غلام عباس
غلام عباس
غلام عباس عمر کے اعتبار سے تو میرے بزرگ تھے یعنی مجھ سے کوئی ۱۴ - ۱۵ سال بڑے مگر انہوں نے کبھی بزرگ بن کے نہیں دیا ، ہمیشہ دوست ہی رہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ عباس صاحب کی اور میری ملاقات تقسیم کے بعد ستمبر ۱۹۴۷ ء میں ہوئی، میں اس وقت عمر کی اس منزل میں تھا کہ جب آدمی کو خرد نہیں سمجھا جاتا اور دوسری وجہ شاید یہ کہ عباس صاحب کی تمام زندگی بزرگوں کی صحبت میں گزری تھی یعنی نیاز مندانِ لاہور کے حلقۂ احباب کی صحبت میں ۔ مولانا عبد المجید سالک، پروفیسر احمد شاہ (پطرس) بخاری ، سید امتیاز علی تاج ، ڈاکٹر ایم ۔ ڈی تاثیر، حفیظ جالندھری، مجید ملک، صوفی تبسم ، مولانا چراغ حسن حسرت اور عبد الرحمٰن چغتائی وغیرہ یہ وہ بزرگ تھے جن کے سائے میں عباس صاحب ادبی لحاظ سے پلے بڑھے ، یہ سب حضرات ان سے عمر کے علاوہ اور سب باتوں میں بھی بڑے تھے اور پھر ان کو بزرگ بننا بھی آتا تھا ۔ عباس صاحب کی طبیعت میں جو ایک قسم کی نیازمندی تھی وہ اگر شروع سے نہ رہی ہو تو ان بزرگوں کی صحبت میں آگئی ہوگی۔ بہرحال کسی سے اونچا ہو کے ملنا ، بڑھ کے بات کرنا ، اپنی رائے کو برتر سمجھنا یا اپنے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو نا ان کوآتا ہی نہیں تھا۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں عباس صاحب سے پہلی دفعہ استاذی صوفی تبسم صاحب کے ہاں ملا تو انہوں نے مجھے اپنی نیاز مندی کے اظہار کا موقع ہی نہیں دیا، اُلٹا مجھے بتانےلگے کہ ” میں نے آپ کے سب مضامین پڑھے ہیں، آپ سے غائبانہ تعارف تو ہے ، بس ملاقات نہیں ہوئی ، تاثیر صاحب، فیض صاحب اور محمد حسن عسکری سے آپ کا ذکر بھی ہوتا رہا ہے‘‘ ۔ وغیرہ وغیرہ ، واقعہ یہ ہے کہ میرے بچپن کے زمانے میں ہر اُردو پڑھنے والے بچے کی سب سے پہلے جس لکھنے والے سے غائبانہ ملاقات ہوتی تھی وہ غلام عباس تھے اس لیے کہ وہ ’’ پھول‘‘ اخبار کے ایڈیٹر تھے اور ’پھول‘ ہر گھر میں ہفتہ وار سوغات کی طرح آتا تھا، میری بھی غلام عباس سے غائبانہ ملاقات اسی زمانے میں شروع ہوئی۔
غلام عباس کو بچوں اور نوجوان پڑھنے والوں کے دلوں میں گھر کر نے کا فن آتا تھا ۔ پھول کا دور گزر جانے کے بعد میری بہنوں نے اور میں نے الحمرا کے افسانے کس ذوق شوق سے پڑھے تھے ،گھر میں کیا چھینا جھپٹی کا عالم رہتا تھا۔ ابا بھی ہمارے ساتھ اس میں شریک رہتے تھے ، اس لیے کہ ان کو غلام عباس کی نثر بہت پسند تھی اور آخر وہ وقت آیا کہ جب غلام عباس نے ’’آنندی‘‘ جیسی معرکہ آرا کہانی لکھی۔ اس کہانی نے انہیں یکایک اپنے دور کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں لاکھڑا کیا۔ واللہ کیا چرچا ہوا تھا۔ ’’آنندی‘‘ کا، اور پھر جب محمد حسن عسکری نے اس کی تعریف کردی تو گویا اسے ایک ایسے جدید نقاد سے سند مل گئی کہ جس نے نئے ادب کے سلسلے میں ماتھے پر ایک سنگین بل ڈال رکھا تھا، اسی زمانے میں ان کے’’ جزیرہ ٔسخنواران‘‘ کو بھی بہت سراہا گیا ، وہ ایک بالکل ہی انوکھے رنگ میں لکھی ہوئی تحریر تھی، جس نے ن م راشد جیسے سنجیدہ اور کڑا معیار رکھنے والے شاعر اور نقاد کا دل موہ لیا تھا۔
عباس صاحب اس زمانے میں دہلی میں تھے اور آل انڈیا ریڈیو کے رسالے ’’آواز‘‘ کے ایڈیٹر۔یہی وہ زمانہ ہے جب عباس صاحب کے بہت سے بزرگ اور احباب یعنی بخاری صاحب ،تاثیر صاحب، مجید ملک صاحب، راشد اور فیض بھی دہلی ہی میں تھے ، مگر عباس صاحب اس حلقے سے باہر شاہد احمد دہلوی، محمد حسن عسکری اور دہلی کے بعض دوسرے ادیبوں سے بھی ملتے جلتے رہتے تھے ، عجیب اتفاق ہے کہ میں اپنی کالج کی طالب علمی کے دور میں کئی دفعہ دہلی گیا ، تاثیر صاحب اور عسکری سے ملاقاتوں میں عباس کا ذکر بھی آیا مگر اُن سے ملاقات نہیں ہوئی اور جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں ملاقات ان سے تقسیم کے بعد ہوئی جب وہ ریڈیو کے صدر دفتر کے باقی افسران کے ساتھ لاہور آئے اور پھر چند ہی دنوں میں ایسا معلوم ہونے لگا کہ جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں، بات یہ تھی کہ لاہور میں عباس صاحب کے شب و روز نیازمند ان لاہور کے حلقے میں گزرتے تھے جو اب ، سوائے مجید ملک صاحب کے، ایک دفعہ پھر لاہور میں جمع ہو گئے تھے، میں اس زمانے میں گورنمنٹ کالج میں انگریزی کا لیکچرار تھا اور انہی حضرات کی محفل میں اٹھتا بیٹھتا تھا۔ چناں چہ عباس صاحب کی اور میری کئی ایک شامیں اکٹھے بسر ہوتی تھیں، گھر میرا شہر کے مرکز سے کافی دور تھا، میرے پاس ایک پرانی سائیکل تھی اور عباس صاحب کے پاس پہلے تو چھوٹا سا، ڈیڑھ یا دو ہارس پاور والا مگر کچھ عر صے کے بعد پانچ ہارس پاور والا بڑا زور دار، برق رفتار موٹر سائیکل ، لہٰذا رات کو جب کبھی دیر ہوجاتی تو عباس صاحب مجھے گھر پہنچانے جایا کرتے تھے ۔ لاہور کے جاڑوں کی راتیں، سنسان سڑکوں پر عباس صاحب کا فراٹے بھرتا ہوا موٹر سائیکل، ہوا اور سردی سے ہمارا بُرا حال ہو جاتا تھا، مگر عباس صاحب کی محبت اور دوست نوازی دیکھیے کہ انہیں مجھے جلد گھر پہنچانے کی خاطر واپسی میں یہ سفر اکیلے طے کرنا بھی گوارا تھا ، کیوں کہ وہ تو گنگا رام اسپتال کے قریب میسن روڈ پر تاثیر صاحب کے گھر کے اوپر کے حصے میں مقیم تھے ،جہاں تاثیر صاحب کی وفات کے بعد میں اور ، میری بہنیں بھی ایک طویل مدت تک مقیم رہے۔
عباس صاحب سے ملاقات سے کوئی ایک مہینے کے بعد عسکری بھی لاہور پہنچ گئے ۔ ان کی عباس صاحب سے دہلی کے زمانے کی دوستی تھی چناں چہ اب ہم تینوں کی الگ محفلیں بھی جمنے لگیں جن میں اکثر میرے دوست امجد حسین بھی شریک ہونے لگے ۔ عباس صاحب لاہور میں بہت خوش تھے۔ یہاں کی گلیوں میں انہوں نے اپنے لڑکپن اور جوانی کے دن گزارے تھے ، ان کی بہت سی یادیں اس شہر سے وابستہ تھیں اور وہ اکثر ان یادوں کو تازہ کرتے رہتے تھے۔
ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ چلئے آپ کو اس محلے میں کچھ اپنے پرانے دوستوں سے ملالا ئیں ۔ شام سے ذرا پہلے کا وقت تھا ، ہم جب وہاں پہنچے تو عقب میں واقع بادشاہی مسجد کے میناروں سے دھوپ ڈھل چکی تھی اور محلے کی گلیوں میں شام ہو چکی تھی ۔ ایک ذرا کشادہ گلی کی نکڑ پر ایک بڑے سے مکان کے سامنے عباس صاحب نے اپنا موٹر سائیکل روک لیا اور بڑی احتیاط سے پارک کیا۔ آس پاس کے دکان داروں سے علیک سلیک کی۔ مکان سے دروازے ہی پر کچھ ملازم پیشہ لوگوں نے عباس صاحب کو پہچان لیا۔ اندر اطلاع دی گئی تو ہمیں فوراً ہی بلا لیا گیا ۔ ہم اوپر کی منزل کے ایک دالان میں پہنچے تو عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ یکے بعد دیگرے کئی عورتیں نمودار ہوئیں، بڑی بوڑھیوں نے عباس صاحب کی بلائیں لیں، دو ایک ہم عمروں نے گلے لگایا اور نئی نویلی لڑکیاں آداب سلام بجالائیں ۔ عباس صاحب نے میرا تعارف کرایا تو گورنمنٹ کالج میں میرے لیکچرار ہونے کا ذکر بھی کیا۔ اس پر مجھے بتا یا گیا کہ ان کے عزیزوں میں سے فلاں فلاں وہاں پڑھتے رہے ہیں اور فلاں اب بھی پڑھ رہے ہیں،تھوڑی دیر بعد ایک تپائی پر چائے کا سامان رکھ دیا گیا۔ چائے کے ساتھ کھانے کے لیے گرم گرم سمو سے اور شامی کباب ، گاجر کا حلوہ ۔ گپ شپ بھی ہوتی رہی اور کام و دہن کی تواضع بھی۔ آخر ایک مناسب موقع تلاش کر کے عباس صاحب نے میری خاطر سے گانے کی فرمائش کی۔ پہلے تو معمول کے عذر پیش کیے گئے ۔ گلا خراب ہے، بہت دنوں سے ریاض نہیں کیا ، یوں بھی اب تو لڑکیاں ہی گاتی ہیں وغیرہ وغیرہ مگر پھر مجھ سے یہ کہتے ہوئے کہ آپ عباس کے دوست ہیں اور پہلی دفعہ ہمارے گھر آئے ہیں، ہیرا بائی نے ہامی بھر لی۔ ساتھ والے کمرے سے طنبورہ اور طبلہ منگوائے گئے ۔ ایک لڑکے نے طبلہ سنبھالا ۔ ہیرا بائی نے طنبورہ ہاتھ میں لیا اور غالب کی غزل شروع کی :
دل سے تری نگاہ جگر تک اُتر گئی
دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
اور اس طرح ڈوب کر گائی کہ سماں باندھ دیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ خود بھی غالب کے الفاظ اور اپنی آواز کے جذب و اثر میں کھوئی گئی ہیں، غزل ختم ہوئی تو میں نے جیسے ایک وجد کی سی کیفیت میں یہ شعر دہرا دیا :
دیکھو تو دل فریبی ٔاندازِ نقشِ پا
موجِ خرام ِیا ر بھی کیا گُل کتر گئی
ہیرا بائی فوراً بولیں۔ ’’پروفیسر صاحب ! اب موجِ خرامِ یار کہاں ، اب تو یار پھٹ پھٹی پر آتا ہے‘‘ اور اس کے ساتھ ہی عباس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے ایک قہقہہ لگایا۔
کچھ دیر اور ٹھہرنے کے بعد ہم نے اجازت چاہی، نیچے آئے تو ڈیوڑھی کے ساتھ والا دالان جگ مگ جگ مگ کر رہا تھا، سفید چاندنی پر گاؤ تکیے لگا دیے گئے تھے۔ سازندے سازوں سےچھیڑ چھاڑ کر رہے تھے اور لڑکیاں سجی بنی مسند پر بیٹھی تھیں۔
ہیرا بائی سے اپنی بھر پور جوانی کے عشق کا قصہ عباس صاحب مجھے سنا چکے تھے، وہ ان کی زندگی میں پہلی عورت تھی جو اُن سے عمر میں کچھ بڑی بھی تھی لہٰذا اس کی محبت میں کچھ شفقت بھی شامل تھی۔ عباس صاحب کو اس دو گونہ نشے نے دیوانہ کر دیا تھا مگر ظاہر ہے کہ ہیرا بائی کے گھر والے اس تعلق سے خوش نہیں تھے اور نہ عباس صاحب کی والدہ اِس لیے کہ انہیں اپنے ہونہارا کلوتے بیٹے سے بڑی امیدیں تھیں، وہ بیٹا جس کی لکھی ہوئی کہانیاں رسالوں میں چھپتی تھیں، جو مولوی سید ممتاز علی کے زیر سایہ’’ پھول‘‘ اخبار میں کام کرتا تھا اور اہل علم لوگوں کی صحبت میں بیٹھتا تھا۔ عباس صاحب کے لیے بھی ادب اور ادیبوں کی صحبت گو یا ایک نئی دنیا کی سیر تھی، اس کی کشش نے اُن کے دل کو ایسا رِجھایا کہ رفتہ رفتہ انہوں نے اپنے اولین عشق سے دامن چھڑا لیا۔
موسیقی کا شوق البتہ ان کو عمر بھر رہا ۔ خصوصاً کلاسیکی موسیقی کا ۔ اس میں بڑی سوجھ بوجھ رکھتے تھے ، استاد عبد الوحید خاں سے خاص عقیدت تھی اُن کے باقاعدہ شاگرد رہے تھے۔ استاد بھی اُن سے بڑی شفقت برتتے تھے ۔ ایک دفعہ مجھے اُن سے لاہور ریڈیو اسٹیشن پر ملوایا بھی۔ اُستاد کانوں سے بالکل بہرے ہو چکے تھے ۔ صرف اپنی ہی آوازسن پاتے تھے ۔ ان کے گانے میں کوئی رس کوئی لوچ نہیں تھا یہ عباس صاحب بھی مانتے تھے مگر ان کا کہنا تھا کہ موسیقی میں ان کے پائے کا استاد بر صغیر میں اب کوئی اور نہیں تھا ۔ موسیقی کے بارے میں عباس صاحب کو میں نے اپنے حلقۂ احباب میں صرف شاہد احمد دہلوی ہی سے گفتگو کرتے سُنا۔ ذو الفقار علی بخاری صاحب کو بھی اس فن میں بڑی دسترس تھی۔ انہوں نے موسیقی پر ایک کتاب بھی لکھی تھی اور پرانے راگوں کے نئے بول بنائے تھے ، مگر عباس صاحب اس موضوع پر اُن سے کم ہی بات کرتے تھے ۔ اگر کبھی یہ موضوع چھڑ ہی جاتا تو اکثر طرح دے جاتے یا پھر اپنی روایتی نیازمندی کے ساتھ جی جی کیے جاتے۔ اصل میں بخاری صاحب کلاسیکی موسیقی میں نئی نئی اختراعات کے قائل تھے اور عباس صاحب تھے پرانی چال کے آدمی ۔ انہوں نے استاد عبد الوحید خاں کی آنکھیں دیکھی ہوئی تھیں۔
’’پھول‘‘ اخبار کے دفتر میں عباس صاحب کی ملاقات ، سالک صاحب اور حسرت صاحب سے ہوئی اور تاج صاحب سے کہ ادارے کے مالک کے بیٹے تھے اور ان کی وجہ سے ان کے کالج کے دوست پطرس بخاری صاحب سے جو اکثر گورنمنٹ کالج سے ’’پھول‘‘ کے دفتر آنکلتے تھے ۔ عباس صاحب ان سب حضرات سے عمر میں چھوٹے تھے ۔ لہٰذا وہ اس حلقے میں ایک نیازمند کی حیثیت سے شامل ہو گئے ، پھر اسی حلقے کے دوسرے احباب یعنی تاثیر صاحب، چغتائی صاحب، مجید ملک صاحب، حفیظ جالندھری صاحب ، صوفی تبسم صاحب وغیرہ سے بھی ان کا رشتہ قائم ہو گیا جسے انہوں نے عمر بھر نہایت خلوص سے نبھایا۔
عباس صاحب ’’پھول‘‘ کے ساتھ کوئی نو دس برس تک وابستہ رہے۔ ۱۹۳۶ ء میں بخاری صاحب گورنمنٹ کالج سے آل انڈیا ریڈیو میں ایک بڑے عہدے پر دہلی چلے گئے ۔ بخاری صاحب اپنے دوستوں اور شاگردوں کا خاص خیال رکھتے تھے چناں چہ انہوں نے تھوڑے ہی عرصے کے بعد عباس صاحب کو ریڈیو کے رسالے ’’آواز‘‘ کے اسٹاف میں شامل کر لیا ، عباس صاحب دہلی پہنچے اور کوئی نو دس برس تک وہاں رہے اور آخر تقسیم کے بعد ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر کے ساتھ عارضی طور پر لاہور آگئے پھر جب یہ دفتر کراچی منتقل ہوا تو عباس صاحب وہاں چلے گئے ۔ اب وہ ریڈیو کے رسالے ’’ آہنگ‘‘کے ایڈیٹر تھے۔ پہلے خط کے بعد جب دوسرا خط آیا تو معلوم ہوا کہ عباس صاحب کراچی سے بہت متاثر ہوئے ہیں، انہوں نے اس زمانے کی کراچی کی روشنیوں، کھلی صاف سڑکوں، اونچی عمارتوں، سمندر اور ساحل کے نظاروں اور شام و سحر کی سنگتی ہواؤں کا ذکر بڑے مزے لے لے کر کیا تھا۔ میں نے یہ خط تاثیر صاحب کو دکھایا تو وہ کہنے لگے ۔ عباس بڑا نقش بند ہے۔
سید ذوالفقار علی بخاری پاکستان میں ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل تھے ۔ وہ بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح عباس صاحب کو عزیز رکھتے تھے، کراچی میں عباس صاحب نے زیادہ عرصہ نہیں گزارا تھا کہ انہیں ریڈیو پاکستان کی طرف سے بی بی سی میں ملازمت کے لیے لندن بھیج دیا گیا۔ اس تبادلے پر وہ بہت خوش تھے، انہیں انگلستان میں رہنے کی بڑی تمنا تھی ، افسانوں اور ناولوں کی حد تک انگریزی ادب پڑھنے میں انہوں نے بڑی جستجو سے کام لیا تھا اور بڑی محنت بہم پہنچائی تھی، عباس صاحب لندن پہنچے اور دو ایک خطوں کے بعد ہی گویا کھوٹے گئے۔ نہ خط نہ پتر ۔ بس آنے جانے والوں سے اطلاع مل جاتی تھی کہ بہت خوش ہیں، وہاں بی بی سی میں پاکستانی قبیلے نے ان کے بارے میں کچھ لطیفے بھی مشہور کر رکھے تھے اس لیے کہ عباس صاحب انگریزی پڑھ تو لیتے تھے، سمجھ بھی لیتے تھے مگر بولنے میں ذرا کمزور تھے، پھر خبر آئی کہ وہ بڑے زور کا رومانس لڑا رہے ہیں۔ اور جب چند سال بعد عباس صاحب وطن لوٹے تو واقعی ایک میم صاحبہ بھی ان کے پیچھے پیچھے آئیں ۔ ذاتی نام ان کا کرسچن تھا، کہلاتی کرس تھیں اور شادی کے بعد عباس صاحب کی والدہ نے اُن کا اسلامی نام زینب رکھا تھا۔ یہ تفصیلات اُن سے ملے بغیر ہی مجھ تک پہنچ چکی تھیں ۔
عباس صاحب نے جب مجھے کرس سے ملوایا تو پہلی ملاقات ہی میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ پڑھی لکھی، اچھے خاندان کی انگریزی خاتون ہیں، عباس صاحب اور کرس نے مجھے اپنے لندن کے زمانے کی تصویریں بھی دکھائیں جن میں کرس کے اپنے گھر کی تصویریں بھی تھیں ۔ اُن سے بھی یہی اندازہ ہوتا تھا۔ اس ملاقات کے تھوڑے عرصہ بعد میں لندن گیا تو کرس نے میرے بارے میں اپنی بڑی بہن اور بہنوئی کو خط لکھا چناں چہ وہاں میں اُن سے ملا ، وہ لوگ لندن سے باہر ایک خوبصورت علاقے میں رہتے تھے ۔ میاں ڈاکٹر تھے اور پرائیویٹ پریکٹس کرتے تھے ، بیوی پڑھی لکھی مگر اس وقت محض ہاؤس وائف تھیں، خاصے آسودہ حال نظر آتے تھے ۔
کراچی میں عباس اور کرس سے یہ ملاقات سوسائٹی میں نرسری کے سامنے سڑک کے اس پار والی آبادی میں ان کے اس مکان میں ہوئی جو ابھی زیر تعمیر تھا مگر جس میں وہ منتقل ہو چکے تھے ، مکان کیا بس ایک ڈھانچا تھا۔ نچلی منزل کی چھتیں پڑچکی تھیں۔ دروازوں کے پٹ تو لگ چکے تھے مگر کھڑکیوں کے پیٹ اور شیشے ابھی نہیں لگے تھے، ان میں صرف چوروں کو روکنے کے لیے سلاخیں جڑ دی گئی تھیں، مگر گھر میں سوائے کتابوں اور کپڑوں کے اور تھا کیا؟ جس کمرے میں عباس صاحب نے مجھے بٹھایا وہ ان کا اور کرس کا کمرہ تھا۔ چار پائی پر کرس اور عباس بیٹھ گئے اور میرے لیے انہوں نے سامنے رکھے ہوئے ایک بکس پر جگہ بنا دی۔ کمرے کے ایک طرف ایک بڑا سا ٹرنک رکھا تھا جو کرس اپنے ساتھ لائی تھیں۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ عباس صاحب کی وہ پرانی نایاب کتابیں چن دی گئی تھیں جو ان کی عمر بھر کی کمائی تھی اور جو انہوں نے برسوں میں لاہور، دہلی، کراچی اور لندن کے کباڑیوں کے ہاں سے خرید خرید کر جمع کی تھیں ۔ یہ عباس صاحب کا خاص شوق تھا۔
عباس صاحب میں ایک خاص قسم کی طمانیت قلب تھی جو میں نے کم لوگوں میں دیکھی ہے ۔ وہ ہر حال میں خوش رہنا جانتے تھے، وہ صرف اپنے آپ ہی کو نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اپنی اس خوشی کا قائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے، چناں چہ اس کمرے کے بارے میں مجھ سے کہنے لگے کہ یہاں بڑی پُر لطف زندگی گزرتی ہے۔ رات کو ان کھڑکیوں سے بے روک ٹوک ہوا آتی ہے ۔ اندھیری راتوں میں تاروں بھرا آسمان نظر آتا ہے۔ چاندنی راتوں میں روشنی اور سائے عجیب منظر پیش کرتے ہیں اور پھر کرس کو مخاطب کرکے اس سے تصدیق کرانے کی خاطر کہا کہ انگلستان میں نہ تو ایسی تاروں بھری رات ہوتی ہے اور نہ ایسی چاندنی وغیرہ وغیرہ ۔ مجھے بے اختیار تاثیر صاحب کا وہ فقرہ یاد آگیا کہ عباس بڑا نقش بند ہے !
یہ تو مجھے عباس صاحب اس سے پہلے بتا چکے تھے کہ انہوں نے کرس سے کچھ چھپایا نہیں تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ بال بچے دار آدمی ہیں اور یہ کہ وہ اپنی پہلی بیوی سے علیحدہ نہیں ہوں گے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ وہ ملازم پیشہ کم استطاعت لوگوں میں سے ہیں اور اس سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ ان سب باتوں پر غور کرلے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ کرس بیگم اخلاص ومحبت کے ایسے بندھن میں گرفتار ہو چکی تھیں کہ عباس صاحب کی وطن واپسی کے چند ہی مہینے بعد وہ بھی کراچی آگئیں اور اسی زیر تعمیر گھر کے ایک کمرے میں رہنے لگیں جس سے دوسرے کمرے میں عباس صاحب کی پہلی بیوی ان کی اولاد اور والدہ رہتی تھیں۔
عباس صاحب کا پورا خاندان اس مکان میں مقیم رہا اور یہ مکان بنتا اور مکمل بھی ہوتا رہا ، یہ سلسلہ برسوں جاری رہا، اس دوران میں کرس کے ہاں بچے بھی ہوئے ، پھر انہوں نے ایک اسکول میں پڑھانا بھی شروع کر دیا۔ مکان کی دوسری منزل تیار ہوئی تو عباس اور کرس اس میں منتقل ہو گئے ۔ عباس صاحب نے اپنے لیے ایک لکھنے پڑھنے کا کمرہ بھی آراستہ کر لیا۔
غرض رفتہ رفتہ گھر کے مالی حالات اور رہن سہن کے حالات بہت حد تک درست ہو گئے مگر کرس نے تو تنگی کے دن بھی دیکھے تھے۔ اُن کی نئی زندگی ہر لحاظ سے ابتدا ہی سے ان کے لیے ایک آزمائش تھی مگر انہوں نے اسے اس خوبی سے قبول کر رکھا تھا کہ نہ اس وقت اور نہ اس کے بعد میں نے ان کی زبان سے کبھی کوئی حرفِ شکایت نہیں سنا۔ یہ کرس کے ذاتی کلچر کی نشانی ہے۔
عباس اور کرس اپنے آپ میں مگن تھے مگر یہ ضرور ہے کہ عباس صاحب اپنے دیر ینہ ا حباب سے کچھ الگ سے ہو کر رہ گئے تھے۔ ذوالفقار علی بخاری صاحب ان کے افسر اعلیٰ تھے۔ ان سے تو ملتے تھے مگر ذرا کم کم ۔ ایک عرصے تک انہوں نے کرس کو کسی سے ملوایا نہ کسی کے ہاں لے گئے ۔ ان میں ایک عجیب قسم کا حجاب پید ا ہو گیا تھا۔ اسی زمانے میں ایک دفعہ میں کراچی گیا۔ عباس اور کرس سے ملا تو میں نے کہا کہ بھئی آپ لوگ کسی سے ملتے ملاتے کیوں نہیں۔ میں مجید ملک صاحب کے ہاں ٹھہرا ہوا ہوں ۔ کل شام وہاں آجائیے۔ میں نے سوچا یہ تھا کہ شاید اسی طرح عباس صاحب کا حجاب دور ہو، پیشتر اس کے کہ عباس صاحب کچھ کہہ سکیں کرس نے فوراً ہی بڑے اشتیاق کا اظہار کر دیا ۔ چناں چہ دوسرے دن شام کو دونوں وہاں آئے۔ مجید ملک صاحب اور آمنہ باجی حسب توقع بڑی محبت سے پیش آئے ۔ کھانے پر روک لیا اور اس کے بعد اپنی گاڑی پر واپس پہنچایا ، کرس نے شاید پہلی بار پاکستانی خواتین یعنی آمنہ باجی ، ان کی بڑی بیٹی اور ایک مہمان خاتون کو انگریزی میں بلاتکلف گفتگو کرتے سنا جس پر انہیں کچھ تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی۔ مجید ملک صاحب کے مجلسی آداب کا تو کوئی جواب نہ تھا۔ وہ کرس سے بہت اچھی طرح ملے ، مگر جب محفل برخاست ہوئی ، عباس صاحب اور کرس چلے گئے تو باتوں باتوں میں مجید ملک صاحب نے مجھ سے کہا کہ بھئی ساری عمر تو ہم نے عباس کی ایک بیوی کو دیکھا اب اس کی موجودگی میں ایک دوسری بیوی سے ملنا کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ میں خود تو عباس صاحب کی پہلی بیوی سے کبھی ملا ہی نہیں تھا لہٰذا میری نظر عباس صاحب کے احباب کی اس نفسیاتی اُلجھن تک نہیں پہنچی تھی ۔ ایک لمحے میں مجھ پر عباس صاحب کے حجاب کی وجہ روشن ہوگئی .....انسانی تعلقات کی راہ میں کیسے کیسے نازک اور مخدوش مقام آتے ہیں !
اپنے ہم عمر احباب میں عباس صاحب ن۔ م۔ راشد سے قرب و خلوص کے خاص تعلقات رکھتے تھے ۔ راشد جب آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت کے سلسلے میں دہلی گئے تو شروع شروع میں عباس صاحب ہی کے ہاں ٹھہرے تھے اور جب انہوں نے اپنا مکان لیا تو وہ بھی ان کے ہمسائے میں۔ راشد صاحب اب یو این کے ملازم تھے مگر ۱۹۵۸ ء میں ان کا تقرر یو این کے کراچی انفرمیشن سنٹر میں ہو گیا اور وہ سوسائٹی میں طارق روڈ پر رہنے لگے جو عباس صاحب کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ چناں چہ اب ان کی اکثر شا میں راشد صاحب کے ساتھ گزرنے لگیں۔ کچھ عرصے بعد میں بھی مستقل تبادلے پر کراچی پہنچ گیا اور ان دونوں کی محفل میں شامل ہونے لگا۔ عباس اور راشد دونوں شطرنج اور حقے سے بھی شغف رکھتے تھے۔ میں چوں کہ نہ شطرنج کا کھلاڑی تھانہ حقے کا رسیا۔ لہٰذا جب محفل کا یہ دور شروع ہوتا تو میں خاموش تماشائی بنارہنے کی بجائے عموماً وہاں سے اُٹھ آتا ۔شطرنج سے شغف کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ دونوں کھیلنے والے تیسرے آدمی سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور گھنٹوں بغیر ایک دوسرے سے کوئی خاص بات کے کھیل میں منہمک رہتے ہیں۔ عباس اور راشد کو اس زمانے میں کوئی شطرنج کی بازی میں جٹے ہوئے دیکھتا تو اسے مشکل ہی سے یقین آتا کہ یہ دونوں کسی اور کام کے بھی قابل ہیں، دونوں کی یہ بے فکری کی محفل بس ۱۹۶۱ ء کے آخر تک قائم رہی۔ اس کے بعد راشد تبادلے پر نیو یارک چلے گئے۔
عباس صاحب تو اب کراچی کے ہو گئے تھے اور کراچی ہی میں رہے البتہ میں سرکار کی طرف سے پبلک ایڈ منسٹریشن میں ڈاکٹریٹ کرنے کے لیے امریکہ روانہ ہوگیا، کوئی ساڑھے تین برس کے بعد جب وہاں سے لوٹا تو میرا مستقل قیام کبھی لاہور، کبھی ڈھا کے اور آخر میں پنڈی، اسلام آباد، مگر کراچی میں کبھی نہیں رہا گو کراچی کے چکر مستقل لگتے رہے اور عباس صاحب سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ اب وہ ریٹائر ہو چکے تھے مگر گزر اوقات کے لیے کچھ نہ کچھ انہیں کرنا پڑتا تھا۔ وزارتِ اطلاعات سے بھی انہیں کام ملتا رہتا تھا۔ چناں چہ ایوب خاں کی کتاب friends not masters کا ترجمہ’’ جس رزق سے آتی ہو‘‘ عباس صاحب ہی نے کیا تھا۔ مگر اب وہ کچھ زیادہ ہی الگ تھلک رہنے لگے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ سالہا سال کی محنت کے بعد کچھ تھک سے گئے ہیں۔
ایک دفعہ البتہ بہت تفصیلی ملاقات رہی اور وہی میری اُن سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔میں اُن کے گھر پہنچا تو کہنے لگے کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ آپ نے مجھے اس وقت یہاں پایا چلیے میں آپ کو اپنے دوسرے گھر لے چلوں۔ کرس اور کرس کے بچے اب وہاں رہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس دوران میں عباس اور کرس نے مل جل کر ایک اور گھر بنا لیا تھا ۔ اب وہ واقعی آسودہ حال تھے۔ کچھ لڑکیوں کی شادیاں ہو چکی تھیں، کچھ لڑکے بھی بر سرکار تھے، ویسے تو عباس صاحب ہر حال میں خوش رہنے والے آدمی تھے مگر اب ان کی خوشی میں حقیقی فراغت اور اطمینان کے عنصر بھی شامل نظر آتے تھے۔ میں بہت دیر تک کرس اور عباس کے پاس بیٹھا رہا۔ عباس صاحب کچھ پرانی صحبتوں کو یاد کرتے رہے ۔ راشد اور عسکری کو یاد کرتے رہے ۔ بڑے بخاری صاحب اور چھوٹے بخاری صاحب کے لطیفے سناتے رہے۔ اُس شام عباس صاحب واقعی موڈ میں تھے۔
غلام عباس کی وفات پر مظفر علی سید نے جور باعی کہی تھی اس کا آخری مصرع کہ جس سے ان کی تاریخ وفات نکلتی ہے یہ ہے :
بے مثل ہے فسانۂ غلامِ عباس
یہ مصرع تاریخ گوئی کے فن کا ایک اچھا نمونہ ہے مگر مظفر علی سید کی نظر میں تو شاید وہ افسانوی ادب تھا جو غلام عباس نے ایک فن کار کی حیثیت سے تخلیق کیا ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ بطور شخص بھی غلام عباس کا فسانۂ حیات بے مثل تھا ۔ ذرا خیال کیجیے کہ ایک غریب ماں کا اکلوتا بچہ کہ جس کے سرسے باپ کا سایہ بھی اٹھ گیا ہو، جس نے ایک ایسے معاشرتی ماحول میں پرورش پائی ہو کہ جہاں افتخار و امتیاز کے کوئی اسباب میسر نہ ہوں اور جو اسکول سے آگے کی تعلیم سے بھی محروم رہا ہو، محض اپنے خداداد تخلیقی جوہر، طبعی صلاحیتوں، ان تھک محنت اور کوشش و کاوش کے بل بوتے پر زندگی کی دوڑ میں آخر اس مقام پر پہنچے کہ جہاں اس کا ادبی کمال ہی معاشرے میں اس کے افتخار و امتیاز کا ضامن بن جائے ۔ اُردو کے نئے ادیبوں میں کوئی اور ایسی مثال نہیں۔ عباس نے زندگی میں بہت سے کٹھن دن بھی دیکھے تھے اور بہت سی صعوبتیں بھی جھیلی تھیں مگر اپنے افسانوں میں انہوں نے جو دنیا تخلیق کی وہ نفرت، تلخی، حقارت، چونکا دینے والے ہنگامی اور ہیجانی جذبات سے یکسر خالی ہے۔ اس میں محبت اور ہمدردی کی کار فرمائی ہے۔ عباس کے تخلیقی مزاج کی نرم اور لطیف حساسیت یا بقول پطرس ان کی حلیم الطبعی، ان کی صاف ستھری ، سلیس اور رواں، سادہ اور دل نشیں طرز ِنگارش میں بھی جھلکتی ہے ۔ اس قسم کی نثر اُردو کے کسی اور نئے افسانہ نگار کے ہاں آپ کو نہیں ملتی ۔
آخر میں یہ عرض کروں گا کہ غلام عباس بھی راشد اور فیض کی طرح نیاز مندان لاہور کی ادبی تربیت سے بہرہ یاب ہوئے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس حلقہ ٔاحباب سے بہت کچھ اور بھی پایا تھا۔ مگر راشد اور فیض کی طرح انہوں نے بھی ادب میں اپنی راہ نیاز مندان لاہور کی راہ سے بالکل الگ نکالی۔ حقیقی تخلیقی جوہر کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر قسم کے اثرات قبول کرتا ہو ابھی اپنی انفرادیت برقرار رکھتا ہے اور اس کے اظہار کے لیے خود ہی اپنا اسلوب بھی تلاش کرتا ہے۔
( ۱۹۸۵ء)