ڈاکٹر نذیر احمد
ڈاکٹر نذیر احمد
ڈاکٹر سید نذیر احمد شاہ کہ ان کا پورانام یہی تھا ( zoology ) زوالوجی کے پی ایچ ڈی تھے یعنی ماہر حیوانیات ، طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے اس مضمون میں امتیاز سے اعلیٰ درجہ کی ڈگریاں حاصل کیں اور اسی کی تعلیم و تدریس ان کا پیشہ قرار پایا۔ مگر ان کی تمام تر دل چسپیوں کا مرکز ہمیشہ حیوانِ ناطق ہی رہا۔ اسی کے نطق و لب، خیال وفکر اور دست و بازو کے کارناموں کو وہ سراہتے رہے اور اسی سے خلوص و محبت کے رشتے قائم کرتے رہے ۔ ان کو جو لگاؤ فنونِ لطیفہ ،کرکٹ، ہاکی اور دوسرے کھیلوں اور سیر و سیاحت سے تھا وہ اپنے درسی مضمون سے نہیں تھا، ان کی گہری دوستیاں بھی ادیبوں اور فن کاروں سے تھیں نہ کہ سائنس دانوں سے، اگر چہ ان سے بھی میل ملاقات رکھتے تھے۔
ڈاکٹر نذیر احمد کا بچپن اور لڑکپن لاہور کے محلہ بارود خانہ ، تاثیر صاحب کی ہمسائیگی میں گزرا تھا۔ تاثیر صاحب نے جس خاندان کے زیرسایہ پرورش پائی تھی۔ اس خاندان سے ڈاکٹر صاحب کے خاندان کے قریبی تعلقات تھے ۔ عمر میں تو وہ تاثیر صاحب سے کوئی تین چار سال چھوٹے تھے مگر شروع ہی سے ان کے ہم جولی رہے تھے اور آخر وقت تک ان سے بے تکلف دوستی قائم رہی ۔ تاثیر صاحب کے بچپن اور لڑکپن پر انہوں نے ایک بے مثل مضمون اسلامیہ کالج کے میگزین ’’کر یسنٹ‘‘ کے تاثیر نمبر کے لیے لکھا تھا جو تاثیر صاحب کی وفات کے بعد شائع ہوا۔
ڈاکٹر صاحب اسلامیہ کالج کے پرانے طالب علم تھے جہاں وہ چودھری محمد علی صاحب کے ہم جماعت رہے تھے، جو بہت اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان بھی ہوئے ۔ چودھری صاحب سے ڈاکٹر صاحب کی ملاقات تو تھی مگر کوئی دوستی نہیں تھی۔ ۱۹۳۰ ء کی دہائی کے وسط میں ڈاکٹر صاحب انگلستان گئے وہ لندن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور تاثیر صاحب کیمبرج میں۔ کہا کرتے تھے کہ انگلستان کے بہت سے علاقے میں نے اپنی ریسرچ کے سلسلے میں سائیکل پر گھوم پھر کے دیکھے ہیں۔ سائیکل سواری کی یہ عادت آخر دم تک ان کے ساتھ رہی ۔ یہ بھی ان کی سادہ طبیعت کی ایک نشانی تھی، جب گھر والوں کے اصرارپر انہوں نے ایک پرانی موٹر خرید لی تو اکثرو بیشتر گھر والوں کے استعمال میں رہی، ڈاکٹر صاحب پھر بھی سائیکل ہی پر سوار نظر آئے۔
سادگی ان کے رہن سہن کے طریقے اور لباس میں بھی نمایاں تھی، میں نے انہیں کبھی سوٹ بوٹ پہنے نہیں دیکھا۔ گرمیوں میں کھدریا لٹھے کا سفید کرتا اور شلوار ۔ ضرورت کے وقت کے لیے ایک صدری بھی ساتھ رکھ لیتے تھے، پاؤں میں ملتانی کھسایا پشاوری چپل ۔ سردیوں میں اس لباس کے ساتھ شیروانی یا ٹویڈ جیکٹ اور پتلون اور ایک ڈھیلی ڈھالی پرانی ٹائی ۔ پاؤں میں موزوں کے ساتھ وہی پشاوری چپل ، البتہ کرکٹ کھیلتے ہوئے سفید قمیض پتلون کے ساتھ فلیٹ شوز پہن لیتے تھے ۔
انگلستان سے واپسی پر وہ کسی سرکاری محکمے کے اہل کار ہونے کی حیثیت سے سندھ کے ریگستانوں اور بلوچستان کی سنگلاخ چٹانوں میں بقول ان کے کیڑوں مکوڑوں پر ریسرچ کرتے رہے لیکن آخر انہوں نے تعلیم و تدریس کا پر سکون پیشہ اختیار کیا۔ میں جب گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علم ہوا تو ڈاکٹر صاحب وہاں لیکچرار تھے ۔ صوفی غلام مصطفٰے اتبسم کی وساطت سے میرا ان سے تعارف ہوا ، پھر مجلس اقبال کے جلسوں میں ان سے ملاقاتیں ہونے لگیں اور میں کبھی کبھی شعبہ ٔ حیوانیات میں ان کے پاس جانے لگا۔ وہاں ان کا دستور نرالا تھا۔ لیبارٹری سے ملحقہ ان کے کمرے میں میز کے ساتھ کرسی کی بجائے ایک اونچا سٹول رکھا رہتا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ اس پر بیٹھتے ، کمرے کے ایک طرف ایک دیوان تھا جس پر وہ دوپہر کے وقت آرام کرتے تھے ، میز کے سامنے والی دیوار پر جو بلیک بورڈ تھا وہ گویا ڈاکٹر صاحب کی ڈائری کا کام دیتا تھا، اس پر یا د رکھنے والی تفصیلات مثلاً ملاقاتوں کے اوقات، اپنے شعبے، کالج اور گھر کی مصروفیات وغیرہ کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کے اپنے رنگ میں وضع کیے ہوئے اشارات لکھے رہتے تھے اور ہاں کبھی کبھی کوئی تازہ سُنا ہوا شعر بھی جو انہیں پسند آگیا ہو، دوپہر کا کھانا اپنے شعبے کے ساتھیوں کے ساتھ اس کمرے میں کھاتے۔ کبھی کبھی مجھے بھی اس میں شریک کر لیتے ۔ یہ کھانا عموماً آج کل کی اصطلاح میں فاسٹ فوڈ ( fast food ) قسم کی چیزوں پرمشتمل ہوتا جو نیلے گنبد کے ایک خاص کھوکھے سے لائی جاتی تھیں، کھانے اور دوپہر کے آرام کے بعد ڈاکٹر صاحب اس کمرے میں بیٹھے رہتے اور پھر وہاں سے پیدل چل کر ماڈل ٹاؤن کے بس کے اڈے پر پہنچتے کہ اس زمانے میں وہ ماڈل ٹاؤن میں رہا کرتے تھے، حفیظ جالندھری بھی وہیں رہتے تھے ۔ ڈاکٹر صاحب سے ان کی ملاقات تاثیر صاحب کے ذریعہ ہوئی تھی بہرحال وہ حفیظ کے گیتوں اور غزلوں کے بہت قائل تھے اور اس زمانے میں کہ جب حفیظ اور نیاز مندانِ لاہور کے حلقہ ٔ احباب میں وہ اگلا سا ربط ضبط باقی نہ رہا تھا جس کے متعلق میں نے صوفی تبسم صاحب پر اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے، ڈاکٹر صاحب کے مراسم حفیظ جالندھری سے مسلسل قائم رہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں ماڈل ٹاؤن میں ایک دوسرے کے بہت قریب رہتے تھے ۔
ڈاکٹرنذیر احمد اور تاثیر صاحب کے ایک مشترکہ انگریز دوست وکٹر کیرنن تھے جن سے ان دونوں کی ملاقات ان کے قیامِ انگلستان کی یاد گار تھی ، کیرنن نے کیمبرج سے ڈگری تو تاریخ کے مضمون پر لی تھی مگر ان کو شعر و ادب سے بھی بڑی دل چسپی تھی ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ لاہور آگئے اور ایچیسن کالج میں انگریزی پڑھانے لگے ۔ یہاں ان کی تاثیر صاحب اور ڈاکٹر صاحب کے حلقۂ احباب خصوصاً فیض صاحب سے بھی دوستی ہوگئی ۔ میری طالب علمی ہی کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب نے مجھے بھی کیرنن سے ملوایا بلکہ ایک دوبار مجھے اپنے ساتھ ان کے ہاں لے بھی گئے ۔ وہ ایچیسن کالج کے ملحقہ بنگلوں میں سے ایک میں رہتے تھے ۔ کیرنن کو انگریزی شعر و ادب کا ذوق تو تھا ہی ڈاکٹر صاحب کی دوستی میں انہیں اُردو پڑھنے کا شوق ہوا۔ اس میں انہوں نے کافی استعداد پیدا کر لی اور آخر ڈاکٹر صاحب کی مدد سے انہوں نے اقبال کی نظموں کا انگریزی میں نہایت اعلیٰ ترجمہ کیا جو انگلستان میں شائع ہوا۔ اس کے بعد کیرنن نے ڈاکٹر صاحب ہی کی مدد سے فیض کی غزلوں اور نظموں کا بھی انگریزی میں منظوم ترجمہ کا کام شروع کر دیا۔ کیرنن جنگ کے خاتمہ پر واپس انگلستان چلے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد ایڈنبرا یو نیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہو گئے۔ میں ان سے ۱۹۵۵ ء میں اپنے دورانِ قیام لندن میں بھی ملا ۔ ۱۹۶۵ ء کی گرمیوں میں وہ پھر لاہور آئے اور ڈاکٹر صاحب کے ہاں جو اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل تھے لاج میں مہینوں قیام کیا اس دوران میں کئی بار میرا بھی اُن سے ملنا ہوا۔ اس زمانے میں انہوں نے فیض کے ترجموں پر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مل کر نظر ثانی کی۔ کراچی جا کر فیض سے بھی مشورے کیے اور آخر یہ ترجمے جو میری نظر میں آج بھی اپنی مثال آپ ہیں کتابی شکل میں یونیسکو کے زیر اہتمام ایک انگریز پبلشر نے اُردو نظموں کے ساتھ انتہائی حسن و خوبی سے شائع کیے ۔ اس کتاب میں کیرنن کا ایک طویل دیباچہ فیض کی زندگی اور شاعری پر بھی شامل ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر نذیر احمد کا انتہائی خلوص و محبت سے ذکر کرتے ہوئے ترجمے میں ان کی بیش قیمت اعانت کا اعتراف کیا ہے اسی قسم کا اعتراف انہوں نے اقبال کے ترجموں والی کتاب کے دیباچے میں بھی کیا تھا۔
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ پطرس بخاری صاحب پاکستان بننے سے چند مہینے قبل ہی آل انڈیا ریڈیو سے رخصت ہو کر گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل کی حیثیت سے واپس آگئے تھے۔ تقسیم کے ہنگاموں اور گرمیوں کی تعطیلات کے بعد جب کالج دوبارہ کھلا تو بخاری صاحب کا دور شروع ہوا ۔ انہوں نے کالج کی مختلف ،انجمنوں کے سر برا ہوں میں جو تبدیلیاں کیں ۔ اُن کے نتیجے میں ڈاکٹر صاحب کو شعر و ادب سے ان کے شعف کی بنا پر مجلسِ اقبال کا سر براہ بنا دیا گیا۔ اس پر اسٹاف کے ممبروں میں کچھ چہ مہ گوئیاں بھی ہوئیں۔ کیوں کہ ڈاکٹر صاحب سائنس کے شعبے سے تعلق رکھتے تھے مگر واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے بڑی محنت اور خوبی سے اس ذمہ داری کو نبھایا ۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر لکھنے پڑھنے والے لڑکوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور انہیں مجلس میں اپنے مضامین اور افسانے پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے ۔ اشفاق احمد جو بعد کو ہمارے چوٹی کے افسانہ نگار ڈرامہ نگار شمار ہونے لگے کالج میں ڈاکٹر صاحب کی دریافت تھے۔ انہوں نے ہی ان سے بخاری صاحب کی موجودگی میں مجلس میں ان سے ان کا پہلا افسانہ پڑھوایا تھا۔
ڈاکٹر صاحب جب تک ماڈل ٹاؤن میں رہے تو کچھ شہر کی زندگی سے الگ تھلگ رہے مگر جب چند برسوں کے بعد پروفیسر سراج الدین پر نسپل کے عہدے پر فائز ہوئے اور لاج میں منتقل ہو گئے تو ڈاکٹر صاحب کو کالج سے ملحقہ کو ٹھیوں میں سے سراج صاحب والی کوٹھی الاٹ ہو گئی اور وہ ماڈل ٹاؤن کا گھر چھوڑ کر یہاں آگئے ۔ سراج صاحب کے زمانے میں تو یہ کو ٹھی ان کے ساز و سامان سے بھری ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے رہن سہن کا انداز دوسرا تھا ۔ بہر حال انہوں نے اپنے سادہ طریقے سے اسے آراستہ کر لیا ۔ اب ان کے دوست احباب ان کے ہاں آنے جانے لگے اور باہر سے آنے والے قیام بھی کرنے لگے ۔ اس زمانے کے مشہور ستار نواز شریف پونچھ والے جن کے فن کے ڈاکٹر صاحب گرویدہ تھے جب لاہور آتے تو ڈاکٹر صاحب ہی کے ہاں ٹھہرتے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک شام ڈاکٹر صاحب نے مجھے بھی دعوت دی اور ہم رات گئے تک ستار پر ان سے مختلف راگ سنتے رہے ۔ میرے سوا ایک دو حضرات ہی اور تھے ،کیوں کہ ڈاکٹر صاحب محفل آرائی کے نہ قائل تھے اور نہ ان کو اس کا دماغ تھا ۔ موسیقی سے اپنے ذوق و شوق کی تسکین، ریڈیو اور ریکارڈوں سے کیا کرتے تھے۔ صرف اپنی موسیقی ہی کے نہیں مغربی موسیقی کے بہت سے ریکارڈ بھی ان کے پاس موجود تھے۔ خصوصاً بیتھوون اور موتزارٹ کے ۔ ان کے فن میں خاصا درک بھی رکھتے تھے ۔
موسیقی کے ساتھ ساتھ انہیں مصوری سے بھی لگاؤ تھا ۔ انگلستان جاتے تو چیدہ چیدہ مصوروں کے پرنٹ خرید لاتے۔ ایک دفعہ میرے لیے بھی گوگاں کے دو پرنٹ لائے تھے۔ اپنے ہاں کے مصور عبد الرحمٰن چغتائی سے تو ان کے خاص تعلقات تھے۔ چغتائی صاحب سے میرا تعارف تو تاثیر صاحب کے ذریعے ہوا تھا وہ ایک دفعہ مجھے اپنے ساتھ ان کے گھر بھی لے گئے تھے ۔ اس کے بعد مجید ملک صاحب کے ساتھ بھی میں کئی بار ان کے ہاں گیا۔ مگر چغتائی صاحب کے ساتھ میرا زیادہ ملنا جلنا ڈاکٹر صاحب کی معیت میں ہوا ۔ گورنمنٹ کالج میں میری لیکچراری کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب کا اور میرا ایک پروگرام طے پا گیا تھا جس پر بعد میں بھی میرے قیام لاہور کے دوران عمل ہوتا رہا۔ موسم سرما کے دوران مہینے میں ایک دو بار چھٹی کے دن ہم دس گیارہ بجے کے قریب سائیکلوں پر راوی کے کنارے پہنچ جاتے، سائیکل گورنمنٹ کالج کی کشتیوں کے اڈے پر چھوڑتے اور پیدل دریا کے اوپر کی طرف درختوں کے اس جنگل میں نکل جاتے جو اس زمانے میں ذخیرہ کہلاتا تھا۔ وہاں ہم سُوکھے پتوں کو روند تے ، پرندوں کی چہکاریں سُنتے دور تک نکل جاتے ۔ پھر دریا کے کنارے بیٹھ کے دوپہر کا کھانا کھاتے جو ہم نیلے گنبد کے اُسی مخصوص کھوکھے والے کے ہاں سے ساتھ لے آتے تھے ۔ اتنے میں کشتی والا اس کنارے پر کشتی لے آتا ۔ ہم کشتی میں بیٹھ کر واپس اڈے پر آتے، اس کے بعد اپنی سائیکلوں پر سوار جب ہم راوی روڈ سے گزرتے تو اکثر چغتائی صاحب کے ہاں پڑاؤ کرتے۔
چغتائی صاحب کے ہاں دستور یہ تھا کہ گھنٹی سُننے پر اوپر کھڑکی سے ان کے بھائی عبد الرحیم جھانکتے، دیکھتے کہ کون ہے کیوں کہ باریابی کا شرف بہت کم لوگوں کو حاصل تھا۔ خوش قسمتی سے ہم ان میں شامل تھے۔ وہاں چائے اور سموسوں سے ہماری تواضع ہوتی۔ چغتائی صاحب موڈ میں ہوتے تو ہمیں نئی تصویریں دکھانے اوپر کی منزل میں اپنے سٹوڈیو میں بھی لے جاتے جس کی کھڑکیوں سے اندرونِ شہر کے مکانوں کی چھتوں اور منڈیروں، شاہی مسجد کے گنبدوں اور میناروں کے منظر دکھائی دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ چغتائی صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو اپنے مخصوص انداز میں مخاطب کیا اور پھر اپنی ایک تصویر کی ڈرائنگ دکھائی، ڈاکٹر صاحب نے غور سے دیکھی اور خاموش رہے ۔ چغتائی صاحب نے ذرا جھنجھلا کے پوچھا، کچھ بولتے کیوں نہیں ؟ ڈاکٹر صاحب نے کچھ جھجکتے ہوئے بعض خطوط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ چغتائی صاحب نے بورڈ سے ڈرائنگ اُٹھائی اور پھاڑ دی ۔ کہنے لگے مجھے تمہاری آنکھ پر اعتبار ہے،تمہیں ٹھیک نہیں لگی تو پھر بے کار ہے ۔
چغتائی صاحب گوشہ نشین آدمی تھے۔ اپنے کام میں مشغول رہتے تھے ۔ کم سے کم جس زمانے کا ذکر کر رہا ہوں اس میں ان کی یہی کیفیت تھی۔ وہ گھر سے بہت کم باہر نکلتے تھے اور بہت کم لوگوں سے ملتے تھے ۔ سوائے ان کی اپنی تصویریں کی ایک نمائش کے کہ جس کا اہتمام تاثیر صاحب وغیرہ نے ۱۹۴۸ء یا ۱۹۴۹ ء میں آرٹس کونسل لاہور کے افتتاح کے موقع پر کیا تھا، میں نے چغتائی صاحب کو کبھی کسی محفل میں نہیں دیکھا حتیٰ کہ نیاز مندانِ لاہور کی کسی نجی محفل میں بھی نہیں کہ جن حلقۂ احباب کے وہ ایک زمانے میں سرکردہ رکن رہے تھے ، تاثیر صاحب اور مجید ملک صاحب ان سے ملنے ان کے گھر جایا کرتے تھے، ۱۹۳۰ ء کے ابتدائی برسوں میں انہی احباب سے مل کر چغتائی صاحب نے ایک مصوّر مجلے ’’کارواں‘‘کا اہتمام کیا تھا۔ پہلا شمارہ تاثیر صاحب نے مرتب کیا تھا اور دوسرا شمارہ مجید ملک صاحب نے، ایک طویل عرصے کے بعد چغتائی صاحب کو اسے پھر جاری کرنے کا خیال آیا ۔ شاید ۱۹۵۸ ء کا زمانہ ہو گا کہ چغتائی صاحب کے چھوٹے بھائی عبدالرحیم صاحب میرے نام چغتائی صاحب کا ایک خط لے کر آئے جس میں انہوں نے اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا اور میری قدر افزائی کرتے ہوئے اس مرتبہ مجھے ’’کارواں‘‘ کی ترتیب کی ذمہ داری کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ میں یہ خط وصول کرنے کے بعد چغتائی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی بے بظاعتی کا عذر کیا مگر انہوں نے مجھے ایسا مجبور کیا کہ میں کچھ رضامند ہو گیا۔ معاملہ ابھی منصوبہ بندی کی ابتدائی منزل ہی میں تھا کہ ملک میں جنرل ایوب خان کا مارشل لا نافذ ہو گیا اور چند مہینوں کے بعد میں تبادلے پر کراچی چلا گیا۔ چناں چہ اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔ چغتائی صاحب بہر حال مجھ پر شفقت فرماتے رہے ۔
چغتائی صاحب سے میری آخری ملاقاتیں ۱۹۶۸ء - ۱۹۶۹ء کے دوران غالب کی صد سالہ برسی کی تقریبات کے سلسلے میں ہوئیں ۔ پروفیسر حمید احمد خاں کی زیر صدارت کہ اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے جو مجلسِ یادگار غالب قائم کی گئی تھی، میں اس کا معتمد تھا ۔ ۱۹۶۸ ء کے شروع میں جب میں وزارت اطلاعات و نشریات کا جائنٹ سیکرٹری ہو کر ڈھا کہ چلا گیا تو میں نے الطاف گوہر سے کہ وہ وزارت کے سیکرٹری تھے تجویز کیا کہ حکومت کی طرف سے تقریبات کے سلسلے میں غالب پر ایک فلم بنائی جائے ۔ انہوں نے یہ تجویز فور اًمنظور کرلی۔ چناں چہ خلیق ابراہیم خلیق کو جو وزارت کے محکمہ فلمز سے وابستہ تھے یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ اس فلم میں بعض مقامات پر چغتائی صاحب کی تصویریں پس منظر کے طور پر دکھانے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ چغتائی صاحب سے تصویریں حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، میں نے یہ ذمہ داری قبول کی، اتفاق سے میں ڈھا کے سے ایک میٹنگ کے سلسلے میں لاہور آیا ہوا تھا۔ چناں چہ میں چغتائی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، ان سے درخواست کی اور انہوں نے اپنی چند تصویریں اس مقصد کے لیے عنایت فرما دیں ۔
چغتائی صاحب کے بارے میں اس طویل جملہ معترضہ کے بعد میں پھر ڈاکٹر نذیر احمد کے ذکر کی طرف لوٹتا ہوں ۔ میں یہ کہنے والا تھا کہ ڈاکٹر صاحب طبعاً بڑے صاف گو اور کھرے آدمی تھے ۔ انہیں ہر وہ بات کرنے سے عار تھی جسے وہ غلط سمجھتے ہوں ۔ چغتائی صاحب کا ان کو بڑا احترام تھا ۔ مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ، ان کی ڈرائنگ کے متعلق وہ اپنی بات کہنے سے نہیں چوکے ۔ اسی طرح صوفی تبسم صاحب کی شرح غزلیات غالب (فارسی) جب پیکیجز کی طرف سے شائع ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے پیکجز کے اشاعتی پروگرام کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس کا ’’تعارف‘‘ لکھا اور اس میں تعریف و توصیف کے ساتھ یہ جملے بھی اضافہ کر دیے :
’’ مسودہ دیکھتے ہوئے بعض جگہ ایسا احساس ہوتا ہے کہ ان (صوفی صاحب) کی تشریح ایک اوسط درجے کے طالب ِعلم کے لیے کافی نہ ہوگی اور اسے تشنہ رکھے گی ۔ بعض دوسری جگہوں پر نظر آتا ہے کہ شارح شعر کے اصل خیال کو چھوڑ کر صرف و نحو کے کسی ضمنی مسئلے کی طرف نکل گیا ہے اور کئی جگہ تشریح کی بجائے صرف ترجمے پر اکتفا کیا ہے حالاں کہ وہاں تشریح کی ضرورت تھی۔‘‘
ڈاکٹر صاحب کے ان جملوں سے اختلاف کرنا تو مشکل ہے پھر بھی بر سبیلِ تذکرہ جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے جو محسوس کیا لکھ دیا ۔ میں نے اس کے جواب میں صرف یہی کہا کہ ’’تعارف‘‘ کا تبصرہ ہونا تو ضروری نہیں ہوتا۔ دراصل یہاں بھی ڈاکٹر صاحب نے اسی صاف گوئی سے کام لیا تھا جو اُن کی طبیعت کاخاصہ تھی ۔
ڈاکٹر صاحب کو بے ضررسی فقرہ بازی کا بھی شوق تھا۔ اس کا کچھ اندازہ میرے نام ان کے خطوط سے بھی ہو سکتا ہے جو اس مضمون کے آخر میں شائع ہور ہے ہیں ۔ وہ بڑے مزے کے خطوط اور رقعے لکھا کرتے تھے مگر افسوس کہ ان میں سے اکثر ضائع ہو گئے۔ کبھی کبھی وہ تاثیر صاحب سے بھی اس قسم کی فقرہ بازی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ وہ تاثیر صاحب کے ہاں آئے تو وہاں مجلس گرم تھی ۔ تاثیر صاحب اپنے خاص رنگ میں باتوں میں مشغول تھے اور بتا رہے تھے کہ ایک دن پہلے ممتاز دولتانہ صاحب ان سے ملنے آئے تھے۔ یہ پنجاب میں ۱۹۵۱ ء کے انتخاب سے چار چھ مہینے پہلے کی بات ہے ۔
تاثیر صاحب نے دولتانہ صاحب کی تعریف کرتے ہوئے اپنی اس رائے کا اظہار کیا کہ وہ پنجاب کی سیاست پر حاوی نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب آئے کچھ دیر بیٹھے مگر ان کو اس گفتگو سے کوئی دل چسپی نہیں تھی ۔ لہٰذا وہ جانے کے لیے اُٹھے تو تاثیر صاحب نے کہا۔’’ کہاں جارہے ہو ابھی تو آئے ہو۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بے ساختہ یہ شعر پڑھا:
مجلسِ وعظ تو تا دیر رہے گی قائم
یہ ہے مے خانہ ابھی پی کے چلے آتے ہیں
حاضرین مجلس بے اختیار ہنس پڑے۔ تاثیر صاحب کچھ خفیف سے ہوئے اور ڈاکٹر صاحب مسکراتے ہوئے رخصت ہو گئے۔
جب ڈاکٹر صاحب کی ترقی ہوئی تو وہ گورنمنٹ کالج جھنگ کے پرنسپل بنا دیے گئے ۔ یہ شاید ۱۹۵۲ ء کا واقعہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر صاحب نے جھنگ آنے کی دعوت دی۔ اس زمانے میں قدرت اللہ شہاب وہاں کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ ان سے ڈاکٹر صاحب کا خاصا ربط ضبط رہتا تھا ۔ جس شام میں پہنچا اسی شام ڈاکٹر صاحب نے شہاب صاحب کو کھانے پر بلایا۔ شروع سردیوں کے دن تھے، ہم لوگ کھانے کے بعد ڈاکٹر صاحب کے مطالعہ کے کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں دور سے کسی کے گانے کی آواز آئی جو رفتہ رفتہ قریب اور زیادہ سے زیادہ بلند ہوتی گئی ۔ رات کی خاموش فضا میں یہ آواز ایک عجیب کیفیت پیدا کر رہی تھی ۔ ڈاکٹر صاحب اس آواز سے آشنا تھے اور میں بھی، چناں چہ انہوں نے میری طرف دیکھا اور میں نے ان کی طرف مگر ہم دونوں خاموش رہے ۔ آخر وہ آواز کوٹھی کے اندر سے آنے لگی اور پھر اچانک بند ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی ایک لمبا تڑنگا پکے رنگ اور کالی داڑھی والا شخص لمبے گیروے کرتے میں ملبوس گلے میں منکوں کی مالائیں ڈالے ڈاکٹر صاحب کے ملازم کے ساتھ آداب سلام بجا لاتا کمرے میں داخل ہوا ۔ شہاب صاحب تخت پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز تھے ۔ اس شخص کو دیکھتے ہی وہ اس طرح اٹھے کہ جیسے وہ اس کے گھٹنے چھولیں گے ۔
عین اس وقت ڈاکٹر صاحب نے رسان سے یہ کہ کر اس ساری طلسماتی فضا کا خاتمہ کر دیا کہ شہاب صاحب تشریف رکھیے یہ میرا چھوٹا بھائی ہے ۔ یہ کہنے کے بعد اس شخص سے مخاطب ہوئے : موتی شاہ،تم نے کھانا کھایا ہے ؟ اور اس کےساتھ ہی ملازم سے کہا ۔موتی شاہ کو کھانا کھلاؤ اور اس کے ٹھہرنے کا بندوبست کرو۔ در اصل شہاب صاحب اپنے رجحان طبیعت کی بنا پر یہ سمجھے تھے کہ کمرے میں شاید کسی روحانی بزرگ کا ورود ہوا ہے۔ موتی شاہ ملازم کے ساتھ کمرے سے رخصت ہوئے تو شہاب صاحب نے کسی قدر خفت کے ساتھ اطمینان کا سانس لیا۔
موتی شاہ ڈاکٹر صاحب کے ملنگ بھائی تھے اور ان سے عمر میں کوئی چھ برس چھوٹے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری ان سے ملاقات پہلے ہوئی اور ڈاکٹر صاحب سے بعد میں ۔ وہ اس طرح کہ میرے دوستوں میں مرحوم حمید شیخ بھی تھے۔ آخری عمر میں پاکستان ٹائمز میں ایچ ایس کے نام سے کالم لکھا کرتے تھے مگر اس زمانے میں کہ جس کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ ایم۔ اے کے طالب علم تھے اور کلاسیکی موسیقی سے بھی شوق رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ ہم سب دوست یعنی امجد حسین اور صفدر میر (زینو) دو ایک بار شاہی محلے کی ایک بیٹھک میں گانے کی محفل میں بھی گئے تھے ۔ وہاں بڑے غلام علی خان، چھوٹے غلام علی اور برکت علی خاں وغیرہ کا اجتماع ہوتا تھا۔ موتی شاہ کو میں نے پہلی بار وہیں دیکھا۔ آواز انہوں نے ایسی پاٹ دار اور ساحرانہ پائی تھی کہ باید و شاید ۔ وہیں ہم نے یہ سنا کہ بڑے غلام علی خاں ان کو کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم دینا چاہتے تھے کہ وہ بطور شاگردان کا نام روشن کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کوشش بھی کی مگر موتی شاہ تو پیدائشی طور پر کم زور ذہن رکھتے تھے ، ان میں کچھ سیکھنے اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی بس غزلیں اور پنجابی گیت سادہ سُروں میں گا لیا کرتے تھے اور آواز کے سہارے گانے میں جادو جگا دیتے تھے ۔ حمید شیخ کے گھر کے قریب ہی ایک صاحب غلام فاروق رہتے تھے جو موسیقی کے ماہر تھے ۔ بعد میں انہوں نے لاہور میں ایک میوزک سوسائٹی بھی قائم کی تھی۔ انہی کی صحبت میں حمید شیخ کو بھی موسیقی سے لگاؤ پیدا ہوا تھا ۔ موتی شاہ فاروق صاحب کے ہاں بھی آتے جاتے تھے۔ اور عموماً رات کے وقت راستے میں ہمارے گھر کی سڑک سے گزرتے تو اکثر گاتے ہوئے گزرتے ۔ ان کو رات کے وقت شاہراہوں پر گانے کی عادت تھی ۔ جہاں جاتے وہاں اپنی آمد کا اعلان بھی اسی انداز سے کرتے، مختصر یہ کہ میں موتی شاہ سے آشنا تھا اور مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے ایک بھائی پر و فیسر ہیں۔ پھر جب ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو میں ان کے ہاں بھی موتی شاہ سے کئی بار ملا۔
میرے جھنگ کے قیام کے دوسرے دن ڈاکٹر صاحب نے مجھے اپنا کالج دکھا یا کچھ اساتذہ اور لڑکوں سے ملوایا۔ سہ پہر کو ڈاکٹر صاحب نے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی ۔ ڈاکٹر صاحب کے طور طریقوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بڑے دوستانہ ماحول میں کالج چلا رہے ہیں، حالاں کہ جھنگ کالج کا پورا ماحول ان کے لیے نیا تھا مگر انہوں نے اسے اپنے لیے بڑا ساز گار بنا لیا تھا۔ شام کو ڈاکٹر صاحب نے ایک لڑکے کو مجھ سے ملوانے کے لیے گھر بلایا اور اس نے مجھے حیران کر دیا، وہ لڑکا کالج میں ایف اے کا طالب علم تھا اور عمر میں کسی قدر زیادہ کیوں کہ اس نے کالج سے پہلے کسی مدرسے کی تعلیم میں وقت گزارا تھا۔ اس کی فارسی دانی کا یہ عالم تھا کہ سعدی و حافظ کی غزلوں کے علاوہ خاقانی اور عرفی کے قصیدے بھی اسے ازبر تھے اور ان کے بارے میں خاصی سمجھ بوجھ بھی رکھتا تھا۔ جھنگ میں شاعر جعفر طاہر کے علاوہ یہ لڑکا بھی ڈاکٹر صاحب کی دریافت تھا ۔
ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ کالج لاہور کے بھی پرنسپل ہوئے مگر میں اس زمانے میں لاہور سے رخصت ہو چکا تھا ۔ لاہور سے میں کراچی گیا اور وہاں سے کوئی تین سال بعد امریکہ۔ گورنمنٹ کالج کے یوم تاسیس کی صد سالہ تقریبات ۱۹۶۴ء میں ہوئیں تو ڈاکٹر صاحب نے ازراہِ شفقت مجھے ان کا دعوت نامہ واشنگٹن میں بھجوایا ۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے یہاں بھی بطور پرنسپل ڈاکٹر صاحب نے اسٹاف ممبروں سے دوستانہ اور طلبہ سے مشفقانہ سلوک برقرار رکھا۔ اس زمانہ میں پہلے تو جنرل ایوب خان کا ۱۹۶۲ء کا دستور آیا جس کے بارے میں مشہور عوامی شاعر حبیب جالب کی نظم کا ملک بھر میں بہت چرچا تھا خصوصاً اس شعر کا:
ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو
میں نہیں جانتا ، میں نہیں مانتا
پھر اس کے بعد جنرل ایوب خان کا فاطمہ جناح کے خلاف صدارتی انتخاب ہوا۔ دونوں موقعوں پر طلبہ کی سیاسی تنظیموں نے ہنگامے کیے ۔ گورنمنٹ کالج میں طارق علی اور سلمان تاثیر جیسے طالب ِعلم لیڈر موجود تھے ۔ طارق علی کے والد مظہر علی خان ڈاکٹر صاحب کے جاننے والے تھے اور سلمان تاثیر تو گویا ان کے بھتیجوں کی طرح تھے ۔ یہ دونوں احتجاجی جلوس لے کر نکلتے تو ڈاکٹر صاحب ان کے ساتھ ہو جاتے۔ پولیس جلوس کا محاصرہ کرتی تو ڈاکٹر صاحب طلبہ اور پولیس میں بیچ بچاؤ کراتے، گورنمنٹ کالج کے پرنسپل حضرات تو بڑے الگ تھلگ اور رعب داب والے لوگ ہوا کرتے تھے ، گھر ڈاکٹر نذیر احمد کا زمانہ لوگ اسی لیے یاد کرتے ہیں کہ وہ بہت غیرمعمولی قسم کے مگر بڑے مقبول پرنسپل تھے۔
میں ۱۹۶۵ ء کے وسط میں امریکہ سے لوٹا تو میرا تقرر لاہور میں اس وقت کی فنانس سروسز اکیڈمی میں ہوا۔ چناں چہ ڈاکٹر صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ پھر جاری ہو گیا۔ مگر یہ ڈاکٹر صاحب کا بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج آخری زمانہ تھا، پھر بھی ستمبر کی جنگ کے بعد ملک میں ذرا سکون ہوا ۔ لاہور کی زندگی اپنی نہج پر آئی تو ڈاکٹر صاحب ایک اتوار کو گورنمنٹ کالج کے کچھ لڑکوں اور استادوں کی کرکٹ ٹیم لے کے اکیڈمی کی ٹیم سے میں کھیلنے آئے ۔ اکیڈمی کی ٹیم میں بھی کچھ لڑکے تو گورنمنٹ کالج ہی کے پرانے طالبِ علم تھے ۔ سردیوں کے دن تھے ۔ بڑے مزے کا میچ ہوا ۔ لڑکوں نے ڈاکٹر صاحب کی خاطر تواضع بھی کی، اور عزت افزائی بھی کی، کیوں کہ چند دنوں کے بعد یعنی دسمبر ۱۹۶۵ ء میں وہ پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے تھے ۔
میں نے ابتدا میں ڈاکٹر صاحب کی ایک خاص دل چسپی سیر و سیاحت کا بھی ذکر کیا تھا اور اس کا بھی کہ وہ ۱۹۳۰ ء کی دہائی کے وسط میں اعلیٰ تعلیم کےسلسلے میں انگلستان گئے تھے ، ان کے ماموں جن کی بیٹی سے ان کی شادی ہوئی تھی انگلستان میں کاروبار کرتے تھے اور لندن میں رہتے تھے ۔ لہٰذا دوسری جنگِ عظیم کے دوران تو نہیں مگر جنگ کے بعد سے ایک عرصے تک کبھی اکیلے اور کبھی بیوی بچوں سمیت گرمیوں کی چھٹیوں میں انگلستان چلے جاتے تھے اور وہاں سے یورپ کے مختلف ملکوں کی سیر و سیاحت کے لیے نکل جاتے تھے۔ وہ سادہ آدمی تھے اور سیر و سیاحت بھی نہایت سادہ طریقے ہی سے کرتے تھے ۔ پانی کے جہازوں، بسوں، ٹرینوں سے سفر کرتے۔ یوتھ ہوسٹلز یا اسی قسم کی سستی جگہوں پر قیام کرتے اور اکثر پیدل گھومتے پھرتے۔ کچھ عرصے کے بعد ان کے ماموں نے انگلستان میں اپنا کاروبار بند کر دیا اور وہ بمبئی آگئے کہ ان کے کاروبار کا کچھ حصہ وہاں بھی تھا ۔ اب ڈاکٹر صاحب انگلستان کی بجائے بمبئی جانے لگے ۔ وہاں ان کا وقت زیادہ تر ادیبوں اور شاعروں کے درمیان گزرتا۔ راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چندر وغیرہ کو تو وہ لاہور سے جانتے تھے ۔ خواجہ احمد عباس، علی سردار جعفری وغیرہ سے ان کی ملاقات وہاں ہو گئی۔ غرض سفر ہو یا حضر ڈاکٹر صاحب اپنے ڈھب کے لوگوں سے ملتے تھے اور اسی میں خوش رہتے تھے ۔ بمبئی جانے میں رکاوٹ ہوتی تو ڈاکٹر صاحب تعطیلات کا غان ، سوات اور چترال کی طرف نکل جاتے، غرض ان کو جہاں گردی کا شوق تھا۔
ریٹائر منٹ سے پہلے ہی ڈاکٹر صاحب نے لاہور چھاؤنی میں ایک خاصے بڑے قطعہ پر کہ جس کے پچھواڑے میں اور سامنے سے گزرنے والی سڑک پر قطار اندر قطار درخت ہی درخت تھے، اپنے مکان کی طرح ڈال دی تھی ، مکان بھی انہوں نے خاص اپنی پسند کا بنوایا ، چاروں طرف پرانی طرز کے دالان اور بر آمدے اور بیچ میں ایک وسیع صحن ۔ پیچھے درختوں سے بھرا ہوا باغ ۔ ساری عمارت سرخ اینٹ کی ۔ کہیں پلستر کا نام و نشان نہیں، فرش بھی ہشت پہلو سرخ اینٹوں کے۔ غرض وہ اس زمانے کے مکانوں کی طرح کا مکان نہیں ۔ قدیم وضع کا مکان ہے کہ ڈاکٹر صاحب خود بہت سی باتوں میں قدیم وضع کے پابند تھے ۔
ریٹائرمنٹ کے بعد سید بابر علی نے ڈاکٹر نذیر احمد کو اپنے ادارے پیکجز کے اشاعتی پروگرام کا مشیر بنا لیا ۔ اس حیثیت میں ڈاکٹر صاحب کو شعر و ادب سے اپنے شغف کے اظہار کا موقعہ ملا۔ یہاں انہوں نے پنجابی زبان کے صوفی شاعروں بلھے شاہ اور شاہ حسین کے کلام کی بڑی محنت اور جاں فشانی سے تدوین کی۔ اس سلسلے میں تحقیق و تفتیش کے سلسلے میں انہوں نے مشرقی پنجاب کا سفر کیا اور وہاں کی یونیورسٹیوں کے پنجابی ادب کے شعبے اور دوسرے اہلِ علم سے رابطہ کیا۔
ڈاکٹر صاحب کو پنجابی کے صوفی شاعروں سے ایک خاص ربط و تعلق تھا۔ وہ اپنی طبیعت سے صوفی تھے اور اہلِ دل لوگوں میں سے تھے۔ اس کا اظہار انہوں نے میرے نام ایک خط میں بھی کیا ہے جو اس مضمون کے آخر میں شامل ہے ۔ ان کے چھوٹے بھائی موتی شاہ تو عرفِ عام میں ملنگ تھے ۔ مگر ایک خاص طرح کے ملنگ ڈاکٹر صاحب بھی تھے۔ چناں چہ ان کے ایک ہندوستانی لندنی دوست اقبال سنگھ ان کو خط لکھتے تو ہمیشہ ’’ مائی ڈیر ملنگ‘‘ سے خطاب کرتے، اقبال سنگھ کی تاثیر صاحب سے بھی دوستی تھی، انہوں نے تاثیر صاحب پر ایک نہایت اچھا انگریزی مضمون اسلامیہ کالج کے میگزین ’’کریسنٹ‘‘ کے تاثیر نمبر کے لیے لکھا تھا ۔ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب سے ان کے تعلقات آخر دم تک قائم رہے ۔ قیامِ لندن کے دوران میں بھی ان سے اکثر ملتا رہا۔ آخری بار اُن سے میری ملاقات لندن ہی میں اکتوبر ۱۹۸۹ ء میں ہوئی وہ اس وقت ۸۰ برس کی عمر سے تجاوز کر چکے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کا تو انتقال ہو چکا تھا، ان کو بڑی محبت سے یاد کرتے رہتے اور ان کے تیار کیے ہوئے پنجابی شاعروں کے ایڈیشنوں کی تعریف کرتے رہے۔
آخری عمر میں ڈاکٹر صاحب کو گردوں کی خرابی کا مرض ہوا ۔ اس کی شدت بڑھی تو وہ صاحب فراش ہو گئے ۔ اس کے باوجود فیض صاحب کی تدفین کے دن ان کے ہاں پہنچے گاڑی ہی میں بیٹھے رہے ۔ وہیں انہوں نے ایلس اور فیض کی بچیوں سے ملاقات کی اور سخت بے قراری کے عالم میں آنسو بہاتے رہے ۔ میں بھی وہاں ان سے ملا مگر تفصیلی ملاقات کے لیے اس شام ان کے گھر گیا۔ بستر پر لیٹے ہوئے تھے مجھ سے کہنے لگے کہ گھر والے خواہ مخواہ میرا علاج کروارہے ہیں۔ اب وقت آن پہنچا ہے۔ اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے ۔ یہ بھی ان کے صوفی مزاج اور درویشانہ طبیعت کی دین تھی کہ وہ بالکل راضی برضا نظر آتے تھے۔ یہی میری ان سے آخری ملاقات ثابت ہوئی ۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔
ڈاکٹر نذیر احمد اپنی تربیت اور بیٹے کے اعتبار سے سائنس دان تھے مگر وہ ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور مغنّیوں بلکہ اس زمرے میں ہر نئے جو ہر ِقابل کے قدر دان تھے ۔ قدرت نے انہیں ادب وفن کے معاملات میں ’’خبر‘‘ اور ’’نظر‘‘ دونوں سے نوازا تھا۔ انہوں نے تمام عمر اپنی انہی صلاحیتوں کی پرورش کی اور انہی کے سہارے کتابوں کی دنیا میں ایسی نشانیاں بھی چھوڑیں جو اُن کی یاد کو دلوں سے
محو نہیں ہونے دیں گی ۔
( ۱۹۹۶ء )