فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری
یہ بات ہے ۱۹۴۰ ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی کہ جب میں ایف اے کا طالب علم تھا ، شعر و ادب سے میری رہ و رسم آشنائی جذب و شوق کی منزل میں داخل ہورہی تھی اورمیں میر و غالب اور حالی و اقبال کا کلام کہ جو اُردو شاعری سے معمولی دل چسپی رکھنے والوں کے لیے بھی لازمی مطالعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بڑی توجہ اور انہماک سے پڑھنے لگا تھا۔ ادبی حلقوں میں بھی ان شعراء کا ذکر تو عام تھا مگر جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں اس میں کچھ ایسے نئے شاعر بھی اُبھر آئے تھے یعنی راشد اور فیض جو نوجوان نسل کے قارئین کے اور میرے بھی محبوب شاعر تھے اور جن کی آوازوں میں ہم لوگ اپنے دل کی دھڑکنیں سن لیتے تھے۔ اسی فضا میں مجھے ایک ایسے شاعر کی دُور سے آتی ہوئی آواز نے نہایت خاموشی سے متاثر کرنا شروع کیا جس کا لاہور کے ادبی ماحول میں کوئی چرچا نہیں تھا۔ یہ ماحول جس میں میرا ادبی شعور پرورش پارہا تھا کچھ تو اس وقت کی چند ایک نامور شخصیتوں مثلاً ڈاکٹرایم ڈی تاثیر، صوفی غلام مصطفےٰ تبسم ، پر و فیسر حمید احمد خان، فیض احمد فیض وغیرہ کی صحبت اور تحریروں کے اثر سے عبارت تھا۔ اور کچھ میرا جی کے زمانے کے حلقہ ارباب ذوق سے جس کی ہفتہ وار مجالس میں شریک ہونا ہم لوگوں کا معمول تھا۔ یہ آواز جس کا میں نے ابھی ذکر کیا جدید عہد میں روایتی غزل کے فرسودہ اور اُجڑے دیار سے اٹھی تھی۔ لہٰذا نوجوان نسل کی دانست میں اس پر کان دھرنا ضروری نہیں تھا، مگر مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس آواز کے پردوں میں روایت کی گونج کے ساتھ ساتھ نئے ادر اک و شعور اور نئی طرزِ فکر و احساس کی آہٹیں بھی سُنائی دیتی ہیں جو اسے معاصر غزل گو شعراء کی آوازوں سے الگ کرتی ہیں۔ یہ آواز رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری کی آواز تھی جس نے خود فراق صاحب کے کہنے کے مطابق، ایک عمر کی ریاضت کے بعد اسی یا اس سے ذرا قبل کے زمانے میں اپنے آپ کو پایا تھا۔
میں فراق صاحب کے نام سے آشنا ضرور تھا اور رسالوں میں ان کی غزلیں بھی سرسری طور پر دیکھ لیا کرتا تھا مگر جب ان کے اس قسم کے اشعار میری نظر سے گزرےکہ:
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اُداس اُداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
..........
اُميد ياس بنی ، یاس پھر اُمید بنی
اُس اِک نظر میں فریبِ نگاہ کتنا تھا!
..........
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں
تونے تو خیر بے وفائی کی
..........
کسی کا کون ہوا یوں تو عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب، مگر پھر بھی
ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہ گزر، پھر بھی
..........
تو گویا میرے لیے ایک نیا دبستان کھل گیا اور میں فراق صاحب کے کلام کو جہاں کہیں بھی وہ مجھے مل جاتا انتہائی دل چسپی سے پڑھنے لگتا۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اگرچہ میں نے میراجی کی زبانی کبھی فراق کی تعریف تو نہیں سنی تھی مگر وہ ’’ادبی دنیا‘‘ کے معاون مدیر کی حیثیت سے فراق کی غزلیں چھاپتے ضرور تھے ، مثلاً ایک دفعہ انہوں نے فراق کی سو سے اوپر اشعار کی ایک نرالی چال ڈھال کی غیر مردف غزل شائع کی کہ جس کا قافیہ بھی چال ڈھال تھا اور جو ’’ ادبی دنیا‘‘ کے جہازی سائز کے کئی ایک صفحات ہضم کر گئی ۔ میرا قیاس ہے کہ میرا جی کی جدت پسندی کو اس غزل کا نرالا پن پسند آیا ہوگا ۔ یا پھر اس میں بولی ٹھولی کا اندازہ اور ہندی الفاظ کا استعمال، بہر حال، اس کا ایک شعر لاہور کے ادبی حلقوں میں ایک مستقل مذاق بن گیا :
عشق سے حسن وفا کیا کرتا
پہلے چما - کاٹا گال
اسی زمانے میں ’’ادبی دنیا‘‘ کے جہازی سائز کے دو صفحوں پر پھیلی ہوئی فراق صاحب کی ایک اور غیر مردف غزل چھپی جو بعد میں ان کے مجموعے ’’ شبنمستان‘‘ میں ا ۵ اشعار پر مشتمل دو غزلہ بن کر شامل ہوئی ۔ اس غزل نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ اس کے بہت سے اشعار آج بھی میری یاد میں محفوظ ہیں، ان میں سے چند ایک آپ بھی سنیے :
جو بُھولتی بھی نہیں یاد بھی نہیں آتیں
تری نگاہ نے کیوں وہ کہانیاں نہ کہیں
یوں ہی ساتھا کوئی جس نے مجھے مٹا ڈالا
نہ کوئی نور کا پتلا نہ کوئی زہرہ جبیں
یہ نرم و سخت کلامی کی بحث لا حاصل
دل غریب سے باتیں کسی کی اُٹھ نہ سکیں
ہزار شکر کہ مایوس کر دیا تو نے
یہ اور بات کہ تجھ سے بڑی اُمیدیں تھیں
ہر اک ابد کا مسافر، ہر ایک خانہ بدوش
سر ِدیارِ محبت کوئی مکاں نہ مکیں
ہیں اہل مرتبہ مائل بہ پستیٔ معکوس
ابھارتے ہیں زمانے کو چند خاک نشین
خدا کے سامنے میرے قصور وار ہیں جو
انہیں سے آنکھیں برا بر مری نہیں ہوتیں
اور ہاں ایک یہ شعر کہ جس میں گزری ہوئی ساعتوں کی یاد میں درد کی ایک عجیب کسک ہے :
جنہیں سمجھتے تھے ہم دورِ جاوداں کے حریف
وہ دن تمام ہوئے اور وہ راتیں بیت گئیں
اور پھر یہ بڑے مزے کارواں دواں شعر:
مجھے یہ فکر کہ جو بات ہو مدلل ہو
وہاں یہ حال کہ بس ہاں تو ہاں، نہیں تو نہیں
مختصر یہ کہ فراق کی شاعری سے میرا تعلق خاطر مسلسل لیکن بہت حد تک ایک خاموش طریقے سے تنہائی میں پرورش پاتا رہا۔ اس کے بارے میں کسی محفل میں گفتگو کرنے کا کوئی موقع ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ میں جن ادیبوں سے ملتا جلتا تھا ان کے ہاں فراق کسی گنتی شمار میں نہیں تھے ۔ اگر میں کبھی کبھار ذکر چھیڑ بھی دیتا تو ان کی غزلوں کی بے جا طوالت ان میں بے شمار بھرتی کے اشعار یا پہلے چما ۔ کاٹا گال، جیسے مصرعوں پر فقرہ بازی کے ساتھ معاملہ ہنسی میں ٹال دیا جاتا۔ اسی نہج کی ایک گفتگو کے دوران تاثیر صاحب نے مجھ پر یہ فقرہ بھی چُست کیا تھا کہ تمہیں تو فراق کا مِراق ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب میرے دوست صفدر میر ( زینو) گرمیوں کی تعطیلات میں لاہور سے باہر گئے ہوئے تھے تو میں نے انہیں ایک خط میں فراق کے بہت سے اشعار لکھ بھیجے ۔ اس خیال سے کہ میں اپنی دریافت کی لذت میں ان کو بھی شریک کر سکوں مگر وہ بھی کچھ قائل نہ ہوئے۔ میں واقعی فراق کو اپنی دریافت سمجھتا تھا اور ایسا سمجھنے پر مجبور تھا۔ چناں چہ مجھے ان کی شاعری سے اس قسم کا لگاؤ پیدا ہونے لگا جو آدمی کو اپنی کسی بھی قابل قدر دریافت سے عموما ًہوتا ہے اور پھر اس لگاؤ میں اپنائیت کی وہ کیفیت بھی آئی کہ فراق کی شہرت کے ابتدائی زمانے میں جب کوئی دوسرا شخص میرے سامنے ان کی تعریف کرتا تو مجھے ایک بڑی معصومانہ سی رقابت کا احساس ہو تا کہ جیسے کوئی میری چیز پر اپنا حق جتا رہا ہو۔
اسی لگاؤ کی بنا پر مجھے فراق صاحب کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا اشتیاق ہوا اور ان سے ملنے کا بھی۔ چناں چہ جب مئی ۱۹۴۳ ء میں محمد حسن عسکری سے میری دہلی میں ملاقات ہوئی تو ان سے گفتگو کا ایک موضوع فراق صاحب بھی تھے ۔ عسکری الٰہ آباد یو نیورسٹی کے پرانے طالب علم تھے، وہ فراق صاحب کو صرف جانتے ہی نہیں تھے بلکہ ان کے معترف بھی تھے، میں سمجھتا ہوں کہ میرے اور عسکری کے قریب آنے میں فراق کی شاعری اور تنقید میں ہم دونوں کی دل چسپی کا بھی ایک حصہ تھا۔
دسمبر ۱۹۴۴ ء میں مجھے پھر دہلی جانے کا اتفاق ہوا۔ میں اس زمانے میں ایم ۔ اے انگریزی کے پہلے سال کا طالب علم تھا۔ دہلی میں تاثیر صاحب سے ملا تو وہ مجھ سے کہنے لگے کہ جوش اور تمہارے فراق آج کل یہاں ہیں، کور و نیشن ہوٹل فتح پوری میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ میں آج شام ان سے ملنے جارہا ہوں تم بھی آجانا۔ کوئی تکلف نہیں ۔ میں وقت مقررہ پر وہاں پہنچا۔ کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ جوش صاحب اور فراق صاحب اپنے اپنے پلنگوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ درمیان میں ایک میز پر پینے پلانے کا سامان رکھا ہے اور دور چل رہا ہے ۔ کچھ اور لوگ ادھر اُدھر پلنگوں کی پائنتیوں پر اور کرسیوں پر بیٹھے ہیں مگر تاثیر صاحب موجود نہیں۔ میں کچھ بوکھلا سا گیا۔ اتنے میں ایک گوشے سے آواز آئی۔ آفتاب صاحب یہاں آجائیے، دیکھا کہ حسن عسکری ہیں اور مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کو بلار ہے ہیں ۔ مجھے کچھ اطمینان ہوا کہ چلو ایک تو جاننے والا موجود ہے ۔ اتنے میں تاثیر صاحب بھی آگئے ۔ انہوں نے حاضرین محفل سے میرا تعارف کرایا ۔ اس محفل میں علاوہ دوسرے نسبتاً کم معروف حضرات کے مجاز اور جذبی بھی تھے۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ایک ایک محفل کا رنگ ہی بدل گیا ، جوش صاحب نے اپنی خود نوشت ’’یادوں کی برات ‘‘میں فراق صاحب کے ذکر میں اس محفل کو جس طرح یاد کیا ہے پہلے اسے دہراتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’وہ (یعنی فراق صاحب )ایک دوہری شخصیت کے انسان ہیں۔ کبھی مسیح دوراں اور کبھی موسیٰ عمراں، کبھی لہکتے گلزار اور کبھی اُپی تلوار۔ دہلی کے دور انِ قیام میں ایک بار وہ مجھ سے بھی بہت بُری طرح اُلجھ پڑے تھے۔ اُس وقت اگر میں اپنی پٹھنولی کا گلانہ گھونٹ دیتا تو بڑا خون خرابہ ہو جانا ۔‘‘
اب اِس اُلجھنے کا قصہ سُن لیجیے ۔ محفل میں جب کسی جانب سے شعر خوانی کی فرمائش ہوئی تو ایک مقامی شاعر صابر (١)دہلوی نے ابتدا کی۔ وہ نہایت اچھی لے کے ساتھ اپنی غزل سنا رہے تھے کہ ایک شعر پر فراق صاحب نے کسی قدر بگڑ کر کچھ تکدر کا اظہار کیا۔ جوش صاحب نے ذراسختی سے فراق صاحب کو چُپ رہنے کا اشارہ کیا اور صابر دہلوی کو بہت خوب ارشاد فرمائیے کہتے ہوئے داد دی۔ اب یہ تو مجھے یاد نہیں کہ وہ کیا بات تھی جو فراق صاحب کو کھٹکی تھی ، بس یہ یاد ہے کہ دوسرے ہی لمحے فراق صاحب نے ذرا گرج کر جوش صاحب سے کہا کہ اگر میں یہ کہتا تو آپ میرا اپیچھالے لیتے ۔ مجھ سے یہ منافقت نہیں ہوتی ۔ میں جھوٹی داد نہیں دے سکتا۔ جوش صاحب نے اپنی مدافعت میں کچھ کہا ، کچھ آداب مجلس کا واسطہ دیا مگر فراق صاحب اپنی بات پر اڑ گئے اور اُن کا پارہ مستقل چڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ جوش صاحب کو بھی تاؤ آگیا اب یہ تو درست ہے کہ جوش صاحب نے اپنی پٹھنولی کا گلا گھونٹا کیوں کہ خون خرابہ نہیں ہوا مگر انہوں نے اپنی پٹھنولی کے حوالے سے خون خرابے کی دھمکی ضرور دی ۔ اس پر بعض حضرات نے انہیں ٹوکا تو شاید انہیں کچھ ندامت اور تاسف کا احساس ہوا کیوں کہ اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے مگر اب فراق صاحب رواں ہو چکے تھے ۔ غصے میں فراق صاحب کی جولانی طبع دیکھنے کی چیز تھی۔ جوش صاحب نے اپنی کتاب میں فراق کا تعارف کراتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ :
’’ (میں) ان کی خلاقی کا لوہا مانتا ہوں ، مسائل علوم و ادب پر جب وہ زبان کھولتے ہیں تو لفظ و معنی کے لاکھوں موتی رولتےہیں۔‘‘
اس موقعے پر فراق صاحب نے یہ موتی کنکروں کی شکل میں رولے ۔ انہوں نے جوش صاحب کی شخصیت اور شاعری پر ایسی کھری اور بے لاگ تنقید کی کہ جو انہوں نے اس سے پہلے یا اس کے بعد اپنی کسی تحریر میں کبھی نہیں کی۔ جوش صاحب کے لفظوں میں وہ بالکل اُپی تلوار تن گئے تھے افسوس کہ مجھے ان کے وہ کاٹ دار فقرے یاد نہیں رہے جو اُن کے نطق و لب سے بے دریغ بہے چلے آرہے تھے ۔ البتہ یہ یاد ہے کہ پہلے تو انہوں نے جوش صاحب کی پٹھنوی کی دھمکی کے حوالے سے ان کی نسل پرستانہ ذہنیت کو آڑے ہاتھوں لیا اور پھر جب شاعری پر آئے تو کافی کچھ کہنے کے بعد تان اس پر توڑی کہ ’’شاعری مترادفات اور اضافتوں کی دکان سجانے کا نام نہیں‘‘ مجاز نے برجستہ گرہ لگائی ’’ اس میں بیٹھنے کا نام ہے ‘‘ اس پر حاضرین میں ہنسی کی ایک ہلکی سی لہر جو اٹھی تو محفل کی کھنچی ہوئی فضا میں کچھ آسودگی سی آگئی ۔ عسکری نے اس موقعے کا فائدہ اُٹھایا وہ اپنی کرسی چھوڑ کر ذرا آگے بڑھے ، اپنے اُستاد کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور احترام اور عقیدت کے لہجے میں استدعا کی’’ فراق صاحب اب جانے دیجیے۔ بس بہت ہو چکی ۔ اب آپ اپنے شعر سنائیے ، پھر کچھ اور حضرات نے بھی فراق صاحب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔ آخر فرآق صاحب دھیمے پڑگئے اور کچھ دیر کے بعد جوش صاحب کے الفاظ میں ’’لہکتے گلزار‘‘ بن گئے اور شعر سنانے لگے۔ اس وقت ان کے سُنائے ہوئے اشعار میں سے ایک شعر مجھے اب بھی یاد ہے :
مری نذرِ محبت پیاری پیاری جھوٹی باتیں ہیں
نہ ہوتا گر خلوص اتنا تو میں سچ بولتا تم سے
اس واقعہ سے متعلق شاہد احمد دہلوی صاحب کی ایک تحریر بھی میری نظر سے گزری جوش کے خلاف اپنے مضمون میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں :
’’ تاثیر کے چہرے پر خباثت کی جو خوشی تھی وہ دیکھنے کی چیز تھی۔ جوش اور فراق نشے میں دھت ،ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دیتے دیکھ کر تاثیر کبھی ایک کو شہ دیتے کبھی دوسرے کو۔ یہ تماشا کہیں بار بار دیکھنے میں آتا ہے۔‘‘
معلوم نہیں شاہد احمد صاحب کے دل میں تاثیر صاحب کی طرف سے کیا بغض تھا کہ انہوں نے اسے جوش اور فراق کی لڑائی کے ذکر کا بہانہ بناکر اگل دیا۔ انہوں نے یہ سب کچھ اس طرح بیان کیا ہے اور ایسی تصویر کھینچی ہے کہ جیسے وہ اس واقعے کے عینی شاہد ہوں۔ حالاں کہ وہ وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ سنی سنائی بات کو اس قسم کی حاشیہ آرائی اور رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کرنا ادبی دیانت کے خلاف ہے ۔ تاثیر صاحب کے رویے کے متعلق انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست نہیں اور یہ بھی درست نہیں کہ جوش صاحب اور فراق صاحب نے ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دیں ۔ ہاں ان کے درمیان تلخ کلامی ضرور ہوئی ۔ مگر یہ سارا معاملہ چند منٹوں کے بعد ختم ہو گیا تھا اور جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا۔ اس کے بعد تو فراق صاحب اپنے شعر سنانے لگے تھے۔
بہر حال کچھ دیر کے بعد عسکر ی اور میں نے اجازت چاہی۔ کمرے سے باہر نکلتے ہی عسکری نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو فراق صاحب سے ضرور ملواتا مگر اب کے یہ جوش صاحب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں، اُن کی صحبت میں ان سے ملنا بے کار ہے۔ دوسرے دن صبح میں نے اپنے طور پر سوچا کہ کوشش تو کرنی چاہیے ۔ چناں چہ کوئی دس بجے کے قریب میں فراق صاحب سے ملنے پھر ان کے ہوٹل جا پہنچا۔ کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ جوش صاحب اور فراق صاحب دونوں شیروانیاں پہنے تیار کھڑے ہیں۔ معلوم ہوا کہ مسٹر سروجنی نائیڈو سے ملنے جارہے ہیں۔ میں نے فراق صاحب سے پھر اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ میں کل شام بھی حاضر ہوا تھا، کہنے لگے مجھے بالکل یاد ہے اور پھر انگریزی میں اضافہ کیا :
! BUT YOU SAW ME AT MY WORST ظاہر ہے کہ گفتگو کا تو کوئی وقت تھا نہیں۔ سرسری طور پر میرے مشاغل اور کالج میں میرے مضمون کے بارے میں پوچھا اور پھر کہا کہ کبھی آپ الٰہ آباد آئیں تو ملیے گا یا پھر اگر میں کبھی لاہور آیا تو ملاقات ہوگی۔
اکتوبر ۱۹۴۵ ء میں ریڈیو کے ایک مشاعرے کے سلسلے میں فراق صاحب لاہور آئے اور استاذی صوفی تبسم صاحب کے ہاں ان کے اندرون شہر والے مکان میں ٹھہرے۔ وہ شام کی ٹرین سے لاہور پہنچے تھے ۔ اس وقت تو ان سے مختصر طور پر علیک سلیک اور مزاج پرسی کے بعد میں رخصت ہو گیا۔ البتہ دوسرے دن صوفی صاحب نے دوپہر کے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا ، وہاں اُن سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس محفل میں صوفی صاحب نے اپنے چند احباب کو بھی فراق صاحب سے ملوانے کے لیے بلایا تھا۔ ان میں گورنمنٹ کالج کے ڈاکٹر نذیر احمد اور خواجہ عبدالحمید بھی تھے ۔ ڈاکٹر نذیر احمد سائنس کے ایک شعبے کے اُستاد تھے اور خواجہ عبد الحمید شعبۂ فلسفہ کے مگر دونوں کو شعر و ادب سے بھی دل چسپی تھی۔ ان کے علاوہ حفیظ ہوشیار پوری ، آغا عبد الحميد، وکٹر کیرنن(٢ ) VICTOR KIERNAN بھی موجود تھے ۔ فراق صاحب مہمان خصوصی تھے اور تمام اہل مجلس کی توجہ کا مرکز۔ وہ سفید ململ کا کرتہ اور دھوتی یعنی خالص ہندوانہ لباس پہنے ہوئے تھے جو اُن کے بھرے ہوئے جسم پر بہت اچھا لگ رہا تھا۔ سانولے، صاف اور بے داغ چہرے پر ذہانت کی چمک۔ تیز طرار اور متحرک آنکھیں جو بات بات پر اپنا انداز بدلتیں تھیں ۔ گفتگو شگفتہ اور دل پذیر ،کبھی اُردو میں اور کبھی انگریزی میں ۔ شعر کی فرمائش ہوئی تو فراق صاحب ٹال گئے ۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شعر کی محفل نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے آپ کو گفتگو کے لیے تیار کر لیا تھا۔ ممکن ہے کہ اس میں کیرنن کی موجودگی کو بھی دخل ہو ۔ باتوں باتوں میں کیرنن نے ہندو مذہب اور ہندو کلچر کے بارے میں کچھ پوچھا تو فراق صاحب موڈ میں آگئے۔ یہاں یہ بتا دینا بھی شاید دل چسپی سے خالی نہ ہو کہ کیرنن نے بمبئی کی ایک ہند و خاتون شانتا سے شادی کی تھی جو بہت اچھی ڈانسر تھیں اور اس وقت کے پیپلز تھیٹر سے متعلق تھیں مگر یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی ۔ بہر حال ہندو کلچر پر فراق صاحب انگریزی ہی میں گفتگو کرتے رہے جس کا حاصل یہ تھا کہ مذہب کو تو میں مانتا نہیں ہوں اور ہندو ازم کوئی مذہب ہے بھی نہیں۔ یہ تو دراصل ایک ایسا کلچرل ورثہ ہے جو مختلف النوع اور متضاد عناصر سے مل کر بنا ہے ۔ اس میں کچھ مذہبی عنصر بھی شامل ہے ۔ یہ کلچرل ورثہ وقت کے ساتھ ساتھ ان مختلف النوع اور متضاد عناصر کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے بدلتا رہتا ہے مگر اس عمل میں ایک اندرونی توازن اور ہم آہنگی بھی برقرار رکھتا ہے ۔ اس سلسلے میں انہوں نے بدھ مت اور اسلام کے ان اثرات کا بھی ذکر کیا جو ہند و کلچر اپنے اندر جذب کیے ہوئے ہے ۔
اس سنجیدہ گفتگو کے بعد کچھ ادھر اُدھر کی باتیں ہوئیں اور پھر فراق صاحب لطیفہ گوئی پر اتر آئے اور عام دل چسپی کے واقعات سنانے لگے جس کے دوران یہ کہا کہ :
LIFE IS MUCH GREATER THAN POETRY OR POLITICS اور پھر اس ضمن میں یہ واقعہ سُنایا کہ گورکھپور میں ایک دفعہ گاندھی جی آئے۔ وہ ایک جلسے میں کھڑے تقریر کر رہے تھے کہ سامنے سڑک پر سے بکریوں کا ایک ریوڑ گزرنے لگا۔ بکریوں کے رکھوالے نے بکریوں کو روک لیا اور وہ بھی تقریر سننے لگا۔ اتنے میں ایک بکری میں وضع حمل کے آثار پیدا ہوئے اور تھوڑی دیر بعد اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ سڑک پر کھڑے لوگوں نے جو یہ منظر دیکھا تو وہ اس طرف کو لپکے اور اس کے ساتھ ہی جلسے میں بھگدڑ مچ گئی۔ بہت سے لوگ بکری کے گرد جمع ہو گئے اور گاندھی جی کی تقریر وہیں کی وہیں رہ گئی ۔
لطیفہ گوئی کے بعد فراق صاحب سے پھر شعر کی فرمائش ہوئی اور وہ اپنے شعر سنانے لگے مگر تھوڑی ہی دیر بعد اکتا گئے اور کہنے لگے کہ جب اپنی ہی طبیعت آسودہ نہیں ہو رہی تو آپ کیا متاثر ہوں گے اور پھر بجائے اپنے اشعار کے دوسروں کے اشعار سنانے لگے ۔ کیرنن کی سہولت کے لیے ان کا انگریزی ترجمہ بھی کرتے جاتے تھے ۔ دو شعر جو انہوں نے اس وقت سنائے تھے مجھے اب بھی یاد ہیں ایک تو یہ شعر :
سودا جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ
کیا جانئے تو نے اُسے کس آن میں دیکھا
جو حاضرین مجلس میں سے دو ایک حضرات کو یاد بھی تھا مگر دوسرا شعر جسے فراق صاحب نے بے نظیر شاہ کا شعر کہہ کر سنایا سب کے لیے نیا تھا اور جسے کیرنن سمیت سب نے بہت پسند کیا :
وہ خیال تھا سو بدل گیا، وہ ملال تھا سو نکل گیا
مرے شکوے ایسے نہ تھے کبھی، کہ طبیعت ان سے بھری رہے
یہ محفل کوئی تین گھنٹے جاری رہی ۔ فراق صاحب بڑے مطمئن اور خوش نظر آرہے تھے ۔ ان کے مزاج کے اس پہلو کا آج دُور دُور تک کہیں نام و نشان نہیں ملتا تھا جس کا مشاہدہ میں دہلی کی محفل میں کر چکا تھا۔
فراق صاحب سے میری اگلی ملاقات کوئی بارہ سال بعد لاہورہی میں ہوئی یعنی ١ ۹۵٧ ء کے موسم سرما میں۔ اس دوران میں ایک بار وہ کسی مشاعرے میں شرکت کے لیے کراچی ضرور آئے مگر وہیں سے لوٹ گئے اور میرا وہاں جانا نہ ہو سکا۔ البتہ ’’نقوش‘‘ کے صفحات میں میری ان سے ایک گفتگو ضرور ہوئی جس کا تعلق اس بحث سے تھا، جو حسن عسکری نے پاکستان بننے کے بعد ’’اسلامی ادب‘‘ کے سلسلے میں چھیڑی تھی ۔ فراق صاحب نے ’’نقوش‘‘ میں اپنے ایک مضمون میں ’’اسلامی ادب‘‘ کے تصور پر بہت سے اعتراض کیے۔ اس زمانے میں عسکری صاحب کے کہنے کے مطابق فراق صاحب کے سرپر کمیونزم بری طرح سوار تھا۔ میں نے فراق صاحب کے ارشادات کے بارے میں نقوش ہی میں ایک مضمون لکھا۔ عنوان تھا:’’ بنام مرشدِ نازک خیالاں..... فراق صاحب کی خدمت میں چند ’’گزارشات‘‘۔ اس مضمون کے جواب میں فراق صاحب نے ایک خط لکھا جو’’ نقوش ‘‘میں چھپا اور بعد میں محمد طفیل، مدیر نقوش کے نام ان کے خطوط کے مجموعے ’’من آنم‘‘ میں بھی شامل ہوا۔ اس مضمون لکھنے سے میرا مقصد محض اپنے نقطۂ نظر کا اظہار تھا فراق صاحب سے بحث کرنا نہیں تھا۔ یہ مسئلہ ہی ایسا تھا کہ اس پر فراق صاحب سے کوئی بحث نہیں ہو سکتی تھی ۔
بہر حال ۱۹۵۷ ء کے موسم سرما میں فراق صاحب نے اُس زمانے کے لائل پور اور حال کے فیصل آباد کے ایک مشاعرے میں شرکت کی اور اس کے بعد لاہور آئے تو ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ہر بار’’ لہکتے گلزار‘‘ بن کر ملے ۔ اب کی بار وہ الٰہ آباد یونیورسٹی کے ایک پرانے طالب علم اور اپنے شاگر د فصیح اللہ خان کے ہاں ٹھہرے جو ریلوے کے افسر تھے اور میو گارڈنز کے ایک بنگلے میں رہتے تھے ۔ فراق صاحب نے میرے مذکورہ بالا مضمون کو یاد کیا اور کہا بھئی تم نے مجھے عنوان ہی میں مار ڈالا۔ میں نے کچھ نفس مضمون کی بات کی تو ٹال گئے اور کچھ نہیں کہا۔ میں نے محسوس کیا کہ اسلام اور پاکستان کے موضوعات پر وہ پاکستان میں بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ بحث مباحثہ تو ان کی طبیعت کا خاصہ تھا مگر اس معاملے میں وہ احتیاط برت رہے تھے ۔
اسی قسم کی احتیاط کا مظاہرہ انہوں نے ایک اور موقع پر بھی کیا۔ فیض صاحب نے انہیں اپنے ہاں شام سے کھانے پر بلایا۔ مختصر سی محفل تھی۔ میاں افتخار الدین، مظہر علی خان اور ان کی بیگمات، صوفی تبسم ، سبطِ حسن اور ڈاکٹر جاوید اقبال جو کوئی سال بھر پہلے انگلستان سے لوٹے تھے اور اب لاہور میں قانون کی پریکٹس کر رہے تھے ۔ گفتگو پر میاں افتخار الدین چھائے رہے اور انہوں نے اسے زیادہ تر صحافت اور سیاست تک ہی محدود رکھا کہ یہی ان کا میدان تھا۔ فراق صاحب بھی حصہ لیتے رہے مگر صرف ہندوستان کے حالات کی حد تک۔ پاکستان کے حالات کا جب بھی ذکر آتا وہ خاموش ہو جاتے۔ سبط حسن صاحب نے کہ فراق صاحب کو ایک زمانے سے جانتے تھے، کچھ پرانی باتیں یاد دلا کر انہیں کئی بار چھیڑنے کی کوشش کی مگر فرآق صاحب ہر بارطرح دے گئے اور چھڑے نہیں۔ شعر خوانی ہوئی، صوفی صاحب اور فیض نے شعر سنائے اور فراق صاحب نے بھی مگر یہ دور کچھ زیادہ دیر نہیں چلا، محفل کا رنگ ہی کچھ ایسا تھا۔
محفل برخاست ہوئی اور فراق صاحب اپنے ٹھکانے پر جانے کے لیے میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھے تو پہلی بات انہوں نے یہ کی کہ بھئی فیض بڑے ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے ہیں۔ یہ شاندار کوٹھی۔ صوفے قالین۔ پر دے اور پھر اس پر سوشلسٹ بھی ہیں۔ فیض صاحب اس زمانے میں ایمپرس روڈ پر پرانے ریڈیو اسٹیشن کے سامنے والی کو ٹھی کے اوپر کے حصے میں رہتے تھے جو انہوں نے کرائے پر لے رکھا تھا۔ میں نے فقط اس آخری بات کی وضاحت کر دی اور پھر خاموش ہو گیا ۔ اب فراق صاحب اپنی اور فیض کی شاعری کا موازنہ کرنے لگے اور آخر میں کہا کہ بھئی بات یہ ہے کہ ہمارا مزاج شکسپئیرین( SHAKESPEAREAN ) ہے اور فیض کا مزاج ملٹونین ( MILTONIAN ) میرے منہ سے بے اختیار نکلا : فراق صاحب آپ کا یہ جملہ تو مجھے ہمیشہ یادر ہے گا اورمیں اسے فیض صاحب تک بھی پہنچاؤں گا۔ ذرا خوش ہو کر بولے : میں نے ٹھیک کہانا ؟ انگریزی شاعری کی روایت اور اس کے دو عظیم شاعروں یعنی شیکسپئیر اور ملٹن سے واقفیت رکھنے والے حضرات اس جملے کی بلاغت کا لطف لے سکتے ہیں۔ آخر میں جاوید اقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے بھئی اقبال کو تو میں نے دیکھا نہیں مگر آج فیض کے طفیل فرزند اقبال کو تو دیکھ لیا اور اس کے بعد بڑے معنی خیز انداز میں خاموش ہو گئے ۔ چند لمحے گزرنے کے بعد میں نے لقمہ دیا۔ فراق صاحب آپ جو بھی سمجھیں اور کہیں مگر اقبال کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ کہنے لگے بھئی کیسے بھلایا جائے ۔ وہ بڑا شاعر ہے ۔ ایک پہاڑ ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ آپ اپنی بڑائی بھی تو اقبال ہی کے حوالے سے ثابت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی انہیں ان کا یہ شعر یاد دلایا:
صدائے دل ہوئی ثابت حریفِ ضربِ کلیم
میں ڈر رہا تھا کہ پتھر سے شیشہ ٹکرایا
ہنس کر کہنے لگے بھئی تم نے یہ شعر خوب پکڑا !
مگر فراق صاحب کے اس قیامِ لاہور کا سب سے دل چسپ واقعہ تو ایک پولیس افسر سے ان کی ملاقات ہے۔ تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ ایک دن میں دفتر میں بیٹھا تھا کہ مجھے ناصر کاظمی کا فون آیا کہ فراق صاحب آپ کو بلا رہے ہیں ۔ لائل پور سے لاہور آنے کے بعد انہوں نے ابھی تک پولیس رپورٹ درج نہیں کرائی ۔ آج ان سے کسی نے جب یہ پوچھا تو ان کو خیال آیا۔ اس وقت سے وہ سخت گھبرائے ہوئے برآمدے میں ٹہل رہے ہیں۔ میں نے کہا ذرا تم ان کو فون پر تو بلاؤ۔ ناصر کاظمی نے جواب دیا کہ فون پر بات نہیں کریں گے ۔ بس آپ آجائیے۔ اس زمانے میں ابو ظفر صاحب مغربی پاکستان کے ایڈیشنل آئی جی پولیس تھے میں انہیں سرسری طور پر جانتا تھا۔ بہر حال میں نے انہیں فون کیا اور یہ ماجرا سنایا۔ انہوں نے کہا کہ میں متعلقہ افسر انسپکٹر انچارج کو ہدایات بھجوائے دیتا ہوں۔ اس کا دفتر ضلع کچہری میں ہے تم فراق صاحب کو اُس کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ابو ظفر صاحب کی اس یقین دہانی کے بعد میں فراق صاحب کے پاس پہنچا۔ واقعی بہت پریشان تھے ۔ بار بار کہتے تھے کہ صاحب کسی دوسرے ملک میں آ کر اس ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرنا بہت بُری بات ہے :
"I AM A LAW-ABIDING CITIZEN"
میں نے انہیں اطمینان دلانے کی کوشش کی اور یوں ہی پوچھا کہ آپ نے خود مجھ سے فون پر بات کیوں نہیں کی۔ کہنے لگے صاحب، جس آدمی کا چہرہ ہی نظر نہ آرہا ہو اس سے کیا بات ہو سکتی ہے۔ نہیں صاحب آواز سے آواز کی بات نہیں ہو سکتی اور وہ بھی ایک آلےسے نکلتی ہوئی آواز سے۔ خیر فراق صاحب نے شیروانی پہنی ۔ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے مگر میو گارڈنز سے ضلع کچہری تک راستہ بھر کچھ بے چین سے رہے ۔ آخر جب ہم متعلقہ افسر کے دفتر میں پہنچے تو وہ بڑی عزت و تکریم سے پیش آیا ۔ ابو ظفر صاحب کی ہدایات اسے مل چکی تھیں لہٰذا اس نے کاغذ اور قلم فراق صاحب کے سامنے رکھتے ہوئے کہا آپ لاہور میں اپنی آمد کی رپورٹ لکھ دیجیے۔ فراق صاحب نے پوچھا کہ اُردو میں لکھوں کہ انگریزی میں ؟ پولیس افسر نے جواب دیا اُردو ہی میں لکھ دیجیے ۔ ذرا توقف کے بعد فراق صاحب نے کہا، دیکھیے صاحب، مجھے اس قسم کی رپورٹوں کی عبارت لکھنی نہیں آتی آپ بولتے جائیے میں لکھتاجاؤں گا۔ پولیس افسر نے برجستہ کہا’’ فرآق صاحب آپ جو بھی لکھیں گے ادب ہو گا !‘‘..... فراق صاحب کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اُن کو ایک لمبے تڑنگے گھنی مونچھوں والے پولیس افسر اور وہ بھی ایک قصباتی پنجابی سے اس جملے کی توقع نہیں تھی ۔ بہت خوش ہوئے ۔ بہر حال فراق صاحب نے رپورٹ لکھی، پولیس افسر نے جلدی جلدی باقی کارروائی مکمل کی اور ہم اس کا شکریہ ادا کرتے وہاں سے رخصت ہوئے۔ فراق صاحب نے کار میں بیٹھتے ہی پہلے تو پولیس افسر کے اخلاق و آداب کی تعریف کی اور پھر اس گھمبیر موضوع پر گفتگو شروع کردی کہ بڑی تہذیبوں کا اثر کس کس طرح اور کس کس سطح پر سرایت کر جاتا ہے اور یہ کہ ہندوستان کی تہذیب کو مسلمانوں نے کیا کچھ دیا ہے۔ آج فراق صاحب کی زندگی میں پاکستان زندہ باد کا دن تھا!
ان ملاقاتوں کے بعد میں فراق صاحب سے کبھی نہیں ملا۔ نہ وہ پھرکبھی پاکستان آئے، نہ میں ہندوستان جاسکا اگر چہ ارادے بہت کرتا رہا اور ان ارادوں میں فراق صاحب سے ملنا ہمیشہ سر فہرست ہوتا تھا۔ آخر جب مارچ ۱۹۸۷ ء میں مجھے ہندوستان جانے کا اتفاق ہوا تو فراق صاحب کی وفات کو پانچ برس گزر چکے تھے۔ ان کی برسی کے دن میں دہلی میں تھا، نہ ان کی یاد میں کوئی تقریب ہوئی نہ کسی اخبار میں ان کا ذکر آیا ۔ ہاں البتہ وہاں پہلی بار شمیم حنفی سے میری ملاقات ہوئی جو ایک زمانے میں فراق صاحب کے بہت قریب رہ چکے ہیں اور ان کا ذکر احترام، عقیدت اور محبت سے کرتے ہیں۔ دہلی میں ان کے ساتھ یا دِ فراق میں جو چند لمحے گزرے میں نے انہی کو غنیمت جانا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا فراق صاحب شعر و ادب کی وادی میں میری دریافت تھے۔ میں نہ ان کے شاگردوں میں سے ہوں، نہ ان کے پاس بیٹھنے والوں میں سے۔ شخصی طور پر میری ان سے اتنی ہی جان پہچان تھی جتنی میں نے بیان کی۔ وہاں ادبی سطح پر وہ بیسویں صدی کے اُن اُردو شاعروں اور نقادوں میں سے ہیں جن کی شاعری اور تنقید کے اثرات میں اپنی ذہنی زندگی میں واضح طور پر محسوس کر سکتا ہوں۔ میرے شعور و فہم نے ان سے بہت کچھ پایا ہے۔ لہٰذا میں غالب کے اس شعر میں کسی قدر تصرف کر کے کہہ سکتاہوں !
کیسے میں رہتا ہوں تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
بھولا ہوں حقِ صحبتِ اہلِ کُنشت کو ؟
( ۱۹۸۸ ء نظر ثانی ۱۹۹۳ء)
(١) صابر دہلوی تقسیم کے بعد دہلی سے لاہور آگئے تھے ، پرانی یاد اللہ کی بنا پر وہ یہاں تاثیر صاحب سے ملے اور پھر اکثر ان کے ہاں آنے جانے لگے ۔ تاثیر صاحب کے دل میں ایک نرم گوشہ روایتی غزل کے لیے بھی تھا، اور صابر دہلوی پرانی چال کے شاعر تھے ۔ آواز اچھی تھی اور تاثیر صاحب کو ان کا ترنم بھی پسند تھا۔ چناں چہ کئی بار ایسا ہوا کہ میں تاثیر صاحب کے ہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہ بیٹھے صابر دہلوی سے اُن کی اپنی یا پرانے اُستادوں کی غزلیں سن رہے ہیں۔ تاثیر صاحب نے لاہور کے مشاعروں میں ان کی شرکت کا بھی انتظام کر دیا تھا مگر ان کو کسی مستقل روزگار کی تلاش تھی۔ جب لاہور میں اس کی کوئی صورت نہ نکلی تو تاثیر صاحب نے محکمہ بحالیات میں کسی سے کہہ کے اُن کو ملتان میں آٹے کی ایک چکی الاٹ کروادی، ایک مدت کے بعد صابر دہلوی سے اتفاقاً میری ملاقات ہو گئی۔ میں لاہور سے کراچی جا رہا تھا کہ ملتان کے سٹیشن سے وہ میرے ہم سفر ہو گئے۔ ان کی سیٹ بھی اسی ڈبے میں تھی جہاں میں تھا۔ کافی آسودہ حال نظر آتے تھے ۔
تاثیر صاحب کو بہت یاد کیا، اور پھر راستہ بھر مجھے اپنی اور دوسروں کی غزلیں سناتے رہے۔ مومن کی وہ غزل انہوں نے واقعی بڑی اچھی لے سےسنائی جس کا مطلع ہے :
پا مال اک نظر میں قرار و ثبات ہے
ان کا نہ دیکھنا ، نگۂ التفات ہے
(٢) وکٹر کیرنن - ڈاکٹر نذیر احمد اور تاثیر صاحب کے قیام انگلستان کے زمانے کے دوست تھے ۔ جنگ کا تمام عرصہ انہوں نے لاہور میں گزارا جہاں وہ ایچسین کالج میں انگریزی پڑھاتے تھے۔ اسی دوران میں ان کی صوفی صاحب ، فیض، آغا عبدالحمید اور ڈاکٹر نذیر احمد کے دوسرے احباب سے جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا ، ملاقات ہوئی۔ یہیں انہوں نے اُردو سیکھی اور پھر ڈاکٹر نذیر احمد کی اعانت سے اقبال اور فیض کی نظموں کا انگریزی میں نہایت اعلیٰ ترجمہ کیا۔ جنگ کے خاتمے کے کچھ عرصہ بعد کیرنن واپس انگلستان چلے گئے اور پھر ایڈنبرا یونیورسٹی میں تاریخ سے پروفیسر ہو گئے کہ انہوں نے کیمبرج سے اس مضمون میں ڈگری حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر نذیر احمد سے ان کے برادرانہ تعلقات تھے ۔ وہ کئی بار پاکستان آئے اور لاہور میں ڈاکٹر صاحب کے ہاں مہینوں قیام کیا۔ البتہ ڈاکٹر نذیر احمد کی وفات کے بعد وہ نہیں آئے۔ اب وہ یونیورسٹی سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور ایڈنبرا کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں ۔