کتھک
کتھک
کتھک اپنے ابتدائی زمانے میں مختلف قسم کے بیرونی اثرات سے دو چار ہوتا رہا ہے لیکن ہر دور میں بیرونی اثرات اس طرح سموئے جاتے رہے کہ اس کا حصہ بن گئے۔ تکنیک کے اعتبار سے کتھک کا ارتقاء قدیم روایات کا حامل ہے۔
اس کی بنیادی خصوصیات ہمیشہ برقار ہیں۔ اور ہر دور میں جو نئے اثرات اس فن نے قبول کئے ان کی وجہ سے عوامی رجحانات اس میں شامل ہو گئے۔ کتھک کی موجودہ صورت ان مجموعی اثرات کی آئینہ وار ہے۔ جنہوں نے وقتاً فوقتاً اس میں قابل قدر اضافے کئے ہیں۔
معنی خز اشارات کا ارتقاء
ہندو ناٹیہ کی قدیم کتابوں میں 'کتھک' کو داستان گو بتایا گیا ہے جس کا کام مہا بھارت اور رامائن کی کہانیاں بیان کرنا ہے۔ وہ سُننے والوں کی تفریحِ طبع کے لئے موزوں حرکات اور اشارات سے بھی کام لیتا ہے۔ بعد میں ان سادہ حرکات نے ایک واضح شکل اختیار کر لی اور یانیہ اشاروں کی ایک اپنی زبان بن گئی۔اس سے فنِ رقص کی ایک صنف وجود میں آئی۔ جو کتھک کہلانے لگی وقت کے ساتھ ساتھ اس صنف نے ایک مستقل فن کی صورت اختیار کر لی جس میں دو چیزوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ "نرت" یعنی خالص رقص اور "ابھینے' جس میں چہرے کے اُتار چڑھاؤ اور معنی خیز اشاروں سے مفہوم واضح کیا جاتا ہے اور 'بھاؤ' " (جذبات) اور اس (احساسات) کی بھی ترکہانی کی جاتی ہے۔
ہندو ناٹیہ کے وہ پہلو میں 'ناتیہ دھری' یا روھانی پہلو اور 'لوک دھری' کا تعلق دنیا اور اس کے معاملات سے ہے۔ نائیہ دھری میں اشاروں کے ذریعہ تخیلی انداز میں روح کی تمنائیں بیان کی جاتی ہیں۔ جب کہ لوک دھری میں کسی واقعہ کو زیادہ حقیقیت پسندانہ طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مثلاً کنول کھلنے سے متعلق کسی رقص میں "لوک دھری" کے مطابق ایسے اشارات سے کام لیا جائے گا جن کے ذریعے پھول کی ظاہرہ خوبصورتی بیان کی جا سکے لیکن نادیہ دھری میں ایسی حرکات سے کام لیا جائے گا جس سے یہ ظاہر ہو کہ روح اپنے معراج کو پہنچے کے لئے بیتاب ہے۔
کتھک میں ان دونوں طریقوں سے کام لیا جاتا ہے لیکن شاید یہی ایک ایسی صنعت رقص ہے جس میں 'لوک دھری' کو ترقی دی گئی ہے اور انسان کے معمولات کو ایک مثالی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ کتھک رقص بادشاہوں اور امیروں کی سرپرستی میں ترقی پذیر ہوا اور ہر قسم کی تفریحات اور رسوم کا ایک لازمی جزو بن گیا۔ یہ رقص عوام میں بھی مقبول ہوا اور گلی گلی میں اس کا چرچا ہونے لگا۔
مختلف تہذیبوں کا امتزاج
شمالی ہندوستان پر ستو اتر بیرونی حملوں کی وجہ سے نئے نئے خیالات باہر سے آئے اور مختلف تہذیبوں کا امتزاج وجود میں آیا جس طرح مذہبی خیالات میں بعض تبدیلیاں ہوتی رہیں ویسے ہی رقص نے بھی باہر سے آنے والے فنوں سے آزادانہ طور پر بہت کچھ لیا۔ کتھک پر جو زبردست بیرونی اثر پڑا وہ مسلمانوں کا تھا۔
مغلوں کے زمانے میں قدیم ہندو ناٹیہ، کی اصل صورت شکل سے ہی قائم رہی۔ ہاں 'بھینے' کی صرف دو صورتیں باقی رہ گئیں۔ جو کہیں کہیں رقص میں نظر آ جاتی تھیں۔ چناں چہ اس صنف کی اپنی سادگی جاتی رہی اور اس میں ایک طرح کی بناوٹ آ گئی۔ جس کے نتیجہ میں درباری رقص پیدا ہوا۔ جس میں بنیادی طور پر وہ شدو مداوروقار نہ تھا۔ اُبھرتی ہوئی نئی تہذیب کے ساتھ ساتھ یہ فن اپنی دیو مالائی اور روحانی اہمیت سے عاری ہوتا گیا اور محض ایک سجاوٹی فن ہو کر رہ گیا۔
نشاۃِ ثانیہ اور مصوری
ہندوستانی تہذیب کی نشاۃِ ثانیہ مغل اور راجپوت مصوری کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی جس کا تعلق فن رقص سے بھی تھا۔ مصور اور رقاص دونوں ہی ایک جیسے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے لئے کوشاں تھے۔ مصوری میں زیادہ تر اشاریت قائم رہی جب کہ رقص میں کچھ زیادہ وضاحت پیدا ہو گئی۔ رادھا کا چاندنی رات میں چھپ کر جمنا کے کنارے پہنچنا اور بھگوان کرشن کا انتظار کرنا، بھگوان سے رادھا کا ملنا، پھر اُن کا بچھڑنا اور رادھا کا تنہا رہ جانا وغیرہ وغیرہ ایسے موضوعات ہیں جن سے مصوری اور رقص دونوں نے ہی کام لیا۔
بندا دین کی خدمات
برطانوی حکومت کے زمانے میں بھی "کتھک" گُمنامی کا شکار ہوا البتہ اس کی اپنی قوت ختم نہیں ہو پائی اور بالآخر اس نے کھوئی ہوئی عظمت حاصل کر لی۔ گذشتہ دور میں اس رقص کو باقاعدگی کے ساتھ ترقی دینے کا سہرا مہاراج بندا دین کے سر ہے۔ اس اُستادِ فن نے نہ صرف اس فن کو پھر سے قوت بخش بلکہ پہلی مرتبہ انہیں کی ریاضت سے اس فن کے بکھرے ہوئے اوراق کا شیرازہ باندھا گیا۔ ان خدمات کے لئے آنے والی نسلیں مہاراج بندا دین کی ممنونِ احسان رہیں گی۔ مہاراج بندا دین کی رہنمائی میں اس رقص کے دونوں پہلو یعنی "تانڈو اور لیہ " کی طرف خاص توجہ دی گئی اور انہیں درجہ کمال تک پہنچایا گیا۔
مہاراج بندا دین خود بھی بڑے مشہور و معروف رقاص تھے۔ انہوں نے ہی منظوم عبارت کو ہم آہنگ ارکان کی صورت میں پیش کیا جس کو 'پرن' کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کا بظاہر کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ لیکن شاعرانہ احساسات کی پوری ترجمانی کرتے ہیں۔ مہاراج بندا دین کے بیٹوں نے بھی اس فن کو بڑی ترقی دی۔ ان میں مہاراج اچھن کا درجہ بہت بلند ہے۔ ان کے علاوہ جے پو کے جے لال مہاراج بھی کتھک کے مشہور فن کار ہوئے ہیں۔
چکر
کتھک کی خصوصیات میں چکر(گھمیری) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس میں رقاص نہایت تیزی کے ساتھ چکر لگاتا ہے۔ بعض رقاص تو اتنی تیزی سے چکر لگاتے ہیں کہ دیکھنے والے یہی سمجھتے ہیں کہ رقاس 'پھر کی' کی طرح ناچ رہا ہے اور اس کو ایک لمحہ قرار نہیں۔ حالاں کہ رقاص بیچ بیچ میں اپنا توازن قائم رکھنے کے لئے لمحہ بھر کے لئے رک جاتا ہے جس کو دیکھنے والے محسوس نہیں کرتے۔
تکنیک
آئے اب کتھک کی تکنیک کے خاص خاص پہلوؤں پر ایک نظر ڈالیں۔ یہ رقص 'تھاٹ' سے شروع ہوتا ہے۔ روائتی انداز میں جسم کو بالکل سیدھا رکھا جاتا ہے۔ مگر لوچ لچک بھی قائم رہتی ہے۔ دایاں ہاتھ سر کے اوپر رہتا ہے اور بایاں ہاتھ سامنے ہوتا ہے۔ آنکھیں گردن اور ہاتھوں کی ہر حرکت کے ساتھ چلتی ہیں اس کو ریچک کہتے ہیں۔ جسم میں بھی ہلکا ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ اور پاؤں تھاٹ کا سادہ آہنگ پر اُٹھنے شروع ہو جاتے ہیں۔ گویا اب رقاص ابتدائی رقص کے لئے تیار ہے۔
ہر حرکت کے اختتام پر رقاص ایک خاص انداز کے ساتھ چاروں طرف گھومتا ہے۔ اور دوسری حرکت شروع کرنے سے پہلے ایک خاص انداز میں جسم کو قائم کرتا ہے۔ پرن ، گت، توڑوں اور ٹکڑوں سے یکے بعد دیگرے کام لیا جاتا ہے تا کہ رقص کا جمالیاتی پہلو واضح ہو جائے۔ پُرن میں آہنگ ارکان بولے جاتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ان کے کچھ معنی بھی ہوں۔ چہرے کے اُتار چڑھاؤ اور ہاتھوں کے اشارے مُدرا اور ابھینے کہلاتے ہیں اور کتھک کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں۔ چکر ویارن پرن میں زیادہ وضاحت کے ساتھ رقص کیا جاتا ہے۔ 'گت' متوازن چال کو کہتے ہیں۔ 'توڑا' ایک ڈرامائی تسلسل ہے جس میں بڑی تیزی کے ساتھ رقص کیا جاتا ہے اور 'ٹکڑا' ایک ایسا ہم آہنگ تسلسل ہوتا ہے جس میں سرعتِ رفتار کو ہر طرح قائم رکھا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ جب تک رقاص کو تال کا پورا علم ہ ہو وہ اپنے فن میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ تال کی بہت سی قسمیں ہیں جن پر ہوشیار رقاص کو عبور حاصل ہونا چاہئے۔ مثلاً تین تال، دھمار، جھپ تال ، دادرا وغیرہ، پھر ان کی تقسیم 16،14،10اور 6 ماتراؤں پر مشتمل ہوتی ہے۔ تین تال سے زیادہ تر کام لیا جاتا ہے۔ ہر ایک تال میں ایک "اور دی" ہوتی ہے۔ جو مختلف ارکان کی ہم آہنگ ترتیب کا نام ہے"تال" اپنی انتہائی کو پہنچ کر 'سم' کہلاتا ہے۔ ان میں جوے کی قائم رکھی جاتی ہیں وہ یہ ہیں۔ ولمبت، مدھیہ اور درُت ، کتھک میں اس وقت بڑا ہی لُطف آتا ہے جب کہ رقاص اور طبلہ نواز گھوم پھر کر "سم' پر آتے ہیں۔
پوشاک اور ساز
کتھک میں سنگست کے لئے جن سازوں کی ضروری ہوتی ہے۔ ان میں طبلہ اور سارنگی شامل ہے۔ ابتدا میں طبلہ پگھاوج کی طرح ایک بڑاڈھول ہوتا تھا۔ مغلوں کے زمانے میں اس کے دو چھوٹے چھوٹے ڈھول بنا دئیے تا کہ آسانی سے تال دی جا سکے۔ اب رقاص کی روائتی پوشاک میں بھی بڑی تبدیلی آ گئی ہے۔ راجپوت شرفا کا لباس ہی مرد اور عورت دونوں کے لئے بہت زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔ رقاص چوڑی دار پانجامہ پہنتے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کپڑے اک چوغہ ڈال لیتے ہیں۔ بعض لوگ عورتوں کے لئے گھیر دار لہنگا مناسب سمجھتے ہیں۔