ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

     شاعر فیض پر لکھنے کی بات اورتھی،  شخص فیض پر لکھنے میں مجھے ایک بڑی مشکل کا سامنا ہے اور وہ یہ کہ اُن سے میرے ۴۳ برس کے ربط و تعلق کی داستان کے اتنے گونا گوں پہلو ہیں کہ جب ان پر ایک نظر ڈالتا ہوں تو سوچتا ہوں :

    میں کس کو ترک کروں کس کا انتخاب کروں

    تعارف تو شاعر فیض ہی سے ہوا تھا کیوں کہ ان کے پہلے مجموعۂ کلام ’’ نقش فریادی‘‘ کی اشاعت سے قبل ہی رسالوں اور مشاعروں کے ذریعے ان کی نظموں اور غزلوں کا شہرہ میری نسل کے نوجوانوں میں بہت عام ہو چکا تھا ۔ ’’تیری آنکھوں کے سوا د نیا میں رکھا کیا ہے‘‘۔’’چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز‘‘ جیسے مصرعے کہ جن میں فیض کی شاعری کے رومانی اور انقلابی دونوں رنگ سمٹ آئے تھے ہماری روز مرہ کی گفتگو میں شامل ہونے لگے تھے ۔ انہی دنوں فیض صاحب ایم اے او کالج امرتسر سے ہیلی کالج آف کامرس میں انگریزی کے لیکچرار ہو کر لاہور آگئے تو میرے دوستوں کا اور میرا ان سے ملنے کا اشتیاق دوبالا ہو گیا۔ اب تک ہم لوگوں نے انہیں دُور دُور سے لاہور کے مشاعروں ہی میں یا ایک دفعہ لاہور کے بائیں بازو کے طلبہ کے ایک سٹڈی سرکل میں دیکھا تھا۔ حسن اتفاق سے میرے دوست سید امجد حسین ایم اے او کالج میں ان کے شاگر درہ چکے تھے ۔ اس تعلق کی بنا پر میرے دوسرے دوست صفدر میر ( زینو) اور میں نے یہ سوچا کہ امجد کی معیت میں فیض صاحب سے ملاقات کی جائے ۔ اس ملاقات کی تصویر میرے زمین میں اس طرح ابھرتی ہے شاید ١٩٤١ء کازمانہ اور گرمیوں کے دن تھے ۔ ہم لوگ کوئی پانچ بجے کے قریب راوی روڈ پر فیض صاحب کے مکان پر پہنچے۔ وہ نشست کے کمرے میں سفید کرتا پاجامہ پہنے قالین پر گاؤ تکیہ سے ٹیک لگانے نیم دراز تھے۔ ہم تینوں ان کے آس پاس قالین ہی پر بیٹھ گئے ۔ رسمی تعارف کے تھوڑی دیر بعد چائے آگئی۔پہلے تو انہوں نے امجد سے اس کا حال احوال پوچھا اور پھر صفدر سے اور مجھ سے ہماری دلچسپیوں کے بارے میں سوال کیے ۔ بیچ میں کچھ خاموشی کے لمحے بھی آئے اور مجھے احساس ہوا کہ فیض صاحب کو باتوں میں لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ ان سے سوال کیے جاؤ۔ چناں چہ میں نے ان سے ان کے مجموعے کے متعلق پوچھا اور ساتھ ہی یہ کہ راشد نے تو ’’ماورا‘‘ کا دیباچہ کرشن چندر سے لکھوایا ہے آپ بھی کسی نئے ادیب سے لکھوائیں گے یا تاثیر صاحب یا پطرس بخاری صاحب میں سے کسی ایک سے۔ کہنے لگے بخاری صاحب اور تاثیر صاحب سے تو ہر گز نہیں، کسی دوسرے سے متعلق ابھی کچھ سوچانہیں۔ اس پر کرشن چندر کے دیباچے کی بات ہو نے لگی مگر کچھ زیادہ دیر نہیں چلی۔ فیض صاحب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ تو افسانہ نگار ہیں اور پھر ان کے افسانوں کے بارے میں ایک آدھ جملہ کہا۔ اس کے بعد صفدر کے ایک سوال پر مولوی نذیر احمد، رتن ناتھ سرشار اور پریم چند کا ذکر ہوا اور فیض صاحب نے اس سب کی چیدہ چیدہ خصوصیات کی تعریف کی اور یہ بھی کہا کہ نئے ادب میں تو افسانے ہی لکھے جارہے ہیں۔ ناول کی طرف تو کسی نے توجہ نہیں کی۔ پھر کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں اور کوئی گھنٹے سوا گھنٹے کے بعد ہم لوگوں نے ان سے اجازت چاہی۔ اس ملاقات کی نوعیت تو رسمی ہی تھی مگر پھر بھی ہم اس خیال سے مسرور گھر کوٹے کہ آج فیض احمد فیض سے ملاقات ہوئی ہے ۔

    ایک دوسری تصویر وہ ہے کہ جب امجد حلقہ اربابِ ذوق کے جائنٹ سکرٹری ہو گئے تھے اور فیض صاحب ان کی دعوت پر حلقے کے ایک ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرنے آئے تھے۔ اس زمانے میں حلقے کے جلسے ایبٹ روڈ پر نشاط سنیما کے سامنے ایک دفتر کے بڑے کمرے میں ہوا کرتے تھے ۔ فیض تھری پیس  گرم سوٹ میں ملبوس بڑھیا قسم کی ٹائی لگائے ہوئے تھے ۔ ان کی کھلی اور چمکتی ہوئی پیشانی بجلی کی روشنی میں کچھ اور بھی چمک رہی تھی۔ میرا جی کی ایک نظم زیر بحث تھی جس کے ابتدائی مصرعے یہ تھے :

    چوم ہی لے گا بڑا آیا کہیں کا کوا

    اُڑتے اڑتے بھلا دیکھو توکہاں آ پہنچا

     کلموا کالا کلوٹا کاجل

    نظم کی کاپیاں میرا  جی نے حسب معمول کا غذ کی لمبی لمبی مگر  کم چوڑی کترنوں میں حاضرین مجلس میں بانٹ رکھی تھیں، جو نظم کے بارے میں طرح طرح کی موشگافیاں کر رہے تھے۔ میرا جی خاموش بیٹھے سُن رہے تھے اور محفوظ ہورہے تھے ۔ فیض صاحب مستقل سگریٹ کا دھواں اُڑا رہے تھے اور ساتھ ساتھ نظم کی کاپی کو بھی الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے۔ جو نہی نظم کے موضوع کی بحث اختتام کو پہنچی فیض صاحب نے مسکراتے ہوئے میرا جی سے مخاطب ہو کر کہا بھئی اس موضوع پر یہ ” epic poem “ لکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اس پر حاضرین میں ہنسی کی ایک ہلکی سی لہر اٹھی جس پر فیض صاحب نے اپنا ترقی پسند ادب کا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے یہ کہاکہ نظم کا موضوع کوئی اتنا اہم سنجیدہ اور وقیع نہیں ہے کہ اس پر اتنی لمبی  نظم لکھی جائے وغیرہ وغیرہ ۔ فیض صاحب عموماً اس قسم کی فقرہ بازی نہیں کرتے تھے ۔ مگر میرا جی سے ان کا ایک ذاتی تعلق بھی تھا اور وہ یہ کہ میرا جی فیض صاحب کے چھوٹے بھائی عنایت احمد کے بڑے بے تکلف اور گہرے دوست تھے اور انہوں نے ’’ادبی دنیا‘‘ میں ایک خاص مقصد کے ماتحت ع - احمد کے نام سے ایک آدھ نظم بھی شائع کی تھی ۔ اس ذاتی تعلق کی بنا پر فیض صاحب نے بر سر مجلس میرا جی سے یہ بے تکلفی روا رکھی اور ہمیں اس کا علم اس وقت ہوا جب امجد ، صفدر اور میں انہیں قریب ہی نسبت روڈ کے ایک چائے خانے میں ان سے گپ کرنے کے لیے لے گئے ۔

     پھر کچھ عرصے کے بعد اچانک یہ پتہ چلا کہ فیض صاحب فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے میں کیپٹن بن کر دہلی چلے گئے ہیں ۔ لے جانے والے ان کو مجید ملک صاحب تھے جواس محکمے میں ایک بڑے عہدے پر فائز تھے۔ ۱۹۴۲ ء سے ۱۹۴۷ ء کے اوائل تک فیض صاحب دہلی اور راولپنڈی میں رہے اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میں اس دوران میں کئی دفعہ دہلی گیا مگر میری فیض صاحب سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ۔ ہاں ایک دفعہ میں نے انہیں اتفاقاً لا ہور ریلوے اسٹیشن پر دیکھا وہ وردی پہنے فرسٹ کلاس کے ایک ڈبے کے سامنے کھڑے سگریٹ پی رہے تھے ۔ اور آتے جاتے وردی پوش سپاہیوں کے سلیٹوں کا جواب بھی دے رہے تھے۔ میں یہ دیکھ کر کچھ محفوظ ہوا میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا تو فیض صاحب غیر متوقع طور پر کچھ تپاک سے ملے ۔ وہ راولپنڈی جا رہے تھے ۔ جب تک گاڑی چلنے کی سیٹی نہیں بجی وہ مجھ سے کھڑے باتیں کرتےرہے۔ لاہور کے ادبی روز و شب اور بعض احباب کا حال پوچھتے رہے ۔

    فیض صاحب سے میرا تعلق در اصل اس وقت استوار ہوا جب وہ جنوری ۱۹۴۷ ء میں فوج کی ملازمت چھوڑ کر ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے مستقل طور پر لاہور آگئے ۔ اب ان سے زیادہ ملاقات ہونے لگی ۔ عمو ماً ’’پاکستان ٹائمز“ کے دفتر میں جو اس زمانے میں مال روڈ پر سول ملٹری گزٹ کے دفتر ہی میں واقع تھا۔ میں ایم اے پاس کر چکا تھا، اسلامیہ کالج میں انگریزی کی لیکچراری کرتے ہوئے مجھے چند مہینے ہی گزرے تھے   اور میں اپنی ملازمت میں ابھی کچھ جما نہیں تھا۔ ایک انگریزی اخبار میں فیض صاحب کے ساتھ کام کرنے کے خیال نے مجھے ایسا گر مایا کہ میں نے ایک دن جرأت کر کے فیض صاحب سے کہا کہ وہ مجھے ’’ پاکستان ٹائمز ‘‘کے اسٹاف میں شامل کر لیں ۔ انہوں نے کالج کی ملازمت پر اخبار کی ملازمت کو ترجیح دینے پر کچھ تعجب کا اظہار کیا اور پھر کہا کہ فی الحال رک جاؤ دیکھو کہ ملکی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ کالج سے گرمیوں کی چھٹیوں کی تنخواہ تو وصول کرو۔ ستمبر میں دیکھیں گے کہ کیا صورت حال ہے اور پھر کچھ فیصلہ کریں گے ۔ یہ بات شاید اپریل ۱۹۴۷ ء میں ہوئی تھی۔ ٣/ جون کو بر صغیر کی تقسیم کے پلان کا اعلان ہوا کچھ دنوں کے بعد کا لج میں گرمیوں کی تعطیلات شروع ہوگئیں اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کشمیر چلا گیا۔ ہم لوگ پہلے تو سرینگر سے کوئی پندرہ میل دور دریائے جہلم کے کنارے ایک قصبے گاندربل میں ٹھہرے پھر وہاں سے اگست کے شروع میں سرینگر آگئے اور بند پر ایک ہاؤس بوٹ میں رہنے لگے۔ دریا کے اس پار کے ایک وسیع بنگلے ہارمونی ( HARMONY ) میں تاثیرصاحب ،ان کے بیوی بچے اور فیض صاحب کے بیوی بچے مقیم تھے ۔ چناں چہ تاثیر صاحب سے صبح شام ملاقاتیں ہونے لگیں۔ ۴ ا/ اگست کے دو تین دن بعد فیض صاحب بھی وہاں پہنچ گئے۔ وہ شاید شیر ہاشمی صاحب پرنسپل سینٹرل ٹریننگ کالج کے ساتھ ان کی کار میں آئے تھے اور شام کو پہنچے تھے۔ میں ان سے دوسرے دن صبح تاثیر صاحب کے کمرے میں ملا جہاں اس وقت بشیر ہاشمی صاحب اور ڈاکٹر نذیر احمد بھی موجود تھے ۔ فیض صاحب نے کسی قدر جھجک کے ساتھ جو بزرگوں خصوصاً تاثیر صاحب اور بخاری صاحب کے سامنے کچھ زیادہ ہو جاتی تھی ذکر کیا کہ لاہور میں ایک نظم شروع ہوئی تھی جو لاہور سے سرینگر آتے ہوئے مکمل ہوگئی ہے ۔ تاثیر صاحب کےکہنے پر انہوں نے نظم سنانی شروع کی :

    یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

    وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

    ہم سب تو پہلا مصرعہ ہی سُن کر مبہوت ہو گئے۔ خصوصا ًڈاکٹرنذیر احمد جو نظم ختم ہو چکنے کے بعد بھی بار بار اس کو دہراتے رہے۔ بیچ بیچ میں تاثیر صاحب نے بھی بعض مصرعے دوبارہ سہ بارہ سنانے کو کہا مثلاً :

    فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

    کہیں تو ہوگا شب ِسست موج کا ساحل

    کہیں تو جاکے رُکے گا سفینۂ غمِ دل

     

    کہاں سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی

    ابھی چراغِ سرِ راہ کو کچھ خبر ہی نہیں

    فیض صاحب تو دو چار دن کے بعد سری نگر سے واپس لاہور چلے گئے مگر ان کے بیوی بچے وہیں ٹھہرے رہے۔ ہم لوگ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں لاہور واپس آئے تو کچھ دنوں کے بعد میں نے فیض صاحب سے پھر وہی ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں آنے کی بات چھیڑی اور انہوں نے یہ کہ کر مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ تمہارے بارے میں تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ تم گورنمنٹ کالج میں جارہے ہو۔ یہ بات فیض صاحب نے بخاری صاحب کے حوالے سے کہی جو اس وقت گورنمنٹ کالج کے پرنسپل تھے۔ میں ان سے مجلس اقبال کے جلسوں میں دو تین مرتبہ مل چکا تھا۔ میرے بارے میں انہوں نے تاثیر صاحب، فیض صاحب اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب سے بھی ضرور کچھ نہ کچھ سنا ہو گا ۔ البتہ میرے گورنمنٹ کالج میں لیے جانے کی تحریک میرے پرانے اُستاد پر و فیسر سراج الدین صاحب نے کی تھی کہ وہ اس وقت شعبہ ٔانگریزی کے صدر تھے اور انہی کی طرف سے مجھے دو چار دن کے بعد اس سلسلے میں باقاعدہ پیغام ملا ۔ مختصر یہ کہ میں اکتوبر ۱۹۴۷ ء کو گورنمنٹ کالج کے شعبہ انگریزی میں بطور لیکچرار شامل ہو گیا ۔

    فیض صاحب نے اپنی صحافتی زندگی کی ابتداء میں واقعی بڑی محنت کی تھی ۔ انہوں نے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں اداریہ نویسی کا ایک نیا ڈھنگ نکالا اور اس کو ایک ادبی ذائقہ بھی دیا۔ ان کے اس زمانے کے اداریوں میں دو ،تین آج بھی میری یاد میں محفوظ ہیں ۔ ایک تو شاید ۱۹۵۱ ء کے اوائل میں جب لیاقت علی خان نے کامن ویلتھ کے وزراء اعظم کی کانفرنس میں شرکت کے لیے اس بنا پر پس و پیش کی کہ اس میں کشمیر کا مسئلہ بھی زیر بحث لایا جائے اور پھر کسی واضح یقین دہانی کے بغیر ہی شرکت کے لیے روانہ ہو گئے تو فیض نے ’’ westward ho ‘‘ کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا جو والٹر اسکاٹ کے ایک ناول کا نام ہے۔ وہاں کشمیر پہ کوئی خاص بات نہیں ہوئی اور لیاقت علی خان خالی ہاتھ واپس آئے تو فیض کے ادار یے کا عنوان تھا   the return of the native ، جھو ٹامس ہارڈی کے ایک ناول کا نام ہے۔ یہ اداریے تو سیاسی نوعیت کے تھے ۔ ایک اداریہ جو انہوں نے واقعی دل کی گہرائیوں میں ڈوب کر لکھا تھا وہ ’’مخزن‘‘ کے مدیر، اُردو کے مشہور ادیب اور اقبال کے دوست سر شیخ عبد القادر کی وفات پر تھا جن سے ان کے خاندانی مراسم بھی تھے۔

     فیض صاحب اخبار کے کاموں سے فرصت پاتے تو اپنے بزرگ احباب کی محفلوں میں وقت گزارتے تھے۔ جن کے روح رواں بخاری صاحب تھے اور جو اکثر انہی کے گھر پر ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ صحافیوں کی انجمن اور ڈاک خانے کے ملازمین کی ٹریڈ یونین کے کاموں میں بھی خاصی سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔ یہ دور جو اوائل ۱۹۴۷ ء سے اوائل ۱۹۵۱ ء تک جاری رہا تخلیقی اعتبار سے فیض کی زندگی میں جمود کا دور تھا۔ اس میں انہوں نے شاید ہی کوئی قابل ذکر نظم یا غزل کہی ہو۔ میرا خیال ہے کہ خود انہیں بھی اس کا احساس ہونے لگا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک شام میں ’’امروز‘‘ کے دفتر میں مولانا چراغ حسن حسرت کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو اب ” پاکستان ٹائمز‘‘ کے ساتھ دھنی رام روڈ پر اپنی الاٹ شدہ بلڈنگ پر منتقل ہو گیا تھا کہ فیض صاحب آئے اور کچھ دیر کے بعد واپس جاتے ہوئے مجھے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے دفتر میں اپنے کمرے میں لے گئے ۔ وہاں بیٹھتے ہی وہ تازہ ادبی رجحانات کے بارے میں مجھ سے پوچھنے لگے۔ میں نے کہا کہ آج کل نئے شاعروں مثلاً مختار صدیقی اور ناصر کاظمی وغیرہ میں میر کا بڑا چرچا ہے ۔ اس پر انہوں نے کہا افسوس یہ ہے کہ لوگ سودا کو نہیں پڑھتے حالاں کہ اس کو خود میر نے بھی پورا شاعر مانا ہے۔ سود اکے کلام کا انتخاب ہونا چاہیے ۔ میں نے اس سلسلے میں کچھ کام بھی کیا تھا مگر اب تو وقت ہی نہیں ملتا پھر سودا  کے شعر سنانے لگے :

    وہ سمندر ہے کہ جس کا نہ کہیں پاٹ لگے

     کشتی عمر میری دیکھیے کسی گھاٹ لگے

     

    ... بہار بے سپرِ جام دیار گزرے ہے

     نسیم تیر سی چھاتی کے پار گزرے ہے

     

    یہ آدمی ہے کہ سر مارتا پھرے ہے بسنگ

     کہ با دِ تند سوئے کو ہسار گزرے ہے

    پہلا تو نہیں مگر دوسرے دونوں شعر مجھے بھی یاد تھے اور میں نے ان کے ساتھ دہرائے تو مجھ سے کہنے لگے کہ تم ہی سودا کا انتخاب کیوں نہیں کر دیتے پھر میں بھی ایک نظر دیکھ لوں گا ۔ اس کے بعد کچھ اپنی گزری ہوئی ادبی سرگرمیوں کا ذکر کرنے لگے اور اس دوران میں یہ بھی کہا کہ   دیکھو اب لوگ ’’غنائیت‘‘ عام استعمال کرنے لگے ہیں۔ lyricism کے ترجمے کے طور پر سب سے پہلے میں نے یہ لفظ وضع کیا تھا۔ میں نے کہا لوگ یہ بات بُھول گئے ہیں تو اگر آپ اسی طرح خاموش رہے تو وہ آپ کی باقی ادبی تخلیقات کو بھی فراموش کر دیں گے۔ اس پر  ذرا سنجیدہ ہو کے کہا واقعی کچھ کرنا چاہیے۔ اس طرح کام نہیں چلے گا۔ مجھے اس شام پہلی دفعہ یہ اندازہ ہوا کہ جس قسم کی زندگی فیض صاحب نے اپنا لی تھی اس سے بظاہر مطمئن نظر آنے کے باوجود اس کے اندر کے خلا سے بے خبر نہیں تھے اور نہ وہ اپنے اصلی کام سے یکسرغافل کہ جس کی صلاحیت انہیں قدرت سے عطا ہوئی تھی۔ اسی لیے تو انہیں تازہ ترین ادبی رجحانات کے بارے میں جاننے کی طلب تھی۔ ان کے ادبی بزرگ یعنی نیازمندانِ لاہور کہ جن کے ساتھ ان کے شب و روز گزرتے تھے بہت حد تک تخلیقی کاوش سے بے نیاز ہو چکے تھے ۔ ان کا وقت اب زیادہ تر یا تو آپس کی خوش گپیوں اور زندگی سے معمولی لطف و مسرت اخذ کرنے میں گزرتا یا ایسی سرگرمیوں میں جن کا ادب سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ وہ ادب میں جو کچھ کر چکے تھے اس پر قانع تھے ۔ اس سلسلے میں کوئی نئی اُپچ ان میں باقی نہیں تھی ۔ اس لیے کہ ان کی تلاش و جستجو کی راہیں بدل چکی تھیں۔ فیض جس اخباری کام میں مصروف تھے اگر چہ اسے وہ اس بنا پر نہایت اہم سمجھتے تھے کہ وہ ان کے سیاسی مقاصد کے حصول میں ممد و معاون ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ہی انہیں’’ مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں‘‘ کا احساس تھا اور اپنی ’’فریاد کی لے‘‘ پر اعتماد بھی۔ گویا انہیں اپنی تخلیقی لگن کی بدولت اس بے چینی کا سامنا تھا جس میں بقول غالب :

    کاوش کا دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوز

    ناخن پہ قرض اس گرهٔ نیم باز کا پہ

    اپنے سیاسی عقیدے سے فیض صاحب کو جو وابستگی تھی اس کی گہرائی اور شدت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے جو میں نے برسوں بعد مجید ملک صاحب سے سُنا مگر جو وقت کے اعتبار سے اسی زمانے میں پیش آیا تھا جس کا ذکر ہورہا ہے۔ مجید ملک صاحب نے مجھے بتایا کہ ایک شام کراچی میں ان کے گھر پر بخاری صاحب اور تاثیر صاحب فیض صاحب وغیرہ جمع تھے کہ بخاری صاحب نے ای ۔ ایم فورسٹر ( E.M FORSTER ) کے مضمون what i believe کا تذکرہ چھیڑ دیا خصوصاً فورسٹر کے اس مشہور قول کا کہ اگر کسی موقع پر مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ میں اپنے ملک سے بے وفائی کروں کہ اپنے دوست سے تو میری خواہش ہوگی کہ میں اپنے ملک سے بے وفائی کرنے کی ہمت پیدا  کر سکوں ۔ اس  ضمن میں کچھ بات چیت ہوئی تو بخاری صاحب نے اپنے احباب سے سوال کیا کہ وہ کون سا ایسا مقصد ہے جس کے لیے وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے پر تیار ہوں گے ۔ فیض نے بغیر کسی اگر مگر کے جواب میں کہا ’’ انقلاب‘‘ اور یہ جواب انہوں نے اس تیقین اور قطعیت سے دیا کہ سب خاموش ہو گئے اور بات چیت کا رخ ہی بدل گیا۔

    یہ حقیقت ہے کہ اپنے مقصد سے فیض کی کمٹمنٹ بڑی مکمل تھی ۔ بظاہر وہ کچھ سہل انگار سُست رو اور رواروی میں زندگی گزارنے والے نظر آتے تھے مگر اندرسے وہ بڑے پختہ عزم وارادے کے مالک تھے ۔ اس معاملہ میں نہ انہوں نے کبھی کوئی سمجھوتہ کیا ، نہ ان کے ”یقین کا ثبات‘‘ کبھی متزلزل ہوا اور نہ کبھی انہوں نے ’’گمانوں کے لشکر‘‘  کو اس کے قریب آنے دیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ۱۹۵۶ ء میں ہنگری میں شورش ہوئی اور اسے دبانے کے لیے روس نے اپنی بری فوج اور ٹینکوں کے دستے بھیج دیے تو بڑے بڑے اشتراکیوں اور روس کے حامیوں کے ایمان میں بھی خلل آگیا ۔ میں نے انگلستان کے ہفتہ وار ’’نیوسٹیمین اینڈ نیشن‘‘ میں فیض کے انگریز دوست وکٹر کیرنن کا جو شاید پارٹی ممبر بھی تھے ایک خط دیکھا جس میں انہوں نے اس واقعے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اسی زمانے میں فیض یورپ گئے، واپس آئے اور ان سے ہنگری اور کیرنن کے خط کے بارے میں بات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی تشویش نہیں کہنے لگے بھئی ایک اطالوی کا مریڈ سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے جو باتیں بتائیں ان سے یہ معلوم ہوا کہ روس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ گو یا فیض نے اپنے اطمینان کے لیے روسی کارروائی کا جواز ڈھونڈ لیا تھا ۔ ایک قسم کی درگزر اور چشم پوشی ان کی عام ذہنی روش بھی تھی مگر اشتراکی نظام کے معاملے میں ان کی نظر ہمیشہ اغراض و مقاصد پر رہتی تھی جن کے تحفظ اور پیروی کے دوران ہونے والی لغزشوں کو وہ فروعات سمجھتے تھے اور ان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے ۔

    میں تھوڑی دیر پہلے نیاز مندانِ لاہور کا ذکر کر رہا تھا اور کہنے والا تھا کہ ۵۰ -  ۱۹٤٩ ء کے موسم سرما کے اوائل میں بخاری صاحب یو این چلے گئے ان کے جانے کے بعد فیض کے بزرگ دوستوں کا یہ مجمع بکھرنے لگا۔ بخاری صاحب بجا طور پر اپنے بارے میں غالب کا یہ شعر دہرا سکتے تھے :

    تھا میں گلدستۂ احباب کی بندش کی گیاہ

    متفرق ہوئے میرے رفقا میرے بعد

    پہلی تفریق تو تاثیر صاحب اور حسرت صاحب میں ہوئی یہ دونوں حضرات حریف بذلہ سے حریف دشنام بن کر اخباروں کے کالموں میں ایک دوسرے کے مقابل آگئے اور لوگوں کو تفریح و تمسخر کا سامان مہیا کر نے لگے ۔ اس قصے کا حال میں تاثیر صاحب پر اپنے مضمون میں بیان کر چکا ہوں۔ دوسری تفریق تاثیر صاحب اور فیض صاحب میں ہوئی یہاں معاملہ بہت نازک تھا۔ دونوں میں برسوں سے بزرگی اور خردی کا رشتہ تو تھا ہی پھر ایک اور نسبتی رشتہ یہ کہ فیض صاحب تاثیر صاحب کے چھوٹے ہم زلف بھی تھے ۔ شاید اسی وجہ سے یہ تفریق تہذیب و شائستگی کے دائرے میں پر ائیو یٹ ہی رہی پبلک نہیں ہوئی۔ تاثیر صاحب نے جب میاں افتخار الدین اور بائیں بازو والوں کے خلاف محاذ کھولا تو ظاہر ہے کہ فیض بھی اس کی زد میں تھے اگر چہ تاثیر صاحب نے اشارۃً بھی ان کا نام کہیں نہیں لیا مگر اس سے کیا ہوتا ہے فیض سیاسی عقائد میں میاں افتخار الدین کے مویذ تھے اور ان کے اخبار ’’ پاکستان ٹائمز ‘‘کے ایڈیٹروہ تاثیر صاحب کی ان حرکتوں سے بد حفظ اور دل برداشتہ تو ہوئے مگر انہوں نے بر ملا کبھی کسی تلخی کا اظہار نہیں کیا ۔ یہ ان کی عادت ہی نہیں تھی۔ بہر حال دونوں کے بیوی بچے تو آپس میں بدستور ملتے رہے مگر فیض صاحب، تاثیر صاحب سے کنارہ کش ہو گئے اور دونوں کی ہم جلیسی کا دور ختم ہو گیا ۔ تعلقات کی اس ناخوشگوار نوعیت کے دوران ۳۰/  نومبر ۱۹۵۰ ء کو اچانک تاثیر صاحب کا انتقال ہوگیا۔ اس دن فیض لاہور سے باہر تھے۔ ان کو اطلاع دی گئی اور وہ جنازے کے وقت پہنچ گئے ۔ مجھے یاد ہے کہ جب انہوں نے تاثیر صاحب کا چہرہ دیکھا تو دیکھتے ہی بے اختیار ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا اور چند لمحے اسی طرح کھڑے رہے پھر اپنی آنسو بھری آنکھوں کو رومال سے پونچھتے ہوئے الگ ہو گئے ۔ شام کو جب میں ان سے ملا تو مجھے اندازہ ہوا کہ تاثیر صاحب کی ناگہانی موت سے فیض نے کتنا گہرا اثر قبول کیا ہے ۔

    اب فیض صاحب کو تاثیر صاحب کی بیوی بچوں کی خبر گیری کا بھی خیال ہونے لگا ایک آدھ بار انہوں نے ان کے وسائل کے بارے میں بھی کسی قدر تشویش کا اظہار کیا یہاں یہ بتادینا بھی ضروری ہے کہ میں اس سے کوئی سال بھر پہلے مرکزی ملازمتوں کے امتحان میں کامیابی کے بعد گورنمنٹ کالج سے فارغ ہو کے کواڈرینگل ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ کا مکان چھوڑ چکا تھا اور ملٹری اکاؤنٹس کے ایک دفتر میں تعینات تھا۔ اور اب میں اور میری دونوں چھوٹی بہنیں مغل پورہ ریلوے پل کے قریب ڈیورنڈ روڈ پر ایک مکان میں رہتے تھے ۔ تاثیر صاحب کی وفات کے چند دنوں بعد فیض مجھ سے کہنے لگے کہ تم لوگ یہاں کرسں (مسز تاثیر ) کے پاس کیوں نہیں آجاتے۔ تم سرکاری دورے پر باہر جاتے ہو تو تمہاری بہنیں اکیلی ہوتی ہیں ۔ یہاں کرس بچوں کے ساتھ اکیلی ہیں تم لوگ یہاں آجاؤ تو ایک دوسرے کا ساتھ رہے گا۔ وہی کرا یہ تم یہاں ادا کر دینا  ۔ چناں چہ جنوری ۱۹۵۱ ء میں ہم لوگ میسن روڈ پر تاثیر صاحب کے مکان کے اوپر کے حصے میں منتقل ہو گئے۔ فیض صاحب اب کرس اور ان کے بچوں کے پاس آتے تو ہمارے ہاں بھی آجاتے اس طرح ان سے اور بھی زیادہ ملاقاتیں ہونے لگیں اور میں بتدریج ان سے قریب ہو تا گیا۔ یہاں تک اب وہ میرے لیے فیض صاحب سے فیض بھائی بن گئے۔

    اسی زمانے میں ایک ملاقات جو ۸/ مارچ ۱۹۵۱ ء کی شام کو ہوئی مجھے خوب یاد ہے۔ لاہور میں ابھی گرمی شروع نہیں ہوئی تھی مگر فیض آئے تو انہوں نے پتلون کے ساتھ صرف قمیض پہن رکھی تھی اور پاؤں میں بغیر موزوں کے سینڈل ۔ میں نے انہیں دیکھتے ہی کہا کہ فیض بھائی آپ نے تو گرمی منالی ۔ انہوں نے ہمارے ساتھ چائے پی اور کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد چلے گئے ۔ دوسرے دن صبح جب میں دفتر جانے کے لیے نیچے اترا تو کرس نے مجھے بتایا کہ ایلس کا فون آیا ہے رات کے پچھلے پہر پولیس فیض کو گرفتار کر کے لے گئی ہے میں نے اس وقت اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا اور کہا کہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ میں کچھ حکومت کے خلاف چھپ گیا ہو گا آج محمود علی قصوری ضمانت کر الیں گے اور وہ شام تک گھر آجائیں گے ۔ سہ پہر کے وقت جب میں دفتر سے لو ٹتے ہوئے چیئر نگ کر اس کے قریب بس سے اُترا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اخباروں کے ضمیمے بک   رہے ہیں اور ہا کر چلا چلا کر کہہ رہے ہیں’’ حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش فوج کے کئی جرنیل اور پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر فیض احمد فیض گرفتار، وزیر اعظم لیاقت علی خان کا بیان ‘‘ میں ہکا بکا رہ گیا۔ ضمیمہ لیا اس پر نظر ڈالی ۔ گھر پہنچا تو دیکھا کہ کرسں اور میری بہنیں نیچے بر آمدے میں سخت مغموم بیٹھی ہیں وہ بھی ضمیمہ پڑھ چکی تھیں اور ریڈیو کی خبریں بھی سن چکی تھیں ۔ کرس فیض کے گھر ایلس اور بچوں کے پاس ہو آئی تھیں ۔ شام کو میں اور میری بہنیں بھی فیض صاحب کے گھر پہنچے  کچھ پولیس کے سپاہی اور خفیہ کے لوگ گھر کے اردگرد منڈلا رہے تھے ۔ انہوں نے ہم سے معمولی پوچھ گچھ کی اور ہم اوپر چلے گئے۔ ایلس اور بچوں سے ملے ۔ ایلس نے گرفتاری کی کیفیت سُنائی ۔ ہم کچھ دیر وہاں بیٹھے اور پھر واپس آگئے۔

    دوسرے دن دفتر سے واپسی پر میں سیدھا ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’امروز‘‘ کے دفتر  پہنچا۔ وہاں سب سے پہلے مجھے اتفاقاً حسرت صاحب ملے اور انہوں نے مجھے دیکھتے ہی میری سرکاری حیثیت کو ہدف بناتے ہوئے مجھے مخاطب کر کے اپنے مخصوص انداز میں یہ شعر پڑھا :

    تو اسے کبوتر ِبام حرم چہ  می دانی

    طپیدنِ دلِ مرغانِ رشتہ  در پارا

    حسرت صاحب کے علاوہ امجد اور دوسرے کئی اخبار نویسوں سے بھی باتیں ہوئیں ۔ میں عجیب مخمصے میں تھا کہ یہ ہوا کیا۔ فیض صاحب اس چکر میں کیسے آگئے اور یہ چکر ہے کیا ؟

    ایلس سے ہم لوگ برابر ملتے رہے مگر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فیض صاحب ہیں کہاں پھر طرح طرح کی افواہیں اُڑ نے لگیں مثلاً یہ کہ ان کو جیل میں مختلف قسم کی ایذائیں دی جارہی ہیں ۔ ان سے اور بھی وحشت ہوتی تھی۔ مگر یہ سب افواہیں غلط تھیں ۔ جب فیض لائل پور (اب فیصل آباد ) کی جیل سے کہ جہاں وہ قید تنہائی میں رکھے گئے تھے مقدمہ شروع ہونے پر حیدر آبا د جیل منتقل ہوئے اور ان سے ان کے بڑے بھائی طفیل احمد کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے خود ان افواہوں کی تردید کی ۔ ہاں لائل پور جیل ہی سے ان کی ایک غزل کسی نہ کسی ذریعے سے باہر پہنچادی گئی تھی :

    یہی جنون کا یہ طوق و دار کا موسم

    یہی ہے جبریہی اختیار کا موسم

    قفس ہے بس میں تمہارے، تمہارے بس میں نہیں

    چمن میں آتشِ گُل کے نکھار کا موسم

    صبا کی مست خرامی تہِ کمند نہیں

    اسیرِ دام نہیں ہے بہار کا موسم

    بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے

     فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم

    ظاہر ہے کہ میرا فیض سے کوئی رابطہ ان کی قید کے دوران نہیں ہوا البتہ جنوری ۱۹۵۳ ء میں آمنہ باجی (بیگم مجید ملک) ان سے حیدر آباد جیل میں مل کر لاہور  آئیں تو ان سے فیض کی جیل کی زندگی کے کوائف معلوم ہوئے یہ وہ زمانہ ہے جب ان   کے مقدمے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور ان کو پانچ برس کی سزا سنائی جاچکی تھی۔ ان کے ڈیڑھ سال بعد ایک عجیب اتفاق ہوا۔ میں کر اچی میں تھا اور مجید ملک صاحب کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ شام کے قریب آمنہ باجی نے بتایا کہ پولیس ہیڈ کوارٹرز سے فیض کا فون آیا تھا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ وہ کیسے ۔ انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ اس سے قبل فیض کو کان کی تکلیف کے سلسلے میں حیدر آباد سے جناح ہسپتال کراچی میں لایا گیا تھا اور وہ وہاں کئی ہفتے رہے تھے۔ اب وہ پھر ہسپتال میں چیک اپ کے لیے لائے گئے تھے مگر اب انہیں حیدر آباد جیل سے منٹگمری (اب ساہیوال) جیل میں بھیجا جارہا ہے ۔ آج رات خیبر میل سے ان کی روانگی ہے ۔ آمنہ باجی سے فیض نے یہ کہا تھا کہ اگر آپ کھانا لے کر اسٹیشن پر آجائیں تو ملاقات ہو سکتی ہے ۔ میں نے باجی سے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا ۔ تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر شوکت ہارون کسی قدر پر تکلف لباس پہنے معمول سے زیادہ سجی بنی وارد ہوئیں ۔ باجی سے ان کی بڑی پرانی دوستی تھی۔ فیض سے بھی ان کی سلام دعا تھی مگر جب فیض جناح ہسپتال میں رہے کہ جہاں وہ اس زمانے میں بطور اسپیشلسٹ کام کرتی تھیں تو فیض سے ان کی صبح شام ملاقات ہونے لگی اور وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے ۔ اس وقت ڈاکٹر شوکت ہارون باجی سے تھوڑی دیر کے لیے ملنے آئیں تھیں ۔ در اصل انہیں جرمن سفیر کے ہاں ڈنر پر جانا تھا۔ باجی نے انہیں بتایا کہ ہم تو فیض کا کھانا لے کر ان سے ملنے ریلوے اسٹیشن جارہے ہیں ۔ وہ بھی ہمارے ساتھ جانے پر تیار ہو گئیں بلکہ ہم انہی کی کار میں ریلوے اسٹیشن پہنچے ۔ ہم فرنٹیئر میل کے فرسٹ کلاس ڈبوں میں جھانک ہی رہے تھے کہ فیض ہمیں دیکھ کر باہر پلیٹ فارم پر آگئے ۔ ان کو تو صرف باجی کے آنے کی توقع تھی۔ شوکت کو اور مجھے دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی اور ایک خاص قسم کی خوشی سے ان کا چہرہ تمتما اٹھا ۔ انہوں نے بے اختیار مجھے گلے لگا لیا۔ ہم ریل کے ڈبے میں اندر جاکر ان کے ساتھ بیٹھ گئے کوئی دس پندرہ منٹ کے بعد ان کے محافظ پولیس افسر نے ان کو سرگوشی میں کچھ کہا اور پھر ہم سب سے بھی معذرت کی کہ مجبوری ہے بس اسی کو بہت جانئے چناں چہ ہم فیض کو خدا حافظ کہہ کر ریلوے اسٹیشن سے باہر آئے تو شوکت نے اعلان کر دیا کہ مجھے تو دیر ہو رہی ہے اب میں آپ لوگوں کو واپس گھر پہنچانے نہیں جاسکتی۔ آپ ٹیکسی لے لیجیے۔ با جی کچھ جزبز تو ہوئیں مگر کیا کر تیں شوکت تو یہ کہ کر اپنی کار میں رخصت ہو گئیں ۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ پولیس کی ایک گاڑی میں وہ پولیس افسر سوار ہو رہے ہیں جو فیض کو ریلوے اسٹیشن چھوڑنے آئے تھے ۔ باجی بیگم تو باجی بیگم ٹھہریں انہوں نے فوراً آگے بڑھ کر ان پولیس افسروں سے کہا کہ میاں، جس کار میں ہم آئے تھے وہ تو واپس چلی گئی ہے۔ اب اگر آپ ہمیں گھر پہنچا دیں تو بڑی مہربانی ہوگی ۔ وہ پولیس افسر کوئی شریف لوگ تھے انہوں نے فوراً  کہا کہ بیگم صاحب آپ یہ گاڑی لے جائیے ہم کسی دوسری گاڑی کا انتظام کر لیں گے ۔ چناں چہ آمنہ باجی اور میں پولیس وین میں گھر پہنچے ۔

    اس واقعے کے چند مہینوں بعد میں لندن اسکول آف اکنامکس میں ایک کورس کرنے لندن چلا گیا اور ۱۹۵۵ ء کا سارا سال میں نے وہیں گزارا۔ اس دوران میں فیض قید سے یہ رہا ہو گئے ۔ میں جب آخر جنوری ۱۹۵۶ ء میں اور کچھ دن کراچی ٹھہرنے کے بعد لاہور پہنچا تو وہ لاہور ہی میں تھے۔ اب وہ ’’ پاکستان ٹائمز‘‘ کے چیف ایڈیٹر بنا دیے گئے تھے کیوں کہ ان کی غیر حاضری میں مظہر علی خان نے ایڈیٹر کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ فیض کا یہ عہدہ کچھ برائے نام سا تھا کیوں کہ اخبار ترتیب و تدوین میں ان کو کوئی خاص عمل دخل نہیں تھا ۔ کام کم فرصت زیادہ تھی ۔

     اس عالم میں کوئی دو سال بعد جنرل ایوب خان نے اکتوبر ۱۹۵۸ ء میں سول حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ فیض اس وقت افرو ایشین رائٹرز کا نفرنس کے سلسلے میں پاکستانی وفد کے ساتھ جس کے لیڈر حفیظ جالندھری تھے روس گئے ہوئے تھے ۔ جب ملک میں پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو مجید ملک صاحب نے کہ حکومت پاکستان کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر تھے فیض کو کسی نجی ذریعے سے پیغام بھجوایا کہ وہ واپس نہ آئیں بلکہ ماسکو سے لندن چلے جائیں ۔ فیض نے یہی کیا ، یہاں تک کہ دسمبر کا مہینہ آگیا مگر چوں کہ ملک میں حالات کی رفتار وہی تھی لہٰذا مجید صاحب نے پھر کسی نجی ذریعے سے فیض کوپیغام بھجوایا کہ وہ ابھی لندن ہی میں ٹھہرے رہیں ۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے کا کوئی دن تھا۔ میں سرکاری دورے پر کراچی میں تھا اور مجید ملک صاحب کے ہاں ہی ٹھہرا ہوا تھا۔ ایک شام ہم لوگ نشست کے کمرے میں بیٹھے تھے کہ گھر کے اندر ایک ٹیکسی  آکر رکی اور بالکل غیر متوقع طور پر اس میں سے جناب فیض برآمد ہوئے ۔ مجید صاحب ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھے مگران سے رہا نہیں گیا اور وہ فوراً بول اُٹھے۔ میں نے تمہیں پیغام بھیجوایا تھا کہ تم ابھی مت آنا ۔ فیض نے مسکراتے ہوئے جواب دیا مگر ہم تو آگئے ۔ بہر حال ہم سب ان سے مل کر بہت خوش ہوئے ۔ شام ذرا بھیگی تو محفل جمی ہم لوگ رات گئے تک باتیں کرتے رہے۔ فیض روس میں رائٹرز کا نفرنس کے قصے پاکستانی وفد کے لیڈر کی حیثیت سے حفیظ جالندھری صاحب کے لطیفے سناتے رہے پھر لندن میں اپنے قیام کا ذکر کیا اور مجید صاحب سے کہا کہ مجھے آپ کا پیغام مل گیا تھا مگر میں لندن میں کب تک بیٹھا رہتا اب دیکھیں جو ہو سو ہو ۔

    فیض صاحب کا پلنگ بھی اوپر کے ایک کمرے میں لگا دیا گیا۔ صبح ہم دونوں ذرا دیر سے اٹھے ۔ تھوڑی دیر کے بعد بالکونی میں آئے تو تازہ اور خنک ہوا کے جھونکوں نے مسحور کر دیا ۔ فیض نے چاروں اور پھیلی ہوئی دھوپ اور نیلے آسمان کی طرف دیکھا اور بڑےپر مسرت لہجے میں کہا it is lovely to be back home دو تین دن کراچی میں رہنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے ۔ دوسرے دن انہوں نے اپنی بڑی بیٹی سلیمہ کی سالگرہ منائی اور اسی رات کے پچھلے پہر انہیں گرفتار کر کے زندان قلعہ لاہور میں نظر بند کر دیا گیا ۔ میں واپس لاہور آیا اور کوئی تین مہینے کے بعد میرا تبادلہ کراچی ہو گیا۔ جس دن مجھے کراچی کے لیے روانہ ہونا تھا اسی دن فیض کی نظر بندی کی مدت ختم ہوئی اور ان کو رہا کر دیا گیا۔ مگر میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی صرف فون پر بات ہوئی ۔ فیض رہا ہونے کے بعد پھر ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے دفتر پہنچ گئے لیکن ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ مارشل لاء کے حکم کے ماتحت :

    آں قدح بشکست و آں ساقی نہ  ماند

    جنرل ایوب خاں نے میاں افتخار الدین کی بچھائی ہوئی بساط ہی اُلٹ دی۔ پروگریسو پیپرز کے ادارے اور ان کے اخبارات و رسائل یعنی ’’پاکستان ٹائمز‘‘، ’’امروز‘‘اور ’’لیل ونہار‘‘ حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے اور اس کے ساتھ ہی فیض صاحب کی چیف ایڈیٹری بھی ختم ہو گئی یہ سارا قصہ میں مجید ملک صاحب پر اپنے مضمون میں لکھ چکا ہوں ۔

     مارشل لاء کی حکومت کے ابتدائی دور میں منظور قادر وزیر قانون تھے اور وہ فیض کے دوست تھے چناں چہ میاں افتخار الدین نے فیض کو حکومت کی اس کارروائی کے بارے میں ان سے بات کرنے کے لیے کر اچی بھیجا۔ بات کرنے کی کوئی گنجائش تو تھی نہیں مگر غرض مند دیوانہ ہوتا ہے اور ہوا میں اُڑتے ہوئے تنکوں کو بھی پکڑنا چاہتا ہے ۔ فیض، منظور قادر صاحب سے دو تین بار ملے جو کچھ کہا جا سکتا تھا کہا مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ ظاہر ہے کہ میاں افتخار الدین کو کسی کل قرار نہیں تھا چناں چہ وہ خود کراچی پہنچ گئے۔ فیض تو مجید ملک صاحب کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے اور میں تبادلے کے بعد عارضی طور پر گورنمنٹ آفیسر ز ہوسٹل میں ۔ ایک شام جب میں بھی اتفاق سے مجید صاحب کے ہاں بیٹھا ہوا تھا، میاں صاحب، مجید صاحب اور آمنہ باجی کے پاس آئے کہ وہ ان کے پرانے ملنے والے تھے ۔ فیض بھی موجود تھے ۔ میاں صاحب نے آتے ہی کہا آمنہ، دیکھو یہ ذرا فیض کی بات سنو ۔ مجھ سے کہتے ہیں کہ میاں صاحب آپ اتنے پریشان کیوں ہیں۔ یہ بھی تو سوچیے کہ it could be worse اس نوعیت کی حادثوں کے بارے میں فیض عموماً کچھ اسی قسم کا رویہ رکھتے تھے حالات کی سنگینی کا خیال کیجیے تو فیض کی بات بالکل درست تھی مگر میاں صاحب کیوں کہ مانتے ان کی تو دنیا لٹ  گئی تھی ۔

    ’’ پاکستان ٹائمز‘‘ پر حکومت کے قبضے کے کچھ عرصہ بعد حکومت میں فیض کے بعض دوستوں اور مداحوں نے ’’روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر‘‘ کے مصداق ان کو کسی نہ کسی کام پر لگانے کی کوشش شروع کر دیں ۔ فیض نے مجھے بتایا کہ ایس ایم شریف صاحب نے کہ اس زمانے میں وزارت تعلیم کے سیکرٹری تھے ۔ انہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کی پر وفیسری کی پیش کش کی مگرفیض کی علمی دیانت داری دیکھیے کہ انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ انگریزی ادب سے اُن کا رابطہ اب اس طرح کا نہیں کہ وہ ایم اے کی کلاسنر کو پڑھا سکیں ۔ اس مضمون میں ان کا علم تازہ اور حاضر نہیں ۔ ہاں اگر اُردو کی پروفیسری کا انتظام ہو سکے تو اور بات ہے کیوں کہ اس میں ان کے پاس کچھ کہنے کو ہوگا انگریزی میں تو وہ دوسروں کی کہی ہوئی باتیں ہی دہرائیں گے۔ بہر حال کچھ عرصے بعد فیض کو لاہور کی آرٹ کونسل کا جس کے صدر ابتدار ہی سے جسٹس ایس اے رحمٰن تھے انتظامی سربراہ بنا دیا گیا اس کو نسل کی داغ بیل ۱۹۴۸ ءمیں تاثیر صاحب، امتیاز علی تاج ،عبد الرحمٰن چغتائی اور فیض صاحب ہی نے ڈالی تھی ۔

     فیض لاہور میں رہتے تھے مگر اکثر کراچی آتے رہتے تھے۔ مجید ملک صاحب تو ۱۹۵۹ء  کے آخر میں کولمبو پلان کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ ہو کر کولمبو چلے گئے تھے مگر آمنہ باجی اور بچے  اپنے گھر گرو مندر کے علاقے کراچی ہی میں رہے ، باجی  کے ایک چھوٹے بھائی حمید بٹ بمبئی سے نقل مکانی کر کے کراچی آگئے تھے اور باجی ہی کے پاس رہتے تھے ۔ وہ بڑے بارونق اور مجلسی آدمی تھے ۔لے سے بہت اچھا گایا کرتے تھے ۔ فیض کراچی آتے تو باجی ہی کے ہاں ٹھہرتے اور اب چوں کہ مجھے بھی جناح اسپتال کے نزدیک اس زمانے کے نیپئر بیرکس میں (اب اس جگہ پر جناح اسپتال کی عمارات بن چکی ہیں) مکان مل چکا تھا لہٰذا صدر کے علاقے میں آتے تو میرے ہاں بھی آجاتے ۔ شامیں تو اکثر دوست احباب کے ساتھ یا باجی کے ہاں ہی گزرتی تھیں۔ کبھی کبھی فیض کو بعض دوسرے لوگ جنہیں حمید بٹ فیض بھائی کے پنکھے ( FANS ) کہا کرتے تھے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ہماری اپنا شاموں کے اختتام پر رات گئے فیض اکثر مجھ سے فرمائش کرتے کہ چلو اب کلفٹن چلیں ۔ حمید بٹ اس پروگرام میں شامل نہیں ہوتے تھے ۔ البتہ کبھی کبھی آمنہ باجی اور شوکت یا صرف شوکت ہی ہمارے ساتھ ہو تیں۔ ہم چاندنی راتوں میں پرا نے کلفٹن کی منڈیر پر بیٹھ کر سمندر میں جوار بھاٹے کا منظر دیکھا کرتے اور چمکتی ساحل سے ٹکراتی موجوں کا شور سنا کرتے ۔ جب صرف ہم دونوں ہوتے تو واپسی پر صدر کے کسی ایرانی ہوٹل میں چائے پینا بھی ایک معمول تھا۔ اس وقت رات کے ایک دو بجے کا عمل ہوتا اور ہوٹل میں یا تو پولیس کے اونگھٹے ٹھیلتے سپاہی بیٹھے ہوتے یا کچھ چور اچکے جو شاید اپنا دھندا انپٹا کر یا اس سے پہلے سپاہیوں سے معاملے طے کر کے یہاں آتے تھے۔ مجھے کراچی میں فیض کے ساتھ گزرے ہوئے یہ شب و روز ہمیشہ یاد رہیں گے ۔ ان میں کچھ بو ہمیت بھی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ شعر وادب اور سیاست و صحافت پر کام کی باتیں بھی ہو جایا کرتی تھیں ۔

    اس دوران میں فیض اور میں ایک دوسرے کے اور بھی قریب آگئے اور ہمارے درمیان سے کچھ ایسے پر دے بھی اُٹھنے لگے جو اس سے قبل حائل تھے۔ میں فیض کے دل کے معاملات کا ذکر نہیں کروں گا کیوں کہ وہ بنیادی طور پر پر ائیو یٹ آدمی تھے میں نے ان کی زندگی میں بھی ان کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی اور اب تو خیر اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صرف یہ عرض کروں گا کہ ان معاملات میں کچھ ’’ افسانہ کرند د‘‘کا عنصر بھی شامل تھا ۔ اس میں شک نہیں کہ وہ انگریزی محاورے کے مطابق ’’خواتین کے آدمی‘‘ تھے ۔ اس کی ایک وجہ تو ان کی ذاتی وجاہت اور خوئے دل نوازی تھی ۔ اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ کہ وہ ایک بڑے مؤقر قومی انگریزی اخبار کے ایڈیٹر رہے تھے۔ وہ شاعر تھے اور ان کی غنائیت سے بھر پور   شاعری میں رومانی اور انقلابی دونوں رنگ بیک وقت جھلکتے تھے اور پھر شاعر بھی ایسے کہ جوہ ایک غیر شاعرانہ اور ” باغیانہ سازش ‘‘میں کہ جسے بہت اچھالا گیا تھا ، ماخوذ ہو کر قید وبند کی صعوبتیں بھی اُٹھا چکے تھے۔ بعد میں انہیں اس زمانے میں دنیا کی دوسری بڑی طاقت سوویت یونین کے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز لینن پیس  پرائز سے بھی نوازا گیا ۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے ان کی شخصیت کے گرد ایک ہالہ بن گیا تھا اور اس میں ایک غیر معمولی کشش پیدا ہوگئی تھی جس سے خواتین بہت متاثر ہوتی تھیں، ان کی وفات کے بعد ایک خاتون نے تو اپنے نام ان کے خطوط کا مجموعہ شائع کیا اور پھر بڑے اہتمام سے اس کی رونمائی کرائی ۔ ایک اور خاتون کے نام فیض کے خطوط ایک رسالے ’’ غالب‘‘ میں چھپے جو ظاہر ہے انہوں نے خود ہی واگزار کیے ہوں گے۔ ان دونوں مجموعوں میں مکتوب الیہ کی خود نمائی کا پہلو  ز یادہ ہے مکتوب نگار کے کسی خاص اور گہرے جذباتی لگاؤ کا نشان نہیں ملتا،..... میں باتیں بھی ایک ہی سی ہیں ۔ ان میں محبت سے زیادہ مروت کا اظہار ہے ۔

     البتہ فیض کے دل کے معاملات کے سلسلے میں یہاں ایک واقعے کا ذکر چنداں غیر مناسب نہ ہوگا۔ ایک دن سہ پہر کے قریب میرے ہاں آئے اور تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد کہنے لگے تم ذرا مجھے قریب ہی ایک جگہ پہنچا دو۔ میرے ساتھ کار میں بیٹھے اور مجھے اسی آئی لائنز کی طرف جانے کا کہا۔ وہاں ایک کوٹھی کے پچھواڑے کی طرف لے گئے جہاں نوکروں کے کواٹرز تھے اور دھوبیوں کی الگنیاں لگی ہوئی تھیں۔ وہیں اتر گئے اور یہ کہہ کر اندر چلے گئے کہ میں خود ہی واپس آجاؤں گا ۔ کوئی گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ایک کار انہیں میرے گھر کے گیٹ تک پہنچا گئی۔ بہت خوش نظر آتے تھے ۔ مجھے بتایا کہ آج بڑی مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے۔ ان خاتون سے نو جوانی میں لائل پور (اب فیصل آباد ) رسم و راہ پیدا ہوئی تھی جو جلد ہی ایک شدید جذباتی لگاؤ میں تبدیل ہو گئی ۔ مگر پھر بوجوہ اسے فراموش کرنا پڑا ۔ مگر اس کا اثر طبیعت پر بہت دیر رہا۔ فیض کی نظم ’’کوئی عاشق کسی محبوبہ سے‘‘ اگرچہ اس واقعے سے کوئی سترہ برس بعد ۱۹۷۸ ء میں لندن میں لکھی گئی مگر میرا قیاس ہے کہ اس میں انہی خاتون سے خطاب ہے ۔

     یہاں میں یہ بھی عرض کر دوں کہ وہ دوسروں کے دل کے معاملات کا بھی بڑا حساس اندازہ کر سکتے تھے ۔ ایک دفعہ جب وہ روس سے لوٹے تو کہنے لگے کہ اشتراکی نظام میں غم روزگار یعنی روٹی ، کپڑے اور مکان کے غم کا مداوا کم سے کم اصولی طور پر موجود ہے مگر داخلی غم، عشق کے غم، کسی کی بے وفائی کے غم ، کا کیا علاج ہے ؟ بات یہ تھی کہ وہ اب کے سفر میں کسی ایسی خاتون سے مل کے آئے تھے جو اپنی زندگی کے باقی حالات سے تو بالکل مطمئن  تھی مگر جب اس نے فیض سے اپنے محبوب کی بے وفائی کا قصہ بیان کیا تو اندازہ ہوا کہ وہ اندر سے کتنی دکھی ہے۔ مجھے اپنے دل کے ایک معاملے میں ناکامی کے ذکر سے اجتناب ہے مگر اس میں فیض نے جس محبت اور شفقت کا اظہار کیا وہ بھی ان سے وابستہ یادوں کا ایک حصہ ہے۔ غم گساری کے ساتھ ساتھ چارہ سازی کے سلسلے میں انہیں میری شادی کی فکر ہونے لگی ۔ میری عمر بھی اب کافی ہو چکی تھی ۔ چناں چہ انہوں نے جب اس پر زیادہ زور دیا اور میں نے انتخاب کے سلسلے میں فلسفہ طرازی کی کوشش کی تو فیض کا جواب نہایت دلچسپ   تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مسائل جن میں شادی بھی شامل ہے زندگی کے اتنے اہم مسائل نہیں ہوتے ، بہر حال شادی ایک سماجی فرض بھی ہے اور انفرادی طور پر اس سے آدمی کی زندگی میں ایک ساتھی کی موجودگی اور بچوں وغیرہ کی وجہ سے ایک رونق آجاتی ہے ۔ قصہ مختصر ۱۹۶۲ ء کے اوائل میں جب سرکار نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے لیے مجھے امریکہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو میں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ حسنِ اتفاق سے فیض میری ہونے والی بیوی شمیمہ کو آمنہ باجی کی وساطت سے جانتے تھے اور انہی کی طرح ان کے اپنے الفاظ میں اس کے طرف دار بھی تھے۔ چناں چہ وہ بعد میں بھی اکثر کہا کرتے تھے کہ اس کی شادی تو ہماری ایما اور پسند سے ہوئی ہے۔ میری شادی فقط تین دن میں طے پائی ۔ اتفاق سے فیض اس وقت ڈھاکہ میں تھے ۔ ان کو وہیں اطلاع دی گئی وہ شادی میں تو شریک نہ ہو سکے مگر فوراً بعد ڈھاکے سے سیدھے کراچی پہنچے اور کوئی ہفتہ بھر تک شادی کے بعد کی دعوتوں میں ہمارے ساتھ شریک رہے۔

     فروری ۱۹۶۲ ء میں میرے لاس انجیلز پہنچنے کے فوراً ہی بعد مجھے فیض کے دل کے عارضے کی اطلاع ملی اور چند دنوں بعد میری تشفی کے لیے ایلس کا خط کہ اب وہ رو بہ صحت ہیں ۔ چند مہینوں کے بعد ان کو روس کی طرف سے ’’ لینن پیس پرائز‘‘ دیے جانے کا اعلان ہوا جس پر پاکستان کے بعض اخبارات میں بہت لے دے ہوئی یہ اطلاع مجھے ن۔ م ۔راشد کے ایک خط سے ہوئی جو انہوں نے مجھے نیو یارک سے لکھا تھا۔ اس سے پہلے بھی یہ اخبارات ان کے نام کے ساتھ ’’ پنڈی سازش کیس کے سزا یافتہ‘‘ کا لاحقہ لگا کران کے خلاف لکھتے رہتے تھے۔ امیر محمد خان کالا باغ گورنر پنجاب نے بھی انہیں مختلف عنوانات سے تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ چناں چہ وہ اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ اپنی بڑی بیٹی سلیمہ کو ساتھ لے کر جب وہ اپنا انعام وصول کرنے ماسکو گئے تو وہاں سے واپس نہیں آئے بلکہ لندن چلے گئے ۔ ایلس اور چھوٹی بیٹی منزہ کو اپنے پاس وہاں بلا لیا اور سلیمہ کو کو رشم کے آرٹس اسکول میں داخل کرا دیا ۔ قیام لندن کے دوران انہوں نے مجھے واشنگٹن میں ایک   خط لکھا جو ضمیمے کے طور پر اس مضمون کے ساتھ شائع ہو رہا ہے ۔ اس میں انہوں نے ایک تازہ نظم اور غزل بھی بھیجی تھی ۔ واشنگٹن میں ہمارے سفارت خانے کے احباب میں اس نظم اور غزل کا بہت چرچا ہوا۔ ہر مفحل میں مجھ سے اس کی فرمائش کی جاتی تھی۔ اس زمانے میں جی۔ احمد صاحب ہمارے سفیر تھے ۔ ان کے ہاں ایک محفل میں وہ ایسے موڈ میں آئے کہ فیض کو واشنگٹن بُلانے پہ تیار ہو گئے ۔ میں نے کہا کہ امریکن ان کو ویزا  ہی نہیں دیں گے کہنے لگے ہم بلائیں گے تو کیسے نہیں دیں گے ۔ یہ وہی جی ۔ احمد صاحب تھے جو شاید ’’راولپنڈی سازش کیس‘‘ میں اپنی محکمانہ حیثیت سے متعلق رہے تھے انہوں نے جنوری ۱۹۵۳ء  میں جب وہ مرکزی حکومت میں سیکر ٹری داخلہ تھے ، آمنہ باجی کو فیض سے جیل میں ملاقات کی اجازت بھی دلوائی تھی۔

     مئی ۱۹۶۵ ء کے اوائل میں شمیمہ اور میں واشنگٹن سے واپسی پر لندن رُکے اور اپنی نئی کار میں انگلستان کی سیر کرنے لگے۔ سلیمہ کو رشم کے آرٹس سکول میں تعلیم ختم کر چکی تھی اور اب وطن واپس جانے والی تھی۔ جب ہم اسے ملنے گئے تو اس نے ہمیں بتایا کہ فیض عنقریب لندن پہنچ رہے ہیں ۔ میری تو گویا عید ہوگئی ۔ دو ایک دن بعد میں نے ان کے میزبان افضل کے ہاں فون کیا تو فیض خود بول رہے تھے ۔ اس کے بعد ہم تقریباً دو مہینے انگلستان بلکہ لندن ہی میں رہے اور زیادہ وقت فیض کی معیت میں گزرا۔ ہم لوگ ساؤتھ کنز نگٹن کے علاقے میں ٹھہرے ہوئے تھے اور فیض ذرا دور کے علاقے میں مگر وہ ہر روز سنٹرل لندن آجاتے تھے۔ یہ معلوم کر کے مجھے کسی قدر حیرت بھی ہوئی کہ انہیں بس اور ٹیوب کے راستے خوب یاد تھے اور وہ ٹیوب اسٹیشنوں کی بھول بھلیوں میں کھو نہیں جاتے تھے۔

    اسی دوران ایک دن مجھے ان کا فون آیا کہ میں بی بی سی کلب میں پہنچ گیا ہوں۔ تم لوگ بھی یہاں آجاؤ ۔ ہم وہاں پہنچے ۔ اندر گئے تو تھوڑی دیر بعد فیض بھائی نے گھڑی دیکھ کر مجھ سے کہا کہ تم ذرا باہر گیٹ پر چلے جاؤ۔ میں نے حیرت سے وجہ پوچھی تو جواب دیا کہ وجہ تمہیں خود ہی معلوم ہو جائے گی۔ تم جاؤ تو سہی۔ میں باہر چلا گیا۔ دو تین منٹ کے بعد کیا دیکھتا ہوں کہ ڈاکٹر شوکت ہارون چلی آرہی ہیں ۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک دن پہلے ہی لندن پہنچی تھیں اور ہماری جائے قیام کے قریب ہی اپنے چھوٹے بیٹے ضیاء محمود کے ہاں ٹھہری ہوئی تھیں۔ فیض اور شوکت کے ساتھ ہم لوگ لندن میں ایسے مگن ہوئے کہ بہت سے ایسے دن بھی وہیں گزار دیے جو ہم نے یورپ کی سیر کے لیے وقف کیے ہوئے تھے۔ جب میری چھٹی کے کوئی دس دن باقی رہ گئے جو بہر حال ہمیں یورپ میں گزارنے تھے تو ہم نے رخت سفر باندھا۔ ایک شب پہلے ہماری الوداعی دعوت میرے ایک پرانے جاننے والے تقی سید کے ہاں تھی ۔ جو اس زمانے میں بی بی سی کی اُردو سروس سے متعلق تھے ۔ وہ اب اسی مکان میں رہتے تھے جہاں فیض  اور ان کا خاندان اپنے قیام لندن کے دوران رہا کرتا تھا۔ ہم وہاں گئے تو فیض بھائی نے ہمیں مکان کے سامنے کے باغ میں گلاب کے وہ پودے بھی دکھائے جو انہوں نے اپنے ہاتھ سے لگائے تھے ۔ ہم لندن کے سب احباب سے، شوکت اور فیض سے رخصت ہوئے اور صبح ائیر پورٹ روانہ ہو گئے ۔میں پی آئی اے کا کاؤنٹر پر چیک ان کرنے کے بعد جو پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شمیمہ کے پاس فیض بھائی کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے آگئے؟ کہنے لگے بھئی ہم جب صبح گھر سے نکل کر ٹیوب میں بیٹھے تو دیکھا کہ اس کا آخری اسٹیشن ہیتھ رو ہے ہم نے سوچا کہ ابھی تو بہت وقت ہے ۔ تم لوگوں کو ائیر پورٹ پر بھی خدا حافظ کہہ دیں ۔ در اصل تو یہ ان کی شفقت کا اظہار تھا جس سے ہم دونوں بہت متاثر ہوئے ۔ فیض بھائی آئے تو محض خدا حافظ کہتے تھے مگر حسنِ اتفاق دیکھیے کہ فلائٹ لیٹ ہو گئی اور پی آئی اے والے ہمیں اور فیض بھائی کو وی آئی پی لانج میں لے گئے۔ بقول ان  کے فیض صاحب کی معیت میں اب ہم سی آئی پی یعنی کمرشلی امپورٹنٹ مسافر بن گئے تھے ۔ چناں چہ انہوں نے تمام لوازمات کے ساتھ ہمیں دوپہر کا کھانا کھلایا اور ہم فیض بھائی سے کوئی تین گھنٹے گپ کرنے کے بعد جہاز میں سوار ہوئے ۔

     وطن واپسی پر میرا تقرر فنانس سروسز اکیڈمی میں ہوا جو اب سول سروسز اکیڈمی بن گئی ہے اور لاہور کے والٹن ریلوے سکول کے قریب واقع ہے فیض اپنے خاندان سمیت لندن کی زندگی سے اکتا کر کوئی سال بھر پہلے ہی وطن واپس آچکے تھے اور اب عبداللہ ہارون کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے کراچی میں مقیم تھے ۔ میں لاہور میں کوئی دو سال رہا۔ اس دوران میں فیض   کئی بار لاہور آئے اور میں کئی بار کراچی گیا اور ان سے برا بر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ہماری بڑی بیٹی کراچی کے لیڈی ڈفرن ہسپتال میں ڈاکٹر شوکت ہارون کی نگرانی میں پیدا ہوئی کہ وہ اب اس اسپتال کی انچا رج  تھیں۔ فیض بھائی نے اپنے نواسے منزہ کے بیٹے کا نام مدیح رکھا تھا ہماری بیٹی کا نام مدیحہ رکھا۔ منزہ نے اسے علی مدیح بنا دیا اور شمیمہ نے مریم مدیحہ۔

    جنوری ۱۹۶۸ ء میں بطور جائنٹ سیکرٹری وزارتِ اطلاعات و نشریات میں لاہور سے تبادلے پر ڈھاکہ پہنچ گیا۔ فیض اس زمانے میں حکومت کی ایک کمیٹی کے سربراہ بھی تھے جو پاکستانی ثقافت پر ایک رپورٹ تیار کر رہی تھی۔ اس سلسلے میں وہ دو تین دفعہ میرے قیام کے دوران ڈھاکہ بھی آئے ۔ ایک دفعہ جب ان کو ائیر پورٹ لینے گیا تو اسی جہاز سے جی۔ احمد صاحب بھی اترے جو اس زمانے میں کسی سرکاری کمیشن کے سربراہ تھے ان سے ہمارا واشنگٹن کے قیام کے دوران کافی ملنا جلنا تھا۔ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آج شام میں نے فیض کو اپنے ہوٹل میں کھانے پر بلایا ہے تم بھی آجانا ۔ اس شام تو کھانا انٹر کانٹی نینٹل میں ہوا اگلی شام میں نے جی ۔ احمد صاحب کو اور منظور قادر صاحب جو کہ فیض کے پرانے دوست تھے اور ان دنوں اگر تلہ سازش کیس کے سلسلے میں ڈھاکہ میں مقیم تھے، اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا۔ جب یہ تینوں بزرگ جمع ہوئے تو جی احمد صاحب منظور قادر صاحب اگرتلہ سازش کیس کے سلسلے میں پوچھنے لگے۔ بات انہوں نے اس طرح شروع کی کہ بھئی منظور، یہ بتاؤ کہ یہ سازش کیس ہے کیا ؟ ایک راولپنڈی سازش کیس تھا جس کا ایک سرکردہ ملزم تمہارے سامنے بیٹھا ہے ۔ یہ اُس وقت ایک بڑے انگریزی اخبار کا ایڈیٹر تھا۔ اس سے پہلے فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے میں کرنل تھا ۔ باقی ملزم حاضر سروس جرنیل اور بریگیڈیئر تھے ۔ ایک اور ملزم پاکستان کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری جنرل سجاد ظہیر تھا۔ مختصر یہ کہ سب کے سب حیثیت والے اور اہم لوگ تھے۔ الزامات غلط تھے یا صحیح  یہ الگ بات ہے۔ تم نے اس سازش میں کیسے لوگوں کو پکڑا ہے ایک   نیوی کا لیفٹنٹ کمانڈر ہے ۔ ایک کوئی سی ایس پی کا افسر ہے باقی سب فالتو قسم کے لوگ ہیں اور پھر تم نے اس کیس کو سیاسی رنگ دینے کے لیے مجیب کو شامل کر لیا ہے میری سمجھ میں نہیں آتا یہ کس قسم کا سازش کیس ہے۔ فیض تو جی احمد صاحب کی باتیں خاموشی سے سنتے رہے اور محظوظ ہوتے رہے۔ منظور قادر صاحب نے کیس کا دفاع کیا کچھ تفصیلات بھی بتائیں مگر جی۔ احمد صاحب قائل نہیں ہوئے۔ ہم لوگ تو ساتھ ساتھ شغل بھی کرتے رہے ۔ منظور قادر صاحب مستقل صرف برف چباتے رہے اور حسب معمول نہایت شستہ اُردو اور انگریزی میں گفتگو کرتے رہے ۔

     فیض کو مشرقی پاکستان سے خاص قسم کا لگاؤ تھا۔ وہاں ان کے بہت سے چاہنے والے بھی تھے۔ خصوصا ًبائیں بازو کے صحافی اور ادیب جیسے ظہور حسین چوہدری ایڈیٹر ’سنگ باد‘ ۔ شہید اللہ قیصر جوائنٹ ایڈیٹر ’سنگ باد‘ اور بنگالی کے مشہور ناول نگار ، منیر چوہدری ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسران کے بھائی کبیر چوہدری اور ان کے ساتھی ۔ میری بھی ان لوگوں سے اچھی ملاقات تھی اور گھروں میں آنا جانا بھی۔ فیض جب ان کی محفلوں میں بلائے جاتے تھے تو اکثر میں بھی ان کے ساتھ ہوتا۔ میرے ہاں اسی قیام کے دوران ایک شام شہید اللہ قیصر آئے اور فیض کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ مجھے پوچھا تک نہیں اور نہ یہ بتایا کہ کہاں لے جارہے ہیں مجھے تعجب تو ہو امگر وجہ اس کی دوسرے دن صبح اس وقت معلوم ہوئی جب فیض بھائی نے مجھے بتایا کہ شہید اللہ قیصرا نہیں مشہور بنگالی کمیونسٹ لیڈر مونی سنگھ سے ملانے لے گئے تھے جو ان دنوں ڈھا کے میں روپوش تھے۔

    مشرقی پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کے آرمی ایکشن کے دوران شہید اللہ قیصر اور منیر چو ہدری دوسرے اہل قلم اور دانشوروں کے ساتھ گرفتار ہوئے اور مارے گئے فیض کو ان دوستوں کے بے موت مرنے کے انتہائی غم کے علاوہ اس تمام کارروائی سے جو دلی تکلیف ہوئی اس کا اظہار ان کی اس زمانے کی شاعری میں ہوا ہے۔ بہر حال دسمبر ۱۹۷۱ ء میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ میں اس سے دو سال قبل ہی ڈھاکے سے واپس آچکا تھا ۔ پہلے تین مہینے کی چھٹی میں نے کراچی میں گزاری جس میں تقریباً ہر روز فیض بھائی سے ملاقات ہوتی تھی۔ پھر میرا تقرر لاہور میں ہو گیا اور ہم لوگ گلبرگ میں رہنے لگے ۔

    دسمبر ۱۹۷۱ ء میں ذوالفقار علی بھٹو نئے پاکستان کے صدر بنے ان سے فیض کی پرانی یاداللہ تھی۔ فروری ۱۹۷۲ ء کے اوائل میں فیض لاہور آئے اور اپنی بیٹی سلیمہ کے ہاں ماڈل ٹاؤن میں ٹھہرے ۔ میں جب فیض سے ملا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ بھٹو صاحب نے انہیں ثقافتی ادارہ قائم کرنے کے سلسلے میں پنڈی بلایا ہے ۔ دو چار دن کے بعد جب وہ لوٹ کے پھر لاہور آئے تو ان سے معلوم ہوا کہ ایک ادارہ نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے نام سے قائم کیا جا رہا ہے اور فیض کو اس کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے چناں چہ کچھ دنوں کے بعد وہ کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے اور انہوں نے اس نئے ادارے کا چارج سنبھال لیا۔ کوئی چار مہینے کے بعد میرا تبادلہ بھی راولپنڈی ہو گیا اور میں مکان ملنے کے انتظار میں اس زمانے کے مال روڈ پر واقع مشرقی پاکستان ہاؤس کے ایک کمرے میں رہنے لگا ۔ اب پھر فیض بھائی سے پنڈی اور اسلام آباد میں مستقل ملاقاتیں ہونے لگیں۔

    اس دوران میں ایک دفعہ لاہور سے شاکر علی آئے اتفاق سے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی بھی کراچی سے آئے ہوئے تھے اور فلیش مین ہوٹل میں مقیم تھے۔ شاکر علی اور میں فیض کو لے کر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کے کمرے میں شام گزارنے پہنچ گئے ۔ باتوں باتوں میں شاکر علی نے اپنی کتھا شروع کر دی کہ وہ تو آرٹسٹ ہیں مگر بطور پرنسپل آرٹس کالج، ان کے دن انتظامی امور کو نپٹانے سرکاری دفتروں کے چکر کاٹنے اور سیکشن افسروں کے ناز اٹھانے میں گزرتے ہیں۔ جب ان کی شکایتوں نے طول کھینچا تو ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نے کہ شاکر کے والد کے دوست رہے تھے اور شاکر کو بہت عزیز جانتے تھے ان کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ میاں کیا باتیں کر رہے ہو۔ میں سائنسٹنٹ ہوں مگر اپنے ادارے کے کاموں کے سلسلے میں مجھے بھی یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ آج کل بھی اسی سلسلے میں یہاں منسٹری کے افسروں سے ملنے آیا ہوں یہ سب کچھ مکروہات سہی  مگر ان سے مفر نہیں۔ دنیا میں ہر جگہ تھوڑا یا بہت کسی نہ کسی انداز میں یہی ہوتا ہے ۔ فیض نے اس پر اضافہ کیا کہ دیکھو تاریخ کے ہر دور میں ہر تہذیب میں کوئی نہ کوئی سیکشن افسر ضرور ہوتا ہے ۔ پرانے زمانے درباروں کا سلسلہ تھا۔ شاعروں اور فن کاروں کو حکمرانوں کی سرپرستی حاصل تھی ، پھر بھی انہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے تھے اور کیسی کیسی سازشوں سے دو چار ہونا پڑتا تھا۔ شاکر علی ان دونوں بزرگوں سے کیا بحث کرتے ۔ دونوں اپنے اپنے تخلیقی میدان میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔ بین الاقوامی شہرت کے مالک تھے ۔ وہ جو کچھ کہہ رہے تھے حکومتوں کے بارے میں اپنے علم اور تجربے کی بنا پر کہہ رہے تھے ۔

    سلیم الزماں صدیقی صاحب کے بارے میں کچھ کہنے کا تو یہ موقع نہیں ۔ اگر چہ مجھے ان سے بھی گہرے اور قریبی تعلقات کا شرف حاصل رہا ہے ۔ فیض بظا ہر بہت لیے دیے رہتے تھے مگر سرکاری افسروں سے تعلقات رکھنے اور ان سے کام لینے کا ڈھب انہیں خوب آتا تھا اور اس میں نہ وہ کسی کا رعب کھاتے تھے اور نہ کسی کی خوشامد کرتے تھے ۔ ایک فائدہ ان کو یہ ضرور تھا کہ ہر حکومت میں کئی ایک وزیر اور اعلیٰ افسر کالج کے زمانے سے یا کسی اور وجہ سے ان کو جاننے والے ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کی اپنی طبیعت میں ایک قسم کی نرمی حلاوت  اور کشش پائی جاتی تھی ۔ وہ کسی سے کبھی کوئی تلخ اور سخت و شست بات کرتے ہی نہیں تھے۔ ان سب باتوں کی وجہ سے وہ ہر جگہ اور ہر محفل میں عزت و تکریم کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ میں نے ان کو سرکاری میٹنگوں میں بھی دیکھا ہے ان کی بات ہمیشہ خاص تو جہ  اور احترام سے سنی جاتی تھی ۔ پھر ان میں سرکاری افسروں کے خلاف کوئی تعصب بھی نہیں تھا کیوں کہ وہ انسانوں کو انسان سمجھ کر ملتے تھے اور ان کی برائیوں اور کج ادائیوں کو انسانی کم زوریاں سمجھ کر قبول کرتے تھے۔

    فیض کوئی چار سال تک نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے چیئر مین رہے مگر پھر انہی لوگوں نے کہ جن کو وہ خود اس ادارے میں اہم عہدوں پر لے کر آئے تھے ، ایسے حالات پیدا کر دیے کہ فیض کا دل اکھڑ گیا۔ حسب معمول انہوں نے نہ کسی کی شکایت کی نہ کسی قسم کی تلخی کا اظہار کیا۔ فقط وزیر اعظم بھٹو سے مل کر یہ کہا میری دونوں بچیاں  چوں کہ لاہور میں ہیں اور اس عمر میں میری خواہش ہے کہ میں ان کے پاس رہوں چناں چہ انہوں نے اپنے پرانے دوست اور موسیقی کے ماہر خورشید انور کی مدد سے آہنگ خسروی اور کرانہ گھرانے کی موسیقی کی تدوین کے لیے ایک علیحدہ مرکز کی بنا ڈالی اور اس کے سربراہ بن کر لاہور چلے گئے۔

    جولائی ١٩٧٧ء میں جب جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تو فیض لاہور میں تھے ۔ دو تین دن کے بعد وہ پنڈی آئے۔ ایک شام جب ہمارے ہاں فیض اور کچھ دیگر احباب جمع  تھے مارشل لاء کے نفاذ کے ضمن میں جنرل ضیاء الحق کے نوے دنوں میں الیکشن کرانے کا ذکر آیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ فیض نے مسکراتے ہوئے کہا یہ تو خلافِ وضع فطرت فعل ہوگا ۔ اس وقت تو اس پر کسی نے یقین کیا کسی نے نہیں کیا مگر بعد میں فیض کی یہ بات واقعی سیاسی پیش گوئی ثابت ہوئی ۔

    کچھ دنوں کے بعد حکومت کی مختلف خفیہ ایجنسیوں نے پھر ان پر عرصۂ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا۔ کچھ مشکوک قسم کے لوگ لاہور میں ان کے گھر کے آس پاس گھومنے لگے۔ وہ باہر نکلتے تو ایک جیپ ان کے پیچھے لگی رہتی۔ فیض اب عمر کی اس منزل میں تھے کہ ان سے اس قسم کی ناروا کارروائی برداشت نہیں ہوتی تھی۔ انہیں اس سے سخت کوفت ہونے لگی ۔ چناں چہ انہوں نے افرو ایشین رائٹرز کے رسالے ’’ لوٹس‘‘ کی ایڈیٹری قبول کر کے ملک سے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ فروری ۷۸ ء کے شروع میں وہ ایک دن ایلس کے ساتھ پنڈی میں ہمارے ہارلے سٹریٹ والے گھر آئے۔ چند منٹ سے زیادہ نہیں بیٹھے کہنے لگے ہم شام کی فلائٹ سے کراچی جا رہے ہیں اور وہاں سے رات کو لندن۔ بس تمہیں خدا حافظ کہنے آئے ہیں۔ اب دیکھو کب ملاقات ہوتی ہے ۔ پھر شمیمہ اور ہماری دونوں بچیوں کو اور مجھے پیار کیا اور رخصت ہو گئے ۔ اس دن واقعی فیض بہت گرفتہ دل اور اُداس نظر آرہے تھے !

    اگلے  تین سال میں ان کا مستقل قیام تو بیروت میں رہا مگروہ وہاں سے لندن اور ماسکو اور دنیا کے دوسرے بڑے بڑے شہروں کے چکر لگاتے رہے اور ادیبوں کی کانفرنسوں میں شریک ہوتے رہے۔ کبھی کبھی کسی ملنے والے سے ان کی ملاقات ہو جاتی تھی تو ان کی خیریت کی خبر آجاتی تھی۔ اسی عالم میں جنوری ۱۹۸۱ ء میں مجھے بکارِ سرکار واشنگٹن جانے کا موقع مل گیا۔ راستے میں ایک رات میں لندن میں رکا اور دوسرے دن اپنے ہوٹل کے کمرے سے فیض بھائی کے بارے میں معلوم کرنے کی غرض سے ماجد علی صاحب کے ہاں فون کیا کہ لندن میں اب وہ انہیں کے ہاں قیام کرتے تھے ۔ جواب میں خود فیض ہی کی آواز آئی ۔ میرے تو گویا خوشی سے خاتھ پاؤں پھول گئے ۔ کہنے لگے بس ابھی آجاؤ۔ میں نے کہا مگر فیض بھائی میں تو واشنگٹن کی فلائٹ پکڑنے جار ہا ہوں ۔ میں تو محض ماجد یاز ہرا اسے آپ کی خیریت پوچھنا چاہتا تھا ۔ معلوم ہوا کہ فیض دوتین دن  کے بعد ماسکو جانے والے تھے۔ مجھے کوئی تین ہفتے کے بعد واپس لندن پہنچتا تھا لہٰذا طے یہ پایا کہ وہ ٧فروری تک ماسکو سے واپس لندن آجائیں گے ۔

    میں نے واشنگٹن سے لندن پہنچنے کے بعد فون کیا تو گھر کی ملازمہ نے بتایا کہ ماجد اور زہرا تو دوبئی گئے ہوئے ہیں ۔ فیض ابھی نہیں آئے اور نہ ان کے متعلق کوئی اطلاع ہے۔میں نے ضیاء محی الدین کو برمنگھم فون کیا کہ ممکن ہے اسے کچھ معلوم ہو ۔ ضیاء نے میرا مذاق اُڑانا شروع کر دیا کہ تم فیض کے وعدوں پہ جاتے ہو۔ وہ بھول بھی چکے ہوں گے اور ماسکو ہی میں بیٹھے ہوں گے۔ یا کہیں اور چلے گئے ہوں گے بس تم آخر ہفتہ کے لیے یہاں آ جاؤ ۔ ضیاء نے ایسا مجبور کیا کہ میں دوپہر کی گاڑی سے ضیاء کے پاس برمنگھم پہنچ گیا ۔ ہفتے کی شام ضیاء نے اور میں نے برمنگھم میں فیض کے ایک دلدادہ بدر صاحب کے ہاں گزاری ان کو بھی فیض کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی ۔ اتوار کو ضیاء اور میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی لندن سے فیض بھائی بول رہے تھے معلوم ہوا کہ ان کا جہاز لیٹ ہو گیا اور ہفتے کی رات وہ ائیر پورٹ کے ایک ہوٹل ہی میں ٹھہر گئے ۔ ماجد علی کے ہاں اتوار کی صبح   پہنچے تو ان کو میرا پیغام ملا۔ کہنے لگے کہ میں اب تم فوراً آجاؤ ۔ ضیاء نے شام کو محفل کا اہتمام کر رکھا تھا ۔میں نے اس سے معذرت کی اور دوپہر کی گاڑی سے لندن روانہ ہو گیا۔ نائٹس برج سے ٹیوب اسٹیشن سے باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے فیض بھائی چلے آرہے ہیں۔ انہوں نے ٹرین اور ٹیوب میں صرف ہونے والے وقت کا صحیح اندازہ کر لیا تھا۔ کیوں کہ وہ لندن اور برمنگھم کے در میان  اکثر سفر کیا کرتے تھے ۔ ہم دونوں سڑک کنارے اس طرح گلے ملے کہ آس پاس گز رنے والے لوگ بھی ٹھٹک کر دیکھنے لگے۔ پھر ہم ماجد علی کے فلیٹ پر آگئے جو ہیرڈز کے بغلی گلی میں واقع تھا۔ گھر میں کام کرنے والی لڑکی نے ہمیں چائے بنا کر دی اور ہم باتیں کرنے لگے ۔ فیض بھائی مجھ سے پاکستان اور دوست احباب کا حال احوال پوچھنے لگے اور آخر میں بڑے قطعی انداز میں مجھ سے کہا کہ بھئی اب کافی ہو چکی ۔ میں اگلے سال کے شروع میں پاکستان آ جاؤں گا۔ پھر دیکھا جائے گا کہ کیا ہوتا ہے ۔مارشل لاء کا اصل مقصد تو بھٹو کو ختم کرنا تھا وہ تو ہو چکا۔

    دوران گفتگو جب میں نے انہیں بتایا کہ جنرل ضیاء الحق نے پہلی اہل قلم کانفرنس کے   موقع پر جو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے ہفتہ بھر بعد ا١  اپریل ۱۹۷۹ ء کو منعقد ہوئی تھی اپنی صدارتی تقریر میں فیض کا نام لیے بغیر ’’اپنے ہم وطنوں سے کنارہ کشی‘‘ کرنے والے اد یبوں پر پاکستان کی سرزمین کا رزق، اس کا پانی ، اس کی چھاؤں، اس کی چاندنی حرام ہونے کی بشارت دی تھی تو فیض کھلکھلا کرہنس  پڑے ۔ انہیں اس کی اطلاع اس سے قبل بھی مل چکی تھی۔ پھرانہوں نے مجھے یہ دلچسپ واقعہ سنایا کہ پچھلے یا اس سے پچھلے موسم گرما کے ایک بڑے خوش گوار دن وہ اور ایلس اور ان کی ترجمان خاتون ماسکو کے کسی ریستوران میں بیٹھے کافی پی رہے تھے ۔ ریستوران پورا بھرا ہوا تھا صرف ان کی میز پر ایک جگہ خالی تھی ۔ اتنے میں ایک فرنگی نژاد شخص آیا اور اس نے ان کی میز پر بیٹھنے کی اجازت چاہی۔ فیض نے اجازت دی تو اس نے اخلاقاً اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ آسٹریلیا کی کسی یونیورسٹی میں فزکس کا پروفیسر ہے۔ فیض نے اپنا تعارف کرایا کہ میں پاکستان سے تعلق رکھتا ہوں اور شاعر ہوں ۔ جب اس نے یہ سنا تو اس نے بڑی گرم جوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں حال ہی میں آپ کے ایک ہم وطن نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبد السلام سے ملا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک عظیم پاکستانی شاعر فیض احمد فیض کو لینن پیس پرائز ملا ہے۔ حسن اتفاق دیکھیے کہ یہاں آج آپ سے ملاقات ہوگئی۔ دورانِ گفتگو جب پروفیسر موصوف کو یہ معلوم ہوا کہ فیض بھی ان دنوں وطن سے باہر رہتے ہیں تو اس نے معصومیت سے پوچھا کہ ڈاکٹر عبد السّلام کے بارے میں تو مجھے معلوم ہے کہ وہ پاکستان سے اس لیے باہر رہتے ہیں کہ وہ مذہب میں ایک ایسے مسلک کے پابند ہیں جسے وہاں غلط سمجھا جاتا ہے۔ مگر مسٹر فیض آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ فیض نے بے ساختہ کہا کہ میں غلط شاعری کرتا ہوں!

     اس دوران میں کسی صاحب کا فون آیا تو فیض بھائی کو میں نے یہ کہتے سنا کہ پاکستان سے ہمارے ایک دوست آئے ہوئے ہیں۔ اس لیے آج آپ سے ملاقات نہیں ہو سکے گی ۔ مجھے یہ سن کر کسی قدر حیرت ہوئی کیوں کہ وہ عموماً اس طرح کسی سے چھٹکارا نہیں پایا کرتے تھے ۔ پھر ایک دوسرا فون آیا۔ فیض بھائی نے فون پر ہاتھ رکھ کر مجھ سے پوچھا کہ افتخار عارف ہے، آنا چاہتا ہے ، بلالوں ؟ اس کے شعرسن لینا۔ تم تک شاید نہ پہنچے ہوں ۔ ہماری باتیں تو اب ختم ہو چکی ہیں۔ میں نے کہا ضرور بلا لیجیے ۔ چناں چہ کوئی دس پندرہ منٹ کے بعد افتخار عارف آگئے ۔ کچھ اِدھر   اُدھر کی بات ہوئی اور پھر انہوں نے فیض اور میری فرمائش پر اپنے شعر سنائے جو میرے لیے بالکل نئے تھے۔ میں نے اس شام پہلی دفعہ افتخار عارف کو ایک نوجوان اور ہونہار شاعر کی حیثیت سے دریافت کیا۔

    افتخار عارف چلے گئے تو فیض بھائی نے کہا کہ کھانا تو گھر پر بھی ہو سکتا ہے مگر چلو آج ذرا عیاشی کرتے ہیں۔ یہاں قریب ہی ایک جرمن ریستوران ہے جہاں وینر شنٹزل بہت اچھا ملتا ہے چناں چہ ہم وہاں چلے گئے اور فیض بھائی نے جملہ لوازمات کے ساتھ کھانا آرڈر کیا۔ آج وہ واقعی موڈ میں تھے ۔ اگلے روز سے میرا دن تو سفارت خانے میں سرکاری کاموں میں گزرتا تھا اور شامیں فیض بھائی کے ساتھ ۔ ۱۳ فروری کو فیض بھائی کی سترھویں سالگرہ کے موقع پر بدر صاحب نے برمنگھم میں بڑا اہتمام کر رکھا تھا۔ انہوں نے مجھے بھی دعوت دی مگر مجھے چوں کہ پیرس   جانا تھا اس لیے میں نے ان سے معذرت کرلی ۔ البتہ اس سے پہلے فیض بھائی کی سالگرہ کے سلسلے میں الطاف گوہر کے ہاں جو خود تو نیو یارک گئے ہوئے تھے ان کے بیٹے ہمایوں گوہر کی طرف سے ایک دعوت ہوئی۔ میں اس میں شریک تھا۔ یہیں میں پہلی دفعہ مشتاق یوسفی سے ملا۔ افتخار عارف بھی تھے ۔ وہاں پھر ان سے شعر سنانے کی فرمائش ہوئی ۔ مجھے یاد ہے کہ نظم سناتے ہوئے جب عارف درمیان میں دو ایک مصرعے بھول گئے تو فیض نے خود ان کو وہ مصرعے یاد دلائے۔ اس سے افتخار عارف کی شاعری سے فیض کی گہری دل چسپی کا اظہار ہوتا ہے۔ پانچ دن فیض بھائی کے ساتھ لندن میں گزارنے کے بعد میں پیرس چلا گیا اور وہاں سے واپس اسلام آباد آگیا۔ فیض برمنگھم  میں اپنی سالگرہ منانے کے بعد بیروت چلے گئے۔

    ایک سال بعد یعنی جنوری ۱۹۸۲ ء میں فیض پاکستان واپس آگئے ۔ کراچی اور لاہور میں کچھ دن  گزارنے کے بعد جب وہ اسلام آباد وارد ہوئے تو میں ان سے ان کی قیام گاہ پر ملنے گیا اور ملتے ہی میں نے یہ شعر پڑھا :

    پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھا

    وہ کوچہ روکشِ جنت سو گھر ہے گھر پھر بھی

    جواب میں اپنے مخصوص انداز میں ہونھ کہا اور پھر پوچھا کس کا شعر ہے ۔ میں نے کہا فراق کا۔ کہنے لگے گو یا تمہارا مراق جاری ہے ۔ یہ اشارہ تھا اس فقرے کی طرف جو تاثیر صاحب نے مجھ پہ چست کیا تھا کہ اسے تو فراق کا مراق ہے۔ فیض کے اسلام آباد پہنچنے کے دو تین دن بعد ہی جوش صاحب کا انتقال ہو گیا۔ مجھے دفتر میں جب یہ اطلاع ملی تو میں نے فوراً فیض کو فون کیا اور پھر ان کے پاس چلا گیا ۔ اسی دن انہیں شام کے کھانے پر ہمارے ہاں آنا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اس سے پہلے انہیں چائے پر جنرل ضیاء الحق سے ملنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا۔ تو کہنے لگے کہ ارباب نیاز نے ملاقات کا وقت طے کرانے کے بعد مجھے اطلاع دی ہے ۔ کرنل ارباب نیاز فیض کے ’’پنڈی سازش کیس کے سزا یافتہ‘‘ ساتھی اور اس زمانے میں جنرل ضیاء الحق کی کابینہ کے ایک وزیر تھے ۔ میں نے جب یہ سنا تو میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ فیض بھائی آپ کے ہم صفیروں کو اس پر اعتراض ہو گا اور وہ اس سلسلے میں باتیں بنائیں گے ۔ کہنے لگے کہ بھئی اب ہم کیا کریں ۔ ارباب نیاز ہمارے دوست ہیں ان کا اصرار ہے۔ میں ان کے اس جواب پر خاموش ہو گیا۔

    جوش صاحب کی تدفین کے وقت ہم دونوں اسلام آباد کے قبرستان میں موجود تھے مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ زیادہ سے زیادہ ۵۰ ، ۶۰ آدمی ہوں گے ۔ سرکاری افسروں میں تو میرے سوا دو تین ہی اور تھے ۔ مجھے خیال آیا کہ اگر جوش کی تدفین کراچی میں ہوتی تو ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے ۔ بہر حال میں تو وہاں سے فارغ ہو کر پنڈی میں اپنے گھر کے لیے روانہ ہوا اور فیض اپنے ایک عزیز اظفر شفقت کے ساتھ اس کی کار میں جنرل ضیاء  الحق سے ملنے چلے گئے ۔ کھانے کے وقت سے بہت پہلے ہی فیض ہمارے گھر پہنچ گئے ۔ میں نے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بس آدھ گھنٹہ کی ملاقات رہی۔ ہم نے چائے پی اور اجازت چاہی۔ بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے شروع میں تو یہ کہا کہ آپ اُردو کے بڑے حامی ہیں اور اس کا بہت چرچا کرتے ہیں ۔ آج اُردو کا ایک بڑا شاعر فوت ہوا مگر اس کے جنازے پر آپ کا کوئی نمائندہ ، آپ کے ذاتی اسٹاف کا کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔ جنرل ضیاء الحق نے جواب دیا کہ ہاں یہ کوتا ہی ہو گئی ۔ میں نے پیغام تو دے دیا ہے مگر آپ ٹھیک کہتے ہیں کسی کو جانا چاہیے تھا اس کے بعد انہوں نے یہ بات چھیڑ دی کہ آپ باہر کیوں رہتے ہیں وطن واپس آجائیے اور یہاں رہیے ۔ میں نے کہا میں  تو وطن ہی میں رہنا چاہتا ہوں مگر پچھلے دنوں میں لندن سے ٹوکیو جاتے ہوئے کراچی سے گزر رہا تھا کہ مجھے ائیر پورٹ پر روک لیا گیا ۔ بڑی تگ و دو کے بعد اور وزیر داخلہ کی مداخلت پر سفر جاری رکھنے کی اجازت ملی۔ جنرل ضیاء الحق نے کہا مجھے تو اس کا قطعاً علم نہیں ۔ یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ اس پر فیض نے انہیں بتایا کہ مجھے مختلف ملکوں سے دعوت نامے آتے رہتے ہیں۔ میں اپنے وطن میں رہنا چاہوں گا مگر میرے سفر پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے ۔ جنرل ضیاء الحق نے اس ضمن میں بھی یقین دہانی کرادی ۔ فیض نے کہا اس کے بعد نہ میرے پاس کچھ کہنے کو باقی تھا اور نہ ان کے پاس۔ اتنے میں چائے کی پیالی بھی ختم ہو گئی تھی۔ لہٰذا میں نے اجازت چاہی  ۔

    یہ ہے فیض کی جنرل ضیاء الحق سے اس ملاقات کی روداد جس پر فیض کے بعض ہم صفیروں نے جیسا کہ میں نے ان سے کہا تھا ، بہت لے دے کی اور طرح طرح کی باتیں بنائیں۔ میں نے سُنا ہے کہ ایک محفل میں جب ان میں سے ایک حضرت حد سے زیادہ بڑھنے لگے اور بحث و تکرار پر اُتر آئے تو فیض خلاف عادت واقعی چڑ گئے اور انہوں نے ان کو ہلکی سی ڈانٹ پلادی۔

    دو سال کے بعد کا ایک واقعہ بھی اس ضمن میں دل چسپی کا موجب ہوگا اسلام آباد میں ’’ دائرہ‘‘ کے نام سے ایک تنظیم ہے جسے جنرل ضیاء الحق کے دور میں میرے ایک دوست علی نواز گردیزی نے قائم کیا تھا جو اس وقت سی ڈی اے کے چیئر مین تھے ۔ یہ نیم سر کاری تنظیم تھی اور اس کے زیر اہتمام گنے چنے سرکار دربار میں باریاب ادیبوں اور دانشوروں کی تقاریر ہوتی تھیں یا ان کی کتابوں کی رونمائی کی تقریبات، منائی جاتی تھیں۔ گردیزی سے دوستی کے باوجود اس تنظیم کی نیم سرکاری نوعیت کی وجہ سے میں اس سے ہمیشہ کنارہ کش رہا۔ مارچ ۱۹۸۴ ء میں دائرہ کی طرف سے فیض کے ساتھ شام منانے کی تقریب کا اہتمام ہوا اور مجھے دعوت دی گئی کہ میں اس میں فیض پر ایک مضمون پڑھوں ۔ میں نے حسب معمول عذر کر دیا۔ دو تین دن کے بعد مجھے فیض کا لاہور سے پیغام ملا کہ وہ اس تقریب کے لیے اسلام آباد آرہے ہیں اور یہ خواہش ان کی ہے کہ میں اس میں ان پر مضمون پڑھوں۔ اب میرے لیے کسی راہِ فرار کی گنجائش باقی نہیں تھی۔ چناں چہ تقریب ہوئی۔ فیض آئے اور میں نے مضمون پڑھا جو اُن کو پسندبھی آیا ۔ فیض پر میرا یہی ایسا مضمون ہے جو میں نے کسی مجلس میں فیض کی موجودگی میں پیش کیا۔ تقریب ہولی ڈے ان ( اب میریٹ ہوٹل)  میں ہوئی ۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ کسی بہت بڑی شادی کا سماں تھا۔ سرکاری افسروں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ صدارت تو حسب معمول گردیزی خود کر رہے تھے مگرسٹیج پر  ڈاکٹر محبوب الحق بھی تشریف فرما تھے جو اس زمانے میں ضیاء الحق کی کابینہ میں وزیر خزانہ تھے ۔ ان کے بارے میں یہ بتاتا چلوں کہ انہوں نے فیض کی نظموں کا انگریزی ترجمہ کیا تھا اور اس کا مسودہ فیض کو بھی ایک نظر دیکھنے کے لیے بھیجا تھا۔ میں جب فیض سے نومبر ۱۹۸۳ ء میں لاہور میں ملا تو انہوں نے مجھے ترجمے کا مسودہ دکھایا۔ بلکہ میرے ہاتھ میں تھما دیا کہ میں اسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے جاؤں اور ڈاکٹر محبوب الحق کو واپس کردوں۔ میں نے فیض سے پوچھا کہ محبوب الحق کو آپ کی شاعری سے کیا واسطہ ہے اور آپ نے اگر مسوده دیکھا ہے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کہنے لگے کہ بھئی انہوں نے اپنے شوق سے ترجمہ کیا ہے اسے چھپوانا چاہتے ہیں تو ضرور چھپوائیں مجھے کیا اعتراض ہے اور ترجمے کے بارے میں صرف مسکرا دیے اور کہا تو صرف یہ کہا کہ بس ایسا ہی ہے ۔ ہاں تو فیض کی جس تقریب کا ذکر ہو رہا تھا اس میں ڈاکٹر محبوب الحق نے انگریزی میں تقریر کی، لوگوں نے اُردو اُردو کا شور مچایا تو فیض نے خود اٹھ کر ان کو خاموش کرا دیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ واحد موقعہ تھا کہ فیض پاکستان میں کسی پبلک پلیٹ فارم پر آئے تھے ۔ اتفاق دیکھیے کہ یہ تقریب ٩/  مارچ ۱۹۸۴ ء کو منعقد ہوئی۔ ٹھیک ۳۳ برس پہلے اسی تاریخ کو فیض’’ پنڈی سازش کیس‘‘ میں گرفتار کیے

    گئے تھے۔

    کوئی آٹھ مہینے کے بعد فیض پھر اسلام آباد آئے اور ہفتہ بھر سے زیادہ یہاں ٹھہرے۔ کسے معلوم تھا کہ اسلام آباد میں یہ ان کا آخری قیام ثابت ہو گا ۔ واپسی سے دو دن پہلے ارباب نیاز سے ان کا پروگرام طے تھا۔ مگر شام سے پہلے ہی مجھے ان کا فون آیا کہ ارباب نیاز کو تو کسی سرکاری کام سے پشاور جانا پڑ گیا ہے لہٰذا میں فارغ ہوں تم آجاؤ۔ میں ان کے قیام گاہ پر پہنچا تو تھوڑی دیر بعد کہنے لگے کہ منظر تبدیل ہونا چاہیے۔ چلو ذرا ڈرائیو پر چلیں ۔ میں انہیں مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن والی سڑک پر لے آیا اور ہم نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کئی چکر کاٹے۔ نومبر کا مہینہ تھا۔ ہو امیں نہایت خوش گوار خنکی  تھی اور شام غیر معمولی طور پرحسین، شفق بھی ایسی پھولی تھی کہ باید و شاید پھر جب !

    شفق کی راکھ میں جل سمجھ گیا ستارہ ٔشام

    شب ِسیاہ کے گیسو ہوا میں لہرائے

    تو فیض کہنے لگے چلو اب اپنے گھر چلو۔ شمیمہ سے ملیں گے ۔ گھر پہنچتے ہی انہوں نے کافی کی فرمائش کی ۔ اس زمانے میں اور سب کچھ تو چھوٹ چکا تھا حتیٰ کہ سگریٹ بھی ۔ بس بیٹھے  باتیں کرتے رہے ۔ اتنے میں شمیمہ نے کہا کہ فیض بھائی کھانا یہیں کھا لیجیے ۔ اتفاق سے آپ کی پسند کا ہے۔ کہنے لگے ٹھیک ہے۔ میں نے کہا سر فراز   (ان کی میزبان) کو بھی بلا لیتے ہیں کہنے لگے نہیں۔ بس اسے اطلاع کر دو۔ شمیمہ نے اپنی بہن اور بہنوئی رابعہ اور رافع الزماں کہ جنہیں وہ جانتے تھے بلانے کو کہا تو اس پر بھی ہامی نہیں بھری ۔ کھانے کی میز پر ہم تینوں دیر تک بیٹھے رہے۔ شمیمہ نے اس زمانے میں یعنی میری ریٹائرمنٹ کے بعد برٹش کونسل میں ایجوکیشن آفیسر کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا ذکر آیا تو فیض بھائی نے پہلے تو اسے چھیڑنے کو یہ کہا کہ تم تو ہم سے بھی انگر یزی میں بات کرتی ہو۔ اب وہاں انگریزوں سے انگریزی بولنا۔ پھر سنجیدہ ہو کر کہا کہ انگریز مہذب لوگ ہوتے ہیں تم ان کے ساتھ کام کرنے میں خوش رہوگی ۔

    زیادہ تر فیض اپنے خاندان کی خصوصاً اپنے والد اور ان کے قیام انگلستان اور افغانستان کے فرمانرواؤں سے ان کے تعلقات کی باتیں کرتے رہے ۔ پھر اپنی زمینوں کا ذکر کیا جن کو انہوں نے اپنے غریب رشتہ داروں میں بانٹ دیا تھا۔ وہ بولتے رہے اور ہم سنتے رہے ۔ ایک موقع پر شمیمہ نے ذرا شوخی سے کہا کہ فیض بھائی ویسے تو آپ elitism کے بہت خلاف ہیں مگر آپ تو خود elite ہیں۔ کہنے لگے وہ تو ہم ہیں!

     اگلی شام ان کی میزبان کے ہاں ایک بڑی دعوت کا اہتمام تھا ۔ فیض کے تقریباً سبھی دوست احباب جمع تھے۔ وہاں پھر ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے فرمائش پر شعر بھی سنائے اور دیر تک سناتے ر ہے۔ اس سے اگلے دن وہ لاہور چلے گئے اور ہفتے بھربعد کہ جن کے دوران وہ سیالکوٹ اور اس کے قریب اپنے گاؤں کالا قادر کا چکر بھی کاٹ آئے تھے ۔١٩/ نومبر ۱۹۸۴ ء کو منگل کے دن لاہور میں ان کا انتقال کیا۔میں دوسرے دن لاہور پہنچا۔ اور اسی صبح یعنی بدھ وار ۲٠ /نومبر ۱۹۸٤ ء کو ان کی تدفین ہوئی ۔ ہزاروں لوگ جمع تھے۔ صرف ان کے چاہنے والے ہی نہیں بلکہ وہ بھی جنہوں نے عمر بھر ان کی مخالفت کی تھی ۔ سوئم کے دن کہ جمعہ تھا شام کو حلقہ اربابِ ذوق کا تعزیتی جلسہ پاک ٹی ہاؤس میں ہوا اس کی صدارت کے لیے مجھے مدعو کیا گیا وہاں بھی ادب و صحافت اور سیاست کے ہر مکتبۂ خیال کا نمائندہ موجود تھا اور ان میں سے ہر ایک نے فیض کو بطور شاعر ہی نہیں بطور انسان بھی اپنے اپنے رنگ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں بڑی درد مندی سے یاد کیا۔

     بات یہ ہے کہ فیض شاعر تھے اور اس دور کے بڑے شاعر تھے مگر وہ حقیقی معنوں میں بڑے انسان بھی تھے ۔ ان کی ذاتی شرافت کے ان کے مخالفین بھی قائل تھے۔ میں نے کچھ ایسے لوگوں کو جو بوجوہ ان کی شاعری کے معترف نہیں، یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ فیض شاعر سے زیادہ بڑے انسان تھے ۔ در اصل فیض کی شخصیت میں کوئی ایسے کونے کھدرے یا ایچ پیچ نہیں تھے کہ جن سے لوگ بدک   جائیں، ان میں نہ تو ہمارے بعض دوسرے شاعروں کی سی ادائیں تھیں اور نہ کسی قسم کے انداز ۔ وہ کبھی کسی ایسی حرکت کے مرتکب نہیں ہوتے تھے کہ جو کسی کو ناگوار گزرے۔ وہ صحیح معنوں میں نہایت مہذب اور شائستہ آدمی تھے۔ ان کا سہج سبھاؤ ان کے عام ملنے والوں کے دل ہی موہ لیتا تھا ۔ یوں تو وہ حافظ کے الفاظ میں :

    فلک را سقف بشگافیم و طرح نور دراندازیم

    کے قائل اور مرید تھے اور انقلاب کی راہ کے مجاہد بھی مگر ان کی شخصیت میں ایک ایسار چاؤ تھا کہ ان کی انقلاب پسندی بھی گویا سانچے میں ڈھل گئی تھی ۔ اس کی ایک وجہ شاید وہ دینی ماحول بھی ہو جس میں ان کی ابتدائی تربیت ہوئی تھی اور جس کا انہوں نے اپنی بعض تحریروں میں ذکر بھی کیا ہے ۔ ایک انٹرویو میں تو انہوں نے صراحتاً کہا کہ وہ اپنے آپ کو ادنیٰ طریقے سے تصوف کا پیر د سمجھتے ہیں اور جیل سے ایلس کے نام ایک خط میں بھی اپنے آپ کو کچھ inhibited صوفی قسم کی چیز کا نام دیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک قابلِ ذکر واقعہ مجھے کرنل ضیاء الدین نے سنایا جو فیض کے جیل کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ہم لوگ جب پنڈی میں ہارلے سٹریٹ پر رہتے تھے تو کرنل صاحب ہمارے ہمسائے تھے۔ ان کی شامیں راولپنڈی کلب میں گزرتی تھیں جہاں سے وہ عالم سر خوشی میں جب گھر واپس پہنچتے تو پہلے عشاء کی نماز ادا کرتے اور پھر کھانا کھاتے۔ میری ان کی ملاقات اکثر صبح سویرے ہوتی ۔ میں سیر کو نکلتا تو وہ اپنے گھر کے باغ کی منڈیر پر صبح کے پرندوں کے لیے باسی روٹی کے ریزے بکھیر رہے ہوتے ۔ ایک دن علیک سلیک کے بعد انہوں نے مجھے روک لیا۔ کہنے لگے کہ کل رات فیض صاحب آئے تھے ۔ آپ تو گھر پر نہیں تھے مگر میں گھر پر تھا۔ چناں چہ وہ میرے پاس آگئے۔ اتفاق سے میرے پاس شام کا سامان بھی موجود تھا لہٰذا ہم یہیں بیٹھے رہے ۔ کرنل صاحب فیض کو بہت چاہتے تھے اور ان سے بہت بے تکلف بھی تھے ۔ کہنے لگے کہ میں نے باتوں باتوں میں کہیں ان  سے یہ کہہ دیا کہ آپ تو دہر یہ ہیں انہوں نے اس پر احتجاج کیا اور کہا کہ میں دہر یہ ہرگز نہیں ہوں ۔ میں نے پوچھا کہ پھر آپ کا مذہب کیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا میرا مذہب وہی ہے جو مولانا روم کا تھا۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد کرنل صاحب نے بہت خوشی سے کہا کہ دیکھو فیض صاحب کیا بات کہہ گئے ہمیں کرنل صاحب کو یہ بات اس لیے بہت پسند آئی کہ وہ صوفیوں کے ماننے والے ہیں اور مولویوں کے مخالف ۔ کرنل ضیاء الدین حیات ہیں اب اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ ان کو فیض کی شاعری اور سیاسی عقیدے سے کوئی واسطہ نہیں مگروہ فیض کے عاشق ہیں اور جب کبھی ان کی انسانی صفات کو یاد کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

    شاید یہ بھی دینی ماحول میں تربیت ہی کا اثر تھا کہ فیض کی شاعری کی طرح ان کی شخصیت میں بھی روایت اور جدیدیت کا ایک نہایت خوشگوار امتزاج پایا جاتا تھا۔ بچپن اور لڑکپن میں وہ مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی اور سید میر حسن صاحب جیسے علماء کے ،اور نیٹل کالج میں ایم اے عربی کے زمانے میں پرنسپل مولوی محمد شفیع صاحب کے شاگرد رہے تھے۔ ان بزرگوں کا ذکر وہ ہمیشہ بڑی عقیدت اور احترام سے کرتے تھے۔ بخاری صاحب گورنمنٹ کالج میں ان کے انگریزی کے استاد تھے ۔ نیاز مندانِ لاہور کے دوسرے احباب عبدالمجید سالک، تاثیر صاحب، مجید ملک صاحب، عبدالرحمٰن چغتائی صاحب ، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب اور امتیاز علی تاج صاحب کو بھی وہ اپنا بزرگ سمجھتے تھے ان کا بڑا ادب کرتے تھے اور ان سے بات چیت میں بھی رکھ رکھاؤ ملحوظ رکھتے تھے ۔ ان کا یہ انداز دیکھ کر میں نے ایک دفعہ ان سے کہا کہ فیض بھائی ہم بھی آپ کو اپنا بزرگ سمجھتے ہیں۔ ادب و احترام میں تو نہیں مگر کچھ رکھ رکھاؤ میں کوتا ہی ہو جاتی ہے ۔ آپ سے کبھی کبھی اختلاف بھی کر لیتے ہیں اور بحث بھی۔ ہنس کے کہنے لگے ٹھیک ہے ہم اسے generation gap سمجھتے ہیں جو ہمیں قبول ہے ۔

    بزرگوں کے ادب آداب کے سلسلے میں مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ قید سے رہائی کے بعد جب پہلی چاند رات ہوئی تو میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا۔ کہنے لگے چلو کل شاہی مسجد میں عید کی نماز پڑھیں ۔ دیکھیں کہ اب رنگ محفل کیا ہے۔ چناں چہ میں انہیں اپنی کار میں شاہی مسجد لے گیا۔ نماز کے بعد ان کے بہت سے جاننے والے اور نہ جاننے والے بھی ان سے عید ملے ۔ ہم مسجد سے باہر نکل کر کار میں بیٹھے تو کہنے لگے کہ اب بارو د خانے میں میاں امیر الدین صاحب کے ہاں چلو۔ میاں امیر الدین کے خاندان میں تاثیر صاحب کی پرورش ہوئی تھی اور وہ لاہور میں اسلامیہ کالج کی لیکچراری کے زمانے میں اسی خاندان کی حویلی کے ایک حصے میں رہتے تھے اور بعد میں بھی امرتسر اور کشمیر سے آتے تھے تو بیوی بچوں سمیت یہیں ٹھہرا کرتے تھے۔ فیض اپنی طالب علمی کے زمانے میں یہاں تا ثیر صاحب کے پاس آیا کرتے تھے ان کو اس حویلی اور اس کے مکینوں سے ایک نسبت تھی لہٰذا ہم میاں صاحب کو عید کا سلام کرنے گئے۔ کچھ دیر وہاں بیٹھے اور پھر گھر لوٹے ۔

    ایک اور واقعہ بھی اس سلسلے میں قابل ذکر ہے جو فیض نے مجھے خود سنایا تھا، جب وہ اسلام آباد چھوڑ کر لاہور جانے والے تھے تو ایک دن صبح کے وقت فیلڈ مارشل ایوب خان کے گھر پہنچ گئے ۔ چوکیدار کو اپنا نام بتا یا کہ اندر جاکر اطلاع کر دو۔ تھوڑی دیر کے بعد ایوب خان صاحب کا سیکرٹری آیا اور اس نے ان کو لے جاکر برآمدے میں بٹھا دیا ۔ ایوب خاں صاحب ڈریسنگ گاؤن پہنے باہر نکلے اور ذرا حیرت سے پوچھا کہ آپ کیسے تشریف لائے۔ فیض نے بتایا کہ وہ اب لاہور منتقل ہو رہے ہیں محض خدا حافظ کہنے آئے ہیں ۔ ایوب خان صاحب نے حال احوال پوچھا کافی منگوائی پھر دونوں میں کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں اور فیض نے اجازت چاہی۔ جب فیض نے مجھ سے اس ملاقات کا ذکر کیا تو میں نے پوچھا کہ ان سے ملنے کا خیال آپ کو کیسے آیا۔ کہنے لگے میں اسلام آباد سے رخصت ہو رہا تھا سوچا کہ یہ شہر ان کا بسایا ہوا ہے چلو ان سے بھی رخصتی سلام کر لیں ۔ ان کی شاید یہی ایک یادگار باقی رہ جائے گی۔

    اگلے وقتوں کی یہ اور دوسری کئی ایسی اقدار جو فیض کی زندگی کے عام رویوں میں نظر آتی تھیں ان میں ایک دوستی بھی تھی اور اس میں یہ تخصیص نہیں تھی کہ دوست ہمیشہ ہم خیال اور ہم قبیلہ ہی ہو ۔ ان کے بزرگ دوستوں میں کہ جن کے درمیان ان کے روز و شب گزر تے تھے ماسوائے ایک زمانے کے تاثیر صاحب کے کوئی بھی ان کا ہم خیال نہیں تھا۔ بخاری صاحب تو بر ملا ترقی پسند ادب کا مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ حسرت صاحب نے ترقی ’’ پسندے ‘‘ کی پھبتی کہہ رکھی تھی۔ کالج کے دوستوں میں آغا عبد المجید، ن م راشد، رشید احمد وغیرہ بھی مختلف قسم کے لوگ تھے، مگر فیض سے ان کے تعلقات میں کبھی اس بنا پر خلل نہیں آیا۔ تاثیر صاحب سے جب وہ آزردہ ہوئے تو اس کی وجہ اور تھی جس کا ذکر میں کر چکا ہوں۔ ان کے علاوہ ان کے ملنے والوں میں نواب مشتاق احمد گورمانی اور نواب مظفر علی قزلباش جیسے جاگیر دار اور رؤسا بھی تھے۔ اس سلسلے میں ان کے بعض ہم صفیر ان پر اعتراض بھی کیا کرتے تھے مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حبیب جالب نے مجھ سے کسی قدر طنزیہ انداز میں کہا کہ فیض اسکاچ وہسکی  ہیں اور میں چڑی مارکہ ٹھرّا۔ میں نے فیض سے اس بات کا ذکر کیا تو کہنے لگے۔ کہتا تو ٹھیک ہے مگر ہم کیا کریں ہمارے وہ بھی دوست ہیں اور ہمیں جالب بھی عزیز ہے ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ دوستی کی بنا پر گورمانی صاحب نے فیض سے ری پبلیکن پارٹی کا مینو فیسٹو لکھوایا تھا اورایس ایم شریف صاحب نے کہ جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے زمانے میں وزارت تعلیم کے سیکرٹری تھے اپنی تعلیمی کمیشن کی رپورٹ پر ان سے نظر ثانی بھی کرائی تھی۔ مختصر یہ کہ فیض اپنے سیاسی عقائد کے باوجود دوسری طرف کے لوگوں سے نفور نہیں تھے بلکہ بعض اوقات تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ان سے دنیا وی روابط استوار رکھنا مفید اور ضروری سمجھتے ہیں ۔ نظری طور پر وہ طبقاتی کش مکش کے مارکسی نظریے کے قائل تھے مگر انہیں کسی طبقے کے افراد سے میل ملاقات میں کوئی عار نہیں تھی ۔

    فیض سے ان کے بعض احباب کو یہ شکایت بھی تھی کہ وہ ہر کہ ومہ کی دعوت قبول کر لیتے ہیں اور اس معاملے میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتے۔ اس سلسلے میں فیض کا جواب اکثر یہ ہوتا تھا کہ بھئی جو شخص ہمیں  محبت سے مدعو کرتا ہے ہم اس کی نیت پر کیوں شبہ کریں اور جہاں تک چھوٹی بڑی حیثیت کے لوگوں کی تفریق کا تعلق ہے تو وہ انہیں بہر حال گوارا نہیں تھی ۔ محض اس لیے نہیں کہ وہ شاعر تھے اور ہر محفل میں اپنے شعر سناتے تھے۔ یہ واقعہ ہے کہ وہ شعر صرف فرمائش پر سناتے تھے اور بوجھوں نہیں مارتے تھے اس لیے کہ وہ وہی کچھ سناتے تھے جو اُن کی یاد میں محفوظ تھا ۔ وہ گھر سے بیاض ساتھ لے کے نہیں نکلتے تھے ۔ مگر انہیں محفل کی جستجو ضرور رہتی تھی۔ مجھے اکثر یہ خیال ہوتا تھا کہ وہ تنہائی سے خوف کھاتے ہیں ممکن ہے یہ جیل کی زندگی کا اثر ہو۔ تنہائی سے وحشت ہی کے سبب انہوں نے جم کر تصنیف و تالیف کا کوئی کام نہیں کیا۔ وہ اپنے آپ کو اس قسم کے ڈسپلن کا پابند نہیں بنا سکتے تھے ۔ اگر چہ اپنے فرائض منصبی انہوں نے ہمیشہ بڑی ذمہ داری سے ادا کیے۔ ان کو کتابوں سے زیادہ انسانوں سے محبت تھی۔ میں نے انہیں کبھی کسی پر غصہ کرتے نہیں دیکھا۔ نفرت نام کی چیز سے وہ نا آشنا تھے ۔ ان کو لوگ اچھے لگتے تھے ہنستے کھیلتے لوگوں میں بیٹھ کر وہ واقعی بہت خوش رہتے تھے۔ وہ بہت کم افسردہ دل یا مغموم نظر آتے تھے ۔ اس معاملے میں بھی وہ بہت پرائیویٹ آدمی تھے ۔ ذاتی دکھ کو وہ خود ہی جھیلتے تھے ۔ برداشت اور صبر و سکون ان کی طبیعت کا خاصہ تھے۔ اپنی افسردہ دلی سے انجمن کو افسردہ نہیں کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ جب کراچی کے ایک دیرینہ اور قریبی دوست کی طرف سے انہیں ذاتی قسم کی تکلیف پہنچی تو میرے سوا کہ مجھے اس معاملے میں دونوں جانب سے اعتماد میں لیا گیا تھا انہوں نے کبھی کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا اور مجھ سے بھی محض دل ہلکا کرنے کے لیے برسبیلِ شکایت نہیں بلکہ برسبیلِ حکایت ۔

     میں نے عرض کیا تھا کہ فیض کی شاعری کی طرح ان کی شخصیت میں بھی روایت اور جدیدیت کا خوش گوار امتزاج تھا۔ یہی امتزاج ان کی طبیعت میں نرمی اور مضبوطی کا بھی تھا اور ان کے ’’اس عشق‘‘ اور’’ اُس عشق‘‘ میں بھی۔ وہ انیسِ  حلقۂ رِنداں بھی تھے اور رفیقِ اہل جنوں بھی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو انہوں نے بڑی رنگا رنگ اور بھر پور زندگی گزاری ہے ۔ ایک فرد کی حیثیت سے ان کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی رچی ہوئی اور مربوط شخصیت تھی جس نے گرم و سرد زمانہ کو بڑے سلیقے کے ساتھ اپنے اندر سمور کھا تھا۔ مجھے ان سے جو ربط و تعلق رہا ہے وہ ابتدا میں تو رسمی نوعیت ہی کا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ شفقت و محبت اور قرب و موانست کے ایک ایسے رشتے میں تبدیل ہو گیا تھا کہ جسے میں اپنی زندگی کی ایک متاع ِعزیزہ سمجھتا ہوں ۔

    ( ۱۹۹۵ء)