کچھ ضرب المثل کی مخالفت میں
کچھ ضرب المثل کی مخالفت میں
ڈاکٹر وزیر آغا
عام دستور تو یہ ہے کہ اِدھر قیامت کا ذکر چھڑا اور اُدھر کھٹ سےبات ان کی جوانی تک جا پہنچی، لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوا ہے کہ بات جوانی کی چِھڑی اور پھر گویا قیامت ہی آگئی ۔
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے!
’’ہائے ہائے‘‘ کا اُمید افزا اور دلکش نعرہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس سے جوانی کی نوعیت پر روشنی پڑتی ہے ۔ پہلی صورت میں ’’جوانی‘‘ اُن کی تھی اور قیامت کی جملہ صفات اس ناچیز کو حاصل تھیں ۔ دوسری صورت میں جوانی اپنی ہے اور قیامت کی تمام قیامت خیزیاں ان کی ہیں۔ پہلی صورت قدرے خطر ناک ہے کہ اِس میں مبتلا ہو کر آپ سب کچھ کرنے پر تل جاتے ہیں۔ لیکن دوسری صورت میں بات یادوں کی سرحد سے آگے نہیں جاتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی چند یا پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیرتے ہیں اور وہاں آپ کو بالوں کے نشیب وفراز کے بجائے صحرا کی چٹیل سطح کا احساس ہوتا ہے یا آپ اپنے گالوں کو تھپتھپاتے ہیں اور آپ کی ہتھیلی میں رخسار کی نکیلی ہڈی چبھ جاتی ہے تو آپ حسبِ قاعدہ’’ ہائے ہائے‘‘ کا دل فگار نعرہ لگا کر صبر وشکر کر لیتے اور پھر سے اپنی ذات کے خول میں سمٹ جاتے ہیں۔ لیکن جوانی کا ذکر ہمیشہ اِس قدر سطحی نہیں ہوتا۔ مثلاً میرے دوست ع جب ان ایام کا ذکر کرتے ہیں ۔ جب آتش جوان تھا (اور حق یہ ہے کہ ان کے ہاں آتش کچھ ضرورت سے زیادہ ہی جوان تھا) تو کبھی کبھی جوانی کی لذت کوشیوں اور جسم کی کیف سامانیوں سے دامن چھڑا کر جوانی کی آتش بغاوت اور گر میِ گفتار کا بھی ذکر چھیڑ دیتے ہیں اور دراصل یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر وہ خلقِ خدا کی عام سطح سے اوپر اٹھ آتے ہیں ۔ ع کے ہاں جوانی کے ذکر کی ابتدا عین روایتی انداز میں ہوتی ہے۔ وہ اپنے پاؤں اُٹھا کر مونڈھے کے کنارے پر رکھ لیتے ہیں اور بات بڑھا کر اُن پر جمی ہوئی صدیوں کی میل کو بڑی چابک دستی سے اُتارتے۔ لمبی لمبی ’’موم بتیوں‘‘ میں ڈھالتے اور اپنے اس عمل کے ساتھ ساتھ وقت کے دبیز پردوں کو نوچ کر الگ کرتے اور ان کے نیچے سے پوٹلیوں میں بندھی ہوئی جوانی کی یادوں کو نکال کر آپ کے سامنے چنتے چلے جاتے ہیں ’’ جوانی کے دن بھی کیا تھے ۔ پتھر کی مورتی سے بھی پیار کرنے کو جی چاہتا تھا ۔‘‘ خوفزدہ ہو کر چاروں طرف دیکھتے ہیں اور پھر ’’ بڑی کڑیل جوانی تھی ہماری ! جو کھاتے تھے فی الفور ہضم ہو جاتا تھا۔ آم کے موسم میں تو کپڑے اُتار کر زمین پر بیٹھ جاتے تھے اور اس قدر آم کھاتے تھے کہ گٹھلیوں کا انبار ٹھوڑی کو چھونے لگتا تھا۔‘‘ لیکن کبھی کبھی ان روایتی باتوں کے عین درمیان وہ کوئی بڑی گہری بات بھی کہہ جاتے ہیں مثلاً کل شام اپنی جوانی کا ذکر کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اُٹھے ’’ واہ کیا جوانی تھی ہماری بھی ! قسم لے لو جو کبھی کسی بزرگ کی نصیحت پر ہم نے عمل کیا ہو‘‘ اُن کی اِس بات پر میں چونک پڑا اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ حضرت ِع تو خاصے ذہین آدمی ہیں اور یہ کہ انہیں فلسفے سے ایک فطری لگاؤ بھی ہے۔ واقعۃً جوانی کے ایام میں کون کسی کی سنتا ہے !لیکن یہی’’ کون‘‘ جب جوانی کے لالہ زاروں کو عبور کر آتا ہے تو بڑے فخر سے اپنے سینے پر ہات رکھ کر کہتا ہے ’’بر خوردار ! ہم تو اپنے بزرگوں کی ہر بات سنتے تھے۔ سبحان اللہ، کیا دِن تھے ؟‘‘ دراصل نصیحت کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ ہر قسم کی رکاوٹ یا رد عمل کو پس پشت ڈال کر بڑی ہٹ دھرمی کے ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو جاتی ہے ۔ جوانی اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ اس نے اس عارضے کی نفی کر دی لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس کے جرثومے بڑی آہستگی سے اُس کے خون میں داخل ہوتے اور وہاں بڑی خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے رہے ہیں۔ ادھر جوانی کا خون سرد پڑا ، چندیا پر سے بال اُڑے، دانتوں نے لڑکھڑا کر الوداع کہی اور ادھر جسم کے اندر چھپا ہوا یہ عفریت مونچھوں پر تاؤ دیتا ہوا بر آمد ہو گیا ۔ تاریخ اپنے اوراق الٹتی ہے۔ نسلیں اُبھرتی اور ڈوبتی ہیں۔ افراد پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں، لیکن نصیحت کا علم ہمیشہ بلند رہتا ہے۔ اسےکبھی فنا نہیں ۔
نصیحت کو تو میں پھر بھی قابل عفو سمجھتا ہوں، لیکن نصیحت کی بڑی بہن یعنی ضرب المثل سے مجھے چڑ ہے۔ نصیحت میں کم از کم وہ زہر خند نہیں ہوتا جو ضرب المثل سے خاص ہے۔ نصیحت کرنے والا ایک بے حد معصوم انسان ہوتا ہے، جو نصیحت کرنے کے دوران میں کبھی اس بات کو فراموش نہیں کرتا کہ اُس کا یہ عمل از سر تا پا ایک سعی لاحاصل ہے۔ خود اپنی جوانی کے ایام میں اُس نے کب کسی کی نصیحت کو کوئی اہمیت دی تھی کہ اب اُس کے برخوردار اسے اہمیت دینے لگیں ؟ تاہم چوں کہ رسماً اور اخلاقاً اُسے اِس عمل سے گزرنا ہوتا ہے، اس لیے بادلِ نخواستہ وہ گزرتا ہے اور نصیحت وصول کرنے والا سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی عقیدت سے اس نصیحت کو وصول کر کے سر خرو ہو جاتا ہے اور بس ! اس سے نہ تو آج تک نصیحت کرنے والے کو کوئی صدمہ پہنچا اور نہ نصیحت سننے والے کو اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کھیل کے دونوں ادا کار کھیل کے مزاج سے واقف ہیں اور اس سے کوئی ایسی توقع وابستہ نہیں کرتے جس کے فسخ ہونے پر انہیں کوئی صدمہ پہنچے۔ گویا نصیحت کے عمل میں نیک نیتی ، مروت اور روایت کا تحفظ مقصود ہوتا ہے۔ اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ نصیحت اثر کرے اور نصیحت وصول کرنے والا اس پر عمل کرنے کی حماقت کا مرتکب بھی ہو۔ نصیحت تو وزن کے ٹکٹ کی مانند ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر دوسرا ٹکٹ آپ کو نہ صرف مختلف و زن بتائے گا بلکہ آپ کی تقدیر کے سلسلے میں ہر بار مختلف قیاس آرائی کا مرتکب بھی ہوگا ، لیکن ریل کے سفر کی روایات کے احترام میں آپ بڑی عقیدت سے لوہے کے ایک مختصر سے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اپنے وزن کا ٹیکٹ حاصل کرنے کا ایک مضحکہ خیز فریضہ سرانجام دینے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے۔ بالکل اس طرح کسی بزرگ کے پوپلے منہ سے نصیحت کے چند بے ضرر جملے سُن لینے میں کیا حرج ہے؟ مجھے وہ نوجوان ایک آنکھ نہیں بھاتے ہو نصیحت کی انسٹی ٹیوشن سے عدم واقفیت کی بنا پر جھلاہٹ اور برہمی کا مظاہرہ کرتے اور نصیحتوں کی یلغار کی صورت میں اپنے بزرگوں سے الجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے!
نصیحت ایک قطعا ًبے ضرر اور معصوم ساعمل ہے ۔ جب کوئی کہتاہے۔
نانک ننھے ہو ر ہو جیسی ننھی دَوب
یا
بیٹا ایسی پریت کر جیسی برچھ [1] کرے
اپنے اوپر دھوپ سہے اوروں کو چھاؤ دے
تو اس سے یہ مراد لینا بالکل غلط ہے کہ کہنے والے نے سنجیدگی سے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ صبح اٹھتے ہی چورا ہے میں جا کر لیٹ جائیں اور جب ٹریفک کا سپاہی آپ کو اُٹھانے کی کوشش کرے تو مسکرا کر
نانک ننھے ہو رہو جیسی ننھی دَوب
کے ورد سے اس کا سواگت کریں یا پھر درختوں کی قطار میں جو جگہ آپ کو خالی نظر آئے، وہاں نقلی چوکیدار کی طرح کھڑے ہو کر اپنے سائے سے خلقِ خدا کو آرام بہم پہنچانے کی احمقانہ حرکت کے مرتکب ہوں۔ نصیحت کا جذبہ اگر واقعۃً سنجیدہ ہوتا اور برخورداروں کا قافلہ اس پر اسی سنجیدگی سے عمل پیرا ہوتا تو آج چورا ہے کا سارا ٹریفک معطل اور ہفتۂ شجر کاری کی ساری روایت ختم ہو گئی ہوتی۔ لیکن شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور ابھی اس جہان رنگ و بو میں کچھ شجر کاری اور ٹریفک باقی ہے۔ تاہم نصیحت کا سارا عمل جذبے کی معصومانہ ذہنیت کا غماز ضرور ہے اور اسی لیے میں نصیحت کو کچھ زیادہ بڑا نہیں سمجھتا، لیکن ضرب المثل! ضرب المثل کے ذکر ہی سے میرا سانس رکنے لگتا ہے۔ غور کیجیے کہ ضرب المثل کا مقصد دوسروں کا تمسخر اڑانے اور اُن کی آواز کو دبانے کے علاوہ اور کیا ہے ؟ ضرب المثل کی ترکیب میں ’’ضرب‘‘ کا بولتا ہوا لفظ بجائے خود اس کی تشدد پسند ذہنیت کا غماز ہے ۔ کہتے ہیں کہ جہاں خدا تعالیٰ نے چار الہامی کتابیں نازل کیں وہاں ایک ڈنڈا بھی اُتارا۔ ڈنڈا .....جو ہزاروں برس کے استعمال کے بعد گھس پٹ کو ’’ضرب المثل‘‘ میں ڈھل گیا ۔ چناں چہ بظاہر تو ضر ب المثل پھولوں سے لدی شاخ کی مانند ہے، لیکن پھولوں کو اُتار دیجیے تو نیچے سے ایک بے رحم ننگی سی چھڑی بر آمد ہو جاتی ہے ۔ چھڑی، جس کی مدد سے سماج کا گلہ بان ہر بھٹکی ہوئی بھیڑ کو ہانک کر دوبارہ گلے میں شامل کر لیتا ہے ۔ ضرب المثل کا ورد کرنے والے کی آنکھوں میں جو شریر سی مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے، اُس کے لہجے میں جو تمسخر اور تحکم جنم لیتا ہے اور اس کے الفاظ میں جو خفگی تہدیدی انداز اور احساسِ برتری کی جھلک دکھائی دیتی ہے، میں تو اس کے تصور ہی سے کانپ اُٹھتا ہوں ۔
لوک گیت کی طرح ضرب المثل کے خالق کا بھی آج تک کسی کو حسب نسب معلوم نہیں ہو سکا۔ قیاس یہی کہتا ہے کہ جب ساون کی گھنگھور گھٹائیں میں امڈامڈ کر آتی ہیں۔ پپیہے درختوں میں اور شاعر مشاعروں میں شور مچاتے ہیں، جب عاشق ململ کے کرتے کے ازلی و ابدی چاک کو درزی کے مشورے سے بڑا کر لیتے ہیں اور اکسپورٹ امپورٹ کے کاروبار میں مندے کا رحجان پھیل جاتا ہے تو شہر کے شور و غل سے بہت دُور کسی پہاڑ کے دامن یا ندی کے کنارے یا کپاس کے کھیت میں کوئی پیر فرتوت اپنے تخیل کا مہمیز لگا کر یا اجتماعی ذہن کو ٹٹول کر ضرب المثل کا ایک پرانا کرم خوردہ نسخہ نکالتا ہے۔ پھر آناً فاناً پھول کی خوشبو کی طرح یہ ضرب المثل چہار اطراف میں پھیل جاتی اور ہر ٹیکسی ڈرائیور کے ہونٹوں پر تھرکنے لگتی ہے ۔ میں کہتا ہوں یہ بوڑھا کوئی گوشت پوست کی ہستی نہیں بلکہ سوسائٹی کا وہ عمر رسیدہ ذہن ہے جو فرد کی انفرادیت کے عمل کو ہمیشہ بڑی حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے۔اِ دھر کسی ذہین نوجوان نے تخلیقی دباؤ کے تحت کوئی نیا دھندا شروع کیا ، وزن اور بحر سے بے نیاز کوئی آزاد نظم لکھی، کسے کسائے لباس میں کوئی نئی پگڈنڈی اختیار کی یا خیال کا کوئی نیا پیکر تراشا اور اُدھر سوسائٹی کا بابا، ضرب المثل کا ڈنڈا ہات میں لیے آدھ مکا اور نوجوان کو تمسخر، تحکم او جراحت سے پسپا کرنے لگا۔ میں کہتا ہوں ،ضرب المثل تو وہ مائیکروفون ہے، جس کی مدد سے سوسائٹی اپنی آواز کو دس گنا بڑھا کر پیش کرتی اور یوں ان بہت سی ننھی منی اور شیریں آوازوں کو دبا دیتی ہے جو اُس کے پروں کے نیچے سے نکلے ہوئے چوزے پیدا کرتے ہیں ۔
لیکن ضرب المثل کی ایک اور خصوصیت بھی ہے، بے شک اس کی آواز بہت بلند، پرشکوہ اور گھمبیر ہے تاہم سوسائٹی کے عمر رسیدہ ذہن نے اس بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ یہ آواز اس کے علاوہ مسحور کن بھی ہو اور اس میں ایسا نغماتی لوچ بھی ہو کہ ہر سننے والا اس کی طرف پروانہ وار کھنچا چلا آئے ۔ چناں چہ آپ دیکھیے کہ ہر ضرب المثل میں ایک صوتی حُسن ہوتا ہے اور اس کی شعری کیفیت اور نغماتی زیر و بم سننے والے کی حسیات کو تھپک تھپک کر میٹھی نیند سلا دیتا ہے ۔ مجھے ذاتی طور پر تو مرغی کی آواز نے کبھی متاثر نہیں کیا، لیکن جب وہ ایک خاص انداز سے کڑک کڑک کا دلکش نغمہ بلند کرتی ہے تو صحن میں بکھرے ہوئے چوزے برق رفتاری سے لپک کر اُس کے قدموں میں جمع ہو جاتے ہیں ۔ بالکل یہی حال ضرب المثل کا ہے کہ یہ سوسائٹی کے باغیوں کو ایک ایسے نغماتی زیر وبم میں اسیر کر دیتی ہے کہ وہ کچے دھاگے سے بندھے اس کی جانب کھچے چلے آتے ہیں ۔ چناں چہ آپ شاید حیران ہوں کہ ضرب المثل کی کڑک کڑک کو سنتے ہی میری تمام فلسفیانہ موشگافیوں اور ازبر کیے ہوئے دلائل کو گویا سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ضرب المثل تو ایک دلکش لوری ہے اور اس کے ہوتے ہوئے میری ذہنی اپچ یا اضطراری کیفیت کی نمو کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لیے مجھے ضرب المثل سے چڑ ہے کہ یہ میری ذات ، میری انفرادیت کی نفی کر کے مجھے انبوہ کا ایک جزو بننے پر مجبور کرتی ہے اور آپ جانتے ہیں، میں بھٹکی ہوئی بھیڑ تو کہلا سکتا ہوں، لیکن گلے کی ایک اندھی بہری بھیڑ کا منصب مجھے کسی صورت بھی قبول نہیں۔ کیا آپ کو قبول ہے؟
[1] درخت ڈاکٹر وزیر آغا
عام دستور تو یہ ہے کہ اِدھر قیامت کا ذکر چھڑا اور اُدھر کھٹ سےبات ان کی جوانی تک جا پہنچی، لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوا ہے کہ بات جوانی کی چِھڑی اور پھر گویا قیامت ہی آگئی ۔
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے!
’’ہائے ہائے‘‘ کا اُمید افزا اور دلکش نعرہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس سے جوانی کی نوعیت پر روشنی پڑتی ہے ۔ پہلی صورت میں ’’جوانی‘‘ اُن کی تھی اور قیامت کی جملہ صفات اس ناچیز کو حاصل تھیں ۔ دوسری صورت میں جوانی اپنی ہے اور قیامت کی تمام قیامت خیزیاں ان کی ہیں۔ پہلی صورت قدرے خطر ناک ہے کہ اِس میں مبتلا ہو کر آپ سب کچھ کرنے پر تل جاتے ہیں۔ لیکن دوسری صورت میں بات یادوں کی سرحد سے آگے نہیں جاتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی چند یا پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیرتے ہیں اور وہاں آپ کو بالوں کے نشیب وفراز کے بجائے صحرا کی چٹیل سطح کا احساس ہوتا ہے یا آپ اپنے گالوں کو تھپتھپاتے ہیں اور آپ کی ہتھیلی میں رخسار کی نکیلی ہڈی چبھ جاتی ہے تو آپ حسبِ قاعدہ’’ ہائے ہائے‘‘ کا دل فگار نعرہ لگا کر صبر وشکر کر لیتے اور پھر سے اپنی ذات کے خول میں سمٹ جاتے ہیں۔ لیکن جوانی کا ذکر ہمیشہ اِس قدر سطحی نہیں ہوتا۔ مثلاً میرے دوست ع جب ان ایام کا ذکر کرتے ہیں ۔ جب آتش جوان تھا (اور حق یہ ہے کہ ان کے ہاں آتش کچھ ضرورت سے زیادہ ہی جوان تھا) تو کبھی کبھی جوانی کی لذت کوشیوں اور جسم کی کیف سامانیوں سے دامن چھڑا کر جوانی کی آتش بغاوت اور گر میِ گفتار کا بھی ذکر چھیڑ دیتے ہیں اور دراصل یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر وہ خلقِ خدا کی عام سطح سے اوپر اٹھ آتے ہیں ۔ ع کے ہاں جوانی کے ذکر کی ابتدا عین روایتی انداز میں ہوتی ہے۔ وہ اپنے پاؤں اُٹھا کر مونڈھے کے کنارے پر رکھ لیتے ہیں اور بات بڑھا کر اُن پر جمی ہوئی صدیوں کی میل کو بڑی چابک دستی سے اُتارتے۔ لمبی لمبی ’’موم بتیوں‘‘ میں ڈھالتے اور اپنے اس عمل کے ساتھ ساتھ وقت کے دبیز پردوں کو نوچ کر الگ کرتے اور ان کے نیچے سے پوٹلیوں میں بندھی ہوئی جوانی کی یادوں کو نکال کر آپ کے سامنے چنتے چلے جاتے ہیں ’’ جوانی کے دن بھی کیا تھے ۔ پتھر کی مورتی سے بھی پیار کرنے کو جی چاہتا تھا ۔‘‘ خوفزدہ ہو کر چاروں طرف دیکھتے ہیں اور پھر ’’ بڑی کڑیل جوانی تھی ہماری ! جو کھاتے تھے فی الفور ہضم ہو جاتا تھا۔ آم کے موسم میں تو کپڑے اُتار کر زمین پر بیٹھ جاتے تھے اور اس قدر آم کھاتے تھے کہ گٹھلیوں کا انبار ٹھوڑی کو چھونے لگتا تھا۔‘‘ لیکن کبھی کبھی ان روایتی باتوں کے عین درمیان وہ کوئی بڑی گہری بات بھی کہہ جاتے ہیں مثلاً کل شام اپنی جوانی کا ذکر کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اُٹھے ’’ واہ کیا جوانی تھی ہماری بھی ! قسم لے لو جو کبھی کسی بزرگ کی نصیحت پر ہم نے عمل کیا ہو‘‘ اُن کی اِس بات پر میں چونک پڑا اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ حضرت ِع تو خاصے ذہین آدمی ہیں اور یہ کہ انہیں فلسفے سے ایک فطری لگاؤ بھی ہے۔ واقعۃً جوانی کے ایام میں کون کسی کی سنتا ہے !لیکن یہی’’ کون‘‘ جب جوانی کے لالہ زاروں کو عبور کر آتا ہے تو بڑے فخر سے اپنے سینے پر ہات رکھ کر کہتا ہے ’’بر خوردار ! ہم تو اپنے بزرگوں کی ہر بات سنتے تھے۔ سبحان اللہ، کیا دِن تھے ؟‘‘ دراصل نصیحت کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ ہر قسم کی رکاوٹ یا رد عمل کو پس پشت ڈال کر بڑی ہٹ دھرمی کے ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو جاتی ہے ۔ جوانی اس خوش فہمی میں مبتلا رہتی ہے کہ اس نے اس عارضے کی نفی کر دی لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس کے جرثومے بڑی آہستگی سے اُس کے خون میں داخل ہوتے اور وہاں بڑی خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے رہے ہیں۔ ادھر جوانی کا خون سرد پڑا ، چندیا پر سے بال اُڑے، دانتوں نے لڑکھڑا کر الوداع کہی اور ادھر جسم کے اندر چھپا ہوا یہ عفریت مونچھوں پر تاؤ دیتا ہوا بر آمد ہو گیا ۔ تاریخ اپنے اوراق الٹتی ہے۔ نسلیں اُبھرتی اور ڈوبتی ہیں۔ افراد پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں، لیکن نصیحت کا علم ہمیشہ بلند رہتا ہے۔ اسےکبھی فنا نہیں ۔
نصیحت کو تو میں پھر بھی قابل عفو سمجھتا ہوں، لیکن نصیحت کی بڑی بہن یعنی ضرب المثل سے مجھے چڑ ہے۔ نصیحت میں کم از کم وہ زہر خند نہیں ہوتا جو ضرب المثل سے خاص ہے۔ نصیحت کرنے والا ایک بے حد معصوم انسان ہوتا ہے، جو نصیحت کرنے کے دوران میں کبھی اس بات کو فراموش نہیں کرتا کہ اُس کا یہ عمل از سر تا پا ایک سعی لاحاصل ہے۔ خود اپنی جوانی کے ایام میں اُس نے کب کسی کی نصیحت کو کوئی اہمیت دی تھی کہ اب اُس کے برخوردار اسے اہمیت دینے لگیں ؟ تاہم چوں کہ رسماً اور اخلاقاً اُسے اِس عمل سے گزرنا ہوتا ہے، اس لیے بادلِ نخواستہ وہ گزرتا ہے اور نصیحت وصول کرنے والا سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی عقیدت سے اس نصیحت کو وصول کر کے سر خرو ہو جاتا ہے اور بس ! اس سے نہ تو آج تک نصیحت کرنے والے کو کوئی صدمہ پہنچا اور نہ نصیحت سننے والے کو اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کھیل کے دونوں ادا کار کھیل کے مزاج سے واقف ہیں اور اس سے کوئی ایسی توقع وابستہ نہیں کرتے جس کے فسخ ہونے پر انہیں کوئی صدمہ پہنچے۔ گویا نصیحت کے عمل میں نیک نیتی ، مروت اور روایت کا تحفظ مقصود ہوتا ہے۔ اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ نصیحت اثر کرے اور نصیحت وصول کرنے والا اس پر عمل کرنے کی حماقت کا مرتکب بھی ہو۔ نصیحت تو وزن کے ٹکٹ کی مانند ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر دوسرا ٹکٹ آپ کو نہ صرف مختلف و زن بتائے گا بلکہ آپ کی تقدیر کے سلسلے میں ہر بار مختلف قیاس آرائی کا مرتکب بھی ہوگا ، لیکن ریل کے سفر کی روایات کے احترام میں آپ بڑی عقیدت سے لوہے کے ایک مختصر سے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اپنے وزن کا ٹیکٹ حاصل کرنے کا ایک مضحکہ خیز فریضہ سرانجام دینے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے۔ بالکل اس طرح کسی بزرگ کے پوپلے منہ سے نصیحت کے چند بے ضرر جملے سُن لینے میں کیا حرج ہے؟ مجھے وہ نوجوان ایک آنکھ نہیں بھاتے ہو نصیحت کی انسٹی ٹیوشن سے عدم واقفیت کی بنا پر جھلاہٹ اور برہمی کا مظاہرہ کرتے اور نصیحتوں کی یلغار کی صورت میں اپنے بزرگوں سے الجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے!
نصیحت ایک قطعا ًبے ضرر اور معصوم ساعمل ہے ۔ جب کوئی کہتاہے۔
نانک ننھے ہو ر ہو جیسی ننھی دَوب
یا
بیٹا ایسی پریت کر جیسی برچھ [1] کرے
اپنے اوپر دھوپ سہے اوروں کو چھاؤ دے
تو اس سے یہ مراد لینا بالکل غلط ہے کہ کہنے والے نے سنجیدگی سے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ صبح اٹھتے ہی چورا ہے میں جا کر لیٹ جائیں اور جب ٹریفک کا سپاہی آپ کو اُٹھانے کی کوشش کرے تو مسکرا کر
نانک ننھے ہو رہو جیسی ننھی دَوب
کے ورد سے اس کا سواگت کریں یا پھر درختوں کی قطار میں جو جگہ آپ کو خالی نظر آئے، وہاں نقلی چوکیدار کی طرح کھڑے ہو کر اپنے سائے سے خلقِ خدا کو آرام بہم پہنچانے کی احمقانہ حرکت کے مرتکب ہوں۔ نصیحت کا جذبہ اگر واقعۃً سنجیدہ ہوتا اور برخورداروں کا قافلہ اس پر اسی سنجیدگی سے عمل پیرا ہوتا تو آج چورا ہے کا سارا ٹریفک معطل اور ہفتۂ شجر کاری کی ساری روایت ختم ہو گئی ہوتی۔ لیکن شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور ابھی اس جہان رنگ و بو میں کچھ شجر کاری اور ٹریفک باقی ہے۔ تاہم نصیحت کا سارا عمل جذبے کی معصومانہ ذہنیت کا غماز ضرور ہے اور اسی لیے میں نصیحت کو کچھ زیادہ بڑا نہیں سمجھتا، لیکن ضرب المثل! ضرب المثل کے ذکر ہی سے میرا سانس رکنے لگتا ہے۔ غور کیجیے کہ ضرب المثل کا مقصد دوسروں کا تمسخر اڑانے اور اُن کی آواز کو دبانے کے علاوہ اور کیا ہے ؟ ضرب المثل کی ترکیب میں ’’ضرب‘‘ کا بولتا ہوا لفظ بجائے خود اس کی تشدد پسند ذہنیت کا غماز ہے ۔ کہتے ہیں کہ جہاں خدا تعالیٰ نے چار الہامی کتابیں نازل کیں وہاں ایک ڈنڈا بھی اُتارا۔ ڈنڈا .....جو ہزاروں برس کے استعمال کے بعد گھس پٹ کو ’’ضرب المثل‘‘ میں ڈھل گیا ۔ چناں چہ بظاہر تو ضر ب المثل پھولوں سے لدی شاخ کی مانند ہے، لیکن پھولوں کو اُتار دیجیے تو نیچے سے ایک بے رحم ننگی سی چھڑی بر آمد ہو جاتی ہے ۔ چھڑی، جس کی مدد سے سماج کا گلہ بان ہر بھٹکی ہوئی بھیڑ کو ہانک کر دوبارہ گلے میں شامل کر لیتا ہے ۔ ضرب المثل کا ورد کرنے والے کی آنکھوں میں جو شریر سی مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے، اُس کے لہجے میں جو تمسخر اور تحکم جنم لیتا ہے اور اس کے الفاظ میں جو خفگی تہدیدی انداز اور احساسِ برتری کی جھلک دکھائی دیتی ہے، میں تو اس کے تصور ہی سے کانپ اُٹھتا ہوں ۔
لوک گیت کی طرح ضرب المثل کے خالق کا بھی آج تک کسی کو حسب نسب معلوم نہیں ہو سکا۔ قیاس یہی کہتا ہے کہ جب ساون کی گھنگھور گھٹائیں میں امڈامڈ کر آتی ہیں۔ پپیہے درختوں میں اور شاعر مشاعروں میں شور مچاتے ہیں، جب عاشق ململ کے کرتے کے ازلی و ابدی چاک کو درزی کے مشورے سے بڑا کر لیتے ہیں اور اکسپورٹ امپورٹ کے کاروبار میں مندے کا رحجان پھیل جاتا ہے تو شہر کے شور و غل سے بہت دُور کسی پہاڑ کے دامن یا ندی کے کنارے یا کپاس کے کھیت میں کوئی پیر فرتوت اپنے تخیل کا مہمیز لگا کر یا اجتماعی ذہن کو ٹٹول کر ضرب المثل کا ایک پرانا کرم خوردہ نسخہ نکالتا ہے۔ پھر آناً فاناً پھول کی خوشبو کی طرح یہ ضرب المثل چہار اطراف میں پھیل جاتی اور ہر ٹیکسی ڈرائیور کے ہونٹوں پر تھرکنے لگتی ہے ۔ میں کہتا ہوں یہ بوڑھا کوئی گوشت پوست کی ہستی نہیں بلکہ سوسائٹی کا وہ عمر رسیدہ ذہن ہے جو فرد کی انفرادیت کے عمل کو ہمیشہ بڑی حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے۔اِ دھر کسی ذہین نوجوان نے تخلیقی دباؤ کے تحت کوئی نیا دھندا شروع کیا ، وزن اور بحر سے بے نیاز کوئی آزاد نظم لکھی، کسے کسائے لباس میں کوئی نئی پگڈنڈی اختیار کی یا خیال کا کوئی نیا پیکر تراشا اور اُدھر سوسائٹی کا بابا، ضرب المثل کا ڈنڈا ہات میں لیے آدھ مکا اور نوجوان کو تمسخر، تحکم او جراحت سے پسپا کرنے لگا۔ میں کہتا ہوں ،ضرب المثل تو وہ مائیکروفون ہے، جس کی مدد سے سوسائٹی اپنی آواز کو دس گنا بڑھا کر پیش کرتی اور یوں ان بہت سی ننھی منی اور شیریں آوازوں کو دبا دیتی ہے جو اُس کے پروں کے نیچے سے نکلے ہوئے چوزے پیدا کرتے ہیں ۔
لیکن ضرب المثل کی ایک اور خصوصیت بھی ہے، بے شک اس کی آواز بہت بلند، پرشکوہ اور گھمبیر ہے تاہم سوسائٹی کے عمر رسیدہ ذہن نے اس بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ یہ آواز اس کے علاوہ مسحور کن بھی ہو اور اس میں ایسا نغماتی لوچ بھی ہو کہ ہر سننے والا اس کی طرف پروانہ وار کھنچا چلا آئے ۔ چناں چہ آپ دیکھیے کہ ہر ضرب المثل میں ایک صوتی حُسن ہوتا ہے اور اس کی شعری کیفیت اور نغماتی زیر و بم سننے والے کی حسیات کو تھپک تھپک کر میٹھی نیند سلا دیتا ہے ۔ مجھے ذاتی طور پر تو مرغی کی آواز نے کبھی متاثر نہیں کیا، لیکن جب وہ ایک خاص انداز سے کڑک کڑک کا دلکش نغمہ بلند کرتی ہے تو صحن میں بکھرے ہوئے چوزے برق رفتاری سے لپک کر اُس کے قدموں میں جمع ہو جاتے ہیں ۔ بالکل یہی حال ضرب المثل کا ہے کہ یہ سوسائٹی کے باغیوں کو ایک ایسے نغماتی زیر وبم میں اسیر کر دیتی ہے کہ وہ کچے دھاگے سے بندھے اس کی جانب کھچے چلے آتے ہیں ۔ چناں چہ آپ شاید حیران ہوں کہ ضرب المثل کی کڑک کڑک کو سنتے ہی میری تمام فلسفیانہ موشگافیوں اور ازبر کیے ہوئے دلائل کو گویا سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ضرب المثل تو ایک دلکش لوری ہے اور اس کے ہوتے ہوئے میری ذہنی اپچ یا اضطراری کیفیت کی نمو کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لیے مجھے ضرب المثل سے چڑ ہے کہ یہ میری ذات ، میری انفرادیت کی نفی کر کے مجھے انبوہ کا ایک جزو بننے پر مجبور کرتی ہے اور آپ جانتے ہیں، میں بھٹکی ہوئی بھیڑ تو کہلا سکتا ہوں، لیکن گلے کی ایک اندھی بہری بھیڑ کا منصب مجھے کسی صورت بھی قبول نہیں۔ کیا آپ کو قبول ہے؟
[1] درخت