چوری سے یاری تک
چوری سے یاری تک
ڈاکٹر وزیر آغا
چوری ہمارا پیشہ ہی نہیں، مشغلہ بھی ہے اور ہم نے لیل و نہار کی ہزار کروٹوں کے باوجود نہ صرف اسے زندہ رکھا بلکہ اس میں لاتعداد موشگافیاں اور فنی باریکیاں بھی پیدا کی ہیں ۔ دروغ برگردنِ راوی، لیکن یہی سنا ہے کہ ہمارے اس پیشے کا ذکر رِگ وید میں بھی موجود ہے ۔ آریا جب ہم پر حملہ آور ہوئے اور ہمارے قلعوں کو برباد کرتے چلے گئے تو جواباً اور انتقاماً ہم نے بھی ان کے مویشی چرانے شروع کر دیے۔ وہ سارا دن لڑنے بھڑنے کے بعد جب رات سمے آرام کرتے تو ہم شب خون مار کر ان کے مویشی اُڑا لے جاتے۔ یقین جانو، ہم نے انہیں اس قدر پریشان کیا کہ وہ اپنے اشلوکوں میں برکھا اور دودھ اور فرزند کے لیے دُعائیں مانگنا چھوڑ کر ہمیں بد دعائیں دینا شروع ہو گئے۔ بے چارے اور کر بھی کیا سکتے تھے ، لیکن ان کا ہمیں مکروہ صورت، ناگ کا پجاری اور مویشیوں کا چور ایسے خطاب عطا کرنا خود ان کی بنیادی کمزوری کی ایک دلیل تھا۔ ہمیں اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا تھا ؟ ذرا سوچو کوئی چاند پر تھو کے تو خود اُس کا منہ کہاں محفوظ رہے گا ! بہر حال اپنے تاریخ جغرافیہ کے اُستاد سے پوچھ لو کہ یہ آریا لوگ تھو تھو کرتے صفحہ ٔخاک سے حرفِ غلط کی طرح مٹ گئے یا نہیں ، لیکن دشمن سے انتقام لینے کا جو شاندار حربہ ہماری تحویل میں آگیا تھا ، ہم نے اس سے دست بردار ہونا پسند نہ کیا اور اسے ہر نئے حملہ آور کے خلاف آزماتے رہے۔ چناں چہ ہزارہا برس کے استعمال کے بعد یہ پیشہ ہمارے ساتھ گویا چپک کر رہ گیا ۔ آج بھی ہم مویشیوں کی چوری میں خاصے مشاق ہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی گاؤں میں دو بیگھہ زمین اور ایک بیل لے کر بیٹھ جاؤ ۔ اگلی صبح بیل ہمارے گھر پہنچ چکا ہوگا اور دو بیگھہ زمین بدستور تمہاری تحویل میں ہوگی۔ لیکن یہ بھی غلط ہے کہ ہم نے اپنے پیشے کو صرف مویشیوں تک محدود رکھا ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیشے کو پھیلا کر زندگی اور ثقافت کے سارے کینوس پرمحیط کر دیا ہے ۔
آریاؤں کا قصہ ایک بار پھر یاد کرو۔ ہم رات کو تو اُن کے مویشی چراتے تھے اور دن کو انہیں نئے نئے جھمیلوں میں پھنساتے تھے ۔ وہ تھے خانہ بدوش! آج یہاں، کل وہاں ! گھوڑوں اور گدھوں کے ساتھ پھرنے والے۔ اُنہیں کیا معلوم کہ تہذیب کیا چیز ہے اور زندگی میں رنگا رنگی، رعنائی اور بوقلمونی کیسے پیدا ہوتی ہے۔ ہم نے جب انہیں اپنا ناچ دکھایا تو وہ دم بخودرہ گئے اور جب ناچ اپنے عروج پر پہنچا تو عجب بے ڈھنگے طریق سے خود بھی اس میں شریک ہو گئے۔ ان کی دھما چوکڑی کو دیکھ کر ہم ہنستے ہنستے بے حال ہوگئے۔ بھلا یہ بھی کوئی ناچ تھا!..... پھر ہم نے انہیں جوا بازی کی طرف متوجہ کیا۔ ان کی بلا جانے کہ یہ کیا بلا ہے۔ پھر اس کے لیے ذہن کی چمک دمک اور نظر کی تیزی بھی تو چاہیے، جس میں وہ لوگ خیر سے بالکل کو رے تھے۔ چناں چہ ہم نے پہلے تو اُن کی دھن دولت، پھر ڈھور ڈنگر اور آخر میں اُن کی بیویاں بھی ہتھیا لیں۔ پرانی کہانیاں پڑھ کر دیکھو کہ ہم نے کس کس موقع پر ہاتھ کی صفائی دکھائی اور شرط لگا کر اُن سے سب کچھ جیت لیا اور وہ ہاتھ ملتے رہ گئے ۔ دراصل ہماری تہذیب تو ایک جادو تھا۔ اس میں ایک نشے کی سی کیفیت تھی اور جو کوئی اس کے قریب آتا تھا، پھر اس کے دام سے باہر نہیں جا سکتا تھا۔ سو جب ہم نے انہیں سوم رس پیش کیا تو وہ انکار کر ہی نہ سکے۔ لیکن اسے پی کر اور اس کے نشے میں مبتلا ہوکر انہیں اتنا سرور آیا کہ اُنہوں نے سوم رس کو اپنے مذہب کا ایک جزو قرار دے لیا اور اپنے دیوتاؤں کو بھی اس کا لالچ دینے لگے ۔ جانتے ہو، سوم رس کیا ہے ؟ اجی ، وہی بھنگ جسے تم ذرا پی لو تو پیارے پیارے خواب دیکھنے لگو۔ آریاؤں نے جب سوم رس پیا تو وہ بھی خواب دیکھنے لگے اور پھر اُن کی ساری خون خواری اور وحشت آنِ واحد میں ختم ہوگئی اور ہم ایک روز انہیں چپکے سے کھا گئے۔ جو اُن میں سے بچ گئے، وہ ساری عمر ہم سے خوفزدہ رہے۔ اُنہوں نے ہماری تہذیب کو ڈائن کا لقب دیا اور کہا کہ جب کبھی ڈائن نظر آئے یا تمہیں عقب سے بلائے تو پلٹ کر نہ دیکھنا، ورنہ تم پتھر کے بت میں تبدیل ہو جاؤ گے۔ یہ تو خیر لڑکوں بالوں کو ڈرانے اور منع کرنے کا ایک انداز تھا، ورنہ حقیقت یہ تھی کہ یہ لوگ ہماری تہذیب کے جادو سے مات کھا گئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ اگر ان میں سے کسی نے ہماری تہذیب کی باس کو ایک بار سونگھ لیا تو پھر اس کے پاؤں مفلوج ہو جائیں گے اور وہ واقعۃً ایک پتھر کے بت میں تبدیل ہو کر رک جائے گا۔ سبحان الله! ہماری تہذیب بھی کس قدرسندر، نازک اور دل موہ لینے والی تھی! اس کی شکل صورت بالکل ایک سُندر ناری کی سی تھی ..... وہی خوشبو، وہی رنگ، وہی تیور اور وہی قدم قدم پر مٹکنے اور سو سو بل کھانے کا انداز ! بھلا اس کے سامنے کوئی کیسے ٹھہر سکتا تھا ؟ آریا جب اس سندر ناری کے جادو سے عاجز آگئے اور ان کی مدافعت کے حصار میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئیں تو انہوں نے مسکرا کر اپنی شکست تسلیم کر لی اور اس ’’سندر ناری‘‘ کو ’’چت چور‘‘ کا لقب عطا کر کے زمیں بوس ہوگئے ۔ سوچو، یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کبھی ہم پر مویشی چرانے کا الزام لگایا تھا، لیکن اب وہ ہم پر دل چرانے کا حسین الزام لگا رہے تھے ۔ چور تو بہر حال ہم تھے اور ہمارا یہ لقب ہم سے کوئی چھین نہ سکتا تھا ، لیکن ’مویشی‘ کی بجائے ’چت‘ کے لفظ کا استعمال کسی تبدیلی کا غماز تھا ؟ سچ پوچھو تو لقب کی یہ تبدیلی ہمارےثقافتی ارتقا کی نشان دہی کر رہی تھی ۔
لیکن یہ ثقافتی اِرتقا والی بات بھی کچھ ایسی درست نہیں ۔ جانو ، جب یہ خانہ بدوش ہم پر نازل ہوئے تو ہم ارتقا کے جملہ مراحل طے کر چکے تھے۔ اگر انہیں ہم لوگ اول اول مویشی چور اور بعد ازاں چت چو ر دکھائی دیے تو ارتقا ان کی نظروں میں ظہور پذیر ہوا نہ کہ ہم میں۔ یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ جب آریاؤں کی آنکھ کھلی تو وہ یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ ہم لوگوں کی تہذیب ان سے کس قدر برتر تھی ۔ بہر حال ہماری تہذیب اوّل روز سے چوری کی بنیادی صفت پر استوار تھی اور انشاء اللہ آخر روز تک اسی مسلک پر کاربند رہے گی ۔ ہماری ثقافت کی کسی بھی پرت کو اُٹھا کر دیکھو ، تمہیں اس کے نیچے چوری کی یہ صفت کنڈلی مارے بیٹھی ہوئی ضرور نظر آئے گی۔ تم صبح شام فلمی گیت سنتے ہو، کبھی کبھی دیہاتیوں سے لوک گیت بھی سن لیتے ہوگے ۔ یاد کرو، ہمارے گیتوں میں کون سا قومی پرندہ ایک ہیرو کے طور پر اُبھرا ہے ۔ تم کہو گے کوئل یا مور! ذرا سوچو ، کوئل کے ساتھ تو میں رونا دھونا مختص ہے اور مور کے ساتھ کبھی کبھار کا رقص! ہمارے گیتوں کا اصل ہیرو تو کا گا ہے ۔ ہاں، ہاں، وہی کو ا جسے تم گھر کی منڈیر پر بیٹھا دیکھ کر منے کی روٹی کا فکر کرنے لگتے ہو، یہی کوا (چوری جس کی ذات میں ہے)، ہاں یہی کوا ، کا گا بن کر ہمارے گیتوں میں ’’ مڈل مین‘‘ کا مقدس فریضہ سرانجام دینے پر مامور ہے ۔ آخر جب ایک چور کوئی دھندا شروع کرے گا تو لا محالہ دوسرے چور ہی سے مدد طلب کرے گا۔ اسی لیے ہم نے کوے کو ایک ہیرو بنا کر پیش کیا ہے اور محبت کا سارا کا روباری حصہ اسے سونپ دیا ہے اور کا گا کو دیکھو، اس نے کس خوش اسلوبی سے پریت کی ہر ریت کو نبھایا ہے اور ساتھ ہی اپنی کا روباری ذہنیت، اپنے بنیا پن کو زائل بھی نہیں ہونے دیا ۔
خود ہماری پریت کہانیاں بھی تو چوری کے اس پیشے ہی سے منسلک ہیں۔ بعض دوسرے دیسوں میں محبت یا تو شوہر بیوی کی محبت ہے (بھلا یہ بھی کوئی محبت ہے !) یا کنواری لڑکی اور کنوارے لڑکے کی محبت! یہ آخری نمونہ کچھ زیادہ ہی مقبول ہے اور اس کے نتیجے میں جو المیہ وجود میں آتا ہے، اس سے تم بخوبی واقف ہو،یعنی آخر میں لڑکی لڑکے کی شادی ہو جاتی ہے۔ پھر بچے پیدا ہونے لگتے ہیں اور ہوتے ہی چلے جاتے ہیں۔ آخر میں لڑکا ایک روز ’’ بے دانت‘‘ کے پوپلے منہ سے کھانستا ہوا نظر آتا ہے اور لڑکی اپنے جھریوں والے چہرے سے ہر آتے جاتے کو بے معنی نظروں سے گھورتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ یہ ہے کنواری محبت کا عبرت ناک انجام ! اصل محبت تو وہی ہے، جس کے ساتھ بعض ’’سر پھروں‘‘ نے ’’ناجائز‘‘ کی صفت ٹانک دی ہے ۔ اس محبت میں دو پریمیوں کو نتیجے کی پروا محض اس لیے نہیں ہوتی کہ نتیجہ انہیں پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ معاملہ ہی زیاں کے لیے کرتے ہیں اور محبت کے کانٹوں کو جھولیاں بھر بھر کر لوٹتے ہیں۔ غور کرو کہ ہماری تمام پریت کہانیاں محبت کے اس خاص رنگ ہی کی عکاس ہیں اور اسی رنگ نے انہیں زندۂ جاوید بھی کیا ہے ..... ہیر اور رانجھا ایک کنواری لڑکی اور لڑکے کے روپ میں ملتے ہیں تو بات چوری پر اٹھے سے آگے نہیں جاتی، لیکن جب ہیر کی شادی ہو جاتی ہے اور رانجھا اپنے تن پر بھبھوت مل کر چوری چھپے اُسے ملنے جاتا ہے تو ساری فضا ہی بدل جاتی ہے۔ دفعۃً مطلع ابر آلود ہو جاتا ہے، بجلی کے کوندے لپکنے لگتے ہیں اور کائنات لرزہ براندام ہو جاتی ہے۔ اس سے محبت میں ایک انوکھی گہرائی اور لذت پیدا ہوتی ہے۔ بھلا ایسی لذت ’’دوگانا‘‘ قسم کی محبت میں کہاں ؟ ذرا غور کرو کہ ہماری پریت کہانیوں کا سب سے بڑا ہیرو شیام ہے۔ یہ شیام رادھا سے محبت کرتا ہے اور رادھا ایک بیا ہتا عورت ہے۔ شیام رادھے کی محبت چوری چھپے کی محبت ہے، اور دوسرے گوشوں کو اپنے اس ثقافتی سرمایے سے کسی طرح منور کر دیا ہے۔تم ہمیں وعظ و تلقین سے بے رنگ اور سپاٹ زندگی بسر کرنے کی ترغیب دینا چاہتے ہو۔ خاطر جمع رکھو، ہم کبھی تمہارے فریب میں نہیں آئیں گے!