ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

حلقۂ اربابِ ذوق

     

    حلقۂ اربابِ ذوق

     

    حلقۂ ارباب ذوق کے بارے میں یہ بات بعض نا واقف حضرات نے غیر ذمہ دارانہ طور پر مشہور کر دی ہے کہ ۱۹۴۰ ء کے ابتدائی برسوں کا حلقہ جسے میں میرا جی کے زمانے کا حلقہ کہوں گا ، ترقی پسند تحریک کے خلاف ایک محاذ تھا۔ اس لیے کہ میراجی ترقی پسندی کے خلاف تھے ۔ میں اس زمانے کے حلقے کا ایک نوجوان مگر سر گرم رکن ہونے کی حیثیت سے اس کی پر زور تردید کرتا ہوں ۔ میراجی ترقی پسندوں کے مخالف نہیں تھے ۔ وہ تو کسی کے بھی مخالف نہیں تھے ۔ اقبال کی مشہور غزل کے لفظ استعمال کروں تو کہوں کہ وہ واقعی من کی دنیا کے باسی تھے جس میں نہ فرنگی کا راج تھا اور نہ شیخ وہ برہمن ۔ وہ شاعری کی دیوی کے پجاری تھے جس کی ہر چھب ان کو پیاری تھی ۔ وہ ادبی کمال کو پر کھتے تھے عام اس سے کہ وہ کسی ترقی پسند شاعر کے کلام میں ظاہر ہوا ہو یا غیر ترقی پسند شاعر کے کلام ہیں ۔ یہ درست ہے کہ ادب کے بارے میں میرا جی کا تصور اور رویہ ترقی پسند ادیبوں کے تصور اور رویے سے بہت مختلف تھا، لیکن انہوں نے اختلاف کو ہمیشہ اختلاف ہی رکھا نزاع نہیں بنایا ۔ چناں چہ رسالہ ’’ادبی دنیا‘‘ کے کالم ’’ اس نظم‘‘ میں میرا جی نے جوش، فیض ، تاثیر مطلبی فرید آبادی، مجاز، جاں نثار اختر، جذبی وغیرہ جیسے ترقی پسند شاعروں کی نظموں کو خاص طور پر جگہ دی اور سراہا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میرا جی کے زمانے کا حلقہ کسی ایک نظریۂ ادب سے وابستہ نہیں تھا ۔ وہاں ادب کے مختلف نقطہ ہائے نظر پر بلا روک ٹوک اور بغیر کسی تلخی کے بحث کی جاتی تھی ۔ ترقی پسند نقطۂ نظر کی ترجمانی بھی ہوتی رہتی تھی مگر نسبتاً ذرا کم ۔ اس کے جلسوں میں صدارت کے لیے دوسرے ادیبوں کے علاوہ تاثیر اور فیض بھی آتے تھے۔ اس سلسلے میں یہ نہ بھولیے کہ ترقی پسندوں اور ان کے مخالفین کی اصل جنگ تو پاکستان بننے کے بعد ہوئی اور یہی وہ وقت تھا جب تاثیر صاحب نے جو خود ۱۹۳۵ ء میں لندن میں ہندوستانی ترقی پسند ادب کی تحریک کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے۔ ترقی پسندوں کے خلاف لکھنا شروع کیا ۔

     

    واقعہ یہ ہے کہ میرا جی کے زمانے یعنی ۱۹۴۰ ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کا حلقہ لاہور کی سب سے اہم اور سب سے مقبول ادبی انجمن تھی ، اس کے جلسوں میں ادیبوں کے علاوہ کالجوں کے وہ طلبہ بھی شریک ہوتے تھے جن کو ادب سے دل چسپی تھی اور جنہیں کچھ لکھنے کا شوق تھا۔ حلقہ ان کے لیے گو یا ایک تربیت گاہ بن گیا تھا۔ کہنے کو تو گورنمنٹ کالج کی’’ مجلس‘‘ ، جسے بعد میں’’ مجلسِ اقبال‘‘ کا نام دے گیا اور اسلامیہ کالج کی ’’بزمِ فروغ اُردو‘‘ دونوں موجود تھیں مگر’’ مجلس‘‘ ۱۹۳۶ ء کے لگ بھگ بخاری صاحب (پطرس) کے آل انڈیا ریڈیو میں ایک بڑے عہدے پر دہلی چلے جانے کے بعد سے سونی ہو چکی تھی ۔ اس سے کوئی دو سال قبل تاثیر صاحب کے کیمبرج جانے کے بعد سے یہی حال ’’بزم‘‘  کا ہو اتھا واپسی پر وہ امرتسر میں ایم ۔ اے۔ او کالج کے پرنسپل بن گئے تھے، لاہور میں ان دونوں انجمنوں کی رونق ان بزرگوں کے دم قدم سے تھی جو، ان لوگوں کے کہنے کے مطابق جنہوں نے یہ زمانہ دیکھا ہے، پھر کبھی پلٹ کر نہیں آئی۔

     

     حلقۂ ارباب ذوق جس کا یہ نام ذرا بعد میں طے پایا ایک حلقہ ٔاحباب کی شکل میں ۱۹۳۸ء - ۱۹۳۹ ء کے قریب وجود میں آیا تھا۔ یہ حلقۂ احباب شیر محمد اختر افسانہ نگار، سید نصیر احمد انشائیہ نویس (سید نذیر نیازی کے چھوٹے بھائی) اور تابش صدیقی شاعر وغیرہ پر مشتمل تھا۔ اب ان حضرات میں سے کوئی بھی حیات نہیں ۔ اب تو ان گزرے ہوئے ادیبوں کو کبھی یاد بھی نہیں کیا جاتا۔ بہر حال یہ حضرات اور ان کے ادب پسند دوست مہینے میں دو ایک بار کسی ایک گھر میں مل بیٹھتے تھے اور ایک دوسرے کو اپنے اپنے افسانے مضامین اور اشعار سناتے تھے۔ نوجوان طلبہ میں شاید میں نے ہی پہلی دفعہ اس محفل میں بار پایا وہ اس لیے کہ شیر محمد اختر میرے چچا زاد بڑے بھائی کے دوست تھے۔ انہوں نے مجھے ادب میں میری دل چسپی کی بنا پر اس جلسے میں مدعو کیا جو خود ان کے اپنے گھر پر  ہو رہا تھا۔

     

    یہ بات شاید ۱۹۴۰ ء کی ہے، میں فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا ۔ میں جب اختر صاحب کے ہاں پہنچا تو دیکھا کہ دس بارہ لوگ جمع ہیں ۔ اختر صاحب نے سید نصیر احمد اور تابش صدیقی سے میرا تعارف کرایا اور مجھے اندازہ ہوا کہ اس مجلس کے کرتا دھرتا یہی لوگ ہیں، نشست فرشی تھی، میں بھی ایک کونے میں بیٹھ گیا کچھ دیر کے بعد اختر صاحب کا افسانہ پڑھا گیا (ان کی زبان میں چوں کہ لکنت تھی لہٰذا کسی دوسرے آدمی نے ان کا افسانہ سُنایا)  سب نے واہ واہ سبحان اللہ کہہ کے داد دی ۔ اس کے بعد نہایت پر تکلف چائے کا دور چلنے لگا اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ ادبی اور کچھ غیراد بی خوش گپیاں بھی ہوتی رہیں ۔ اتنے میں اچانک اختر شیرانی صاحب افتاں و خیزاں وارد ہوئے، وہ شیر محمد اختر کے ہمسائے میں رہتے تھے اور یوں ہی ان سے ملنے چلے آئے تھے۔ بہر حال حاضرین نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی اور یہ محفل گویا اب ان کی محفل ہو گئی ۔ فرمائش پر انہوں نے کچھ شعر بھی سنائے، مگر زیادہ تر اپنی اس قسم کی گفتگو ہی سے محفوظ کیا جس کےبارے میں میر صاحب نے کہا ہے :

     

    مستی سے در ہمی ہے مری گفتگو کے بیچ

     

    تم بھی جو چاہو مجھ کو کہومیں نشے میں ہوں

     

    غرض یہ تھی میری پہلی شرکت اس ادبی انجمن میں جسے اس کے بانیوں میں سے بعض بزمِ افسانہ گویاں کہتے تھے اور بعض حلقۂ اربابِ ذوق۔

     

    کچھ عرصہ کے بعد اس انجمن کا ایک اور جلسہ شیر محمد اخترہی کے ایک ادب پسنددوست منصور احمد کے گھر پر ہوا یہ گھر ہمارے محلے ہی میں واقع تھا۔ یہاں شریک ہونے والوں میں میرے دوست صفدر میر ( زینو) اور امجد حسین بھی تھے ۔ یہاں بھی نشست فرشی تھی اور یہاں بھی پرتکلف چائے کا اہتمام تھا، لوگ بھی کچھ زیادہ تھے۔ میرا جی کو پہلی دفعہ میں نے یہیں دیکھا ، قیوم نظر بھی ان کے ساتھ تھے۔ ان سے تو صفد را مجد اور میری پہلے سے ملاقات تھی کیوں کہ وہ بھی ہمارے محلہ دار تھے۔ بہر حال یہاں اپندر ناتھ اشک نے ایک افسانہ پڑھا جس کا نام مجھے یاد نہیں اور اس کے بعد راجندر سنگھ بیدی نے اپنا مشہور افسانہ ’’گرہن‘‘۔ مجھے یاد ہے کہ بیدی اپنے افسانہ کا آخری حصہ اس جذبے سے پڑھ رہے تھے کہ سامعین پر انہماک کے مارے سکتے کا عالم تھا اور جونہی افسانہ ختم ہوا ہر طرف سے داد تحسین کا ایسا شور اٹھا کہ محفل گویا محفل مشاعرہ بن گئی۔

     

    جیسا کہ میں نے عرض کیا میرا جی حلقے کے اسی جلسے میں پہلی دفعہ شریک ہوئے تھے مگر اس کے بعد کے جلسوں کی یاد میرے ذہن میں میرا جی کی یاد سے الگ نہیں کی جاسکتی کیوں کہ میرا جی نے جو اس وقت ’’ادبی دنیا‘‘ کے مدیر معاون تھے جلد ہی اس حلقے کی باگ ڈور سنبھال لی ۔ میرا جی کی شاعری ہی نہیں زندگی کے طور طریقے بھی سب سے الگ تھے ، لوگوں نے ان کے بارے میں اپنے اپنے رنگ میں بہت کچھ لکھا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ان کی شخصیت میں جو ایک خاص قسم کی موہنی اور کشش تھی اس کا ذکر نسبتاً کم کیا گیا ہے۔ ان کی طبیعت اور مزاج میں کچھ اگلے وقتوں کی وضع داریوں کا بھی عمل دخل تھا۔ مثلاً میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ وہ اپنے سے بڑوں کی عزت کرتے تھے اور برابر والوں اور چھوٹوں سے محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ مجھے ذاتی طور پر میرا جی کےبہت قریب ہونے کا دعویٰ نہیں اس کے باوجود انہوں نے میری ابتدائی ادبی کوششوں میں ہمیشہ مجھے بڑھاوا دیا ۔ اپنے خاص انداز میں ان کو سراہا اور میری غیر حاضری میں دوسروں سے میرے متعلق اچھی رائے کا اظہار کیا، اپنی کتاب ’’ گیت ہی گیت‘‘ کا ایک نسخہ انہوں نے خاص طور پر مجھے دیا جو آج بھی میرے پاس موجود ہے ۔ اس پر اقبال کا یہ شعر لکھا ہوا ہے:

     

    گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود

     

    گاہ اُلجھ کے رہ گئی اپنے تو ہمات میں

     

    میں اور میرے دوست امجد حسین دہلی گئے تو ہمیں اپنے دہلی کے دوستوں سے ملوانے کے لیے اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر کہ جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔ ن م راشد اور محمد حسن عسکری سے میری پہلی ملاقات اسی محفل میں ہوئی تھی۔

     

    میرا جی کی ذاتی زندگی جیسی بھی رہی ہو ، زندگی کے عام کا روبار میں وہ بڑے اصول پسند اور قاعدے قانون کے آدمی تھے۔ چناں چہ انہوں نے حلقے کو جو محض  ایک حلقۂ احباب تھا ایک با ضابطہ انجمن بنا دیا ان کی قیادت میں حلقہ وہ حلقہ نہ رہا۔ جس میں چند ایک ادیب اور ادب پسند دوست کبھی کبھار آپس میں چائے کی دعوت پر مل بیٹھتے تھے۔ اس کی رکنیت کے لیے شرائط وضع کی گئیں ۔ ایک تنظیمی کمیٹی بنائی گئی جس کا ایک کام رکنیت کا فیصلہ کرنا بھی تھا۔ اس تنظیمی کمیٹی کے ممبروں اور سیکرٹری اور اسسٹنٹ سیکرٹری کا مقررہ مدت کے لیے انتخاب ہونے لگا۔ ہفتہ وار جلسوں کا نظام رائج کیا گیا اور ہر جلسے کا پروگرام پہلے سے تیار ہو کر تقسیم کیا جانے لگا ۔ اب پروگرام کی ہرشق یعنی افسانہ، مضمون، نظم وغیرہ کو انتہائی سنجیدگی  سے ماتھے پر بل ڈا لے سنا  اور پرکھا جاتا تھا ۔ ہیئت اور مواد کے حوالے سے ان کی ہر ہر خصوصیت پر بحث و تمحیص ہوتی تھی جو بعض اوقات ایک لا حاصل قسم کی میکانکی صورت بھی اختیار کرلیتی تھی۔ بہر حال اہم بات یہ ہے کہ حلقے نے ایک ایسے ادارے کی شکل اختیار کر لی کہ جہاں ادبی تحریروں کو ایسے بے لاگ اور بے باک تبصروں کے لیے پیش کیا جاتا تھا جن کا بنیادی مقصد ہی ان تحریروں کو سمجھنا اور لکھنے والوں اور ان کے پڑھنے والوں کے درمیان افہام و تفہیم پیدا کرنا تھا ۔

     

     باقاعدگی کی اس مہم میں دوست احباب کے گھروں پر جلسے کرنے کا دستوربھی ختم کر دیا گیا ، فیصلہ ہوا کہ ہفتہ وار جلسوں کے لیے ایک جگہ مقرر ہونی چاہیے تاکہ دل چسپی رکھنے والے لوگ بن بلائے بھی وہاں پہنچ سکیں ۔ حلقے کا کوئی چندہ تو تھا نہیں اور نہ اس کی کوئی تجویز زیر غور تھی لہٰذا ایسی جگہ کی تلاش تھی کہ جہاں ضروری سہولتیں بھی میسر ہوں اور کوئی خرچ بھی نہ کرنا پڑے۔ یہاں پھر شیر محمد اختر کام آئے ۔ ان کے چھوٹے بھائی جس کا روباری ادارے سے متعلق تھے اس کا دفتر اس زمانے کی ایبٹ روڈ پر اس زمانے کے نشاط سینما کے سامنے ایک عمارت کی نچلی منزل میں تھا وہاں ایک خاصا بڑا کمرہ بھی تھا جہاں نشست کا سب سامان میز ،کرسیاں ،بجلی کے پنکھے غرض جملہ سہولتیں مہیا  تھیں ۔ شیر محمد اختر نے اس جگہ کا انتظام کروا دیا اور کوئی دو سال تک حلقے کے ہفتہ وار اجلاس یہیں ہوتے رہے ۔ پھر شاید اس کاروباری ادارے کا دفتر یہاں سے اُٹھ گیا اور یہ جگہ حلقے والوں کے ہاتھ سے چھن گئی ۔ اس کے بعد وائی۔ ایم ۔ سی۔ اے والوں سے بات کی گئی اور حلقے کے اجلاس مال روڈ پر ان کی عمارت کے بور ڈروم میں ہونے لگے اور عرصے تک وہیں ہوتے رہے ۔ میرا خیال ہے کہ یہ انتظام میرا جی کے ذریعے ہوا تھا۔ خلاصہ یہ کہ میرا جی اگر چہ حلقے کے اصل بانی نہیں تھے مگر جو حلقہ اُردو ادب کی دنیا میں جانا پہچانا گیا ۔ میرا جی اس کے بانی ضرور تھے ۔ حلقے کو حلقہ بنانے کے سلسلے میں میراجی کے قریبی دوستوں قیوم نظر، یوسف ظفر اور مختار صدیقی نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔ اسی زمانے میں ایک وقت میں میرے دوست امجد حسین بھی اس کے سیکرٹری رہے ۔ اس حیثیت سے ہفتہ وار اجلاس کی کارروائی لکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ انہوں نے یہ فرض ایسی خوش اسلوبی سے ادا کیا کہ پروگرام کی یہ شق بجائے خود حلقے کی ایک شناخت بن گئی ۔

     

    ادبی انجمنیں معاشرے میں کیا کر دار ادا کرتی ہیں۔ اس کا انحصار معاشرے کی اپنی حالت پر ہے۔ مثلاً ایک جمے ہوئے معاشرے میں جہاں سماجی اور ثقافتی معیار قائم ہو چکے ہوں ۔ ادبی اقدار اور فکر و احساس کی طرز و روش کلچر یافتہ طبقے کی مشترکہ میراث بن چکی ہوں ۔ جہاں شاعر اور اس کے سامعین ایک دوسرے کی بات ہی نہیں اشارے کنائے بھی سمجھتے ہوں، ادبی انجمنیں معاشرے کی مجموعی ثقافتی ہم آہنگی کو قائم اور برقرار رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہمارے قدیم معاشرے میں مشاعرے نے کہ وہ بھی ایک قسم کی ادبی انجن ہی تھا یہی کردارادا کیا تھا۔

     

     مگر ۱۸۵۷ ء کے بعد سے ہمارے ہاں اس جمے ہوئے معاشرے اور اس کی ثقافت کا نقشہ یکسر بدل گیا رفتہ رفتہ جب نئے تعلیمی نظام کے ذریعے مغرب کا اثر پھیلا تو ہماری ادبی اقدار میں بھی ایک انقلاب آیا، اس انقلاب کی اولین نشانیاں سر سید ، حالی اور آزاد کی تحریروں میں ملتی ہیں، حالی نے کہ جنہیں اُردو کا پہلا مستند نقاد مانا جاتا ہے پرانی ادبی اقدار پر بر ملا تنقید کی ادبی تنقید کے نئے معیار قائم کرنے کی کوشش کی اور اپنے ادبی عقائد کی پیروی میں اپنی شاعری کا انداز بھی بدلا۔

     

    حالی حال کی آواز ضرور مگر تھے وہ ماضی کے ادبی ماحول کی پیدا وار لہٰذا وہ زیادہ تر اصلاح پسند ہی رہے ۔ باغی نہ بن پائے ۔ ان کے مقابلے میں   ۱۹۳۰ء ۔ ١۹۴۰ء  کی دہائیوں کے لکھنے والوں کے تیور ہی اور تھے ۔ ان میں بغاوت کے آثار بہت نمایاں تھے۔ وہ ادب و شعر میں معنی و ہیئت کے روایتی پیمانوں کا لحاظ کیے بغیر نئے سے نئے تجربات کرنے پر تلے ہوئے تھے جو روایتی ادبی اقدار کا پروردہ مزاج رکھنے والوں میں نامقبول تھے بلکہ وہ انہیں یکسر نا معقول سمجھتے تھے۔

     

    اس نئی اور جدید طرز فکر و احساس کی سب سے اہم اور نمایاں خصوصیت اس کی انفرادیت تھی۔ نیا ادیب نیا راگ ،الاپنا چاہتا تھا اور وہ بھی ایک ایسے معاشرے میں جہاں نئے ادیب اور اس کے پڑھنے والوں میں اگلا ساربط و تعلق باقی نہ رہا تھا۔ ان کے درمیان ایک خلیج ایک قسم کی دوری حائل ہو گئی تھی لکھنے والا اپنی ایک الگ دُنیا میں رہتا تھا اور پڑھنے والوں کی ایک ایسی جماعت کے لیے لکھ رہا تھا   جس سے وہ پوری طرح آشنا بھی نہیں تھا۔ چناں چہ اس کا لفظ بہت سے عام پڑھنے والوں کے لیے ناقابل فہم ہو گیا، حتیٰ کہ اس کے بعض ہم عصر لکھنے والوں کے لیے بھی مختصر یہ کہ ثقافتی ہم آہنگی اور مشترکہ ادبی اقدار جو پرانے دور کی نشانیاں تھیں پرانےدور کے ساتھ ہی ختم ہو چکی تھیں۔

     

     جب کسی معاشرے میں ادیب اور شاعر اس قسم کی صورت حال سے دو چار ہوں تو ایسی ادبی انجمنوں کا قیام ایک ضرورت بن جاتا ہے جو لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کی فضا پیدا کر کے نئے ادبی رجحانات کو روشناس کرانے اور انہیں مقبول بنانے میں مدد دے سکیں ۔ حلقۂ اربابِ ذوق نے ۱۹۴۰ ء  کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں، لاہور میں، کہ جدید ادبی تحریک کا گہوارہ تھا ، اس ادبی ضرورت کو پورا کیا۔ حلقے نے نئے ادب کو ہمدردی سے سمجھنے اور پرکھنے کے لیے سازگار ماحول مہیا کیا ۔ اس نے جس قسم کی آزادانہ بحث و تمحیص اور تنقید و تبصرے کو رواج دیا وہی نئے طرزِ فکر و احساس کی حدود متعین کرنے اور ادب میں نئے معیار قائم کرنے کا بہترین طریقہ تھا۔

     

    جیسا کہ میں نے اس مضمون کے شروع میں عرض کیا تھا حلقہ نئے ادیبوں اور کالجوں کے طلبہ لکھنے والوں کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ اس میں ان طلبہ کو نہ صرف لاہور کے نئے ادیبوں سے ملنے، ان کی سننے اور اپنی کہنے کے مواقع ملتے تھے بلکہ باہر کے ان نئے ادیبوں سے بھی جو اگر کسی سلسلہ میں لاہور آئے ہوئے ہوں تو اتوار کی شام کو حلقے کے اجلاس میں شریک ہو جایا کرتے تھے ، حلقے کی یہ خصوصیت بعد میں بھی قائم رہی ہوگی مگر میں یہاں اس زمانے کے حلقے کی بات کر رہا ہوں جسے میں نے میرا جی کے زمانے کا حلقہ کہا ہے اور جب میراجی بطور خاص ان نوجوان طلبہ سے بڑی شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔ الطاف گوہر، صفدر میر (زینو) ضیاء جالندھری ،اعجاز بٹالوی اور راقم الحروف انہی نوجوان طلبہ میں سے تھے ہم سب ادب میں مختلف نقطہ ہائے نظر سےمتاثر تھے اوربعد کوزندگی میں بھی اپنی لگ الگ راہوں پر نکل  گئے۔ یہ راہیں آپس میں کبھی ملیں اور کبھی نہیں ملیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس زمانے میں حلقۂ اربابِ ذوق کے واسطے سےہم سب ایک ایسے رشتے میں بندھ گئے تھے کہ جس کی یاد..... یہاں میں باقی حضرات کی طرف سے بھی یہ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں .....ہمارے دلوں سے کبھی محو نہیں ہو سکتی ۔

     

    (۱۹۸۶ء)