ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

پروفیسر سراج الدین

    پروفیسر سراج الدین

    پروفیسر اے ایس (پطرس ) بخاری کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے جس  استاد کا بول بالا ہوا وہ پروفیسر سراج الدین تھے، وہ گورنمنٹ کالج ہی کے پرانے طالب علم تھے اور بخاری صاحب کے شاگرد بھی .....مگر وہ ان کے چہیتے شاگردوں میں سے نہیں تھے ۔ اس کی ایک وجہ تو دونوں کے مزاج کا اختلاف تھا اور دوسری وجہ شاید یہ ہو کہ سراج صاحب سراسر انگریزی کے آدمی تھے، بخاری صاحب عموماً اپنے ان طالب علموں کو عزیز جانتے تھے جو یا تو انگریزی کے ساتھ اُردو پڑھنے لکھنے میں بھی دل چسپی رکھتے ہوں یا پھر کالج میں ڈرامیٹک کلب کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوں ، کیوں کہ ڈرامہ اور تھیٹر بخاری صاحب کا دوسرا بڑا شوق تھا ۔

     سراج صاحب نے انگریزی ایم اے میں فرسٹ کلاس کے ساتھ یو نیورسٹی میں اوّل آنے کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا بعد ازاں وہ آکسفورڈ گئے اور وہاں سے انگریزی میں بی لِٹ کی ڈگری لےکے آئے واپسی پر گورنمنٹ کالج ہی میں لیکچرار ہو گئے ۔ ۱۹۲۵ء۔  ۱۹۳۶ ء کے لگ بھگ جب بخاری صاحب آل انڈیا ریڈیو میں ایک اعلیٰ منصب پر تعینات ہو کر دہلی چلے گئے تو سراج صاحب کو لیکچرار ہوئے چار پانچ سال کا عرصہ گزرچکا تھا۔ بخاری صاحب کے جانے کے بعد ان کو شعبۂ انگریزی میں پرو فیسر بنا دیا گیا۔ سراج صاحب   میں نہ تو بخاری صاحب کی ذاتی وجاہت تھی اور نہ شخصیت کی وہ چکا چوندا اور نہ تقریر کی وہ لذت کہ جس نے بخاری صاحب کو جیتے جی ایک داستان بنا دیا تھا مگر ان میں ایک انفرادی کشش ایسی ضرور تھی کہ جس کی وجہ سے انہوں نے انگریزی کے پروفیسر کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج کے اساتذہ میں ایک منفرد مقام حاصل کر لیا تھا ۔ بخاری صاب کے شاگردوں کی طرح سراج صاحب کے شاگرد بھی اپنی باتوں میں اکثر ان کا تذکرہ کرتے تھے جس کی بدولت ان کا شہرہ بھی لاہور کے دوسرے کالجوں کے طلبہ کے حلقوں تک پھیلا ہوا تھا۔

    سراج صاحب سے میرے تعلق کی ابتدا اکتوبر ۱۹۴۴ ء سے ہوئی کہ جب میں انگریزی ایم۔ اے کے طالب علم کی حیثیت سے ان کا شاگرد ہوا ۔ اس وقت صدر شعبہ تو پروفیسر ایرک ڈکنسن تھے ۔ وہ بھی آکسفورڈ کے فارغ التحصیل تھے لیکن انگریز صدرِشعبہ کے ہوتے ہوئے بھی انگریزی کے شعبے میں سراج صاحب ہی کا طوطی بولتا تھا۔ ڈکنسن صاحب نے مدت سے پڑھنے لکھنے کا شغل چھوڑ رکھا تھا ان سے کبھی کسی تازہ کتاب کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ بے دریغ فرماتے :

    ask prof. Sirajuddin ان سے اس سے زیادہ کسی قسم کا استفادہ کرنے کا تو سوال ہی نہیں تھا ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا بظاہر تو سراج صاحب کی شخصیت میں کوئی خاص بات نہیں تھی ۔ البتہ لباس میں انہوں نے ایک خاص وضع اپنا رکھی تھی ۔ سبز رنگ کی کو اڈرائے کی جیکٹ، ورسٹڈ کی گرے پتلون چیک ڈیزائن کی قمیض اور اسی قسم کی ٹائی گرمیوں کی تعطیلات کے بعد جو یہ لباس شروع ہوتا تو اگلے سال کی تعطیلات تک یہی چلتا ۔ بیچ میں سردی زیادہ ہو جاتی تو کو اڈ رائے کی جیکٹ کی بجائے ٹویڈ کی جیکٹ آجاتی ۔ خاص تقریبات میں کبھی کبھار سوٹ بھی پہنتے تھے ۔ چمڑے کا ایک پرانا بیگ ہاتھ میں لیے کالج کی گزر گاہوں پرسہج سہج چلتے نظر آتے ، البتہ شام کو جب اپنی بیگم  کے ساتھ مال روڈ پر سیر کو نکلتے تو ہاتھ میں چھڑی لیے ہوتے ، سراج صاحب نے طالب علمی کے زمانے ہی میں لاہور کی ایک ہونہار مصورہ سے عشق کیا۔ ایم۔ اے پاس کرنے کے بعد ان سے شادی کی اور جب آکسفورڈ گئے تو انہیں بھی ساتھ لے گئے اور وہیں ایک بیٹے کے باپ بھی بن گئے ۔ رضیہ سراج الدین واقعی بڑی ہنر مند، شائستہ اور دھیمے مزاج کی خاتون تھیں ۔ ہمیشہ ساڑھی پہنتی تھیں ۔ بالوں میں پھول لگاتی تھیں اور بناؤ سنگھار میں ایک خاص وضع کی پابند تھیں ۔ وہ عموماً تقریبات کے موقع پر سراج صاحب کے ساتھ دیکھی جاتی تھیں اس کے علاوہ ہر شام کو وہ بھی سراج صاحب کے ساتھ سیر کو نکلتی تھیں جس کے دوران سراج صاحب تو اپنی چھڑی گھماتے اور مستقل بولتے ہوئے سنائی دیتے تھے اور وہ خاموشی سے یا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اس زمانے میں خواتین مصوروں میں تو بس وہی ایک تھیں جن کا نام مشہور تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی تصویروں کی نمائش بھی شاید کی ہو ۔ البتہ گھر کے ہر کمرے میں ان کی تصویریں آویزاں تھیں۔ ایک آرٹسٹ بیوی کے شوہر ہونے کی حیثیت سے بھی سراج صاحب کی مصروف شخصیت کی کشش میں اضافہ ہی ہوا تھا ۔ میاں بیوی کے علاوہ گھر میں ایک بچے کی رونق بھی تھی مختصر یہ کہ سراج صاحب کی گھریلو زندگی بظاہر بہت دل آویز اور پر سکون انداز میں ایک خاص ڈگر پر چلتی نظر آتی تھی ۔ دوپہر کے کھانے کے بعد دو گھنٹے آرام کے لیے وقف تھے، جس کے دوران خلل اندازی کی اجازت نہیں تھی چناں چہ اس مضمون کا ایک نوٹس بھی گھر کے باہر والے برآمدے میں لگا رہتاتھا۔

    کلاس روم میں سراج صاحب کی انفرادیت کا رنگ دوسرا تھا ۔ ایک تو ان کے لیکچر کا انداز اور انگریزی کا لب ولہجہ جو خاص انہی کا تھا۔ وہ ہر ہر لفظ کو بڑے واضح طور پر ادا کرتے ہوئے ذرا ٹھہر ٹھہر کر بولتے اور جملے کے آخری لفظ کی آواز کو معمول سے زیادہ اُبھار دیتے ۔ ان کے ہاتھوں کی جنبش ان کی زبان کا ساتھ دیتی تھی اور آنکھوں میں شرارت کی لہر ان کے کاٹ دار جملوں کا ۔ یہ سب چیزیں مل جل کر ان کے لیکچروں میں ایک کشش پیدا کر دیتی تھیں اور ان میں وہ سپاٹ اور خواب آور لمحے کبھی نہیں آتے تھے جو بعض دوسرے اساتذہ کے لیکچروں کا خاصہ تھے ۔ پھر ان کے لفظوں کا انتخاب کہ جس میں قطعیت کے ساتھ ساتھ ایک ساختہ بے ساختہ پن بھی تھا۔ سراج صاحب بہت اچھے استاد تھے، اس لیے کہ وہ موضوع کی حدود میں بھی رہتے تھے اور ان کو پھلانگ بھی جاتے تھے ۔ وہ اشارات ( notes ) بھی لکھواتے تھے اور ان سے ہٹ کر موضوع کے اردگرد گھومتے ہوئے بہت کچھ اور بھی کہہ جاتے تھے اور دراصل اسی میں ان کی تدریس کے جو ہر کھلتے تھے ۔ میں جب اپنے ملک اور انگلستان اور امریکہ کی ان تمام درس گاہوں کے اساتذہ کو یاد کرتا ہوں کہ جن سے میں نے استفادہ کیا ہے تو مجھے سراج صاحب کا کوئی بدل نظر نہیں آتا ۔ یہ واقعہ ہے کہ انگریزی ادب میں سراج صاحب کے لیکچروں نے میرے لیے فکر و خیال کے نئے دریچے کھول دیے تھے ۔

     سراج صاحب کے جن لیکچروں کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ دراصل سترہویں صدی کے منفرد انگریزی نثر نگار سرٹامس براؤن کی کتاب Religio Medici کے بارے میں تھے جو ہمارے کو رس میں شامل تھی ٹامس براؤن پیشے اور تربیت کے لحاظ سے تو طبیب تھا مگر مزاج کے اعتبار سے فلسفی اور صوفی اس کا زمانہ سائنسی اور مذہب کی نظریاتی جنگ کی ابتدا کا زمانہ تھا اس لیے کہ سائنس کی نئی دریافتوں نے روایتی مذہبی عقائد کو متزلزل کر دیا تھا۔ اس سلسلے میں ٹامس براؤن پر جو ذہنی ابتلا کا وقت گزرا تھا مذکورہ کتاب اس کی داستان ہے۔ سراج صاحب اس پر بحث کرتے ہوئے سائنس کے طریق کار یعنی مشاہدہ اور تجربہ اور اس سے بڑھ کر عقلی اور منطقی استدلال کے ناکافی ہونے پر زور دیتے تھے۔ اس ضمن میں وہ اُنیسویں صدی کی سائنس کے عقلِ کل ہونے کے دعوے اور اس کے قطعیت پسند رویے پر تنقید کرتے ہوئے یہ بتاتے تھے کہ بیسویں صدی میں سائنس نے خود اپنا یہ رویہ ترک کر دیا ہے اور اب وہ حیات و کائنات کے بارے میں پہلے سے یقین و ثبات کے ساتھ اپنے نظریات کا اظہار نہیں کرتی ۔

     ٹامس براؤن کو تو انگریزی نشر کے کورس میں اپنے اسلوب ِنگارش کی وجہ سے شامل کیا گیا تھا مگر سراج صاحب کے درس میں صرف انگریزی نثرہی نہیں جدید انگریزی تنقید بھی شامل تھی۔ اس زمانے میں کیمبرج کے مشہور نقاد ڈاکٹر آئی اے رچرڈز اور ان کی دو کتابوں the principles of literary criticism ( ادبی تنقید کے اصول ) اور practical criticism ( عملی تنقید ) کا بڑا چر چا تھا ۔ لہٰذا جب سراج صاحب نے رچرڈز پر اپنے لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا تو اسی نقطۂ نظر کا اعادہ ہو نے لگا جس کی وضاحت کا آغاز سراج صاحب نے ٹامس براؤن پر اپنے لیکچروں میں کیا تھا۔ بات یہ تھی کہ رچرڈزنے ادبی تنقید کے میدان میں بھی سائنسی طریقہ کار کے مطابق اصول و ضوابط وضع کرنے کی کوشش کی تھی سراج صاحب اس کوشش کو سراسر بے کار تو قرار نہیں دیتے تھے ، مگر اس کےنتائج کے بارے میں کچھ زیادہ اطمینان کا اظہار بھی نہیں کرتے تھے ۔ انہیں رچرڈز کی cock sureness یعنی اپنی رائے پر کامل یقین کا رویہ پسند نہیں تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس قسم کا رویہ ادبی معاملات میں روا نہیں ۔ مجھے سراج صاحب کی اس تنقید نے اس حد تک متاثر کیا کہ میں کبھی رچرڈز کا بہت زیادہ قائل نہ ہو سکا۔ مختصر یہ کہ اپنی تعلیمی زندگی کے زمانے کی یادوں کے سلسلے میں سراج صاحب کے لیکچر اگر پچاس برس گزرنے کے بعد آج بھی مجھے یاد آتے ہیں تو میرا یہ کہنا کچھ غلط نہیں کہ انہوں نے میرے لیے فکر و خیال کے نئے دریچے کھول دیے تھے ۔

     میں کلاس روم میں سراج صاحب کے لیکچر بڑے شوق و انہماک سے سنتا تھا۔ کلاس سے باہر بھی ان سے بات کرنے کے موقعے نکلتے رہتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ میں ان کے گھر پر بھی آنے جانے لگا ۔ ان سب باتوں سے ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک شاگرد کی حیثیت سے میں ان کا بڑا گرویدہ ہوں ۔ چناں چہ وہ بھی بطور استاد مجھ سے شفقت برتنے لگے ۔ پڑھنے لکھنے میں میرے شوق و انہماک کو دیکھتے ہوئے خواہ مخواہ انہیں یہ خیال ہونے لگا کہ میں ایم اے فائنل کے امتحان میں شاید فرسٹ کلاس لے جاؤں۔ جدید انگریزی تنقید پر میرا مضمون دیکھنے کے بعد جو میں نے انہی کی سیمینار کلاس کے لیے لکھا تھا ۔ انہوں نے محتاط لفظوں میں اس خیال کا اظہار بھی کر دیا ۔ یہ زمانہ وہ تھا کہ ہر میدان میں ہند و مسلمان کی دوڑ لگی ہوئی تھی ۔ ایم۔ اسے انگریزی میں کسی مسلمان کو فرسٹ کلاس لیے زمانہ ہو چکا تھا ۔ سراج صاحب کو اس کی بڑی فکر تھی انہوں نے اسے قومی انا کا مسئلہ بنا رکھا تھا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ (ڈاکٹر) عبد السّلام کو ایم۔ اے انگریزی میں داخلہ لینے کی بہت ترغیب دلائی تھی کہ وہ تو یقیناً یہ امتیاز حاصل کر لیں گے مگر وہ نہ مانے، انہوں نے ایم۔ اے ریاضی میں داخلہ لیا۔ ان کی قسمت میں تو نوبل پرائز لکھا تھا۔ انگریزی میں وہ فرسٹ کلاس فرسٹ کا تمغہ تو لے جاتے مگر اس کے بعد کیا ملتا ؟ بہر حال سراج صاحب نے مجھ سے یہ امید نا حق لگائی میں اس قبیل کا مرد میدان تھا ہی نہیں، اس سال یعنی ۱۹۴۶ ء میں وائس چانسلر کے خلاف طلبہ کی ہڑتال کی وجہ سے ایم۔ اے کے دو امتحان ہوئے ۔ ایک وائس چانسلر کے فیصلے کے مطابق مارچ میں اور دوسرا طلبہ کے مطالبے پر جون میں ۔ گورنمنٹ کالج بلکہ بیشتر طلبہ نے جون میں امتحان دیا اور اس میں کسی کی بھی فرسٹ کلاس نہیں آئی۔ بہرحال میری پوزیشن کالج اور یونیورسٹی بھر میں خاصی اونچی رہی، اس کا صلہ مجھے گورنمنٹ کالج میں بطور لیکچرار میرے تقرر کے وقت بنیادی تنخواہ میں پانچ پیشگی ترقیوں کے اضافے کی صورت میں ملا ۔

    ہمارے ایم ۔ اے کے زمانے ہی میں سراج صاحب کی ذاتی زندگی میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی بقول ان کے خود ان کو توقع نہیں تھی ۔ پرنسپل جی۔ ڈی سوندھی کی بڑی بیٹی اُر ملاایم ۔ اسے انگریزی کی طالب علم تھیں اور سراج صاحب کی شاگرد – ہم لوگ ایم۔ اے کے پہلے سال میں تھے اور وہ دوسرے سال میں جب ہم دوسرے سال میں پہنچے تو پرنسپل سوندھی ریٹائر ہو گئے اور پروفیسر ڈکنسن پرنسپل بنادیے گئے۔ اس دوران میں کالج کے بعض حلقوں میں سراج صاحب اور اُر ملا سوندھی کے تعلقات کے بارے میں کچھ چہ مہ گوئیاں ہونے لگیں جنہیں کم سے کم میں نے سنی ان سنی کر دیا ۔ انہی دنوں ایک دن سراج صاحب کلاس میں پڑھا رہے تھے کہ ان کے گھر کا ملازم آیا اور ان کے لیے ایک رقعہ لایا، سراج صاحب نے رقعہ پڑھتے ہی بیگ سنبھالا اور کلاس سے معذرت کر کے رخصت ہو گئے ۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ سراج صاحب نے لیکچر کے دوران اس طرح کلاس چھوڑی ہو ۔ دوسرے دن کلاس میں آئے تو ان کے چہرے پر  ایک ہلکا ساز خم تھا جس پر کسی دوا کا نشان بھی تھا۔ہم لوگوں نے اسے دیکھا اور یہ سمجھا کہ شاید کوئی چوٹ لگی ہوگی ۔ راز اس کا دو چار دن بعد کھلا ، وہ یوں کہ میرے ایک ہندو ہم جماعت اور دوست مہاراج کرشن را جن اور میں یونیورسٹی لائبریری سے کالج کی طرف آرہے تھے کہ راستے میں اتفاقاً سراج صاحب اپنی کو ٹھی کے گیٹ پر مل گئے ۔ ان سے علیک سلیک اور کچھ معمولی بات چیت ہوئی اور وہ باتیں کرتے ہوئے ہم دونوں کو اپنے ساتھ کو ٹھی کے اندر، بلکہ اپنے کمرے میں لے گئے۔ وہاں ہمیں بیٹھنے کو کہا اور خود بھی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد اُنہوں نے بڑی سنجیدگی سے یہ کہنا شروع کیا کہ شاید تم لوگوں نے اُر ملا سوندھی اور میرے بارے میں کچھ باتیں سنی ہوں گی ۔ تم میرے شاگر د ہو میں تم لوگوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ یہ کوئی mid-summer madness موسم بہار کا دیوانہ پن نہیں ہے ۔ ہم دونوں میں کچھ عرصہ سے قرب و محبت کا ایک بڑا سچا جذبہ پرورش پاتا رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ شروع تو شاگرد اور استاد کے قدرتی لگاؤ سے ہوا تھا اور جب میں نے اس کی شدت اور گہرائی محسوس کی تو میں نے اپنی بیوی رضیہ کو اعتمادمیں لیا کیوں کہ میں اس سے درپردہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے اسے تکلیف پہنچے ۔ وہ میری زندگی کی ساتھی رہی ہے اور میرے بچے کی ماں ہے ۔ وہ شائستہ ، مہذب اور سمجھ دار خاتون ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ میں کوئی آوارہ مزاج آدمی نہیں ہوں مجھے اس کا احترام ہے اور اسے میرا ۔ بہر حال اس نے مجھے خود ہی شادی کی اجازت دے دی ہے مگر ابھی شادی نہیں ہوئی ۔ مسٹر سوندھی کو جب ان کی بیٹی نے اس معاملے سے آگاہ کیا تو انہوں نے بہت تا ؤ دکھایا اور اسے گھر سے نکال دیا۔ وہ غریب کہاں جاتی لہٰذا وہ میری بیوی کی مہمان کی حیثیت سے ہمارے ہاں آگئی، اس پر مسٹر سوندھی اور بھی خفا ہوئے ۔ چناں چہ وہ رقعہ جو مجھے کچھ دن ہوئے کلاس میں پہنچایا گیا تھا اور میں کلاس چھوڑ کے آگیا تھا وہ میری بیوی کی طرف سے تھا ۔ مسٹر سوندھی نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا تھا ۔ میں یہاں پہنچا تو انہوں نے غصے میں مجھ پہ ہاتھ بھی اُٹھایا۔ وہ میرے چہرے پر جو زخم تھا وہ انہی کی عنایت تھی۔ میں نے یہ سب کچھ برداشت کیا اس لیے کہ میں ان کی پوزیشن سمجھتا ہوں ۔ میں تم لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک آبرومندانہ معاملہ ہے انسان کی زندگی میں جذبات کا بھی ایک مقام ہے۔ بہت سی ان ہونی چیزیں ہو جاتی ہیں جو کچھ ہوا مجھے خود اس کی توقع نہیں تھی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔

    سراج صاحب نے یہ سب باتیں اپنے خاص انداز میں بڑے جذبے اور خلوص کے ساتھ کوئی آدھ یوں گھنٹے میں کہیں، میں نے تو محض ان کا ملخص پیش کر دیا ہے ۔ بہر حال ہم دونوں یہ سوچتے ہوئے رخصت ہوئے کہ جس بات کو ہم نے مختصر افواہ سمجھا تھا وہ درست نکلی اور دوسرے یہ کہ سراج صاحب نے اپنا دل ہلکا کرنے کے لیے ہم دونوں کو کیوں منتخب کیا ؟

    اپنے بارے میں تو مجھے معلوم تھا کہ سراج صاحب مجھے اپنا طرف دار سمجھتے تھے راجن پر اعتماد کرنے کی وجہ میری سمجھ میں یہ آئی کہ وہ امرتسر کے ایک کالج سے بی ۔ اے کر کے آئے تھے جہاں وہ سراج صاحب کے ایک آکسفورڈ کے ساتھی پر وفیسر کے شاگر در ہے تھے اور انہی کے کہنے پہ انگریزی ایم ۔ اے کر نے کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور آئے تھے ۔ ویسے بھی وہ اکثر سراج صاحب سے ملتے رہتے تھے ۔ راجن کے متعلق یہاں یہ بتاتا چلوں کہ راجن ان کا تخلص تھا وہ ہندی میں شعر کہتے تھے۔ تقسیم کے بعد ہندوستان کی فارن سروس میں اپنے پورے نام مہا راج کرشن رسگوترا کے نام سے آئے اور فارن سیکرٹری کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے ۔ میری ان سے بہت دوستی تھی اب بھی جب کبھی اور جہاں کہیں ممکن ہو ہم ایک دوسرے سے ملتے ہیں ۔ را جن پر سراج صاحب کے اعتماد کے سلسلے میں میرا دھیان تو یہیں تک گیا مگر دوسرے تیسرے دن جب میں سراج صاحب سے اکیلے میں ملا تو میں نے ان سے اس بارے میں پوچھ ہی لیا۔ کہنے لگے کہ یہ اتفاق کی بات تھی کہ تم دونوں مجھے اکھٹے مل گئے اور میں نے سوچا کہ یہ موقع اچھا ہے۔ میں نے اس لیے اس کے سامنے بات کی کہ وہ بھی میرا شاگرد ہے۔ میرا احترام کرتا ہے۔ وہ ہندو طلبہ تک اصل حقیقت پہنچائے گا جن میں میرے خلاف سخت پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

    سراج صاحب کا یہ کہنا درست تھا، اس زمانے میں ہند و مسلم کش مکش ز وروں پر تھی ۔ اُر ملا اگر چہ عیسائی ماں کی بیٹی تھی مگر مسٹر سوندھی بھی تو ہندو تھے ۔ اس فضا میں سراج صاحب کا رومانس واقعی ایک طوفان کھڑا کر سکتا تھا مگر معاملہ کچھ دبا رہا ۔ سراج صاحب مستقل اپنی بیگم رضیہ سراج الدین کے ساتھ مال روڈ پر سیر کو نکلتے ہاں اب وہ کوٹ کے نیچے پتلون کی بیلٹ کے ساتھ ایک پستول لگائے رہتے تھے ۔ ان کے رومانٹک ہیرو ہونے کے کردار کا ایک پہلو یہ بھی تھا !

     ایم ۔ اے کا نتیجہ نکلنے کے بعد سراج صاحب نے محکمہ تعلیم سے بات کر کے مجھے لائل پور (اب فیصل آباد ) کے گورنمنٹ کالج میں بطور لیکچرار بھجوانے کا انتظام کر دیا مگر میں اپنے والد کی علالت کی وجہ سے وہاں نہ جاسکا اور میں نے اسلامیہ کالج لاہور کی پیش کش قبول کرلی۔  میں وہاں لیکچرار تھا اور سراج صاحب سے برابر ملتا رہتا تھا۔ جنوری فروری ۱۹۴۷ ء میں لاہور میں بھی ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے حالات خراب ہونے لگے ۔ گرمیوں کی تعطیلات کشمیر میں گزار کر جب ستمبر میں لاہور واپس آیا تو ملک تقسیم ہو گیا تھا اور ہر طرف قتل وغارت کا بازار گرم تھا ۔ سراج صاحب سے ملا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا قومی جذبہ عروج پر ہے ۔ اُسی زمانے میں ایک دن یونیورسٹی کے احاطے میں سینٹ ہال کے سامنے پر وفیسر ایم۔ جی سنگھ پر جو یو نیورسٹی رجسٹرار تھے قاتلانہ حملہ ہوا وہ مونے سکھ تھے یعنی نہ داڑھی مونچھ تھی اور نہ سر کے بال۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کی تقسیم کے سلسلے میں ابھی تک لاہور میں رکے ہوئے تھے ۔ کسی زمانے میں بخاری صاحب کے ساتھ گورنمنٹ کالج میں انگریزی کے پروفیسر رہے تھے ۔ میں نے ان پہ قاتلانہ حملے کا منظر دیکھا تو سراسیمہ ہو کر رہ گیا۔ میرا تو ان سے اتنا ہی رابطہ تھا کہ میری ایک ہم جماعت سیتا میری ان کے عزیزوں میں سے تھی اور انہی کے ہاں رہتی تھی۔ اس سے ملنے جانا تو ان سے بھی ہیلو ہیلو ہو جاتی تھی مگر سراج صاحب کے تو وہ استاد رہے تھے ۔ چناں چہ جب ان کو شدید زخمی حالت میں ایمبولینس میں ڈال کر اسپتال لے جایا جا رہا تھا تو میں ہانپتا کانپتا سراج صاحب کے ہاں پہنچا اور ان کو اس واردات کا حال سُنایا۔ میں تو سراج صاحب کے رد عمل کے بارے میں کچھ اور ہی سوچ رہا تھا مگر انہوں نے بڑے تجسس سے صرف یہ پوچھا کہ مرگیا کہ ابھی زندہ تھا؟ اس میں بلی کی جان ہے !   میں یہ سُن کر سناٹے میں آگیا ۔ سراج صاحب کے اس رد عمل کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ اس وقت لاہور کی فضا مشرقی پنجاب کے لٹے لٹائے اور آتش و خون کے سیلاب سے گزرے ہوئے مسلمان مہاجرین کی آمد سے سخت غم و غصہ سے بھری ہوئی تھی۔ سراج صاحب خود مشرقی پنجاب یعنی امرتسر کے رہنے والے تھے ۔ اس فضا میں ان کے اندر نفرت کا جذبہ انسانی ہمدردی کے جذبے پر غالب آچکاتھا۔

    کوئی دو ہفتے بعد سراج صاحب نے گورنمنٹ کالج میں بطور لیکچرار میرے تقرر کی تحریک کی۔ اس سلسلے میں مجھے بلایا اور کہا کہ تمہیں پرنسپل بخاری کے سامنے انٹرویو کے لیے پیش ہونا ہو گا ۔ وہ لباس اور ظاہری وضع قطع کا بھی خاص نوٹس لیتے ہیں ۔ لہٰذا تم اپنا بہترین سوٹ پہن کے جانا۔ پھر کچھ اور ہدایات بھی دیں ۔ سراج صاحب کو میں نے بتایا کہ میں بخاری صاحب سے مل چکا ہوں اور وہ مجھے تھوڑا بہت جانتے ہیں مگر وہ جاننا ان کے خیال میں ایک اور طرح کا جاننا تھا اور کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ البتہ یہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ بخاری صاحب اپنے دوستوں سے مشورے کے بعد مجھے گورنمنٹ کالج میں لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں جیسا کہ میں نے فیض پر اپنے مضمون میں لکھا ہے، میرے تقرر کے بارے میں تحریک چوں کہ سراج صاحب کی تھی لہٰذا انہیں بخاری صاحب کو ہر لحاظ سے مطمئن کرنے کی فکر تھی ۔ مختصر یہ کہ میں اوائل اکتوبر ۱۹۴۷ ء میں گورنمنٹ کالج کے سٹاف میں شامل ہو گیا۔ بطور لیکچرار سراج صاحب کو میری کار کردگی کے بارے میں روزانہ بلا واسطہ رپورٹ ملتی تھی کیوں کہ ان کا بیٹا امداد حسین ایف اے کی کلاس میں میرے سیکشن میں تھا ۔

    اب جب کہ میں اسٹاف کا ممبر تھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ اسٹاف روم کے سراج صاحب، کلام س روم کے سراج صاحب سے بہت مختلف ہیں ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا اس زمانے میں لاہور کی فضا ہندوستان اور ہندوستانیوں کے خلاف غم و غصہ کے جذبات سے بھری ہوئی تھی۔ سراج صاحب اس غم و غصہ کے اظہار میں پیش پیش تھے ۔ چناں چہ ان کا وہ رویہ جو میں نے ایم۔ پی سنگھ کے قتل کے فورا بعد دیکھا تھا، اسٹاف روم میں تقریباً  ہر روز دیکھنے میں آتا تھا۔ ایک دن آئے اور کہنے لگے کہ قوموں کی زندگی میں شدید نفرت بھی ایک مثبت جذبہ بن سکتی ہے ۔ اس سے بھی بڑے بڑے تعمیری کام لیے جاسکتے ہیں۔ سراج صاحب دیر تک تاریخ سے مثالیں دے دے کر اس موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ کچھ دنوں کے بعد کشمیر میں جنگ چھڑ گئی ۔ سراج صاحب اسٹاف روم میں داخل ہوئے تو کسی نے یہ کہہ دیا کہ it is a dark day for us سراج صاحب خفا ہو گئے اور بہت جذبہ سے کہنے لگے :

    why a dark day? it is a great day for us. Pakitani’s history begins from today. اور اس کے بعد انہوں نے اس موضوع پر تقریر شروع کر دی ۔ یہ سراج صاحب کا وہ نیا رنگ تھا جو میں اب دیکھ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ تقسیم سے پہلے کا زمانہ اور تھا اور پھر کلاس روم میں تو ہندو مسلم سیاست پر گفتگو کا کوئی موقعہ نہیں تھا ۔ ہاں ایک دفعہ ایک ہندولڑکے نے جناح صاحب پر beverley nickols کی کتاب پر اعتراض کیا تو سراج صاحب نے اس کا دفاع ضرور کیا تھا مگر بڑے ننپےتلے انداز میں مختصر یہ کہ سراج صاحب کے ہاں قومی جذبے کا ایسا پر جوش اظہار اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

    کچھ عرصہ کے بعد سراج صاحب کے بیٹے امداد نے ایف اے پاس کیا اور وہ آکسفورڈ چلا گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی والدہ مسٹر رضیہ سراج الدین بھی ۔ اس دوران میں ارملا سوندھی سے سراج صاحب کی شادی کا معاملہ بھی طے ہو گیا تھا۔ اُن کا اسلامی نام امراؤ بیگم رکھا گیا تھا ۔ اب شام کے وقت سراج صاحب سیر کو نکلتے تھے تو وہ ان کے ساتھ ہوتی تھیں۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ مسٹر رضیہ سراج الدین ایک دفعہ جو انگلستان گئیں تو پھر لوٹ کر نہیں آئیں۔ آکسفورڈ میں مستقل ایک ہوٹل میں رہتی تھیں۔ سراج صاحب وہاں بھی ان کی کفالت کرتے رہے اور جب تک ممکن ہوا انگلستان جا کر ان سے ملتے بھی رہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ یہ سب کچھ اپنے احساس فرض کی بنا پر کرتے تھے مگر میرا خیال ہے کہ اس میں کچھ احساس جرم بھی شامل تھا ۔ اس کا اندازہ ان کے ملنے والوں کو ان کی بعض اقوال وافعال سے ہوتا تھا اور ایک واقعہ سے جس کا تذکرہ انہوں نے خود مجھ سے کیا۔ سراج صاحب کا بیٹا امداد ان کے کہنے کے مطابق میڈیم تھا ۔ چناں چہ وہ اس کے ذریعے روحوں کو بلا کر ان سے اپنی زندگی اور دیگر حالات کے بارے میں سوال جواب کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے جب بھی اپنے والد کی روح سے بات کی اس نے یہی کہا کہ رضیہ تمہاری بہترین دوست ہے! میرا خیال ہے کہ وہ سمجھتے تو یہی تھے کہ مگر ایک خاص دور زندگی میں اپنے گرینڈ پیشن ( grand passion ) کے ہاتھوں مجبور ہو گئے تھے ۔ مسز رضیہ سراج الدین واقعی بڑی نیک دل خاتون تھیں۔ میں ایک دفعہ ۱۹۵۵ ء کے دوران اُن سے لندن میں ملا وہ مستقل سراج صاحب کے گن گاتی رہیں اور یہ کہتی رہیں کہ وہ بڑے کھلے دل کے آدمی ہیں اور میرا بہت خیال کرتےہیں۔

    سراج صاحب کی ذاتی زندگی میں جو انقلاب آیا تھا ممکن ہے یہ اس کا نتیجہ ہو مگر اب سراج صاحب وہ پہلے والے سراج صاحب نہیں تھے ۔ ایک اور وجہ شاید کالج کی وہ نئی فضا ہو جس سے وہ کچھ ایسے زیادہ مطمئن  نہیں تھے وہ انگریزی کے صدرِ شعبہ تو تھے مگر بخاری صاحب بھی انگریزی ہی کے آدمی تھے اور پرنسپل تھے۔ ان کی موجودگی میں سراج صاحب گویا برگد  کے سائے تلے آگئے تھے اور کچھ مرجھائے ہوئے سے نظر آتے تھے ۔ پرنسپل سوندھی اور پرنسپل ڈکنسن کے زمانے میں تو وہ بہت آسوده رہے تھے مگر بخاری صاحب کے زمانے میں سراج صاحب کی خود اعتمادی کی شان کچھ ماند پڑ گئی تھی۔ چند مہینوں کے بعد خواجہ منظور حسین کا تقرر بطور پروفیسر ہوگیا، وہ علی گڑھ یونیورسٹی سے صدر شعبہ انگریزی کا منصب چھوڑ کے آئے تھے ۔ وہ بھی آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے اور جیسا کہ میں نے ان پر اپنے مضمون میں لکھا ہے ان کو بخاری صاحب کا قرب حاصل تھا، شعبے میں ان کا نمبر ۲ کی حیثیت سے آنا بھی سراج صاحب کو کچھ پسند نہ آیا ۔ مجھے یاد ہے کہ سراج صاحب نے خود مجھ سے کسی قدر تلخی سے کہا کہ بخاری خواجہ منظور کو میرا مقابل بنا کر لائے ہیں ۔ ہندوؤں کے زمانے میں اندر موہن  ور ماکو لایا گیا تھا ۔ وہ غریب میرا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ آخر بخاری کو اپنا زمانہ بھی یاد ہے ۔ ان کو ایم ۔جی سنگھ کا مقابلہ کرنا پڑا تھا مگر خواجہ منظور بھی کیا کرلیں گے ۔ گویا سراج صاحب جو بخاری صاحب کی موجودگی ہی سے کچھ ایسے خوش نہیں تھے۔ اب خواجہ صاحب کی آمد سے اور بھی کبیدہ خاطر ہوئے۔ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ بخاری صاحب نے خواجہ صاحب کو ڈرامیٹک سوسائٹی کا انچارج بنا دیا جو کالج کی سب سے موقر سوسائٹی سمجھی جاتی تھی۔

    اسی دوران میں بخاری صاحب نے صوفی غلام مصطفےٰ تبسم صاحب کو گواڈ رینگل ہوسٹل سے تبدیل کر کے نیو ہوسٹل کا سپرنٹنڈنٹ بنا دیا جس کے وارڈن سراج صاحب تھے اور مجھے گواڈ رینگل ہوسٹل کا سپرنٹنڈنٹ جس کے وارڈن پر و فیسر قاضی اسلم صدر شعبہ فلسفہ و نفسیات تھے ۔ صوفی صاحب گواڈ رینگل کے سپرنٹنڈنٹ تھے تو میرا بہت سا فارغ وقت ان کے ساتھ گزرتا تھا لہٰذا مجھے ہوسٹل کے جھمیلوں کا اندازہ تھا ۔ چناں چہ جب بخاری صاحب نے اپنے دفترمیں بلا کر اچانک صوفی صاحب کی جگہ میرے تقرر کا فیصلہ سنایا تو میں سٹپٹا گیا ۔ میں نے کچھ عذر کیا تو بخاری صاحب نے یہ کہہ کر مجھے ڈانٹ دیا کہ تعلیمی زندگی محض ادب پڑھانے کا نام نہیں، تمہیں کچھ انتظامی معاملات کا بھی تجربہ حاصل کرنا چاہیے ۔ میں کچھ مایوس ہو کہ سراج صاحب کے گھر پہنچا کہ ان سے اپنے شعبے کے صدر کی حیثیت سے مدد چاہوں شاید وہ مجھے اس اضافی ذمہ داری سونپے جانے سے بچا سکیں۔ میں نے جب سراج صاحب سے بات کی تو کہنے لگے کہ مجھ سے تو بخاری صاحب نے اس بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا لہٰذا میں دخل نہیں دوں گا۔ یہ معاملہ ان کے اور تمہارے مابین ہے اور پھر کسی قدر طنزیہ لہجے میں یہ کہا کہ اس سے صاف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تمہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ یہ تقررپر نسپل کا تحفہ ہوتا ہے ۔ اس میں بہت سے فائدے ہیں جس سے وہ تمہیں نواز نا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مجھے سراج صاحب کی ان باتوں سے ایک قسم کی مغائرت کی بُو آئی جس سے مجھے کوفت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ شاید سراج صاحب کو بخاری صاحب سے میرا قرب پسند نہیں حالاں کہ اس کی وجہ سراسر اُردو شعر و ادب سے میری دل چسپی اور بخاری صاحب کے دوستوں تاثیر صاحب ، صوفی صاحب اور فیض صاحب سے میری شناسائی تھی جس کا سراج صاحب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بہر حال میں گواڈ رینگل کا سپر نٹنڈنٹ ہو گیا ۔

    مگر یہ واقعہ ہے کہ اس وقت سراج صاحب نے جو کچھ بھی سوچا ہو اس کے بعد شعبے کے ایک رکن کی حیثیت سے مجھ سے ان کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ کچھ عرصہ کے بعد جب پاکستان کی فارن سروس کی تشکیل کی کارروائی شروع ہوئی تو مقابلے کے امتحان کے علاوہ وزارتِ خارجہ میں افسروں کی کمی پوری کرنے کے لیے مختلف سرکاری محکموں کے افسروں سے درخواستیں طلب کی گئیں۔ محکمۂ تعلیم کی طرف سے سراج صاحب بھی اُمیدواروں کی صف میں کھڑے ہو گئے ۔ انہوں نے آکسفورڈ سے واپس آ کر گورنمنٹ کالج کے سٹاف میں شامل ہونے کے بعد سے اس وقت تک کبھی کسی اور ملازمت کی خواہش نہیں کی تھی ۔ انہیں مکمل طور پر درس و تدریس ہی سے دل چسپی رہی تھی مگر اب ان کو ایک نئی سمت میں نکل جانے کا شوق ہوا ۔ اس سے بھی اپنے موجود ہ حالات سے ان کی ناآسودگی کے احساس کا اظہار ہوتا ہے ۔ اب وہ اس کالج سے رخصت ہونے کے لیے تیار تھے کہ جس میں انہوں نے بطور طالب علم اور بطور استاد پچیس برس گزارےتھے ۔ اس زمانے میں سراج صاحب نے مجھ سے بھی مقابلے کا امتحان دینے کا پُر زور مشورہ دیا اور اپنی مثال دیتے ہوئے یہ کہا کہ دیکھو حافظ عبدالمجید کالج میں میرا ساتھی تھا اور مجھ سے بہتر طالب علم نہیں تھا۔ اس نے آئی سی ایس کا امتحان دیا کامیاب ہوا اور آج پنجاب کا چیف سیکرٹری ہے اور ساڑھے تین ہزار تنخواہ پاتا ہے ۔ میں نے آکسفورڈ سے ڈگری لی۔ پروفیسر ہوا اور آج میری تنخواہ ساڑھے سات سو روپے ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ بعض انتظامی امور کی بنا پر سراج صاحب کی فارن سروس پر لیے جانے کی خواہش پوری نہ ہوئی اور وہ آخرتک محکمہ تعلیم ہی سے متعلق رہے۔ پروفیسری کے بعد گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ہوئے پھر محکمہ تعلیم کے سربراہ ریٹائر منٹ کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور آخر اسی یو نیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر۔

    یہاں میں اپنی ذاتی زندگی کے ایک ایسے واقعہ کا ذکر جو کسی دوسرے مضمون میں بھی آیا ہے اس معذرت کے ساتھ دہرانا چاہتا ہوں کہ اس کا تعلق سراج صاحب سے بھی ہے۔ میں نے مقابلے کا امتحان دیا اور اپنی پہلی ترجیح کے مطابق فارن سروس کے لیے چن لیا گیا مگر اپنے خاندانی حالات میں تبدیلی کی وجہ سے اس پیش کش کو قبول کرنا میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا۔ لہٰذا میں نے سروس تبدیل کرنے کی درخواست دی اور آخر حکومت کی طرف سے اکاؤنٹس سروس کی پیش کش مجھے بادل نخواستہ قبول کرنی پڑی اور میں جنوری ۱۹۵۰ء  میں لا ہور ہی میں ملٹری اکاؤنٹس کے ایک دفترمیں  ٹریننگ کے لیے تعینات ہو گیا۔ مجھے یہ تبدیلی سخت ناگوار گزری۔ فارن سروس چھوڑنے کے قلق کے ساتھ یہ صدمہ بھی میرے لیے کچھ کرنہ تھاکہ میں پروفیسر اے ۔ ایس بخاری اور پروفیسر سراج الدین کی ماتحتی سے نکل کر حاجی شجاعت علی صدیقی (اس زمانے کے ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل) کی ماتحتی میں آگیا تھا۔میری ذہنی حالت کا ترجمان حافظ کا یہ شعر تھا:

    صلاح کار کُجا د امنِ خراب کُجا

    ببین تفاوتِ ره از کجا است تا بہ کجا

    بہرحال میں نے لشتم پشتم چار سال گزارے تھے کہ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ چناں چہ میں نے کوئٹہ   سے کہ جہاں میں اس وقت تعینات تھا ۔ سراج صاحب کو جو اب پنجاب میں محکمہ تعلیم کے سربراہ تھے باقاعدہ درخواست بھیج دی کہ مجھے گورنمنٹ کالج میں واپس لے لیا جائے۔ سراج صاحب نے مجھے تو کوئی جواب نہ دیا مگر میرے دوست امجد حسین کو بلا کر کہا کہ آفتاب کو لکھ دو کہ میں اس کے خط پر کوئی کارروائی نہیں کر رہا ۔ وہ بے وقوف نہ بنے اور اپنی سروس ہی میں رہے۔ کالج میں کیا رکھا ہے ۔ سراج صاحب کے جواب سے مایوس ہو کر میں نے اپنی بیزاری کا ایک اور علاج سوچا۔ میں ایک سال کی چھٹی لے کر اپنے طور پر تمدن اسکول آف اکنامکس میں ایک کورس کرنے چلا گیا اور لندن پہنچنے کے بعد سراج صاحب کی اطلاع کے لیے انہیں برٹش میوزیم کا ایک پکچر پوسٹ کارڈ بھیج دیا ۔

    میں نے ابھی سراج صاحب کے فارن سروس میں جانے کی خواہش کا ذکر کیا تھا اس خواہش کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد ان جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ان جیسی قابلیت کے گنے چنے لوگوں کے لیے اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے بہت سے مواقع پیدا ہو گئے تھے ۔ بخاری صاحب گورنمنٹ کالج ہی سے نکل کریو این میں پاکستان کے سفیر ہو گئے تھے۔ لہٰذا سراج صاحب بجا طور پر اپنے آپ کو فارن سروس میں ملازمت کا اہل سمجھتے تھے چناں چہ ان کو اپنی یہ خواہش پوری نہ ہونے سے مایوسی ہوئی ۔ اس کی ایک اور وجہ میرے خیال میں یہ بھی تھی کہ اب سراج صاحب کا ہاتھ تنگ ہو گیا تھا اور انہیں روپے پیسے کی فکر ہونے لگی تھی۔ ان کی اپنی کمائی تو ہمیشہ محدود ہی رہی تھی مگر جو کچھ انہوں نے اپنے والد سے کہ جن کی وہ تنہا اولاد تھے ، ورثے میں پایا تھا اور جس کے سہارے انہوں نے بڑی خوش حالی کی زندگی بسر کی تھی وہ اب دھیرے دھیرے ختم ہو رہا تھا ۔ عام پر وفیسروں کے مقابلے میں وہ خاصے ٹھاٹھ باٹھ سے رہا کرتے تھے ۔ کالج کی تعطیلات وہ اکثر اپنے بیوی اور بچے کے ساتھ یورپ میں بسر کرتے تھے ۔ جنگ کے دوران جب یہ ممکن نہ رہا تو وہ ملک کے دور دراز تفریحی مقامات یا شملے، کشمیر اور مسوری کی طرف نکل جاتے تھے پھر انہیں کتابیں خریدنے کا بھی شوق تھا ۔ ان کی ذاتی لائبریری ہزاروں کتابوں پر مشتمل تھی ۔ مگر اب ان پر اپنے بیٹے کی آکسفورڈ میں تعلیم اور مسز رضیہ سراج الدین کے وہاں قیام کے مصارف کا بار بھی آپڑا تھا لہٰذا اب ان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔

    میں لندن سے واپس آیا تو ۱۹۵۶ ء سے ۱۹۵۹ ء تک میرا تقرر لاہور میں رہا اور میں سراج صاحب سے گاہے بگا ہے ملتا رہا مگر ظاہر ہے کہ اب مجھے ان سے وہ قرب حاصل نہیں تھا۔ اس کے بعد میرا تبادلہ کراچی ہو گیا اور وہاں سے میں ۱۹۶۲ ء میں تین سال کے لیے امریکہ چلا گیا ۔ واپسی پر میں اس زمانے کی فنانس سروسز اکیڈمی میں تعینات ہوا جو آب سول سروسز اکیڈمی بن گئی ہے اور چھاؤنی سے ذرا فاصلے پر واقع ہے۔ سراج صاحب اس سے پہلے ہی چھاؤنی میں اپنے ذاتی مکان میں آچکے تھے۔ میں ایک شام ان سے ملنے گیا۔ بڑی مدت کے بعد ملاقات ہوئی تھی۔ میرا حال احوال پوچھنے کے بعد امریکہ میں میرے ڈاکٹریٹ کے کورس کا اور پھر امریکہ کے بارے میں میرے تاثرات کا ذکر چل نکلا میرے وہاں جانے سے پہلے سراج صاحب خود بھی امریکی حکومت کے مہمان کے طور پر امریکہ کا چکر کاٹ آئے تھے۔ امریکنوں کے کچھ لطیفے سنانے کے بعد کہنے لگے کہ انہوں نے میرا پر وگرام کچھ اس طرح بنایا کہ صبح ، شام، دوپہر ہر وقت کوئی نہ کوئی مصروفیت۔ تمہیں تو معلوم ہے کہ دو پہر کا آرام مجھے بہت عزیز ہے۔ میں نے سوچا کہ اس کا کیا انتظام کیا جائے ۔ چناں چہ میں نے ان سے کہا کہ میری ایک مجبوری ہے میں اپنے مذہب کے ایک ایسے مسلک سے تعلق رکھتا ہوں جس میں دوپہر کے دو گھنٹے مجھے ( meditation ) مراقبے میں صرف کرنے ہوتے ہیں لہٰذا اس وقت کے لیے مجھے فراغت چاہیے ۔ امریکی اس رعب میں آگئے اور انہوں نے ہر جگہ میرا پروگرام اس طرح ترتیب دیا کہ دوپہر کی مشقت سےبچ  گیا۔

    اسی ملاقات میں مجھے ان کی بعض باتوں سے یہ بھی محسوس ہوا کہ سراج صاحب کچھ اور بدل گئے ہیں۔ ان کی طبیعت میں تلخی اور خشونت اُبھر آئی ہے ۔ وہ دُنیا سے بھی کچھ زیادہ ہی خفا نظر آنے لگے ہیں ۔ اس پر مجھے اپنی طالب علمی کے زمانے میں ان کے وہ لیکچر یاد آئے جن میں وہ شیکسپیئر کی مشہور لائن ripeness is all  کا مفہوم کس سج دھج سے سمجھایا کرتے تھے اور دنیا کے عظیم ادب پاروں کے حوالےسے acceptance and mellowness یعنی قبولیت اور طبیعت کی نرمی اور گداز کا درس دیا کرتے تھے ۔ اسی کے ساتھ ہی مجھےیہ احساس بھی ہوا کہ سراج صاحب ان سب تصورات کا علم و شعور تو رکھتے ہیں مگر وہ ان کو اپنی طبیعت کا جزو نہیں بنا پائے ۔ ادب و شعر سے اس قسم کا شغف تو گویا ایک ذہنی عیاشی ہوئی ۔ بات تو جب ہے کہ ادب و شعر کی اعلیٰ ، حیات افزا اور صحت مند اقدار ادب کے طالب علم کی شخصیت میں رچ بس جائیں اور زندگی میں اس کی طرز و روش میں جھلکتی نظر آئیں ۔ یہ بات مجھے خواجہ منظور حسین میں نظر آئی جیسا کہ میں نے ان پر اپنے مضمون میں لکھا ہے ۔ سراج صاحب میں اس کی کمی دیکھ کر مجھے افسوس ہوا ، اس لیے کہ اس کی وجہ سے انہوں نے اپنے لیے ناخوشی کا اتنا سامان پیدا کر رکھا تھا۔

    ان کے ہاں اس شام میں نے آٹھ دس پالتو کتے بھی دیکھے ۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ یہ میرا ایک پُرانا شوق عود کر آیا ہے ۔ چند دنوں بعد میں نےایک ایسا منظر دیکھا جو اب ان کا معمول بن چکا تھا ۔ میں اپنی بیوی کے ساتھ کار میں اس سڑک کے برابر والی سڑک سے گزر رہا تھا جس پر سراج صاحب کا گھر تھا۔ دُور سے میں نے دیکھا کہ سراج صاحب اپنے ملازم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے گرد گلی کے کتوں کا مجمع لگا ہوا ہے۔ میں نے کچھ فاصلے پر گاڑی روک لی۔ بیوی کو ساتھ لے کر پیدل ان کے پاس پہنچا اور آداب سلام کے بعد اپنی بیوی کو ان سے ملوایا ۔ میں نے دیکھا کہ قریب ہی ایک بڑی سی بالٹی رکھی ہے جس میں گوشت اور روٹیاں بھری ہوئی ہیں ۔ سراج صاحب اپنی نگرانی میں وہ خوراک اپنے ملازم سے کتوں میں بٹوانے کے لیے لائے۔ میں نے کسی قدر تعجب سے پوچھا کہ سر،کتوں کی ایک کھیپ تو آپ کے گھر میں بھی موجود ہے۔ سراج صاحب کا جواب بڑا دل چسپ تھا۔کہنے لگے :

    But they have become civilised,  decodent. These are street dogs the genuine specimens, the “majhas and sajhas” (ماجھے ، ساجھے )  of the breed.

    کتوں سے لگاؤ اور ان کی دیکھ بھال کا منظر تو میں نے خود دیکھا اور انسانوں سے خفا رہنے کے بارے میں مجھے ان کے اس زمانے کے کچھ ملنے والوں نے بتایا ۔ سنا ہے کہ ماتحتوں سے بھی اب ان کا سلوک کچھ اچھا نہیں تھا اور برابر والوں سے لاگ ڈانٹ رکھنے لگے تھے ۔ اور تو اور ڈاکٹر عبدالسلام جب کچھ عرصے کے لیے گورنمنٹ کالج میں ریاضی کے پروفیسر ہو کے آئے تو سراج صاحب نے انہیں بھی خاصا تنگ کیا اور خراب رپورٹ دی ۔ ڈاکٹر امداد حسین سراج صاحب کے ہم جماعت اور پرانے دوست تھے ۔ انہی کے نام پر انہوں نے اپنے بیٹے کا نام بھی رکھا تھا۔ انہوں نے بھی ایک دفعہ کچھ دبے لفظوں میں سراج کی بدلی ہوئی کیفیت سراج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے کہا کہ اب ان سے ملاقات پر وہ بات نہیں رہی پھر خاص طور پر ان کی اس سنک کا ذکر کیا کہ ہر روز رات کوئی وی کے خبرنامہ کے وقت کا پی پنسل لے کے بیٹھ جاتے ہیں اور جب موسم کا حال نشر کیا جاتا ہے تو مختلف شہروں کے درجہ حرارت نوٹ کیا کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ڈاکٹرا مداد حسین نے ان سے اس کی غرض و غایت پوچھی تھی یا نہیں مگر مجھے یقین ہے کہ سراج صاحب کے پاس اس کی کوئی انوکھی توضیح ضرور ہوگی۔

    لاہور سے تبادلے پر میں ڈھا کے چلا گیا اور ایک عرصے تک سراج صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ ۱۹۷۰ ء میں ڈھاکے سے واپسی پر پھر لاہور آیا اور کچھ عرصہ بعد سراج صاحب کوٹی وی پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا کہ میں نے کالج کے زمانے میں فارسی بھی پڑھی تھی مگر میری عمر انگریزی پڑھنے پڑھانے میں گزری ہے اور اسی زبان سے مجھے زیادہ شغف رہا ہے۔ مجھے برسوں کی پرانی بات یاد آگئی کہ ایک اور صرف ایک موقعے پر سراج صاحب نے اپنی فارسی دانی کا ثبوت دے کر ساری کلاس کو حیران کر دیا تھا۔ ہوا یوں کہ انہوں نے شیکسپیئر کی ٹریجڈی میکبتھ پڑھانی شروع کی ۔ پہلے ہی سین میں تین چڑیلوں کی بیک زبان ادا کی ہوئی لائن آتی ہے : fair is foul + foul is fair

    سراج صاحب اس کی تشریح کرتے ہوئے یہ بتانے لگے کہ شیکسپیئر نے اس وقت کے حالات کا نقشہ کھینچا ہے کہ کس طرح معاشرے کی تمام مروجہ اقدار الٹ پلٹ ہو گئی تھیں اور پھر انہوں نے موازنے کے طور پر اچانک حافظ کے یہ شعر سنا دیے :

    ایں چہ  شور ایست کہ  در دورِ قمرمی بینم

    ہمہ  آفاق پر از فتنہ  و شر می بینم

    اسپ تازی شده مجروح بہ  زیرِ پالاں

    طوقِ زریں   ہمہ  در گردنِ خرمی بینم

    دختران را همہ  جنگ است و جدل با مادر

    پسران را ہمہ بدخواهِ پدر می بینم

    ہیج  رحمے نہ برادر بہ  برادر دارد

    ہیج  شفقت نہ  پدر را بہ  پسر می بینم

    سراج صاحب سے آخری بار میں پر و فیسر حمید احمد خاں کی وفات پر ملا۔ میں گورنمنٹ کالج میں ایم اے انگریزی کے دوران حمید احمد خاں ان کے ہم جماعت رہے تھے ۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان کسی خاص ربط ضبط کا مجھے علم نہیں مگر جب حمید احمد خاں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہوئے تو انہوں نے سراج صاحب کو کہ اس زمانے میں فارغ تھے یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کا صدر مقرر کر دیا۔ سراج صاحب ان کی وفات پر بڑی محبت سے ان کا ذکر کرتے رہے اور ان کی خوبیوں کو سراہتے رہے۔ پھر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ مرحوم رشتے میں میرے چچا تھے تو انہوں نے بڑی شفقت سے مجھ سے بھی تعزیت کی۔

    سراج صاحب اپنے تضادات اپنی بوالعجبیوں، اپنی محبتوں اور نفرتوں کے ساتھ ایک منفرد اور کئی لحاظ سے ایک جاذب شخصیت کے مالک تھے ۔ ان کی زندگی میں شادمانیاں اور کامرانیاں بھی آئیں اور مایوسیاں اور ناکامیاں بھی جن کی وجہ سے ان کی طبیعت میں تلخی کا عنصر بھی اُبھر آیا اور وہ ایسے دل گرفتہ ہوئے کہ شعر و ادب سے اتنے گہرے ربط و تعلق کے باوجود زندگی کو قبول کرنے کی صلاحیت سے ہم کنار نہ ہو سکے۔ مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ادب کے استاد کی حیثیت سے انہوں نے ہزاروں طالب علموں کے دل و دماغ کو ’’روشنی اور حلاوت ‘‘کے سرچشموں سے روشناس کرانے میں ایک عمر بسر کی تھی۔ ان کا یہ نشان امتیاز ہی کچھ کم نہیں کہ وہی لاہور ہے اور وہی گورنمنٹ کالج مگران کے بعد اب تک کوئی دوسرا پر و فیسر سراج الدین پیدا نہیں ہوا ۔

    ( ۱۹۹۶ء)