محمد حمید شاہد

محمد حمید شاہد

موت کا بوسہ

    موت کا بوسہ

    جب اُس کا جنازہ اُٹھا تو شور وشیون نے دل کو برچھی بن کر چھید ڈالا تھا۔

    مرنے والے مر جاتے ہیں ..... دنیا سے منہ پھیرتے ہی اس شورِ قیامت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں، جو ان کے پیاروں کی چھاتیاں ٹوٹ کر ادھر ادھر ڈھیر کر دیتی ہیں۔

    بیٹے ،بیٹیاں، بیوہ، بھائی، بہنیں، عزیز واقارب، دوست احباب ..... جو جتنا قریب ہوتا ہے اُس کا سینہ اتنی ہی شدت سے ٹوٹتا ہے اور تڑاخ کی آواز چیخ بن کر اتنے ہی آسمانوں کو چھوتی ہے۔

    مسلم ٹاؤن کی گلی نمبر پانچ سے جب اُس کا جنازہ اُٹھا تھا تو رونے والوں کی چیخیں میرے سینے میں برچھی کی طرح اتری تھیں۔

    اور جب اُس کا جنازہ کندھوں پر اُٹھا کر گلی سے باہر لے جایا جارہا تھا تو میں سوچ رہا تھا کہ زندگی اور موت کو کیوں کر سمجھا جا سکتا تھا؟

    سارتر جب بچہ تھا اُسے مادام پکارڈ نے چمڑے کی جلد والی ایک ایسی کتاب دی تھی جس کے اوراق کے کنارے سنہرے تھے۔

    میں مرنے والے کے بہت زیادہ قریب نہیں رہا ( ویسے بھی کوئی کسی کے بہت زیادہ قریب ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟) تاہم اتنا فاصلہ بھی نہیں تھا کہ میں اس کی شخصیت کی آنچ کومحسوس نہ کر سکتا۔ میری اُس سے کئی ملاقاتیں ہوئیں ..... وہ سب ملاقاتیں اور ان میں ہونے والی باتیں مجھے یاد ہیں۔ مگر ان یادوں اور باتوں میں گردے کا عارضہ کہیں نہیں تھا۔ اُس کے دِل کی خستگی بھی مجھ پر نہ کھلی تھی اور میں اس تھائی راڈ کے بارے میں جان نہ پایا تھا جو ہزار میں سے ایک مریض کے ہاں باہر سے اندر منتقل ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصہ سے اُس کے بیمار رہنے کی خبریں آنے لگی تھیں، مگر میرے سامنے ہمیشہ ایک مضبوط دل والا شخص ہی رہا۔ ایسا شخص جو کچھ بھی نہ تھا اور اپنی ہمت سے بہت کچھ بن گیا تھا۔

    میں اُسے ایسی کتاب کی طرح سمجھتا رہا جس کی جلد سرخ چرم سے بنائی گئی تھی اور جس کے صفحات کے کنارے سنہرے تھے..... اتنے سنہرے کہ سارے میں روشنی سی کھنڈ نے لگتی تھی اور مجھے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ وہ تو زندگی کی کتاب کھول چکا تھا..... اور اس میں موجود سوالات کا سامنا کر رہا تھا۔

    یہ تو مجھے تب پتہ چلا جب میں نے یوں ہی اپنے دوست علی کے گھر فون کیا اور بھابی سے اس موت کی خبر ملی جس کا میں تذکرہ کر رہا ہوں ..... سرخ کتاب کے خُونی سوالات میرے سامنے تھے۔ ہر موت پہلے پہل بوکھلا دیا کرتی ہے۔ اُس کی موت نے بھی ایسا ہی کیا۔ مجھے یقین نہ آرہاتھا مگر ایسا ہو چکا تھا۔

     سارتر کا کہنا تھا کہ وہ نو عمری ہی میں کتابیں پڑھنے کا عادی ہو گیا تھا۔ اُس کی ماں کو یہ بات بہت گھلتی تھی، مگر مادام پکارڈ کا خیال تھا؛ اگر کتاب اچھی ہو تو اُس کا پڑھنا نقصان دہ نہیں ہوتا۔ اس حوصلہ افزائی سے سارتر نے ہمت پاکر ’’مادام بواری“ پڑھنے کی اجازت مانگ لی تھی۔ اس کی ماں نے سنا تو پریشان ہواُٹھی، کہا:

    ’’اگر میرا بیٹا اس عمر ہی میں اس نوع کی کتابیں پڑھنے لگا تو بڑا ہو کر کیا کرے گا“۔

    سارتر نے معصومیت سے جواب دیا تھا:

    ’’وہی جو ان کتابوں میں لکھا ہوتا ہے.....‘‘

    اور کیا، آدمی وہی نہیں کرتا جو اس کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے؟

    مگر یہ جو کتابوں میں آدمی مقدور بھر لکھتا ہے ،کیا کوئی عین مین وہی کر پاتا ہے ...؟

    شاید نہیں .....لکھنے والا، نہ پڑھنے والا .....کہ دونوں کے لیے نارسائی گھات لگائے بیٹھی رہتی ہے۔

    مرنے والا بے شک کتاب اور قلم سے وابستہ رہامگر زندگی اس کے لیے کبھی ویسی نہ رہی تھی جیسی کہ اس نے پڑھی..... اور نہ ہی ویسی، جیسی کہ تخلیقی لمحوں کی عطا کے سبب اس نے لکھ دی۔ ایک لکھنے والا جب انتہائی اعتماد سے ( یا پھر کمال معصومیت سے ) لامکاں سے پرے رسائی کی بات کر رہا ہوتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ نارسائی ہی نے اُس کا مقدر ہونا ہی ( شاید وہ ایسا جانناہی نہیں چاہتا )..... وہی نارسائی جو مرنے والے جیسے ہر سیلف میڈ آدمی کی ذات سے ہونی شدنی کی طرح بندھ جاتی ہے۔

    میں بتا آیا ہوں کہ جب تک وہ زندہ رہا کتاب سے وابستہ رہا..... اور اب مجھے صاف صاف بتانا ہے کہ وہ کتاب سے زندگی کی لذت کشید کرتا تھا۔ جو کتاب سے یوں وابستہ ہو جاتا ہے اُس کی لیے زندگی ذراسی مختلف اور کچھ کچھ حوصلہ افزا ہو جاتی ہے۔ لفظ تھوڑی سی جرأت اور کچھ خوف کے ساتھ ساتھ چپکے سے فرار کا راستہ بھی سجھا دیتا ہے۔ آپ کتاب پڑھ رہے ہوں یا لفظوں کو اپنے لہو سے غسل دے کر ایک متن تخلیق کر رہے ہوں .....تو ......جہاں آپ بہادر ہوتے ہیں عین اُسی لمحے میں بزدل بھی ہوتے ہیں۔ لفظوں کو ڈھال، تلوار اور پناہ گاہ بنانے والے بہادربز دل .....یہ کیفیت ایک لکھنے ولے کو مختلف بھی بنا دیتی ہے۔

    سارتر ابھی پڑھنے کے لطف کا اسیر ہوا تھا، لکھا نہ تھا..... مگر طرفہ یہ ہے کہ پڑھنے کے سبب ہی مختلف ہو گیا تھا..... مختلف بھی اور عجیب و غریب بھی .....بہادر بھی، بزدل بھی۔ جب اس نے معصومیت سے تڑاق پڑاق کہ دیا تھا کہ وہ بڑا ہو کر وہی کرے گا جو کتاب میں لکھا ہوا ہے تو مادام پکارڈ کا یوں لذت لینا اچھا لگتا تھا۔

    ایک لکھنے والا جب لکھتا ہے، تو فوراً ہی لکھنے نہیں بیٹھ جاتا پہلے وہ حیرت سے زمانے کو دیکھتا  ہے..... اتنی حیرت سے کہ وہ سنسنی بن کر اُس کے بدن میں دوڑ جاتی ہے ..... تب کہیں اُس کے لفظوں کو زمانہ حیرت سے دیکھتا ہے، یوں جیسے مادام پکارڈ نے ننھے سارتر کو دیکھا تھا۔ زندگی کا ماحصل لکھنا ہو تو لکھنا مشغلہ نہیں رہتا زندگی بن جاتا ہے ..... اور یہی مرنے والے کی زندگی تھی جس نے اسے مختلف کر دیا تھا۔

    سارتر کی ماں کو مادام پکارڈ کا یوں لذت لے کر سارتر کے معصوم جملے دہرانا اچھانہ لگتا تھا۔وہ کہتی تھی:

    ’’ تم اس لڑکے کو بگاڑ دو گی ۔“

    جب کہ سارتر خود ما دام پکارڈ کی لذت سے لطف کشید کرتا تھا..... اتنا کہ اُسے وہ موٹی، بھدی، بوڑھی اور بے ڈھب عورت اپنے چہرے کی زردی کے ساتھ نہ دِکھتی تھی ..... وہ عین وسط سے اُسے دیکھتا تھا اور اُسے ایک سکرٹ نیچے قدموں میں ڈھیر ہوتا نظر آتا تھا..... پھر وہ دیکھتاتھا.... دیکھنے جیسا دیکھتا .....اور دیکھتا ہی رہتا تھا۔

    میں نے سارتر کی یہ دل چسپ کہانی پڑھی تو یوں لگا کہ جیسے زندگی مادام پکارڈ کی طرح ہے .....موٹی، بھدی، زرد رو..... جس میں مادام بواری کی سطروں جیسی لذت ہے ..... ایسی لذت کہ جس کے سبب اس کا بھدا پن، زردی اور بدصورتی اس کے جامے سمیت اُس کے قدموں میں ڈھیر پڑی ہے۔

    اس زندگی کے ہاتھ میں وہ کتاب ہے جس کی جلد سرخ اور جس کے کنارے سنہرے ہیں ۔

    اور جس میں سوال ہی سوال ہیں ۔

    ایسے سوال ،کہ جن کا کوئی حتمی جواب نہیں ہوتا..... بس ایک گماں کا ہیولا اُٹھتا ہے اور ہمیں اس پر جواب کا التباس ہونے لگتا ہے۔

    جب تک معصومیت مادام پکارڈ کے بھرے بھرے کولہوں کی لذت سے جدا ہو کر زندگی کی سُرخ کتاب کھولتی ہے، تب تک اس کے سوالات دہشت اور خوف قطرہ قطرہ دل میں انڈیل چکے ہوتے ہیں۔

    مجھے یاد ہے، میں نے اُس کے مرنے کی خبر سنی تھی تو شدید دکھ نے فوری طور پر مجھے گرفت میں نہ لیا تھا۔ ایسی گرفت میں کہ جس میں دُکھ خنجر کی طرح پوست کاٹتا ہے، گوشت چھید تا سیدھا دل کو چھوتا ہے، اپنی تیز نوک سے۔ تاہم مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب اس کی نعش مسلم ٹاؤن کی ایک تنگ سی گلی سے چیخوں کے بیچ اُٹھائی گئی تھی تو دکھ کا یہی خنجر میرے دل کے پار ہو گیا تھا..... جب کُری روڈ کے قبرستان کے باہر اُس کی نماز جنازہ پڑھائی جا چکی اور لوگ قطار بنا کر اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے تو میں ہک دک پار کھڑا یہ محسوس کر رہا تھا کہ موت کا چہرہ دیکھنے والے کیسے بالکل مختلف ہو جاتے تھے۔ جب وہ قطار کے اس طرف ہوتے تھے تو اُن کے چہروں پر اشتیاق اور تجسس ہوتا تھا، مگر جب وہ نعش کی دوسری طرف اُترتے تھے تو تھوڑی سی موت کی زردی بھی اُن کےچہروں پر ملی ہوئی ہوتی تھی۔

    تو کیا زندگی کا انجام یہی موت کی زردی ہے؟

    موت کو منہا کر دیں تو دم بہ دم بدلتی کائنات میں زندگی ہمیں کتنی دل کش دکھنے لگتی ہے مگر موت اور فنا کے اس کر یہہ چہرے کے ساتھ ..... اف ،نہ صرف یہ زندگی بلکہ پوری کائنات کا وجود بھی اعتبار کھونے لگتا ہے۔

    زندگی کی حقیقت جاننے کے جتن کرنے والے کچھ لوگ پہلے پہل کا ئنات کو ٹھہرا ہوا، اور جامد قرار دیتے رہے مگر بہت جلد مردود ٹھہرے کہ بگ بینگ کے نظریے نے جامد کائنات والی جامد فکر کے پرخچے اڑا دیے تھے .....یہ جو ایک عظیم دھماکے سے دنیا بنی ہے، قطرہ قطرہ اور خلیہ خلیہ بکھر رہی ہے۔ ہم جُرعہ جُرعہ موت سے مانوس ہو چکے ہیں۔

    مسلم ٹاؤن کی گلی نمبر پانچ میں جب چیخیں اٹھی تھیں تو مجھے لگا تھا جیسے اس کا مرنا اس کے پیاروں کے لیے بگ بینگ جیسا تھا..... اور ..... ذرا سا فاصلے سے نظارہ کرنے والوں کے لیے کائنات کے فلک سے محض ایک ستارہ ٹوٹنے کا نظارہ ..... جوٹوٹتا ہے، توجہ حاصل کرتا ہے اور گم ہو جاتا ہے ..... اور پھر یہ زندگی لشٹم پشٹم آگے بڑھنےلگتی ہے۔

    ہم سب قطار میں تھے، علی ،اصغر، سعید اور کئی دوسرے .....جنہیں میں جانتا تھا وہ بھی.....  اور جنہیں میں نہیں جانتا تھا وہ بھی ۔ کچھ قطار میں مجھ سے آگے، کچھ پیچھے۔ قیوم اس قطار میں نہ تھا ،کہ وہ سمجھتا تھا، دوستوں کا صرف زندہ چہرہ ہی دیکھنا چاہیے۔ جب موت بدن بیچ دندناتی پھرتی ہو، تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی قطار سے باہر رہ جائے؟

    سب کو اسی قطار میں لگنا پڑتا ہے. .... بس یوں ہے کہ کوئی سوال کے ساتھ آتا ہے اور کوئی استعجاب کے ساتھ ۔

    ’’دُکھ تو یہ ہے کہ اس کے سب بچے ابھی چھوٹے ہیں“

    ایک آواز سرسراتی ہے..... میں پورا دھیان اس آواز پر لگا دیتا ہوں۔

    ’’اور جو کچھ اس کے پاس تھا اُسی کی بیماری پر اُٹھ گیا ہے ..... ‘‘

    دوسری آواز اتنی ہی تلخ حقیقت میری سماعتوں میں اُنڈیلتی ہے۔

    سارتر کو جب مادام پکارڈ کی سرخ کتاب تحفہ میں ملی تھی اور اُس نے اُسے اپنے نانا کی میز پر رکھ کر کھول لیا تھا تو بہت مایوس ہوا تھا کہ کتاب میں زندگی کا اِستعجاب نہ تھا، بس سوال ہی سوال تھے۔

    جنگ کے بعد کا زمانہ تھا۔ سارتر اور اُس کی ماں اس قدر قریب تھے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہم سن سمجھنے لگے تھے۔ ماں تو اپنے بچے کو کبھی کبھی اپنا محافظ، سردار، اور کبھی ننھا عاشق کہ کر پکارتی ..... مگر کچھ اور بھی تھا جو دونوں کے بیچ ٹھہر سا گیا تھا..... شاید موت ..... ہاں وہی موت جو زندہ بدنوں میں انڈیل دی جاتی ہے۔

    جب سارتر کی ماں جوان تھی تو حسن اُس پر ٹوٹ کر برسا تھا ..... سر وقد ایسی کہ سب سے پہلے اسی پر نظر ٹھہر تی تھی ..... نظر ٹھہرتی کہاں تھی اُس کی شفاف جلد پر پھسلتی رہتی۔ ایک چالیس سالہ بیمار مرد نے اُسے دیکھا تو اُس کا بوسیدہ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ یوں کہ اُس نے آگے بڑھ کر اسے پالیا ،شادی کر لی اور خوب خوب تیمارداری کرائی۔ پھر ایک بچہ اُس کی گود میں ڈالا اور مر گیا۔ سارتر نے موت کو یوں دیکھا تھا لہٰذا جب سنہرے کناروں والی سرخ کتاب کھول کر نانا کی میز پر بیٹھا اور یہ سوال پڑھا کہ تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو اُس نے لکھا تھا:

    ’’ ایک سپاہی بن کر مرنے والوں کا بدلہ لینا“

    میں رفتہ رفتہ قطار میں آگے بڑھتا رہا حتیٰ کہ وہاں پہنچ گیا جہاں اُس کا چہرہ موت کا بوسہ لے کر ساکت پڑا تھا۔ ایک سیلف میڈ مرا ہوا آدمی ۔ ایک ساکت نعش ۔ موت کے ہاتھوں بُری طرح نچڑا ہوا جسم ۔

    میں نے پلٹ کر انہیں دیکھا جو اس کے پیچھے رہ گئے تھے اور جن کے سامنے مرنے والے کا سارا سفر کا لعدم پڑا تھا۔ مجھ سے دیکھا نہ گیا۔

    موت کے بوسے کی زردی سارے میں کھنڈ گئی تھی۔

    میں نے چٹکی بھر زردی وہاں سے اچک لی، جہاں سے وہ پھوٹ رہی تھی اور چپکے سے اپنے چہرے پر مل کر سو چا ،یوں بھی تو موت سے بدلہ لیا جا سکتا تھا۔ مگر حادثہ یہ ہوا ہے کہ مرنے والے نے میرا بدن پہن کر موت کا جامہ میری طرف اچھال دیا ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ یہ جامہ میرے بدن پر خوب چست بیٹھا ہے۔ میں اس میں خوش ہوں اور اسے پہن کر ایسی سرخ کتاب کھول چکا ہوں جس کے کنارے بلاشبہ سنہرے سہی مگر اس میں زندگی کا ایک بھی استعجاب نہیں ہے اگر ہیں تو بس سوال ہی سوال ہیں۔