لوک ناچ۔۔۔۔۔۔عوامی زندگی کے مظہر
لوک ناچ۔۔۔۔۔۔عوامی زندگی کے مظہر
عوامی آرٹ کسی ارادی کوشش کا مرہون منت نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک خود روپردے کی مانند خود بخود وجود میں آ جاتا ہے۔ اس لئے اس میں سادگی ہوتی ہے۔ مگر یہ سادگی بے رنگ وبے کیف نہیں ہوتی بلکہ تصور کی گہرائی اظہارکی بے ساختگی کو ظاہر کرتی ہے اور یہ باتیں بڑی فنی قدروقیمت کی حامل ہوتی ہیں۔ لوک ناچ میں فن کاری کی کوئی شعوری کوشش نہیں ہوتی۔ یہ فن از خود جنم لیتا ہے کیوں کہ یہ عوام کی زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔
معاشرتی اور سیاسی انقلابات کے باوجود ہمارے ملک نے لوک ناچ کے خزانے کو ان کی رنگا رنگ شکلوں میں محفوط رکھا ہے۔ یہ رنگا رنگی عوام کی زندگی کی عکاس ہے کیوں کہ رقص انسان کے مذہب اور اس کی زندگی کا مظہر ہوتا ہے۔ اکتسابی رقص تصنع اور بناوت کی انتہائی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے اور بہت مشکل اور پچیدہ بن گیا ہے۔ مگر عوام کا رقص تصنع سے پاک ہے اور زندگی کے جوش و خروش ہنسی اور ترنگ کو اب تک باقی رکھے ہوئے ہے۔
انسان کی داخلی خوشی کا زریعہ اظہار ہونے کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی صدیوں سے مذہبی فرائض کی انجام دہی کا وسیلہ بھی رہے ہیں۔ اس لئے اسے عوام کی زندگی کا تانا بانا کہنا بے محل نہ ہو گا۔
خوشی کا کوئی بھی موقع آئے گاؤں والے ایک خاص جگہ پر رقص کے لئے جمع ہو جاتے ہیں گو اُن کا رقص کسی قاعد ے یا ضابطے کا سختی سے پابند نہیں ہوتا مگر جذبات کے اظہار کا اُن کا اپنا ایک خاص طریقہ ہوتا ہے جو اُن کے حسن اور موزونیت کے فطری احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ خوشی اور حسرت کے جذبے سے سرشار مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے دیہاتی نہایت دلکش طریقے سے ناچتے ہیں اور رقاص کی حرکت دوسرے تمام رقاصوں کی حرکت سے بالکل ہم آہنگ ہوتی ہے۔ مستی سے بھرا راگ چھیڑا جاتا ہے اور ڈھول بجانے والا تال دیتا ہے۔ بعض ساز سنگت کے لئے موسیقی مہیا کرتے ہیں۔ ان کا رنگین لباس طرح طرح کے پروں، کانچ کے موتیوں اور سپیلیوں سے مزبن ہوتا ہے۔
ہر علاقے کا لوک ناچ اس جگہ کی آب و ہوا اور ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور اس وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ خزاں دیہار اورسردی ڈگری عوام کی زندگی پر پوری طرح اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے ہمیں بدلتے ہوئے موسموں کی جھلک ان کے ناچ میں نظر آتی ہے۔
اِک ناچ کا عوام کی زندگی سے بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے کسی خاص علاقے یا کسی خاص طبقے کے ناچ پر اس علاقے یا طبقے کے لوگوں کی زندگی کے مشاغل کی گہری چھا پ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ۔۔۔۔کے قبائلیوں کا ناچ پیش کیا جا سکتا ہے۔ جن کا خاص پیشہ شکار کھیلنا ہے۔ اس لئے اُن کے رقص کا موضوع عام طور پر شکار اور شکار میں کامیابی حاصل ہونے پر خوشی و مسرت کا اظہار ہوتا ہے۔ شمال مشرقی سرحدی علاقے کے ناگاؤں میں ایسے کئی رقص بہت عام ہیں جن میں شکار کھیلنے یا جنگ کرنے کے مناظر ہوتے ہیں۔ گھنے جنگلوں میں ان کی زندگی جانے اور اُن جانے خطرات میں گھدی ہوتی ہے۔ رقاص اپنے تنے ہوئے چہروں اور چوکس نگاہوں سے اپنی زندگی کے اس پہلو کو بخوبی اُجاگر کرتے ہیں۔ اس قسم کے رقص دوسرے علاقوں کے قبائلیوں میں بھی موجود ہیں۔ پال گھات وکیرالا کی وادی میں بسنے والے قبائلیوں کارقص، اِتے لکرا دی میں شکار کھیلنے کا سین اپنے پورے ہنگامے اور شور کے ساتھ پُراثر طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ بہت سے گاؤں نے اپنے جنگل کے مسکن کو ترک کر کے وادیوں میں سکونت اختیار کر لی ہے جن میں منی پور کے کَبوئی اور تنگ کھل ناگا بھی شامل ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد جنگ یا شکار میں کامیاب ہو کر جشن مناتے تھے۔ ان کا رقص 'پھیچک' اس کی یاد گار ہے۔ اب کھیتی باڑی میں مصروف ہیں۔ اس لئے ایسے رقص بھی پیش کرتے ہیں جن کا تعلق اس پیشے سے ہے۔
آسام کے میدانی علاقے سے لے کر کیرالا کے ساحلی علاقوں تک ایسے ۔۔۔۔۔۔۔ لوگ ملیں گے جو فصل اچھی ہونے پر رقص کے ذریعے اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ دھان کی کٹائی کے بعد اوپری آسام کے قبائل'ہوائی رنگلیلی' رقص کرتے ہیں دیوری قبیلے کے اس رقص میں لڑے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوتے ہیں۔ مقامی طور پر تیار کیا ہوا رنگا رنگ لباس پہنے یہ گروہ رقص گاہ میں جمع ہوتا ہے جو پہلے سے طے کیا ہُوا ہوتا ہے اور عام طور پر کھلا میدان ہوتا ہے۔ پہلے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ایک دائرہ بناتے ہیں۔ گروہ کا قائداس کے وسط میں ہوتا ہے اور کورس گاتے ہوئے یہ دائرہ گھومنا شروع کر دیتا ہے۔ موسیقی ڈھول، تال پیپا اور ٹیکا کے ذریعے دی جاتی ہے۔ موسیقی کے آلات دیسی ہوتے ہیں۔ انبساط کے اس جذبے کا اظہار کیر الا کے پور کلی رقص میں بھی ملتا ہے۔ فصل کی کٹائی کے بعد گاؤں کے مندر یا کسی طے شدہ جگہ پر جمع ہو جاتے ہیں۔ وسط میں ایک دیا جلا کر رکھ دیتے ہیں او راس کے گرد دو دائرے بنا کر رقص کرتے ہیں۔ گروپ کا قائد گانا شروع کرتا ہے اور دوسرے ایک ساتھ مل کر اسے دہراتے ہیں۔ ساتھ ساتھ تالیاں بجاتے ہیں اور اپنے قدموں کی پچیدہ مگر موزوں جربوں سے تال دیتے ہیں۔ گانا دیوتاؤں کی تعریف سے شروع ہوتا ہے جس میں لنکا اور مہا بھارت کی جنگ کے وقت اُن کی امداد اور مہربانیوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ آخر میں ان سے لوگوں کی التجاؤں کو شرفِ قبولیت بخشنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ کہ وہ محبت کے دیوتا کام دیو کو پھر سے زندہ کر دیں۔
مدحیہ پردیش کے گونڈ ربیع کی تیار فصلوں کو جھومتے دیکھ کر خود بھی جھوم اُٹھتے ہیں۔ ہر گاؤں سے ایک ایک ٹولی آتی ہے اور ایک گاؤں میں اکٹھی ہوتی ہیں۔ پھر کبھی مل کر صبح سے شام تک رقص کرتے ہیں۔ واپسی کے وقت میزبان گاؤں کا سردار دوسرے گاؤں سے آئی ہوئی ٹولیوں کو مویشی اور چاندی یا سونے کی مہریں انعام کے طور پر دیتا ہے۔ عام طور پر مرد 'مسٹیلا' اور عورتیں 'دِینا' رقص کرتی ہیں۔ مرد اس طرح گانا شروع کرتے ہیں:۔
'دیکھو' یہ رقص کرتی ہوئی لڑکی کسی طرح پُرشوق نگاہوں سے گھور رہی ہے اور اس کے بال اس طرح لہرارہے ہیں جیسے رام جھریا ہلکورے کے رہی ہو گدا گر لرکا جھوم رہا ہے اور گا رہا ہے۔ اس کے گانے کا کوئی انت ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد عورتیں شامل ہوتی ہیں اور یوں گاتی ہیں:۔
ہم نے اپنے رسوئی گھر کے باغ کے چاروں طرف دھان لگایا ہے اور اب یہ پودے دھان کی بالیوں سے مالا مال ہیں
ہرن اور ہرنیاں: سے چرجاتے ہیں
یہ تم ہو جو ان ہرنوں اور ہرنیوں کو پالتے ہو
انہیں مار بھگاؤ
ورنہ میں ان پر اپنا بچھوا چلا دوں گی
اور خون کی ندی بہہ جائے گی
بمبئی کے بھڑ وچ ضلع کے ایک گاؤں سباریا کے آدمی یا سی فصل کی کٹائی کے وقت ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور ایک عجیب و غریب باجے دوارو کی لَے پر ناچتے ہیں جسے منہ سے بجایا جاتا ہے۔ اس رقص میں جو گانے گائے جاتے ہیں وہ مختلف پہاڑوں اور دریاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہوتے ہیں تا کہ وہ ان پر مہربان ہو جائیں خوشی و انبساط کے لمحوں میں رقاص زور سے گا اُٹھتے ہیں:
جوانی تھوڑے دن رہتی ہے
جیسے دریائے تاپتی کے کنارے پیدا ہونے والے پھل
برسات میں جب پانی بہتا ہے تو یہ پھل بھی بہہ جاتے ہیں
اس طرح وقت بھی جوانی کو بہا کرے جاتا ہے
اس لئے جو دیکھنا چاہتے ہیں انہیں دیکھنے دو
جو رقص کرنا چاہتے ہیں انہیں رقص کرنے دو
کیوں کہ جوانی کے دن تھوڑے ہیں
دریائے تاپتی زندہ باد
اتر پردیش کی نیپال ترای میں بسنے والے 'سُکھیا' رقص کرتے ہیں۔ یہ رقص چھوٹے قدموں کے ساتھ خطِ مستقیم میں کیا جاتا ہے۔ تری پورہ کے ربانگ اپنے جسموں کو جُھلاتے ہوئے ڈیلا، رقص اور بہار کے اوڈاؤن اور دھانگر قبیلے اپنا جوشیلا اور زوردار 'رقص کرم ' پیش کرتے ہیں۔
ہمارے ملک کی بہت بڑی آبادی کا پیشہ کھیتی باڑی ہے۔ اس سے انہیں روٹی ملتی ہے اور یہی ان کی خوشی و مسرت کا ذریعہ ہیں۔ اس لئے جب دھان اور گیہوں کی سنہری فصلیں ہوا سے ہولے ہولے ہل رہی ہوں تو ہمارے دیش و اسیوں کی مسرت و انبساط کا کیا کہنا۔ قدرت کا ہاتھ غیر محسوس طور پر اور بڑی خاموشی سے کام کرتا ہے۔ ہر علاقہ یا خطہ اپنا مخصوص رنگ و روپ رکھتا ہے اور ان کی اس رنگارنگی کی وجہ معاشرتی اور جغرافیائی حالات ہوتے ہیں اور اس سے ولوک ناچ کی بھی اپنی الگ الگ شکلیں ہیں جو بلاشبہ قدرتی عوامل کی پیدا کردہ ہیں۔
مثال کے طور پر کوہستانی علاقے کے رقاص اپنے جسم کو جُھلاتے اور جُھکاتے ہیں اور اس طرح گویا ہمالیہ کے وسیع اور لہر دار سلسلے کو پیش کرتے ہیں۔ منی پوری رقص کی ہیماجی حرکات اور بے ربط دائیں سخت آندھیوں اور درختوں کے اُکھڑنے کو ظاہر کرتی ہیں۔ ناگاؤں کے تنے ہوئے چہرے اور چوکس نگاہیں جنگل کی زندگی کے ہزاروں خطرات کی مظہر ہیں۔ اس طرح ساحلی علاقوں کے ملاحوں کے رقص میں دریا کی موجوں کا اُتار چڑھاؤ اور میدانی علاقوں کے رقص میں سکون ، رابط اور ہم آہنگی ملتی ہے۔ یہ تمام اختلافات قدرتی حالات ہی کے پیدا کردہ ہیں۔
ان کے علاوہ بہت سے موسمی اور معاشرتی رقص بھی ہیں۔ گو مختلف علاقوں کی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات کی وجہ سے ان کی شکلیں جدا جدا ہیں مگر اس کے باوجود ان میں ایک طرح کی روحانی یکسانیت پائی جاتی ہے۔
آسام کا بیہو رقص نیا سال شروع ہونے کے وقت پیش کیا جاتا ہے۔ اس وقت قدرت کا شباب اپنی پوری رعنائیوں اور نکھار کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے اور لوگوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ اس رقص کے ساتھ گائے جانے والے گانے انتہائی جذباتی اور محبت بھرے ہوتے ہیں۔
آسامی ناچے اور گاتے ہیں:۔
موگا ریشم کا سوت بڑا پیارا ہوتا ہے
اور اس سے زیادہ پیاری نالی ہے
اور اس سے بھی عزیز تر بیہاگ بیہو ہے
کیا ہم اسے بغیر جش منائے گزر جانے دیں
آؤ میری رقاصہ آؤ
جب میں تمھیں دیکھتا ہوں تو میرا دل پگھلنے لگتا ہے
آؤ میری رقاصہ آؤ
جب میں تمھیں دیکھتا ہوں تو میرا دل اُچھلنے لگتا ہے
تمہارے جرات آمیز قدم زمین کو ہموار کر دیتے ہیں
ہمارا مبیو دل کش ہے
اسے چھڑنے سے ہماری عزت ہمیشہ کے لئے خاک میں مل جائے گی
بیہو ہماری زندگی ہے
ہمارا بیہو دل کش ہے
خوشی کے موقعوں پر راجستھان کے نیم قبائلی سِنسی گھیر گھمر رَقص پیش کرتے ہیں۔ اس رقص میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہوتے ہیں اور دل کھول کر جشن مناتے ہیں۔ اس گانے سے اس رقص کو شروع کرتے ہیں جس کے ٹیپ کا مصرع ہے "آیو(پہاڑ) کی بلندیوں سے مور پکار رہا ہے۔")
اس گانے کے ذریعے عورتوں کو رقص کی دعوت دی جاتی ہے۔ عورتیں جواب دیتی ہیں کیسے آؤں پیار سے میرا گھا گھرا پھٹا ہوا ہے'۔ مرد وعدہ کرتے ہیں کہ چھنیٹ کا نیا گھاگھرا بنوا دیں گے۔ پھر وہ شکایت کرتی ہیں کہ زمین ناہموار ہے اور فوراً جواب ملتا ہے کہ ہم اس زمین پر شیشے کا فرش کرا دیں گے۔ اس طرح سوال جواب ہوتا رہتا ہے۔
کُلو وادی کے لوگوں کا ایک اجتماعی رقص'ناتی' کہلاتا ہے۔ اس رقص میں اس وادی کے لوگوں کی مذہبی عقیدت، جگنگی خصلت اور رومانی فطرت سبھوں کا امتزاج ملتا ہے۔ یہ اپنے گانوں میں پرندوں یا کسی بھی شخص سے خطاب کرتے ہیں۔ گانا اس طرح کا ہوتا ہے:۔
روپی میری بہن
آؤ، آؤ، آؤ
گاؤں کے مشترک میدان میں
ہم رقص کے لئے جمع ہوئے ہیں
روپی میری بہن آؤ
اگر دن بھر کی سخت محنت کے بعد۔ تم گھک گئی ہو
تو اس کا بالکل خیال نہ کرو
ہم کوبانی کے پھلوں سے نکالے ہوئے تیل سے
تمہارے جسم کی مالش کر دیں گے
خدا کے واسطے آجاؤ روپی۔ وغیرہ وغیرہ
ایسا سمجھا جاتا ہے کہ مذہبی رقصوں میں متنوع جذبات و کیفیات کا اظہار ممکن نہیں۔ یہ صحیح نہیں بلکہ ان رقصوں میں جذبات کے اظہار کی زیادہ گنجائش ہے۔ ایسے بہت سے رقص ہیں جو محض مذہبی عقیدت کے طور پر کئے جاتے ہیں۔ جس میں رقاص صرف پوجنے والے کی حیثیت سے دیوتا کو نذرانہ عقیدت پیش کرتا ہے۔ ریاست بمبئی کے ستارہ ضلع کا 'گاجا' رقص اس طرح کا ہے۔ یہ رقص بڑے جوش و جذبے کے ساتھ شیو جی کی عبادت کے لئے کیا جاتا ہے۔ جنہیں مقامی طور پر ورد یا کہتے ہیں۔ "تامل ناڈ کا کاراگم رقص ایک دیوی "میر یامن" (جنہیں پاروتی کی شکستی کا مظہر سمجھا جاتا ہے) کو خوش کرنے کے لئے کیا جاتا ہے تا کہ خشک سالی اور روبائی امراض سے دُور رہیں۔ مذہبی کتابوں اور اساطیروں کے بہت سے ایسے قصے پیش کئے جاتے ۔