ڈاکٹر آفتاب احمد

ڈاکٹر آفتاب احمد

ن۔ م۔ راشد

    ن۔ م۔ راشد

    ’ ماورا‘ کو شائع ہوئے کچھ عرصہ گزر چکا تھا اور ن۔ م۔ راشد شعر نو کے امام کی حیثیت سے میری نسل کے نوجوان پڑھنے لکھنے والوں کے دل و دماغ میں بسنے لگے تھے، لیکن میں نے راشد صاحب کو کبھی دُور سے بھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ان کی کوئی تصویر ہی میری نظر سے گزری تھی لہٰذا بطور شخص راشد کا کوئی تصور میرے ذہن میں موجود نہیں تھا۔ ہاں ان کے بارے میں صوفی غلام مصطفےٰ تبسم صاحب سے ایک دل چسپ واقعہ ضرور سُن رکھا تھا۔ اور وہ یہ کہ راشد ایک زمانے میں علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک سے وابستہ تھے اور اپنے ملتان کے دورانِ قیام میں وہاں کے خاکساروں کے سالار بھی تھے۔ اُسی زمانے میں انہیں گورنمنٹ کالج میں مجلس اقبال کی ایک تقریب کے لیے دعوت دی گئی۔ راشد بیلچہ بردار خاکسار سالار کی وردی میں ملبوس کالج پہنچے اور جو نہی کالج کے بیرونی گیٹ میں داخل ہوئے تو لاہور کے خاکساروں کے ایک جیش نے ان کو سلامی دی۔ مجلس میں راشد نے اپنا مقالہ پڑھا اور تقریب بخیر و خوبی انجام کو پہنچی۔ کوئی ہفتہ بھر بعد کالج کے انگریز پرنسپل کو پولیس کی طرف سے ایک رپورٹ آئی تو صوفی صاحب کی پیشی ہوگئی اور ان سے جواب طلب کیا گیا۔ صوفی صاحب نے پرنسپل کو سمجھایا کہ راشد کالج کے ایک نامور پرانے طالب علم ہیں اور اسی حیثیت سے ان کو مجلس اقبال کی ایک تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ یہ کوئی خاکسا روں کا اجتماع نہیں تھا، اس پر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔

    راشد صاحب سے جب میری پہلی ملاقات ۱۹۴۳ ء کی گرمیوں میں ہوئی تو انہیں دیکھتے ہی مجھے صوفی صاحب کا سُنایا ہوا یہ واقعہ یاد آ گیا۔ تقریب اس ملاقات کی یہ تھی کہ میرے دوست امجد حسین اور میں دہلی گئے تو میر اجی مرحوم نے ہمیں اپنے ہاں دوپہر کے کھانے پر بلایا۔ ہم دونوں وہاں پہنچےتو دیکھا کہ فرشی محفل ہے ۔ ریڈیو سے متعلق میراجی کے کچھ اور ملنے والے بھی موجود ہیں اور ایک ذرا پکے  رنگ کے دراز قد صاحب جن کے سر کے بال غائب تھے آنکھوں پر چشمہ لگائے سفید قمیص اور شلوار پہنے، ایک گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز ہیں۔ یہ تھے ن۔ م۔ راشد۔

    میرا جی نے راشد سے امجد کا اور میرا حلقۂ ارباب ذوق کے حوالے سے تعارف کر ایا مگر دو چار رسمی باتوں کے علاوہ کوئی خاص بات نہ ہو سکی۔ محفل میں راشد صاحب کا انداز کچھ صدرنشین کا ساتھا۔ کھانے کے بعد شعر کی فرمائش ہوئی تو انہوں نے اپنی ایک زیر تصنیف نظم سنائی جس کا ایک مصرع مجھے آج بھی یاد ہے :

    میں اپنی تہذیب کی سیہ چھت کی چھپکلی بن کے رہ گیا ہوں

    ممکن ہے کہ یہ مصرع راشد کی کسی نظم میں اسی طرح یا کسی بدلی ہوئی صورت میں موجود ہو مگر اس وقت یہ یاد نہیں آرہا کہ وہ نظم کون سی ہے۔ اس زمانے میں تو مجھے راشد اور فیض کا تمام کلام حفظ تھا اور میں راشد پر ایک مضمون بھی لکھ چکا تھا جو راشد سے اس ملاقات کے کچھ عرصہ بعد ’’ ادب لطیف‘‘ میں شائع ہوا ، یہ مضمون میں نے میرا جی کی موجودگی میں حلقۂ ارباب ذوق لاہور کے ایک جلسے میں پڑھا تھا۔ راشد سے میرا تعارف کراتے ہوئے میراجی نے اس کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ جب یہ مضمون پڑھ رہے تھے تو میں ان کے پاس بیٹھا تھا اور میں نے دیکھا کہ ان کے مسودے میں صرف نثر ہی نثر لکھی ہے۔ نظموں کے حوالے یہ زبانی سنارہے ہیں۔ میر اجی نے یہ بات جیسا کہ انہوں نے صراحت بھی کر دی، اپنے اس دعوے کے ثبوت میں بھی کہی   تھی کہ کون کہتا ہے کہ نظم آزاد کو یاد نہیں رکھا جا سکتا !

    راشد صاحب سے میری دوسری ملاقات تقسیم کے بعد لاہور میں ہوئی۔ بیچ میں وہ فوج کے تعلقات عامہ سے منسلک ہو کر ملک سے باہر چلے گئے تھے اور اب اس ملازمت سے فراغت پاکر واپس ریڈیو میں آگئے تھے۔ لاہور میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد وہ آزاد کشمیر ریڈیو مری میں رہے اور پھر ریڈیو پاکستان پشاور میں اور وہیں سے ۱۹۵۱ ء میں وہ یو این کی انفرمیشن سروسز کے لیے منتخب کر لیے گئے اور پھر جو وہ ملک سے نکلے تو سوائے ان چار برسوں کے کہ جب وہ کراچی میں تعینات رہے ، راشد چھٹیاں گزار نے یا ایک سے دوسرے ملک جاتے ہوئے دورانِ سفر ہی لاہور یا کراچی آتے رہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہ جب بھی آتے اپنے دوست احباب سے ملتے ضرور اور بہت سے معاملات کی طرح وہ اس معاملے میں بھی بڑے باقاعدہ آدمی تھے۔ اکثر اپنے دوستوں اور ملنے والوں کو آنے سے پہلے اطلاعاً اپنے پروگرام کی ایک نقل بھجوا دیا کرتے تھے ۔ تازہ نظموں کی ٹائپ شدہ کاپیاں بھی بھجواتے رہتے تھے یا ملنے پر دے دیتے تھے ۔ وہ ملک سے باہر رہتے تھے مگر ملک سے قریبی تعلق بر قرار رکھنا چاہتے تھے ۔ سال دو سال میں ایک آدھ چکر، دوستوں سے ملاقاتیں اور خط و کتابت سب اسی خواہش کی مختلف شکلیں تھیں۔  تا آں کہ ۱۹۵۸ ء میں ان کا تقرر یو این کے انفرمیشن سنٹر کراچی میں ہو گیا۔ کراچی میں راشد کے کئی ایک احباب پہلے سے موجود تھے ۔ مثلاً غلام عباس صاحب جن سے راشد کی خوب گھٹتی تھی ۔ ریڈیو کے پرانے بزرگ ساتھی ذوالفقار علی بخاری صاحب جن سے بالکل نہیں بنتی تھی ۔ سید رشید احمد، حمید نسیم اور ضیاء   جالندھری ۔ کچھ عرصے کے بعد آغا عبد الحمید بھی کراچی کے چیف ایڈمنسٹریٹر بن کر آگئے جنہیں راشد اپنے احباب میں عزیز ترین گردانتے تھے۔

    کراچی میں راشد ۱۹۶۱ ء کے آخر تک رہے۔ میں بھی اس زمانے میں وہیں تعینات تھا اور یہی وہ زمانہ ہے جب میں نے ان کو قریب سے دیکھا اور ان سے میرے ذاتی تعلقات استوار ہوئے۔ وہ یو این کے افسر تھے اور اُن کو بڑی معقول تنخواہ ملتی تھی۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں طارق روڈ پر رہتے تھے جو ابھی بازار نہیں بنا تھا۔ مرسیڈیز گاڑی چلاتے تھے جو انہوں نے ذاتی استعمال کے لیے خرید رکھی تھی چھٹی کے دن سیر تفریح اور تیراکی کےلیے سمندر کے کنارے جاتے تھے۔ غلام عباس صاحب کے ساتھ شطرنج کی بازی اور حقہ نوشی تقریباً روز کا معمول تھا۔ کبھی کبھی شام کی محفل کا اہتمام بھی کیا کرتے تھے جس میں اپنے کراچی کے اور دوسرے شہروں سے آنے والے احباب کو بلاتے۔ ایک دو مرتبہ فیض صاحب کو بھی بلایا۔ فیض کے ساتھ دوسروں کے ہاں بھی شام بسر کیا کرتے تھے ۔

    ایک ایسی ہی شام کا ایک واقعہ مجھے یاد آیا کہ جس سے راشد بہت لطف اندوز ہوئے تھے۔ فیض صاحب کے ایک سیاسی دوست اور جیل کے ساتھی محمد حسین عطا کراچی میں کاروبار کرنے لگے تھے۔ وہ اب بھی کراچی ہی میں ہیں۔ ایلفنسٹن سٹریٹ پر میٹروپول کی جانب والی نکڑ یعنی اس زمانے کے ایکسیلسیئر ہوٹل کے قریب ہی میرینا ہوٹل بھی  انہی کا تھا۔ عطا صاحب صوبہ سرحد کے رہنے والے ہیں۔ وہ راشد کو راشد کے قیام پشاور کے زمانے سے جانتے تھے اور ان کی شاعری کے بہت قائل تھے۔ ایک دفعہ جب فیض کراچی آئے تو عطا صاحب نے ان کی اور راشد کی ایکسیلسیئر ہوٹل میں دعوت کی جہاں ان دنوں ایک مصری بیلی ڈانسر پرنس امینہ کا فلور شو ہو رہا تھا۔ ایک خاص بات اس میں یہ تھی کہ ڈھول بجانے والا اس ڈانسر کا شوہر تھا جو کسی انگریز لارڈ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ اس دعوت میں فیض، راشد اور دونوں کے کالج کے ساتھی سید رشید احمد غلام عباس اور راقم الحروف شامل تھے۔ ہم لوگ جب وقت مقررہ پر ہوٹل کی سب سے اُوپر والی منزل پر واقع ہال میں پہنچے تو دیکھا کہ عطا صاحب کے تعلقات کی بنا پر ہوٹل والوں نے واقعی بڑا اہتمام کر رکھا ہے۔ منیجر نے خود ہمارا استقبال کیا اور ہمیں سٹیج کے قریب والی اُن دو میزوں میں سے ایک پر بٹھا دیا جن پر نہایت بڑھیا قسم کے مشروبات مع لوازمات بڑے سلیقے سے آراستہ تھے ۔ فلور شو میں ابھی دیر تھی۔ آخر جب اس کا وقت قریب آنے لگا تو فیصلہ ہوا کہ اس سے پہلے کھانا کھا لیا جائے۔ ہم لوگ ابھی کھانا کھا ہی رہے تھے کہ فلور شوکی تیاری میں ہال کی رنگین بتیاں جلنے بجھنے لگیں اور اس کے ساتھ ہی ہوٹل کے منیجر کچھ اور مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے انہیں ہماری میز کے ساتھ والی میز پر لے آئے ۔ ان مہمانوں میں اس زمانے کے وفاقی وزیر ذو الفقار علی بھٹو صاحب بھی تھے ۔ انہوں نے فیض صاحب کو دیکھتے ہی کسی قدر استعجا ب اوربڑی بے تکلفی کے لہجے میں پوچھا: Faiz, what are you doing   here   فیض صاحب نے سر اٹھا کر ایک نظر ان پر ڈالی، پھر چھری کانٹا سنبھال کر اپنی پلیٹ پر جھک گئے اور بڑی بے پروائی سے جواب دیا :’’ عیش‘‘۔ یہ لفظ انہوں نے ہر ہر حرف کی آواز کو ابھارتے ہوئے کچھ اس انداز سے ادا کیا کہ جیسے ان کا نطق ان کی زبان کے بوسے لے رہا ہو۔ ہم سب فیض صاحب کے اس جواب سے محظوظ ہوئے مگر راشد صاحب سب سے زیادہ ۔ وہ بعد میں بھی بڑا لطف لے لے کر اس کی داد دیتے رہے۔ یہاں تک کہ اسے سکندر اور دیو جانس کلبی کے اس مشہور مکالمے سے جا بھڑایا کہ جس میں سکندر کے اس سوال پر کہ اسے کیا چاہیے ؟ بوریے پر بیٹھے ہوئے دیو جانس کلبی نے صرف اتنا کہا تھا کہ ’’ ذرا ایک طرف کو ہٹ جاؤ اور دُھوپ مت روکو‘‘۔

     کراچی سے راشد صاحب کا تبادلہ نیویارک ہوا تو بہت خوش ہوئے، وہ سفر کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ اچانک ان کی بیگم کا انتقال ہو گیا۔ یوں تو وہ مدت سے بیمار بلکہ معذور چلی آتی تھیں مگر موت ان کی اس طرح ہوئی کہ ڈاکٹر نے انجکشن دیتے ہوئے ضروری احتیاط نہیں برتی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوا کے ساتھ ہوا کا بلبلہ بھی نس میں چلا گیا اور وہ آن کی آن میں جاں بحق ہو گئیں۔ اتفاق سے عباس صاحب اور میں بھی اس وقت راشد صاحب کے ہاں بیٹھے تھے ، راشد صاحب اس ناگہانی صدمے سے سٹ پٹا گئے۔ پھر بھی انہوں نے بڑے حوصلے سے کام لیا۔ چند دنوں میں اپنے آپ کو سمیٹا۔ سفر کے انتظامات مکمل کیے اور ۱۹۶۱ ء کے آخیر میں اپنی بیٹیوں اور بیٹے کو لے کر نیو یارک روانہ ہو گئے۔

    کراچی کے دوران قیام میں جب میں نے راشد صاحب کو ذرا قریب سے دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اندر سے بڑے تنہا ہیں، ان کو دوستوں کی محبت اور رفاقت کی شدید طلب رہتی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنی شاعری کے بارے میں غیر معمولی طور پر حساس ہیں۔ میرا اس دور کے بہت سے ادبیوں اور شاعروں سے ملنا جلنا رہا ہے مگر میں نے اپنی شاعری سے راشد کا سا گہرا انہماک کسی اور شاعر میں نہیں دیکھا۔ وہ اکثر مضامین تازہ کی تلاش، نظموں کے نئے نئے زاویے سوچنے اور مصرعوں کی تراش خراش کی فکر میں غلطاں و پیچاں نظر آتے تھے ۔ اور اسی لیے ان کو اپنی شاعری کی عام نہیں بلکہ خاص پر کھ اور نقد و نظر والی داد و تحسین کی طلب بھی رہتی تھی۔ دوستی اور اپنی شاعری کی تفہیم کی دوطلبوں میں سے کسی ایک طلب کے سلسلے میں جب کبھی کسی وجہ سے ان کا دل دکھتا تو وہ یا انتہائی مغموم اور آزردہ ہو جاتے یا سخت برہمی اور تلخی کے اظہار پر اتر آتے۔ راشد کی زندگی میں آغا عبد الحمید ہی ایک ایسے شخص تھے جو شروع سے آخر تک راشد کی ان دونوں طلبوں کی تشفی کرتے رہے۔ شاید پہلی طلب سے بھی زیادہ دوسری طلب کی تشفی ، جو راشد کو زیادہ عزیز تھی۔ میرا یہ تاثر راشد اور آغا حمید سے ملاقاتوں اور دو ایک بار دونوں کی ان باہمی ملاقاتوں کے دوران قائم ہوا کہ جن میں اتفاق سے میں بھی موجود تھا اس کا اندازہ آغا حمید کے نام راشد کے ان خطوط سے بھی بخوبی کیا جا سکتا ہے جو ایک عرصے کے بعد ’’ن ۔ م۔ راشد - ایک مطالعہ‘‘ میں شائع ہوئے۔ مگر آغا حمید کے ساتھ بھی با وجود تمام قرب و خلوص کے راشد کی زود حسی کا عالم دیکھیے کہ جب ایک دفعہ انہوں نے ایک خاص کام سے متعلق خط کے جواب میں تاخیر کی اور راشد نے شکایت کا خط لکھا تو اس کے القاب میں ’’ پیارے حمید‘‘کو ’’محب گرامی‘‘ ، متن میں ’’تم ‘‘کو’’ آپ ‘‘اور آخر میں ’’تمہارا‘‘ کو ’’ مخلص‘‘ راشد سے بدل دیا۔ آغا حمید کے نام پورے مجموعہ خطوط میں یہی  ایک خط ہے جو اس انداز سے لکھا گیا ہے۔

     راشد بڑے بچے اور کھرے آدمی تھے۔ بطور شاعرہی نہیں بطور شخص بھی وہ اپنا ذاتی محاسبہ کرتے رہتے تھے ۔ ایک دفعہ مجھ سے کہنے لگے کہ شکر ہے کہ خدا نے آسودہ حالی بھی دی اور عزت بھی، مگر اقتدار نہیں دیا۔ پھر خود ہی بتایا کہ ریڈیو کے زمانے میں مجھ سے بعض لوگوں کو تکلیف بھی پہنچی ہے جس کی وجہ سے مجھے بڑی کوفت اور نا خوشی کا احساس ہوا تھا۔ اپنی زود حسی کی بنا پر وہ اپنے دوستوں کی بعض معمولی اور ہنسی مذاق میں کہی ہوئی باتوں سے بھی اپنی کوفت اور نا خوشی کا سامان پیدا کر لیتے تھے۔ پہروں بیٹھے سوچا کرتے کہ فلاں نے  جو یہ بات کہی تو کیوں کہی اور کبھی کبھی اپنے رنگ میں اس سے انتقام بھی لیتے رہتے تھے ۔ اس سلسلے میں ذوالفقار علی بخاری صاحب سے اکثر خفا رہتے تھے۔ در اصل بخاری صاحب نے بڑی شوخ طبیعت پائی تھی۔ وہ کبھی ’’عذر مستی‘‘ رکھ کر اور کبھی یونہی ترنگ میں آکر اپنی بے مثل اداکارانہ صلاحیت کے سہارے بعض بڑے بڑے شاعروں کے اچھے خاصے اشعار کو ٹھٹھول کے انداز میں پڑھ کر مضحکہ خیز بنا دیا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ اقبال تک کو نہیں بخشتے  تھے اور اقبال کی مشہور غزل :

    پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

    مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مُرغِ چمن

    کا ایسا حلیہ بگاڑتے تھے کہ کیا کہیے ۔ جو ش کے کئی ایک اشعار بھی ان کا تختۂ مشق بنتے رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے فیض کو اپنے سامنے بٹھا کر ان کی غزل :

    گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے

    چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

    کا ایسا مذاق اُڑایا کہ خود فیض کا چہرہ بھی ہنستے ہنستے سرخ ہو گیا۔ بخاری صاحب اس معاملے میں راشد کی حساسیت سے واقف تھے مگر کبھی کبھی ان کی رگِ شرارت ایسی پھڑکتی تھی کہ وہ راشد کی نظموں اور مصرعوں پر بھی ہاتھ صاف کر دیا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ میرے سامنے بھی یہ معاملہ ہوا ۔ راشد صاحب سخت بد حظ ہوئے اور بخاری صاحب سے نہ ملنے کا عہد کر لیا۔ میں نے کہا بھی کہ یہ ان کی محض شوخی اور شرارت تھی مگر راشد صاحب نے اسے اپنی تو ہین گردانا۔ بہر حال کچھ دنوں کے بعد بخاری صاحب راشد کو منانے ان کے گھر چلے آئے مگر راشد کا دل صاف نہیں ہوا۔ وہ اس قسم کے مذاق کو کبھی بھولتےہی نہیں تھے۔

    اپنی شاعری کے بارے میں راشد صاحب کی زود حسی کی ایک اور مثال میرے نام ان کے ایک خط سے بھی واضح ہے۔ اس خط میں انہوں نے مجھے یہ اطلاع دی ہے کہ ان کو میرے ایک ہم نام آفتاب احمد خاں نے (پاکستان سول سروس کے ایک سینئر افسر) ضیا ء جالندھری کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کی تازہ نظموں پر فیض نے اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا حالاں کہ انہیں ضیا ء محی الدین نے جو کچھ بتایا تھاوہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے راشد صاحب کو جواب میں لکھا کہ آپ سنی سنائی باتوں کا نوٹس ہی کیوں لیتے ہیں۔

    مگر بات یہ تھی کہ وہ فیض کی رائے کا کھوج لگاتے رہتے تھے ۔ راشد فیض کی شاعرانہ صلاحیتوں سے زیادہ ان کے علم اور ناقدانہ صلاحیتوں کے قائل تھے اور فیض راشد کی شاعرانہ صلاحیتوں کے۔ فیض جب مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں آئے تو وہاں کالج کے شاعروں میں راشد کا طوطی بولتا تھا۔ فیض صاحب نے خود مجھ سے کئی بار کہا کہ بھئی شاعر توہم میں سے راشد تھا۔ ہم نے تو کا لج میں یہی سوچا تھا کہ کوئی ترجمے یا تنقید کا کام کریں گے مگر رفتہ رفتہ ہم شاعر ہی ہو گئے۔ شروع شروع میں تو دونوں نے ایک دوسرے کے لیے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ راشد نے اپنی پہلی کتاب ’’ماورا‘‘ ، فیض کے نام معنون کی اور فیض نے اپنی پہلی کتاب ’’نقش فریادی ‘‘کا دیباچہ راشد سے لکھوایا ۔ مگر شاعری اور زندگی میں دونوں کے راستے الگ الگ تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی الگ ہوتے گئے۔ راشد کو فیض کے ادبی اور سیاسی مسلک سے اختلاف تھا اور اس پر وہ بر ملا اعتراض بھی کرتے رہتے تھے۔

    ’’ ایران میں اجنبی‘‘ کی ایک نظم ہے ’تہمت‘ ، جس میں’’ اشترا کی مسخرے‘‘ کی پھبتی بھی کہی گئی ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نظم فیض کے بارے میں ہے ۔ یہ خیال غلط ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اس نظم کے مخاطب تھے مولانا چراغ حسن حسرت جو فوج میں تعلقات عامہ کے افسر کی حیثیت سے راشد صاحب کے ساتھی بھی رہے تھے اور ہم پیالہ و ہم نوالہ بھی۔ راشد صاحب زبان و لغت کے معاملے میں ان کی قابلیت سے قائل بھی تھے اور ان سے بد کتے بھی تھے۔ انہوں نے کہیں ’’ سرِ جام ِشراب ‘‘ خاکسار تحریک سے راشد کی وابستگی کے حوالے سے انہیں ’’آمریت کا ہوا خواہ‘‘    کہہ دیا تھا جس پر راشد بگڑ گئے اور یہ ہجو کہہ ڈالی حالاں کہ مولانا حسرت غریب کہاں کے اشتراکی تھے۔

    البتہ ’’ ایران میں اجنبی‘‘ کی ایک اور نظم ’’انقلابی‘‘ کا خطاب فیض ہی سے معلوم ہوتاہے اس میں ’’پنڈی سازش کیس‘‘ کی طرف واضح اشارہ بھی ہے :

    یہ تاریخ کے ساتھ چشمک کا ہنگام تھا ؟

     یہ مانا تجھے یہ گوارا نہ تھا،

    کہ تاریخ دانوں کے دامِ محبت میں پھنس کر

    اندھیروں کی روحِ رواں کو اُجالا کہیں

     مگر پھر بھی تاریخ کے ساتھ

    چشمک کا یہ کون ہنگام تھا ؟

    تاریخ کو اس نظم میں ایک ایسی’’ عروس‘‘  کہا گیا ہے جو ’’جدائی کی دہلیز پر، زلف در خاک، نوحہ کناں‘‘  غم زدہ اور ’’مضطرب جاں‘‘ ہے اور جس کے ساتھ ’’انقلابی‘‘ نے ’’چشمک‘‘ کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش کو راشد کس نظر سے دیکھتے تھے وہ نظم کے آخری بند سے صاف عیاں ہے :

    مگر تو نے دیکھا بھی تھا

    دیو تا تار کا حجرہ ٔتار

    جس کی طرف تو اسے کر رہا تھا اشارے

    جہاں بام و دیوار میں کوئی روزن نہیں ہے

     جہاں چار سو باد و طوفان کے مارے ہوئے راہگیروں

    کے بے انتہا استخواں ایسے بکھرے پڑے ہیں ؟

    ابد تک نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر فغاں !

     مگر اس واقعے کے بعد کہ جو راشد کی اس نظم کا موضوع ہے، عام اس سے کہ ’’انقلاب‘‘ نے تاریخ کے ساتھ جو ’’چشمک ‘‘ کرنی چاہی تھی اس کی نوعیت کیا تھی ، بطور شخص ہی نہیں بطور شاعر بھی فیض کی مقبولیت اور شہرت کا گراف جو ایک زمانے میں راشد کی مقبولیت اور شہرت کے گراف سے ذرا نچلی سطح سے شروع ہوا تھا برابر اونچا اٹھتا گیا ملک میں بھی اور مملک سے باہر بھی۔

    یہاں اس امر کا ذکر بھی دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ روس کے متعلق راشد کے خیالات کچھ ہی رہے ہوں وہ انٹرنیشنل سول سرونٹ تھے اور یو این میں کئی روسیوں سے ان کی اچھی خاصی ملاقات تھی جن میں سے ایک دو کو انہوں نے مجھے بھی ملوایا تھا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان کا افسر اعلیٰ بھی اس زمانے میں ایک روسی تھا۔ بہر حال وہ روس سے اتنے بے تعلق نہیں تھے اور ظاہر ہے کہ روس میں بر صغیر کے ادب و شعر سے دل چسپی رکھنے والے حلقے جدید اُردو شاعری میں راشد کے مقام اور مرتبے سے ناواقف نہیں تھے ۔ چناں چہ جب ۱۹۶۵ ء میں روسی ادیبوں کی طرف سے راشد کو روس کے دورے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے اسے نہایت خوشی سے قبول کیا۔ اپنے ساتھ وہ اپنے بیٹے شہر یار کو بھی لے گئے جو اس وقت شاید سکول کی آخری جماعت میں تھے اور جن کے بارے میں راشد صاحب نے مجھے نیو یارک میں کسی قدر محظوظ ہو کر بتایا تھا کہ وہ انگریزی میں شعر کہنے لگے ہیں۔ بہر حال راشد صاحب اور شہر یار ماسکو پہنچے مگر کچھ دنوں کے بعد ہی ہندوستان ،پاکستان کی جنگ چھڑ گئی اور پہلے ہی دن جب بی بی سی نے یہ خبر دی کہ ہندوستانی فوجیں لاہور میں داخل ہو گئی ہیں تو ر اشد سخت پریشان ہوئے ۔ انہوں نے دورہ منسوخ کیا اور لندن روانہ ہو گئے ۔

    را شد صاحب اگر اپنے دوستوں سے محبت اور رفاقت کی طلب رکھتے تھے تو وہ کم سے کم اپنے ان دوستوں سے کہ جن سے انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ محبت اور رفاقت برتنے کے اہل بھی تھے ۔ وہ بہت اچھے میزبان تھے اور دوستوں کی خاطر تواضع کا انہیں شوق تھا۔ ان کی میزبانی میں خلوص کے ساتھ اہتمام کا عنصر بھی شامل رہتا تھا۔ ہاں اپنے دوستوں سے بھی وہ یہی توقع رکھتے تھے اور اس میں کوتاہی کو شدت سے محسوس کرتے تھے ۔ اس سلسلے میں فیض صاحب کے رویے کے متعلق ساقی فاروقی نے راشد پر اپنے مضمون میں راشد کے حوالے سے جو واقعات لکھے ہیں وہ راشد صاحب نے مجھے بھی سنائے تھے مگر اس رنگ میں نہیں جس میں ساقی نے انہیں پیش کیا ہے۔ مجھ سے انہوں نے جو کچھ کہا اس میں ایک ایسی آزردگی پائی جاتی تھی جو کسی ایسے دوست کی بے تو جہی سے پیدا ہوتی ہے جس سے آدمی کچھ زیادہ کی توقع رکھنے لگتا ہے ۔ ساقی نے لکھا ہے کہ راشد صاحب نے چند ایک دوسرے احباب سے بھی ان واقعات کا ذکر کیا تھا، ضرور کیا ہو گا ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ محض اپنا دل ہلکا کرنے کے لیے ان کا مقصد ان واقعات کی تشہیر نہیں تھا اور نہ فیض کی تضحیک۔ خود ساقی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے مضمون میں ان کو دہراتے ہوئے اپنے آپ سے بہت اُلجھے مگر پھر سوچا کہ اس کے بغیر راشد کی پوری شخصیت کا احاطہ نہیں ہو سکے گا۔ اس پوری شخصیت میں وہ پہلو بھی آجاتا ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے ۔ البتہ ساقی کے بیان سے یہ پہلو مترشح نہیں ہوتا۔

    بعض اوقات تو راشد   اپنے دوستوں سے اپنی محبت اور شفقت کا اظہار اس انداز میں کرتے تھے کہ آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ میں جب ڈاکٹریٹ کے طالب علم کی حیثیت سے لاس اینجیلز پہنچا تو راشد نیو یارک میں تھے۔ چند ہفتوں کے بعد میری بیوی نیو یارک وارد ہوئیں۔ دوسرے دن صبح ان کو لاس اینجیلز کا جہاز پکڑنا تھا۔ پی آئی اے والوں نے نیو یارک میں ان کے قیام کے لیے ائیر پورٹ ہوٹل میں سب انتظام کر رکھا تھا اس کے باوجود راشد صاحب اپنی بیٹیوں کو لے کر نیو یارک کے ہوائی اڈے پر پہنچے ۔ میری بیوی کا استقبال کیا۔ وہ انہیں جانتے بھی نہیں تھے کیوں کہ ہماری شادی چند ہی ہفتے پہلے ہوئی تھی۔ ان کو ہوٹل میں پہنچا کے گھر لوٹے تو مجھے فون کیا۔ ان کے ہوٹل کا نمبر مجھے دیا۔ دوسرے دن صبح لاس اینجیلز کی فلائٹ کے بارے میں جملہ تفصیلات سے آگاہ کیا جو بہر حال مجھے پہلے سے معلوم تھیں۔ اور پھر خالص بزرگانہ ہدایت کی کہ ایئر پورٹ پر وقت سے پہلے پہنچ جانا۔ بعض اوقات جہاز جلدی بھی سفر طے کر لیتا ہے ۔ یہ تھی را شد صاحب کی وہ باقاعدگی جو زندگی کے اکثر شعبوں میں وہ روا رکھتے تھے مگر اس موقع پراس میں محبت اور شفقت کی چاشنی بھی تھی ۔

    چند ہی ہفتوں کے بعد اسی قسم کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ میں اور میرے دوست ڈاکٹر ہمایوں خان کہ جو آج کل ہماری وزارت خارجہ کے سیکرٹری ہیں اور اُس وقت میرے ساتھ ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔ یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک گروپ کے ہمراہ فیلڈ ٹرپ پر نیو یارک گئے۔ میں نے فون پر راشد صاحب کو پہلے سے اس کی اطلاع دی اور ہمایوں کے بارے میں بھی بتایا اس لیے کہ راشد پشاور میں رہ چکے تھے اور ہمایوں کے خاندان والوں کو جانتے تھے۔ نیو یارک پہنچنے پر میں نے جب اپنے ہوٹل سے راشد کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ نہوں نے ہم دونوں کی خاطر مدارات کا ایک پروگرام بنا رکھا ہے۔ ان دنوں فورسٹرکے ناول passage to india کی ڈرامائی تشکیل براڈوے کے ایک تھیٹر میں دکھائی جارہی تھی جس میں ضیاء محی الدین بھی حصہ لے رہے تھے۔ راشد صاحب خود تو کھیل دیکھ چکے تھے مگر انہوں نے ہمایوں اور میرے لیے اس کھیل کے دو ٹکٹ لے رکھے تھے۔ چناں چہ ہم دونوں نے وہ کھیل دیکھا اور بیک سٹیج  جاکر ضیاء سے بھی مل آئے ۔

    نیو یارک سے میں واشنگٹن گیا اور مجھے واشنگٹن اتنا پسند آیا کہ میں نے اپنا تبادلہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں کروالیا اور چند مہینوں کے بعد ہم لوگ واشنگٹن ڈی سی آگئے ۔ اب اپنے کام کے سلسلے میں بھی مجھے نیو یارک جانا پڑتا تھا لہٰذا راشد صاحب سے میل ملاپ زیادہ رہنے لگا۔ اسی دوران میں انہوں نے مجھ سے یو این کے سکول میں اپنی سب سے چھوٹی بچی کی اُستانی شیلا کا ذکر کیا اور اس کے بعد اس خاتون سے اپنے بتدریج بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں کچھ نہ کچھ برا بر بتاتے رہے۔

    ایک دفعہ جب میں اور میری بیوی نیو یارک گئے تو راشد صاحب نے بڑے اصرار کے ساتھ ہمیں اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اور ایک شام انہوں نے شیلا کو ہم سے ملانے کے لیے اپنے گھر چائے پر بلایا اور اس کے بعد شیلا کو اور ہم دونوں کو چینی کھانا کھلانے نیو یارک کے مشہور و معروف چائنا ٹاؤن کے ایک اعلیٰ ریستوران میں لے گئے چینی کھانا را شد صاحب کی خاطر مدارات کا ایک جزو ہوتا تھا ۔ وہ خود اس کے بہت شوقین تھے اور اپنے ذوق و شوق کا اظہار اس طرح بھی کرتے تھے کہ چھری کانٹے کی بجائے ہمیشہ چوپ اسٹکس سے کھاتے تھے۔

    اپنے ہاں کے بعض بعض کھانے بھی انہیں بہت مرغوب تھے ، چناں چہ ایک شام انہوں نے بڑے اہتمام سے اپنے ہاتھ سے بکری کے پائے پکائے جو وہ معلوم نہیں نیو یارک کے کسی گمنام گوشے سے بطور خاص لے کر آئے تھے ۔ ان کے پکانے میں میری بیوی یا اپنی بیٹیوں سے بھی مدد نہیں لی ، کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ یہ خالص میری دعوت ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں صرف مہمان نوازی ہی نہیں محبت کا اظہار بھی تھا۔ اسی طرح واشنگٹن میں ہمارے ہاں آئے تو میری بیوی سے آلو گوشت اور خمیری روٹی کی فرمائش کی۔ اور پھر جب کھانے پر بیٹھے تو اس طرح انگلیاں چاٹ چاٹ کے کھایا کہ شیلا کے چہرے کا رنگ بدل بدل گیا۔ راشد صاحب اور شیلا میں اس قسم کے اختلاف کے پہلو شروع ہی سے نکلتے رہتے تھے جو بعد میں کچھ زیادہ ہو گئے۔

    اس قیام کے دوران دو ایک شامیں ہماری کچھ امریکی دوستوں کے ساتھ گزریں ۔ اور پھر ایک شام راشد صاحب کے پرانے رفیق کارجی ۔ کے۔ فرید کے ہاں کہ وہ بھی ریڈیو سے یو این کی انفرمیشن سروسز میں چلے گئے تھے ۔ اُن سے اور اُن کی بیگم سے میری بھی یاد اللہ تھی اور وہ دونوں میری بیوی کے خاندان کے پرانے جاننے والے بھی تھے ۔ فرید صاحب کا گھر فلشنگ میڈوز میں تھا جہاں شروع شروع میں یو این کا صدر دفتر ہوا کرتا تھا۔ اب وہاں یو این کے اہل کاروں کی ایک بستی بن گئی تھی ۔ ظاہر ہے کہ فرید صاحب نے راشد کو بھی بلایا۔ میں نے محسوس کیا کہ راشد صاحب نے ہماری یہ دعوت قبول کر نا کچھ پسند نہ کیا۔ بعد میں مجھ سے کہنے لگے کہ بہت دُور جگہ ہے ، تم نے ٹال دیا ہوتا ۔ اب تمہارے ساتھ مجھے بھی جانا پڑے گا۔ میں نے کہا کہ فرید صاحب نے ہمیں کار میں لے جانے اور واپس پہنچانے کی پیش کش بھی کی تھی میں دوری کا بہانہ کیسے کرتا۔ اصل بات یہ تھی کہ راشد صاحب کی شامیں تو اب شیلا کے ساتھ گزرتی تھیں اور فرید صاحب نے شیلا کو بلایا نہیں تھا۔ راشد کی طبیعت کچھ مکدر تو ہوئی مگر چوں کہ فرید صاحب نے دوستانہ خلوص سے بہت تاکید کی تھی لہٰذا وہ ہمارے ساتھ فرید صاحب کی کار میں دفتر کے اوقات کے بعد یو این کے صدر دفتر ہی سے روانہ ہو گئے ۔ فرید صاحب کے گھر پہنچے تو شام ہو چکی تھی۔ کچھ دیر کے بعد دوسرے مہمان بھی آگئے اور گپ شپ شروع ہوگئی۔ اچانک میں نے دیکھا کہ راشد صاحب غائب ہیں۔ میں نے فرید صاحب سے پوچھا تو انہوں نے ذرا شرارت آمیز لہجے میں مجھے جواب دیا کہ اوپر کے کمرے میں اپنی مخدومہ کے ساتھ فون پر محوِ گفتگو ہیں۔ یہ گفتگو ساری شام مختصر وقفوں کے ساتھ جاری رہی اور آخر کار واپسی کا وقت آگیا۔ راشد فرید صاحب کے ہاں مارے بندھے چلے تو گئے تھے مگر اپنا انتقام انہوں نے اس طرح لیا کہ ان کی محفل میں سکون سے بیٹھ کے نہیں دیا۔

    نیو یارک میں ہمارے اسی قیام کے دوران راشد صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ شیلا سے شادی کا فیصلہ کر چکے ہیں مگر شیلا کے آخری فیصلے میں ابھی دیرہ ہے ۔ وہ یورپ جائیں گی اور اپنے ماں باپ سے بات کریں گی ۔ شیلا کے والد اطالوی تھے اور والدہ انگریز، اور ان کا ایک گھرلندن میں تھا اور ایک روم میں ۔

    چند مہینوں کے بعد راشد اور شیلا واشنگٹن آئے اور ہوٹل میں ٹھہرے۔ ہمارےہاں دو ایک دفعہ کھانے پر آئے ۔ اب کے شیلا کا اندا ز صاف کہے دیتا تھا کہ وہ راشد سے شادی کرنے والی ہیں۔ مگر راشد صاحب کو طرح طرح کے تو ہمات نے گھیر رکھا تھا ۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے اکیلے میں اپنے ان تو ہمات کا مجھ سے بارہا ذکر کیا۔ کبھی ان کو رنگ ونسل کا فرق پریشان کرتا تھا اور کبھی عمروں کا تفاوت، اور سب سے زیادہ وہ رقیب کہ جس کا سایہ شیلا کے ماضی میں لرز رہا تھا اور راشد کو اس اندیشے نے مار رکھا تھا کہ شیلا کے یورپ جانے پر وہ کہیں نمودار نہ ہو جائے اور بنی بنائی بات بگاڑ دے ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس زمانے میں راشد کے اندر ’’شوق کی وارفتگی‘‘ اور ’’ خریدار کی طلب‘‘ نے ایک حشر بپا کر رکھا تھا۔ شیلا سے اُن کا معاملہ راشد کے لیے ایک معرکہ بن گیا تھا۔ وہ عشق نہیں کر رہےتھے ایک مہم پر رواں تھے جس میں انہوں نے ’’متاع عقل و دل و جاں‘‘ کی بازی لگارکھی تھی اور جس میں انہیں بہر حال کامیاب ہونا تھا۔ وہ اپنے آپ کو قدیم اُردو شاعروں کا ’’ نا کام و نامراد اور غمزدہ عاشقِ زار‘‘ دیکھنے پر ہر گز تیار نہیں تھے۔ وہ تو ہمیشہ ان کی طنز کا ہدف بنا رہا تھا۔

    آخر شیلا یورپ گئیں ۔ اس دوران میں راشد صاحب کے دل نے بہت پیچ  و تاب کھائے مگر ان کے سب خدشات باطل ثابت ہوئے ۔ شیلا واپس آئیں ۔ سب معاملات بخیر و خوبی طے پاگئے تھے ۔ شادی لندن میں ہوئی اور کچھ دنوں کے بعد دونوں میاں بیوی نیو یارک لوٹ آئے اور ایک ساتھ رہنے لگے ۔

     اب کے جو میں اور میری بیوی نیو یارک گئے ۔ راشد اور شیلا سے ملے تو دیکھا کہ شیلانے گھر کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ فرنیچر، کراکری، کٹلری، ہر چیز نئی اور خوبصورت ، کمروں کی آرائش و زیبائش میں بھی ایک نیا ذوق نظر آتا تھا۔ شیلا نے بڑے قرینے سے روایتی انگلش ہائی ٹی سے ہماری تواضع کی۔ راشد صاحب اس نئے ماحول میں خوش بھی تھے اور سرگوشیوں میں مجھ سے یہ شکایت بھی کیے جارہے تھے کہ زندگی میں یہ سب کچھ بھی ہونا چاہیے مگر اسراف کے ساتھ نہیں۔ تم نے تو دیکھا تھا بھلا گھر کے پرانے سامان میں کیا خرابی تھی ۔ پھر خود ہی ہنسے اور کہا مگر اب گھر کی مالکہ جو فرنگی ٹھہری اور وہ نئی بھی ہے ۔ راشد صاحب کا مسئلہ در اصل یہ تھا کہ زندگی کی ہر پرواز میں ان کی آنکھ ہمیشہ اپنے’’ نشیمن‘‘ پر لگی رہتی تھی اور یہ نشیمن تھا ان کا تخلیقی جوہر۔ جس کے سامنے ان کے لیے دنیا کی ہر چیز ہیچ تھی۔ شیلا بالکل اور طرح کی خاتون ہیں۔ اُن کے لیے راشد کا شاعر ہونا ایسی بے بہا اہمیت نہیں رکھتا تھا اور اس کی وجہ محض زبان سے نا آشنائی نہیں تھی ۔

    راشد صاحب اور شیلا سے اگلی ملاقات ۱۹۷۱ ء کے موسم بہار میں لاہور میں ہوئی وہ دونوں شام کے کھانے پر ہمارے ہاں آئے ۔ دیر تک گپ ہوتی رہی ۔ شیلا کو لاہور کی ہر یالی اور کھلی فضا تو پسند آئی  مگر لوگوں کے عادات و خصائل، سڑکوں پر کوڑا کرکٹ ، انٹر کونٹی نینٹل ہوٹل میں صفائی ستھرائی کی کمی کے بارے میں انہیں بہت شکایات تھیں۔ یہاں کچھ لوگوں سے مل کر ان کو یہ خیال بھی ہو گیا کہ وہ یہاں ہمیشہ اجنبی ہی رہیں گی ، گھل مل نہیں سکیں گی۔ اس گفتگو کے دوران راشد صاحب کی عجیب کیفیت تھی۔ کبھی وہ شیلا کی ہاں میں ہاں ملاتے اور کبھی ان کی باتوں کی تردید کرتے۔ ایک آدھ مرتبہ یہ تر دید کسی قدر ناخوشگوار بھی ہو گئی ۔ اس ساری بحث کے پیچھے دراصل ایک ہی بنیادی سوال تھا کہ جس نے راشد صاحب کو پریشان کرنا شروع کر دیا تھا یعنی یہ کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی بقیہ عمر کہاں بسر کریں ۔ بات یہ تھی کہ دماغی طور پر تو راشد صاحب بڑے جدت پسند واقع ہوئے تھے۔ وہ مغرب کے ادب اور مغرب کے خیالات ہی کے نہیں، مغرب کی عام روز مرہ زندگی کے طور طریقوں کے بھی بہت دلدادہ تھے ۔ ان پر عمل بھی کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں اپنے ہاں کے طور طریقوں کو ہدفِ تنقید بھی بنایا کرتے تھے اور آخر میں تو انہوں نے اپنی رفیقۂ حیات بھی مغرب ہی سے انتخاب کی تھی۔ لیکن اس مغرب پسندی کے باوجود وہ اصل میں تھے دیسی آدمی اور انہیں وہ خاک بہر حال بہت عزیز تھی جس سےان کا خمیر اٹھا تھا۔

     اکتوبر ۱۹۷۱ ء میں مجھے تہران جانے کا اتفاق ہوا۔ راشد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ نہایت اچھے علاقے کے ایک نہایت اچھے گھر میں رہتے تھے۔ مجھے اپنے کچھ ایرانی دوستوں سے بھی ملوایا۔ حسب معمول تہران کے ایک اعلیٰ ریستوران میں کھانا بھی کھلایا۔ شیلا ان دنوں لندن گئی ہوئی تھیں ۔ اُن سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ میں نے محسوس کیا کہ اب راشد صاحب کی یہ اُدھیڑ بن کچھ اور بھی زیادہ ہو گئی ہے کہ ملازمت سے فارغ ہو کر وہ کہاں رہیں۔ ایران میں، کہ انگلستان میں ،کہ پاکستان میں۔ وہ اس سلسلے میں جس شدید ذہنی کش مکش میں مبتلا تھے ۔ اس کا براہ راست تعلق ان کی ازدواجی زندگی سے تھا۔ دل و نظر کا وہ معاملہ کہ جسے انہوں نے ایک زمانے میں معرکہ بنا کر سر کیا تھا اب ان کے لیے اک اضطراب مسلسل بن گیا تھا۔

     راشد صاحب سے میری آخری ملاقات راولپنڈی میں ۱۹۷۴ ء کے موسم بہار میں ہوئی ۔ اس میں انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے بیٹے شہریار نے جو مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد پاکستان فارن سروس میں شامل ہو چکے تھے، ایک پاکستانی لڑکی سے شادی کی ہے۔ اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سروس اور بیوی کی وجہ سے اس کا پاکستان سے تعلق تو رہے گا اور اپنے بارے میں یہ اطلاع دی کہ آخر انہوں نے انگلستان میں بس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ یہ فیصلہ ان کی اپنی مرضی کے سراسر خلاف تھا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں شیلا کی مرضی کو زیادہ دخل تھا۔ اور راشد صاحب نے شیلا کی خاطر اور اپنے چھوٹے بیٹے نزیل کی تعلیم کے پیش نظر اپنے آپ کو ذہنی طور پر اس فیصلے کا قائل کر لیا تھا مگر اس کے با وجود وہ وطن اور احباب سے دوری اور انگلستان میں رہتے ہوئے اپنی بے اماں ذہنی تنہائی کے خیال سے خائف تھے ۔

    اس سلسلے میں ان کے آخری زمانے کے خطوں کے بعض جملے اب بڑے با معنی اور اہم معلوم ہونے لگے ہیں ۔ مثلاً ١٠/ ر مارچ ۱۹۷۳ ء کے ایک خط میں اپنے دوست امین حزیں   میں کو لکھا ہے ۔’’ یہ جانتا ہوں کہ آئندہ زندگی کے لیے سب سے بڑا سہارا پاکستان ہی ہے وہیں عزیز اور دوست بھی ہیں اور وہیں میری تمام ادبی شہرت بھی ۔‘‘ یہ مرنے سے کوئی چار ہفتے پہلے یعنی ۱۲/  ستمبر ۱۹۷۵ ء کو ڈاکٹر جمیل جالبی کے نام ایک خط میں جواب میں تاخیر کی وجہ یہ بتائی ہے :

    ’’ بہت سے دن پے در پے ایسے گزر جاتے ہیں کہ کچھ لکھنے پڑھنے کو جی نہیں چاہتا۔ انگلستان میں رہ کر سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ ان احباب سے دُور ہو گیا ہوں جنہیں اہل دل میں شمار کرتا ہوں اور جن کے ساتھ گفتگو مایۂ الہام بنتی تھی۔‘‘

     معلوم ہوتا ہے کہ دُوری اور محرومی کا یہ احساس، ایک احساسِ زیاں کی صورت اختیار کر کے راشد کے دل کا بوجھ بن گیا تھا ۔ انگلستان میں ان کی زندگی کی کوئی تصویر میرے ذہن میں نہیں کیوں کہ اس دوران میں نہ میں وہاں گیا اور نہ اُن سے کوئی ملاقات ہوئی۔ یہ مدت تھی بھی بہت مختصر۔ راشد ١٤/ اگست ۱۹۷۴ ء کو انگلستان پہنچے اور ایک سال دو مہینے بھی نہیں ہوئے تھے کہ  ٩/ اکتوبر ۱۹۷۵ء  وہ ایک لحظے میں اس جہان سے رخصت ہو گئے۔ مرنے سے پہلے وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر چکے تھے کہ انہیں سپرد ِخاک نہیں، نذر آتش کیا جائے۔ ممکن ہے اس میں راشد کی وہی جدت پسندی کار فرما ہو کہ جس کی بدولت انہیں ہربات میں پا بستگی ٔ رسم و رہِ عام اور روایت سے ہٹ کر طرح ِنو ڈالنے کی روش خوش آتی تھی اور پھر یہ بھی ہے کہ آگ سے اپنی والہانہ شیفتگی کا اظہار وہ اپنی نظم ’’ دل مرے صحرا نوردِ پیرِ دل ‘‘میں آگ کو ’’رنگوں کا خزینہ‘‘ اور ’’ لذت کا سرچشمہ‘‘ کہہ کے کر رہی چکے تھے مگر کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ راشد نے اپنی مٹی انگلستان کی مٹی کو سپرد نہ کر کے کہیں انگلستان میں بس جانے کے خلاف اپنا انتقام تو نہیں لیا تھا ؟ !

    ( ۱۹۸۸ء)