ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

پروفیسر احمد شاہ پطرس بخاری

    پروفیسر احمد شاہ پطرس بخاری

     

    نام احمد شاہ بخاری ،قلمی نام، پطرس جو صرف اُردو تحریروں کے لیے مخصوص تھا۔ جس زمانے میں آل انڈیا ریڈیو کے سربراہ تھے اور اس کے بعد بھی، ریڈیو کے متعلقین اور احباب کے ایک طبقے میں بڑے بخاری صاحب کے طور پر بھی مشہور تھے اور ان کے دوسرے بھائی ذوالفقار علی بخاری کہ وہ بھی ریڈیو ہی کے ایک اعلیٰ افسر تھے ، چھوٹے بخاری کے طور پر۔ پاکستان بننے کے بعد، ذوالفقار علی بخاری ریڈیو پاکستان کے سربراہ بنا دیے گئے ۔ آل انڈیا ریڈیو میں ۱۹۴۰ ء کی دہائی کے وسط تک دونوں بھائیوں کی ایسی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ لوگ اس محکمے کو ہندوستان کی بی بی سی یعنی ’’ بخاری برادرز کارپوریشن‘‘ کہا کرتے تھے۔

     اسی زمانے میں یہ حکایت بھی سننے میں آئی کہ جب سرسلطان احمد وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو کے نگران ممبرمقرر ہوئے تو بخاری صاب کے نکتہ چینیوں نے بخاری صاحب کے خلاف سرسلطان کے خوب کان بھرے ۔ بخاری صاحب محکمے کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی خدمت میں معمول کے سلام کے لیے حاضر ہوئے تو انہوں نے اس حاضری کی نوعیت کا بھی لحاظ نہ کیا۔ کچھ ترش روئی سے پیش آئے اور یہ بھی کہا کہ آپ کے خلاف بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد چند ایک شکایات گنوائیں اور پھر حکم دیاکہ محکمے کی کارگزاریوں کے بارے میں ایک مکمل رپورٹ ان کو فوراً بھجوائی جائے ۔

    بخاری صاحب نے رپورٹ تیار کی اور ممبر صاحب سے دفتر کے اوقات کے بعد رپورٹ لے کر گھر پر حاضر ہونے کی اجازت چاہی تاکہ تخلیے میں اطمینان سے بات ہو سکے۔ وقت مقررہ پر بخاری صاحب وہاں پہنچے۔ رسمی ابتدائی گفتگو کے بعد بخاری صاحب نے کچھ اس قسم کی تمہید اٹھائی کہ جو کچھ آج تک ہوتارہا ہے ، آپ اس کا خیال نہ کیجیے۔ محکمے کی باگ ڈور اب آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ اب تو وہی ہو گا جو آپ چاہیں گے۔ ہم لوگ تو آپ کے کارندے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی نہایت عمدہ اور نفیس  انگریزی میں لکھی ہوئی رپورٹ اپنے نہایت عمدہ اور نفیس لب ولہجہ میں سنانی شروع کر دی ۔ سر سلطان بڑی توجہ سے سننے لگے۔ وہ بوڑھے آدمی تھے ۔ شام کا وقت تھا۔ کچھ تھکے ہوئے بھی ہوں گے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کو نیند آئی وہ سو گئے اور خراٹے لینے لگے ۔ بخاری صاحب نے رپورٹ پڑھنی بند کر دی۔ سر سلطان چونک کر جاگ اٹھے اور مسکراتے ہوئے رسان سے کہا : ’’ SING ON MR. BOKHARI SING ON ‘‘ بس پھر کیا تھا ، انگریزی محاورے کے مطابق سرسلطان اور بخاری صاحب کے درمیان برف پگھلنے لگی اور آخر تعلقات معمول پر آگئے۔

     مگر سردار ولبھ بھائی پٹیل ، سرسلطان احمد نہیں ہو سکتے تھے۔ وہ دوسری قسم کی مٹی کے بنے ہوئے تھے ان پر کسی کی انگریزی، کسی کی آوا زا ور کسی کے لب و لہجہ کا جادو نہیں چل سکتا تھا۔ چناں چہ ۱۹۴۶ ء میں عبوری حکومت کے زمانے میں سردار پٹیل جب آل انڈیا ریڈیو کے نگران وزیر بنے تو انہوں نے چند مہینوں کے اندراندر ہی بخاری تھا کو چلتا کیا اور وہ ۱۹۴۷ ء کے اوائل میں گورنمنٹ کالج لاہور میں جہاں وہ دس بارہ سال پہلے انگریزی کے پروفیسر تھے ، پرنسپل کی حیثیت سے واپس آگئے۔

    بخاری صاحب کی مراجعت پر ان کے اعزاز میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے گورنمنٹ کالج میں مجلسِ اقبال کی ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے لاہور میں موجود کالج کے پرانے طلبہ اور مجلس کے پرانے اراکین کوبھی مدعو کیا ۔ اسی تقریب میں بخاری صاحب سے میری پہلی ملاقات ہوئی ۔

    یہاں یہ بتا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کالج میں انگریزی کے پروفیسر تو بخاری صاحب سے پہلے بھی کئی ہوئے اور ان کے بعد بھی ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے مگر جس طرح وہ طلبہ کے حلقے میں ایک جیتی جاگتی داستان بن گئے تھے ، اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔ اُن کے شاگرد اُن کی بہت سی باتیں، اُن کے لطیفے اور فقرے تک اپنی محفلوں میں اکثر دہرایا کرتے تھے۔ اردو کے ادیب تو وہ تھے ہی مگر بطور پروفیسران کی انگریزی دانی اور تقریر کی لذت کا تذکرہ بھی بہت عام تھا۔ البتہ جس تقریب کا میں ذکر کر رہا ہوں وہاں بخاری صاحب نے موقع کی مناسبت سے اردو میں ایسی شگفتہ اور پر لطف تقریر کی کہ سماں باندھ دیا۔ لاہور واپس آنے کے بعد یہ شاید ان کی پہلی تقریر تھی اور وہ بھی ان کی محبوب مجلس کی ایک تقریب میں، صاف لگ رہا تھا کہ وہ ’’مشاعرہ لوٹنے‘‘ کی نیت سے آئے ہیں اور انہوں نے یہی کیا، مجلس کی تاریخی حیثیت بیان کرتے ہوئے اس کے پرانے اراکین میں فیض ، راشد اور حفیظ ہوشیار پوری وغیرہ کے نام لیے کہ جو اس وقت ادب کی دُنیا میں بڑا نام پیدا کر چکے تھے۔ سنجیدہ گفتگو کے ساتھ ساتھ مزاح کی چاشنی کا اضافہ بھی کرتے گئے۔ کچھ باتیں اپنے بارے میں بھی کیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ ’’ ضربِ کلیم‘‘ میں اقبال کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام ‘‘دراصل ان کے نام ہے ۔ کیوں کہ وہ ایک دفعہ کسی فلسفیانہ بحث میں اقبال سے اُلجھ گئے تھے۔ اقبال کے تذکرے میں یہ شعر بھی سنایا:

    بیا بہ  مجلس اقبال و یک دو ساغرکش

    کہ درس فلسفہ می داد و عاشقی ور زید

    بہر حال بخاری صاحب نے ہر لحاظ سے حاضرین کو خوش کر دیا ۔

    تقریر کے بعد چائے کا دور چلا اور اس کے دوران صوفی صاحب نے بخاری صاحب کو مجلس کے چند ایک ایسے پرانے اراکین سے ملوایا جو اُن کے بعد کالج میں آئے تھے ۔ ان میں سے ایک میں بھی تھا ۔ ۱۹۴۶ ء میں گورنمنٹ کالج سے انگریزی میں ایم اے کرنے کے بعد میں اس وقت اسلامیہ کالج لاہور میں پڑھ رہا تھا۔ مجھ سے باتیں کرتے ہوئےبخاری صاحب اپنے اس انگریزی مضمون’’ دی ماڈرن اُردو رائٹر‘‘  کا ذکر کیا جو انہوں نے ۱۹۴۵ ء کی پی ای این کانفرنس جے پور میں پڑھا تھا اور مجھے یہ بھی بتایا کہ اُردو ترجمے کا جو مسودہ میں نے انہیں بھجوایا تھا وہ ان سے دہلی سے لاہور تبادلے کے دوران کھویا گیا ہے۔ یہ تھی بخاری صاحب سے میری پہلی ملاقات ۔ اس کے بعد مجلس کے جلسوں میں تاثیر صاحب، صونی صاحب اور فیض صاحب کے ہاں بھی بخاری صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا۔ گرمیوں کی چھٹیاں میں نے کشمیر میں گزاریں۔ ستمبر ۱۹۴۷ ء کے وسط میں وہاں سے واپسی ہوئی تو پاکستان بن چکا تھا۔ میرے اُستاد پروفیسر سراج الدین کی تحریک اور بخاری صاحب کی ایما پر مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں بطور لیکچرار لے لیا گیا۔

    جب بخاری صاحب کی باقاعدہ منظوری کے لیے انٹرویو کا وقت آیا تو میں کسی قدر مترد دضرور تھا اس لیے کہ انٹرویوز میں بخاری صاحب کے سخت رویے کے قصے میں نے اپنے ریڈیو کے احباب سے سُن رکھے تھے ۔ میرے ہمراہ اسلامیہ کالج ہی کے ایک اور لیکچرار بھی تھے جو ایف اے میں خود میرے اُستاد بھی رہے تھے ۔ چناں چہ ہم دونوں کو ایک ساتھ ہی بلوایا گیا۔ بخاری صاحب میز پر بیٹھے کوئی کاغذ دیکھ رہے تھے۔  ہم دونوں ان کے سامنے کھڑے ہو گئے انہوں نے پہلے مجھ سے چند ایک عام قسم کے سوال کیے اور بس پھر وہ دوسرے صاحب کی طرف اسی انداز سے متوجہ ہوئے۔ ان کا انٹرویو ختم ہونے ہی والا تھا کہ نہ معلوم کیوں ان حضرت کو کچھ اپنی اہمیت جتانے کی سو جھی ۔ چناں چہ انہوں نے درس و تدریس میں اپنے سالہا سال کے تجربے کا ذکر کر دیا ۔ بخاری صاحب بھلا ایسے موقوں پر کب چو کنے والے تھے ایک لمحہ کے لیے تامل  کیا پھر عینک اُتاری اور ان سے نظریں ملا کر   انگریزی میں کہا : BUT EXPERIENCE IS A   DOUBLE-EDGED WEAPON یعنی تجربہ تو دو دھاری تلوار ہے ۔ اس کے بعد اردو میں اضافہ کیا :’’ ممکن ہے آپ اپنی خامیوں ہی میں پختہ کار ہو چکے ہوں !‘‘ وہ حضرت بہت دنوں تک اس فقرے کی کاٹ محسوس کرتے رہے ۔

    گورنمنٹ کالج میں تقرر کے کچھ عرصہ بعد ایک دن بخاری صاحب نے مجھے بھی اپنے ایک فقرے سے چونکا دیا۔ میں سٹاف روم میں بیٹھا تھا کہ ان کے سیکرٹری پیغام لے کر آئے کہ پرنسپل صاحب نے یاد فرمایا ہے ۔ میں حاضر ہوا تو بخاری صاحب نے چھٹتے ہی پوچھا : ” آپ شام کو گناہ کرنے کہاں جاتے ہیں ؟“ میں یہ سوال سن کر سٹپٹا گیا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ دراصل کیا پوچھنا چاہتے ہیں ۔ بہر حال میرے منہ سے کچھ اس قسم کے جملے نکلے کہ میرا گھر بہت دور ہے۔ میں تو شام تک یہیں قرب وجوار میں رہتا ہوں اور شام کو گھر چلا جاتا ہوں۔ بخاری صاحب مجھے چونکا لینے کے بعداب سنجیدہ ہو گئے تھے ۔ کہنے لگے مجھے معلوم ہے آپ کا گھر بہت دُور ہے ۔ لہٰذا سوچا یہ ہے کہ آپ کے رہنے کا انتظام یہیں کر دیا جائے اور اس کے بعد انہوں نے مجھے یہ بتایا کہ انہوں نے مجھے صوفی صاحب کی جگہ کو ار ڈرینگل ہوسٹل کا سپرنٹنڈنٹ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور صوفی صاحب کو نیو ہوسٹل کا ۔ میں نے اس سلسلے میں کچھ عذر کیا تو بخاری صاحب نے مجھے یہ کہ کر چپ کرا دیاکہ تعلیمی پیشے کا مطلب صرف کلاس روم میں ادب پڑھانا ہی نہیں اس کے لیے انتظامی امور کا تجربہ بھی ضروری ہے ۔ چناں چہ میں اور میری دونوں چھوٹی بہنیں کوارڈ رینگل ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ کے مکان میں منتقل ہو گئے اور میرے شب و روز کالج کے کیمپس پر پرنسپل کی کوٹھی یعنی ’’ لاج‘‘ کے قریب ہی گزرنے لگے’’ نیاز مندانِ لاہور‘‘ اور بخاری صاحب کے دیگر احباب کی محفلیں عموماً بخاری صاحب ہی کے ہاں جمتی تھیں ۔ لہٰذا اب مجھے ان میں شریک ہونے کے زیادہ مواقع ملنے لگے۔ بخاری صاحب کے ہاں کی ان محفلوں کا ایک نرالا دستور یہ تھا کہ بخاری صاحب پہلے اپنے سب احباب کو کبھی رات کے کھانے سے پہلے مگر اکثر اس کے بعد ان کے گھروں سے اپنی کار میں خود ڈرائیو کر کے لاتے اور پھر دو چار گھنٹے کی گپ بازی کے بعد رات گئے بلکہ پچھلے پہر ان کو خود ہی چھوڑنے جاتے کیوں کہ ان کا قول تھا کہ رات کہیں بسر کرو مگر صبح اٹھو اپنے بستر سے۔ دوستوں سے محفل آرائی کی خاطر بخاری صاحب نے اس مشقت کو اپنا معمول بنارکھا تھا۔

     بخاری صاحب بلا کے ذہین آدمی تھے اور بلا کے محنتی بھی۔ وہ خود بھی کام کرتے تھے اور دوسروں سے بھی کام لیتے تھے ۔ وہ تھے تو پروفیسر مگر آل انڈیا ریڈیو کی سربراہی نے انہیں ایک بڑا مستعد منتظم بھی بنا دیا تھا۔ چناں چہ جب وہ گورنمنٹ کالج میں پرنسپل ہو کر آئے تو انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا بھی ایسا مظاہرہ کیا کہ کالج میں ان کے رفقاء کار جن میں سے بعض ان کے شاگر د بھی تھے حیران رہ گئے انہوں نے کالج کی عمارت ، باغات ، کھیل کے میدانوں اور فرنیچر تک کا تفصیلی جائزہ لے کر ان کی دیکھ بھال کا معقول اہتمام کیا ۔ کالج کی علمی وادبی انجمنوں اور طلبہ کی دوسری سرگرمیوں میں ایک نئی قسم کی باقاعدگی اور خوش انتظامی کو فروغ دیا۔ بخاری صاحب انگریزی کے پروفیسر تھے اور سب سے سینیئر..... مگر پرنسپل بن کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ شعبۂ انگریزی کے صدر تو پر وفیسر سراج الدین ہی رہیں گے ہاں فرسٹ ائیر کی ایک کلاس کو وہ خود بھی انگریزی پڑھایا کریں گے ۔ اپنا پیریڈ انہوں نے سب سے پہلا رکھا جس کا وقت گرمیوں میں شاید ساڑھے چھ بجے صبح ہوا کرتا تھا۔ مگر وہ اس سے بھی قبل آکے کالج کا پورا چکر لگاتے تھے اور صفائی ستھرائی کا حال دیکھتے تھے۔ ان کی نظر ادب و شعر کی تدریس سے لے کر سٹاف روم میں رکھے ہوئے پیتل کے گملوں تک جاتی تھی جب وہ کالج کے کیئر ٹیکر کے ساتھ معائنہ پر نکلتے تو اُنگلی پر رومال لپیٹ کر ان گملوں کی سطح پر پڑی ہوئی دھول کا بھی اندازہ کر لیتے تھے ۔

    باقاعدگی اور خوش انتظامی کے ساتھ ساتھ طلبہ سے ان کا برتاؤ عموماً غیر رسمی اور بے تکلفی کا تھا۔ کالج میں ایک دفعہ پِک نِک کا پروگرام بنا تو بخاری صاحب نے تجویز کیا کہ بسوں یا گاڑیوں میں جانے کی بجائے سب لوگ کالج سے جہانگیر کے مقبرے تک پیدل جائیں گے۔ دوسرے پر وفیسروں کے علاوہ بخاری صاحب خود بھی اس قافلے میں شامل تھے پِک نِک کے دوران بخاری صاحب سارا دن طلبہ کے ساتھ ہنستے کھلتے رہے اور شام کو ان کے ساتھ ہی واپس آئے ۔ طلبہ کی دوسری سرگرمیوں میں بھی وہ برابر کے شریک رہتے تھے۔

     انتظامی معاملات ہی میں نہیں کالج کی علمی سرگرمیوں کے سلسلے میں بھی بخاری صاحب کو نئی سے نئی تجویز کی جستجو رہتی تھی۔ ایک دن انگریزی کے ان اساتذہ کو جنہیں اُردو لکھنے پڑھنے سے بھی شغف تھا اور اُردو فارسی کے اساتذہ کو الگ سے طلب کیا ، اور بات اس طرح شروع کی کہ اُردو کے امتحانوں یعنی ادیب عالم ، ادیب فاضل وغیرہ کے پرائیویٹ طلبہ کی حالت بڑی خراب ہے ان غریبوں کو السنہ شرقیہ کے شام کے سکولوں میں جانا پڑتا ہے جہاں وہ دہلی دروازے کے باہر ایک پرائمری سکول کے کمروں میں ٹاٹ کے فرش پر بیٹھتے ہیں ۔ وہاں پڑھنے لکھنے کا کوئی ماحول نہیں، پڑھانے والے بھی ایسے کہ طلبہ کے دماغوں کو کسی طرح کی روشنی مہیا  نہیں کر پاتے وغیرہ وغیرہ ۔ اس تمہید کے بعد کہنے لگے کہ صوفی تبسم کی تجویز پر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ گورنمنٹ کالج میں شام کے وقت ادیب فاضل کی کلاسیں کھولی جائیں ۔ انگریزی کے وہ اُستاد جو اُردو میں لکھتے لکھاتے ہیں اور اُردو فارسی کے اُستاد اس جماعت کو پڑھایا کریں گے ، کچھ دنوں کے بعد اس پروگرام کو عملی جامہ پہنا یا گیا۔  شعبۂ انگریزی سے خواجہ منظور حسین، ڈاکٹر صادق اور راقم الحروف کو لیا گیا ، شعبہ اُردو سے صوفی صاحب، ملک عبد الحمید اور ان کے کچھ دوسرے رفقاء اور اس طرح گورنمنٹ کالج میں ادیب فاضل کی کلاس شروع کر دی گئی۔ بخاری صاحب کے ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ شام کو گزرتے ہوئے ایک نظر دیکھ لیتے تھے کہ کلاس کی صورت حال کیا ہے۔

    ایک دن صبح مجھے سٹاف روم میں گاؤن پہنے دیکھ کر کہنے لگے کہ کل شام ادیب فاضل کی کلاس میں تم نے یہ گاؤن کیوں نہیں پہنا تھا ؟ میں نے کہا کہ سر،وہ تو شام کی کلاس ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اس میں ایسے تکلف کی کیا ضرورت ہے ۔ مگر بخاری صاحب نے فوراً مجھے ٹوکا اور کہنے لگے میں ادیب فاضل کی کلاس میں بھی کالج کی باقی کلاسوں کی فضا قائم کرنی چاہتا ہوں۔ چناں چہ اسی دن انہوں نے ادیب فاضل کی کلاس کے اساتذہ کے نام اس مضمون کا نوٹس جاری کر دیا۔

    اس کلاس میں کوئی بیس بائیس  طلبہ تھے مگر سب کے سب لڑکے چناں چہ ایک شام بخاری صاحب نے صوفی صاحب کو اور مجھے بلا یا کلاس کا حال پوچھا اور کہا کہ صرف لڑکوں سے بات نہیں بنے گی اور وہ بھی ایسی کلاس میں جس کے طلبہ بیچارے دن بھر کسی نہ کسی دفتر میں کام کرتے ہیں۔ اس میں کچھ رونق پیدا کرنی چاہیے۔ لہذا ارشاد ہوا کہ دو تین لڑکیوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ چناں چہ پہلی لڑکی جو اس کلاس میں شامل ہوئی وہ صوفی صاحب کی بڑی صاحب زادی زہرا تھیں۔ بعد میں دو ایک اور لڑکیاں بھی آگئیں۔ کچھ عرصہ گزرا تو بخاری صاحب نے صوفی صاحب سے اور مجھ سے پوچھنا شروع کر دیا کہ کسی طالب علم میں آپ کو کوئی جو ہر نظر آیا یا نہیں۔ ہم لوگ اسی جستجو میں تھے کہ ایک دن ہمارا یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ صوفی صاحب اور میں کوارڈ رینگل ہوسٹل کے دفتر میں بیٹھے شام کی کلاس کا انتظار کر رہے تھے کہ چپڑاسی نے صوفی صاحب سے آکر کہا کہ ایک طالب علم آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ طالب علم اندر آیا اور آداب سلام کے بعد اس نے کانپتے ہاتھوں سے صوفی صاحب کی طرف ایک کاغذ بڑھا دیا ۔ میں نے سمجھا کہ شاید کوئی عرضی ہو گی صوفی صاحب نے کاغذ دیکھتے ہی اسے لو ٹا دیا اور کہا کہ خود پڑھ کر سناؤ۔ چناں چہ اس طالب علم نے کچھ سہمی ہوئی آواز میں غزل سنانی شروع کی۔ دوسرا یا تیسرا شعر تھا:

    فسردہ ہونے سے حاصل، چلو تلاش کریں

    کہیں تو ہوں گی بہاریں جو گلستاں میں نہیں

    صوفی صاحب اور میں دونوں ٹھٹھک کر رہ گئے ۔ غزل کے باقی اشعار بھی صاف اور سلجھے ہوئے تھے ۔ یہ تھا ہماری ادیب فاضل کلاس کا ایک طالب علم جو بعد میں شہرت بخاری کے نام سے مشہور ہوا۔

    اسی زمانے میں یونیورسٹی کے عمائدین نے اور نینٹل کالج میں اُردو ایم ۔ اے کی کلاس شروع کرنے کا اہتمام کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کلاس صرف اسی کالج میں ہوسکتی  چوں کہ  مطلوبہ استعداد کے اساتذہ وہیں ۔ بخاری صاحب نے فیصلہ کیا کہ گورنمنٹ کالج میں بھی یہ کلاس کھولی جائے گی ۔ اس مقصد کے لیے یو نیورسٹی سے الحاق ضروری تھا اور الحاق کی شرط وہی یعنی مطلوبہ استعداد کے اساتذہ کی موجودگی ۔ بخاری صاحب کا عقیدہ تھا کہ انگریزی کے وہ استاد کہ جنہیں اُردو میں لکھنے پڑھنے کا شوق ہے اُردو پڑھانے کی اس قدر اہمیت اور استعداد رکھتے ہیں جتنی کہ فارسی کے استاد۔ چناں چہ انہوں نے یو نیورسٹی کے سامنے اس مسئلے کے بارے میں یہ نقطۂ نظر پیش کرنے سے پہلے گورنمنٹ کالج کے شعبہ ٔاردو کو پھر سے منظم کیا اور خود اس کے صدر بن گئے اب جس شعبہ کا صدر پروفیسر  احمد شاہ پطرس بخاری ہو، یونیورسٹی کیسے اسے تسلیم نہ کرے ۔ چناں چہ گورنمنٹ کالج میں اُردو ایم اے کی کلاس شروع ہوگئی ۔ پڑھانے والے شعبۂ انگریزی سے وہی خواجہ منظور حسین، ڈاکٹر صادق اور راقم الحروف اور شعبہ اردو سے بخاری صاحب ، صوفی صاحب اور ایک اور استاد، اس کلاس میں حسن اتفاق سے ایک لڑکی موجود تھی اور وہ بھی کنیرڈ کالج کی گریجویٹ ،فرفر انگریزی بولتی ہوئی ، چناں چہ بخاری صاحب بہت خوش ہوئے یہ نوجوان خاتون ارد و ایم اے کی کلاس میں بھی انگریزی ہی میں گفتگو فرماتی تھیں اور مجھ سے اصرار کرتی تھیں کہ غالب پڑھاتے ہوئے اردو کے ساتھ ساتھ ان کو اپنا مطلب انگریزی میں بھی سمجھاؤں ۔ یہ تھیں مس قدسیہ چٹھہ جو بعد میں بانو قدسیہ کے نام سے اُردو کی افسانہ نگار اور ناول نگار کے کے طور پر مشہور ہوئیں ۔

     اس کلاس کے طلبہ میں بھی تلاش کے باوجو د ہمیں کو ئی جو ہر نظر نہ آیا۔ آخر ایک دن ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے جو تھے تو سائنس کے ایک مضمون کے پروفیسر مگر بخاری صاحب نے ان کے علمی اور ادبی ذوق کی بنا پر انہیں’’ مجلس اقبال‘‘ کا سربراہ بنا دیا تھا۔ صوفی صاحب سے اور مجھ سے ذکر کیا کہ ایم اے اردو کا ایک طالب علم مجلس میں ایک افسانہ پڑھنا چاہتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے احتیاطاً افسانہ دیکھ لیا ہے اس لیے کہ بخاری صاحب بھی مجلس کے جلسوں میں شامل ہوتے ہیں اگر افسانہ ٹھیک نہ ہوا تو مجھے خفت اٹھانی پڑے گی ۔ چناں چہ مجلس کا جلسہ ہوا۔ افسانہ جو ایک گم شدہ کتے کے بارے میں تھا، پڑھا گیا ،نام تھا ’’ تلاش‘‘ ۔ سب نے پسند کیا ، خود بخاری صاحب نے بھی اس کی تعریف کی۔ یہ افسانہ نویس  طالب علم تھا اشفاق احمد،میں کااب ہمارے چوٹی کے افسانہ نگاروں میں شمار ہوتا ہے ۔ یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ یہ دونوں ہم جماعت یعنی  قدسیہ اور اشفاق بعد میں ایک دوسرے کے جیون ساتھی بن گئے ۔

     طلبہ کے علاوہ بخاری صاحب کو کالج کے اساتذہ کی تحریروں سے بھی دلچسپی تھی۔ مجھے یا درہے کہ ” پاکستان ٹائمز‘‘ میں جب کبھی فلسفے کے پروفیسر قاضی محمد اسلم یا ڈاکٹرا جمل کا جو اس وقت ڈاکٹر نہیں تھے، کوئی مضمون یا کسی کتاب پر تبصرہ چھپتا تو وہ خاص طور پر ان کو بلواتے، تعریف کے قابل سمجھتے تو تعریف کرتے ورنہ اس موضوع پر ان سے گفتگو کرتے ۔ اس سلسلے میں ایک دفعہ قاضی صاحب کے ساتھ بخاری صاحب کی جو فقرہ بازی ہوئی وہ بھی دل چسپ ہے..... ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں برٹرنڈ رسل کی کسی تازہ کتاب پر ایک تبصرہ چھپا ، تبصرہ نگار نے اپنے پورے نام کی جگہ صرف ’’ایم ۔ اے‘‘ لکھا تھا۔ بخاری صاحب نے سمجھا کہ یہ قاضی صاحب ہوں گے کیوں کہ وہ اپنے نام کے ساتھ خود کبھی قاضی نہیں لکھتے تھے بلکہ صرف ایم اسلم، چناں چہ انہوں نے جب قاضی صاحب کو تبصرے کی داد دی تو قاضی صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ تبصرہ ان کا نہیں۔ اجمل کا ہے ، بخاری صاحب نے فقرہ چسپاں کیا کہ اچھا ہم تو سمجھتے تھے کہ ہمارے ہاں آسمان فلسفہ کے آفتاب صرف آپ ہی ہیں ۔ قاضی صاحب نے بے ساختہ انگریزی میں جواب دیا : Yes sir, I am the setting Sun, Ajmal is the rising sun.

    خواجہ منظور حسین صاحب نے لاہور میں پہلی مرتبہ بخاری صاحب ہی کے ہاں ایک محفل میں کہ جس میں کم و بیش سبھی ’’ نیاز مندان لاہور‘‘ موجو دتھے ۔ غالب کی شاعری اور سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل کی تحریک کے باہمی ربط و تعلق کے بارے میں اپنی تحقیق و تفتیش کے نتائج کا ملخص پیش کیا تھا، جسے انہوں نے اپنی کتاب ’’ تحریک جد و جہاد بطور موضوع سخن ‘‘میں تفصیل سے قلم بند کیا ہے ۔ اس ضمن میں اپنی بات کرنا کچھ اچھا نہیں لگتا مگر چوں کہ یہ بھی امر واقعہ ہے اور اسی داستان کا حصہ، اسی لیے عرض کیے دیتا ہوں۔ ایک دفعہ چھٹی کے دن صبح صبح بخاری صاحب نے مجھے بلا بھیجا، میں نے سمجھا کہ ہوسٹل کے کسی معاملے میں ڈانٹ پڑنے والی ہے ،پہنچا تو دیکھا کہ باہر برآمدے میں بیٹھے ہیں اور ہاتھ میں سعادت حسن منٹو اور محمد حسن عسکری کے رسالے ’’اُردو ادب‘‘ کا تازہ شمارہ ہے جس میں میرا مضمون ’’شاعری میں کفر‘‘ شائع ہوا تھا۔ بڑی شفقت کا اظہار کیا ، پاس بٹھایا ، مضمون کو سراہا اور دیر تک اسی موضوع پر بات کرتے رہے ۔

    مگر بخاری صاحب کا کچھ ٹھیک نہیں تھا کبھی تو اس قسم کی فراخدلی کا مظاہر ہ کہ  جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اور کبھی کسی لکھنے والے کی تحریر اور کہنے والے کی بات پر بگڑ کر اس کا پیچھالے لیتے تھے۔ اپنی رائے کو بہر حال افضل سمجھتے تھے، ایک دفعہ مجلس میں اقبال پر مضمون پڑھا گیا۔ حاضرین میں شعبۂ ریاضی کا ایک نوجوان باریش لیکچرار بھی تھا اس نے مضمون پرتبصرہ کرتے ہوئے کچھ کہا تو اس پر بخاری صاحب نے جرح شروع کر دی۔ وہ بھی کچھ اس قسم کا آدمی تھا جس کے بارے میں اقبال ہی نے کہا ہے کہ

    بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی سرشت

    چناں چہ بجائے اس کے وہ خاموش ہو جائے ، وہ بھی اپنی بات پر اڑ گیا مگر وہ غریب دراصل بخاری صاحب کو جانتا نہیں تھا ۔ انہوں نے طالب علموں کے سامنے اس کا وہ حشر کیا کہ ہمیں خفت ہونے لگی ۔ ایسے موقعوں پر بخاری صاحب یہ بھی نہیں سوچتے تھے کہ حریت ہیں ان کا مدمقابل ہونے کی سکت بھی ہے یا نہیں ۔ مگر کسی کی حماقت یا جہالت کو معاف کر دیتا یا اس کے بارے میں در گزر سے کام لینا بخاری صاحب کا دستور نہیں تھا۔ بات یہ تھی کہ بخاری صاحب عاقل و ذہین بھی تھے اور خوش اندام و خوش گفتار بھی ۔ ان کی ’’                عقل اورحسن پر بھری مجلس گواہ‘‘  تھی، لہٰذا اکثر لوگوں کو ان سے سرزد ہونے والی بہت سی ناگوار باتیں بھی برداشت کرنی ہی پڑتی تھیں ۔

     اب میں بخاری صاحب کے سلسلے میں ایک ایسے واقعے کا ذکر کرنے والا ہوں کہ جس سے ان کی دل چسپی بعض لوگوں کے لیے موجب حیرت ہوگی ۔ دسمبر ۱۹۴۷ ء کے آخری دن تھے کہ ہندوستان کے کچھ ادیبوں نے کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی لڑائی کے بارے میں ہندوستان کی حمایت میں ایک بیان شائع کیا محمد حسن عسکری ، غلام عباس صاحب اور میں ایک جگہ جمع تھے وہاں اس بیان کا ذکر آیا تو ہم نے سوچا کہ پاکستان کے ادیبوں کوبھی اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا چاہیے تاکہ باہر کی دنیا کو حقیقت حال معلوم ہو سکے۔ تاثیر صاحب چوں کہ اس قسم کے معاملات میں زیادہ درک رکھتے تھے لہٰذا عباس صاحب اور میں ان کے ہاں پہنچے اور ان سے بیان کی عبارت کی درخواست کی تاثیر صاحب نے ارتجالاً اردو میں ایک مختصر سا بیان لکھ کر ہمارے حوالے کیا اور ہم نے ادیبوں سے دستخط لینے کی مہم شروع کر دی اس مقصد کے لیے ہم دونوں بخاری صاحب کے پاس پہنچےاگر چہ ہم دونوں کو یہ اندیشہ تھا کہ بخاری صاحب دستخط نہیں کریں گے اور یہ کہیں گے کہ ادیبوں کو سیاست سے کیا واسطہ، مگر بخاری صاحب اس سلسلے میں بہت ہی پُر جوش نکلے ۔ انہیں تاثیر صاحب کا لکھا ہوا بیان پسند نہ آیا ۔ اُسلوب اور مواد دونوں کے اعتبار سے ، اس سلسلے میں ان کا یہ جملہ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اگر آج محمد حسین آزاد ، حالی اور شبلی زندہ ہوتے تو وہ یہ بیان کس طرح لکھتے ۔ اس کے علاوہ ان کی رائے تھی کہ بیان میں تفصیل سے کام لینا چاہیے تاکہ تصویر کا دوسرا رخ پوری طرح سامنے آجائے ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بیان فیض سے لکھوایا جائے اور اس کی زبان انگریزی ہوتا کہ باہر کے ملکوں میں اصل متن جاسکے۔ چناں چہ ہم وقت طے کر کے فیض صاحب کے مکان پر پہنچے۔ فیض صاحب بولتے گئے اور میں لکھتا گیا۔ ٹائپ کرانے کے بعد ہم نے وہ بیان بخاری صاحب کو دکھایا انہوں نے اسے بھی پسند نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ فیض نے بھی گھاس کاٹی ہے ۔ آخر ہماری درخواست پر وہ اس بیان کو کاٹ چھانٹ کر درست کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ دوسرے دن جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ لاج کے برآمدے میں بیٹھے بیان کی صاف کا پی ٹائپ کر رہے تھے ۔ مسترد شدہ مسودوں کا ڈھیر ان کے پاس پڑا تھا، انہوں نے بتایا کہ وہ رات گئے تک اس کام میں لگے رہے تھے ۔ اب سوال تھا اُردو ترجمے کا، چوں کہ بیان اُردو کے ادیبوں کی طرف سے جاری ہونے والا تھا اس لیے بخاری صاحب کا اصرار تھا کہ اس انگریزی متن کا ایک آزاد ترجمہ ہماری طرف سے ہی ہونا چاہیے اور عبارت ادیبوں کے شایانِ شان ہونی چاہیے ۔ انگریزی بیان کا اُردو ترجمہ اگر اخباروں کے مترجموں پر چھوڑا گیا تو وہ نہ جانے اس کا کیا حشر کریں گے ۔ چناں چہ اردو ترجمے کا کام صوفی تبسم صاحب کے سپرد ہوا، شام کو جب صوفی صاحب، عباس صاحب اور میں اردو بیان لے کر بخاری صاحب کے ہاں پہنچے تو انہوں نے اسے بھی پسند نہ کیا۔ مشکل یہ تھی کہ بخاری صاحب کا معیارِ حسنِ نگارش اتنا بلند تھا کہ اس معاملے میں ان کی خوشنودی حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ آخر انہوں نے صوفی صاحب کی درخواست پر اس متن کی نظر ثانی شروع کی۔ بخاری صاحب نے جب کام مکمل کر لیا تو مجھے سے مخاطب ہو کر بڑی لہک سے کہا کہ آخر میں اس شعر کا اضافہ کر دو :

    گریزد از صفِ ماہر کہ مردِ غوغا نیست

    کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلۂ ما نیست(١)

    نظیری کا یہ شعر بخاری صاحب کو بہت پسند تھا ، زندگی میں وہ اس قسم کے ’’مرد ِغوغا‘‘  نہیں تھے، بلکہ نہایت ہوش مند، زمانے کے ساتھ چلنے والے، کامیاب آدمی تھے، ان میں کسی قسم کی دیوانگی نہیں تھی مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل کے کسی گوشے میں اس کی ہوس رہی ہوگی جسے وہ اس مضمون کے فارسی اور اردو شعروں پر سر دھن کے پوری کر لیا کرتے تھے۔ مجھے یا درہے کہ ریڈیو پاکستان کے محمود نظامی کے ہاں قوالوں کی ایک محفل میں قوال جب اس شعر پر آئے کہ :

    صد پاک شده سینہ و صد پاره شده دل

    ویں بے خبراں جامہ  در یدن  نہ گزارند

    تو بخاری صاحب پر کیا کیفیت طاری ہو ئی تھی یا مثلاً انہیں اس زمانے کے نوجوان شاعر قتیل شفائی کے یہ دو شعر پسند تھے اور اکثر ان کا ذکر کرتے تھے :

    چلو اچھا ہوا کام آگئی دیوانگی اپنی

    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    نکل کر دَیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ

    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    کالج کے کاموں میں مصروف رہنے کے باوجو دبخاری صاحب کا دل پوری طرح کا لج میں نہیں تھا۔ ملک نیا نیا بنا تھا ، طرح طرح کے مواقع پیدا ہورہے تھے بخاری صاحب کی عمر پچاس سے کچھ کم ہی تھی اور صحت بھی اچھی، تو ان جیسی ذہانت ، قابلیت اوراہمیت کے آدمی اس وقت کے پاکستان میں ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے لہٰذا ان کو بجا طور پر کالج  کی فضا سے دور کسی وسیع تر فضا میں اپنے جوہر دکھانے کی تمنا تھی۔ چناں چہ وہ پرنسپل ہوتے ہوئے بھی کسی نہ کسی عنوان سے کارو بارِ مملکت انجام دینے میں لگے رہتے تھے۔ پنجاب کے فسادات پر انگریزی میں سرکاری دستاویزات  تیار کرنے کا کام نکلاتو بخاری صاحب کے سپرد ہوا، ہندوستان اور پاکستان میں انڈیا آفس کی املاک کی تقسیم کا مسئلہ اٹھا، تو بخاری صاحب مذاکرات کے لیے لندن بھیجے گئے ۔ میکسیکو میں ریڈیو کے بارے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی ، تو بخاری صاحب نے وہاں پاکستان کی نمائندگی کیا اور میکسیکو کے تعلیمی نظام پر ایک نہایت مفید رپورٹ بھی  لکھ کر لے آئے ۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے امریکہ کا دورہ کیا، تو بخاری صاحب نہ صرف ان کے ہم رکاب رہے بلکہ انہوں نے وزیرا عظم کی تمام تقریریں بھی لکھیں ۔ مختصر یہ کہ بخاری صاحب کالج میں تھے مگر معلوم یہ ہوتا تھا کہ کالج سے دورکسی اونچی پرواز کے لیے پر تول رہے ہیں ۔ آخر اگست یاستمبر ۱۹۴۹ ء میں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے پاکستانی وفد کے ایک ممبر کی حیثیت سے نامزد کیے گئے۔ انہی دنوں مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے پر میری اولین ترجیح کے مطابق مجھے فارن سروس میں  لیا گیا تھا مگرگھریلو حالات میں تبدیلی کی بنا پر میں مملک سے باہر نہیں جا سکتا تھا لہٰذا کسی دوسری سروس میں جانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس سلسلے میں کراچی میں تھا کہ بخاری صاحب نیو یارک جاتے ہوئے وہاں ر کے ، ان سے میری ملاقات ریڈیو پاکستان کے صدر دفترمیں ہوئی۔ انہیں میری مشکل اور میری کوشش کا علم تھا اس کے بارے میں پوچھا اور پھر مجھ سے سرگوشی میں کہنے لگے۔ تم فارن سروس مت چھوڑ و۔  تمہاری ٹریننگ ختم ہونے تک شاید میرے لیے یہ ممکن   ہوجائے کہ تمہارا تقرر ا قوام متحدہ کے پاکستان مشن میں کرا سکوں۔ میں تو فارن سروس میں شامل نہ ہوا مگر مجھے یقین ہو گیا کہ بخاری صاحب اب گئے ، چناں چہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کا سر براہ بنا دیا گیا۔

    یو این میں پاکستان مشن کے سربراہ کی حیثیت سے تیونس کی آزادی، فلسطین کے مسئلے اور نسلی امتیاز کے موضوع پر بخاری صاحب کی خوب صورت اور موثر تقریروں کے بہت چرچے ہوئے اور اُن کی شہرت دُور دُور تک پھیل گئی ۔ امریکہ کے مشہور عالم اور موقر اخبارات ’’نیویارک ٹائمز‘‘، اور ’’کرسچن سائنس مونیٹر‘‘ نے بخاری صاحب کو یو این کے بہترین مقرروں میں شمار کیا۔ تقریروں کے علاوہ سفارتی معاملات میں حُسنِ کارکردگی کی بنا پر بھی ان کو بڑی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ چناں چہ ۱۹۵۴ ء کے آخیر میں جب وہ اپنے اس عہدے سے سبک دوش ہوئے تو یو این کے سیکرٹری جنرل ڈیگ ہمیر شولڈ نے بطور خاص انہیں انڈر سیکرٹری انفرمیشن کی حیثیت سے یو این کی ملازمت میں لے لیا ۔ گویا اب ان کا دائرہ کار اپنے مُلک کی خارجہ پالیسی کی نمائندگی سے کہیں زیادہ وسیع ہو گیا اور وہ بین الاقوامی سیاست کی مہرہ بازی کا احاطہ کرنے لگا جس میں اس زمانے کی سب سے بڑی سیاسی آویزش یعنی مشرق و مغرب کی سرد جنگ بھی شامل تھی .....شاید ۱۹۵۷ ء میں بخاری صاحب چند دن کے لیے لاہور آئے ، فیض صاحب نے اُن کو اور اُن کے چند ملنے والوں کو شام کے کھانے پر بلایا ۔ میں بھی وہاں موجو دتھا۔ میں نے بخاری صاحب سے اس ملاقات میں جو تقریباً سات آٹھ برس کے بعد ہو رہی تھی اور جو اُن سے میری آخری ملاقات بھی ثابت ہوئی، یہ محسوس کیا کہ ان کی صحت بہت گر چکی ہے مگر ان کا ذہن اسی طرح چاق چوبند ہے ۔ میرا اس سے بھی گہرا تاثر یہ تھا کہ میں ایک نئے بخاری کو مل رہا ہوں۔ ان کے انداز ہی بدلے ہوئے تھے ، اس لیے کہ ان کی دُنیا ہی بدل چکی تھی ، اب وہ ایک اور ہی سطح سے بات کر رہے تھے ، ان کی گفتگو کے تیور، اس کے حوالے ہی مختلف تھے ۔ وہ ساری شام اپنی نئی مصروفیتوں اور یو این کی کارگزاریوں کی تفصیلات اور اُن سے متعلق قصے  ، کہانیاں اور لطیفے سناتے رہے۔ اس مشہور مشن کی روئداد بھی سنائی جو ۱۹۵۵ ء کے شروع میں سیکرٹری جنرل کی قیادت میں یو این کی طرف سے امریکن ہوا بازوں کی رہائی کے لیے چین گیا تھا اور جس میں انہیں بڑی اہم حیثیت حاصل تھی ۔ بخاری صاحب نے چو این لائی کی ذہانت اور سفارتی سوجھ بوجھ کی بہت تعریف کی۔ یہ بھی بتایا کہ مذاکرات کے بعد جب بلیٹن کا انگریزی متن چو این لائی کو دکھایا گیا تو انہوں نے اس کے ایک لفظ پر اس وجہ سے اعتراض کیا کہ اس سے کچھ جانب داری کا احتمال ہو سکتا ہے اور پھر اس کے بدلے میں ایک ایسا مناسب لفظ جو اس امکان سے یکسر پاک تھا ،تجویز کیا کہ ہم سب ان کی دقت نظر کے قائل ہوگئے ..... بخاری صاحب سے میری اس آخری ملاقات کا زمانہ جو اُن کی وفات سے کوئی دو ڈھائی برس قبل ہوئی ہوگی، وہ زمانہ ہے جب پروفیسر احمد۔ ایس  بخاری کا نام تو یو این کے اونچے ایوانوں میں گونج رہا تھا مگر اُردو ادب کا پطرس ،خاموش تھا۔

    اصل میں تو اُردو ادب کا پطرس ’’ پطرس کے مضامین ‘‘کے بعد ہی سے خاموش ہوگیا تھا۔ اس صنف میں بخاری صاحب نے مزید کچھ نہیں لکھا۔ بعد میں انہوں نے جو کچھ لکھا اس کی نوعیت دوسری تھی ۔ اس وقت مجھے ان کے تین تنقیدی مضمون یاد آرہے ہیں ۔ ایک تو وہی نہایت اعلیٰ درجے کا انگریزی مضمون’’ دی ماڈرن اُردو رائٹر‘‘ جس کا ذکر ہو چکا ہے اور جو بخاری صاحب نے انگریزی دان ادیبوں کی ایک بین الاقوامی انجمن کے ایک اجتماع کے لیے بہت جی لگا کے لکھا تھا۔ باقی دونوں اُردو مضامین میں سے ایک عصمت چغتائی کے افسانوں کے بارے میں تھا جو انہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے زمانے میں لکھا اور ساقی (دہلی ) میں چھپا اور دوسرا تھا راشد کی کتاب ” ایران میں اجنبی‘‘ کا مقدمہ، جو ان کے یواین کے زمانہ کی یادگار ہے اور ان کی آخری اُردو تحریر۔ عصمت والا مضمون بھی بہت اچھا ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تقریباً پچاس برس کے بعد عصمت کی وفات کے موقع پرکئی ایک موقر رسالوں نے اپنے خاص شماروں میں اسے پھر سے شائع کیا۔ راشد کی نظموں کا مقدمہ بخاری صاحب نے راشد کے نام ایک خط کی صورت میں لکھا ہے ۔ اس میں انہوں نے راشد کی شاعری کے بعض پہلوؤں پر بڑی خیال افروز بحث کی ہے ۔ مگر کچھ ایسی سخن گسترانہ باتیں بھی کہہ گئے ہیں جو راشد کو پسند نہیں آسکتی تھیں اور نہ آئیں بہرحال یہ عام مقدموں کی طرح کا مقدمہ نہیں ہے ۔

     آخر میں یہ عرض کروں گاکہ ادب میں بخاری صاحب کا کام جیسا اور جس قدر بھی ہو ہمارے   ہاں کے اہل علم اور اہل دانش کے طبقے میں ان کا نام اور مقام بہت اونچا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ وہ ادیب ہونے کے علاوہ بہت کچھ اور بھی تھے۔ قدرت نے ان کو صرف ادبی صلاحیت ہی سے نہیں اور بھی کئی گراں قدر صلاحیتوں سے نوازا تھا جن کی بنا پر انہوں نے زندگی کے دوسرے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بخاری صاحب نے جو اونچا نام اور مقام پایا اس کا تعلق ادب سے کم اور اس بہت کچھ اور سے زیادہ ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی غیراد بی کارگزاریوں میں بھی اپنی ادبی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے ایک انفرادی شان اور امتیازی رنگ پیدا کر لیتے تھے اور اس بنا پر بھی دوسروں سے سبقت لے جاتے تھے ۔ مثلاً جب وہ اپنی یو این کی تقریروں میں جا بہ جا انگریزی شعر و ادب خصوصاً شیکسپیئر کے جواہر پاروں کو ٹانکتے تھے تو محفل کی محفل جھوم اٹھتی تھی اور خود انگریر مندوبین بھی بے اختیار ان کو داد دینے لگتے تھے ۔ مگر ادب ان کی زندگی نہیں تھا اور نہ بن سکتا تھا اس لیے کہ ادب جس قسم کی یکسوئی اور بے لوث توجہ چاہتا ہے وہ بخاری صاحب سے ممکن ہی نہیں تھا ۔ ادب ان کے لیے گلاب کا ایک حسین پھول تھا جسے وہ بڑے سلیقے سے اپنے کوٹ کے کالر پر سجائے رکھتے تھے ۔

    ( ۱۹٨۵ء نظرثانی ١٩٩٣ء)

    (١)   انگریزی بیان ۳/ جنوری ۱۹۴۸ ء کے ” پاکستان ٹائمز‘‘ میں چھپا جن مشہور و معروف مصنفین  کے دستخطوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا وہ یہ تھے :

     شیخ (سر) عبدالقادر ، پروفیسراے ایس بخاری ، حفیظ جالندھری، ڈاکٹر تاثیر،فیض احمد فیض اور عبدالرحمٰن چغتائی ۔

    افسوس کہ اُر رو بیان کوشش کے باوجو د دستیاب نہیں ہو سکا۔