ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

    صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

    غالب نے ایک جگہ اپنے بارے میں کہا ہے :

    د بیرم ، شاعرم ، رندم، ند ییم ، شیوه ہا دارم

    فرق مراتب کو ملحوظ رکھتے ہوئے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے بارے میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیوه ہا دارد، وه تین زبانوں یعنی فارسی، اردو اور پنجابی کے شاعر اور ادیب تھے وہ استاد تھے انہوں نے طویل عرصے تک گورنمنٹ کالج لاہور میں ہزاروں طلبہ کو فارسی اور اُردو پڑھائی تھی۔ وہ دوست تھے اور ایسے کہ دوستی ان کی زندگی میں ایک طرز زندگی بن گئی تھی ۔ وہ نہ صرف اپنے ہم قبیلہ اور ہم عمروں بلکہ اپنے شاگردوں کے بھی دوست تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی صاحب کے پرانے شاگرد، استادی شاگردی کا رشتہ ختم ہونے کے بعد بھی ، ان کی طرف کھنچے آتے تھے اور انہیں خلوص و محبت سے ملتے تھے۔ وہ میزبان تھے اور ان کی میزبانی میں ایک ایسی معصوم بے ساختگی تھی کہ یہ ان کا فطری تقاضا معلوم ہوتی تھی ۔ گھر میں کسی مہمان کے بغیر کھانے پر بیٹھنا ان کے لیے محال تھا ۔ اگر دوست احباب میں سے کوئی نہ ہوتا تو ہمسائے میں سے کسی کو پکڑ کے لے آتے ۔ یہ مبالغہ نہیں امر واقعہ ہے ۔ میری چھوٹی چچازاد بہن اور اس کے میاں سمن آباد میں ان کے گھر کے قریب رہنے لگے ۔ صوفی صاحب ان کو نہیں جانتے تھے مگر وہ چوں کہ صوفی صاحب کو پہچانتے تھے لہذا جہاں کہیں انہیں ملتے ادب سے سلام کرتے ۔ میری بہن بتاتی ہے کہ ایک شام صوفی صاحب نے ان کے دروازے پہ دستک دی اور دونوں میاں بیوی کو اپنے ساتھ یہ کہہ کے کھانے پر لے گئے کہ آج گھر میں شب دیگ پکی ہے ۔ وہاں جاکر باتوں باتوں میں صوفی صاحب کو معلوم ہوا کہ وہ میری بہن ہے اس کے بعد تو وہ گویا ان کی بیٹی بن گئی۔

    مہمانوں کے معاملے میں صوفی صاحب کا دل بڑا وسیع تھا۔ صرف دوست احباب ہی نہیں وہ ایسے حضرات کی میزبانی کے لیے بھی تیار رہتے تھے ۔ جن سے ان کے کوئی ذاتی تعلقات نہ ہوں ۔ اس میں ان کو بڑی طمانیت حاصل ہوتی تھی ۔ سید سلیمان ندوی لاہور آئے تو صوفی صاحب ہی کے ہاں قیام کیا ۔ فراق صاحب بھی ۱۹۴۶ ء میں ریڈیو کے مشاعرے کے لیے آئے تو انہی کے ہاں ٹھہرے، ڈاکٹر نذیر احمد جھنگ سے آئے تو اپنے ساتھ ٹھہرانے کے لیے اس زمانے کے ایک شاعر جعفر طاہر کو بھی لے آئے تو جھنگ میں ان کی دریافت تھے ۔ اس کے بعد بھی جعفرطا ہر اکثر صوفی صاحب ہی کے ہاں ٹھہرتے تھے۔ مہمانوں کی خاطر تواضع میں صوفی صاحب جس خوش دلی کا مظاہرہ کرتے تھے وہ میں نے کسی اور میں بہت کم دیکھی ہے ۔

     میں پہلے پہل صوفی صاحب سے اس وقت ملا جب میں اسلامیہ کالج کا طالب علم تھا اور وہ پر وفیسر حمید احمد خان کی دعوت پر بزم فروغ اُردو کی ایک محفل میں صدارت کے لیے آئے تھے جہاں میں نے اختر شیرانی پر ایک مضمون پڑھا تھا۔ پھر میں جب گورنمنٹ کالج کا طالب علم ہوا تو صوفی صاحب سے زیادہ ملاقات ہونے لگی اور میں ان کے گھر پر بھی آنے جانے لگا۔ گورنمنٹ کالج کی مجلس اقبال میں میں نے صوفی صاحب کی فرمائش پر یک بعد دیگرے دو مضمون پڑھے ” غالب اور بجنوری“ اور ” غالب کی عشقیہ شاعری‘‘ بعد میں پہلا مضمون ’’ادب لطیف‘‘ میں شائع ہوا اور دوسرا ’’ساقی‘‘ میں ۔ مگر صوفی صاحب سے زیادہ قریبی تعلق میرے گورنمنٹ کالج کے اسٹاف میں بطور لیکچرار شامل ہونے کے بعد استوار ہوا ۔ اس زمانے میں صوفی صاحب کو اڈرینگل ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ تھے اور وہیں رہتے تھے ۔ میرا گھر چوں کہ کالج سے دور تھا لہٰذا میں دوپہر کے کھانے کے لیے کو اڈرینگل میس کا ممبر بن گیا چنانچہ اب صوفی صاحب سے روزانہ ملاقات ہونے لگی ۔ میں ان کے دفتر پہنچ جاتا۔ صوفی صاحب کا کھانا گھر سے آتا اور میرا میس سے اور ہم دونوں مل کر کھانا بھی کھاتے اور گپ بھی کرتے ۔ اکثر یہ ہوتا کہ صوفی صاحب کسی نہ کسی دوسرے اسٹاف ممبر کو بھی بلا لیتے۔

     ایک دن میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ یو۔ کرامت صاحب ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہونے والے ہیں۔ کرامت صاحب پنجاب کے نامور جاٹ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان کے بڑے بھائی سردار حبیب اللہ زمیندارہ لیگ کے کرتا دھرتا تھے ۔ کرامت صاحب بڑے وجیہہ آدمی تھے ۔ سرخ و سپید رنگ، لمبا قد، بھرا ہوا ورزشی جسم کہ اپنے زمانے میں ٹینس کے کھلاڑی رہے تھے ۔ پنجابی ان کی مادری زبان تھی اور کبھی کبھی بول بھی لیتے تھے اُردو سے انہیں کوئی واسطہ نہیں تھا ۔ ان کی گفتگو کی زبان انگریزی تھی، اس لیے کہ ان کی سکول کی تعلیم بھی انگلستان میں ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے کیمبرج سے اقتصادیات میں ڈگری حاصل کی۔ واپسی پر اسلامیہ کالج لاہور میں لیکچرار ہو گئے جہاں وہ میرے بڑے چچازاد بھائی کے استاد رہے تھے جن کی زبانی میں نے ان کی انگریزیت کے بہت سے قصے سن رکھے تھے، اپنے طور طریقوں اور گفتار و کردار میں وہ واقعی خاصے انگریز واقع ہوئے تھے ۔ ان کا نام دراصل کرامت اللہ تھا، روایت یہ تھی کہ انگلستان پہنچے تو ان کو وہاں مسٹر اُللہ کہا جانے لگا۔ اس مضحکہ خیز خطاب سے نجات پانے کے لیے انہوں نے یو اصل نام سے پہلے منتقل کر لیا اور اس طرح وہ یو۔ کرامت بن گئے۔ اسلامیہ کالج میں لیکچراری کے بعد وہ گورنمنٹ سروس میں آگئے اور آخر لدھیانہ گورنمنٹ کالج کے پر نسپل ہو گئے۔ تقسیم کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ اقتصادیات کے صدر اور وائس پرنسپل کی حیثیت سے آئے۔

    میں نے کر امت صاحب کی انگریزیت کی صراحت اس لیے کی ہے کہ بظا ہر صوفی صاحب کا ان سے کوئی میل نہیں تھا اور نہ ان کے درمیان کوئی قدر مشترک تھی ، سوائے اس کے کہ دونوں گورنمنٹ کالج کے استاد تھے ۔ مگر صوفی صاحب اپنی خوئے میزبانی سے مجبور تھے، انہوں نے کمر امت صاحب کو بھی اپنے دفتر میں کھانے پر مدعو کر لیا ۔ اس دن صوفی صاحب نے لاہوری دروازے کے باہر امرتسری کشمیریوں کی دکان سے جو اس زمانے میں بہت مشہور تھی خاص طور پر تلی ہوئی مچھلی منگوانے کا بھی اہتمام کیا تھا۔ کرامت صاحب نے کہ لاہور کے جم خانے اور پنجاب کلب میں لنچ اور ڈنر کھانے کے عادی تھے بھلا اس قسم کی مچھلی کب دیکھی ہو گی ۔ مگر صوفی صاحب نے انہیں اس پر لگا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کر امت صاحب بغیر کسی تکلف کے اور بڑی رغبت سے وہ مچھلی کھانے لگے اور انہوں نے اپنی انگلیاں تیل میں تر ہونے کی بھی پروا نہیں کی۔

    صوفی صاحب امرتسر کے رہنے والے تھے اور کشمیری برادری سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا امرتسر کے باشند سے بالعموم اور وہاں کی کشمیری برادری کے افراد بالخصوص ان کی بڑی کم زوری تھے ۔ وہ امرتسر سے ایف اے پاس کرنے کے بعد بی اے کی تعلیم کے لیے ایف سی کالج لاہور آئے جہاں مجید ملک صاحب اور تاثیر صاحب ان کے ہم جماعت تھے ۔ ایم اے فارسی انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ پھر سنٹرل ٹریننگ کالج سے بی ٹی کی سند حاصل کی ۔ کچھ عرصے کے بعد وہ اس کالج میں السنہ شرقیہ کے لیکچرار ہو گئے، تین چار سال کے بعد تبادلے پر گورنمنٹ کالج کے شعبۂ فارسی اور اُردو میں آگئے اور ۱۹۵۴ ء میں ریٹائر ہوئے ۔ اس دوران میں وہ لاہور کی تعلیمی، تہذیبی اور ادبی زندگی میں بطور استاد اور بطور شاعر و ادیب جانے پہچانے لگے ۔ نیاز مندان لاہور کے حلقہ ٔاحباب میں شامل ہوئے اور ان کی ادبی سرگرمیوں میں شریک رہے مگر امرتسران کو کبھی نہیں بھولا۔ تقسیم سے پہلے تک وہ تعطیلات میں اور ہر اتوار کو امرتسر جایا کرتے تھے ۔ کبھی کبھی امرتسر کو یاد کر کے لاہور اور لاہور والوں کو صلواتیں بھی سنا دیا کرتے تھے ۔ نیاز مند ان لاہور کے حلقۂ احباب سے اور ان میں تاثیر صاحب سے خصوصاً آخر دم تک بڑی بے تکلفی کی دوستی رہی مگر جو تعلق خاطران کو اپنے لڑکپن کے امرتسری دوستوں بابو غلام علی اور فیروز الدین صاحب سے تھا وہ کسی اور کے ساتھ نہیں تھا، فیروز صاحب تو شام کی محفل میں صوفی صاحب کے ہم نوالہ و ہم پیالہ بھی تھے ، بابو غلام علی البتہ ہم نوالہ ہی ہوتے تھے۔ ان کے ایک اور دوست مولانا محمدحسین عرشی بھی تھے وہ مذہبی عالم تھے ان سے اور قسم کی رسم و راہ تھی۔

    امرتسر سے صوفی صاحب کی دل بستگی کا اندازہ اس واقعے سے بھی کیا جا سکتا ہے ۔ ایک دفعہ انہیں اپنے کسی جاننے والے کے ہاں ولیمہ کی دعوت پر گوالمنڈی کے علاقے میں جانا تھا۔ لیکن اکیلے جانا ان کے لیے ہمیشہ مشکل ہوتا تھا، لہٰذا انہوں نے بہت اصرار سے مجھے اپنے ساتھ کر لیا ۔ ہم تانگے میں سوار ہوئے تو صوفی صاحب نے امرتسری دعوت کے کھانوں کی خصوصیات گنوانی شروع کر دیں تاکہ میں ذہنی طور پر اس نعمت غیر مترقبہ کے لیے تیار ہو جاؤں جو مجھے ارزانی ہونے والی تھی ۔ گوالمنڈی کے چوک میں پہنچتے ہی صوفی صاحب نے تانگے کو رخصت کر دیا ، اس لیے کہ اب انہیں کچھ دوکان داروں سے علیک سلیک کرنی تھی اور جہاں کہیں حقہ موجو د ہو وہاں ایک آدھ کش  بھی لگاتا تھا کہ یہ بھی اپنائیت کی ایک نشانی ہے۔ صوفی صاحب مختلف دکانوں پر سامان کی ترتیب و آرائش کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے گزر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ بالکل امرتسر کے بازار کا نقشہ ہے، لاہور والوں کو اس طرح دکانیں سجانی نہیں آتیں۔ حد تو اس وقت ہوئی جب ہم گوشت کی ایک دکان کے سامنے سے گزرے، اس پر صوفی صاحب کا تبصرہ یہ تھا کہ کبھی کسی لاہور والے کی دکان میں اس خوب صورتی سے گوشت لٹکا ہوا دیکھا ہے ؟ مجھے اس پر ہنسی آگئی ۔ صوفی صاحب نے کسی قدر حیرت سے مجھے دیکھا اور پھر کہا۔ اصل میں تم نے گھوم پھر کر امرتسر کے بازار نہیں دیکھے اس لیے تمہیں میری باتیں عجیب سی لگ رہی ہیں ۔

     گورنمنٹ کالج کے بعض دوسرے اساتذہ بھی امرتسر سے تعلق رکھتے تھے ۔ مثلاً پر و فیسر سراج الدین صدر شعبہ انگریزی، پر و فیسر قاضی محمد اسلم صدر شعبہ فلسفہ و نفسیات ، اسی شعبہ کے ڈاکٹر حمید الدین اور ڈاکٹر عنایت اللہ صدر شعبہ عربی ۔ مگر ان میں سے کوئی بھی صوفی صاحب کی طرح امرتسر کا دلدادہ نہیں تھا۔ سراج صاحب سے تو صوفی صاحب کے تعلقات محض واجبی تھے ۔ قاضی صاحب سے البتہ ان کا میل جول زیادہ تھا۔ ان سے گفتگو میں کبھی کبھی امرتسر کی یادیں بھی تازہ کرلیا کرتے تھے مگر ان کا بڑا احترام کرتے تھے ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ سے کچھ بے تکلفی تھی ۔ وہ صوفی صاحب کے برابر کے ساتھی تھے مگر قریبی ساتھی نہیں۔ ڈاکٹر حمید الدین شاگرد تھے۔ فیض صاحب کے ہم جماعت اور ہم عمر۔ ان سے بڑی دوستی تھی وہ ان کی شام کی محفل میں بھی شریک رہتے تھے ۔ مگر صوفی صاحب کے سب سے قریبی تعلقات تو کالج کے پرنسپل یعنی پر وفیسر اے ایس (پطرس) بخاری صاحب سے تھے اور یہ تعلقات نیاز مندان لاہور کے زمانے سے چلے آرہے تھے جب بخاری صاحب یہاں پر و فیسر تھے ۔ بخاری صاحب عمر میں صوفی صاحب سے کچھ بڑے تھے ۔ اور ٹریننگ کالج میں ان کے استاد بھی رہے تھے ۔ لہٰذا قریبی تعلقات کے باوجود صوفی صاحب ان کا بڑا احترام کرتے تھے اور نجی محفلوں میں بھی کسی قسم کی بے تکلفی کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔ بخاری صاحب البتہ ان سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتے رہتے تھے اور کبھی کبھی انہیں اپنے مزاح کا نشانہ بھی بناتے تھے ۔

     نیاز مندان لاہور کے حلقہ ٔاحباب کے بزرگ مولانا عبد المجید سالک صاحب سے بھی صوفی صاحب کے ادب و احترام کے تعلقات تھے۔ البتہ بے تکلف اور گہری دوستی تاثیر صاحب ہی سے تھی اور انہی سے گلوں شکوؤں کا دفتر بھی کھلا رہتا تھا ۔مجھے یاد ہے کہ میرے دوست محمد حسن عسکری جب لاہور آئے تو میں نے انہیں صوفی صاحب سے ملوایا اور صوفی صاحب نے حسب عادت فوراً انہیں اور مجھے رات کے کھانے کی دعوت دی۔ اس محفل میں علاوہ ہم دونوں کے تاثیر صاحب ، فیض صاحب اور غلام عباس بھی موجود تھے ۔ فیض صاحب تو جلدی چلے گئے مگر ہم سب دیر تک بیٹھے رہے۔ ایک موقع پر تاثیر صاحب نے کچھ زیادہ ہی بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ صوفی تم بڑے بے وقوف ہو، صوفی صاحب کو یہ سن کرتاؤ آگیا اور انہوں نے بگڑ کر انگریزی میں کہا :

    you have never allowed me to become wise in the last twenty-five years!

    ہم سب تو صوفی صاحب کی بر ہمی دیکھ کر خاموش ہو گئے اور تاثیر  صاحب چہرے پر ہاتھ رکھ کر شرارت سے مسکرانے لگے مگر صوفی صاحب ایک دفعہ شروع ہوئے تو دیر تک رواں رہے ۔

    بہر حال تاثیر صاحب سے صوفی صاحب کی دوستی گلوں شکوؤں کے باوجو د آخر دم تک قائم رہی ۔ حفیظ جالندھری بھی نیازمندان لاہور میں شامل تھے اور اس حلقہ احباب کے عروج کے وقت ان سے بھی صوفی صاحب کی دوستی تھی مگر اس زمانے میں جس کا میں ذکر کر رہا ہوں حفیظ صاحب کے سبھی دوست ان سے الگ ہو گئے تھے ۔ سوائے مجید لک صاحب کے۔ میں نے لاہور میں ان کو اس حلقہ احباب کی کسی محفل میں نہیں دیکھا۔ ہاں تاثیر صاحب کے انتقال کے موقع پر ضرور موجود تھے ۔ مجید صاحب نے ان کو کراچی بلا کے اپنے محکمہ سے وابستہ کچھ کام سپر د کر دیا تھا، کراچی ہی کا واقعہ ہے کہ ایک شام حفیظ صاحب مجید صاحب کے ہاں آئے ۔ میں بھی اتفاق سے موجود تھا اور دوسرے کچھ ایسے احباب بھی جن کو حفیظ صاحب جانتے تھے۔ حفیظ صاحب موڈ میں آگئے انہوں نے اپنے گیت سنانے شروع کر دیے اور ” بس درشن درشن میرا ‘‘ سناتے ہوئے تو سماں باندھ دیا۔ بہر حال حفیظ صاحب کے باقی پُرانے دوست تو صرف اُن سے الگ ہی ہوئے تھے مگر صوفی صاحب کی تو باقاعدہ ان سے لڑائی تھی۔

    بات یہ ہے کہ صوفی صاحب دوستی میں تو بریشم کی طرح نرم رہتے تھے لیکن اگر کسی دوست سے بگڑ جاتے تو پھر فقرہ بازی، پھبتی  اور طعن و تشبیح میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے ۔ آخری زمانے میں ڈاکٹر نذیر احمد صاحب سے بھی کچھ اسی قسم کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب تاثیر صاحب کے بچپن کے دوست تھے ، انہی کی وساطت سے صوفی صاحب سے ملے ۔ پھر وہ جب گورنمنٹ کالج کے اسٹاف ممبر ہو کے آئے تو وہ صوفی صاحب کے اور قریب آگئے ۔ یہاں سے جھنگ کے کالج میں پرنسپل ہو کر چلے گئے مگر جب لاہور آئے تو صوفی صاحب ہی کے ہاں ٹھہرتے ۔ پھر جب صوفی صاحب ان سے خفا ہوئے تو ایسے خفا ہوئے کہ کچھ نہ پوچھیے ان کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔

    میں نے صوفی صاحب کی گا بہ گاہ کی تلخ کلامی کا ذکر تو کر دیا ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ یہ ان کی طبیعت کا ایک عارضی پہلو تھا ۔ پل بھر غصہ کرنے کے بعد وہ وہی ہو جاتے تھے ۔ نوکروں کو بھی ڈانٹتے ڈپٹتے تھے مگران کا خیال بھی بہت کرتے تھے ، اور اکثر تو وہ خوش باش اور ہنستے کھیلتے ہی نظر آتے تھے ۔ بتایا کرتے تھے کہ میرے استاد نے میرا تخلص اس لیے تجویز کیا تھا کہ میرے چہرے پرعموماً تبسم رہتا تھا ۔

     میں ابھی ابھی نیاز مندان لاہور کا تذکرہ کر رہا تھا اور یہ کہنے والا تھا کہ ان کے ہاں دو شاعروں یعنی حفیظ جالندھری اور تاثیر کا چرچا تھا بطور شاعر صوفی صاحب کی آوازان دونوں کی آواز میں دب کر رہ گئی تھی ۔ حفیظ جالندھری کا معاملہ یہ تھا کہ ایک طرف تو ان کا شاہنامہ اسلام دلوں کو گرماتا تھا اور دوسری طرف ان کے سادہ و پر کار گیت حفیظ کی آواز اور لے کاری میں ایک نئی قسم کا جادو جگاتے تھے۔ تاثیر صاحب اس زمانے کے نئے    اور ترقی پسند شاعر تھے کہ جن کی شاعری کو مغربی شعر و ادب کے اثرات نے ایک نئی جلا دے دی تھی۔ صوفی صاحب شاعر تو تھے اور نیاز مندانِ لاہور کے حلقۂ احباب میں شامل بھی مگر ان کی سیدھی سادی شاعری میں کوئی چونکا دینے والی بات نہیں تھی ۔ لہٰذا اس کا کوئی خاص پر چانہ ہوا۔ وہ مشاعروں میں حصہ لیتے تھے اور ان کے شاگردان کی قدردانی بھی کرتے تھے مگر بطور شاعر صوفی صاحب کی شہرت اس زمانے سے شروع ہوئی جب نور جہاں، اقبال بانو، فریدہ خانم اور ناہید اختر صوفی صاحب کی غزلیں اور نغمے  ریڈیو اور ٹی وی پر گانے لگیں ۔ ۱۹۶۵ ء کی جنگ کے دوران تو صوفی صاحب کے قومی نغمے ہر گھر میں گونجنے لگے اور ان کو وہ شہرت نصیب ہوئی کہ جس کی مثال نہیں ۔ نورجہاں کے گائے ہوئے صوفی صاحب کے پنجابی نغموں نے لوگوں کے دل لوٹ لیے، ان میں ایک نعمہ ’’ اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے، توں لب دی پھریں بزارکُڑے‘‘ (یہ سپوت یعنی پاکستانی فوج کے جوان دکانوں پر نہیں بکتے ، بی بی  تم ناحق ان کو بازاروں میں ڈھونڈتی پھرتی ہو)  تو واقعی سچی شاعری کا نمونہ ہے۔

    میں نے ابھی کہا ہے کہ صوفی صاحب کی عام شاعری میں کوئی چونکا دینے والی بات نہیں تھی مگر جب انہوں نے بچوں کی شاعری شروع کی تو اس نے صرف بچوں ہی کو نہال نہیں کیا بڑوں کو بھی چونکا دیا ، اس لیے کہ بڑوں کو صوفی صاحب کی بزرگی اور عالمانہ حیثیت سے یہ توقع نہیں تھی کہ ان کے اندر کا بچہ ابھی تک زندہ ہے اور یہ کہ وہ اس کی زبان میں اس کے لیے شعر بھی کہہ سکتے ہیں۔ بطور شخص صوفی صاحب کو بچوں سے خاص انس تھا ، وہ ان کی آوازوں کو پرندوں کی چہکاریں کہا کرتے تھے ۔ اپنے مجموعوں ’’جھولنے‘‘،’’ ٹوٹ بٹوٹ‘‘ اور ’’ ٹول مٹول‘‘  میں انہوں نے انہی چہکاروں کو نظم کر دیا ہے۔ صوفی صاحب کا کام انہی کی بدولت بچوں کی دُنیا میں آج بھی مشہور و مقبول ہے ۔ آج بھی سکولوں کے جلسوں میں بچے ان کی نظموں کو لہک لہک کر گاتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔

     صوفی صاحب نے شاعری کی ابتد ا فارسی سے کی تھی، امرتسر کے ایک بزرگ فارسی شاعر فیروز الدین ظفرائی ان کے استاد تھے ۔ صوفی صاحب ان کا نام ہمیشہ بڑی عزت و تکریم سے لیتے تھے اُردو شاعری انہوں نے لاہور آنے کے بعد شروع کی انہیں اردو سے زیادہ اپنی فارسی دانی پر ناز تھا۔ اور اپنی فارسی شاعری پر بھی ۔ انہیں یہ دعویٰ بھی تھا کہ پنجابی میں سب سے پہلے انہوں نے غزل لکھی تھی۔ ویسے اُردو زبان و محاورہ میں انہیں بڑی دسترس حاصل تھی۔ فیض صاحب بھی ان سے مشورہ کیا کرتے تھے، اور ان سے ہمیشہ شاگردوں ہی کی طرح ملتے تھے۔ صوفی صاحب اقبال کے حلقے میں بیٹھنے والے تھے اور بتاتے تھے کہ کبھی کبھی اقبال بھی ان کو بعض لفظوں اور محاوروں کی تحقیق اور بعض حوالوں کی تلاش کا کام سپرد کر دیا کرتے تھے کیوں کہ اقبال کو صحت زبان و بیان کا ہمیشہ بہت خیال رہتا تھا۔

    صوفی صاحب کالج میں غالب کا اُردو کلام تو درسی طور پر پڑھاتے تھے مگر انہیں غالب کے فارسی کلام سے بھی بڑا لگاؤ تھا ۔ چنانچہ انہوں نے دو جلدوں میں غالب کی فارسی غزلیات کی شرح لکھی ہے ۔ یہ کام صوفی صاحب نے اپنی عمر کے آخری حصے میں کیا۔ کالج سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر ہو گئے پھر ریڈیو میں اسٹاف آرٹسٹ کے طور پر مختلف قسم کے پروگراموں کی ترتیب و تحریر کے فرائض انجام دیتے رہے۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء کے دوران انہیں اس ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا گیا۔ پنشن کے علاوہ ریڈیو کا مشاہرہ ہی صوفی صاحب کی باقاعدہ آمدنی کا واحد ذریعہ تھا۔ عین اس موقعے پر ان کے ایک پرانے شاگر درشید احمد کام آئے۔ پروفیسر قاضی محمد اسلم کا ذکر میں کر چکا ہوں ۔ رشید احمد ان کے بڑے بھائی اور اپنے زمانے میں لاہور کے مشہور آنکھوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر بشیر احمد کے بیٹے تھے جو ملک کے بڑے صنعت کار سہگل خاندان کے کسی ادارے سے بطور مشیر وابستہ تھے۔ وہ رہتے تو کراچی میں تھے مگر جب لاہور آتے تو صوفی صاحب سے ضرور ملتے، بلکہ ان کی خاطر تواضع کا سامان لے کر شام کو ان کے ہاں پہنچتے، میری بھی ان سے یاد اللہ تھی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب صوفی صاحب کو ریڈیو سے فارغ کیا گیا تو اس کے دو چار دن بعد ہی رشید احمد لاہور وارد ہوئے۔ انہوں نے مجھے فون کیا تو میں نے انہیں بتا دیا کہ اس دوران میں صوفی پر یہ گزری ہے اور وہ کچھ فکرمند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں شام کو وہاں پہنچ رہا ہوں ۔ تم بھی آجاؤ۔ صوفی صاحب کے ہاں ہم جمع ہوئے تو دورانِ گفتگو رشید احمد نے میرے حوالے سے ریڈیو سے صوفی صاحب کے سبکدوش ہونے کا ذکر کیا اور اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کسی قدر جھجکتے ہوئے کہا کہ صوفی صاحب اگر ہمارے ادارے کی طرف سے ریڈیو کے مشاہرے کی رقم آپ کو پیش کر دی جائے تو آپ کو اعتراض تو نہ ہو گا ؟ آپ اپنی پسند کے مطابق تصنیف و تالیف کا کوئی کام کریں۔ مسودے کی تکمیل پر ہم اسے شائع بھی کر دیں گے۔ میں نے لقمہ دیا کہ صوفی صاحب وہ جو آپ نے غالب کی فارسی غزلیات کی تشریح کا ارادہ کیا تھا وہ مکمل کر دیں ۔ رشید احمد نے کہا یہ تو بہت ہی اچھا خیال ہے ۔ ایک سال کے بندوبست کا تو ابھی وعدہ کرتا ہوں اگر کام ختم نہ ہوا تو ایک سال اور سہی۔ صوفی صاحب اس پیش کش پر مطمئن ہو گئے اور دوسرے دن سے انہوں نے کام شروع کر دیا ۔ ایک سال گزر گیا مگر مسودہ مکمل نہ ہوا۔ رشید احمد نے مزید ایک سال کے لیے وہی بندوبست جاری کرا دیا ۔ اس کے بعد خود ان کا تعلق سہگل خاندان سے ٹوٹ گیا اور وہ تلاش روزگار میں یورپ چلے گئے۔ صوفی صاحب کا مسودہ خوب صورت کاغذ پر ان کے خوب صورت خط میں لکھا ہو اتیار تھا مگر سہگل خاندان اب اس کی اشاعت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے اتفاقاً اس مسودے کا صوفی صاحب کے ایک اور شاگر دسید با بر علی سے ذکر کیا ۔ انہوں نے اسے اپنے ادارے پیکیجز کے اشاعتی پروگرام میں شامل کر لیا اور یوں صوفی صاحب کی شرح غزلیات ِغالب (فارسی) دو جلدوں میں ان کی وفات کے کوئی تین سال بعد ۱۹۸۱ ء میں شائع ہوئی ۔

    صوفی صاحب استاد تھے اور ساری عمر استاد ہی رہے ۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے ایران کلچرل سنٹر کی سربراہی کی اور ریڈیو ٹی وی کے لیے کام بھی کیا ۔ مگر ان کا مرتبہ بطور استاد ہی ان کی اصل پہچان تھا۔ ان کے اکثر شاگرد آخر وقت تک ان سے استفاد کرتے رہے۔ میں خود اس سلسلے میں انہیں کراچی اور اسلام آباد سے بھی فون کیا کرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران نیازمندان لاہور کے اکثر احباب مختلف قسم کی اعلیٰ ملازمتوں پر لاہور سے باہر چلے گئے تھے مگر صوفی صاحب نے نہ تو اپنا درس و تدریس کا پیشہ چھوڑا اور نہ لاہور میں اپنا گھر ۔ در اصل صوفی صاحب پرانی وضع کے گرہستی آدمی تھے۔ انہیں اپنا جما ہوا گھر اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب اور اپنی روزانہ زندگی کے معمولات عزیز تھے، وہ ان سے الگ ہونا نہیں چاہتے تھے ۔ ان کو سیر و سیاحت کا بھی شوق نہیں تھا ۔ سفر سے ان کو وحشت ہوتی تھی ویسے تو وہ ایران بھی گئے اور اپنے بیٹے سے ملنے امریکہ بھی مگر ہر مرتبہ ہوائی جہاز سے سفر سے نالاں اور بیزار واپس آئے ۔ ملک میں تو عموماً ریل سے سفر کرتے تھے۔ میرے ساتھ البتہ دو تین بار لاہور سے بذریعہ کار پنڈی آئے اور پھر میرے ساتھ ہی واپس گئے ۔ میرے قیام کے دوران ایک دفعہ کوئٹہ اور دو دفعہ کراچی بھی آئے۔ ایک دفعہ تو ذوالفقار علی بخاری صاحب کے ہاں ٹھہرے کہ وہ جب لاہور آتے تو عموماً صوفی صاحب ہی کے ہاں ان کے نیو ہوسٹل والے فلیٹ پر قیام کرتے ، صبح سویرے صوفی صاحب حسب معمول بخاری صاحب کے گھر کے سامنے والے پبلک پارک میں سیر کو نکلے اور سخت جزبز ہو کر لوٹے، کہنے لگے چھ فٹ لمبے اور چار فٹ چوڑے قطعہ زمین پر گھاس اُگی ہوئی ہے اور اس پر تختی لگا رکھی ہے’’ گھاس پر چلنا منع ہے‘‘۔ صوفی صاحب کو لاہور میں سیر کے دوران کسی نہ کسی باغ میں ننگے پاؤں شبنمی گھاس پر چلنے کی عادت تھی۔ سرکاری ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد جب انہوں نے سمن آباد میں اپنا گھربنایا تو وہ بھی ایک پارک کے کنارے پر تھا اور وہاں بھی ان کو یہ سہولت میسر تھی ۔ دوسری دفعہ کراچی آئے تو اپنے عزیزوں کے پاس بندر روڈ پر سعید منزل کے قریب ٹھہرے وہاں انہوں نے حسب عادت ایک دعوت بھی کر ڈالی، بخاری صاحب، مجید ملک صاحب، غلام عباس اور مجھے بلا لیا ۔ مجید صاحب تو آئے نہیں ہم سب موجود تھے، صوفی صاحب نے کراچی کے موسم کی شکایت کی تو غلام عباس جو کراچی کے بڑے شیدائی تھے کہنے لگے کہ آپ در اصل غلط موسم میں آئے ہیں۔ صوفی صاحب نے جواب دیا میں کراچی میں سال کے بارہ مہینوں میں ہر مہینے   میں آیا ہوں تم اب کوئی تیرھواں مہینہ بتادو کہ جب میں آؤں توموسم ٹھیک ہو۔

     مختصر یہ کہ اپنا پیشہ، ادبی اور دوسرے معمولات، اپنا کنبہ ، اپنے دوست احباب کی صحبت اور مہمان نوازی یہی صوفی صاحب کی زندگی تھی اور اسی زندگی کا مرکز ان کا گھر تھا ۔ اس مرکز سے جدا ہو کر وہ کچھ اُکھڑ سے جاتے تھے اور بد مزہ رہتے تھے ان کا گھر ان کا قلعہ تھا جس میں وہ بیگانوں سے بھی اپنوں کا سا سلوک کرتے تھے، ان کے روزوشب  اسی محور کے گرد گھومتے تھے ۔

    ( ۱۹۹۶ ء)