ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر

    ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر

    یہ ۱۹۴۰ ء کی دہائی کے شروع کی بات ہے کہ جب میں ایف اے کا طالب علم تھا۔ نئے ادب کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ تاثیر صاحب کی ادبی سرگرمیوں کی رَو اگرچہ دھیمی  تھی مگر ان کے نام کی گونج لاہور کی ادبی فضا میں اب بھی اکثر سنائی دے جاتی تھی ۔ نوجوان ادیب تاثیر صاحب کو نئی شاعری اور نئی تنقید کے اہم پیش رو اور ادب کے ایک مقتدراستاد کی حیثیت سے جانتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے۔ ادب کے متعلق میرا ذوق وشوق اب اس منزل میں تھا کہ مجھے کتابوں اور رسالوں کی دنیا سے گزر کر ادیبوں کو قریب سے دیکھنے اور ان سے ملنے کی خواہش ہونے لگی تھی ۔ تاثیر صاحب سے میں ملا تو نہیں تھا چوں کہ وہ اس زمانے میں ایم اے او کالج امرتسر کے پرنسپل تھے اور لاہور آتے بھی تھے تو بہت مختصر وقت کے لیے مگر ان کے متعلق لوگوں کی باتیں سُن سُن کے دل ہی دل میں ان سے مرعوب ہوچکاتھا۔

    دور دورسے میں نے تاثیر صاحب کو کئی بار دیکھا تھا۔ ۱۹۳۸ ء کے یوم اقبال کے جلسے میں جو لا کالج کے ہال میں منعقد ہوا تھا۔ پھر جبیبیہ ہال اسلامیہ کالج کے ایک مشاعرے میں کہ جہاں وہ صدر تھے ۔ فیض کو بھی میں نے اسی مشاعرے میں پہلی بار دیکھا تھا۔ پنڈت ہری چند اختر نے اس مشاعرے میں اپنی وہ غزل سنائی تھی جو اس زمانے میں خاصی مقبول تھی۔ دوشعر مجھے اب تک یاد ہیں :

    شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا

    مری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا

    ہمیں بھی آپڑا ہے دوستوں سے کام کچھ یعنی

    ہمارے دوستوں کے بے وفا ہونے کا وقت آیا

    تاثیر صاحب نے اپنی مشہور نظم’’ رس بھرے ہونٹ‘‘ سنائی اور خوب داد پائی ۔ اس کے بعد میں نے انہیں گورنمنٹ کالج کے ایک مشاعرے میں نسبتاً قریب سے دیکھا۔ جہاں وہ کرسیوں کی اگلی صف میں شمع محفل بنے بیٹھے تھے، ڈھیلی ڈھالی سفید سلک کی شیروانی پہنے کرسی پر بار بار پہلو بدلتے ہوئے، شعروں پر اپنے دست و بازو کی مخصوص جنبشوں کے ساتھ داد دیتے ہوئے۔ اونچا ماتھا بھاری بھر کم سر، چہرے پر شگفتگی کی چمک ، تاثیر صاحب سب کی نگاہوں کا مرکز تھے۔ شاعر شعر پڑھتا تھا، تو ان کو مخاطب کر کے ، سامعین داد دیتے تھے تو ان کی طرف دیکھ کے، خود تاثیر صاحب کو اس مجلس میں اپنی اہمیت کا پورا احساس تھا، اس مشاعرے میں بھی انہوں نے اپنی مشہور نظم، ’’رس بھرے ہونٹ‘‘ اپنے مخصوص لہجے میں سنائی ۔

    یہ تاثیر صاحب کی ایک تصویر تھی ۔اس کے بعد ان کی ایک اور تصویر اس سے بالکل مختلف رنگ کی، ایک اور جگہ دیکھنے میں آئی۔ ۱۹۴۰ ء کے اپریل یا مئی کا ذکر ہے۔ سٹوڈنٹس فیڈریشن نے کہ جس کے زعما میں مظہر علی خان (سابق ایڈیٹر پاکستان ٹائمز) راج ہنس کرشنا،  رومیش چندر وغیرہ شامل تھے۔ مارکسزم پر لیکچروں کے لیے لاجپت رائے ہال میں ایک سٹڈی سرکل کا اہتمام کیا۔ میرے دوست صفدر میر (زینو ) اور میں بھی اس سرکل کے جلسوں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ خشک موضوعات پر ان سے بھی زیادہ خشک لیکچر سنتے سنتے کافی دن ہو چکے تھے۔ آخر ایک شام جب ہم وہاں پہنچے تو معلوم ہو کہ آج ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر ’’سرمایہ داری کے ارتقاء‘‘ پر لیکچر دیں گے ۔ وقت مقررہ پر تاثیر صاحب عجب بے پروائی کے انداز میں لیے لیے ڈگ بھرتے کمرے میں داخل ہوئے ۔ ہاتھ میں ایک سرخ سی کتاب ،منہ میں پائپ، ایک ہلکے سیاہی مائل کپڑے کا سوٹ پہنے ہوئے جس پر استری کا کوئی نشان اب باقی نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد انہوں نے اپنے موضوع کے متعلق انگریزی میں تقریر شروع کی۔ بات انہوں نے کچھ اس بے تکلفی سے چھیڑی کہ فوراًہی کمرے کی کھنچی ہوئی فضا میں آسودگی سی آگئی اور چند منٹوں کے بعد تاثیر صاحب مکمل طور پر حاضرین کے ذہنوں پر چھاچکے تھے ۔ ان کے اسلوب بیان کی تازگی اور شگفتگی، بات سے بات نکالنے کے نرالے ڈھنگ، کتابی مثالوں کی بجائے آمنے سامنے کے واقعات پر مبنی مثالیں، تیز اور چست فقرے، مارکس کی ’’داس کیپیٹل‘‘ سے بڑے بڑے دقیق اور خشک اقتباسات چھانٹ چھانٹ کر سناتے تھے اور ان کی تشریح میں مزاح اور ظرافت پیدا کیے جاتے تھے ۔ تاثیر صاحب کی تقریر نے محفل کا رنگ بدل ڈالا، کمرے میں قہقہوں اور مسکراہٹوں کے ہجوم سے زندگی کے آثار پیدا ہو گئے ۔ یہ محض ان کی طرزِ کلام کا جادو تھا ورنہ مادیت بالضد اور معاشی تاریخ جیسی سنگلاخ زمینوں کو یوں پانی کر دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

    تاثیر صاحب کا یہ رنگ دیکھ کر میرے لیے ان کی شخصیت کی کشش دو چند ہو گئی مگر کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ تاثیر صاحب سری پرتاب کا لج کے پرنسپل ہو کر سری نگر چلے گئے ہیں ۔ آخر ۱۹۴۰ ء کے کرسمس میں ان سے ملنے کی صورت پیدا ہوئی ۔ وہ لا ہور میں اپنے بارود خانے والے مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ میرے دوست امجد حسین ،جو حلقۂ ارباب ذوق کے جوائنٹ سیکریٹری ہو گئے تھے ۔ انہیں حلقے کے جلسے کی صدارت کی دعوت دینے گئے ۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ امجد ان سے ایک دفعہ پہلے مل چکے تھے۔ میں ان کے لیے بالکل اجنبی تھا۔ نام کے تعارف کے بعد کالج ، کلاس ،مضامین، سب کچھ دریافت کیا اور پھر خود ہی کہنے لگے ’’ خاص دل چسپی تو آپ کی لکھنا پڑھنا ہی ہو گی۔ ورنہ مجھ سے ملنے کیوں آتے ؟‘‘ یہ تھی تاثیر صاحب سے ملاقات کی ابتداء ..... ان کے انداز میں اتنی بے ساختگی اور بے تکلفی تھی کہ تعارف کے فوراً ہی بعد مجھے دُوری کے وہ پر دے جو میرے ذہن نے اپنے اور تاثیر صاحب کے درمیان کھینچ رکھے تھے بتدریج اُٹھتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ مجھے چوں کہ ادب ہی سے زیادہ دل چسپی تھی اس لیے گفتگو ادب تک ہی محدود رہی۔ میں کسی مسئلہ کے بارے میں ان کی رائے پوچھ لیتا اور وہ شروع ہو جاتے۔ میں اگر کچھ کہنے کی جرأت کرتا تو وہ اس تو جہ سے سنتے کہ میں کچھ جھینپ کررہ جاتا ۔ کہیں کہیں میری تائید کر کے مجھے بڑھا وا بھی دیے جاتے۔

     اس ملاقات کی ایک بات مجھے خاص طور پر یاد ہے ۔ غالب کا ذکر آیا تو کہنے لگے کہ’’ ہمارے نوجوان پرانے شاعروں میں صرف غالب ہی کو پڑھتے ہیں حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ میر غالب سے بڑا شاعر ہے ۔ غالب کا متداول دیوان اس کے کلام کا انتخاب ہے ، میر کا کلام چھ دیوانوں پر  مشتمل ہے، اس لیے اس کے ہاں معمولی اور پست اشعار کی بھر مار بھی خاصی ہے، لیکن اگر ڈھنگ سے میر کا انتخاب کیا جائے تو اس کے ہاں اعلیٰ اور بلند پایہ اشعار غالب کے مقابلے میں کہیں زیادہ   نکل آئیں گے ۔ میر کے تجربات کی دنیا وسیع بھی ہے اور متنوع بھی‘‘..... اس کے بعد انہوں نے میر کی اس غزل کے چند اشعار سنائے جس کا مطلع ہے :

    یار و مجھے معاف رکھو ، میں نشے میں ہوں

    اب دو تو جام خالی ہی دو، میں نشے میں ہوں

    مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی ۔ اس لیے کہ تاثیر صاحب کامزاج  میر کی شاعری کے مزاج  سے بہت مختلف تھا ۔ میر و غالب کے ذکر کے بعد انہوں نے اپنے پسندیدہ فارسی شاعر نظیری کی ایک غزل کے کچھ اشعار سنائے اور اس شعر میں الفاظ کی صوتی ترتیب کی خاص طور پر تعریف کی:

    جمالِ موصولیاں خوئے  کو فیاں داری

    نہ  در دیارِ وفازادهٔ دریغ از تو

    اس ملاقات کے چند دن بعد تاثیر صاحب حلقۂ ارباب ذوق کے جلسے کی صدارت کرنے آئے ۔ کرسمس کی چھٹیوں کا زمانہ تھا ، تاثیر صاحب تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے تھے ان کے چہرے پر کشمیر کے موسمِ سرما کی بخشی ہوئی صحت اور توانائی کی سرخی   تھی ۔ حلقے کا جلسہ بھی خوب بارونق تھا۔ میرا جی نے تاثیر صاحب کی نظروں میں حلقے کی توقیر بڑھانے کی غرض سے خاص طور پر یوسف ظفر کی نظم پروگرام میں رکھوائی تھی کہ وہ اس زمانے میں حلقے کے جدید شعراء میں سر بر آوردہ بھی تھے اور میراجی کے قریبی دوست بھی ۔لیکن نظم ان کی اس شام اس قدر کمزور رہی کہ میرا جی کا مقصد پورا نہ ہو سکا ۔ نظم کا بنیادی خیال ہی بہت عام قسم کا تھا کہ شہر کی زندگی سے شاعرکو مرغزاروں اور دریا کے کنارے حسین منظروں میں سکون ملتا ہے ۔ چناں چہ تاثیر صاحب نے اس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ اب ہمارے شاعر اس قسم کی فرار پسندی اور رومانیت چھوڑ چکے ہیں اور یہ کہ اب وہ زندگی سے آنکھیں چار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں مگر یہاں تو معاملہ ہی دوسرا ہے ۔

    اُس پہلی ملاقات کے بعد جس کا ذکر اوپر ہوا ہے تاثیر صاحب سے ان کی زندگی کے آخر تک مسلسل میری ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ اپریل ۱۹۴۷ ء تک وہ ملازمت کے سلسلے میں لاہور سے باہر ر ہے، مگر لاہور آتے جاتے رہے۔ میں اکثر ان سے ملتا رہا۔ جب بھی مجھے دہلی جانے کا اتفاق ہوا، ہر دفعہ، ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دہلی میں ان سے ایک ملاقات اس دن بھی ہوئی تھی، جس دن مسلم لیگ نے ڈائرکٹ ایکشن کا پروگرام بنایا تھا۔ میرے دوست امجد حسین اور میں نئی دہلی میں تاثیر صاحب کے ہاں دو پہر کے کھانے پر مدعو تھے ۔ کھانے کے بعد کافی دیر تک تاثیر صاحب ہندو مسلم کش مکش اور ملکی سیاست پر گفتگو کرتے رہے ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ۔ تاثیر صاحب نے اٹھ کر فون سنا تو ایک دم سے ان کے منہ سے حیرت و استعجاب کے لہجے میں یہ الفاظ نکلے :

     ?! ONE THOUSAND KILLED   امجد اور میں سناٹے میں آگئے مگر دم بخود بیٹھے فون کی گفتگو کے خاتمے کا انتظار کرتے رہے ۔ چند منٹ کے بعد جب یہ گفتگو ختم ہوئی تو تاثیر صاحب نے ہمیں بتایا کہ یہ مجید ملک کا فون تھا۔ کلکتے میں ڈائرکٹ ایکشن کے سلسلے میں فساد ہوا ہے اور فوج کی اطلاع کے مطابق اندیشہ ہے کہ ایک ہزار آدمی ہلاک ہوئے ہیں اس وقت کوئی چار بچے ہوں گے ہم لوگ یہ خبرسننے کے بعد کچھ دیر اور بیٹھے اور پھر تاثیر صاحب نے ہمیں یہ کہہ کے رخصت کر دیا کہ تم پرانی دہلی میں ٹھہرے ہوئے ہو۔ اب اپنے ٹھکانے پر پہنچو کہیں یہاں بھی فساد نہ ہو جائے۔ ہم جب کناٹ سرکس میں کافی ہاؤس سے ہوتے ہوئے فتح پوری کے علاقے میں پہنچے تو گلی کوچوں میں کچھ خوف اور سراسیمگی کا منظر تھا اور کلکتے کے فساد کے بارے میں ضمیمے بک رہے تھے اور لوگ ٹولیوں میں کھڑے ان کو پڑھ رہے تھے۔

    اپریل ۱۹۴۷ ء میں تاثیر صاحب لاہور آگئے مگر گرمیاں انہوں نے سری نگر میں گزاریں۔ میں بھی اتفاق سے جو لائی  کے شروع میں وہاں پہنچ گیا، تاثیر صاحب کے ساتھ کھیلے ہوئے بچپن   کے دوست ڈاکٹر نذیر احمد اور ایک پرانے شاگر دعبدالبشیر آذری بھی وہیں تھے ، میں جب پہنچا تو گاوٹ نے انہیں لا چار کر رکھا تھا، ایک قدم چلنا تو کجا پاؤں پر کھڑا ہونا بھی دشوار تھا۔ اسی عالم میں بڑے جذبے کے ساتھ انہوں نے ’’ پاکستان ٹائمز‘‘ میں اپنے مشہور سلسلۂ مضامین’’ پاکستان مبارک‘‘ کی ابتدائی اقساط لکھی تھیں ۔ یہ ان کی قوت حیات کا ایک ثبوت تھا جو انہیں ہر وقت بے قرار رکھتی تھی اور جس کی بدولت وہ کسی نہ کسی ہنگامے میں مصروف رہتے تھے، پھرستم   یہ ہوا کہ آنکھیں دکھنے کو آگئیں۔ پڑھنے لکھنے سے بھی گئے۔ دن بھر سبز چشمہ لگائے، پلنگ پر بیٹھے دوست احباب سے دنیا جہان کی باتیں کرتے تھے ۔ اپنے معمول کے انہماک اور دل جمعی کے ساتھ، صحت یاب ہونے کے بعد کا ذکر ہے کہ ایک دن عبد البشیر آذری اور میں ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب آئے ۔ تاثیر صاحب نے خلاف معمول ہم دونوں کا ان سے تعارف نہیں کرایا بلکہ یہ معذرت کرتے ہوئے کمرے سے باہر بھجوا دیا کہ انہیں ان صاحب سے اکیلے میں بات کرنی ہے۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ صاحب بات کر کے چلے گئے تو تاثیر صاحب نے ہمیں واپس بلالیا۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ ہمیں کچھ بتانے کے لیے بے قرار ہیں ۔ آخر ہم سے پوچھا کہ یہ صاحب جو آئے تھے تو آپ لوگوں نے ان کو غور سے دیکھ لیا تھا نا؟  ہم نے کہا کہ ان میں کیا خاص بات تھی ؟ کہنے لگے کہ خاص بات تو تب معلوم ہو گی جب کچھ عرصے کے بعد ان کی تصویریں اخباروں میں چھپنے لگیں گی ۔ چناں چہ اکتوبر میں جب کشمیر کی جنگ شروع ہوئی  تو اخباروں میں حکومت آزادکشمیر کے صدر سردار ابراہیم کی تصویر چھپیں۔ یہ وہی صاحب تھے جنہیں ہم نے تاثیر صاحب کے ہاں سری نگرمیں دیکھا تھا۔ جنوری ۱۹۴۸ ءمیں کشمیر کا معاملہ سلامتی کونسل میں پیش ہوا تو تاثیر صاحب سردا ر ابراہیم کے مشیر بن کر ان کے ساتھ نیو یارک چلے گئے۔ کشمیر کی سیاست سے تاثیر صاحب کو خاص تعلق رہا تھا، شیخ عبداللہ سے اُن کے ذاتی مراسم بھی تھے۔

    اکتوبر ۱۹۴۷ ء سے تاثیر صاحب اپنے میسن روڈ والے مکان میں رہنے لگے تھے۔ پھر تو ان کے ہاں آنا جانا میرا معمول بن گیا۔ وہ میرے بزرگ تھے اور مجھ سے بڑی شفقت کا برتاؤ  کرتے تھے ۔ تین برس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ اس تین برس کے عرصے میں مجھے تاثیر صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ چناں چہ مجھے بعض ایسے ہنگاموں کے پس منظر کا بھی ذاتی طور پر علم ہے جو اس دوران میں ان کی ذات سے منسوب ہوئے۔

     ترقی پسند حلقوں کے خلاف تاثیر صاحب کی صف آرائی کا پس منظر ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے ، چوں کہ اس ضمن میں بہت سی غلط باتیں مشہور ہیں۔ تاثیر صاحب نے جس انداز سے یہ جنگ لڑی اور اس میں جو کچھ روا رکھا اس کے متعلق ان کے دوستوں اور مداحوں میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔ مگر ایک بنیادی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ترقی پسند ادیبوں کے متعلق ان کا رویہ پاکستان کے قیام کے بعد بدلا، یہاں یہ یاد دلاتا جاؤں کہ ۱۹۳۵ ء میں لندن میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد ڈالنے والوں میں سجاد ظہیر کے ساتھ تاثیر صاحب بھی شامل تھے۔ بہرحال پاکستان سے پہلے ان کے خیالات کچھ ہی رہے ہوں، مگر جب میں ان سے اگست ۱۹۴۶ ء میں دی میں ملا تو وہ پورے طور پر پاکستانی نقطۂ نظر اپنا چکے تھے۔ اس ملاقات میں انہوں نے بالکل اسی انداز کی باتیں کیں۔ ان کے اپنے قول کے مطابق یہ تبدیلی ان میں حکومت ِہند سے متعلق رہنے کے بعد آئی جہاں انہیں حالات و واقعات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ جون ۱۹۴۷ء  میں پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا۔ اور اس کے فورا بعد انہوں نے ’’پاکستان مبارک ‘‘ کا سلسلۂ مضامین لکھا۔ یہ مضامین اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں کہ تاثیر صاحب پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے پاکستان کے قیام سے بھی پیشتر اس ملک کے سیاسی، اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور ثقافتی مسائل پر  سنجیدگی او دردمندی سے غور کیا اور پاکستان کی تعمیر وترقی کے بارے میں ایک مفصل اور متوازن خاکہ پیش کیا۔ ان مضامین سے تاثیر صاحب کے مطالعہ اور فکر و نظر کی وسعت کا اندازہ بھی ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی تصنیف ہی سے ظاہر ہے کہ انہوں نے پاکستان کو کس جوش ،کس جذبے اورکس امنگ کے ساتھ قبول کیا تھا ۔

    ترقی پسند پاکستان کے بارے میں اس سے مختلف نقطۂ نظر رکھے تھے۔ تاثیر صاحب یہ سمجھنے میں مسلمانوں کے باشعور طبقہ کے ہم خیال تھے کہ پاکستان مسلمان قوم کے خوابوں کی تعبیر ہے مگر ترقی پسند اسے ایک اور ہی رنگ میں دیکھتے تھے ۔ ان دونوں کے درمیان اختلاف کی پہلی بنیاد تویوں پڑی اور دوسری اس وقت جب کشمیرمیں جنگ چھڑی، ترقی پسند حلقوں نے کشمیر میں ہند وستانی فوجوں کے داخلہ کی حمایت کی بلکہ اسے عوام دوست عناصر کا فرض قرار دیا ..... سجاد ظہیر ہند دوستان میں کچھ اسی قسم کا بیان دے کر پاکستان آئے تو دیرینہ مراسم کی بنا پر تاثیر صاحب سے بھی ملے ۔ تاثیر صاحب نے اس ملاقات کا حال بعد میں مجھے خود سنایا۔ انہوں نے کشمیر کے متعلق پارٹی لائن کے بارے میں سجاد ظہیرسے تفصیلی بات کی ۔ سجاد ظہیر تاثیر صاحب کی گفتگو کے نوٹ لیتے گئے اور یہ کہہ گئے کہ وہ اس مسئلہ پر دوبارہ غور کرنے کے لیے پارٹی کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ غرض ترقی پسند حلقوں کی ان کارروائیوں کے باعث تاثیر صاحب ان سے بد دل ہوگئے تھے مگر ابھی تک انہوں نے ان کی مخالفت نہیں کی تھی اس کی ابتدا ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے جس کی تفصیلات جہاں تک مجھے یاد ہیں بیان کیے دیتا ہوں ۔

    دسمبر ۱۹۴۷ ء میں ترقی پسندا دیبوں کی پہلی کانفرنس وائی ۔ ایم سی ۔ اے ہال لاہور میں منعقد ہوئی ۔ سجاد ظہیر اس میں شریک تھے ۔ تاثیر صاحب کو بھی شرکت کی دعوت تھی بلکہ انہیں مشاعرہ کی صدارت کرنی تھی ۔ مشاعرہ رات کو تھا اور شام کے اجلاس کی نشست جاری تھی ۔ ایک صاحب نے ایک ریزولیوشن ذریعۂ  تعلیم کے متعلق پیش کیا ۔ مجھے ٹھیک الفاظ تو یاد نہیں   مگر مفہوم کچھ اس طرح کا تھا جس سے اردو زبان کی قومی حیثیت پر زد پڑتی تھی ۔ جب یہ ریزولیوشن پیش ہوا تو میں نے دیکھا کہ تاثیر صاحب کچھ سنجیدہ سے ہو گئے ہیں، انہوں نے دو تین دفعہ انگریزی میں’’یہ خطرناک چیز ہے‘‘ کہا۔ تقریر ختم ہونے پر وہ سٹیج  پر پہنچے اور ذرا جوش کے ساتھ ایک مختصرسی تقریر کی اور پھر ایک ترمیم پیش کی، جس کا مقصد ریزولیوشن کے قابل اعتراض عنصر کو خارج کرنا تھا۔ جلسہ کے صدر حفیظ جالندھری تھے ۔ انہوں نے بھی تاثیر صاحب کی ترمیم کی حمایت کی اور وہ کثرت رائے سے منظور ہوگئی ۔ ظاہر ہے کہ سٹیج پر بیٹھے ہوئے سجادظہیر اور ان کے ساتھیوں کو یہ کارروائی پسند نہ آئی ، مگر اب کیا ہو سکتا تھا ؟ جلسہ برخاست  ہوا ، ایک گھنٹے کے وقفہ کے بعد مشاعرے کی محفل جمنے والی تھی، اس میں تاثیر صاحب کو شامل ہونا تھا ، لہٰذا وقت گزار نے کے لیے وہ اور میں کافی ہاؤس چلے گئے، کچھ دیر کے بعد ہم نے پھر وائی ایم سی اے کا رخ کیا۔ تاثیر صاحب مشاعرہ میں مجھے ساتھ رکھنے پر مصر تھے۔ مجھے کہیں اور جانا تھا اس لیے میں نے اجازت چاہی اور تاثیر صاحب اپنے اسلامیہ کالج کے زمانے کے پرانے رفیق ڈاکٹر سعید اللہ صاحب کے ہمراہ مشاعرہ میں شرکت کے لیے اوپر ہال میں چلے گئے۔ پانچ منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے، میں ابھی نیچے سڑک کے کنارے کھڑا تھا کہ تاثیر صاحب لمبے لمبے ڈگ بھرتے پھر نمودار ہوئے اور آتے ہی بولے ”لو بھئی میں بھی مشاعرہ میں شامل نہیں ہو رہا۔ چلو آؤ گھر چلیں“ میں نے حیرت سے پوچھا ۔’’یہ کیوں ؟“ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، غصہ ان کے چہرے سے نمایاں تھا۔ ڈاکٹر سعید اللہ صاحب نے جو اُن کے ہمراہ واپس آئے تھے مجھے بتایا کہ مشاعرہ والوں نے بڑی نا معقول حرکت کی ہے۔ تاثیر صاحب جب گیٹ پر پہنچے تو وہاں ایک نوجوان کامریڈ نے تاثیر صاحب کو روک لیا اور ان سے ٹکٹ طلب کیا ، تاثیر صاحب نے کہا ۔’’ مجھ سے کیسا ٹکٹ ؟‘‘ اس نے اصرار کیا۔ اس پر تاثیر صاحب ذرا برہم ہوئے پھر انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک روپیہ نکالا، ٹکٹ مانگنے والے کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر پھر کھینچ لیا اور ایک دم مڑ کر واپس چلے گئے۔

    اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد پاکستان کے ادیبوں کی طرف سے کشمیر کے بارے میں ایک مشترکہ اعلان شائع کیا گیا جس پر سوائے فیض صاحب کے سب ترقی پسند ادیبوں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس بیان کی اشاعت کے پس منظر میں بھی ایک داستان ہے، میں چوں کہ اس سے بھی قریبی طور پر متعلق تھا ، اس لیے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے اسے بھی دہراتا ہوں ۔

    ترقی پسند حلقوں میں عام طور پر یہ مشہور ہوا کہ یہ بیان تاثیر صاحب کی ’’ سازش‘‘  کا نتیجہ تھا۔ چوں کہ تاثیر صاحب کو معلوم تھا کہ ترقی پسند اس قسم کے بیان کی تائید نہیں کریں گے اس لیے انہوں نے یہ گہری چال چل کر ان کے خلاف عوام کے جذبات ابھارنے اور حکومت کی نظر میں انہیں زیادہ سے زیادہ مشتبہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب اصل حقیقت سُن لیجیے۔ ہندوستان کے کچھ ادیبوں نے جن میں دو ایک مسلمانوں کے نام بھی شامل تھے، کشمیر کے بارے میں ہندوستانی نقطۂ نظر کی حمایت میں ایک بیان شائع کیا۔ محمد حسن عسکری، غلام عباس اور میں ایک جگہ جمع تھے ۔ وہاں یہ ذکر آیا تو ہم نے سوچا کہ پاکستان کے ادیبوں کو اس معاملہ میں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ چناں چہ تجویز یہ ہوئی کہ ایک بیان یہاں سے بھی شائع کیا جائے جس میں پاکستانی نقطۂ نظر کی حمایت ہو،تا کہ باہر کی دنیا کو حقیقت حال معلوم ہو سکے ۔ غلام عباس اور میں تاثیر صاحب کے ہاں پہنچے اور اس تجویز کا ذکر کرنے کے بعد ان سے بیان کی عبارت لکھنے کی درخواست کی۔ تاثیر صاحب نے ارتجالاً ایک مختصر سا بیان لکھ کر ہمارے حوالہ کیا اور ہم نے ادیبوں سے دستخط لینے کی مہم شروع کر دی ۔ اسی سلسلے میں بخاری صاحب کے پاس گئے جو اُن دنوں گورنمنٹ کالج کے پرنسپل تھے ۔ انہیں تا ثیر صاحب کی لکھی ہوئی عبارت پسند نہ آئی اور ناکافی معلوم ہوئی۔ ان کی رائے تھی کہ اس بیان میں ذرا تفصیل سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ بیان فیض صاحب سے لکھوایا جائے اور انگریزی میں ہو تو اچھا ہے تاکہ باہر کے ملکوں میں کام آسکے ۔ چناں چہ فیض صاحب سے وقت مقرر کیا گیا ، دوسرے دن ہم ان کے ہاں پہنچے ، فیض صاحب بولتے گئے اور میں لکھتا گیا، ٹائپ کر اکے ہم نے وہ بیان بخاری صاحب کو دکھایا تو انہوں نے اسے بھی پسند نہ کیا۔ اس کے بعد بخاری صاحب نے رات کا بیشتر حصہ اس بیان پر صرف کیا اسے کاٹ چھانٹ کے، اپنی پسند کے مطابق بنایا ، خود اسے ٹائپ کیا اور اس طرح یہ بیان مکمل ہوا۔ اب سوال تھا اردو بیان کا، بخاری صاحب کو اصرار تھا کہ وہ بھی ہماری طرف ہی سے جانا چاہیے ، عبارت ادیبوں کے شایانِ شان ہونی چاہیے۔ انگریزی بیان کا ترجمہ اگر اخباروں کے مترجموں پر چھوڑا گیا تو وہ اسے خراب کر دیں گے، چناں چہ اُردو ترجمہ کا کام صوفی تبسم صاحب کے سپرد ہوا ، شام کو جب ہم ترجمہ لے کر بخاری صاحب کے پاس پہنچے تو انہوں نے وہ بھی پسند نہ کیا۔ آخر صوفی صاحب کی درخواست پر انہوں نے اُردو ترجمے کو درست کرنا شروع کر دیا۔ رات گئے یہ کام مکمل ہوا، اور دوسرے دن انگریزی اور اُردو دونوں بیانات اخبارات میں دے دیے گئے۔ یہ ہے اس بیان کی اشاعت کی داستان اگر یہ ’’سازش‘‘ تھی تو اس میں بخاری صاحب بھی شریک تھے اور فیض صاحب بھی۔

     تاثیر صاحب نے ترقی پسند حلقوں سے چھیڑ چھاڑ ۱۹۴۸ ء کی گرمیوں میں اپنے ان مضامین میں شروع کی جو انہوں نے ڈاکٹر حجازی کے نام سے سول اینڈ ملٹری گزٹ میں لکھےتھے ۔ باقاعدہ محاذ انہوں نے تقریباً ایک سال بعد ’’آفاق‘‘ اور ’’چٹان‘‘ کے صفحات میں کھولا اور نظمیں ”مغربی پاکستان‘‘ میں لکھیں ۔ تاثیر صاحب کا سب سے بڑا ہدف میاں افتخار الدین تھے ۔ لہٰذا ان کے اخبار ’’امروز‘‘ میں مولانا چراغ حسن حسرت نے تاثیر صاحب پر جوابی حملہ شروع کر دیا۔ ۱۹۴۹ ء کی گرمیوں میں تاثیر صاحب خود تومری اور نتھیا گلی میں تھے مگر ان کے ذکر سے لاہور کی محفلیں آباد تھیں، وہ وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی تحریروں کے زور سے لاہور میں دشمنوں کے طعن وتشنیع اور دوستوں کے گلوں شکووں کا سامان فراہم کیے جاتے تھے ۔ تاثیر صاحب کو صحافتی لڑائیاں لڑنے کا شوق تھا، ان میں ایک خاص قسم کی شوریدہ سری تھی جو اسی طرح تسکین پاتی تھی، بقول شخصے ان کو لڑکپن میں بھڑ  کی دم میں دھاگہ باندھنے کی عادت رہی ہوگی۔ ترقی پسند حلقوں کے خلاف جنگ میں تو ان کے پاس ایک وجہ جواز بھی موجود تھی بہر حال اس کا انجام بہت افسوس ناک ہوا، آخر کو تاثیر صاحب اور ان کے پرانے دوست مولانا چراغ حسن حسرت میں ٹھن گئی اور یہ دونوں ایک دوسرے کے بے اماں تیر ونشتر کی زد میں آگئے ۔

     مگر یہ صحافتی جھگڑے تاثیر صاحب کی زندگی نہیں تھے، انہیں زیادہ تر ان کی شوریدہ  سری کا اظہار ہی سمجھنا چاہیے ۔ ذاتی تعلقات کے معاملہ میں ان کی ایک صفت خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔ آخر آخر میں ان کے بعض دوستوں اور ان کے درمیان کشیدگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی تھی مگر میں ان کی صحبت میں بیٹھنے والے کی حیثیت سے کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے کبھی کسی دوست کی برائی نہیں کی ،دوستوں سے گلے شکوے کے موقعے ان کی زندگی میں کئی بار آئے شکایت زمانہ بھی ان کو یقیناًرہی ہوگی مگر اس معاملے میں وہ بہت گہرے آدمی تھے۔ دل کی بات زبان پر نہیں لاتے تھے۔ کم سے کم مجھے ان کی کوئی ایسی بات یاد نہیں۔ کبھی کوئی اس قسم کا ذکر بھی ہوتا تو طرح دے جاتے ۔ دشمنوں کے معاملے میں بھی ان کا رویہ کچھ اسی قسم کا تھا۔ قلم کی جنگ لڑنا ان کا محبوب مشغلہ ضرور تھا ۔ مگر عموماً حریف بذلہ وحریف سخن ہونے کی حد تک ، حریف دشنام نہیں۔ اور یہ لڑائیاں کچھ ایسی دیر پابھی نہیں ہوتی تھیں ۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ تاثیر صاحب کو دشمنی مول لینا تو آتا تھا مگر دشمن پالنا اور تلخی برقرار رکھنا ان کی عادت نہیں   تھی ۔ اور نہ انہیں اس کی فرصت تھی۔ وہ طبعاً ایسے ہشاش بشاش اور زندہ دل آدمی تھے، جو خوش رہنا اور اپنے آپ کو کسی نہ کسی ہنگامے میں مشغول رکھنا جانتا ہو۔

    جھگڑے فساد اور چھیڑ چھاڑ والی تحریریں تاثیر صاحب ہمیشہ مختلف قسم کے قلمی ناموں سے لکھتے تھے۔ البتہ سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ڈاکٹر حجازی کے نام سے جو سلسلۂ مضامین انہوں نے شروع کیا وہ اس نام سے جاری رہا۔ مگر نام سے کیا ہوتا ہے ان کی شوخی تحریر صاف کہے دیتی تھی کہ میں کس کے قلم سے نکلی ہوں ۔ چناں چہ تاثیر صاحب نے جب محمد حسن عسکری کے خلاف لکھنا شروع کیا تو میں فوراً سمجھ گیا کہ یہ تاثیر صاحب ہی ہیں۔ پھر ایک مضمون جب انہوں نے عسکری کے چھوٹے بھائی کے نام سے لکھا تو میرا یقین اور پختہ ہوگیا۔ مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ قلمی ناموں کے سلسلے میں وہ اس قسم کی حرکت بھی کیا کرتے ہیں، مگر میں نے ان سے پوچھا نہیں، کیوں کہ مجھے یہ بھی یقین تھا کہ وہ کبھی اقرار نہیں کریں گے ۔

    تاثیر صاحب اور عسکری ایک دوسرے کو سرسری طور پر دہلی سے جانتے تھے۔ مگر عسکری لاہور میں میرے ہی ہمراہ تاثیر صاحب کے ہاں آنے جانے لگے تھے، پھر کبھی کبھی اکیلے بھی چلے جاتے تھے، کچھ عرصے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ ان کے باہمی تعلقات میں کچھ فرق آگیا ہے۔ دونوں کی طبیعتوں میں اتنا اختلاف تھا کہ مجھے اس پر کوئی تعجب نہیں ہوا۔ میں نے اس سلسلے میں کوئی کرید نہیں کی ۔ اور نہ ان دونوں میں سے کسی نے مجھے کچھ بتا یا۔ شاید اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ میرے دونوں سے الگ الگ تعلقات ہیں۔ تاثیر صاحب میرے بزرگ تھے اور عسکری میرے دوست ، اب جو تاثیر صاحب نے عسکری کے خلاف لکھنا شروع کیا تو مجھے تاثیر صاحب کی اس ناروا حرکت سے بہت کوفت ہوئی ۔ بہر حال میرا خیال ہے کہ تاثیر صاحب کو اس کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ آبیل مجھے مار والی بات ثابت ہوگی ۔ عسکری نے ایسا سخت جوابی حملہ کیا کہ کچھ کہنے کو باقی نہیں چھوڑا ۔ میں تو بھلا کیوں تاثیر صاحب سے اس کے متعلق کچھ کہتا مگر جو نہی عسکری کی’ جھلکیاں‘ لیے ہوئے ماہنامہ ’’ ساقی‘‘  کا یہ شمارہ آیا مجھے یہ خدشہ ضرور ہوا کہ ممکن ہے تاثیر صاحب شکایتاًیا طنزاً مجھ سے اس کا ذکر کریں کیوں کہ انہیں عسکری سے میرے تعلقات کا علم تھا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو میرے لیے ایک مشکل اور ناگوار صورت حال پیدا ہو جاتی۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ مدت کے بعد ایک دن برسبیل تذکرہ سرسری طور پر بس یہ کہا کہ میں نے تو پڑھا نہیں مگر جاویداقبال نے مجھے بتایا ہے کہ عسکری نے میرے خلاف کوئی مضمون لکھا ہے اور اتنا کہنے کے بعد بات ختم کر دی ۔ اب اسے آپ ان کی شفقت سمجھ لیجیے کہ انہوں نے عمداً مجھے ذاتی تعلقات کی کسی آزمائش میں نہیں ڈالا یا ان کی اسی شخصی خصوصیت کا ثبوت کہ جس کی طرف میں اشارہ کر چکا ہوں یعنی یہ کہ تاثیر صاحب ذاتی تعلقات میں بہت گہرے آدمی تھے۔ ان کے دل میں کچھ بھی ہو۔ وہ دوستوں اور دشمنوں کے گلے شکوے یا ان کے بارے میں کسی تلخی اور کدورت کو زبان پر نہیں لاتے تھے، بہرحال اس قصے میں تاثیر صاحب کے دوستوں بخاری صاحب، صوفی صاحب ، مجید ملک صاحب اور فیض صاحب سب کی یہی رائے تھی کہ تاثیر کو اس عمرمیں ایک نوجوان ادیب کے منہ آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ مگر معلوم ہوتا ہے کہ تاثیر صاحب کو اس قسم کی ہنگامہ خیزی میں اتنا مزہ آتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ بھول جاتے تھے ۔

     میں نے ابھی ذکر کیا ہے کہ تاثیر صاحب اپنے قلمی ناموں کا اقرار نہیں کیا کرتے تھے مثلا ًمجھے معلوم تھا کہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کا کالم نویس ڈاکٹر حجازی تاثیر صاحب ہیں، مگر وہ ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتے تھے کہ یہ ایک اور شخص کا قلمی نام ہے، البتہ وہ شخص میرے پاس آتا جاتا ہے، مضمون  بھی کبھی کبھی دکھالیتا ہے ، میں اصرار کرتا تو وہ بات ہنسی میں اڑا دیتے مگرا قرار نہ کرتے، آخر میں نے ایک دن کہا کہ اس شخص سے ہمیں ملائیے اور انہوں نے ملانے کا وعدہ کر لیا، کچھ دنوں کے بعد امجد اور میں ان کے ہاں گئے تو ہم سے کہنے لگے کہ اچھا کل شام چائے یہاں پینا اور حجازی سے بھی مل لینا ، دوسرے دن شام تاثیر صاحب کے ہاں چائے ہوئی ، گپ چلی، حجازی کا ذکر آیا تو اپنے مخصوص شرارت آمیز انداز میں ہمیں اطلاع دی کہ بھئی وہ تو آج صبح کی گاڑی سے کہیں چلا گیا ہے ..... خیر اس پر ہنسی مذاق ہوتا رہا، اگلی صبح میں نے ’’سول‘‘ اخبار اٹھا کر دیکھا تو حجازی نے لکھا تھا کہ : ” یہ میرا آخری مضمون ہے ۔اب یہ سلسلہ بند ہوتا ہے ۔ کیوں کہ میں ملک سے باہر جا رہا ہوں .....‘‘ اور اسی دن مجھے معلوم ہوا کہ تاثیر صاحب اسلامیہ کالج کے پرنسپل بننے والے ہیں، حجازی کے رخصتی مضمون کی وجہ میری سمجھ میں آگئی ۔

     تاثیر صاحب کی گوناگوں دل چسپیوں کی وجہ سے ان کے ہاں آنے والوں میں ہر قسم، ہر خیال اور ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے ، کالجوں کے طلبہ اور پروفیسر، بڑے بڑے افسر اور سیاسی لیڈر، ادبا و شعراء، مصور، صحافی اور شرع و دین کے عالم ، غرض کہ زندگی کا وہ کون سا شعبہ تھا جس کے لوگوں سے تاثیر صاحب کو مناسبت نہ تھی ۔ ان میں، عقل والے بھی تھے اور سراپا لال بجھکڑ بھی، مگر تاثیر صاحب کے دروازے ان سب پر واتھے، وہ ہر ایک سے یکساں حسن سلوک سے پیش آتے ۔ میں نے کبھی انہیں کسی شخص سے یاکسی گفتگو سے بور ہوتے نہیں دیکھا تھا یاکم سے کم ان کی زبانی اس کا اظہار کبھی نہیں سنا تھا ۔ ان کی مفحل میں گویا دنیاکی سیر ہو جاتی تھی کیوں کہ ہر چیز پر گفتگو ہوتی تھی تازہ بتازہ سکینڈلز سے لے کر سنجیدہ سے سنجیدہ علمی مسائل تک ، تاثیر صاحب موقع محل اور شرکاء  محفل کا رنگ دیکھ کر جس طرف چاہتے گفتگو کا رخ موڑ دیتے ۔ یہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی تھیں ، ہر قسم کی رام کہانیاں چھیڑی جاتی تھیں، اور تاثیر صاحب کم سے کم اس وقت ان میں ایسے محو ہوتے کہ بس  انہیں کے ہو رہتے اور داستان در داستان یہ سلسلہ شروع رہتا۔ تاثیر صاحب کا رویہ اس قدر بے تکلفانہ ہوتا تھا کہ وہ کسی چھوٹے بڑے کو غیریت اور اجنبیت کا احساس نہ ہونے دیتے تھے۔ تاثیر صاحب کی محفل کی امتیازی شان ان کی اپنی گفتگو تھی ۔ وہ باغ و بہار  باتیں کرتے تھے ۔ ہر قسم اور ہر رنگ کی باتیں کبھی سنجیدہ اور متین، کبھی ہلکی پھلکی ۔ شرارت آمیز گفتگو ان کی خاص چیز تھی ۔ ان کا یہ رنگ عموماً اسی وقت کھلتا جب صوفی غلام مصطفیٰ تبسم  بھی موجود ہوں۔ صوفی صاحب ان کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے اور ایف سی کالج میں ہم جماعت بھی رہے تھے ۔ان سے چھیڑ چھاڑ اور دل لگی کرناتاثیر صاحب کا خاص مشغلہ تھا۔

     تاثیر صاحب کی ساری ہاؤ ہو کا مرکز ان کے سونے کا کمرہ تھا۔ وہ عموماً اپنے پلنگ پرکبھی نیم در ازار بھی بیٹھے ہوئے نظر آتے تھے، لکھنے پڑھنے کا کام بھی وہ اسی حالت میں کرتے تھے حتیٰ کہ بعض اوقات ان کا کھانا بھی ایک ٹرے میں لگ کے ان کے پاس وہیں آجاتا تھا۔ان سے ملنے والے پلنگ کے اردگرد رکھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ جاتے تاثیر صاحب ان سے گفتگو بھی کیے جاتے تھے اور اس دوران میں مسز کر سیٹیل تاثیر کے استفسار پر گھریلو معاملات میں مشورے بھی دیے جاتے تھے۔ بچوں کے لڑائی جھگڑے بھی چکاتے رہتے تھے ، انہیں پیار چمکا ر سے بہلاتے بھی رہتے تھے اور ضرورت پڑنے پر ملازموں سے باز پرس بھی کر لیتے تھے۔ مختصر یہ کہ تکلیف نام کی کسی چیز کا دخل ان کی زندگی میں بہت کم تھا ، انہوں نے شادی ایک انگریز خاتون سے ضرور کی تھی مگر تھے وہ ایک کھلی ڈھلی طبیعت کے دیسی آدمی۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ لاہور کے محلہ بارود خانہ میں گزرا تھا۔ اندرون شہر کے محلوں کا کلچر چھاؤنی یا سول لائنز کے کلچر سے بہت مختلف ہوتا ہے یہاں طبقاتی اونچ نیچ اور مختلف طبقوں کے افراد کے درمیان علیحدگی اور لاتعلقی کم دیکھنے میں آتی ہے چناں چہ بقول ڈاکٹر نذیر احمد، تاثیر صاحب اگرچہ ایک رئیس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور حویلی میں رہتے تھے مگر لڑکپن میں وہ قلعے کی دیوار کے نیچے کھائی میں ڈوم ، میراثی اور نائی ، قصائی لڑکوں کے ساتھ برسوں گلی ڈنڈے کا کھیل کھیلتے رہے تھے،(١) شاید اسی وجہ سے ان کی طبیعت میں ایک ایسی کشادگی آگئی تھی جو میل ملاپ کی سطح پر ان کی بعد کی مختلف طرز ِزندگی میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی، وہ خاندانی ماحول ، تعلیم و تربیت کے لحاظ سے خواص میں سے ہوتے ہوئے بھی عوام کے آدمی تھے۔ سردیوں میں تو سوٹ بوٹ پہنتے تھے مگر گرمیوں میں عموماً سفید لٹھے کا کرتا پاجامہ اور کبھی ضرورت کے وقت شیروانی ، پاؤں میں سلیم شاہی جوتی یا ملتانی کھسہ ۔ اس زمانے کے عام شہریوں کی طرح تانگے کی سواری کے شوقین تھے۔ شاہد کبھی گھر میں کار بھی رکھی ہو مگر اپنے زمانہ ٔملاقات کے دوران میں نے انہیں ہمیشہ کرائے کا تانگہ ہی استعمال کرتے دیکھا۔ چند قدم بھی پیدل چلنے پر تیار نہیں ہوتے تھے ۔ فاصلہ نزدیک کا ہو یا د ور کا تانگہ کی سواری بہر حال ضروری تھی ۔اس کے متعلق انہوں نے ایک دل چسپ نظریہ بھی تراش رکھا تھا ، کہا کرتے تھے کہ گھوڑے کی ٹاپ کے ساتھ ساتھ میرا دماغ بھی حرکت میں آجاتا ہے اور مجھے نئی سے نئی شرارت سوجھتی ہے۔ شرارت واقعی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی ۔افسوس یہ ہے کہ وہ ہمیشہ معصوم بھی نہیں ہوتی تھی ۔ اور اس سے بعض اوقات ان کے دوستوں کو بھی تکلیف پہنچتی تھی۔

    تاثیر صاحب سے میں تقریباً دس برس تک ملتا رہا ۔ اس دوران میں مجھے یاد نہیں کہ میں نے انہیں کبھی غمگین یا پژمردہ دیکھا ہو۔ وہ ہر وقت ہنستے کھیلتے نظر آتے تھے۔ شگفتگی ان کے مزاج کا بنیادی عنصر تھی ۔ میں نے انہیں لمبی بیماری کی حالت میں بھی دیکھا ہے، مجال ہے جو ان کے مزاج میں ذرابھی چڑ چڑا پن آیا ہو ، ناگوار حالات میں بھی وہ اپنے محبوب مشاغل جاری رکھتے تھے۔ عین بیماری کے عالم میں بھی بیماری کی باتیں نہیں کرتے تھے، کبھی اس کا ذکر بھی ہوتا تو وہ اسے مختصر کر دیتے ۔ عام آدمی کے لیے بستر کی قید ایک مصیبت بن سکتی تھی مگر تاثیر صاحب کبھی اس کی شکایت نہ کرتے تھے ۔گاوٹ ان کا دیرینہ مرض تھا، سال میں ایک آدھ دفعہ اس کا حملہ ضرور ہوتا تھا۔ شاید اپریل ۱۹۴۹ ء کا ذکر ہے کہ وہ گاوٹ میں مبتلا تھے، معائنہ پر معلوم ہوا کہ ان کو ذیابیطس بھی ہے ۔اس دوران میں ان کی آنکھوں پر بھی اس کا اثر پڑا، بینائی بہت کم ہوگئی اور وہ لکھنے پڑھنے سے معذور ہو گئے ۔ تندرست ہونے کے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ ” میری بینائی تو اتنی ضعیف ہو چکی تھی کہ مجھے تم لوگ سایوں کی طرح لرزتے نظر آتے تھے ، آوازوں سے تمہیں پہچانتاتھا۔‘‘ مگر اس کے باوجود ان کی آواز اسی زیر و بم  کے ساتھ پہروں کمرے کی فضا میں گونجتی تھی۔ گفتگو کاانداز بھی وہی تھا۔

    اسی علالت کے دوران ایک شام میں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے خاص معالج اور دوست ڈاکٹر بھیک ، بلڈ پریشر کا آلہ ہاتھ میں لیے کمرہ میں داخل ہوئے بلڈ پریشر لیا گیا اور وہ بالکل نارمل نکلا۔ ڈاکٹر بھیک نے خوش ہوکر تاثیر صاحب کو بتایا اور اس کے فوراً بعدان کی بیگم  کو خبر دیتے کمرے سے باہر چلے گئے۔ تا ثیر صاحب اپنے بستر پر بیٹھ گئے اورکسی قدر خوشی کے ساتھ کہا : ”چلو اچھا ہوا ، بلڈ پریشر نارمل نکلا۔ بھیک نے جب آلہ لگایا تو مجھے اندیشہ ہونے لگا تھا‘‘۔

    میں نے کہا۔’’ مگر آپ کے چہرے سے تو کچھ ظاہر نہیں ہوا اس پر مسکرا دیے اور پھر کہا ’’مجھے بیماری کی وجہ سے پریشانی یا وحشت نہیں ہوتی، ہوتی ہے مگرکم ، بس کرس (مسز کرسٹیل تاثیر) اور بچوں کے خیال سے اور پھر میاں، بات تو یہ ہے کہ

    ہزار شمع بکشتند و انجمن با قیست

    اور یہی وہ مصرع ہے جو انہوں نے اپنی موت سے دو تین دن پہلے اپنے ایک رفیق کار کے سامنے بھی پڑھا تھا جب انہوں نے اپنی اس تشویش کا اظہار کیا کہ یو نیورسٹی کی فلاں کمیٹی میں اگر آپ نہ ہوئے تو کام کیسے چلے گا ؟

    واقعہ یہ ہے کہ یونیورسٹی ہی نہیں صوبے کے تعلیمی منصوبوں کی ترتیب و تشکیل میں بھی تاثیر صاحب کا بڑا عمل دخل تھا ۔ ایس ۔ ایم شریف جو اس زمانے میں محکمہ تعلیم کے سربراہ تھے، تاثیر صاحب کے ہم جماعت اور دوست تھے وہ مستقل ان سے ان معاملات میں مشورہ کرتے رہتے تھے، شریف صاحب نے تاثیر صاحب کے مجموعہ ٔکلام ’’آتش کدہ‘‘ میں شامل تاثیر صاحب کی شخصیت کے بارے میں اپنی ایک تحریر میں اس امرکا اعتراف کیا ہے اور بزمِ اقبال ،آرٹ کونسل وغیرہ کی تاسیس کے سلسلے میں ان کی کوششوں کو سراہا ہے۔

    تاثیر صاحب کی شخصیت گوناگوں پہلوؤں کی حامل تھی، ان کی دلچسپیوں کی دنیا متنوع بھی تھی اور وسیع بھی۔ وہ انگریزی ادب کے استاد تھے اور اردو کے ادیب، شاعر اور نقاد .....ادب و شعر ان کا خاص مضمون تھا ، مگر انہیں مصوری سے بھی خاص شغف تھا ، چغتائی صاحب کی تصویروں کو ملک بھر میں روشناس کرانے اور مصور دیوانِ غالب کے چغتائی ایڈیشن کی ترتیب و تدوین میں ان کا بڑا حصہ تھا۔ علاوہ ازیں وہ بیسویں صدی کی فکری اور سیاسی تحریکوں، حالات حاضرہ اور ان سے متعلقہ مضامین ، صحافت، نشر و اشاعت وغیرہ کے معاملات میں بڑا درک رکھتے تھے۔ قدرت نے ان کو ذہن رسا سے بھی نوازا تھا، وہ محض کتابی آدمی نہیں تھے ان میں بلا کی عملی سوجھ بوجھ بھی تھی اور حالات و واقعات کا اندازہ کرنے کی فہم و فراست بھی، مگران کا اصلی کام تعلیم و تہذیب اور ادب کی دنیا ہی سے وابستہ تھا۔ وہ ادب کے استاد اور ادیب، شاعر اور نقاد کی حیثیت ہی سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ میں یہ تونہیں کہوں گا کہ پینتالیس پچاس   برس گزرنے کے بعد بھی ان کی ادبی صلاحیت کا چرچا بہت عام ہے یا یہ کہ دب کی دنیا میں ان کا نام اور مقام بہت اونچا ہے ، ہاں یہ ضرور یاد دلاؤں گا کہ تاریخی اعتبار سے اردو ادب میں جمال پرستی کے دور میں تاثیر صاحب نے آنے والے وقت کا اندازہ کرتے ہوئے ایک نیا راگ الاپا تھا، انہوں نے دھن دولت والوں، مزدوروں اور کسانوں کے بارے میں چکی پیسو، روٹی کھاؤ،  جیسی عوامی نظمیں اس زمانے میں لکھی تھیں کہ جب اُردو کے ادیبوں اور شاعروں کو اس قسم کے عوامی مسائل کی اطلاع تک نہیں تھی ۔ بعد کو ۱۹۳۵ ء میں لندن میں تاثیر صاحب انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھنے والوں میں بھی سجاد ظہیر کے ساتھ شامل تھے ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو تاثیر صاحب ترقی پسند ادب کی تحریک کی ابتدا سے بھی پہلے کے ترقی پسند تھے۔ پاکستان بننے کے بعد ترقی   پسندادیبوں سے جب ان کا اختلاف ہوا تو وہ ادبی نہیں سیاسی بنیادوں پر ہوا تھا۔

    ( ۱۹۵۱ء ..... بہ ترمیم و اضافہ ۱۹۹۳ء)

    (١)    ” پرانی جھلکیاں‘‘۔ از ڈاکٹر نذیراحمد، اسلامیہ کالج لاہور کے میگزین ’’کر یسنٹ‘‘ کاتاثیر نمبر۔