ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

خواجہ منظور حسین

    خواجہ منظور حسین

    خواجہ منظور حسین صاحب جب اکتوبر ۱۹۴۸ ء میں علی گڑھ سے لاہور آئے اور گورنمنٹ کالج کے شعبۂ انگریزی میں پروفیسر مقرر ہوئے تو میں اسی شعبے میں لیکچرار تھا۔ میں اُن کے نام سے تو آشنا تھا مگر مجھے اُن سے ملنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ہمارے فارسی اور اردو کے استاد صوفی غلام مصطفےٰ تبسم نے خواجہ صاحب سے میرا تعارف کرایا اور اس کے بعد اسٹاف روم میں ان کے اور میرے خالی اوقات ایک دوسرے کے ساتھ گزرنےلگے اور چند دنوں کے اندر اندر ہی مجھے ان سے ایک ذہنی قربت کا احساس ہونے لگا۔

     خواجہ صاحب انگریزی کے پروفیسر تھے اور وہ ان پروفیسروں میں سے نہیں تھے جو اپنی طالبِ علمی کے زمانے کے پڑھے ہوئے پر تکیہ کر کے باقی عمر اپنے طالب علموں کو وہی پڑھاتے رہتے ہیں۔ اپنے مضمون میں ان کا علم وسیع بھی تھا اور تازہ و حاضر بھی ۔ وہ انگریزی شعر و ادب اور تنقید کے نئے سے نئے رجحانات سے بھی اپنے آپ کو باخبر رکھتے تھے مگر ان کی اپنی تحقیق و تنقید کا کام سراسر قدیم اُردو شعراء اور کسی قدر برصغیر کے فارسی شعراء تک محدود تھا۔ وہ برسوں سے ان شعراء کی شاعری اور اس کے سیاسی اور سماجی پس منظر کے ربط و تعلق کا کھوج لگانے میں منہمک تھے اور اگرچہ اس وقت تک انہوں نے کچھ چھپوایا نہیں تھا مگر وہ اپنے نتائج قریب قریب مرتب کر چکے تھے جو مختلف چھوٹی چھوٹی کا پیوں میں محفوظ تھے جنہیں وہ پوتھیاں کہا کرتے تھے ۔ خواجہ صاحب اگرچہ طبعاً کم آمیز اور کم گو آدمی تھے مگر ان کی تحقیق و تنقید کے بارے میں میرا تجسس انہیں کسی نہ کسی طرح گفتگو پر مائل کر لیتا تھا۔ انہیں بھی مجھ میں ایک ایسا سننے والا مل گیا تھا جو اُن کے خیال میں ان کی بات سمجھنے کا اہل تھا۔ چناں چہ وہ مجھ پہ خاص التفات فرمانے لگے تھے۔

    ایک اور وجہ اس کی یہ تھی کہ یہاں گورنمنٹ کالج میں ان کے پرانے جاننے والوں میں صرف ایک اے ایس بخاری (پطرس) تھے جو اب کالج کے پرنسپل تھے اور انہی کی تحریک پر خواجہ صاحب یہاں آئے تھے ۔ آکسفورڈ سے واپسی پر ۱۹۲۹ - ۱۹۳۰ ء میں بھی خواجہ صاحب بخاری صاحب ہی کی تحریک پر ،جو اُس زمانے میں گورنمنٹ کالج میں پروفیسر تھے ، چند مہینوں کے لیے یہاں لیکچرار رہے تھے مگر اس کے بعد وہ اپنی پرانی درس گاہ علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی سے وابستہ ہو گئے ۔ فیض صاحب اس زمانے میں ایم اے انگریزی کے طالب علم تھے۔ ایک دفعہ برسبیل تذکرہ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں خواجہ صاحب کی کلاس میں تو نہیں تھا مگر کالج کا ہر استاد کالج  کے ہر طالب علم کا استاد ہوتا ہے۔ اس لیے میں خواجہ صاحب کا اُستادوں ہی کی طرح احترام کرتا ہوں ۔

     بخاری صاحب کی خواجہ صاحب سے کوئی گہری دوستی تو نہیں تھی مگر وہ ان کو عزیز جانتے تھے اور ان کا بڑا خیال رکھتے تھے، چناں چہ انہوں نے خواجہ صاحب کو کالج کی سب سے موقر انجمن یعنی ڈرامیٹک کلب کا سربراہ بنا دیا ۔ اس پر چند ایک پرانے پر وفیسروں میں کچھ چہ مہ گوئیاں بھی ہوئیں مگر بخاری صاحب اس قسم کی باتوں کی پروا نہیں کیا کر تے تھے۔ بہرحال بخاری صاحب جو خواجہ صاحب کے پرانے جاننے والے تھے اسٹاف روم کی بجائے زیادہ وقت اپنے دفتر میں گزارتے تھے۔ صوفی صاحب سے بھی خواجہ صاحب کی یاد اللہ تھی مگر وہ اپنی مصروفیتوں میں اُلجھے رہتے تھے ۔ شعبۂ انگریزی کے صدر پروفیسر سراج الدین اور خواجہ صاحب میں کوئی قدر مشترک نہیں تھی سوائے اس کے کہ دونوں آکسفورڈ کے فارغ التحصیل تھے مگر وہاں بھی دونوں کا زمانۂ قیام ایک دوسرے سے مختلف  تھا۔ مختصر یہ کہ اسٹاف روم میں بیٹھنے والے اساتذہ میں سے کوئی اور ایسا نہ تھا جس سے خواجہ صاحب اپنے خالی اوقات میں مل بیٹھتے۔ لہٰذا ان کی گفتگو زیادہ تر مجھے نیاز مندہی سے رہتی تھی۔ رفتہ رفتہ میں ان کے گھر بھی آنے جانے لگا جہاں زیادہ تفصیلی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اس زمانے میں وہ گلبرگ سے چھاؤنی جانے والی سڑک پر پل کے قریب ایک وسیع مکان میں رہتے تھے جو ان کو الاٹ ہوا تھا، مختصر یہ کہ اسی زمانے میں میرا ان سے قرب و خلوص کا وہ رشتہ استوار ہوا جو آخر تک قائم رہا بلکہ مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ اور گہرا ہوتا گیا۔

    کالج کی لیکچراری کے دوران ہی میں نے مقابلے کا امتحان دیا اور پھر مرکزی حکومت کی ملازمت میں آگیا۔ خواجہ صاحب چند سال کے بعد گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ہوئے اور وہاں سے ریٹائر ہونے پر انٹریونیورسٹی بورڈ کے سیکرٹری کی حیثیت سے پہلے کچھ عرصہ کراچی اور پھر اسلام باد میں مقیم رہے مگر پاکستان میں ان کا وطن لاہور تھا۔ لہٰذا وہ ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد لاہور چلے گئے اور زندگی کے آخری سولہ سترہ سال انہوں نے مستقل لاہو ر ہی میں بسر کیے۔ بہر حال خواجہ صاحب جہاں بھی رہے میں ہمیشہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔

     اسلام آباد میں ایک ملاقات کے دوران جب خواجہ صاحب نے یہاں کے موسم اور صبح کی سیر کے لطف کی تعریف کی تو میں نے کہا کہ پھر آپ مستقل طور پر یہیں بس  جائیے ۔ کہنے لگے نہیں بھئی دِلّی اور علی گڑھ کے بعد ہمارے لیے رہنے کی جگہ تو لاہور ہی ہے ۔ خواجہ صاحب نے اسکول کی تعلیم دِلّی میں پائی تھی اور کالج کی علی گڑھ میں اور وہیں عمر کا ایک بڑا حصہ بھی گزارا تھا مگر جو لگاؤ انہیں دِلّی سے تھا وہ کسی اور شہر سے نہیں تھا۔ بقول ان کے وہ دِلّی کے روڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے ایک مشہور ادبی شخصیت کے بارے میں کہا کہ وہ بھی تو دِلّی کے تھے۔ فوراً بولے میاں وہ دِلّی کے نہیں بجنور کے تھے ہاں دلی  میں آبسے تھے اور پھر فصیل کے اندر کے ان محلوں کے نام گنوائے جہاں کے رہنے والے اصلی دِلّی والے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تو خیر اس زمانے کی بات ہے جب خواجہ صاحب نئے نئے پاکستان آئے تھے مگر اپنی برسوں بعد کی تالیف ’’ اردو غزل کا خارجی روپ بہروپ‘‘ میں دِلّی پر اردو شاعرو ‎ ں کے اشعار نقل کرتے ہوئے خواجہ صاحب نے بے ساختہ یہ جملہ بھی لکھا ہے : ’’ یہ دیا ربے بدل جو مؤلف کے دیدہ و دل میں بسا ہوا ہے۔‘‘ اس قسم کی دردمندی کا اظہار خواجہ صاحب کا عام دستور نہیں تھا مگر دِلّی کا ذکر آیا تو ان سے رہا نہ گیا۔

    دِلّی اور اپنے موروثی کلچر سے تمام تر محبت کے باوجود خواجہ صاحب میں کسی قسم کی کلچرل عصبیت نہیں تھی۔ وہ بڑے روشن خیال اور وسیع المشرب آدمی تھے ۔ اپنے موروثی کلچر کے بارے میں بھی ان کا نقطۂ نظر نہایت معروضی اور حقیقت پسندانہ تھا ۔ ایک وضع داری البتہ انہوں نے ہمیشہ نبھائی۔ انگلستان میں تو سوٹ پہنا مگر اپنے ملک میں لباس ان کا شیروانی اور پاجامہ ہی رہا۔ گورنمنٹ کالج کے زمانے سے پاکستان میں بھی یہ ان کی پہچان بن گئی تھی۔ خصوصاً معاشرے کے اس اونچے طبقے میں جس سے ان کا میل جول رہتا تھا، لباس کو چھوڑ کر خواجہ صاحب کی باقی زندگی کے عام چلن، طرز ِبودوباش، بچوں کی تعلیم و تربیت اور دیگر معاملات میں ’’مغربیت‘‘ نمایاں تھی۔

    ذہنی طور پر بھی وہ سراسر بیسویں صدی کے آدمی تھے ۔ آکسفورڈ میں قیام کے دوران وہ ترقی پسند نظریات سے متاثر ہوئے کہ اس زمانے میں انگلستان کے فکری، سیاسی اور ادبی حلقوں میں ان کا بڑا چرچا تھا۔ آکسفورڈہی میں سجا دہ ظہیر، صاحب زادہ محمود الظفر وغیرہ سے ان کی ملاقات ہوئی اور یہی وہ حضرات تھے جنہوں نے چند برس بعد انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی۔ خواجہ صاحب ذاتی نوعیت کی باتوں کا ذکر بہت کم کرتے تھے مگر ایک بار انہوں نے سجاد ظہیر کو اس انداز سے یاد کیا کہ جس سے ایک خاص تعلق خاطر کا اظہار ہوتا تھا۔ میں نے سید سبط حسن کی زبانی سُنا تھا کہ ۱۹۳۶ ء میں لکھنؤ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاس سے پہلے علی گڑھ میں خواجہ صاحب کے مکان پر کچھ ادیبوں کی غیررسمی  میٹنگ ہوئی تھی ۔ میں نے ایک ملاقات کے دوران جب اس کے بارے میں خواجہ صاحب سے پو چھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور پھر بنے(سجاد ظہیر کا گھریلو نام) کا ذکر کر نے لگے۔ تھوڑی دیر بعد خاموشی سے اُٹھے اور اپنے آکسفورڈ کے زمانے کی تصویروں کی ایک البم اٹھا لائے ۔ ان تصویروں میں خواجہ صاحب، سجاد ظہیر، محمود الظفر اور دوسرے احباب کے ساتھ انگلستان اور یورپ کے کئی مقامات پر سیر و تفریح میں مشغول نظر آتے تھے ۔خواجہ صاحب مجھے یہ تصویریں بھی دکھاتے جاتے تھے اور اس گزرے ہوئے زمانے کو یاد بھی کیے جاتے تھے۔

    خواجہ صاحب بنیادی طور پر ادب و شعر کے آدمی تھے۔ انہوں نے ترقی پسند نظریات سے ذہنی تعلق کے باوجود اور اپنے دوسرے احباب کے بر عکس کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ اپنے آپ کو ہمیشہ ادب و شعرتک ہی محدود رکھا اور اس میں بھی کسی تنظیم یا جماعت سے وابستہ نہیں ہوئے۔ وہ اپنی انفرادی ذہنی کاوشوں میں کسی خارجی پابندی کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے مگر ادب کے ترقی پسند نظریات سے تعلق کی بنا پر ہی آکسفورڈ سے علی گڑھ واپسی کے بعد انہوں نے ادب و شعر کے فکری ، سماجی اور سیاسی پس منظر کو اپنی تحقیق و تنقید کا مستقل موضوع بنالیا اور عمر بھر انتہائی سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے اس کام میں لگے رہے ۔

    قدیم اُردو شاعری اور اس کے محرکات و مؤثرات کی چھان بین کے سلسلے میں خواجہ صاحب نے برصغیر میں مغلوں کے عروج و زوال کی تاریخ اور پھر سید احمد بریلوی اور شاہ اسمعیل کی تحریک جد و جہاد کا گہرا مطالعہ کیا مگر ادبی تحقیق و تنقید کے دائرے کے اندر رہ کر۔ انہوں نے ہمیشہ تاریخی واقعات کے شعری اظہار ہی سے اپنا سر و کار رکھا اور مختلف شعری نشانات و علائم کی تشریح و تفسیر کی مدد سے تاریخی واقعات اور ان کے شعری اظہار کے درمیان پل بناتے رہے۔ ان کی عملی تنقید کا انداز یہی تھا۔ تنقید میں نظری بحثوں سے انہوں نے کبھی کوئی علاقہ نہیں رکھا۔ آپ ان کی تحریروں میں ترقی پسند نظریۂ ادب کا ذکر تک نہیں پائیں گے۔ اسی طرح تحریک جد و جہاد جیسی مذہبی تحریک سے اتنی دلچسپی کے باوجود خواجہ صاحب نے کسی مذہبی موضوع پر نہ کبھی کچھ لکھا اور نہ کبھی وہ اس پر گفتگو کرتےتھے۔ وہ اکبر کے اس شعر کے قائل بھی تھے اور اس پر عامل بھی :

    مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

    فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    اکبر کے اسی شعر کی طرح فانی کا ایک شعر بھی میں نے خواجہ صاحب کی زبانی سنا ۔ وہ اس طرح کہ ۱۹۸۲ ء میں اسلامی کانفرنس کی ایک کمیٹی کی میٹنگ میں شمولیت کے لیے مجھے جدہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں ہفتہ بھر رہا اور اس دوران میں مکّے گیا، مدینے گیا اور عمرہ بھی گیا۔ واپسی پر خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے میرے تاثرات کے بارے میں استفسار کیا ۔ میں نے انہیں بتایا کہ مجھے مسدس حالی کے اشعار ’’وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی‘‘ اور ان سے متعلقہ واقعات کے ساتھ ساتھ اقبال کا یہ شعر یاد آتا رہا ہے:

    میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے

    میرے لیے مٹی کا حرم اور بنادو

    خواجہ صاحب زیر لب مسکرائے اور پھر اپنے مخصوص دھیمے لہجے مگر بڑے معنی خیز انداز میں مجھ سے پوچھا کہ تمہیں فانی کا یہ شعر یاد نہیں آیا :

    حرم میں آہی نکلے ہیں تو فانی

    یہ کیا کہیئے کہ نیت تھی کہاں کی

    عام طور پر شعراء کے بارے میں خواجہ صاحب اپنی رائے کا اظہار کم ہی کرتے تھے البتہ اس دور کے شعراء میں وہ فانی ،فراق اور فیض کے قائل تھے۔ مجموعی طور پر وہ غالب کو اردو کا سب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے اور ان کے بعد اقبال کو ۔ یہ دو شاعر ان کی خاص توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ اپنی کتاب ’’ اقبال اور بعض دوسرے شعراء ‘‘کے ایک باب’’ بانگِ درا پر ایک نظر‘‘ میں انہوں نے غالب اور اقبال کا موازنہ کرتے ہوئے غالب کی برتری کا اظہار، ان سے اپنائیت کے احساس کے ساتھ غالب کے اس شعر کے حوالے سے کیا ہے :

    حسن مہ  گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

    اس سے میرا مۂ خورشید جمال اچھا ہے

    میر کی عظمتوں کو وہ تسلیم کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں ان کا ذکر بڑے احترام سے کیا ہے مگر ایک گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ خواجہ صاحب میر کو غالب کے پایہ کا شاعر قرار دینے پر تیار نہیں تھے ۔ فارسی شعراء میں وہ فیضی، عرفی اور نظیری کی طرف بھی کھینچتے رہے مگر حافظ سے خواجہ صاحب کو جو تعلق خاطر تھا وہ اس سے ظاہر ہے کہ اپنی آخری بیماری کے دوران جب وہ آپریشن کے لیے لاہور سے راولپنڈی آئے تو اپنے ساتھ صرف ایک کتاب لائے یعنی دیوانِ حافظ۔

    میرا اندازہ ہے کہ خواجہ صاحب کو اپنا وطن اور علی گڑھ چھوڑنے کا بہت قلق تھا۔ گو وہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔ ان کی طبیعت میں ایک قسم کی رواقیت تھی جو ذاتی دکھ درد کے معاملات میں ان کے لیے سپر کا کام دیتی تھی ۔ مگر شاید علی گڑھ سے بھی زیادہ انہیں علی گڑھ میں اپنے اس گھر کو چھوڑنے کا قلق تھا جو خواجہ صاحب کے والد نے انہیں تحفے میں دیا تھا اور جسے انہوں نے بڑے شوق سے تعمیر کرایا تھا ۔ ایک موقع پر انہوں نے مجھے اس کے اندر اور باہر مختلف حصوں کی بہت سی تصویریں دکھائیں اور گھر کے بارے میں بتایا تو مجھے ان کی آواز میں ایک ہلکی سی رقت کا احساس ہوا۔

    مگر علی گڑھ چھوڑنے کے معاملے میں خواجہ صاحب حالات کے ہاتھوں مجبور تھے۔ بات یہ تھی کہ خواجہ صاحب کی بیگم پر و فیسر ایم ایم شریف کی بیٹی تھیں جو علی گڑھ میں پہلے شعبہ ٔفلسفہ کے صدر اور بعد میں پرو وائس چانسلر ہو گئے تھے۔ وہ لاہور کی میاں فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کی باقی بیٹیاں اور ان کے شوہر پاکستان میں تھے اور خود پر وفیسر شریف بھی یونیورسٹی کی ملازت سے سبک دوش ہونے کے بعد لاہور آچکے تھے۔ گویا خواجہ صاحب کے سسرالی عزیز تو اب پاکستان میں تھے ۔ ان کے اپنے عزیزوں میں سے ایک بہن کا خاندان تو تقسیم کے بعد انگلستان میں جابسا اور ایک بہن کا خاندان پاکستان آگیا۔ ایک تیسری بہن کا خاندان دہلی کے قریب مشرقی پنجاب کی ایک مسلمان راجپوت زمینداروں کی بستی میں فسادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ خواجہ صاحب نے مجھے بتایا کہ خاندان کے مردوں نے حملے کے وقت راجپوتوں کی پرانی رسم کے مطابق پہلے تو اپنی سب خواتین کو اپنے ہاتھوں سے تہ تیغ کیا اور پھر وہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے میدان میں کام آگئے۔ بس ایک لڑکا خواجہ صاحب کا ایک بھانجا کسی طرح بچ بچا کے پاکستان پہنچ گیا۔ مختصر یہ کہ خواجہ صاحب کے لیے سوائے علی گڑھ یو نیورسٹی سے ان کی دیرینہ وابستگی سے ہندوستان میں رہ جانے کی کشش باقی نہ رہی تھی ۔ مگرخود یونیورسٹی کے حالات اتنے مخدوش تھے کہ یہ کشش بھی ان کو روک نہ سکی ۔ گویا خواجہ صاحب نے پاکستان آنے کا فیصلہ بڑی معقول وجوہ کی بنا پرسوچ  سمجھ کر کیا تھا مگر عمر کی اس منزل میں ایک نسبتاً غیرمانوس فضا میں نئے سرے سے زندگی آغاز کرنے کا ایک جذباتی پہلو بھی ہے جس میں ’’کھوئی ہوئی منزل کی یاد‘‘ کی ’’خلش‘‘ بھی شامل ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خواجہ صاحب نے اس ’’خلش‘‘ کو اپنی طبعی سلامت روی کی بدولت کبھی’’ غمِ منزل‘‘ نہیں بننے دیا بلکہ نئی منزل میں بھی پوری دل جمعی کے ساتھ اپنی جملہ سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

    درس و تدریس کے علاوہ خواجہ صاحب کی سب سے بڑی مشغولیت ان کی وہ ادبی تحقیق و تنقید تھی جس میں وہ یہاں آنے سے تقریباً سولہ سال پہلے سے لگے ہوئے تھے اور جس کا ذکر میں کر چکا ہوں ۔ بخاری صاحب کو اس کے بارے میں علم تھا۔ چناں چہ انہوں نے خواجہ صاحب کو آمادہ کیا کہ وہ ایک مختصر سی محفل میں اس موضوع کے کسی ایک پہلو پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ بخاری صاحب کو اس قسم کی محفل آرائی کا شوق تھا مگر اس خاص محفل کا اہتمام کرنے میں ان کا مقصد خواجہ صاحب کو اپنے حلقۂ احباب سے ادبی و علمی سطح پر متعارف کرانا بھی تھا، چناں چہ شاید مارچ ۱۹۴۹ ء کی ایک شام کو پرنسپلز لاج یعنی بخاری صاحب کے گھر پر ان کے جملہ احباب، مولانا عبد المجید سالک ، سید امتیاز علی تاج، تاثیر صاحب، صوفی صاحب ،چراغ حسن حسرت، عابد علی عابد اور فیض صاحب جمع ہوئے ۔ بخاری صاحب کی دعوت پر میں بھی وہاں حاضر تھا۔ خواجہ صاحب ہاتھ میں ایک پوتھی لیے تشریف لائے اور انہوں نے سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل کی تحریک جد و جہاد کے متعلق غالب کی شاعری میں کشش و گریز کی کیفیت کے بارے میں اپنی تحقیق کے نتائج پر کچھ لکھا ہوا پڑھا اور کچھ زبانی گفتگو کی ۔ خواجہ صاحب کوئی لسان آدمی نہیں تھے ۔ وہ رُک رُک کر بولتے تھے اور جستہ جستہ بہت احتیاط اور تلاش کے بعد لفظ زبان پر لاتے تھے ۔ لکھنے میں بھی ان کا انداز یہی تھا۔ ذاتی طور پر میں خواجہ صاحب کی نثر کا قائل ہوں ۔ ان کے تنقیدی محاورے میں احتیاط اور قطعیت کے ساتھ ساتھ خوش ذوقی اور سلیقہ بھی ہے اور کہیں کہیں بول چال کی زبان کی بے ساختگی بھی۔ مگر اس میں رواں دواں تسلسل اظہار کی کیفیت نہیں اور نہ اس میں استدلال کی کڑی سے کڑی ملتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ خواجہ صاحب کی نثر در اصل جملوں اور پیروں ہی میں لطف دیتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی کتابوں کے اکثر پڑھنے والوں کو یہ شکایت رہی ہے کہ وہ کھل کر پوری بات نہیں کرتے بلکہ بات ادھوری اور بعض اوقات تو اَن کہی چھوڑ جاتے ہیں ۔ فی بطنِ شاعر کے وزن پر فی بطن ناقد کا فقرہ بھی ان پر چسپاں کیا گیا ہے ۔ خواجہ صاحب اپنی مدافعت میں کہا کرتے تھے کہ جب شاعر خود بول رہا ہو تو میں بیچ میں بولنے والا کون؟ میں تو شاعر کے اشعار اور ان کے محرک واقعات کو یکجا کر دیتا ہوں۔ بہر حال بخاری صاحب کے ہاں گفتگو کے دوران خواجہ صاحب نے غالب کے بہت سے فارسی اور اردو اشعار کا حوالہ دیا۔ غالب کے اس شعر :

    امشب آتشیں روئے گرم ژند خوانی ہاست

    کزلبش نوا ہردم در شرر فشانی ہاست

    کے متعلق انہوں نے کہا کہ ’’آتشیں روئے ‘‘ سے مراد شاہ اسماعیل ہیں جو بڑے جوش و جذبہ سے تقریر کرتے تھے اور اس کے دوران ان کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا۔ خو ا جہ صاحب صاحب نے جو کچھ فرمایا ، حاضرین نے بڑی تو جہ اور دل چسپی سے سنا ۔ جب وہ اپنی بات ختم کر چکے تو محفل میں خاموشی کا ایک وقفہ آیا اور یہ وقفہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا ، معلوم ہوتا تھا کہ کوئی کچھ کہنا نہیں چاہتا ،کیوں کہ شاید سب کو خواجہ صاحب کے نقطۂ نظر کے بارے میں ایسے شکوک و شبہات تھے جن کے اظہار سے وہ ہچکچا رہے تھے ۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ فیض صاحب کو عام طور پر خواجہ صاحب سے اتفاق تھا مگر بزرگوں کی محفل میں سب سے پہلے بولنا انہوں نے مناسب نہ سمجھا۔ بہر حال آخر حسرت صاحب نے پہل کی انہوں نے کہا کہ مولانا ہم تو سمجھتے تھے کہ’’ آتشیں روئے‘‘ کا اشارہ بھی اسی قسم کے محبوب کی طرف ہے جس کو غالب نے’’ چہرہ فروغِ مے سے گلستان کیے ہوئے‘‘ کے حوالے سے یاد کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ اشارہ ایک داڑھی والے مولوی صاحب کی طرف ہے ! اس پر ہنسی  کی ایک لہر اٹھی اور حسرت صاحب کی پہلی بات ہی اس خاص موضوع پر اس محفل کی آخری بات ثابت ہوئی۔ دو ایک ضمنی باتوں کے بعد تحریک جد و جہاد اور غالب کی شاعری پر عام نوعیت کی باتیں ہونے لگیں اور خواجہ صاحب نے ان میں جو با ہمی  ربط و تعلق کا سراغ لگایا تھا وہ نظر انداز کر دیا گیا ۔ خواجہ صاحب بڑے حسّاس آدمی تھے انہوں نے یقیناً یہ محسو س کیا ہو گا کہ ان کی محنت اکارت گئی مگر مجھ سے انہوں نے بعد میں صرف اتنا ہی کہا کہ ان حضرات کے لیے یہ بڑے اچھنبے کی بات تھی۔

    اس واقعے سے کوئی تیس برس بعد جب خواجہ صاحب کی کتاب ’’ تحریک جدو جہاد بطور موضوعِ سخن‘‘ شائع ہوئی تو کراچی میں غالب کے دوست اور ممدوح مصطفےٰ خاں شیفتہ کے پڑ پوتے، افتخار احمد خاں (عدنی) کے ہاں ایک محفل منعقد ہوئی ۔ اس میں محترمہ ادا جعفری ، پروفیسر کرار حسین ، مشتاق یوسفی، جمیل الدین عالی وغیرہ شامل تھے۔ میں اتفاق سے اس محفل میں بھی موجود تھا۔ وہاں شان الحق حقی صاحب نے کہ علی گڑھ میں خواجہ صاحب کے شاگرد تھے اسی کتاب پر ایک تبصرہ پڑھا جس میں انہوں نے زیادہ تر خواجہ صاحب کی تحقیق و تنقید کی توضیح و تشریح پر زور دیا تھا۔ حقی صاحب کے تبصرے کے بعد جب کتاب پر بات شروع ہوئی تو کرار صاحب نے خواجہ صاحب کے بنیادی نقطۂ نظر سے شدید اختلاف کا اظہار کیا۔ مجھے یوں لگا کہ جو کچھ تیس برس پہلے لاہور کی محفل میں شاید خواجہ صاحب کی موجودگی کی وجہ سے نہیں کہا گیا تھا وہ یہاں ان کی غیر موجودگی میں بر ملا کہا گیا۔ کرار صاحب کا استدلال یہ تھا کہ ہمارے قدیم شعراء عشق اور تصوف اور ان کے مختلف پہلوؤں کو اپنے شعر کا موضوع بناتے تھے۔ غالب کا ’’تحریک جد و جہاد‘‘ سے کوئی واسطہ نہیں تھا اور نہ ہو سکتا تھا کیوں کہ وہ ایک بالکل مختلف مزاج کے مالک تھے ۔ خواجہ صاحب نے بہت زیادتی کی ہے اور ناحق ادب و شعر کے معاملے میں آج کل کے زمانے کے ایک نظریے کو یا اپنے ایک خبط ( OBSESSION ) کو غالب کے سر منڈھ دیا ہے ۔ باقی حاضرین نے بھی عموماً کر ار صاحب سے اتفاق کیا۔ اوبیشن ( OBSESsion )  کا لفظ حقی صاحب نے بھی اپنے تبصرے میں ایک مختلف معنوں میں استعمال کیا تھا۔

    خواجہ صاحب نے مجھے اپنی مذکورہ بالا کتاب اور اس سے پہلے چھپنے والی کتاب ’’اقبال اور بعض دوسرے شعراء“ بڑی شفقت کے الفاظ اور اپنے دستخطوں کے ساتھ عنایت فرمائی تھیں۔ کراچی سے واپسی کے بعد میں نے خواجہ صاحب کی ان دونوں کتابوں پر ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں یکے بعد دیگرے دو مضمون لکھے ۔ اقبال والی کتاب پر مضمون میں تو زیادہ تر خواجہ صاحب کے انداز تنقید اور طرز تحریر پر  بحث کی اور موضوع سخن والی کتاب پر اپنا مضمون میں نے شروع ہی لاہور اور کراچی والی محفلوں کی روئداد سے کیا اور اس میں کر ا ر صاحب کے تبصرے کا بھی ذکر کیا۔ البتہ میرا نکتہ تاکید یہ تھا کہ ہمیں خواجہ صاحب جیسے بلند پایہ محقق اور نقاد کی تصریحات کو محض اپنی شاعری کے بارے میں اپنے پرانے تصورات کی بنا پر رد نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ خواجہ صاحب نے ہماری ادبی تحقیق و تنقید کو ایک نئی راہ پر لاڈالا ہے۔ چناں چہ میں نے ان کے نظریے کی بنیادی صداقت تسلیم کرتے ہوئے اس کی تائید کی مگر اس کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی عرض کیا کہ بعض اشعار کی تشریح میں یقیناً اختلاف ہو سکتا ہے اس لیے کہ غزل کے اشعار میں عام طور پر عمومیت پائی جاتی ہے اور کئی جگہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب نے کھینچ تان کرکسی ایک شعر کو کسی ایک واقعے سے مخصوص کر دیا ہے۔

    یہ مضمون لکھنے کے بعد مجھے اتفاقا ً ٹی ایس ایلیٹ کا مضمون ( the frontiers of criticism )   یعنی ’’ تنقید کی سرحدیں‘‘ یاد آیا جو میں نے برسوں پہلے پڑھا تھا۔ میں نے اسی عنوان سے پاکستان ٹائمز ہی میں ایک اور مضمون لکھا جس میں غزل کے اشعار کی معنوی عمومیت کے ذکر کے بعد ایلیٹ کے استدلال کی پیروی کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ اشعار کے خصوصی محرکات کی تفتیش ادبی تنقید کے نقطۂ نظر سے کہاں تک ضروری اور مناسب ہے۔ چناں چہ میں نے خواجہ صاحب کا حوالہ دیے بغیر غالب سے اس شعر کے بارے میں کہا کہ یہ کسی خصوصی معنی کے بغیر بھی حسین ہے:

    سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر

    تو اس قدِ دل کش سے جو گلزار میں آوے

    میرا اشارہ خواجہ صاحب کی اس تشریح کی طرف تھا کہ اس شعر کا خطاب سید احمد بریلوی سے ہے اور سرو و صنوبر سے مراد شاہ اسماعیل اور مولانا عبدالحئی ہیں جو ہر وقت سید صاحب کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے ۔ خواجہ صاحب نے میرا مضمون پڑھا اور اگلی ملاقات میں مجھ سے کہنے لگے کہ اگر اس شعر کے بارے میں تمہاری بات مان بھی لی جائے تو اسی غزل کے ایک اور شعر کے بارے میں کیا کہو گے اور اس کے بعد یہ شعر پڑھا:

    کانٹوں کی زبان سوکھ گئی پیاس سے یارب

    اک آبلہ پا وادیِ پر خار میں آوے

    یہاں آبلہ پا کا اشارہ کس کی طرف ہے ؟ یقینی طور پر سید صاحب کی طرف اور خواجہ صاحب نے یہ بات اتنی قطعیت سے کہی کہ میں خاموش ہو گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ خواجہ صاحب کو اپنی تحقیق کے نتائج پر اتنا پختہ یقین تھا کہ وہ کسی شک و شبہ کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔

     میں نے جو کراچی کی محفل اور اپنے مضمون کی داستان سنائی ہے تو اس کا ایک خاص مقصد ہے وہ یہ کہ خواجہ صاحب نے اپنی آخری کتاب’’اُردو غزل کا خارجی روپ بہروپ ‘‘کے پیش لفظ میں جو کچھ لکھا ہے اس کا اس داستان سے براہِ راست تعلق ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی حوالہ نہیں دیا مگر یہ داستان سُن لینے کے بعد آپ کو صحیح اندازہ ہو گا کہ خواجہ صاحب کے ذہن میں وہ کون سی باتیں تھیں جن کا وہ جواب دے رہے تھے مثلاً پیش لفظ کا ابتدائی حصہ ملاحظہ فرمایے :

    ’’نری غزلیت (خالص شاعری) کے رسیا اب بھی پائے جاتے ہیں جو شارح غزل میں حسن و عشق کے معاملوں یا متصوفانہ کیفیتوں کے علاوہ پس پردہ تاریخی موثرات ڈھونڈتا ہے اور پانے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ وہ ان کے خیال میں عہد ِحاضر کا یا اپنا ایک خبط اس صنفِ سخن پر زبر دستی منڈھتا ہے ۔ اگر تاریخی حالات و معاملات اور ان کے اثرات سے تعلقِ خاطر واقعی ایک خبط ہے تو شاید ہی کوئی اہم غزل گو ہو جو اس سے مامون معنون رہا ہو ۔ غزل کا تاریخی تناظر میں مطالعہ کرنے والا اس خبط میں اسی حد تک ضرور مبتلا سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ شاعروں کی عبارت واشارت کو ٹٹول ٹٹول کر یا کرید کے ان کی سیاسی و معاشرتی حسیت تک پہنچنے کی کاوش کرتا ہے اس کی تفسیر و تعبیر کے ناقابل قبول پہلوؤں کی نشان دہی اور گرفت کرنا ہر ذی شعور پڑھنے والے کا نہ صرف حق بلکہ فرض ہے ۔ البتہ یہ محاکمہ منصفانہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ شاعروں کے جو نقش اور اصناف سخن کے باب میں جو مفر وضے  پہلے سے جمے ہوئے ہیں، انہیں کچھ دیر کو دل و دماغ سے نکال دیا جائے ۔‘‘

    یہ حصہ جواب ہے کرار صاحب کے تبصرے کا جس کا ذکر میں نے’’ موضوعِ سخن‘‘ پر اپنے تبصرے کے دوران کیا تھا۔ اب ’’پیش لفظ‘‘ کا درمیانی حصہ دیکھیے:

    ’’ حقیقت یہ ہے کہ ہر غزل کا کچھ کلام ایسا ہوتا ہےجو داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر یکساں معنویت رکھتا ہے ۔ اس کی کسی خالص یک سطحی تفسیر سے اس کے دوسرے پہلو خارج یارد نہیں کیے جاسکتے مگر ان سب کا کچھ کلام اعلیٰ قدر مراتب مختلف مقدار میں ایسا بھی ہوتا ہے جو ان کے خارجی مافی الضمیر تک پہنچے بغیر بامعنی نہیں بنتا۔ ایسے کلام کی معنوی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو کیا یہ ایلیٹ کے الفاظ میں تنقید کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہوگی ؟ کیا ایسی محدود اور مخصوص چھان بین کے بغیر کسی شاعر کے ذہن اور فن کا باخبر جچا تلا تخمینہ قائم کیا جا سکتا ہے ؟ ‘‘

    یہ حصہ میری ان معروضات کا جواب ہے جو میں نے اپنے دوسرے انگریزی مضمون میں ایلیٹ کے حوالے سے کی تھیں۔

    آخر میں اپنے ان مضامین کے سلسلے کی ایک ضمنی بات بھی عرض کرتا ہوں ۔ مئی ۱۹۸۶ ء میں خواجہ صاحب کی کتابوں پر میں نے دو اور مضمون لکھے جو ’’ ڈان‘‘ میں چھپے ۔

    انہی دنوں انجمن ترقی پسند مصنفین کی پچاسویں سال گرہ کراچی میں منائی گئی تھی ۔ میں نے اس کے حوالے سے خواجہ صاحب کے تحقیقی اور تنقیدی کام کا جائزہ لیتے ہوئے یاد دلایا کہ نظری سطح پر ترقی پسند نقاد اور ادیب ادب اور زندگی کے رشتے پر بہت زور دیتے رہے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ان میں سے اکثر یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ ہمارے قدیم شعراء اپنے آس پاس کی دُنیا سے الگ ایک اور ہی دُنیا آباد کیے ہوئے تھے۔ خواجہ صاحب وہ واحد نقاد ہیں جنہوں نے ان شعراء کے کلام اور ان کے زمانے کے حالات و واقعات کے باہمی ربط و تعلق کا سراغ لگایا ہے اور اس طرح ایک نظریے کو عملی سطح پر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔

     مجھے یہ مضامین لکھنے کی تحریک کچھ اس وجہ سے بھی ہوئی کہ چند ہی دنوں کے بعد خواجہ صاحب اسی برس کے ہونے والے تھے، وہ راولپنڈی کے فوجی فاؤنڈیشن اسپتال میں صاحب فراش تھے ۔ ذاتی طور پر مجھے ان کی مکمل صحت یابی کی اُمید بہت کم تھی ۔ میں جب ان کی عیادت کے لیے جاتا تھا تو اکثر سوچتا تھا کہ ادب و شعر کی دُنیا کا یہ حال مست فقیر گوشہ نشین کہ جس نے عمر کا بیشتر حصہ شعراء کے دواوین کھنگالنے اور اپنی پوتھیاں بھرنے میں صرف کیا ہے، جسے کبھی نہ ستائش کی تمنا ہوئی نہ صلے کی پروا اور جس کی صدا بھی سنی ان سنی کر دی گئی اب شاید اس دُنیا سے رخصت ہونے والا ہے لہٰذا کیوں نہ میں ایک بار پھر اس کی صدا پر صدا دوں اور ادیبوں کے اس طبقے کو پکاروں کہ جس کے لیے اس کا کام خاص توجہ کا مستحق تھا۔

     خواجہ صاحب نے اپنے بستر علالت پر جب یہ مضمون پڑھے تو خوش ہوئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ تم نے اتنے برسوں بعد پھر وہی راگ الاپا ہے اور اب کے کراچی والوں سے خطاب کیا ہے۔ ترقی پسندادیوں سے تو کوئی رسید نہ ملی البتہ خواجہ صاحب کےمعالج جنرل شوکت حسن کو کہ ایم ۔ اے۔ او کالج امرتسر میں فیض صاحب کے شاگرد ہونے کی حیثیت سے ان کے چاہنے والوں اور میرے جاننے والوں میں سے ہیں، جب خواجہ صاحب کے علمی وادبی رتبے کا علم ہوا تو وہ بہت متاثر ہوئے ۔ انہوں نے خواجہ صاحب سے بھی اس کا   اظہار کیا اور مجھ سے بھی ۔

    میں نے خواجہ صاحب کو شعر و ادب کی دنیا کا حال مست فقیر ِگوشہ نشین کہا ہے۔ اس لیے کہ میں نے انہیں ایسا ہی پایا۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ علی گڑھ میں خواجہ صاحب کی زندگی کا عام معمول کیا تھا اور ان کے دوست اور ملنے والے کون تھے ۔ وہ کبھی کبھی علی گڑھ کی بعض شخصیتوں کا ذکر تو کرتے تھے مگر اس طرح نہیں کہ جیسے ان کے بغیر ان کی زندگی میں کوئی خلا پیدا ہو گیا ہو۔ لاہور میں خواجہ صاحب کا میل ملاپ زیادہ تر ان کے سسرالی عزیزوں تک محدود تھا یا ان عزیزوں کے دوستوں تک مگر یہ خواجہ صاحب کے مزاج اور ڈھنگ کے لوگ نہیں تھے۔ کالج میں جو رنگ محفل تھا اس کا میں ذکر کر ہی چکا ہوں ۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے لاہور میں خواجہ صاحب اپنے ہم زلف میاں افتخار الدین سے بہت قریب تھے ۔ میاں صاحب کے چھوٹے بیٹے سہیل کو بھی وہ بہت چاہتے تھے۔ اس کے نام انہوں نے اپنی ایک کتاب بھی معنون کی ہے۔ میاں افتخار الدین بھی ان کے آکسفورڈ کے زمانے کے ساتھی تھے۔ ان سے کچھ فکر و خیال کا اشتراک بھی تھا اور آکسفورڈہی کے زمانے کے کچھ دوست سجاد ظہیر، صاحب زادہ محمود الظفر وغیرہ بھی مشترک تھے لہٰذا شعر و ادب پر نہ سہی مگر میاں صاحب سے خواجہ صاحب کی بات چیت ہو سکتی تھی۔ میاں صاحب نے جب پروگرسیو پیپرز کے ادارے کی بنا ڈالی تو خواجہ صاحب کو ادارے کے مختلف رسائل و اخبارات ’’پاکستان ٹائمز‘‘ ، ’’امروز‘‘ وغیرہ کی مجموعی سربراہی کی پیش کش بھی کی تھی مگر خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ سیاست اور صحافت میرے بس کا روگ نہیں۔ میرا کام درس و تدریس ہے ۔

    ذہنی قرب اور ذاتی خلوص کے با وجو د میاں صاحب اور خواجہ صاحب کی طبیعتوں میں بہت اختلاف تھا۔ میاں صاحب میدانِ سیاست کے شاہ سوار، گفتار اور کردار میں ایک شعلۂ جوالہ جو افسوس ’’ خوش درخشید ولے دولت مستعجل بود‘‘ اور خواجہ صاحب جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں۔ کم آمیز اور کم گو آدمی تھے ۔ وہ عزلت گزیں اور تنہائی پسند تھے۔ جو وظائف حیات انہوں نے اپنے لیے منتخب کر لیے تھے وہ انہی سے اور بعض دوسرے مشاغل اور معمولات سے اپنی تنہائی کو بارونق بنالیا کرتے تھے اور مطمئن رہتے تھے۔

    خواجہ صاحب سنجیدہ علمی وادبی کتابوں کے رسیا تھے مگر عام پسند ناول اور افسانے بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹے خواجہ شاہد حسین، جن کو وہ کبھی کبھی اپنی ٹھیٹھ بولی میں شدن کہا کرتے تھے اور بیٹی ثمینہ ، جن کو وہ ہمیشہ مینا پکارتے تھے، ان کو انگریزی کی ہر قسم کی نئی اور تازہ تصنیفات مہیا کرتے رہتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے انگریزی کے بالکل نئے مصنفین کے کچھ ناول پڑھے ۔ خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی تو مجھے یہ جان کر کسی قدر حیرت ہوئی کہ خواجہ صاحب نے یہ سب ناول بھی پڑھ رکھے تھے ۔ مجھ سے کہنے لگے تم نے دیکھا کہ انگریزی ناول کی دُنیا ہی بدل گئی ہے ۔ زبان اور مواد دونوں کے اعتبار سے اور جنس کا ذکر تو خواتین ناول نگار بھی اب اس طرح کرتی ہیں کہ غریب ڈی ایچ لارنس بھی شرما جائے ۔

    خواجہ صاحب کا ایک روزانہ کا معمول پیدل چلنا بھی تھا جسے وہ مٹر گشت کہا کرتے تھے۔ اپنی آخری بیماری کے دوران جب وہ پابند بستر ہو کر رہ گئے تو ان کو ایک افسوس یہ بھی تھا کہ وہ اپنے ایک پُر لطف معمول سے محروم ہو گئے ہیں۔ آپریشن کے کچھ دنوں بعد جب ڈاکٹر نے انہیں تھوڑا بہت چلنے کی اجازت دی تو بہت خوش ہوئے ۔ دوسرے دن میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھا کہ خواجہ صاحب مجھے مینا نے ابھی بتایا ہے کہ آج آپ نے کچھ ٹہلیدن کی مشق بھی کی ۔ مسکرا کر کہنے لگے ’’ ہاں مگر لغزیدن کے ساتھ‘‘ اور پھر کسی قدر حسرت بھرے لہجے میں اپنی بیماری سے پہلے کے ایام کی چار چار پانچ پانچی میل لمبی سیر کا ذکر کرنے لگے۔

    یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ خواجہ صاحب نے خود کبھی کسی کھیل میں حصہ لیا تھا یا نہیں البتہ انہیں کرکٹ سے بڑی دل چسپی تھی ۔ ایک دفعہ میں لاہور میں تھا اور کراچی میں پاکستان اور انگلستان کا ٹیسٹ میچ کھیلا جارہا تھا جو میں اپنی قیام گاہ میں ٹیلی وژن پر دیکھ رہا تھا اسے چھوڑ کر جب میں خواجہ صاحب کے ہاں پہنچا کہ اُن سے ملنا ضروری تھا تو معلوم ہوا کہ خواجہ صاحب بھی ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھے ہیں ۔ چناں چہ دو ایک رسمی باتوں کے بعد ہم دونوں کرکٹ کا کھیل دیکھنے اور اس پر رواں تبصرہ سُنے میں ایسے محو ہوئے کہ اور کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔ مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ خواجہ صاحب کا کرکٹ بینی کا شوق اس انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔

    مختصر یہ کہ خواجہ صاحب گوشہ نشین، تنہائی پسند ضرور تھے مگر ان کے شب و روز کسی طرح بھی سپاٹ اور ٹھس نہیں تھے۔ اس لیے کہ انہیں اپنی پسند کے معمولات اور مشاغل میں مصروف رہنا آتا تھا اور یہی طرزِ حیات ان کو پسند بھی تھی۔ ان کا سب سے بڑا مشغلہ تو ظاہر ہے کہ مطالعہ اورتحقیق و تنقید ہی تھا اور چوں کہ اس میدان میں انہیں ایک خاص نقطۂ نظر کو ثابت کرنا مقصور تھا۔ لہذا انہیں اتنی محنت اور دیدہ ریزی سے کام لینا پڑا جتنی عام طور پر ضروری نہیں ہوتی۔ میرے خیال میں شاید ہی کوئی ایسا محقق اور ناقد ہو جس نے اس دور میں فارسی اور اردو شاعری کا اتنا وسیع اور گہرا مطالعہ کیا ہو جتنا خواجہ صاحب نے اور اس میں قدیم و جدید کی بھی کوئی تخصیص نہیں تھی ۔ خواجہ صاحب نے اپنی کتابوں میں قدم قدم پر مختلف عنوانات کے ماتحت رومی سے لے کر افتخار عارف تک کے بے شمار اشعار کے حوالے دیے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کتابیں خواجہ صاحب کے ’’تنقیدی اشارات‘‘ کے مجموعے ہی نہیں فارسی اور اُردو کے منتخب اشعار کے ’’طلائی خزانے‘‘ بھی ہیں۔

     یہ تو شعر و ادب کے باب میں خواجہ صاحب کے علم و آگہی کی بات ہوئی مگر اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب ان چند نفوس میں سے تھے جنہوں نے ادب و شعر کو کبھی محض تفریح کا سامان یا محض وسیلۂ معاش نہیں سمجھا بلکہ ان سے اپنی شخصیت کو سنوار نےاور نکھارنے کا کام لیا اور ان سے( sweetness & light )   ’’ حلاوت اور روشنی‘‘ جیسی صفات اخذ کیں کہ جنہیں میتھو آرنلڈنے کلچر کے اعلیٰ ترین اجزا قرار دیا ہے ۔ خواجہ صاحب حقیقی معنوں میں بڑے مہذب آدمی تھے۔ ان کی شخصی تہذیب اور شائستگی ان کی زندگی کے طور طریقوں اور ان کی گفتار و کردار سے نمایاں تھی۔

    عمر کے آخری حصے میں خواجہ صاحب کو ایک بڑے مشکل اور صبر آزما وقت سے گزر نا پڑا ۔ ان کی بیگم خاصے طویل عرصے تک ایک اعصابی مرض میں مبتلا رہیں اور یہی وہ زمانہ ہے جب ان کے بیٹے خواجہ شاہد حسین جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں ایک اعلیٰ عہدے سے برطرف کر دیئے گئے تھے اور وہ اپنے بیوی بچوں سمیت وطن چھوڑ کے تلاش معاش کے سلسلے میں لندن جانے پر مجبور ہو گئے ۔ ان مصائب کو خواجہ صاحب نے جس ضبط و تحمل اور سکون و ثبات سے قبول کیا اس سے بھی ان کی اس مربوط شخصیت کا اظہار ہوتا تھا جس کی تعمیر میں ادب و شعر نے بھی ایک نمایاں حصہ لیا تھا۔

    اعصابی مرض کے دوران ہی خواجہ صاحب کی بیگم کا انتقال ہوا اور خواجہ صاحب اکیلے رہ گئے چناں چہ انہوں نے زمان پارک والا مکان کہ جہاں وہ اب مقیم تھے چھوڑ دیا اور گلبرگ میں اپنی بیٹی مینا اور اس کے شوہر شاہد رحمٰن کے گھر سے ملحق پچھلی طرف کو اپنے لیے دو ایک کمرے تعمیر کروا لیے اور وہاں اُٹھ آئے۔ اپنی بیگم کی وفات کے کوئی ڈیڑھ برس بعد جب وہ خود بیمار پڑے اور آپریشن کا علاج تجویز کیا گیا توان کے بیٹے شاہد نے انہیں لندن لے جانے کا پروگرام بنایا اور اصرار کیا مگر خواجہ صاحب نہ مانے اور ’’اپنے وطن میں سب کچھ ہے پیارے ‘‘کہہ کرٹال دیا ۔ ہاں راولپنڈی آنے پہ تیار ہو گئے کہ یہاں فوجی فاؤنڈیشن کے اسپتال میں ملک کے مشہور سر جن جنرل شوکت حسن سے آپریشن کرائیں گے ۔ آپریشن کے بعد بھی وہ کئی ہفتوں تک اسپتال میں داخل رہے ۔ اپنی بیماری اور آپریشن کی وجہ سے خواجہ صاحب کسی قدر گرفتہ دل اور پژمردہ ضرور تھے مگر ان کا صبر و تحمل اور زندگی سے ان کا ربط و تعلق اب بھی قائم تھا۔ خواجہ صاحب کو براہ راست تو سیاست یا صحافت سے کوئی تعلق نہ تھا مگر سیاست اور صحافت سے انہیں دلچسپی بہت تھی۔ وہ حالات حاضرہ پر ہمیشہ نظر رکھتے تھے اور اردو انگریزی اخبارات و رسائل کا مطالعہ ان کا معمول تھا۔ یہ معمول اسپتال میں بھی جاری رہا۔ میں تقریبا ہر روز ان کی عیادت کے لیے جاتا تھا اور وہ ہر روز مجھ سے تازہ بہ تازہ نو بہ نو خبروں پر بات چیت کرتے تھے۔ ان کے گر داخبارات ورسائل کے ڈھیر لگے رہتے تھے۔ یہ اپریل ۱۹۸۶ ء کے بعد کا وہ زمانہ ہے جب بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آچکی تھیں اور شہروں شہروں قریوں قریوں ان کا بے مثال استقبال ہو چکا تھا۔ خواجہ صاحب ملکی حالات میں اس تبدیلی پر بہت خوش تھے۔ اب انہیں کچھ امید ہو چلی تھی ورنہ اس سے پہلے تو انہوں نے مجھ سے ایک بار بہت زچ ہو کر سخت مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

     آخر خواجہ صاحب بظاہر کسی قدر صحت یاب ہونے پر اپنی بیٹی مینا اور اس کے شوہر شاہد رحمٰن کے ساتھ لاہور اور ان کے بیٹے خواجہ شاہد حسین لندن واپس چلے گئے۔ میں اسلام آباد سے فون پر مینا سے ان کا حال پوچھ لیا کرتا تھا ۔کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی ہے۔ مجھے انہی دنوں ایک ضروری کام کے سلسلے میں کراچی جانا تھا۔ جانے سے پہلے میں نے فون کیا تو ملازم نے غلطی سے فون خواجہ صاحب کے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے ان کو کچھ بھرائی ہوئی اور لڑکھڑائی آواز میں یہ کہتے سنا’’ ہم جار ہے ہیں تم ہم سے آکر مل جاؤ ؟‘‘ میں نے سمجھا کہ خواجہ صاحب کو مجھ پر اپنے بیٹے کا دھوکہ ہوا ہے۔ بعد میں شاہد رحمٰن نے بتایا کہ خواجہ صاحب کو معلوم تھا کہ یہ آپ کا فون ہے۔ لندن سے شاہد کا فون تو اس سے پہلے آچکا تھا جس میں اس نے اپنے لاہور کے لیے روانہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔ میں ابھی کراچی ہی میں تھا کہ خواجہ صاحب کے انتقال کی خبر آئی اور وہ شمع، جس نے قدیم اُردو شاعری کے حرف و معنی کے رموزو اسرار پر ایک بالکل نئی سمت سے روشنی ڈالی تھی ، ہمیشہ کے لیے گل ہوگئی۔

    ( ۱۹۸۸ء)