فوج میں جو سپاہی بھرتی ہو کر ائے وہ غزنی ، خلجی اور ترک افغانوں کے مختلف قبائل تھے(43) ہندو بھی ان افواج میں داخل تھے ترک قبائل کا یہ حال تھا کہ ان میں سے بیشتر مسلمان نہ تھے یہ قبائل غلاموں کی حیثیت سے ہزارہا کی تعداد میں بکتے تھے یا خود لوٹ مار کے شوق میں وسط ایشیاء سے نکل کر اسلامی ممالک میں آتے رہتے تھے اور ان میں کچھ مسلمان ہو کر بادشاہوں اور امیروں کی فوج میں بھرتی ہوئے اور آگے چل کر جلیل القدر عہدوں تک پہنچے۔ قبل از اسلام مفتو حین فاتحین کو ہر طرح کا تصرف حاصل تھا ۔ اسلام نے غلامی کا تصور سرے سے ہی بدل دیا۔غلاموں کا خاندان کا فرد بنایا۔ محمد غوری کی اولاد نہیں تھی۔ اس نے غلاموں کو اولاد قرار دیا اور ان پر تمدنی، معاشی، معاشرتی زندگی کی ترقی کے دروازے کھول دئیے اور زندگی کے شعبوں میں غلاموں کی تمام انسانی حقوق(ماسوائے شخصی آزادی کے) دئیے انہی غلاموں نے مصر، ایران، ہندوستان، عراق، شام پر حکومت کی۔582ھ/1186ء میں محمد غوری نے پنجاب میں غزنویوں کی حکومت ختم کر کے لاہور پر قبضہ کیا۔ جب برصغیر میں پہلا غلام حکمران قطب الدین ایبک برسراقتدار تھا اور اس وقت مصر میں بھی ممالیک برسر اقتدار تھے قطب الدین ایبک نے خراسان کے سہر ینشاپور سے عربی و فارسی کے علوم و فنون کی تربیت حاصل کی عہد ممالیک میں برصغیر اور مصر، ایران میں عمارتی خطاطی ایک ہی طرز یعنی کوفی آمیز مثلث میں رہی جس پر سلجوقیوں کی گہری چھاپ تھی۔ ہندوستان پر حملہ آور اور حکمران وسط ایشیائی، اترک، افغان، ایرانی تہذیب و ثقافت سے بہت حد تک متاثر تھے(44) برصغیر کی خطاطی پر دوسرا اثر اس وقت مرتب ہوا جب یاقوت مستعصمی کے طرز کو اسی کے بیشتر شاگردوں نے اپنایا ان میں سے چھ خطاط احمد سہروردی ابن شحاب الدین سہروردی 232ھ/1234ء(54) عبداللہ ارغون کابلی، یوسف مشہدی، مبارک شاہ سید حیدر جلی نویس، اور میر یحی پورے عالم اسلامی میں پھیل گئے اور یاقوت کی طرز پھیلانے کا باعث بنے۔ ان کے ایک شاگرد عبداللہ صیرافی شاگرد حیدر علی جلی نویس برصغیر میں بھی آئے۔ (46) ادحر تیمور کی یلغاروں نے مصر اور بغداد کے سلاطین کو اس کے خلاف متحدہ محاذ بنانے پر مجبور کر دیا۔ 801ھ/1398ء میں دہلی کے سلطان کو تیمور سے شکست ہوئی تیمور کے مقرر کئے ہوئے حاکمیں کو ایشیائے کو چک سے نکالا جا رہا تھا سلطان احمد نے مصر مملوکوں کی مدد سے بغداد پر پھر قبضہ کر لیا۔ تیمور کی حملہ آور افواج نے وسط ایشیا سے روانہ ہو کر مشرق و مغرب میں قتل و غارت کا طوفان برپاکر دیا یورپ اور چین کی درمیانی سرک کاٹ ڈالی اور ہندوستان تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے 801ھ/1398ء میں شہر دہلی کا محاصرہ کر لیا۔ تیمورایران کو عبور کر کے 805ھ/1402ء میں شام پہنچ گیا۔ اس نے دمشق پر حملہ کر کے مصر مملوکوں پر غلبہ حاصل کیا اور ایشائے کوچک میں سلجوقیوں کے جانشین عثمانی ترکوں کو ایک مرتبہ پھر شکست دی 807ھ/1404ئ میں تیمور کے انتقال کے ساتھ ہی اس کے بیٹے شاہ رخ نے خراسان میں ہرات کو دارلحکومت بنا لیا تیمور شیراز اور بغداد کے غارت شدہ شہروں سے جن نقاشوں ماہر تعمیرات اور خطاطوں کو سمر قند لایا تھا اب وہ ہرات میں جمع ہونے لگے جبکہ دوسرا بیٹا پیر محمد ہندوستان کی مقبوصات کا والی مقرر ہوا ان فاتحین کے ساتھ، بزرگان دین، فنکار، خطاط اور ماہر تعمیرات یہاں آئے۔ آج بھی لاہور کے معروف خطاطوں کا تعلق کسی نہ کسی روحانی سلسلہ سے ہے۔(47) خط نستعلیق کا اجرا تیموریوں کا مرہون منت ہے جن کا سیاسی اور تقافتی مرکز پہلے بغداد پھر سمر قند کے بعد ہرات رہابا ستغر مرزا شاہ رخ کا بیٹا تھا۔ اس نے اپنے کتب خانے کی کتابیں مصور کرانے کے لئے ایران کے 40بہترین نقاشوں کو ہرات میں اپنے محل میں جمع کیا۔ یہیں شہرہ آفاق مخطوطے خمسہ نظامی اور شاہ نامہ 1430ء میں تیار ہوئے۔(48) سلطان حسین کی وفات 911ھ/1505ء کے بعد ان تمام فنکاروں کو تمام سمتوں میں تمام اطراف جانا پڑا جن میں نامور مصور بہزاد بھی تھا۔ جوہرات سے تبریز شاہ اسماعیل صفوی کے پاس آ گیا۔ ایرانی شہر گورگان کے مقامی حکمران جنہیں اتابک کہتے تھے اپنے درباروں میں پیشہ ور خوشنویس رکھتے تا کہ ان کو کتب خانوں کے لیے کتابیں مہیا ہوتی رہیں۔ اس دوران کئی شہر علوم و فنون کے مراکز کی حیثیت سے ابھرے 805ھ/1402ء میں تیمور نے عثمانی افواج کو شکست دی اور ایشیائے کو چک سے سمر قند کی راہ لی۔ سلیم کے بیٹے اور جانشین سلیمان کے دور ھکومت 925۔927ھ/1520۔1522، میں عثمانی سلطنت عروج پر تھی سلیمان نے بلغراد، روڈز، ہنگری، کریمیا، موصل، بغداد، بصرہ، آرمیںیا ، یمن، الجیریا، اور طر ابلس کو عثمانی سلطنت میں شامل کیا۔ تیموری عہد سمر قند، بخارا، مگول ایلخانیوں اور صفوی دور میں تبریز، قزوین ، سلجوقیوں کے عہد میں بغداد، اصفہان، عباسی دور میں بغداد اموی دور میں دمشق، ایشیائے کو چک، سلجوقیوں کے دور میں قونیہ فاطمی اور مملوک دور میں قاہرہ اسکندریہ شاہ رخ کے دور میں ہرات مشہد، اصفہان، غزنویوں کے دور میں لاہور، بابر کے عہد میں کابل، ہرات، مغل عہد میں لاہور، دہلی، آگرہ عثمانی ترکوں کے عہد میں ازنیق، نیشاپور، علوم و فنون کے مرا کز کے طور پر ابھر ے خطاطی کے علاوہ دیگر علوم و فنون میں بھی ان شہروں نے اپنا لوہا منوایا۔ عثمانی سلطنت ترکی، شام، عراق، خیج فارس پر محیط تھی۔ سلیمان نے مملکوں کے آخری فرماں روا کو تباہ کرنے کے بعد مصر فتح کر لیا تھا۔ سلطان علاء الدین کیقباد کا دارلحکومت قونیہ کا قدیم شہر تھا۔ یہ شخص صرف کتابوں اور فضیلت علم کا عاشق ہی نہ تھا بلکہ خود ایک اچھا مسودہ نویس بھی تھا اور نہایت نفیس خط میں لکھتا تھا۔ بغداد کے عباسی خلفاء نویں صدی عیسوی کی پہلی دہائی میں اپنے سلطنت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے مشرقی سرحدوں پر ترکوں کے درمیان ان کے مرہون منت تھے۔ ترکی غلاموں کی تجارت ہوئی اور یہی غلام ان کی سلطنت کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے ان کا درجہ چوں کہ غلاموں کا ساتھا اس لیے انہیں مملوک یا ممالیک کہا گیا۔ مملوک کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
"A person imported before he has reached mature years from beyond the boundries of the Islamic world to be turned into a good muslim, to serve at court or in the army, where with his fellows, they helped to form a trusty power base for his master devoid as he was of any previous, social or politicalties bound into a cohesive group through shared experience and interest with his immediate fellow Mamluks, and exercising his admired talent for the art to Turkish warfare, namely as a moted archer.” (49)
خطاطی ترکی میں سقوط بغداد کے بعد ممالک اسلامی خطاطی کے مراکز بنے ان میں ایران اور ترکیہ سرفہرست ہیں۔ ترکیہ میں سلاطین عثمانیہ نے بالخصوص خط کی سرپرستی کی گئی ترک سلاطین خصوصاً سلیمان ثانی، محمد ثانی اور مرادثانی خود بھی اعلیٰ پائے کی خطاط تھے "مراۃ الحرمین" کے مشہور مصنف ابراہیم رفعت پاشا نے لکھا ہے کہ ان کے زمانے میں سلطان کا خاص خطاط400پونڈ عثمانی تنخواہ پاتا تھا۔ سلیم اول کے زمانہ میں مصر کے فتح کے بعد مصر کے نامور خطاطوں نے بھی ترکیہ کا رخ کیا اس طرح ترکیہ نے عراقیوں، سلجوقیوں کے علاہ فاطمیوں اور مملوکوں سے بھی خطاطی کا ورثہ پایا اس شوق اور قدردانی کی بدولت ترکیہ میں ایسے ایسے باکمال خطاط پیدا ہوئے جنہوں نے نہ صرف کتابت مصاحف، ثلث، طٖغری، دیوانی اور نسخ میں عالم اسلام سے ترکیہ کی امامت تسلیم کرا لی۔ ترکیہ کے مشہور خوشنویسوں یا جن خطاطین کے باقاعدہ اثرات مختلف ادوار میں لاہور تک پہنچتے رہے ان میں عباسی دور کے یا قوت مستعصمی جس کا لکھا ہوا قرآن مجید جہانگیر نے سید محمد 1027ھ/1618ء کو دیا۔(50) شاہ محمود نیشا پوری (م952ھ/1545ء) محمد بن شیخ مصطفیٰ الاماسی، احمد شمس الدین، حسن چپلی، قرہ حصاری، درویش علی، حافظ عثمان بن علی 1110ھ/1698ء ترکیہ کا مشہور کاتب مصاحف تھا۔ اسماعیل الزہدی آفندی 1206ھ/1791ء مصطفیٰ راقم 1241ھ/1825ء مصطفیٰ عزت 1265ھ/1849ء سعد آفندی، محمود جلال الدین اور اس کا بھائی حافظ تحسین، اسماعیل حقی، 1330ھ/1912ء محمد مونس، افندی زادہ عبدالعزیز رفاعی، الشیخ احمد الکامل، اور محمد شوقی مصطفیٰ حلیم فخر علی سعد آفندی ایساری حافظ امیں الرشدی علی آفندی جس نے خدیو مصر کے لیے 16 اوراق پر خط نسخ میں قرآن پاک لکھا شامل ہیں۔ ان کے علاوہ خواتین میں درہ خانم، رشید یہ خانم، فاطمہ آئی، والدہ سلطان عبدالحمید خان اچھی خطاطہ تھیں۔ اکمیل الدین اوغلو لکھتے ہیں۔
“However, the spread of calligraphy among the turks differed from that of other nations. Although this condition developed slowly after the conquest of Anatolia the Turks, the real impetus is noticed after the conquest of the city of Istumbul in 1453. AD. Improvements in the art of calligraphy introduced by yaqut al-mustasimi (1299) – sultan Bayazid’s Second teacher and by Sheikh Hamdullah (1429-1520AD) (Qiblet- al Khattatin) were widely accepted and respected.” (51)
حمد اللہ الاماسی حافظ عثمان مصطفیٰ راقم عمدہ خطاط تھے حافظ عثمان کے نسخ کو محمد شوقی اور سامی نے مصطفیٰ راقم کے خط میں چمک پیدا کی حامد الامدی تک بنتے خطاط ثلت میں ہوئے انہوں نے اسے مزید آگے بڑھایا۔ 1928ء میں جب ترکی میں لاطینی رسم الخط اختیار کیا گیا تو ایسا محسوس ہوا کہ خطاطی کا شاندار ماضی ترکیہ سے ناپید ہو جائے گا۔ بہت سے نامور خطاطوں نے اس فن سے دستبرداری لے لی۔ جبکہ بعض نے اپنا پیشہ تبدیل کر لیا۔ استاد حامد ایتاج (1891۔1982ء) کا جبکہ حلیم (1964۔1898ء) نے graph growe کا پیشہ اختیار کیا۔ اس کے باوجود یہ آرٹ لوگوں کے سینوں میں محفوط تھا۔ ترکوں نے اسلامی خط کو عبدالعزیز دفاعی(1870۔1934ء) کے ذریعے مصر میں او Macid Ayral (1891۔1961ء) کے ذریعے عراق میں پھیلایا اور ترکی کی نئی نسل نے ان سے دوبارہ خطاطی سیکھی۔ جن میں استنبول کے حلیم Ozyazici حامد ایتاج اور Necmeddin (1883۔1976ء) Okagay شامل ہیں بعد میں Bekir pekten حسن چلپی علی الپ ارسلان کو انہی استادوں نے خط میں مہارت مہیا کی۔ جبکہ ان کے سلسلہ شاگردی نے یہ ثابت کر دیا کہ ترکی اج بھی فن خطاطی میں مسلم امہ کی امامت کر رہا ہے۔ استنبول میں اکمیل الدین اوغلوکی سربراہی میں انٹرنیشنل کمیشن فار دی پرزیروویشن آف اسلامک کلچرل ہیری تیج جیسے ادارے نے حامد ایتاج کے نام پر انٹرنیشنل مقابلہ خطاطی منعقد کیا اگرچہ اس پہلے مقابلہ میں جیتنے والوں میں اکثریت ترکوں کی ہی تھی۔ مگر بعد میں ابن مقالہ ابن البواب اور یا قوت اور شیخ احمد اللہ نام پر ہونے ولاے مقابلوں میں دوسرے ممالک کے خطاطوں نے بھی انعامات حاصل کئے۔ ہر مقابلہ میں پاکستان سے نمایاں خطاطوں نے بھی حصہ لیا اور بعض مواقع پر لاہور پاکستان کے خطاطوں نے ججوں کے فرائض بھی انجام دئیے اس میں شک نہیں کہ اس ادارے کی خدمات کی وجہ سے کمپیوٹر کی ایجاد کا خطاطی پر اثر نہ ہوا۔ پوری اسلامی دنیا میں اسلامی خطاطی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششیں جاری ہیں جس میں بلند پایہ خطاط سامنے ا رہے ہیں پاکستان میں خطاطوں کی غالب اکثریت لاہور میں موجود ہے ان میں محمد علی زاہد(ع۔10،11،12،13،14،15)عبدالرحمن(ع۔16) واجد محمود یاقوت رقم(ع۔17،18،19)احمد علی بھٹہ(ع۔20،21،22،23،24)خالد جاوید یوسفی (ع۔25،26،27،28،29،30) رشید بٹ(ع۔31،32،33،34،35،36،37،38)الٰہی بخش مطیع ہری پور(ع۔40،41،42) حافظ انجم محمود فیصل آباد(43،44) قادری سعید احمد صدیقی (ع۔45) اور اسماعیل سلفی (ع۔46) شامل ہیں۔
خطاطی عراق میں
عباسی خلافت تک بغداد یا عراق ہی خطاطی کا سب سے بڑا مرکز رہا لیکن سقوط بغداد کے کئی سو برس تک عراق میں عربی خطاطی زوال پزیر رہی اور یہاں کوئی نامور خطاط پیدا نہ ہو سکا اور پھر اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ایران اور ترکیہ کے خطاطوں کے زیر اثر عراق میں خطاطی کا ایک نیا دور شروع ہوا اس نئے دور کے خطاطوں میں سفیان لوہی نامور خطاط ہوا۔ اس نے ترکیہ کے مشہور خطاطوں کے تلامذہ میں رہ کر تعلیم خط حاصل کی۔ مثلاً سید محمد صادق تلمیذ، داماد ابراہیم عفیف، حسن الکلوصی نعمان لرکائی جو حافظ عثمان کے تلامذہ میں سے تھے سفیان لوھی نے خط تسخ ایک خاص انداز میں لکھنے میں نام پیدا کیا حتیٰ کہ عراق میں یہ اسلوب خط سفیان کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے شاگردوں میں سے غالب الفوزی، شہاب الدین احمد عبداللہ آفندی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے شاگردوں میں سے غالب الفوزی شہاب الدین احمد، عبداللہ آفندی کے نام نمایاں ہیں سفیان کے ہمعصر عراقی خطاطوں میں سے محمود الثائی، صالح آفندی سعی، موصل، محمد سعید النوری قابل ذکر ہیں۔ عراق کے ماضی قریب اور زمانہ حال کے خطاطوں میں علی آفندی صابر، محمد صالح شیخ، محمد صبری املالی، کریم رفعت، صابر الاعظمی، ولید الاعظمی، محمد ہاشم الخطاط جو اس وقت عراق کے ہی نہیں عالم اسلام کے بہترین خطاطوں میں شمار ہوتے تھے۔ اور بغداد کے انسٹی ٹیوٹ آف فائن آرٹس میں روایتی خطاطی کے پروفیسر رہے۔ ان کی خطاطی کے نمونے "تحقتہ الخطاطین" الخط العربی کی صورت میں لاہوری خطاطین کے ہاتھوں میں پہنچے بعض خطاطوں نے جن میں عبدالرشید لاہور(ع۔47۔48) اور شوکت علی منہاس(ع۔49،50) پینٹر بھی شامل ہیں جنہوں نے بذریعہ ڈاک ان سے اصلاح لی۔ ترکیہ میں پچھلے چند سالوں سے خطاطی کے مقابلے ترکی میں منعقد ہو رہے ہیں جن میں پاکستان اور عالم اسلام کے خطاطین حصہ لیتے ہیں۔ اور اس طرح ایک دوسرے کی خطاطی ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی طرح بغداد میں خطاطی پر سیمینار منعقد ہوئے جن میں لاہور کے سرکردہ خطاطوں نے حصہ لیا اور لاہور میں خطاطی کے معیار کو عالم اسلام کے معیار تک پہنچانے تک کوشاں ہیں۔
احمد فواد الاول نے 1340ھ/1921ء میں تزکیہ کے مشہور خطاط عبدالعزیز الرفائی کو اپنے لیے ایک مصحف لکھنے پر مامور کیا ان کے علاوہ الحاج احمد الکامل، محمد مونس آفندی زادہ اور معمار زادہ، محمد علی الخطاط المز خوف بھی اس مدرسہ میں خطاطی اور تذہیب کی تعلیم دیتے تھے۔ جب ترکیہ نے لاطینی رسم الخط اختیار کر لیا تو ترکیہ کے متعدد فنکار خطاط بیکار ہو کر مصر پہنچے ترکی سے مصر آنے والے خطاطوں میں حسین ، آفندی، رضوان، سعد آفندی ابراہیم، فواد آفندی، خالد، ارضی روی، محمد آفندی چلپی، محمد آفندی مرزوق شامل ہیں ان میں سے اکثر نے قاہرہ اسکندریہ، منصورہ میں تعلیم خط کے شبینہ مدرسے کھول لیے۔ اس طرح ترکوں نے سلیم اول کے زمانےمیں مصریوں سے جو فن سیکھا قریباً40سال بعد پھر وہی فن مصر والوں کو سکھایا اس طرح یہ خط مصر میں فن خطاطی خصوصاً نسخ اور ثلث کی نشاۃ ثانیہ کا باعث بنے ترک خطاطوں کے مصری تلامزہ میں محمد جعفر، محمداجمل احمد غفیفی، علی ابراہیم، عبدالفتاح خلفیہ، محمد علی مکاوی ، نجیب ہوا دی، محمد محفوظ، علی بدوی، اور شیخ حسین حسنی نے نام پایا ان میں یوسف آفندی خصوصاً مصر میں خط کوفی کے احیاء کی لیے مشہور ہیں۔جزیرہ نمائے عرب اور شام لبنان میں اس وقت جو مشہور خطاطو موجود ہیں وہ سب ترکیہ اور مصر کے اساتذہ کے شاگرد ہیں حجاز کے مشہور کاتبوں میں سے الشیخ حلمی، شیخ سلیمان خزوی، رشید سنبل، عبدالقادر شلیمی کے علاوہ محمد طاہر بن عبدالقادر الکروی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ طاہر کردی نے مصحف مکہ مکرمہ کی کتابت کی ہے جو حکومت سعودی عرب کا پہلا مطبوعہ قرآن ہے۔
خافت عثمانی کے آخری دور میں ترکہ میں اسلامی خطاطی انتہائی عروج پر تھی بلکہ بیسویں صدی میں یہاں تہذیب و ثقافت اور خطاطی کا ایک خاص سکول کھولا گیا مگر جب ترکیہ نے جمہوریہ بننے کے بعد عربی کی بجائے لاطینی رسم الخط اختیار کیا اور اس طرح اپنے بے پناہ اسلامی ورثہ کے امیں تو نہ رہے مگر انفرادی خطاطی نے اس روایت کو زندہ رکھا ترکہ کے خطاط اور استاد حامد الامدی م 1982ء کے خطاطی کے نمونوں سے لاہور کے بیشتر خطاطوں نے نظری استفادہ کیا جن میں لاہور کے نامور خطاط حافظ یوسف سدیدی سہر فہرست ہیں۔(ع۔51) وفات سے قبل موصوف کی خواہش تھی کہ وہ حامد الاآمدی کی خطاطی سے بہ نفس نفیس استفادہ کریں۔ مگر یہ خواہش پوری ہونے سے قبل حامد الاآمد انتقال کر گئے۔
تحریک خلافت کے زیر اثر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں "عر ب ہوٹل" میں ترکی اور مصری خطاطوں کے کتابت آویزاں تھے بقول سید انور حسن نفیس رقم (ع۔52) لاہور کے بہت سے خطاط ان سے استفادہ کرتے استاد حامد آلامدی، عزیز الرفاعی، مصر کے حسنی، سید ابراہیم کی خطاطی کے نمونوں پر علمی محافل منعقد ہوتیں۔ جس طرح لباس میں ترکی ٹوپی ہماری ثقافت کا حصہ بن گئی اس طرح خط اسلامی پر بھی ترکی اثرات نمایاں ہونے لگے۔
شمالی مغربی دروں کے راسے جو فاتحین برصغیر داخل ہوئے۔
ان کا تاریخی تواتر کچھ اس طرح سے ہے۔
غزنوی: 413۔582ھ/1022۔1186ء۔
غوری: 543۔612ھ/1128۔1215ء
مملوک(غلامان): 602۔689ھ/1205۔1290ء
خلجی: 689۔720ھ/1290۔1320ء
تغلق: 720۔815ھ/1320۔1412ء
سید: 817۔874ھ/1414۔1443ء
لودھی:855۔932ھ/1451۔1526ء
سوری پٹھان: 946۔962ھ/1539۔1554ء
مغل: 933۔1275ھ/1526۔1858ء
سلطان محمود غزنوی نے 413ھ/1022ء میں لاہور کو فتح کیا تو اس وقت تک یہاں اسلامی درس گاہیں تھیں نہ اسلامی تعلیمات کا رواج تھا۔ البتہ مسلم علماء غزنوی کے حملہ سے قبل یہاں آتے رہے اور خانقا ہیں قائم کیں۔ اس دور میں خانقاہیں مدرسے اسلامی تعلیمات کے لیے موجود رہے۔ 93ھ/711ء میں جب قنیہ بن مسلم نے سمر قند فتح کیا تو وہاں اس وقت بدھ مت رائج تھا اس طرح بدھ مذہب کے لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات خراسان، ترکستان اور افغانستان سے شروع ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہندوستان تک بڑھتے چلے آتے ہیں۔ کتب تاریخ سے ظاہر ہے کہ سندھ اور ملتان کے بعد شمالی ہندوستان میں ہدایت کا سر چشمہ سب سے پہلے لاہور میں پھوٹا سندھ اور ملتان پر جلد ہی قرامطی قابض ہو گئے اور کسی نہ کسی صورت میں وہاں ایک عرصہ تک قابض رہے لیکن لاہور قرامطی اثر سے محفوظ رہا بلکہ آہستہ آہستہ ان علاقوں پر اسے فوقیت حاصل ہو گئی۔ (52) محمود غزنوی کے دور میں سندھ کے علاوہ شمالی علاقے وسط ایشیائی تہذیب سے منسلک ہوئے یہاں تر کستان اور ماور النہر کے اثرات بھر پور صورت میں ملنے لگے جو اہل علم و فن خراسان کے شہر نیشاپور جمع تھے ان کا رخ غزنی کی طرف ہوا اور جب آخری غزنوی تاجدار نے غرفی کی بجائے لاہور کو اپنا مسکن ٹھہرایا تو خراسان کے اہل علم و ہنر لاہور آئے آخری غزنوی تاجدار خسرو ملک کے عیاشیوں کے باوجود جو اہل علم و فضل خسرو ملک کے متوسل تھے وہ خراسان اور غزنی سے اٹھ کر لاہور آ گئے۔ 422ھ/1030ء میں محمود کی وفات کے بعد مسعود بھائیوں پر غالب آیا لاہور میں نیا لگیں کے خلاف فوجی کاروائی کر کے مسعود جب ہانسی کا قلعہ فتح کر رہا تھا تو اس کی عدم وجودگی میں سلجوقیوں نے غزنی کا علاقہ تباہ کر دیا۔ 583ھ/1186ء تک لاہور غزنویوں کے پاس رہا۔ مسعود کے زمانہ میں لاہور اور اہل لاہور کا علم و فن عروج پر تھا۔ غزنی سے کئی اہل علم بسلسلہ ملازمت لاہور آ گئے۔ ابراہیم غزنوی 451۔492ھ/1059۔1097ء غزنوی عہد میں لاہور علمی سرگرمیوں کا گہوارا تھا۔ ابو نصر فارسی نے لاہور میں خانقاہ قائم کی جو اہل علم اور بزرگان دین کی جائے پناہ تھی اور آہستہ آہستہ لاہور میں بلخ بخار ا اور دوسرے ممالک سے اہل قلم یہاں کھینچے چلے آئے۔ اگرچہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد اور کتابت کلام پاک کی تاریخ یکساں پرانی ہے۔ مگر اس میں رعنائی غزنوی دور سے شروع ہوئی۔ لاہور میں اس وقت معروف خطاط جمال الدین لاہوری تھے۔ غزنویوں، غوریوں، خلجیوں کے ادوار میں تاتاری فتنہ علماء صلحا اور خطاطوں کی آمد کاموجب بھی بنا۔ قرآنی خطاطی پر تیسرا اثر ہم عصر محمد بن ادریس بن العقاب البصری کے دور میں پڑا جو ابن البواب کے زمانہ میں عراق میں موجود تھا۔ یہ شخص دہلی تا غزنوی لشکر کے ہم رکاب رہا اور لاہور میں بھی آیا۔ (53) لاہور میں آخری تاجدار آل غزنویہ ابراہیم غزنوی قرآن پاک کا معروف خطاط تھا۔ اس خطے میں جب یاقوت المستعصمی کا خط پہنچا جس کی خصوسیت قرآنی کتابت میں منفرد رہی اور 11گیارہ سطور فی صفحہ کا اندازا پنایا یہ خطاط پہلی درمیانی اور آخری سطور خط محقق میں اور سطور 2 تا 5 سطور 7تا 10 کو خط ریحان میں لکھتا تھا سقوط بغداد تک عربی کو عموماً اور خط نسخ کو خصوصاً جو عروج اور ارتقا، نصیب ہوا وہ بلا دا سلامیہ کے ان گنت ماہرین فن کی کوششوں کامرہون منت تھا۔ مضبوط سیاسی مراکز ہی تہذیب و تمدن کا گہوارہ ثابت ہوئے اسی لئے کوفہ، بصرہ دمشق کے بعد بغداد کئی صدیوں تک اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا مرکز رہا۔ خلافت عباسیہ کے زوال کے بعد اسلامی سیاست کا مرکز ثقل مختلف ممالک میں تقسیم ہو گیا۔ چھٹی صدی کے آغاز میں ابوالحسن علی بن عمر لاہوری ممتاز محدث، شاعر ادیب اور صاحب طرز محقق اور خطاط تھے۔ (54) پنجاب 494ھ/1100ء تک غزنویوں کے زیر اثر رہا۔ 450ھ/1058ء کے عہد میں سلجوقی حملہ آور ہوئے تو سلجوقی اثرات کے تحت عمارتی خطاطی پر تمام علمائے اسلام میں ایسے ختہ خط کے اثرات مرتب ہوئے جو تقریباً300سال تک ایران، عراق ، ترکی، مصر، پاکستان و ہند کی عمارتوں پر نظر آتے ہیں بعد میں اس خط نے مملکوں کے زیر اثر عرو ج دیکھا اور یہ اثرات اکبری دور تک رہے۔
قطب الدین ایبک کے دور میں خطاطی پر مملوک اور سلجوقی اثرات تھے جو 597/906ھ/1200۔1500ء تک عمارتی خطاطی میں نمایاں رہے۔ اس دوران لاہور، مشہد، بغداد، ترکی اور مصروغیرہ کی عمارتوں پر یہی خط رہا جس نے دسویں صدی میں کوفی کی جگہ لی تھی۔ لاہور میں اس خط کے نمائندہ کتبات پیر بلخی کے مزار واقع کیتھل انڈیا سے حاصل کئے گئے ہیں جو لاہور میوزیم کی زینت ہیں التمش (607۔633ھ/1210۔1236ء) کے دور میں سدید الدین عوفی (203ھ۔1206ء) نے شہر نیشاپور کے مشہور ادیب شاعر کاتب سلطان سنجر کے دبیر منتخب الدین کی صحبت میں رہ گران کی تصنیف رقیہ القلم پڑھی جس سے اس کو فن کتابت میں درک حاصل ہوا۔ عوفی نیشاپور سے ہرات آیا اور وہاں شیخ فخر الدین خطاط کی صحبت میں علمی و ادبی فیض حاصل کیا۔خراسان پر تاتاریوں کے حملوں کے پیش نظر اسے اپنا وطن چھوڑنا پڑا وہ غزنی سے آ کر اچ میں ناصر الدین قباچہ کے دربار سے وابستہ ہوا۔
لاہور میں شہزاد محمد ابن غیاث الدین بلبن نے بعض با کمالوں کو دہلی آنے کی دعوت دی جن میں نامور فاضل شیخ عثمان ترمذی کو ہدایا پیش کئے اور منت سماجت کی کہ آپ توران واپس نہ جائیں لیکن شیخ نے منظور نہ کیا۔(55) بلبن کا بیٹا بغرا خان اپنے فرزند کیقباد کی مشہور ملاقات میں اپنے والد کو یاد کر کے کہتا ہے۔
"چون من و براور مہترمن (خان شہید) مفر دات لغت و نوشتن پیش خطاط تمام کر دیم اتابکان ماپیش سلطان (غیاث الدین بلبن) عرض واشتند کہ بعد ازیں شہزاد گان را از نحوہ صرف وفقہ چہ تعلیم کنند، و کدام استاد تعلیم کنندہ، فرمان درباب این چہ نوع سے شود فرمود کہ خطاط راجا مہ و انعام بد ہندو معذرت کنند" (56)
"جب میں اور میرے بڑے بھائی (خان شہید) نے خطاط کے پاس لغت کے مفردات لکھنے ختم کیے تو میرے سلطان غیاث الدین سے کہا گیا کہ اس کے بعد صرف نحو میں شہزادوں کو کیا پڑھایا جائے اور کون استاد ہو۔ اس سلسلے میں کیا حکم ہے تو فرمایا کہ خطاط کو جامہ اور انعام دیں اور معذرت کریں۔"
بلبن نے عہد میں کوار زم، ویلم، غور، یمن، موصل، سمر قند، کاشغر، مرواور خطاط سے بڑی تعداد میں اہل علم و ہنر ہندوستان آئے اور بلبن نے انہیں علیحدہ علیحدہ محلوں میں آباد کیا۔(57) تغلق عہد میں ثلث عمارتی خط سکوں پر بھی نظر آنے لگا۔ ایک لحاظ سے خراسان اور ایران کی تباہی سے ہندوستان کے اس حصے(مغربی پنجاب) کو فائدہ پہنچا کیوں کہ اس کی وجہ سے علماء صلحا کی ایک کثیر تعداد یہاں آ گئی جن میں سے بعض دہلی لاہور ملتان میں رہ گئے منگول(مغل) ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ ساتویں صدی ہجری تک کافر سمجھے جاتے تھے علاء الدین خلجی المتوفی 716ھ/1316ء تک فون میں مغل مسلمان کر کے نوکر رکھے جاتے تھے ایک سازش کی پاداش میں علاء الدین خلجی کے حکم سے دہلی میں بیک وقت چودہ ہزار نو مسلم مغل سپاہی قتل کئے گئے افغانوں کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا مگر خود افغانی اب تک مسلمان نہ تھے۔ کابل کے بادشاہ نے تیسری صدی کے شروع میں یعنی غزنویوں سے سو برس قبل اسلام کا اظہار کیا تھا لیکن افغانوں کے اکثر قبائل محمود غزنوی کے زمانہ میں مسلمان ہونے شروع ہوئے تھے ان کے علاوہ غوری قبائل چوتھی صدی کے وسط تک یعنی غزنویویں کی پیدائش کے بعد تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔(58)
لودھی عہد میں ہندوؤں نے عام طور پر فارسی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے علوم کی تحصیل بھی شروع کر دی اور سلطان کے حکم سے بعض ہندی سنسکرت کی کتابوں کے تراجم ہوئے ایک پرانی طب کی کتاب اگر وبا بیدک کا ترجمہ بھی کیا گیا۔ خواص خان کے مرنے کے بعد میاں بدھ اس کے جانشین ہوئے انہوں نے بہت سے خوشنویسوں اور عالموں کو جمع کیا اور مختلف علوم و فنون پر کتب لکھوانی شروع کیں اور خراسان سے کچھ کتابیں لا کر عالموں کے حوالے کیں اور ہندوستان میں خراسان کے اطباء کو جمع کر کے طب اسکندری لکھوائی۔ سکندر لودھی نے فارسی کے لیے کام کیا۔ ملا نظام الدین لکھتے ہیں۔
"و کافران بخواندنِ و نوشتن خط فارسی کہ تا آں زمان در ایشان معمولی بنود پر واختند"(59)
"اور کافر فارسی خط لکھنے پڑھنے میں لگ گئے جیسا کہ اس وقت تک ان کا معمول نہ تھا کا نستحوں کی فارسی کا آغاز اسی زمان سے ہوتا ہے۔"
وسط ایشیائی اثرات
سقوط بغداد کے بعد یا قوت کے چھ نامور شاگردوں نے ایران میں بھی خطاطی کا علم بلند کئے رکھا۔ ایلخانی دور میں خطاطی کے ساتھ تہذیب کا فن بھی کامل کو پہنچا اس دور کے کئی مصاحف الجائتوخدابدہ کے ایما پر لکھے گئے جو بنسرگ، قدہرہ، بوسنن، دَبلنکے عجائب خانوں میں موجود ہیں۔ عبداللہ بن محمد بن حمدان اور عبدلالہ بن احمد بن مراغہ اس دور کے مشہور خطاط گزرے ہیں تیموری دور کے خطاطوں میں سلطان علی مشہدی، باکستعر مرزا، ابراہیم سلطان بن شاہ رخ مرزا اور عبدالکریم تبریزی قابل ذکر ہیں۔ اسی دور میں ہرات اور شیراز خطاطی اور تذہیب کا ری کے مراکز تھے۔ آٹھویں صدی ہجری میں علی تبریزی نے خط نستعلیق کو جلا بخشی۔ (60)امیر تیمور کی اولاد نے علوم و فنون کی وہ سر پرستی کی جو آج تک کسی اور نے نہیں کی۔ شاہ رخ مرزا نے دارالخلافہ کو سمر قند سے منتقل کر دیا تھا جس سے وسطی ایشیاء میں یک ادبی اور ثقافتی انقلاب رونما ہوا مرکز اگگرچہ ہرات ہی رہا۔ تیمور کی اولاد کو ایک صدی تک ہرات میں عروج حاصل رہا۔(61) اگرچہ سچ ہے کہ ہرات کو وہ عروج نہیں ملا جس کا وہ متقاضی تھا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں کے دبستان نے علوم و فنون کی تویج میں نمایاں حصہ لیا اور یہ شاید اس وجہ سے ہوا کہ ان تمام ممالک اور شہروں میں فارسی زبان و ادب کا بہت چرچا تھا جس کے لکھنے کے لئے مشترک طرز نستعلیق ہی بہتر ذریعہ ثابت ہوئی ایران کے شہروں میں شیراز اور اصفہان پہلے ہی سے ثقافتی مراکز تھے دسویں صدی ہجری میں صفوپوں کے تمام ایران پر اقتدار کی وجہ سے اسے استحکام ہوا۔ صفوی عہد میں خطاطی کو شاہی سر پرستی حاصل رہی۔ ماخذات کے مطابق نستعلیق کا اجراء آٹھویں صدی ہجری میں ہرات سے ہوا۔ اگرچہ اس کے معیار فن میں ہرات کے بعد کوئی خاص اضافہ تو نہیں ہوا مگر طرز نستعلیق کو مزید مقبولیت اور استحکام لاہور میں ضرور حاصل ہوا۔ سلطان علی مشہدی اور اس کے تلامذی کا تعلق متوفی 926ھ/1519ء میں ان ابتدائی خطاطوں کا ذکر ہے جنہوں نے طرز نستعلیق میں میر علی تبریزی کے بعد کی طرز نستعلیق اس سے سال سمر قندرہ کر بخارا چلے گئے۔ جہاں 862ھ/1457ء میں انتقال ہوا۔ یہی وہ دور ہے جب برصغیر کی قرآنی خطاطی پروسط ایشیائی اثرات مرتب ہوئے عبداللہ ہرویمتوفی 880ھ/1475میں جو سبقوط بغداد کے بعد ہندوستان آیا اس نے یہاں رہ کر 45قرآن کریم یادگار چھوڑے۔(62) باکستعر مرزا کے دربار سے چالیس خوشنویس وابستہ تھے۔ جن کے سر پرست مولانا جعفر تبریزی تھے۔(63)مولانا جعفر کے ہم عصر نستعلیق کے استاد مولانا اظہر تھے جنہوں نے محظوطہ ہفت پیکر نظامی کی کتابت 879ھ/1474ء میں کی یہ نسخہ جو کبھی شاہان مغلیہ کی لائبریری کی زینت تھا اور منعم خان خانان کی ملکیت تھا۔ آج کل میٹروپولٹین میوزیم نیو یارک میں ہے یہ نسخہ اکبر کے حضور چوتھے سال جلوس 967ھ/1559ء میں لاہور شہر میں پیش ہوا۔ مولانا اظہر کے تلامذہ میں سلطانی علی مشہدی، سلطان علی قائنی، شیخ بایزید پورانی، الک ویلمی، عبدالحیم، اینسی خوازرمی، شیخ امامی، اورنجیب اللہ شامل تھے۔ (64) جب ہرات کے فنی ماحول کے انقراض کے بعد ہنر مند اور دیگر فضلاء نے وہاں سے ہجرت کی ان میں سے اکثر ہندوستان بھی آئے۔(65)
ایران میں خطاطی
سلطان حسین بیقراء کا انتقال911ھ/1505ء میں ہوا جس کے بعد صفویوں کو ایران میں عروج حاصل ہوا۔ بیقراء کی وفات کے بعد ہرات کے اکثر نامور فنکار اور کاتب ادحر ادحر منتشر ہو گئے۔ سلطان حسین مرزا خود بڑا خطاط تھا۔ اس کا بیٹا مرزا بدیع الزمان امیر سندھ کا داماد بھی تھا۔ جب یہ ہندوستان آیا تو اس کے ہمراہ چند ترکی فنکار اور فضلاء بھی تھے۔ جو سندھ میں آ کر آباد ہوئے ان میں مولانا اظہر کے شاگرد شیخ بایزید پورانی ٹھٹھہ آ گئے لیکن بدیع الزمان یہاں کے سیاسی حالات سے مایوس ہو کر واپس ہرات چلا گیا۔ امیر ابو سعید پورانی کا انتقال 962ھ/1554ء میں ٹھٹھہ میں ہوا۔ تاریخ معصومی میں ہے کہ شیخ خطوط راخوب می نوشتد(62) (شیخ خطوط خوب لکھتے تھے) ہرات میں خطاطی کا فروغ سلطان حسین بیقراء کی ذاتی توجہ اور اس کے وزیر علی میر علی شیر نوائی کی حوصلہ افزائی سے ہوا۔ موالانا سلطان علی مشہدی، سلطان حسین بیقراء اور میر علی شیر نوائی کے لیے کتابیں لکھا کرتے تھے جن کی کارگزاری سلطان کے لیے روزانہ تیس سطور اور شیر نوائی کے لیے بیس سطور تھی اگر ہم خط نستعلیق بیرون ہرات ایران یا وسطی ایشیا کو ذرا گہری نگاہ سے مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ اس زمانے میں ہند میں بھی یہ خط رائج ہو چکا تھا۔(67) شیخ بابزید پورانی کی سندھ میں آمد سے سندھ کی ثقافت پر 800سو سالہ عربی اور عراقی چھاپ پر وسطی ایشیائی اثرات غالب آئے۔ سلطان حسین بیقراء کے انتقال کے بعد محمد شیبک خان اور امیر بخارا نے عروج حاصل کیا تو سلطان حسین بیقراء کے متوسل جن میں سلطان علی مشہدی اور کمال الدین بہزاد تھے اس کے دربار سے وابستہ ہوئے مگر مناسب قدرافزائی نہ ہونے کی وجہ سے سلطان علی مشہدی ہرات سے مشہد اور کمال الدین بہزاد، شاہ اسمعیل صفوی کے ہمراہ تبریز چلے گئے۔ تبریز میں صفویوں کے ہاں جن فنون لطیفہ کو عروج حاصل ہوا ان میں خطاطی بالخصوص شامل ہے۔ بہزاد کے ہرات سے تبریز آنے کے بعد صحیح معنوں میں ایرانی مصوری وجود میں آئی۔(68) بابر سلطان حسین مرزا کا دوست اور مداح تھا ہرات میں ان کے دربار میں اہل فن کی کثیر تعداد وابستہ رہی۔ اوائل تیموری دور اور بابر کی برصغیر آمد سے نستعلیق خط پر عربیت کا اثر و نفوذ تھا۔ بابر کے ہمراہ وسطی ایشیاء سے مولانا شہاب المعمائی جس کے بیٹے کمال ابن شہاب کا نمونہ خط c-12 لاہور عجائب گھر کی مخطوطات گیلری کی زینت کے علاوہ ایک دوسرا خطاط درویش علی کتابدار اور ملازاہد بھی اپنے ہمراہ متعدد ماہرین خط یہاں لائے۔ جس سے یہاں ہرات کا سا ماحول پیدا ہوا اور اس ماحول کو آگے چل کر مغل دربار میں اپنایا گیا۔ ادحر بخارا میں 935ھ/528ء میں میر علی کی آمد سے کتابت و مصوری اور کتاب سازی کا ایک اور دبستان ہرات کے دبستان کی روایات پر قائم ہو گیا۔ جس کا سہرا میر علی کے مربی ابو الغازی عبدالعزیز خان والئی بخارا کے سر تھا اس نے بخارا میں اپنے باپ عبید خان کی وفات کے بعد برسر اقتدار آنے پر 947ھ/1540ء میں یہ دبستان قائم کیا تھا۔(69)شابان صفویہ کے زوال کے ساتھ اگرچہ نفس ترین عمارتوں، قلمی نسخوں، قالینوں اور آرائشی کپڑوں کا زمانہ ختم ہو چکا تھا۔ اور ایرانی فن خود اپنے ملک میں انحطاط پذیر ہو گیا مگر اس کا اثر بعید ملکوں کے فن کو پر ما یہ بنانے کے لیے عثمانی ترکیہ سے لے کر ہندوستان تک پھیل چکا تھا(70)۔
پاک و ہند میں خط نستعلیق کی تاریخ میں ایک بہت بڑا واقعہ ہمایوں بادشاہ کا حالات سے تنگ آ کر 945ھ/1538ء میں ہجرت کر کے ایران چلے جانا اور 955ھ/1548میں واپس آنا واپسی پر وہ اپنے ہمراہ کافی ایرانی ماہرین لایا۔ جن میں میر سید علی تبریزی مصور اور خواجہ عبدالصمد شیریں قلم خطاط شامل تھے۔ جس کا کارنامہ داستان امیر حمزہ کے مصور نسخے کی تیاری ہے۔ ہمایوں اور اکبر کے عہد میں اگرچہ بے شمار کتب مصور ہوئیں مگر جو شہرت اس نسخے کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔ ابوالفضل نے آئین اکبری میں نستعلیق لکھنے والوں میں مولانا باقر پسر مولانا میر علی کا ذکر کیا ہے۔ جو ہندوستان آ گیا تھا یا یوں کہیے کہ میر علی کی اولاد نے ہندوستان ہجرت کر لی تھی۔(71) میر علی کے ساتھ مشہور تلامذہ میں سے میر حسین کلنگی جو بخارا میں میر علی کا شاگرد ہوا۔ آئین اکبری کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری عمر میں ہندوستان آ گیا ایک مخطوطہ رباعیات میر سید جامہ ہاف بقلم خفی جو کتاب خانہ نصر اللہ تفوی تہران میں موجود ہے۔ اس کے تر قیمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مخطوطے کی تیاری اکبری عہد میں لاہور میں ہوئی۔ ابو الفضل نے اکبر کے عہد میں نستعلیق لکھنے والوں میں میر حسین الحسینی المشہور بہ میر کلنکی کا نام درج یا جس سے بھی اس امر کی مزید توثیق ہوتی ہے کہ یہ شخص لاہور میں موجود تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اکبر اور اس کے امرائے کا ر کے سامنے زیادہ سے زیادہ ہرات کے سلطان حسین مرزا جیسے مربیان ادب و فن کی مثالیں تھیں۔ اور بغداد اور غرناطہ کی علمی سرگرمیوں سے وہ بے خبر تھا۔ اور اس زمانہ میں علم نہیں ادب و فنون لطیفہ کو فروغ حاصل ہوا۔(72) آئین اکبری میں ایک باقاعدہ شعبہ آئین تصویر خانہ ہے عظیم منظم شعبے میں جو معیاری اور علمی مخطوطات تیار ہوئے وہ اپنی مثال آ ہیں ہرات میں سلطان حسین مرزا اور تبریز میں شاہان صفویہ اور بخارا میں ازبکوں کے بعد لاہور چوتھا بڑا منظم دبستان تھا۔ اس شعبے نے فنون لطیفہ کا ایک معیار قائم کیا۔ آئین اکبری میں نستعلیق خطاطوں کے ضمن میں قاسم ارسلان کا تذکرہ ملتا ہے جب اکبر اٹک سے لاہور واپس آیا تو یہ شخص یہاں اقامت پذیر تھا اور اسی سال اس کا انتقال لاہور میں ہوا اس کے آباؤ اجداد محمود غزنوی کے دربار سے وابستہ تھے قاسم تاریخ گوئی میں اپنا ثانی نہ رکھتا تھا۔ اکبر کے دربار سے وابستہ ایک اور خطاط عبدالرحیم عنبرین قلم ہرات سے لاہور آیا جہاں اس نے 1005ھ/1596ء میں انوار سہیلی کا مصور نسخہ تخلیق کیا (ع۔53،54) جس کے آکر میں ترقیمہ کے ساتھ ساتھ کاتب کی ذاتی منی ایچر دی گئی ہے جس سے نشست اور ماحول واضح ہوتا ہے۔ اکبر کے بعد یہ کاتب جہانگیر کے دربار سے وابستہ رہا۔ 1025ھ/1616ء میں اسے عنبریں قلم کا خطاب ملا۔ اکبر کا قیام لاہور میں 988ھ/1599ء تک رہا اس عرصہ میں یہاں متعدد مرقعات اور مخطوطے تیار ہوئے ان مرقعات اور مخطوطات میں جہاں ہرات کی رعنائی عراق کی زیبائی بخارا کی دلکشی ایران کی نمکینی اور ترکوں کی رنگینی نظر آتی ہے۔ وہاں ان تمام دبستانوں کا پر تو لاہور میں تیار ہونے والے مخطوطات میں بھی نظر آتا ہے۔
مغلیہ دور میں ایران کی خطاطی کا سیدھا اثر لاہور میں ہوا جہاں نستعلیق عمارتی خط کی طور پر رائج ہوا۔ اکبر تک یہاں عمارتوں پر ثلث ایرانی اثرات کے تحت رائج رہاجس کی بہترین مثال اکبری عہد کی "اونچی مسجد" اندرون بھاتی گیٹ کے کتبات ہیں جو آج کل لاہور میوزیم کی زینت ہیں۔(73) اکبر کے دور میں عبداللہ الحسینی ترمذی (ع۔55،56) نے ایرانی روایات کو یہاں فروگ دیا۔ یہاں اس کے قیام کے دوران متعدد وصلیاں ملتی ہیں۔(74) اس دوران برصغیر میں وسطی ایشیائی اثات بھی نمایاں رہے۔ اور ترکی خطاطوں کے زیر اثر ہندوستان میں متعدد کتبات ملتے ہیں۔ جن میں دروازہ فتح پور سیکری پر حسین بن احمد چشتی کے لکھے ہوئے کتبات اور مغیث القاری الشیر ازی خطاط کے کتابت کافی اہمیت کے حامل ہیں۔(75) شاہ جہان کو اپنی جنم بھومی لاہور سے خوب لگاؤ تھا۔ اس نے یہاں عمارتوں کی تزئین و آرائش کے لیے کوئی کسر اٹھانہ نہ رکھی اور دنیا کے گوشے گوشے سے ہنر مند یہاں اکٹھے کر لئے اس دور میں وسطی ایشیائی ایرانی ترکی انداز میں خطاطی سے مزین کتبات میسر ہیں۔ اس کے عہد میں میر عمادایرانی کا شہر و برصغیر میں تھا جو کوئی میر عماد کی وصلی شاہ جہان کو پیش کرتا یک صدی منصب پاتا۔(ع۔57،58) شاہ عباس صفوی کے دور میں عماد کے قتل کے بعد اس کا بھانجا عبدالرشید ویلمی ترکی سے ہوتا ہوا لاہور پہنچا اور یہاں کچھ عرصہ قیام کیا۔ اس طرح لاہور نستعلیق کے پہلے مرکز کے طور پر ابھرا۔(76) رشید عیلمی کے ذریعے میر عماد اور مالک ویلمی کے خط کی خصوصیات لاہور پہنچیں اور نستعلیق میں انتہائی جاذب نظر مخطوطات تیار ہونے لگے۔ رشید ویلمی کا ہی فیضان ہے کہ برصغیر میں خطاطی کے علاقائی سکول لاہور دہلی اور لکھنو آگرہ کے خطاط آج بھی اپنا سلسلسہ تلمذ اسی خطاط سے جوڑتے ہیں۔(77) لاہور شہر کے خوشنویسوں کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اس دور میں ایرانی طرز کے ساتھ ساتھ انہیں یہاں عبدالرحیم عنبرین قلم کے ذریعے وسطی ایشیائی اثرات بھی میسر آئے۔ اس عہد میں امانت خان شیرازی جس نے لاہور رہنے کو ترجیح دی اور لاہور کے نزدیک موجود ضلع امر تسر (بھارت) میں سرائے امانت خاں تعمیر کی اس سرائے کے کتابت کے علاوہ مسجد وزیر کے کتبات لاہور میں ایرانی او ترکی خطاطی کی ثلث طرز کا حسین امتزاج ہیں ۔ عبدالرشید ویلمی کی طرز خاص لاہوری طرز کے طور پر مشہور ہوئی جسے آج تک برصغیر کے سربر آور دہ خطاطوں نے اپنایا۔ جہاں تک خطاطی میں قرآنی کتابت کا تعلق اس وقت تک اس پر ہراتی یا وسطی ایشیائی اثرات غالب رہے۔ ایران میں اگرچہ نستعلیق میں مصحف لکھے گئے مگر لاہوری خطاطوں نے یہ اثر کبھی قبول نہ کیا اور وہ سطی ایشیائی روایات کے امیں رہے۔ آج کل کے ایرانی خطاطوں میں غلام حسین ہمایوں، سید احمد ہدایتی حبیب اللہ فضائلی۔ شیخ عبدالحسین نوروزی۔ سید عبدالعلی آیتہ الہی غلام رضا موسوی، محمد زمان فراست، غلام حسین امیر خانی سید قوام الدین شفق۔ عباس اخوین، علی راہجیری، غلام رضا مخلص، محمد حسین عطار چیان، ناصر جواہر پور، حسین کا شیان، محمد حسن نظافتی، عہدہ کریمی، ناصر جواہر پور، محمد سلاح شور، کے قطعات کی لاہور نمائش ہو چکی ہے۔
جہاں تک عمارتی خطاطی کا تعلق ہے اب کتبوں پر ثلث کے علاوہ نستعلقی خط زور شور سے نظر آنے لگا اور کوفی آمیز ثلث عمارتی کتبوں کے لیے متروک ہو چکا تھا۔ ملتان میں شاہ جہانی عہد کی تعمیر کردہ ساری مسجد پر محمد اسماعیل محمد بن جیون ملتانی جیسے خطاطوں کے نستعلقی ثلث۔ کتبات اپنی مثال اپ ہیں اگرچہ مغلوں کے دور میں خطاطی کے بہت سے مراکز سامنے آئے مگر جو شہر ٹھوس حیثیت سے ابھرے ان میں لاہور، فتح پور سیکری، ٹھٹھہ، ملتان، کشمیر، دکن شامل ہیں۔ خطاطی کے مدرسوں میں تریز، ہرات، بخارا، سمر قند، عیلم، ترمذ، شیراز کی روایات کی تربیت مغلیہ دور میں جاری رہی جبکہ خطاطی میں اب تک عبدالباقی حداد یا قوت رقم کے اسلوب کو اپنایا گیا۔ جس کی طرز کو شاہ عالم بادشاہ کی خطاط محمد عارف یا قوت رقم نے آگے بڑھایا۔ جو دراصل ہرات کا باشندہ تھا۔ مغلیہ دور میں قرآنی مخطوطات کی تیاری کے سلسلے میں علاقائی عنصر غالب رہے۔ اور ہر علاقے کا تزئین آرائش کا انداز ایک دوسرے سے قدرے مختلف تھا۔ رشید ویلمی کے طرز روش کو محمد شاہ بادشاہ کے عہد میں محمد افضل لاہوری نے اس قدر اپنایا کہ انہیں آقائے ثانی کہا جاتا ہے دہلی میں یہ روش انہی کے ذریعے پھیلی جبکہ لکھنو میں قاضی نعمت اللہ لاہوری اور حافظ نور اللہ لاہور اس طرز کے فروغ کے ذمےے دار ثابت ہوئے۔(78) افضل لاہوری کی طرز دہلی اس حد تک انائی گئی کہ انیسویں صدی میں دہلی کے معروف خوشنویس عنایت اللہ مبروص نے روحیلہ افغانوں کی خاطر اپنے خط کی روشن تبدیل کر کے لاہورہ روش اختیار کی موصوف کی رہائش مسجد عنایت اللہ خان چاندنی چوک پر واقع تھی۔ یہ خطاط 1857ء تک زندہ رہے(79)
اٹھارہویں صدی عیسوی میں ایرانی خطاط احمد نیریزی نے نسخ میں جو تبدیلیاں کی۔(80) ان کا اثر بھی لاہور کے مصاحف نویسوں نے قبول کیا اس طرز کو بیسویں صدی کے خطاطوں نے خوب اپنایا جن میں مولانہ قاسم لدھیانوی سر فہرست ہیں۔ اس طرز میں دبستان ہرا ت سے انحراف کرتے ہوئے حرف کے دائروں میں نستعلیق طرز کا رنگ نمایاں کیا گیا۔ حروف کے دائرےچوڑے ہونے کی بجائے گولائی کی طرف مائل ہوے اور پیوندوں میں وسطی ایشیائی ناز کی کی بجائے پوری قلم لگانے کا رواج ہوا۔ اس قبل ایرانی اور لاہوری طرز میں قدرے ریحان کی آمیزش تھی۔ جسے ترک کر کے دائروں کو گول اور حرف کو چھوٹا کر دیا گیا۔ اسی طرح لاہور کے خطاطوں نے نیریزی طرز کو قبول کر کے نسخ میں تبدیلی پیدا کی نستعلیق میں امام ویر دی۔ یہاں رشید ویلمی کی روش اپنائے ہوئے اجتہادی تبدیلیاں کر رہے تھے۔کنہیا لال تاریخ لاہور میں رقم طراز ہے۔
"اس شہر میں بڑے بڑے کاتب خوشنویس پہلے زمانہ میں بھی تھے، اور اب بھی ہیں۔ فارسی اور عربی خط اس شہر کا ولایتوں میں مشہور تھا۔ سکھی وقت میں فارسی خوشنویوں میں پیر بخش کو فنگر تھا اور اس کی عزت مقامی امرائے دربار بلکہ خود مہاراجہ کرتا تھا امیروں کے لڑکے اصلاح لینے اس کے مکان پر جاتے اس کے شاگردوں میں مولوی فضل الدین سحاف، کوہ نور اخبار لکھتا رہا پھر سرکاری مطبع ڈائریکٹروں میں کتابیں تحریر کرتا رہا۔ کتابت کے علاوہ نقاشی میں بھی استاد ہے۔ عربی خط کا استاد خلیفہ بگو موچی دروازے کی محلہ کان گراں میں رہتا ہے۔ انگریزی عہد میں مولوی غلام یسین ایک مشہور خوشنویس تھا۔میر زادہ امام ویردی کا ہلی 1298ھ/1880ء میں وفات پا گیا سید احمد ایمن آبادی اگرچہ اس شہر کا رہنے والا نہیں مگر سالہا سال سے بہ سبب ملازمت محکمہ ڈائریکٹری کے لاہور قیام پذیر ہے مولوی فقیر محمد و غلام محمد و پیر بخش و پنڈت دیارام و قاضی شمس الدین و چراغ علی وغیرہ اور بھی خوش نویس لائق تعریف ہیں غلام علی کاتب نے کنہیا لال کی کتاب کتابت کی۔"(81)
خوش قسمتی سے سیالکوت کے نواح میں اچھا کاغذ بنتا تھا۔ اسی شہر کامان سنگھی اور ریشمی کاغذ خاص طور سے مشہور تھا۔ سیالکوٹ کے نواح میں تین گاؤں کاغذ سازوں کے آباد تھے یہاں سے کاغذ ملک کے دوسرے حصوں میں بھیجا جاتا تھا اور شاہان دہلی کے دفاتر میں بھی زیادہ کاغذ اسی شہر کا استعمال ہوتا تھا ان یہ تین گاؤں(نیکاپور، رنگ پورہ، ہیر انوالہ پورہ) کے نام سے اب بھی آباد ہیں جہاں کاغذ بنانے والے اب بھی موجود ہیں(82) معروف خطاط محمد یوسف سدیدی کے مطابق گزشتہ 15سدیوں میں اگر ہر صدی میں عالم اسلام سے ایک ایک خطاط ایسا لیا جائے جنہوں نے خطاطی میں نمایاں مرتبہ پایا۔ تو یہ نام کچھ ا س طرح سے سامنے آتے ہیں۔(83)
خالد بن الہیاج
اسحاق بن ابراہیم تمیمی
ابن مقلہ (ابو علی محمد، بن علی بن حسن بن عبداللہ مقلہ)
ابن البواب ابو احسن علی بن ہلال بواب
عماد جوینی
یاقوت المستعصمی
احمد بن محمود بن عبدالغفار ہراتی
عبداللہ طباخ، میر علی تیبریزی نستعلیق
عبدالباقی تبریزی، سلطان علی مشہدی، میر علی ہروی
عبدالحق شیرازی، میر عماد
حافظ عثمان، ہدایت اللہ زریں رقم
قاضی نعمت اللہ لاہوری، محمد مہدی ملک الکتاب
محمد قاسم لدھیانوی سلطان القلم، عبدالمجید پروین رقم(ع۔59)
استاد حامد الامدی ترکیہ، حافظ یوسف سدیدی۔(84)
داخلی اثرات
اسلامی تاریخ کے ہر دور میں مختلف ریاستوں کے اندر مختلف قوموں نے اپنے اپنے علاقائی اثر اوردوسرے ممالک کے اثرات سے جو شاہکار پیش کیے ہیں ان کے بنیادی اسالیب اور مرکزی تصورات کی ہم آہنگی، یکسانیت ایک مشترک اثقافت کی آئینہ دار ہے، جو متضاد نسلی، جغرافیائی اور وراثتی خصوصیات رکھنے والے عناصر کو دائرہ اسلام داخل ہونے کے بعد اپنے رنگ ، قالب میں ڈھالتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بعض مؤرخین اسلامی خطاطی کے ارتقاء کو عربی زبان کے ارتقاء سے نسبت دیتے ہیں اور کسی حرف کی ادائیگی کا طریقہ اس حرف کی ظاہری شباہت کے مطابق ہوتا ہے یا اسلامی خطاطی کے مختلف انداز زبان کی ترقی کے ساتھ ہی معرض وجود میں آئے(85)
ترکی ایران۔ عراق کے خطاطوں کے نمونے مختلف کتابوں کی شکل میں چھپ کر برصغیر پہنچے اور لاہور میں اعلیٰ خطاطوں کی مجالس میں زیر بحث رہے۔ زیر نظر مقالہ میں بعض ترکی عراقی اور مصری خطاطوں کے ایسے نمونے شامل کئے گئے ہیں جن سے متاثر ہو کر لاہوری خطاطوں خصوصاً نوجوان طبقے جن میں داؤد بکتاش سے متاثر ہو کر عبدالرحمٰن، محمد علی زاہد اور احمد علی بھٹہ نے قطعات لکھے۔ اسی طرح اور دیگر خطاطوں کے علاوہ شفیق الرحمٰن نے متعدد کتبات ترکوں کی تقلید میں لکھے۔ خورشید عالم گوہر قلم(ع۔60) نے متعدد کتبات لکھے جبکہ محمد شفیع انور سیالوی(ع۔61،62،63)، محمد یوسف چوہدری (ع۔64)، سجاد خالد(ع۔65،66،67،68)نے بھی ایسے قطعات لکھے۔ 1998میں ہونے والے خطاطی کے مقابلے میں لاہور سے حافظ محمود انجم شاگرد سید نفیس رقم، قادری محمد سید احمد صدیقی، واجد محمود یا قوت رقم نے بھی متعدد قطعات ان نمائشوں میں بھیجے اور سلسلہ تا حال جاری ہے۔