محمد حسن عسکری
محمد حسن عسکری
یہ مضمون راقم الحروف کی تالیف ’’ محمد حسن عسکرمی - ایک مطالعہ‘‘ میں بھی ’’محمد حسن عسکری شخص اور دوست ‘‘ کے عنوان سے شامل کیا جاچکا ہے ۔ اس میں جہاں کہیں پیش نظر خطوط کا حوالہ آیا ہے اس سے مراد عسکری کے وہ خطوط ہیں جو مذکورہ تالیف میں شائع کیے گئے ہیں ۔
عسکری کے متعلق اکثر کہی جانے والی یہ بات درست ہے کہ وہ طبعاً خاموش اور کم آمیز آدمی تھے اور اگر وہ کسی محفل میں موجود ہوں تو ضروری نہیں کہ وہ اس میں شریک بھی رہیں یہ بھی درست ہے کہ دم بھر کی صحبت ِنا جنس سے اُن کو وحشت ہونے لگتی تھی اور وہ فوراً بھاگ نکلتے تھے ۔ مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ اپنے خاص دوستوں کے حلقے میں پہروں بسر کر سکتے تھے ۔ ان خطوں میں جو آپ کے پیش نظر ہیں سات سات آٹھ آٹھ گھنٹوں کی طویل صحبتوں کا ذکر ہے ۔ ایسی صحبتوں میں وہ خوب باتیں کرتے تھے اور اگر انتظار حسین بھی موجود ہوں تو اُن سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتے تھے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ گفتگو کے میدان کے مرد نہیں تھے اور میرا خیال ہے کہ انہیں اس کا شدید احساس بھی تھا۔ اسی لیے اکثر محفلوں میں انہوں نے خاموشی کو اپنا وطیرہ بنالیا تھا۔ کلاس روم میں ان کا کیا انداز تھا اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہ سکتا مگر ظاہر ہے کہ وہ طالبِ علموں سے الگ سطح پر بات کرتے ہوں گےمجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ کراچی میں انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ آج کل وہ ٹی۔ ایس ایلیٹ پڑھا رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ مجھے ایلیٹ کو پڑھے اور ایلیٹ پر کچھ پڑھے ہوئے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا میں کل سے آپ کی کلاس میں آکر بیٹھ جایا کروں گا ۔ کچھ دماغ کا زنگ اُترے گا ۔ مگر عسکری نے مجھے صاف منع کر دیا ۔ میں نے چھیڑنے کے انداز میں اصرار کیا تو کہنے لگے کہ اگر آپ آئے تو میں کلاس چھوڑ دوں گا اور آپ کو چائے پلانے لے جاؤں گا۔
بعض اور باتوں میں بھی ان میں ایک قسم کی جھجک پائی جاتی تھی، مثلاً شعر پڑھنے میں، حالاں کہ شعر کے معاملے میں ان کی نظر تہ بہ تہ جاتی تھی جو مختلف شاعروں پر ان کے تنقیدی مضامین اور اس مجموعے کے بعض خطوں سے بھی ظاہر ہے، لیکن میں نے کبھی عسکری کو ذوق و شوق اور لہک سے شعر پڑھتے ہوئے نہیں سنا یعنی اس طرح کہ جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ اس شعر سے لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں۔ اکثر تو وہ پورا شعر پڑھتے ہی نہیں تھے۔ گفتگو کے دوران میں کبھی ضرورت پڑی تو ایک آدھ ٹکڑا اپنی زبان سے ادا کیا اور پھر یہ کہہ دیا کہ یار مجھے شعر یاد نہیں رہتے ، اس سلسلے میں فراق صاحب سے بھی ڈانٹ کھا چکا ہوں۔ اسی طرح وہ انگریزی کے استاد تھے اور انگریزی پڑھنے لکھنے میں اور انگریزی شعر و ادب کی تفہیم میں انہیں جو درک حاصل تھا وہ میں نے آکسفورڈ اور کیمبرج سے انگریزی میں سند یافتہ لوگوں میں بھی کم دیکھا ہے، کلاس روم میں تو شاید انگریزی بولتے ہوں گے مگر ویسے ان کو اس میں بڑا حجاب تھا۔ ہمارے ہاں کے اکثر انگریزی داں حضرات جن میں اردو کے بعض شاعر اور ادیب بھی شامل ہیں، عام بول چال میں انگریزی لفظ ہی نہیں بے اختیار اور پے در پے انگریزی کے جملے بول جاتے ہیں، مگر عسکری جملے تو کیا انگریزی لفظ بھی کم ہی استعمال کرتے تھے۔
فون پر بات کرنے میں بھی انہیں آلکس تھی کبھی کسی مجبوری کی وجہ سے بات کرتے بھی تو رسان سے نہیں۔ ریل کے ایر کنڈیشنڈ ڈبے میں سفر نہیں کرتے تھے ، کہتے تھے اس میں میرا دم گھٹتا ہے۔ ہوائی جہاز کا سفر تو انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں اور نہ شاید کرنا چاہتے تھے۔ لباس میں بھی اپنی پرانی وضع ہی قائم رکھی، وہی کرتا پاجامہ اور اچکن سوائے اس مختصر زمانے کے کہ جس میں وہ انگریزی طرز کے کپڑے پہننے لگے تھے مگر اس کی ایک خاص وجہ تھی جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔
خلاصہ یہ کہ عسکری اپنی عام زندگی میں بیسویں صدی کے آدمی نہیں تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے بیسویں صدی ہی نہیں سولہویں صدی کے بعد کے یورپ کے ادب و فکر کو اپنے ذہن میں جس طرح سمیٹا ہوا تھا اس دور کے اُردو ادیبوں اور نقادوں میں اس کی مثال کم ملتی ہے اور پھر جس طرح انہوں نے یورپ ہی کے چند مفکروں سے متاثر ہو کر یورپ کو رد کیا اس کا بھی جواب نہیں۔
مگر یورپ کو عسکری نے کتابوں اور تصویروں کی مددہی سے دیکھا تھا۔ ان خطوں میں ایک آدھ جگہ باہر جانے کے ارادے کا ذکر ہے اور واقعہ یہ ہے کہ وہ اگر چاہتے تو اس کے کئی مواقع پیدا ہو سکتے تھے ۔ مجھ سے مجید ملک صاحب نے کہ اس زمانے میں حکومتِ پاکستان کے پرنسل انفرمیشن آفیسر تھے کہا کہ بھئی تم اپنے دوست عسکری کو تیار کرو ہم انتظام کر دیں گے۔ میں نے عسکری سے ذکر کیا، پہلے تو تیار ہو گئے ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد خود ہی مجھ سے کہا یار آپ ملک صاحب کو منع کر دیجیے۔ میں جا نہیں سکوں گا اور اگر انہوں نے انتظام کر دیا تو پھر مجھے انکار کرنے میں خفت ہوگی ۔ میرا خیال ہے کہ عسکری کو سفر سے وحشت تھی اور وہ غیر ملک میں اکیلے رہنے سے بھی گھبراتے تھے ۔ چناں چہ وہ ملک سے باہر کبھی نہیں گئے، لیکن انگلستان اور فرانس کے بارے میں ان کی معلومات کا یہ حال تھا کہ انہیں وہاں کے چیدہ چیدہ مقامات ، گلیوں اور محلوں اور وہاں کے ادیبوں کے پسندیدہ ریستورانوں اور قہوہ خانوں کے نام تک یاد تھے۔ بات یہ ہے کہ وہ صرف ادب ہی نہیں پڑھتے تھے۔ عام قسم کے رسالوں ، خصوصیت سے رنگین رسالوں پر بھی ایک نظر ڈال لیا کرتے تھے ۔ پڑھنے کا انداز یہ تھا کہ کوئی کتاب یار سالہ ہر وقت ہاتھ میں لیے رہتے تھے ۔ بس کے انتظار میں بھی پڑھتے تھے اور سفر کے دوران بھی۔ قہوہ خانے میں یاکسی دوکان پر جہاں کسی سے ملنا طے ہو۔ ملنے والا اگر ذرادیر سے پہنچا تو اس نے عسکری کو پڑھنے میں مصروف پایا۔ ان کے دیر سے پہنچنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ میں نے ایسا وقت کا پابند آدمی دیکھا ہی نہیں۔ اگر پانچ بجے کا وعدہ ہے تو پانچ بجے ہی پہنچیں گے ۔ دوسروں سے بھی وہ یہ توقع رکھتے تھے مگر دیر سو یر ہو جانے پر خفا نہیں ہوتے تھے۔ کم سے کم میرا تجربہ یہی ہے ۔
لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں میرے ہاں عسکری سے ملاقات کے اوقات میں کوئی خاص پابندی نہیں تھی۔ صبح شام ، دوپہر، جب بھی طے پاتا ۔ ہم مل بیٹھتے ۔ اس معمول میں اس وقت بھی کوئی فرق نہیں آیا جب نماز میں باقاعدگی عسکری کے معمولات میں شامل ہوگئی انہوں نے بعض دوسرے پابندِ نماز لوگوں کی طرح مجھ سے کبھی یہ نہیں کہا کہ نماز سے پہلے آؤں گا یا نماز کے بعد ۔ میرے گھر میں بیٹھے بیٹھے جب بھی نماز کا وقت آیا۔ انہوں نے جاء نماز مانگی اور تھوڑی دیر کے لیے ایک دوسرے کمرے میں چلے گئے۔ مجھ سے انہوں نے کبھی کسی قریب کی مسجد کا راستہ نہیں پوچھا اور نہ یہ کہہ کرکبھی گھر واپس گئے کہ اب نماز کا وقت ہو رہا ہے ۔
میں نے البتہ اپنے طور پر یہ دستور بنا لیا تھا کہ کراچی میں ان کے کشمیر روڈ والے گھر میں عموماً ظہر کی نماز کے بعد جاتا تھا اور عصر کے وقت واپس چلا آتا تھا۔ کبھی کبھی دیر بھی ہو جاتی تھی مگر وہ کبھی مجھے اکیلا چھوڑ کے نماز ادا کرنے نہیں گئے۔ اپنے گھر میں وہ جس طرح مجھے خوش آمدید کہتے تھے وہ دوستی اور اخلاص کا ایسا نمونہ تھا جو مجھے ہمیشہ یا د رہے گا۔ میں عمو ماً وقت مقرر کیے بغیر جاتا تھا۔ میں نے گھنٹی بجائی یا دستک دی اور چند لمحوں میں عسکری نے کھٹ سے دروازہ کھولا اور چمکتی آنکھوں اور مسکراتے چہرے سے کہ جیسے میرے ہی انتظار میں بیٹھے ہوں، ہر ہر لفظ کی آواز کو ذرا کھینچتے ہوئے کہا ’’ آئیے آفتاب صاحب۔ تو آپ آگئے۔‘‘ مجھے اپنی بیٹھک میں ایک صوفہ کرسی پر بٹھایا اور خود اندر چلے گئے۔ اندر اس لیے جاتے تھے کہ گھر میں چائے کے لیے کہہ آئیں۔ واپس اگر میری کرسی کے برابر لگے ہوئے تخت پر بیٹھ جاتے اور باتیں کرنے لگتے۔ میں اگر کبھی کسی ایسے وقت پہنچ جاتا کہ کوئی شاگر دیا کوئی اور ملنے والا بھی موجود ہو تو اسے تھوڑی دیر میں کسی نہ کسی بہانے ٹہلا دیتے تھے ۔ ایک دفعہ کا معاملہ البتہ مجھےذرا مشکل نظر آیا۔ میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک بہت بزرگ ہستی کے فرزند ِارجمند جواب خود ایک بزرگ ہستی ہیں اور سرکار میں ایک بہت اونچے دینی عہدہ پر فائز ہیں، عسکری کے کمرے میں پہلے سے بیٹھے ہیں۔ قرآن شریف اور تفسیر کی کتابیں کھلی ہوئی ہیں اور دونوں کسی بہت سنجیدہ قسم کے کام میں مصروف ہیں۔ عسکری نے مجھے میری مخصوص کرسی پر بٹھا دیا ۔ میں نے سوچا کہ مجھے اجازت لے لینی چاہیے، کیوں کہ مجھے عسکری کے چہرے پہ کچھ تردد کے آثار نظر آئے ۔لمحے بھر بعد میں نے ان آثار کو بدلتے دیکھا اور پھر یکایک عسکری نے ان بزرگ سے کہا کہ یہ ہمارے دوست را ولپنڈی سے آئے ہیں، ان کے پاس وقت بھی بہت کم ہوتا ہے ۔ ہم آپ تو یہیں ہیں آپ سے انشاء اللہ پھر ملاقات ہوگی ۔ اس دوران میں یہ کتابیں دیکھ لوں گا۔ چناں چہ وہ بزرگ اُٹھے ۔ عسکری ان کو دروازے تک چھوڑنے گئے ۔ اندر کے راستے سے واپس آئے وہی چائے کے لیے کہنے گئے تھے، تخت پر بیٹھے، سگرٹ سلگائی اور بہت اطمینان سے کہنے لگے ۔ ہاں صاحب تو اب باتیں ہوں گی ۔
دوستی اور خلوص کے اس رشتے میں یہ نہیں کہ ہم دونوں میں مکمل اتفاق رائے ہی پایا جاتا ہو، قربت اور کسی قدر بے تکلفی کے باوجود ہم دونوں ایک دوسرے کو گفتگو میں عموماً ، آپ کہہ کے مخاطب کرتے تھے اور خطوں میں نام کے ساتھ ’صاحب‘ کا اضافہ بھی کر دیتے تھے، میں عسکری کا بہت احترام کرتا تھا مگر اُن سے اختلاف کے پہلو بھی نکلتے رہتے تھے اور ان کا اظہار بھی ہوتا رہتا تھا۔ ان خطوں میں بھی جا بہ جا اس کے ثبوت موجود ہیں ، مگر تعلقات کی نوعیت میں کبھی فرق نہیں آیا۔
یہ تعلقات کم و بیش پینتیس سال تک قائم رہے، میں عسکری سے پہلے پہل ۴۳ء کی گرمیوں میں ملا تھا۔ میرے دوست امجد حسین اور میں دہلی گئے ۔ اس زمانے میں میرا جی مرحوم کہ جن سے ہم دونوں کو لاہور میں حلقۂ ارباب ذوق کی وجہ سے ایک خاص نسبت تھی آل انڈیاریڈیو میں سٹاف آرٹسٹ کی حیثیت سے دہلی پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے بڑی شفقت سے اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر کہ جہاں وہ مقیم تھے ہمیں دوپہر کے کھانے پر بلایا۔ ہم دونوں وہاں پہنچے تو دیکھا کہ میرا جی نے آٹھ دس اور لوگوں کو مدعو کر رکھا ہے جن میں زیادہ تر ریڈیو میں ان کے ادیب ساتھی تھے ۔ اس مجلس میں پہلی بار ن۔ م۔ راشد سے ہماری ملاقات ہوئی اور وہیں عسکری سے بھی کہ وہ بھی اُس زمانے میں دہلی ریڈیو سٹیشن پر سٹاف آرٹسٹ تھے۔ عسکری سفید کرتا پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔ آئے اور خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گئے ۔ نشست فرشی تھی اور عسکری مجھ سے زیادہ دور نہیں تھے۔ لہٰذا میں ذرا سرک کے اُن کے پاس ہو بیٹھا اور اُن سے باتیں کرنے لگا۔ مجھے یہ معلوم کر کے کچھ حیرت ہوئی کہ انہوں نے میرا نام سُن رکھا تھا اور کرشن چندر کے ناول ’’شکست‘‘ پر میرا مضمون جو ’’ ادب لطیف‘‘ میں چھپا تھا اور میرے کچھ اور مضمون بھی پڑھ رکھے تھے۔ عسکری تو اس وقت بطور افسانہ نگار خاصے مشہور ہو چکے تھے ۔ میرا جی کے ہاں سے رخصت ہوتے ہوئے دوسرے دن شام کو اُردو بازار میں امامیہ بک ایجنسی کی دُکان پر اُن سے ملاقات طے پائی میں وہاں پہنچا تو دکان پر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد عسکری مجھے باہر لے آئے اور ہم دونوں جامع مسجد کے علاقے میں بہت دیر تک گھومتے پھرتے رہے ۔ مجھے اُسی دن پتہ چل گیا کہ عسکری سے ملاقات کا ایک جزو سڑکیں ناپنا بھی ہے ۔ بعد کو تو میں نے اُن کے ساتھ لاہور اور کراچی میں بیسیوں میل پیدل طے کیے ہوں گے ۔ بہر حال اس ملاقات میں بھی عسکری کچھ زیادہ نہیں کھلے باتیں ضرور کرتے رہے مگر کم کم ۔ البتہ میری باتیں توجہ سے سنتے رہے ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اُن سے ’’ساقی‘‘ میں چھپے ہوئے کرشن چندر پر اُن کے مضمون کا ذکر کیا تو ٹال گئے اور موضوع بدل دیا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اب یہ اُس منزل سے آگے نکل گئے ہیں۔
اگلی بار بھی عسکری سے ملاقات دہلی ہی میں دسمبر ۴۴ ء میں ہوئی۔ میں اب ایم اے انگریزی کے پہلے سال کا طالب علم تھا اور کالجوں کے سالانہ مباحثوں کے سلسلے میں دہلی گیا تھا۔ وہاں پہنچا تو تاثیر صاحب مرحوم سے ملا۔ انہوں نے بتایا کہ جوش اور فراق آج کل یہاں ہیں کورونیشن ہوٹل فتح پوری میں ٹھہرے ہوئے ہیں اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا۔ میں آج شام اُن سے ملنے جا رہا ہوں تم بھی آجانا۔ کوئی تکلف نہیں، چناں چہ میں وہاں پہنچا اور جوش صاحب اور فراق صاحب کے کمرے میں داخل ہو اتو دیکھا کہ بڑا سا کمرہ ہے ۔ جوش اور فراق صاحب بیٹھے ہیں درمیان میں ایک میز پر پینے پلانے کا سامان رکھا ہے اور دور چل رہا ہے ۔ کچھ لوگ ادھر اُدھر پلنگوں کی پائتیوں اور کرسیوں پر بیٹھے ہیں ۔ مگر تا ثیر صاحب موجود نہیں ۔ اتنے میں ایک گوشے سے آواز آئی۔ آفتاب صاحب ! یہاں آ جائیے۔ دیکھا کہ عسکری ہیں اور مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کو بلا رہے ہیں۔ مجھے اطمینان ہوا کہ چلو ایک تو جاننے والا ہے۔ اتنے میں تاثیر صاحب بھی آگئے ۔ انہوں نے حاضرین محفل سے میرا تعارف کرایا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد محفل کا رنگ ہی بدل گیا۔ جوش اور فراق کی لڑائی شروع ہوگئی۔ اس کا تفصیلی ذکر فراق صاحب پر میرے مضمون میں موجود ہے۔ یہاں مجھے صرف یہی کہنا ہے کہ جب فراق صاحب کافی تاؤ میں تھے اور کسی کی بات نہیں سُن رہے تھے تو عسکری اٹھے ، اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور احترام اور عقیدت کے ملے جلے لہجے میں کہا:’’ فراق صاحب ! اب جانے دیجیے۔ بس بہت ہو چکی ۔ اب آپ اپنے شعر سنائیے ۔‘‘ فراق صاحب دھیمے پڑگئے۔ پھر کچھ اور لوگوں نے بھی اُن سے شعر کی فرمائش کی۔ چناں چہ انہوں نے اپنے اشعار سنانے شروع کر دیے۔
عسکری اس قسم کی محفل کے آدمی نہیں تھے ۔ وہ تو دراصل فراق صاحب سے ملنے آئے تھے اور اُن کے کہنے پر رک گئے تھے ۔ بہر حال کچھ دیر کے بعد عسکری اور میں نے اجازت چاہی۔ ہوٹل سے نکل کر ہم کچھ ادھر ادھر گھومے ۔ عسکری، فراق صاحب کی باتیں کرتے رہے اور پھر اگلے دن کی ملاقات کا وقت اور مقام طے کرنے کے بعد ہم ایک دوسرے سے رخصت ہوئے ۔ ہاں عسکری نے یہ بھی کہا کہ میں آپ کو فراق صاحب سے ضرور ملواتا مگر اب کے یہ جوش وغیرہ کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ان کی صحبت میں ان سے ملنا بے کار ہے۔ دہلی کے اس قیام کے دوران میں عسکری سے دو ایک بار ملنا ہوا۔ واپس اگر چند مہینوں کے بعد اُن کے اور میرے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اگست ۱۹۴۶ ء میں ایک دفعہ پھر میں نے دہلی کا چکر کاٹا۔ اب تو عسکری سے دوستی ہوگئی تھی۔ لہٰذا اُن سے کئی بار ملنا ہوا اور خوب گپ رہی۔ اب کے عسکری نے مجھے اپنا وہ گھر بھی دکھایا جس کا نقشہ انہوں نے اپنے اُس زمانے کے ایک خط میں کھینچا ہے۔
اس مجموعے کے جولائی ۱۹۴۷ ء تک کے خطوں سے ظاہر ہے کہ عسکری کا کوئی ارادہ پاکستان آنے کا نہیں تھا۔ مگر اس کے بعد حالات بگڑنے لگے۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کشمیر گیا ہوا تھا۔ ستمبر کے دوسرے ہفتے ہم لوگ واپس لاہور آئے تو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ڈاک اور تار کا سلسلہ ہی ختم ہو چکا تھا۔ عسکری کے کے بارے میں مجھے کوئی اطلاع نہیں تھی کہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ اسی زمانے میں ریڈیو پاکستان کی طرف سے ایک سروس شروع کی گئی جس کے ذریعے یہاں کے لوگ ہندوستان میں اپنے عزیزوں اور دوستوں کے نام پیغام نشر کروا سکتے تھے۔ چناں چہ میں نے بھی عسکری کے نام یہ پیغام نشر کروایا کہ فی الحال آپ فوراً لاہور آ جائیے ۔ پھر دیکھا جائے گا۔ اس پیغام کا کوئی جواب نہ آیا۔ مجھے امید تھی کہ شاید عسکری کسی یہاں آنے والے کے ہاتھ کوئی خط بھیج دیں۔ آخر اس انتظار میں اکتوبر کے دوسرے پندھواڑے کے کسی ایک دن کیا دیکھتا ہوں کہ عسکری نیلے رنگ کی گرم اچکن پہنے مجھے ڈھونڈتے ہوئے گورنمنٹ کالج کے سٹاف روم میں داخل ہورہے ہیں۔ میں آگے بڑھ کے اُن سے ملا اور انہیں کالج کے ملک بار میں لے گیا کہ وہاں اطمینان سے بیٹھ کر بات کریں گے ۔ معلوم ہواکہ عسکری نے میرا ریڈ یو پیغام سن لیا تھا۔ بات تو بہت معمولی تھی، مگر انہوں نے دو تین بار کہا کہ بھئی آپ کے پیغام سے ہمیں بڑی ڈھارس ہوئی کہ ہمارا بھی کوئی پوچھنے والا پاکستان میں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران میں اُن کے والد کا انتقال ہوگیا۔ والدہ اور بہن بھائی اُن کے ساتھ یہاں آگئے ہیں اور کرشن نگر میں اپنے ایک عزیز کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ تھا لا ہور میں عسکری کا ورود، اس سے پہلے وہ کبھی ان اطراف میں نہیں آئے تھے۔ اُن کو لوگوں نے لاہور کی سردی سے اتنا ڈرا رکھا تھا کہ انہوں نے اکتوبر ہی میں گرم اچکن نکال لی تھی ۔ پھر جب واقعی لاہور میں سردی شروع ہوئی تو عسکری نے خوب اس کا لطف اُٹھایا اور اُن کی صحت بھی بہت اچھی ہوگئی۔
پر و فیسر پطرس بخاری اُس زمانے میں گورنمنٹ کالج کے پرنسپل تھے۔ وہ اور تاثیر صاحب اور فیض صاحب عسکری کو دہلی سے جانتے تھے۔ اب کالج میں عسکری کا آنا جانا شروع ہوا تو میں نے کالج کے دیگر بزرگ اساتذہ قاضی اسلم، صوفی تبسم، ڈاکٹر نذیر احمد، پر وفیسر سراج الدین ، خواجہ منظور حسین سے کہ سب مجھ سے بہت شفقت کرتے تھے ، عسکری کو بلوایا۔مگر معاملہ علیک سلیک سے آگے نہیں بڑھا۔ عسکری تھے ہی اتنے کم آمیز۔ ہاں اُسی زمانے میں عسکری میرے دوست (ڈاکٹر) اجمل سے بھی ملے اور یہ ملاقات وقت کے ساتھ دونوں کی مستقل دوستی میں تبدیل ہو گئی ۔
اس دوران میں تاثیر صاحب سے عسکری کا ملاپ بہت بڑھا۔ میرے ساتھ اُن کے ہاں جاتے تھے اور اکیلے بھی۔ عسکری کا ایک فرانسیسی صحافی دوست جب لاہور آیا تو ہم دونوں اُس کو لاہور کی سیر کراتے رہے۔ عسکری خاص طور پر اُسے تاثیر صاحب سے بھی ملوانے لے گئے۔ آخر کو عسکری کا تاثیر صاحب سے ایسا بگاڑ ہوا کہ کچھ نہ پوچھیے مگراس کا ذکر بعد میں آئے گا۔
صوفی صاحب اپنی طبیعت سے مجبور، خاطر تواضع اور محفل آرائی کے شوقین، انہوں نے عسکری کو ایک شام کھانے پر بلایا اور ان کے ساتھ تاثیر صاحب، غلام عباس اور مجھے بھی ۔ عسکری دیر تک بیٹھے تو رہے مگر بقول عصمت چغتائی وہی ’’جی جی‘‘ کرتےرہے۔
گورنمنٹ کالج میں بخاری صاحب کے آنے کے بعد’ مجلس اقبال‘ میں ایک نئی جان پڑ گئی تھی اور اس کے جلسے بڑی باقاعدگی سے ہونے لگے تھے ۔ عسکری ادبی محفلوں سے دور بھاگتے تھے کیسی ایسی محفل میں مقالہ پڑھنے کا تو ذکر ہی کیا مگر میرے اصرار پر مان گئے ۔ چناں چہ مجلس اقبال کا ایک بڑا بارونق جلسہ ہوا اور اس میں عسکری نے اپنا مقالہ ’’ادب میں منصوبہ بندی‘‘ پیش کیا۔ صدارت تاثیر صاحب نے کی لاہور کے سب چیدہ چیدہ اور دہلی اور یوپی سے آئے ہوئے کچھ ادیبوں مثلاً شاہد احمد صاحب دہلوی وغیرہ نے بھی شرکت کی۔ بخاری صاحب بھی موجود تھے۔ فیض صاحب لاہور سے باہر تھےاس وجہ سے نہیں آسکے۔ سجاد ظہیر ان دنوں لاہور میں تھے۔ بخاری صاحب نے اُن کو بھی بلایا تھا۔ مگر وہ نہیں آئے۔ بخاری صاحب نے بعد میں اُن کا بہت پیچھا لیا کہ تم کیوں نہیں آئے۔ بہرحاں جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔ اچھی خاصی بحث بھی ہوئی۔ مگر سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عسکری کا لاہور میں نووارد ہونے کا حجاب اُٹھ گیا۔
عسکری کے لاہور پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد کشمیر میں جنگ چھڑ گئی ۔ عسکری بڑے جوش میں آئے ۔ پاکستان کے لیے ان کے دل میں بڑا جذبہ تھا اُن دنوں وہ اکثر مال روڈ کے کسی خوانچے والے دہلوی مہاجر کا یہ جملہ دہرایا کرتے کہ آخر مسلمانوں کو ایک کچا گھر تو مل گیا۔بہر حال دو ایک مہینے بعد یعنی دسمبر ۱۹۴۷ ء کا واقعہ ہے کہ چند ہندوستانی ادیبوں نے کشمیر کی جنگ کے بارے میں حکومت ہند کی حمایت میں ایک بیان دیا ۔ غلام عباس ،عسکری اور میں ایک جگہ جمع تھے کہ اس بیان کا ذکر آیا۔ عسکری اور عباس نے کہا کہ پاکستان کے ادیبوں کو بھی اس سلسلے میں بیان دینا چاہیے ۔ یہ دونوں حضرات دہلی میں بھی تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کے لیے ادیبوں کے حلقے میں کام کرنے کی تجویزیں سوچا کرتے تھے ۔ ان خطوں میں اس کا ذکر موجود ہے ۔ قصہ مختصر یہ کہ غلام عباس اور میں ادیبوں کے بیان کی تیاری کے سلسلے میں پہلے تاثیر صاحب سے ملے پھر فیض صاحب سے اور آخر وہ بیان جب خود پطرس بخاری نے مرتب کیا تو عسکری بہت خوش ہوئے۔
سعادت حسن منٹو بھی اس زمانے میں لاہور آچکے تھے ۔ عسکر ی ان کو بھی دہلی سے جانتے تھے۔ یہاں جب اُن سے ملے تو دونوں میں بہت دوستی ہو گئی۔ چناں چہ دونوں نے مل کر ایک رسالہ بھی نکالا ، نام تھا ’’ اردو ادب‘‘ یہ رسالہ نکلا تو بڑے ٹھاٹھ سے تھا مگر دو شماروں کے بعد ہی بند ہو گیا۔ عسکری نے منٹو کے خاکے (تخلیقی ادب٥ ) میں ایک خاص واقعے کا ذکر کیا ہے جس کے بارے میں مجھے بھی کچھ کہنا ہے ۔ عسکری لکھتے ہیں:
’’ میں دو چار دفعہ گیا مگر ڈرتے ڈرتے ۔ کیوں کہ شخصیت کی تسکین بخش داد دینے میں مجھے خاصی مشکل پڑتی ہے منٹو نے پھر ہتھے پر ٹوک دیا۔ گاندھی جی کی وفات کے اگلے دن منٹو نے کہا۔’’یار، میں تو سمجھتا تھا کہ مجھ ہی کو رنج ہے۔ لیکن شہر میں پھر کر دیکھا، ہر شخص رنجیدہ نظر آتا ہے۔ اب تو جی چاہتا ہے میں رنج نہ کروں‘‘..... یہ سننے کے بعد میں جو اُٹھا تو مہینے دو مہینے کے لیے غوطہ لگا گیا ۔‘‘
گاندھی جی کے ہو لناک قتل کے بعد عسکری نے بہت سے لوگوں سے اُن کے تاثرات معلوم کیے تھے۔ مجھ سے پوچھا تو میں نے بھی گہرے رنج کا اظہار کیا۔ اس پر مجھ سے ذرا بگڑ کے کہنے لگے کہ آپ کا رد عمل تو artful ہے ۔ اصلی بات تو کسی نے یوں کہی ہے کہ خس کم جہاں پاک۔ عسکری عموماً اپنی گفتگو میں انگریزی لفظ نہیں بولا کرتے تھے ۔ یہاں انہوں نے اس کا سہارا ایک حجاب رکھنے کی خاطر لیا۔ کہنا وہ چاہتے تھے کہ میں جان بوجھ کر ایک بناوٹی بات کر رہا ہوں۔ میں نے بھی ذراتنک کر جواب دیا کہ آپ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ میرا ر دِّ عمل وہی ہونا چاہیے جو آپ کا ہے۔ اس پر خاموش ہو گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ مجھ سے ملنے میں انہوں نے ایک دن کا بھی غوطہ نہیں لگایا۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ گاندھی جی کے قتل کے بعد ریڈیو پاکستان لاہور نے جو پروگرام نشر کیا تھا اور جسے ہندوستان میں بے حد پسند کیا گیا تھا۔ اس پر عسکری بہت خفا تھے ۔ عسکری کی طبیعت میں جو تلخی اور شدت تھی اس کا اندازہ تو مجھے ان کی تحریروں سے ہو چکا تھا مگر ان کی طرف سے اس قسم کی نفرت کا اظہار میں نے پہلی بار دیکھا۔
عسکری کے لاہور آنے کے بعد میں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی کالج میں لیکچرار ہو جائیں تو اچھا ہے ۔ اس معاملے میں کوئی مشکل پیش نہ آتی مگر معلوم نہیں وہ کیوں اس پر تیار نہ ہوئے حالاں کہ دہلی میں وہ کالج ہی میں پڑھاتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب لکھنے پڑھنے کا کام کرنا چاہتے ہیں ۔ چناں چہ انہوں نے تھوڑے ہی دنوں بعد ایک ناشر سے بات کر کے ترجمے کا کام شروع کر دیا اور اس میں بہت مصروف رہنے لگے ۔ کوئی سال بھر کے وقفے کے بعد جب ” ساقی‘‘ کراچی سے نکلا تو عسکری نے بھی اپنا کالم ’’ جھلکیاں‘‘ پھر سے شروع کر دیا۔ اس دوران میں وہ لاہور کے کچھ رسالوں اور روزناموں میں مضمون لکھتے رہتے تھے۔ ایک ہفتہ وار ’’نظام‘‘ نکلا تھا۔ انتظار حسین کی ادارت میں اس میں عسکری باقاعدہ لکھنے لگے۔
ترقی پسند ادیبوں کی مخالفت جو ایک عرصے سے ان کی تحریروں کی خصوصیت بن گئی تھی، اب بھی جاری رہی بلکہ اس میں پاکستان کے بارے میں عسکری کے والہانہ جوش وخروش کے واسطے سے کچھ اور شدت آگئی اور عسکری نے ترقی پسندا دیبوں پر بڑے سخت حملے کیے اس زمانے میں اُن کا ایک موضوع پاکستانی اور اسلامی ادب کے علاوہ نئی مملکت سے ادیبوں کی وفاداری بھی تھا۔ ترقی پسندا دیبوں کے بعض ناروا بیانات اور فیصلوں کی وجہ سے کہ جن کو بعد میں انہوں نے بڑے تاسف کے ساتھ خود ہی غلط قرار دیا اُن کے متعلّق بہت سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔ اس فضا میں یکایک حکومت پنجاب حرکت میں آئی اور اُس نے سیفٹی ایکٹ کے ماتحت’’ سویرا‘‘، ’’ ادب لطیف‘‘ اور’’نقوش‘‘ کو چھ چھ مہینے کے لیے بند کر دیا کہ انہیں رسالوں میں ترقی پسند ادیبوں کی تحریریں چھپتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ عسکری کو اس قسم کے سخت اقدام کی توقع نہیں تھی اور نہ وہ اس کی حمایت کر سکتے تھے۔ چناں چہ جیسا کہ خود احمد ندیم قاسمی صاحب نے الطاف احمد قریشی سے اپنے مکالمے (’’ادبی مکالمے‘‘) کے دوران میں ہمیں بتایا ہے کہ جب سرکاری حکم کے خلاف دستخطوں کی مہم چلی تو اس میں عسکری پیش پیش تھے اور وہ اس سلسلے میں قاسمی صاحب اور منٹو کے ساتھ ایک وفد کی صورت میں پریس برانچ کے انچارج چوہدری محمد حسین سے بھی ملےتھے۔
اُس زمانے میں ایک دفعہ یہ افواہ اڑی کہ کچھ ترقی پسند ادیبوں کی گرفتاریاں ہونے والی ہیں اب تو عسکری اور بھی پریشان ہوئے۔ میرے سامنے جب اس کا ذکر کیا تو میری حرکت ملاحظہ فرمائیے ۔ میں نے جھٹ انہیں یہ یاد دلایا کہ آپ نے جو پاکستان سے وفاداری کے سلسلے میں اتنا کچھ ان ادیبوں کے خلاف لکھا ہے اس کا بھی تو حکومت پر اثر ہوا ہو گا گویا میں نے ان کی پریشانی میں ’’ احساس جرم‘‘ کا ایک عنصر بھی گھولنا چاہا۔ اس پر پہلے تو یہ کہا کہ میں تو اُردو میں لکھتا ہوں۔ حکومت کے اداروں میں اردو کون پڑھتا ہے۔ یہ تو تاثیر کا کیا دھرا ہے ۔ وہی انگریزی میں لکھتے ہیں ۔ مگر میرے اس کہنے پر اُن کو یہ احساس ضرور ہوا کہ لوگ یوں بھی سوچ سکتے ہیں۔ تاثیر صاحب پر الزام دھرنے کے بعد اپنی مدافعت پر آگئے اور کہنے لگے کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں ترقی پسنداد یبوں کے خلاف نہیں لکھوں گا اور یہ کہ میں نے منٹو کو بھی اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔ کیوں کہ منٹو نے بھی اس زمانے میں ان کے خلاف کچھ مضمون لکھے تھے۔ اس کے بعد کہا بھئی ہم تو اُن کے ادبی شعور کے مخالف ہیں۔ یہ بحث مباحثے کی بات ہے ۔ ہم یہ تھوڑی چاہتے ہیں کہ اُن کو قید کر لیا جائے ۔
میرے خیال میں ان واقعات کے بعد عسکری کو یہ فکر لاحق ہو گئی کہ وہ کہیں حکومت کے آدمی نہ سمجھے جانے لگیں چناں چہ انہوں نے ترقی پسند ادیبوں کے خلاف اس انداز میں لکھنا چھوڑ دیا۔ بات یہ ہے کہ عسکری بعض اور معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی ایک خیالی دنیا میں رہتے تھے۔ اُن کو شاید یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ حکومت ادیبوں کو جیل میں بھی ڈال سکتی ہے اُس وقت تو نہیں مگر کچھ عرصے کے بعد یہ ہوا بھی۔
ترقی پسندا دیبوں سے تو عسکری اصولی سطح پر ادبی جنگ لڑتے تھے اگر چہ اس میں بھی وہ اکثر غیر ضروری طور پر تلخی اور شدت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہتے تھے مگر یہ تلخی اور شدت ذاتی نوعیت کی مخالفت میں تو بعض اوقات حد سے تجاوز کر جاتی تھی ۔ تاثیر صا حب کے خلاف ان کی ’’جھلکیاں‘‘ اسی قسم کی تحریر کا ایک نمونہ ہیں۔ اس معاملے میں تو خیر عسکری کے پاس ایک جواز بھی تھا، تاثیر صاحب نے مختلف ناموں سے لکھے ہوئے اپنے مضامین میں عسکری پر فقرے چست کیے تھے ۔ مگر عسکری کی طبیعت کا یہ رنگ ایک اور مرتبہ بھی دیکھنے میں آیا ۔ خواجہ منظور حسین گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے پروفیسر تھے اور کراچی یونیورسٹی کے ممتحن، خواجہ صاحب نے پرچہ سیٹ کیا اور زبانی امتحان لینے کے لیے کراچی گئے۔ عسکری کے کچھ طالب علم جو اس امتحان میں شریک ہوئے اچھے نمبر حاصل نہ کر سکے اور شاید بعض تو فیل ہی ہو گئے ۔ اس پر عسکری بگڑ گئے۔ اس میں شک نہیں کہ ہر ممتحن کا اپنا اندازہ ہوتا ہے اور اس میں اس کے کچھ ذاتی تعصبات بھی راہ پالیتے ہیں، مگر عسکری نے یہ طے کر لیا کہ خواجہ صاحب کو نہ تو پر چہ سیٹ کرنا آتا ہے، نہ زبانی امتحان لینا اور پھر اپنی مخاصمت کا بر ملا اظہار یوں کیا کہ لاہور کے اخبار ” آفاق‘‘ میں ایک مضمون خواجہ صاحب کے خلاف لکھ مارا (١)، خواجہ صاحب میرے تو محترم بزرگ تھے مگر ویسے بھی وہ نہایت شریف ، مہذب اور وضع دار آدمی تھے۔ اُن کی سمجھ ہی میں نہ آیا کہ یہ کیا ہوا، مجھے اس واقعے سے بہت کوفت ہوئی ۔ اس کے تھوڑے ہی دنوں بعد میں جب کراچی میں عسکری سے ملا تو میں نے پوچھا حضرت یہ کیا حرکت تھی۔ کہنے لگے یار مجھے اپنے طالب علموں کی وجہ سے غصہ آگیا تھا۔ بھئی ہم لکھنے والوں کے لیے اپنے اندر کا زہر نکالنے کا اور کون سا طریقہ ہے اور یہ کہہ کر خاموش ہو گئے۔
عسکری ابھی لاہو رہی میں تھے کہ میں نے مرکزی ملازمتوں کے مقابلے کا امتحان دیا۔ اس فیصلے میں میرے کچھ استادوں کا پُر زور مشورہ بھی شامل تھا ۔ امتحان میں کامیابی ہوئی اور مجھے فارن سروس کے لیے چن لیا گیا کہ یہی میری پہلی ترجیح تھی ۔ بدقسمتی سے اس دوران میرے گھر کے حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ میرے لیے باہر جانا مشکل ہو گیا۔ لہذا میں نے کسی دوسری سروس کی کوشش شروع کر دی۔ عسکری کو اس زمانے میں باہر جانے کا خصوصیت سے یورپ جانے کا بہت شوق تھا اور وہ میرے فارن سروس میں لیے جانے پر بہت خوش تھے ۔ چناں چہ انہوں نے اِس خوشی میں یہ طے کیا کہ وہ مجھے الوداعی تحفے کے طور پر حسرت موہانی کا انتخاب شعراء اُردو دیں گے جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے اور آسانی سے دستیاب نہیں۔ انہوں نے بڑی محنت سے یہ جلدیں اکٹھی کیں۔ آخر جب میں فارن سروس میں نہیں گیا اور اکاؤنٹس سروس میں شامل ہو گیا تو عسکری نے کہا کہ اب میں آپ کو یہ تحفہ نہیں دوں گا ! اس کو آپ اُن کی نا خوشی کا اظہار سمجھ لیجیے۔
نئی ملازمت کے بعد میں تو لاہو رہی میں رہا۔ البتہ عسکری فروری ۱۹۵۰ء میں ’’ماہ نو‘‘ کے ایڈیٹربن کر کراچی چلے گئے۔ شروع شروع میں تو ان کو لاہور بہت یاد آیا۔ ایک تو کراچی کی آب و ہوا نے ان کو پریشان کیا، ان کی طبیعت خراب رہنے لگی ۔ پھران کو وہاں کی عام فضا ، خصوصاً ادبی فضا بھی کچھ پسند نہ آئی۔ اس زمانے کے خطوں میں اس کا ذکر موجود ہے، کوئی چھ مہینے کے بعد وہ ’’ماہ نو‘‘ سے تو علیحدہ ہو گئے۔ مگر اسی دوران میں ان کو اسلامیہ کالج میں لیکچرار کی جگہ مل گئی اور وہ انتہائی دل چسپی سے پڑھانےکے کام میں مصروف ہو گئے۔ اس دل چسپی اور انہماک کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ان کی کلاس میں لڑکیاں بھی تھیں اور وہ اپنی علمیت اور قابلیت کی وجہ سے ان کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔ چناں چہ اس مجموعے کا خط نمبر٤١ تو سارے کا سارا تقریباً اسی موضوع پر ہے جس میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’ اپنے کرار صاحب ہی نے مجھے چھیڑنا شروع کر دیا کہ مہہ وشوں سے صحبت گرم ہے۔‘‘
کچھ عرصے کے بعد عسکری سے ملاقات ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ ان میں ایک نمایاں تبدیلی آرہی ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ پر اعتماد اور خوش نظر آنے لگے ہیں ۔ چناں چہ میں نے کریدنے کی خاطر ان کو چھیڑا کہ میں کچھ سونگھ رہا ہوں ۔ آپ کے ساتھ تو شاید وہ معاملہ ہورہا ہے اور پھر فراق کا یہ شعر پڑھا !
اک فسوں ساماں نگاہ ِآشنا کی دیر تھی
اس بھری دنیا میں ہم تنہا نظر آنے لگے
عسکری کچھ جھینپ کر ہنس پڑے اور ان کے چہرے پر ایک رونق سی آگئی جیسے وہ میری بات کا لطف لے رہے ہوں ۔ پھر بولے کہ یا ربات کچھ ایسی ہی ہے۔ اس کے بعد مجھے اپنا راز دار بنایا۔ کچھ ناز و نیاز کی باتیں بھی سنائیں اپنے مخصوص نفسیاتی تجزیے اور ادبی حوالوں کے ساتھ ۔
عسکری ذاتی معاملات کا ذکر قریبی دوستوں سے بھی بہت کم کیا کرتے تھے مگر اس معاملے نے ان میں ایک ایسی کیفیت پید اکر دی تھی کہ ان سے رہا نہ گیا۔ ایک دفعہ جب انہوں نے مجھے راز دار بنا لیا تو پھر خطوں میں بھی اشارے ہونے لگے۔ مثلاً اسی مجموعے کے خط نمبر ٤۵ مورخہ ٩/ ر مارچ ۱۹۵۲ ء میں فراق کی ایک غزل کے تذکرے کے بعد لکھتے ہیں ’’مگر میں آج کل زیادہ سخت غزل پڑھ رہا ہوں، فراق نے تو اتنا ہی کہا ہے :
دل اُمڈا سا ، آنکھ بھری سی
آج تو حُسن بھی ہے اپنا سا
مگر ابھی فراق صاحب کے شعر میں اس بات کی جھلک نہیں آئی کہ’’ آج تو آپ بالکل میرے جیسے ہو رہے ہیں‘‘۔ خط نمبر٠ ۵ مورخہ ۳۰/ دسمبر ۱۹۵۲ ء میں ڈاکٹر اجمل سے ایک لڑکے کے نفسیاتی علاج کے سلسلے میں مشورے کا ذکر ہے تو وہ بھی ان خاتون ہی کے کوئی بھانجے بھتیجے تھے۔ اس خط میں لکھا ہے کہ ’’ان لوگوں سے میرے گھر کے سے تعلقات ہیں‘‘۔ یہ لوگ آسودہ حال تھے اور ان کے اندازِ زندگی میں کچھ مغربیت کا رنگ نمایاں تھا۔ اس لڑکے کے والد ایک انگریزی کمپنی میں ملازم تھے۔ چناں چہ جب میں نے لکھا کہ وہ صاحب اجمل کے پاس نہیں پہنچے، تو عسکری نے اگلے ہی خط یعنی خط نمبر ٥١ میں یہ تبصرہ کیا ’’ بات یہ ہے کہ انہیں دو ہزار تنخواہ ملتی ہے ، اسی لیے وہ ! I am anthony still والے لوگوں میں سے ہیں، ممکن ہے بعد میں انہیں شرم آگئی ہو‘‘۔
انہی لوگوں کے اندازِ زندگی کے زیر اثر عسکری نے اپنے لباس کا انداز بھی بدلا۔ گرمیوں میں بش شرٹ اور پتلون اور سردیوں میں سوٹ بوٹ پہننے لگے ۔ انہوں نے ان خاتون سے شادی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لہٰذا وہ ہر لحاظ سے اپنے آپ کو قابل قبول بنانا چاہتے تھے اور سوشل سمارٹ نس کے وہ تقاضے بھی پورے کر رہے تھے جن کی آج تک انہوں نے پروا نہیں کی تھی، چناں چہ اس مجموع کے خط نمبر ۶۶ مورخہ١٩/ دسمبر ۱۹۵۵ ء میں مجھ سے خاص طور پر لندن سے واپسی پر اپنے لیے ایک گرم سوٹ لانے کی فرمائش کی۔ ان دنوں عسکری میں جو ’’ جدیدیت‘‘ آ گئی تھی اس کا اندازہ اس سے بھی ہو سکتا ہے کہ یکایک ان کو فوٹو گرافی کا شوق ہوا۔ لاہور آئے تو دیکھا کہ کیمرہ ساتھ ہے ۔ تصویریں لیتے پھر رہے ہیں۔ کراچی میں بھی اپنا یہ نیا شوق پورا کرتے رہتے تھے۔
یہ تبدیلی اپنی جگہ، مگر اس زمانے کے خطوں میں عسکری کے ہاں ایک قسم کی بے چینی جھلکتی ہے، وہ اسلامیہ کالج میں لیکچرار تھے اور بظاہر خوش تھے مگر اسی دوران انفرمیشن منسٹری میں واپس جانے کے بارے میں بھی سوچنے لگتے تھے پھر اس خیال سے بدک بھی جاتے تھے۔ کراچی سے بیزار ہو کر لاہور آنا چاہتے تھے مگر پھر آتے بھی نہیں تھے ۔ کبھی پاکستان ہی سے بیزار ہو کر فرانس چلے جانے کے منصوبے بنانے لگتے تھے۔ چناں چہ اسی مجموعے کے خط نمبر ۵۲ مورخہ ۲۸ /جنوری ۱۹۵۳ ء میں لکھا ہے.....’’ میں تو اتنا بد دل ہو رہا ہوں کہ جی چاہتا ہے فرانس بھاگ لوں ۔ اگر شادی ہو جائے تو بیوی کو بھی سمیٹ لے جاؤں ‘‘..... اس بے چینی میں اپنی مالی حالت کو بہتر بنانے کی خواہش بھی موجود تھی جسے وہ شادی کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔
قصہ مختصر، آخر عسکری کے خاندان والے باقاعدہ پیغام لے کر گئے مگر افسوس کہ بات آگے نہیں بڑھی، عسکری سنی تھے اور وہ خاتون شیعہ۔ اس اختلاف نے کھنڈت ڈال دی اور اس طرح یہ معاملہ ۵۶ ءیا ۵۷ ء میں اپنے انجام کو پہنچا ، ان خاتون کی شادی ان کے خاندان کے حسب منشا کسی اور صاحب سے ہو گئی ، عسکری نے اس کے بعد شادی کا خیال ہی چھوڑ دیا، جہاں تک مجھے معلوم ہے عمر بھر میں بس یہی ایک خاتون تھیں جو کچھ پڑھےعرصے کے لیے عسکری کی ’’رعنائی خیال‘‘ کا مرکز بن گئی تھیں۔ اس معاملے میں وہ ’’ معتقدِ میر‘‘ تھے ،ان کو ’’پریشاں نظری‘‘ کا لپکا نہیں تھا۔
اس عشق کے دوران عسکری کی زندگی میں جو ایک لہک اور امنگ پید ا ہوئی تھی وہ اس کے بعد ختم ہو گئی یوں کہنے کو تو وہ بہت لیے دیے رہے ، یوں لگتا تھا کہ جیسے انہوں نے سب کچھ بھلا دیا ہے اور بظاہر ان کا رویہ کچھ ایسا رہا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، وہ شادی کے بعد ان خاتون سے کبھی کبھار ملتے بھی رہے مگر دراصل اس المناک ذاتی مایوسی نے ان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ میں سکٹر سمٹ کے رہنے لگے اور ان کی طبیعت کی وحشت زیادہ سختی سے عود کر آئی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آخر کو اس واقعے نے عسکری کی زندگی میں بڑے دور رس نتائج پیدا کیے جن میں سے ایک اُس دوسرے عسکری کا جنم بھی تھا جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔
ذاتی مایوسی کے ساتھ ساتھ عسکری پاکستان کے حالات خصوصا ًادبی اور سیاسی حالات سے بھی مایوس ہوتے جا رہے تھے جیسا کہ اس زمانے کے خطوں سے صاف ظاہر ہے۔ سیاست سے اُن کو ہمیشہ سے گہری دل چسپی رہی تھی ۔ یہ دل چسپی صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ وہ ساری اسلامی دنیا کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ خاص طور پر وہ مسلمان ممالک جو استعماری قوتوں کے مقابلے میں سرگرم عمل تھے اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جد و جہد کر رہے تھے، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے صدر جمال ناصر کی کتاب کس ذوق وشوق سے حاصل کر کے مجھے پڑھنے کو دی تھی اور پھر جب جو لائی ٥٦ء میں صدر جمال ناصر کے نہر سویز کو قومیانے پر برطانیہ اور فرانس نے مصر سے حملہ کیا تو اس پر عسکری کا رد عمل کتنا شدید تھا۔ میں اس واقعے کے چند ہی دن بعد کراچی پہنچا۔ ان کی بے تابی دیکھنے کے قابل تھی۔ میں اپنے قیام کے دوران عسکری سے کئی بار ملا مگر سوائے اس کے اور کسی موضوع پر بات نہیں ہوئی وہ اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان حسین شہید سہروردی کے’’صفر جمع صفر جمع صفر‘‘ والے بیان پر سخت خفا تھے اور اپنے جوش و خروش میں دُنیائے عرب کے اتحاد کے خواب دیکھ رہے تھے ۔ میں نے جب اس معاملے میں ذرا شک کا اظہار کیا تو اُن کو وہ بھی ناگوار گزرا۔
چند ہی مہینوں کے بعد عسکری نے اپنے دل کی بھڑاس امروز کراچی ٨ نومبر ۱۹۵۶ ء کے کالموں میں نکالی ۔ ایک خط ایڈیٹر کے نام لکھا ، ’’ پاکستانی ادیب اور مصر‘‘ اور اس پر پاکستانی ادیبوں کی خوب خبر لی کہ وہ ایسے موقع پر خاموش کیوں ہیں، اور اس کے ساتھ ہی ایک مضمون ’’ تھینک یو امریکہ ! “ لکھا۔ جس کے دوران یہ اعلان کیا :
’’ عالم گیر خطرے کے باوجود مصر کی حمایت میں انگلستان اور فرانس کو الٹی میٹم دے کر روس نے انسان کی لاج رکھ لی ۔ اور فرانس کے خلاف ہائیڈ روجن بم استعمال کرنے کی دھمکی در اصل شیکسپیئر اور راسین کی مدافعت کا اعلان ہے ..... اس موقع پر روس کے الٹی میٹم کے معنی یہ ہیں کہ انسانی ضمیر ابھی تک مرا نہیں لیکن یہ دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ میرے ملک میں ایسے اخبار بھی ہیں جو متارکہ جنگ کے سلسلے میں آئزن ہاور کا شکریہ ادا کر رہے ہیں اور اُسے امن کا دیوتا کہ رہے ہیں..... یہ اخبار حالات کو اس طرح پیش کر رہے ہیں گویا پاکستان اور امریکہ کا مفاد ایک ہے ۔ چناں چہ یہ لوگ پنڈت نہرو کی طرح ہنگری اور مصر کا نام ایک سانس میں لے رہے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس وقت مشرقی یورپ زر پرستوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تو اسلامی ممالک کے گلے میں پھانسی کا پھندا پڑ گیا تھا۔ لیکن ہمارا فرض تو یہ قرار پایا ہے کہ اسلامی ممالک کا اور ساتھ میں پاکستان کا جو بھی حشر ہوا ہم بہرحال’’ تھینک یو امریکہ کہے جائیں‘‘۔
یہ ۱۹۵۶ ء کی بات ہے ۔ اگر چہ اُس وقت بھی پاکستان میں امریکہ کا بول بالا ہوئے کئی برس گزر چکے تھے مگر ایسا موقع کہ جب پاکستان میں ایک اسلامی ملک کے مقابلے میں امریکہ کا ساتھ دینا ضروری سمجھا گیا ہو، شاید پہلی دفعہ پیدا ہوا تھا ۔ چناں چہ عسکری اس پر تلملا اٹھے ۔ استعماری قوتوں بلکہ یوں کہیے کہ سرمایہ دار ملکوں کی پالیسیوں سے عسکری کو جو نفرت تھی اس کا اظہار کئی طریقوں سے ہوتا رہتا تھا۔ یونگ کی مذمت کرتے ہوئےلکھا :
’’زرپرست دنیا کا پیغمبر فرائڈ نہیں بلکہ یونگ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ زرپرستی، جھوٹ ، نمائش پسندی اور ریاکاری کے سماجی ماحول میں رہ کر بھی بلکہ اس ماحول سے سمجھوتہ کر کےبھی ذہنی صحت اور دماغی ترقی ممکن ہے۔ یونگ کو جس طرح آگے بڑھایا جارہا ہے، انسانیت، علم، ادب، بلکہ بنیادی اخلاقیات کے لیے بھی ایک عظیم خطرہ ہے۔‘‘
میرا خیال ہے کہ سید سبط حسن نے عسکری کے انہی مضامین کی بنا پر الطاف احمد قریشی سے اپنے مکالمے (’’ادبی مکالمے‘‘) کے دوران امریکہ، روس اور عسکری کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
’’وہ بہت ایمان دار اور مخلص انسان تھے ۔ چناں چہ یہاں امریکیوں نے اُن کو اپنے ڈھب پر لانے کی بہت کوشش کی لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئے ۔ اس طرح سے جب روس کے خلاف بہت ہنگامہ ہوا تو مجھے یاد ہے کہ انہوں نے کئی مضامین سویت یونین کے حق میں امروز، میں لکھے ..... انہوں نے کبھی سوشلزم کی مخالفت نہیں کی کبھی اُس کے خلاف نہیں لکھا۔‘‘
یہاں یہ ذکر بھی دل چسپی سے خالی نہیں کہ عسکری کے تصور کا پاکستان ایک ’’عوامی اور اشتراکی ریاست‘‘ تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے یعنی مئی ۱۹۴۶ ء کی ’’جھلکیاں‘‘ شروع تو ہوئی تھیں ’’نئی زندگی‘‘ کے پاکستان نمبر کے ایک نہایت مخالفانہ تبصرے سے مگر وہیں عسکری نے شاید پہلی بار اپنے سیاسی نقطۂ نظر کا بھر پو را اظہار ان الفاظ میں کیا تھا :
’’چوں کہ اس وقت مسلم لیگ ہر قسم کی استعماریت استبداد اور سرمایہ داری کی مخالفت کر رہی ہے، چوں کہ مسلم لیگ چار سوفی صدی عوامی اور جمہوری جماعت ہے ، چوں کہ مسلم لیگ کا پاکستان بر اعظم ہندوستان میں سب سے پہلی عوامی اور اشترا کی ریاست ہو گا بلکہ خود ہندو عوام کے لیے بھی، چوں کہ دُنیا سے سرمایہ داری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور مستقل امن و امان قائم کرنےمیں پاکستان سے بہت مدد ملے گی ، اس لیے میں مسلم لیگ سےمتعلق ہونا فخر کی بات سمجھتا ہوں“۔
اُس وقت کی مسلم لیگ نے جو کچھ بھی کہا اور کیا اور بعد میں پاکستان کا جو حال ہوا وہ الگ بات ہے ۔ یہاں مجھے فقط یہ عرض کرنا ہے کہ عسکری کی امیدوں کا پاکستان کسی ترقی پسند ادیب کے خوابوں کے ملک سے ہرگز مختلف نہیں تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ ترقی پسند ادیب ان امیدوں کو مسلم لیگ سے وابستہ نہیں کرتے تھے ۔ مگر پھر خود عسکری جس طرح مسلم لیگ اور پاکستان کی پالیسیوں سے مایوس اور برگشتہ ہوئے وہ بھی ہم نے
دیکھ لیا۔
یہاں ایک اور بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے عسکری نے اشتراکی ریاست کے بارے میں اپنے تصور کی وضاحت تو نہیں کی مگر میرا خیال ہے کہ یہ کچھ برطانوی اور بعض دوسرے یورپی ممالک کی اشتراکیت سے ملتا جلتا تھا نہ کہ روسی اشتراکیت سے ممکن ہے ایک نظام معیشت کے طور پر انہوں نے سوشلزم کی مخالفت نہ کی ہو مگر سوشلزم کے ماتحت روسی معاشرہ ، اس کا ادب اور اس کا نظریہ ادب۔ اس کے اندر اجتماعی اور انفرادی زندگی کے ابھرتے ہوئے رجحانات تو ہمیشہ اُن کی تنقید کی زد میں رہے ۔ ویسے کہنے کو تو جس زمانے میں عسکری کی ’’جھلکیاں‘‘، ترقی پسند ادیبوں کے خلاف طنزیہ اور کاٹ دار جملوں سے اٹی پڑی ہوتی تھیں تب بھی انہوں نے ایک دفعہ یہ صراحت کی تھی کہ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں روس کے سوشلسٹ نظام کے خلاف ہوں۔ میں تو اسے انسانیت کی تاریخ میں ایک بہت بڑا تجربہ سمجھتا ہوں ۔
بہر حال روس کے سوشلسٹ نظام کو وہ کچھ بھی سمجھتے ہوں۔ امریکہ اور دوسرے سرمایہ دار ملکوں بلکہ اپنے ملک میں اُن کے حاشیہ برداروں کے بھی وہ سخت مخالف تھے اور آخر دم تک مخالف رہے۔ اس معاملے میں عسکری کسی قسم کی رو رعایت اور رواداری برتنے کے قائل نہیں تھے ۔ دوستوں اور بزرگوں پر بھی اگر شک ہو جائے تو بخشتے نہیں تھے ۔ شاہد احمد دہلوی سے ’’ساقی‘‘ کے واسطے سے بہت دیرینہ رفاقت تھی ۔ ذاتی تعلقات بھی تھے ۔ پھر ان تعلقات میں ایک نمایاں فرق نظر آنے لگا۔ ممکن ہے کوئی اور وجہ بھی ہو مگر جو وجہ خود عسکری نے مجھے بتائی وہ یہ تھی کہ یار، شاہد صاحب امریکنوں سے بہت ملنے جلنے لگے ہیں۔ پھر ایک امریکی فیلوشپ پر ان کے سیٹو کے رکن ملکوں کے دورے کا بھی ذکر کیا۔ اب یہ مجھے یاد نہیں کہ اس وقت تک شاہد صاحب یہ دورہ کر چکے تھے یا کرنے والے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ ’’ساقی‘‘ کے سرورق پر عسکری کا نام قلمی معاونین میں تو موجود رہا مگر ’’جھلکیاں‘‘ غائب ہوگئیں۔ یہ گویا اُن کی کنارہ کشی کی ابتدا تھی ۔ غالباً یہ ۵۷ء کے آخر کی بات ہے۔
ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ملک میں مارشل لا نافذ ہو گیا اور چندہی مہینوں بعد کراچی میں رائٹرز گلڈ کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدائی تجویز تو جمیل الدین عالی اور اُن کے چند احباب کی تھی مگر قدرت اللہ شہاب نے اس کو عملی جامہ پہنانے میں بڑا کام کیا اور وہی گلڈ کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے ۔ شہاب صاحب اُس زمانے میں جنرل ایوب خان چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر اور صدر پاکستان کے سیکر یٹری تھے ۔ ان کی وساطت سے گویا گلڈ کو مارشل لا انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہوگئی ۔ گلڈ کے افتتاحی اجلاس میں ایوب خان مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شامل ہوئے اور انہوں نے حاضرین سے خطاب بھی فرمایا تھا۔ شاہد احمد دہلوی اس افتتاحی اجلاس کی مجلس استقبالیہ کے صدر تھے اور گلڈ کی کارروائیوں میں بہت پیش پیش ۔ عسکری کے لاہور سے بلائے جانے والے دوستوں میں ناصر کاظمی ، انتظار حسین اور میں شامل تھے۔ مجھے تو عسکری نے شاید اس خیال سے معاف کر دیا کہ میں سرکاری ملازم تھا ۔ (یہ واقعہ ہے کہ مجھے اس سلسلے میں میرے اس وقت کے افسر اعلیٰ یعنی محکمہ دفاع کے مشیر مالیات برنی صاحب کا پیغام بھی آیا تھا) اور یہ معاملہ ہی سرکاری ہو گیا تھا۔ مگر ناصر کاظمی اور انتظار حسین کا انہوں نے بہت پیچھا لیا۔ گلڈ سے متعلق شاہد صاحب کی سرگرمیوں پر بھی عسکری کو اعتراض تھا۔ چند مہینوں کے بعد شاہد صاحب نے ’’ ساقی‘‘ کا مخالفانہ پروپیگنڈے پرمشتمل’’ سویٹ ادب‘‘ نمبر نکالا۔ اب تو عسکری کو شاہد صاحب کے ’’امریکی تعلق‘‘ پر یقین ہو گیا۔ چناں چہ وہ ’’ ساقی‘‘ سے باقاعدہ طورپر علیحدہ ہو گئے اور اپنا نام قلمی معاونین کی فہرست سے بھی واپس لے لیا۔
جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، عشق میں ناکامی کے بعد یعنی ۱۹۵۶ ء ، ۱۹۵۷ ء کے لگ بھگ عسکری کچھ اپنے آپ میں سکڑ سمٹ کر رہنے لگے تھے ۔ یہی وہ زمانہ ہے جب ان کی ذہنی زندگی میں ایک انقلاب آنا شروع ہوا، چناں چہ خط نمبر ٧١ مورخہ ۰ ا/ ستمبر ۵۷ ء میں لکھتے ہیں :
’’ یار میں جان بوجھ کر لاہور نہیں آیا ۔ آج کل میں اعتکاف میں بیٹھ گیا ہوں ۔ گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ اب میں افسانے لکھنےکی فکر میں ہوں۔‘‘
یہ افسانے تو خیر نہ لکھے گئے۔ البتہ ذہنی انقلاب جاری رہا اور ۱۹۵۸ ء کے مارشل لا کے بعد اس کی رفتار اور تیز ہو گئی۔ اب میرا تبادلہ کراچی ہو چکا تھا اور میں اکثر شام کو عسکری کے ہاں چلا جایا کرتا تھا۔ انہوں نے واقعی ایک قسم کا مراقبہ اختیار کر رکھا تھا۔ لکھنا ترک کر دیا تھا۔ اب وہ زیادہ تر تصوف اور دینی مسائل پر کتابیں پڑھنے لگے تھے اور اس شغل میں اُن کا انہاک دیدنی تھا۔ رینے گینوں سے تو وہ تقریباً بارہ برس پہلے متعارف ہو چکے تھے ۔ چناں چہ خط نمبر ۳۵ میں جو ۸/ جولائی ۱۹۴۷ ء کو لکھا گیا اس کا حوالہ موجود ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے جملہ مسائل کے بارے میں اپنی بے اطمینانی کا ذکر کرتے ہوئےلکھتے ہیں:
’’ اور مصیبت یہ ہے کہ کسی کتاب سے مدد بھی تو نہیں ملتی ۔ اقبال تک سے میری تسلی نہیں ہوتی اور مجھے تو اسلام بڑا Mediocre مذہب نظر آتا ہے ۔ سنا ہے کہ ایک فرانسیسی رینے گینوں نے اپنی کتاب crisis of the modern میں اسلام کے متعلق کچھ معقول باتیں لکھی ہیں ۔ وہ ہندو فلسفے کا عالم ہے اور مسلمان ہو گیا ہے۔ رہتا بھی ہے بالکل عربوں کی طرح ۔ممکن ہے اُس نے کچھ تشفی بخش باتیں بتائی ہوں۔‘‘
چناں چہ اب عسکری نے اس رینے گینوں کو اپنا گرو بنایا۔ یہ بڑی دل چسپ بات ہے کہ عسکری نے یورپ کو انگریزی سے زیادہ فرانسیسی ادیبوں کے واسطے سے دریافت کیا تھا اور اب اسلام کی دریافت کے لیے بھی انہوں نے ایک فرانسیسی مفکر ہی کا سہارا لیا۔ یہ واقعہ ہے کہ انہیں فرانس سے ایک عجب قسم کا لگاؤ تھا۔ اتنی دور بیٹھے ہوئے بھی وہ فرانس کی فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے نظر آتے تھے۔ اتنی دور بیٹھے ہوئے ہی انہوں نے فرانسیسی زبان میں غیر معمولی استعداد پیدا کر لی تھی۔
عسکری کی طبیعت کا ایک خاصہ یہ تھا کہ وہ جو کام بھی کرتے پوری دل جمعی سے کرتے۔ اپنے ذہنی سفر میں جس طرف بھی نکل جاتے پورے ذوق و شوق اور انہماک سے اس راہ پر چلتے اور نئی نئی سر زمینوں کا کھوج نکالتے رہتے۔ اُن کے دل میں اشیا کی حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی بے اندازہ طلب تھی۔ چناں چہ وہ لکھنو کی شاعری کا مطالعہ کرتے کرتے مسلمانوں کے تہذیبی ورثے میں حواس خمسہ کی دنیا سےمتعلق تمثیلات کا جائزہ لینے لگے اور اس سلسلے میں پہلے قرآن سے رجوع کیا پھر اس کی تفسیر کے لیے ابن عربی اور فصوص الحکم تک پہنچے اور پھر اسلامی فلسفے اور تصوف کی دوسری کتابوں تک انہوں نے اپنے آپ کو گویا ان علوم میں بند کر لیا تھا۔ علم اور مذہبی زندگی سے اس قسم کا لگاؤ اور انہماک میں نے اپنے جاننے والوں میں کم دیکھا ہے ۔ مجھ سے وہ مسلسل اپنی دل چسپیوں کا ذکر کرتے رہتے تھے اور مجھے اس میں شرکت کی ترغیب بھی دیتے رہتے تھے۔ دوستوں کے معاملے میں یہ اُن کا ہمیشہ کا دستور تھا مگر مجھے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ عسکری اب ایک اجنبی اور نئی منزل کے مسافر ہیں ۔
کچھ عرصے کے بعد میں امریکہ چلا گیا ۔ وہاں جو خط مجھے موصول ہوئے ان میں سے صرف دو اس مجموعے میں شامل ہیں۔ دوسرے ہی خط سے صاف ظاہر تھا کہ عسکری اس نئی منزل کی راہ میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس کے بعد وہ برا بر آگے ہی بڑھتے گئے۔ چناں چہ جب میں ۱۹۶۵ ء کے وسط میں واپس کراچی پہنچا اور عسکری سے ملا تو میں نے دیکھا کہ دوسرا عسکری اب پہلے عسکری کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے اور اس سے بہت حد تک گریزاں ہے ۔ گفتگو کے دوران البتہ پہلے عسکری کی جھلکیاں نظر آجاتی تھیں مگر اب عسکری کی دُنیا بدل چکی تھی اُن کے معمولات بھی اور ان کی اصطلاحات اور حوالے بھی۔
کراچی میں ایک آدھ مہینہ گزارنے کے بعد میں لاہور آگیا ۔ ۱۹۶۵ ء کی جنگ میں نے وہیں دیکھی ۔ لاہور میں تقرر کے زمانے میں اور پھر ڈھاکے میں تقریر کے زمانے میں کراچی کے چکر بہر حال لگتے رہے اور عسکری سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں مگر میری مصروفیتوں کی وجہ سے زیادہ تر رواروی میں۔ چناں چہ میں نے دوسرے عسکری کو پورے طور پر ڈھاکے سے تبادلے کے بعد چار مہینے کی اُس چھٹی کے دوران دریافت کیا جو میں نے کراچی میں گزاری۔ اس زمانے میں فرصت ہی فرصت تھی۔ کتابیں رسالے پڑھنے اور عسکری سے گپ کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں تھا ۔
عسکری نے اپنی نئی دل چسپیوں کے بارے میں مجھے صرف آگاہ ہی نہیں کیا بلکہ باقاعدہ میری تعلیم کی۔ سب سے پہلے تو رینے گینوں کی crisis of the modern world پڑھوائی۔ پھر اس کے کچھ مضامین ۔ اس کے علاوہ انگریزی اور اُردو کی بہت سی اور کتابیں جن میں سے ایک کتاب مولانا حسین احمد مدنی کی ’’ نقش حیات‘‘ بھی تھی جس میں مولانا نے اپنے ذاتی حالات و کوائف کے بیان کے ساتھ ساتھ مسائل اور واقعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس میں مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر کڑی تنقید کی گئی تھی اور خالص دینی نقطۂ نظر سے بھی انہیں گمراہی کا مرتکب سمجھا گیا تھا۔ عسکری مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے سخت مخالف تھے اور اُن کے بارے میں مولانا حسین احمد مدنی نے جو کچھ لکھا تھا اُس کو سند کے طور پر پیش کیا کرتے تھے ۔
بات یہ تھی کہ ان معاملات میں عسکری کے نزدیک علمائے دیوبند کا نقطۂ نظر ہی مستند تھا۔ رینے گینوں سے دینی روایت کی مرکزیت اور اہمیت کا سبق سیکھنے کے بعد عسکری نے بر صغیر میں اس روایت کا نمائندہ اور پاسبان علمائے دیو بند کو قرار دیا تھا ۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن اُن کے خیال میں ۱۸۵۷ ء کے بعد کے زمانے کے سب سے بڑے آدمی تھے اور مولانا حسین احمد مدنی اُن کے شاگرد اور رفیق کار تھے لیکن وہ پاکستان کے مخالف تھے اور عسکری پاکستان کے پر جوش حامی ۔ لہٰذا عسکری نے مولانا محمود الحسن کے ایک دوسرے شاگر د یعنی مولانا اشرف علی تھانوی کا دامن تھاما کہ وہ بھی روایت کے صحیح نمائندہ اور پاسبان تھے اور انہوں نے سیاست میں جناح صاحب کی قیادت قبول کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت کی تھی۔ عسکری نے ان کو اپنا پیر و مرشد بنالیا تھا اور آخر کار ادبی معاملات میں بھی مثلاً مومن ، ذوق اور غالب کے بارے میں وہ مولانا کی تصریحات ہی کو دہرانے لگے تھے ۔ اس لیے کہ ادبی روایت دینی روایت سے الگ نہیں ہو سکتی تھی اور دینی روایت کا نمائندہ ہی ادبی روایت پر بھی حکم لگا سکتا ہے۔ یہ منطق عسکری کی اپنی تشفی کے لیے کافی تھی۔
مختصر یہ کہ ۱۹۷۰ ء کے ابتدائی مہینوں میں کہ جن کا ذکر ہو رہا ہے میں نے محسوس کیا کہ اب ’ دوسر ا عسکری‘ نہ صرف یہ کہ ایک نئی مرکزیت کی بنیاد پر اپنی ایک نئی شخصیت کی تعمیر کر چکا ہے اور اس عمارت کے تمام رخنے اور دراڑیں بھی بند کر چکا ہے بلکہ یہ کہ وہ اب اس میدان میں ایک قد آور شخصیت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اب مفتی محمد شفیع صاحب اور دار العلوم کراچی کے دوسرے بزرگوں سے اُن کی علمی صحبتیں رہتی تھیں اور کراچی سے لے کر اکوڑہ خٹک تک دینی حلقوں میں اُن کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا تھا۔ انہوں نے اپنی وہ کتاب یعنی ’’ جدیدیت‘‘ بھی لکھ دی تھی جو اُن کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔ کتاب کے شروع میں ناشر نے اطلاع دی ہے کہ یہ کتاب ۱۹۷۱ ء کے پہلے دو تین مہینوں میں مرتب کی گئی تھی۔ یہ درست نہیں کیوں کہ عسکری نے مجھے اس کا مسودہ ۱۹۷۰ ء جنوری یا فروری میں پڑھنے کو دیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ انہوں نے اسے دار العلوم کراچی کے طلبہ کے لیے ایک خاص قسم کے کورس کے notes یعنی اشارات کے طور پر تیار کیا تھا۔ کسی وجہ سے یہ کورس نہ چل سکا اور انہوں نے یہ مسودہ واپس لے لیا، میرا اپنا خیال ہے کہ عسکری نے اسے اشاعت کی غرض سے نہیں لکھا تھا۔
مسودہ پڑھنے کے بعد جب میں نے اسے عسکری کو لوٹایا تو اس موضوع پر بات چیت ہونے لگی۔ میں نے کہا کہ آپ نے اپنے نقطۂ نظر سے گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ تو بہت عمدگی سے کھینچا ہے مگر ان گمراہیوں کی بے پناہ یورش کے سامنے اور ان عوامل کے پیش نظر جو اُن کے زیر اثر خود ہمارے معاشرے میں جڑ پکڑ چکے ہیں۔ میں آپ کے اس مسودے کے آخری جملے ہی سے مکمل اتفاق کر سکتا ہوں یعنی یہ کہ اللہ اپنے دین کی حفاظت کرے گا ۔
مجھے یاد ہے کہ میرے اس فقرے پر عسکری کچھ نہیں بولے کسی قدر محظوظ ہوئے اور مسکرا کر بات کا رخ پلٹ دیا۔ بات یہ ہے کہ عسکری اپنی اس قسم کی دل چسپیوں اور سرگرمیوں سے مجھے آگاہ تو کرتے رہتے تھے مگر مجھ سے ان معاملات میں کسی گہری ذہنی رفاقت کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ ایک دوسرے کی دوستی بہر حال ہم دونوں کو عزیز تھی اور آخر دم تک عزیز رہی۔ لہٰذا وہ میری کبھی کبھی کی شوخ گفتاری سے صرفِ نظر کر دیتے تھے ۔ ان معاملات میں اُن کی ذہنی رفاقت تھی ڈاکٹر اجمل سے، جو اس لحاظ سے عسکری کے بہت قریب آگئے تھے ، یہ رفاقت شروع تو ہوئی تھی اجمل کے خاص مضمون ’’جدید نفسیات‘‘ میں عسکری کی دل چسپی سے اور ختم ہوئی ان دونوں کی مولانا اشرف علی تھانوی سے عقیدت اور ارادت پر۔
اسی دوران میں ایک دن عسکری مجھ سے کہنے لگے کہ مغربی تعلیم کے رعب میں اگر ہمارے علماء بھی دینی مدرسوں کے طلبہ کو اپنا پر انا فلسفہ پڑھانا غیر ضروری سمجھنے لگے ہیں، حالاں کہ مغرب میں اب پڑھے لکھے لوگ اس فلسفے کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور اپنے ہاں کے فاسق وفاجر لوگوں کو بھی علماء کی بات سننے کا شوق ہو نے لگا ہے میں نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’ جیسا کہ مجھے ‘‘اس پر عسکری ہنس پڑے اور میں نے فقرہ بازی کا انداز جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جناب آپ فاسق و فاجر لوگوں کو ایسی نگاہِ کم سے نہ دیکھا کیجیے۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے مولانا عبید اللہ سندھی کو دیوبند کے مولویوں اور علی گڑھ کے انگریزی پڑھے لکھوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا کام سپرد کیا تھا۔ پروفیسر سرور نے مولانا سندھی سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ شیخ الہند نے مولانا سندھی کو یہ قطعہ بھی لکھ کر دیا تھا :
ایمن مشو کہ مرکب مردان ِمرد را
در سنگلاخ بادیہ پے ہا بریده اند
نومید ہم مباش کہ رندانِ باده نوش
ناگہ بہ یک خروش بہ منزل رسیده اند
عسکری نے قطعہ سُنا تو اُن کی آنکھوں میں چمک سی آگئی ۔ کہنے لگے یار مجھے شعر یاد نہیں رہتے ۔ چناں چہ فوراً قلم اُٹھایا اور یہ قطعہ ایک کاپی میں نوٹ کر لیا۔
مولانا عبید اللہ سندھی کا ذکر آیا تو میں نے کہا کہ وہ بھی تو شیخ الہند کے بڑے چہیتے شاگرد تھے۔ وہ ان پر بڑا اعتماد بھی کرتے تھے۔ آپ کے معیار کی رُو سے تو وہ بھی روایت کے نمائندہ اور پاسبان ہوئے ۔ عسکری مولانا سندھی کو یہ مرتبہ دینے پر تیار نہیں تھے ۔ انہیں مولانا کے سوشلزم پر تو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کہا بھی تو یہ کہا کہ وہ تو سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے تھے !
عسکری اس قسم کے تعصبات سے بالا نہیں تھے۔ عقیدے کے لحاظ سے وہ وحدت الوجود کے قائل تھے کہ جو عملاً مختلف مذاہب میں رواداری، بقائے باہمی یگانگت اور وحدت کے اصولوں کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر مختلف مذاہب تو رہے ایک طرف ، عسکری مسلمانوں کے اندر بھی فرقہ بندی کی تمیز کو سختی سے روا ر کھتے تھے اور انتظارحسین نے تو لکھا ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے سے پہلے یہ پوچھتے تھے کہ یہ مسجد دیوبندیوں کی ہے کہ بریلویوں کی ۔
عسکری نے مولانا سندھی کے بارے میں جو کہا اس کی ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ مولانا سندھی جب چوبیس برس کی جلا وطنی کاٹ کر ۱۹۳۹ ء میں وطن واپس آئے تو سوشلزم کے علاوہ اُن کے خیالات میں اور بھی کئی ایسی تبدیلیاں آچکی تھیں کہ جن کو جدیدیت کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شیخ الہند کے محبوب شاگر در اور مستند دیوبندی ہونے کے باوجود اُن کے اور علماء دیوبند کے ایک با اثر گروہ کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف کا ایک پردہ حائل رہا تھا۔ اس لیے عسکری اُن کو روایت کا نمائندہ ماننے پر تیار نہیں تھے۔ مگر لطف کی بات یہ ہے کہ اختلاف کا ایک اور پردہ تو علماء دیوبند اور مولانا اشرف علی تھانوی کے درمیان بھی حائل تھا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے شیخ الہند کی تحریک آزادی ہند سے اجتہادی اختلاف کیا تھا اور انگریزی حکومت کی حمایت اور اس سے وفاداری کو جائز قرار دیا تھا۔ جو علماء دیوبند کو کبھی گوارا نہ ہوسکتا تھا۔ چناں چہ وہ ’مسلک اشرفی‘ کو جد و جہد پر عافیت کوشی کو ترجیح دینا قرار دیتے تھے اور مولانا سندھی تو بقول پروفیسر سرور مولانا اشرف علی تھانوی کے علم و فضل اور ارشاد و سلوک کے قائل ہوتے ہوئے بھی اُن کی اس روش سے بہت خفا تھے اور اپنی خفگی کے اظہار میں کبھی تامل نہیں کرتے تھے بہر حال عسکری سے بحث کرنا میرا طریقہ نہیں تھا اور ان معاملات میں تو میرا علم بھی ان کے مقابلے میں بہت ناقص تھا۔
اسی دوران یعنی ۱۹۷۰ ء کی ابتدا سے یحییٰ خان کے مارشل لا میں جب سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو عسکری کی دبی ہوئی رگِ سیاست پھر پھڑک اٹھی۔ تحریر میں تو نہیں لیکن گفتگو کی حد تک وہ پھر سیاست میں اپنی دل چسپی کا اظہار کرنے لگے ۔ ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ انہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمان ملکوں کی فکر رہتی تھی ۔ احمد سیکار نو ، جمال عبد الناصر اور ان کے بعد معمر قدافی، یاسر عرفات، جو مسلمان لیڈر مغرب کی استعماری قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہو وہ عسکری کا ہیرو تھا۔ وہ ذو الفقار علی بھٹو کو بھی اسی قبیل کا لیڈر سمجھتے تھے اور ملکی سیاست میں اب وہی اُن کے ہیرو تھے۔ ایک دن میں نے پوچھا کہ بھئی ایک طرف تو آپ ساری خرابیوں کا الزام مغرب پر ڈالتے ہیں اور دوسری طرف آپ بھٹو جیسے مغرب زدہ کو اپنا لیڈر مانتے ہیں ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ میرے اس اعتراض کا جواب بھی انہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی ہی کے حوالے سے نکال لیا۔ کہنے لگے کہ جب حضرت مولانا نے جناح صاحب کی حمایت کی تو اُن سے بھی یہی سوال کیا گیا تھا۔ اُن کا جواب تھا کہ سیاست کی دُنیا میں مسلمانوں کو ہندوؤں اور انگریزوں کا سامنا ہے۔ اُن کے ہتھ کنڈے جناح صاحب خوب سمجھتے ہیں۔ اُن کا توڑ وہی کر سکتے ہیں ۔ مغرب زدہ ہیں تو کیا مسلمان تو ہیں۔ وہ مسلمانوں کے مفاد کا سودا نہیں کریں گے۔ بھٹو کے بارے میں بھی میرا یہی خیال ہے ۔ آج کی دنیا کی سیاست اور مغربی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کو وہ سمجھتے ہیں اور وہی اُن سے نپٹ سکتے ہیں ۔
جب ۱۹۷۰ ء کے انتخابات کا ہنگامہ شروع ہوا تو اسلام پسند جماعتوں کی طرف سے ایک فتوے کا اشتہار نکلا جس میں سوشلزم کی حمایت کرنے والوں کو کا فر قرار دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہدف اس کا ذوالفقار علی بھٹو تھے کیوں کہ انہی کی جماعت نے سوشلزم کو اپنے پروگرام میں شامل کیا تھا۔ اس فتوے پر عسکری کے ممدوح مفتی محمد شفیع صاحب کے بھی دستخط تھے ۔ میں نے جب عسکری سے اس کے متعلق بات کی تو وہ کچھ جھینپ سے گئے۔ کہنے لگے کہ اصل میں مفتی صاحب کے ایک بیٹے انگریزی پڑھ گئے ہیں اور وہ اب سیاست میں اُن کے مشیر ہو گئے ہیں۔ ان کو جماعت اسلامی والوں نے ورغلا لیا ہے۔ چالا کی دیکھیے کہ مودودی نے خود تو دستخط نہیں کیے اور مفتی صاحب سے کروا لیے ۔ عسکری جیسا ذہین آدمی بعض اوقات اس قسم کی بچکانہ باتیں بھی کر دیا کرتا تھا ۔
دسمبر ۱۹۷۰ ء میں انتخابات ہوئے۔ نتیجہ نکلا تو مغربی پاکستان میں بھٹو اور اُن کی پیپلز پارٹی کامیاب اور جماعت اسلامی ناکام ۔ عسکری بہت خوش ۔ انہوں نے اس کو پاکستان میں امریکہ کی شکست گردانا۔ سلیم احمد جو عسکری سے گزشتہ پچیس برس سے بہت گہرے عقیدت مندانہ تعلقات رکھتے تھے اور ادب میں اُن کے خلیفہ سمجھے جاتے تھے اورخود عسکری بھی اُن کو بہت عزیز جانتے تھے اس دوران میں جماعت اسلامی کے حامی ہو چکے تھے۔ عسکری نے اُن سے ملنا جلنا کم کر دیا تھا۔ پہلے میں جب کراچی جاتا تھا تو عسکری سلیم کو اپنے ہاں بلوا لیتے تھے یا ایک آدھ مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ہم دونوں سلیم کے گھر پہنچ گئے ۔ اب یہ سلسلہ بند ہو گیا ۔ بہر حال سلیم نے انتخابات میں جماعت اسلامی کی ناکامی پر نثر میں ایک طویل مرثیہ بلکہ یوں کہیے کہ ’’ ملک آشوب‘‘ لکھا۔ جماعت اسلامی سے سلیم کے لگاؤ کا تو مجھے علم تھا مگر جس قسم کی شدت جذبات کا اظہار انہوں نے اس مضمون میں کیا تھا اور جس انداز سے جماعت کی ناکامی کا سوگ منایا تھا مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ اگلی دفعہ جب میں کراچی گیا تو میں نے برسبیل تذکرہ عسکری سے پو چھا کہ یہ سلیم کو کیا ہوا ؟ آپ نے اس کا وہ مضمون دیکھا تھا ؟ عسکری بولے ”جی ہاں ۔ امریکنوں سے پیسے کھا لیے ہوگے ۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا : ’’یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ‘‘ کہنے لگے : ’’ یا رسب چلتا ہے ۔ چلیے چھوڑ یےاس قصے کو۔‘‘
یہ بھی عسکری کی طبیعت کی اُسی تلخی اور شدت کا مظاہرہ تھا کہ جس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔ سلیم سے چوں کہ ناراض تھے لہٰذا اُن کے بارے میں اس قسم کی بات کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ عسکری نے آخر سلیم احمد سے قطع تعلق کر لیا اور پھر مرتے دم تک اُس سے کھنچے رہے۔ سلیم نے کئی دفعہ کوشش کی، پروفیسر کرارحسین صاحب کو بھی بیچ میں ڈالا۔ مگر عسکری نے مان کے نہیں دیا ۔ عسکری کے مرنے پر میں نے سنا ہے کہ سلیم سخت بے قرار تھے مگر چہرہ دیکھنے سے بھی ڈرتے تھے ۔ کہتے تھے کہ مجھ سے خفا گئے ہیں۔
۱۹۷۱ ء ملک جس خوں چکاں دور سے گزرا ظاہر ہے کہ عسکری اس سے دل برداشتہ تھے مگر حالات نے جو صورت اختیار کر لی تھی آخر اُس کا نتیجہ وہی ہوتا جو ہوا ۔ مغربی پاکستان بچ گیا۔ اب اس کی خیر منائیے ۔ ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا..... ذو الفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے۔ لوگوں میں کچھ خود اعتمادی پیدا ہوئی۔ عسکری کو تو بہر حال اُن سے بڑی امیدیں تھیں ۔ چناں چہ وہ بھٹو صاحب کی تقریریں اور اُن کی سرگرمیوں کے بارے میں خبریں سننے کے لیے گھر میں ٹی وی سیٹ لے آئے ۔ باقی پروگراموں کو تو وہ لہو و لعب سمجھتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور آخر ۱۹۷۷ ء کے انتخابات آگئے۔ کراچی کی ایک نشست کے لیے پیپلز پارٹی نے جمیل الدین عالی کو بھی ٹکٹ دیا تھا۔ عسکری اس پر بہت خوش تھے۔ خود مجھ سے کہا کہ بھئی دیکھیے بھٹو صاحب نے ادبیوں کا بھی خیال رکھا ۔عالی کا مقابلہ جماعت اسلامی کے ایک امیدوار سے تھا۔ شاید اسی بناء پر عسکری نے عالی کے لیے اپنے دوست احباب میں کچھ کام بھی کیا اور پھر انتخاب کے دن بڑے شوق سے اُن کے حق میں ووٹ ڈالنے بھی گئے ۔ جماعت کا امیدوار کامیاب ہو گیا ۔ اس پر بڑے ناخوش ہوئے اور کراچی والوں کو بُرا بھلا کہنے لگے ۔
انتخابات کے نتائج کے فوراً ہی بعد بھٹو صاحب کے خلاف پی ۔ این اے کی تحریک شروع ہو گئی ۔ جب اُس نے زور پکڑا اور بھٹو حکومت کا سنگھاسن ڈولنے لگا تو عسکری سخت پریشان اور فکر مند ہوئے ۔ انہوں نے اس میں ’’اسلام کے دشمنوں کی عداوت‘‘ اور کافروں کے عزائم کا ہاتھ دیکھا اور پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ مضمر پایا۔عسکری کے ان جذبات کا اظہار اُس زمانے میں سہیل احمد کے نام (محراب ۱۹۷۹ء) اور پیش نظر مجموعے کے خطوط نمبر ۸۵ ، ۸۶ اور ۸۷ میں تحریری طور پر ہوا ہے ۔ جہاں انہوں نے پاکستان کے حفظ و امان کے لیے خاص طور پر دُعائیں مانگی ہیں۔ زبانی تو انہوں نے مجھ سے بہت کچھ اور بھی کہا۔ اُن کو یقین تھا کہ بھٹو کی پیپلز پارٹی ہی پاکستان کو بچا سکتی ہے۔
جولائی ۱۹۷۷ ء میں بھٹو کی حکومت ختم ہوئی۔ ایک دفعہ پھر فوج اقتدار میں آئی اور ملک میں مارشل لاء کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ستمبر میں میری اُن سے ایک مختصر سی ملاقات ہوئی اور میں نے اُن کو بہت غمگین پایا۔ نومبر میں البتہ ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی یہ وہ زمانہ ہے جب بھٹو مرحوم قتل کے الزام میں گرفتار کیے جاچکے تھے اور مقدمہ شروع تھا یا ہونے والا تھا۔ میں نے عسکری کو اس قدر پژ مردہ اور گرفتہ دل اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سوائے بھٹو کی بات کے انہوں نے اور کوئی بات نہیں کی۔ مجھ سے پوچھا کہ کیا بھٹو بچ جائیں گے ؟ میں نے کہا مجھے تو موجودہ حالات میں یہ مشکل نظر آتا ہے ۔ مگر اس کا انحصار اس پر بھی ہے کہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے فوراً مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے خیال میں لوگ بھٹو کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اجمل صاحب کا کیا خیال ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ آخر بھٹو کے خلاف ملک میں کچھ مواد تو موجود تھا اور ساتھ ہی بتایا کہ اجمل کہہ رہے تھے کہ لوگوں میں کچھ ( ambivalent ) متضاد جذبات پائے جاتے ہیں۔ عسکری کو یہ بات کچھ اچھی نہیں لگی ۔ چناں چہ انہوں نے کسی قدر جھنجھلا کر کہا کہ آپ اور اجمل صاحب جس قسم کے لوگوں سے ملتے ہیں ان میں متضاد جذبات پائے جاتے ہوں گے ۔ میں تو ’گولی مار‘ کے رہنے والوں سے ملتا ہوں ۔ اُن کے ہاں کوئی ایسے متضاد جذبات نہیں ہیں، وہ تو سب بھٹو کے ساتھ ہیں ۔ عسکری نے ایک ترنگ میں اگر یہ کہہ تو دیا مگر میں ملاقات کے دوران سارا وقت یہ محسوس کرتا رہاکہ اُن پر ایک گھٹا ٹوپ مایوسی کا عالم طاری ہے اور دل پر جیسے ایک بو جھ سا ہے۔ اس ملاقات کے دو مہینے بعد اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔
میں نے اس مضمون میں عسکری کی دو شخصیتوں کا ذکر کیا ہے۔ ان دونوں میں جو بُعد اور دُوری ہے وہ خود عسکری کی تحریروں سے ظاہر ہے ۔ اب یہ سوال کہ دوسرے عسکری کو جنم دینے میں کون سے عوامل کار فرما تھے ایک گونہ اہمیت تو رکھتا ہے مگر اس کا کوئی حتمی جواب مہیا کرنا آسان نہیں ۔ اس لیے کہ اس کا تعلق اس بنیادی معمے سے ہے کہ کسی ایک فرد کے ذہنی اور نفسیاتی تقاضے اور میلانات، بدلتے ہوئے ماحول میں مختلف قسم کے اثرات قبول کرتے ہوئے ، اس کی شخصیت کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ مزید برآں یہ سوال عسکری جیسی شخصیت کے معاملے میں کہ جس کی ذہانت اور طباعی ایک خیال کی رائی سےایک پورے نظریے کا پہاڑ بنا سکتی ہو، اور بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ بہر حال یہاں ایک بات نہ بھولیے کہ عسکری نے اگر چہ افسانہ نگار اور نقاد کی حیثیت سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا تھا مگر ادب سے اُن کی دل چسپی محض اس کے جمالیاتی اور فنی پہلوؤں تک محدود نہیں تھی ۔ وہ ادب کو ہمیشہ سے ایک قوم کی تہذیبی علامت سمجھتے تھے ۔ اُردو ادب اُن کے نزدیک اس مرکزی تہذیبی روایت کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا جسے وہ ہند اسلامی تہذیب کا نام دیتے تھے۔ یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ اس تہذیب کے ہندوی عناصر سے بھی انہیں خاص لگاؤ تھا چناں چہ مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ :
جہاں تک ہندو کلچر کا تعلق ہے اس سے مجھے عقیدت ہی نہیں محبت ہے اور میں نے اس محبت کو کبھی چھپا کر بھی نہیں رکھا۔ اس بات کا بھی میں موئید ہوں کہ ہندو کلچر میں جو اچھی باتیں ہیں مسلمانوں کو اُن سے ضرور متاثر ہونا چاہیے۔‘‘(جھلکیاں’’ ساقی‘‘ مئی ۴۶ء)
ہاں یہ ضرور ہے کہ اسلام سے ان کی وابستگی زیادہ گہری حیثیت رکھتی تھی ۔ اسلام کے دینی اور فکری تصورات ، اسلامی تصوف اور اس کے لوازمات، برصغیر کی سرزمین میں پیدا ہونے والی ہند اسلامی تہذیب کے نشانات۔ اس کا ادب اور دیگر علوم و فنون بطور اپنے ورثے کے انہیں بہت عزیز تھے ۔ عسکری پاکستان میں بھی اسی مرکز می تہذیبی اور ادبی روایت کا فروغ چاہتے تھے ان کی یہی خواہش پاکستان کے لیے ان کے ابتدائی جوش و جذبہ کی بنیاد بھی تھی۔ یہاں آنے کے بعد پہلے تو انہوں نے اسلامی ادب کی بات شروع کی اور ترقی پسند ادیبوں سے وفاداری کے سلسلے میں ایک ادبی جنگ لڑی مگر جب حکومت نے ان کے رسالوں کے خلاف پابندیاں عائد کیں تو اس پر احتجاج کیا۔ پاکستان کے سب سے بڑے افسانہ نگار منٹو کے حق میں زور دار مضمون لکھے اور اس کے ساتھ مل کر ایک رسالہ جاری کیا۔ پھر ایک سرکاری رسالہ سے منسلک ہوئے مگر جلد ہی اس سے علیحدہ ہو گئے اور کالج میں لیکچراری کے ساتھ ساتھ ایک آزاد ادیب کی زندگی گزارنے لگے۔ چناں چہ پاکستان میں ادب اور زندگی کے مسائل سے وہ ذہنی طور پر متعلق رہے اور اُن کے بارے میں لکھتے بھی رہے ۔ یہاں تک کہ سویز کے معاملے میں ادیبوں اور اخباروں کے رویے کی آڑ لے کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ مختصر یہ کہ آزاد ملکوں میں خصوصیت سے فرانس میں ادیب اور دانش ور اپنے ملکی معاملات پر رائے زنی کا جو کردار ادا کرتے ہیں کچھ اسی قسم کا تصور عسکری نے بھی اپنے ذہن میں قائم کر رکھا تھا اور حتی المقدور وہ یہ کردار ادا بھی کرتے رہے ۔ پاکستان میں اظہار و بیان کے وسائل کچھ ایسے وسیع نہیں تھے مگر پھر بھی عسکری کے لیے پہلے دس سال تک تو ’’ساقی‘‘ کی ’’ جھلکیاں‘‘ موجود تھیں اور مضمون اگر ذرا مختلف قسم کا ہو تو جیسا کہ ہم نے دیکھا’’ امروز‘‘ کے کالم بھی۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں حالات کی رفتار سے اگرچہ وہ غیر مطمئن تھے مگر اتناتو تھا کہ اپنی بے اطمینانی کا اظہار کر کے وہ اپنے دل کا غبار نکال لیا کرتے تھے ۔ مگر جب اکتوبر ۱۹۵۸ ء میں ایوب خان کے مارشل لا کا نفاذ ہوا تو اظہار کے یہ سب وسائل یکا یک مسدود ہو گئے اور بقول راشد اس ملک میں ’’آوازوں‘‘ کا رزق ہی بندہو گیا۔
عسکری نے ایک آزاد اور خود مختار پاکستان کا خواب دیکھا تھا کہ جس میں مسلمان عوام ایک جمہوری نظام کے ماتحت زندگی بسر کریں گے مگر اب تو حالات کا رخ کسی اور ہی طرف تھا۔ عسکری پاکستان میں امریکی اثر و رسوخ سے نالاں تھے مگر مارشل لا کی حکومت کی پالیسیوں سے صاف ظاہر ہونے لگا تھا کہ اب یہ اثر و رسوخ اور بڑھے گا۔ عسکری کو اپنے سب خواب مسمار ہوتے ہوئے نظر آئے ۔ حالات کی اس نئی کروٹ نے عسکری کو بالکل بوکھلا دیا ۔ انہوں نے اس سے ایک صدمے کا سا اثر لیا۔
مجھے یاد ہے کہ دسمبر ۱۹۵۸ ء کی چھٹیوں میں وہ لاہور آئے ہوئے تھے۔ اُس وقت تک فیض صاحب سمیت کچھ ادیبوں کی گرفتاریاں بھی ہو چکی تھیں ۔ ایک شام عسکری میرے ہاں بیٹھے تھے اور ہم ملکی حالات کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ عسکری سخت پریشان اور فکرمند ہیں۔ اتنے میں میرے دوست امجد حسین کہ اُس زمانے میں پاکستان ٹائمز میں چیف رپورٹر تھے، وارد ہوئے اور آتے ہی سبط حسن کی گرفتاری کی تازہ خبرسنائی۔ عسکری بالکل سناٹے میں آگئے ۔ اُردو ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔ انگریزی میں کہا this is cold terror اور خاموش ہو گئے۔
میں عسکری کی جذباتی زندگی میں محرومی اور ناکامی کے اس صدمے کا ذکر کر چکا ہوں کہ جس نے اُن کو اندر سے ہلا کے رکھ دیا تھا۔ وہ اس سے ابھی پوری طرح سنبھلے نہیں تھے کہ ایک نیا صدمہ کہ جس کی نوعیت اگر چہ بالکل مختلف تھی عسکری کے لیے ایک تازہ محرومی لے کر آیا۔ مارشل لانے اُن کا سب سے بڑا اثاثہ یعنی اُن کا قلم چھین لیا اور یوں وہ اپنی شخصیت کے سب سے قوی سہارے سے محروم ہو گئے ۔ عسکری کے ہر وقت مصروف رہنے والے ذہن کا تقاضائے اظہار ایک مسئلہ بن گیا یہ اُن کی بنیادی طلب اور ضرورت تھی۔ سیاسی سطح پر جبر و استبداد سے نبرد آزما ہونا عسکری کے بس کی بات نہیں تھی وہ تو ایک کھلی اور آزاد فضا میں قلم کی جنگ ہی لڑ سکتے تھے ۔ لیکن اب اس کا امکان ختم ہو گیا تھا۔ لہٰذا جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں وہ ایک قسم کے مراقبے میں چلے گئے اور آخر کار اُن کی ’’واماندگئی شوق‘‘ انہیں اسلام کے دینی اور متصوفانہ فکر کی راہ پر لے آئی کہ جہاں اظہار پر کوئی پابندی اور قدغن نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔ ڈیڑھ دو برس کے مراقبے کے بعد جب عسکری ایک نئے ماہ نامے ’’سات رنگ‘‘ کے صفحات پر طلوع ہوئے تو وہ ایک دوسرے عسکری تھے ۔
عسکری نے ذہنی زندگی کی جو راہ اب اختیار کی تھی اس پر وہ ایک دفعہ چل پڑے تو پھر چلتے ہی گئے اور اگلے اٹھارہ برس یعنی اپنی زندگی کے آخری ایام تک انہوں نے اس میں وہ منزلیں طے کیں کہ جن کا اور وں نے کبھی نشان بھی نہ پایا تھا۔ ان کی عمر بھر کی بے قراری کو ان معنوں میں تو قرار آگیا کہ انہیں اپنی ذہنی زندگی کے منتشر اجزا کو مجتمع کرنے کے لیے ایک مرکزی تصور مل گیا اور ان کے ہاں اسی کی کمی پائی جاتی تھی۔ عسکری کی بے تاب روح اس حصول کی سرشاری کے ساتھ ذہنی اور تہذیبی زندگی کے مختلف شعبوں میں اس مرکزی تصویر کی نمود کا نظارہ کرنے کے لیے بھی بے تاب رہتی تھی ۔ چناں چہ تصوف اور سلوک کے رموز کی چھان بین کرتے ہوئے وہ سماع اور موسیقی سے پرانے صوفیہ کے باہمی ربط و تعلق پر تحقیق کرنے لگے، اس سلسلے میں وہ پہروں استاد امراؤ بندو خان سے راگ سنتے تھے اور اُن کے بارے میں سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی معلومات حاصل کرتے تھے۔
فکر و نظر کی یہ نئی دعوت ہی اب عسکری کی زندگی بن چکی تھی وہ ہمہ وقت دینی فکر اور تصوف کے بارے میں معلومات کی فراہمی ۔ متعلقہ مسائل پر غور و خوض اور اپنے نقطۂ نظر سے ادب و فن کی جانچ پر کھ میں لگے رہتے تھے۔ وہ اپنے حال میں مگن تھے ۔ انہوں نے اپنے ماضی یا پہلے عسکری کو باقاعدہ جھٹلانے یا مسترد کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی اور نہ شاید کبھی اس کی ضرورت محسوس کی ۔ بس اس کو بھلا دیا۔ اپنی زندگی سے خارج کر دیا۔ یہ عسکری کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ جب وہ کسی سے قطع تعلق کر لیتے تھے تو پھر کبھی پلٹ کر اس کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔ اُن کی محفل میں اس کا ذکر تک نہیں ہوتا تھا۔ مختصر یہ کہ جو سلوک عسکری نے اپنے دو دوستوں شاہد احمد اور سلیم احمد سے کیا ، دوسرے عسکری نے بھی پہلے عسکری سے وہی سلوک کیا۔
میری ملاقات اور دوستی اگر چہ پہلے عسکری سے ہوئی تھی مگر دوسرا عسکری بھی ’’تفاوتِ رہ‘‘ کے با وجود آخر دم تک میرا دوست رہا اور اُس نے اس معاملے میں مجھے کبھی کسی قسم کی دوری کا احساس نہیں ہو نے دیا۔ بلکہ اپنے طور پرکسی نہ کسی انداز میں مجھے شریک سفر بھی رکھا۔ جب عسکری نے مفتی محمد شفیع صاحب کی تفسیر کا انگریزی ترجمہ شروع کیا تو ان کا اصرار تھا کہ میں بھی اسے ایک نظر دیکھ لیا کروں ۔ چناں چہ پیش نظر مجموعے کے خط نمبر ۷۸ (۱ ا/ ستمبر ۷۵ء ) میں اس ترجمہ کی ایک قسط بھیجتے ہوئے مجھے لکھا ہے :’ آپ کو میں نے جو حصہ دکھایا تھا وہ تو آپ نے سرسری طور سے دیکھا تھا۔ بہر حال مجھے تسلی ہو گئی تھی ۔ اب اسے پڑھ کر مجھے مناسب مشورہ دیجیے۔‘‘
سید سبط حسن نے اسی مکالمے میں جس کا حوالہ دیا جاچکا ہے ۔ عسکری کے بارے میں یہ بھی کہا ہے اور بہت ٹھیک کہا ہے کہ ’’وہ اُن لوگوں میں سے تھے کہ خود ایمان داری سے جو چیز محسوس کرتے تھے ۔ اس پر کام کرتے تھے۔ عمل کرتے تھے۔ اُن کو آپ خرید نہیں سکتے تھے ۔ کوئی بھی انہیں خرید نہیں سکتا تھا۔ نہ ہی انہیں متاثر کر سکتا تھا سوائے اس کے کہ وہ سمجھ لیں کہ یہ مخلص ہےاور دیانت دار ہے۔‘‘
پہلا عسکری ہو یا دوسر ا،بنیادی بات تو یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے وقت میں اور اپنی اپنی جگہ اصلی اور سچے تھے۔ ان میں کوئی کھوٹ اور ملاوٹ نہیں تھی۔ عسکری کا خمیر بڑی خالص مٹی سے اُٹھایا گیا تھا۔ اپنے تعصبات ، اپنے تضادات اور اپنی بوالعجبیوں کے باوجود انہوں نے ہمیشہ وہی کیا جو صحیح اور درست سمجھا اور پھر اس پر عمل بھی کیا۔ اپنے خیالات کے اظہار میں بھی انہوں نے کسی مصلحت، کسی ذاتی مقصد براری کو کبھی دخل انداز نہیں ہونے دیا ۔ بلکہ ہمیشہ اخلاقی اور ذہنی دیانت داری کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کیا ۔ آخر میں یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بطورِ ایک دوست کے ذاتی طور پر میری زندگی میں عسکری کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا وہ کسی اور دوست سے نہ کبھی پورا ہوا نہ ہو سکے گا۔
( ۱۹۸۶ء- نظرثانی ۱۹۹۳ء)
(١) بعد میں یہی مضمون ’’ ساقی‘‘ میں بطور’’ جھلکیاں‘‘ بھی شائع ہوا ۔