عبداللہ چغتائی

عبداللہ چغتائی

بادشاہی مسجد لاہور

    ڈاکٹر عبداللہ چغتائی حصّہ اول مسجد کی جائے وقوع تاریخ لاہور کے گردو نواح کے مطابق اس مجوزہ اور ضروری مسجد عالمگیر کی جائے وقوع بھی ایک خاص مسئلہ تھا، جہاں اہل لاہور بآسانی شامل ہوسکیں، چناں چہ اس کے لیے موجودہ مقام کئی وجوہات کو مد نظر رکھ کر انتخاب کیا گیا جو نہایت موزوں تھا، یعنی قلعۂ لاہور کے مغربی دروازہ کے قریب مسجد کے مشرق کی طرف اور روشنائی دروازہ کے ہمراہ شمال کی جانب دریائے راوی بطور حفاظت شہر موجود تھے۔ بدقسمتی سے آج روشنائی دروازہ ہم پر ۱۹۳۵ء سے بند ہے جو سکھوں کے گوردوارہ اور سمادھ رنجیت سنگھ کی وجہ سے ہوا، ورنہ بادشاہ اور دیگر امراء اسی دروازہ سے داخل ہوتے اور کشتی کے ذریعہ آتے۔ دریائے راوی جو قلعہ کے ساتھ ساتھ بہتا تھا، آج نہیں ہے. ویسے آج مسجد تک رسائی کے لیے عام طور پر حضوری باغ کا جنوبی دروازه جو ایک طرح روشنائی دروازہ کی نقل ہے اور شہر کے لوگوں کے لیے صحیح راستہ ہے۔ بہرحال یہ تمام ماحول نہایت موزوں اور خوبصورت ہے اس ماحول کو مغل تاریخ میں ’جلو خانہ‘ لکھا ہے۔ ہم نے مقدمہ میں مختصر طور پران تاریخی مساجد کا ذکر کر دیا ہے جو اس مسجد سے قبل تعمیر ہوئی ہیں، مگر مسجد اورنگ زیب اپنی تمام خوبیوں کی وجہ سے آج دنیا بھر میں سب سے بڑی مسجد شمار ہوتی ہے جو آج زیر استعمال ہیں۔ یہ مسجد ۱۰۸۴ ء میں یہاں تعمیر ہوئی۔ ہم یہاں سے مسجد کے مشرقی صدر دروازہ میں اکیس سیڑھیاں چڑھ کر داخل ہوتے ہیں اور اس کے بالمقابل قلعہ کا مغربی دروازہ قدیم ہے۔ ویسے یہ مسجد اس ماحول میں آگرہ اور دہلی کی شاہی عمارات کی روایات پر دریا راوی کے کنارے اور شاہی قلعہ کے قریب تعمیر ہوئی۔ تاریخ سے کسی اور عمارت کا پتہ نہیں چلتا کہ اس مقامِ مسجد پر کبھی کوئی اور عمارت بھی تھی یا کوئی تعمیرکی گئی تھی۔ البتہ جنوب کی طرف با ہر عمارات ضرور تھیں جن کا وجود آج نہیں ہے اور نہ ان کی کوئی تفصیل ہی میسر ہے۔ فدائی خا ں کو کہ مہتم تعمیر مسجد مسجد کے مشرقی صدر دروازہ کے ماتھے پر سفید سنگِ مرمر کی خوبصورت سل پر مندر جہ ذیل کتبہ سیاہ پتھر میں حروف کاٹ کر کندہ کیے ہیں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مسجد ابو المظفر محی الدین محمد عالمگیر بادشاه غازی سنہ ہزار دہشتاد و چہار ہجری اتمام یافت بباہتمام کمترین خانہ زادان فدائی خان کو کہ اس سے واضح ہے کہ یہ مسجد زیر اہتمام فدائی خان کوکہ ۱٠۸۴ء میں تعمیر ہوئی۔ یہ شخص اس وقت لاہور میں گورنر کے عہدہ پر فائز تھا، اور اور نگ زیب کا رضاعی بھائی تھا، جس وجہ سے اسے کہ کہ لکھا ہے۔ اس کا وجود مغل تاریخ میں جہانگیر کے زمانہ سے ملتا ہے۔ اس کا اصل نام اورنگ مظفر حسین تھا۔ اور نگ زیب نے اس کے بہادرانہ کارناموں کی وجہ سے اس کی کافی عزت کی تھی۔ لاہور میں اس نے ایک حویلی بھی بنائی تھی۔ خاص کر لاہور کا حصہ مابین دہلی دروازہ اور اکبری دروازہ اس کے نام پر مشہور تھا اور حویلی بھی وہیں تھی۔ جب اور نگ زیب کو یوسف زئی پٹھانوں سے لڑنا پڑا تو فدائی خاں کو ١٠٨۶ء میں کابل کی مہم پرمتعین کیا گیا، جہاں اس نے کارہائے نمایاں دکھائے۔ جب وہ کامیاب ہو کر حسن ابدال میں اور نگ زیب کے حضور میں آیا تو اسے ’’ اعظم خاں کو کہ‘‘ کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔ تعمیر مسجد کے لیے شاہی فرمان یہاں ہم نے بیان کیاہے کہ اس مسجد کا کہیں کسی تاریخ سے کوئی حوالہ تک نہیں ملتا مگر محض حسنِ اتفاق سے میرے ذاتی کتاب خانے میں ایک پرانا مخطوطہ تاریخی تحریروں پرمشتمل موجود ہے۔ ان میں سے ایک تحریر بصورت فرمانِ شاہی بھی محفوظ ہے، جس سے واضح ہے کہ صوبہ دار دار السلطنت لاہور تو جہات شاہنشاہی کا مورد بنا اور فرمان شاہی دربار سے جاری ہوا کہ ایک مسجد نزاہت اور لطافت میں ضرب المثل دار السلطنت لاہور میں تعمیر کی جائے اور صوبہ کے لیے تیس لاکھ روپیہ مسجد کی تعمیر کی خاطر وقف کر دیے گئے۔ اور یہا ں کے حکام کوحکم دیا گیا کہ اس کے مطابق فوراً عمل کر کےمسجد مذکور جلد تعمیر کریں۔ فرمان کا متن ’’اہالی صوبہ دار السلطنۃ لاہور بتوجہات شہنشاہی متشہده و مباہی بوده بدانند کہ در نیولا بموجب توسیع ذاتی و تکملہ مکارم فطرتی حکم محکم قضا شیم شرف نفاذ یافتہ کہ مسجدی کہ در نزاہت و لطافت ضرب المثل نظار گیان دشوار پسند باشد و از مطرحِ کار و مطمح انظار عدیم المثل و مفقود البدل تواں گفت، بدار السلطنۃ مذکور احداث و اساس پذیرہ۔ بنا بر فرمان سعادت عنوان و توقیع لازم الاذعان بعز ایراد خرچ مبلغ سی لک روپیہ بنظر اشرف الاقدس گذشتہ و مبلغ مذکور بر آں صوبہ تنخواه یافتہ شائستہ آنکہ مبلغ مسطور را مطابق درکار وقت برای احداث مسجد مذبور بطابطہ الاہم فی الاہم بمتصدیان آں کہ از پیشگاه خلافۃ تعین شده اند رسانند و ہر چہ کہ مصالح خرچ و آنچہ کہ لوازمہ و بکار باشد بر حسب استدعای متصدیان مسطور بلا وقف و تاخیر و تعلل و اسہال سر براه نمایند تا زودتر مسجد مرقومہ گونہ اتمام و کسوت اختتام پوشیده قابل مشاہده و لائق سجده مقدس گردد۔‘‘ مسجد کا معمار یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عظیم الشان مسجد کی عمارت کے کسی معمار کا ذکر اوراقِ تاریخ عہد سے کہیں نہیں ملتا۔ سوا اس کے کہ ہم نے اوپر مسجد کا اپنا تاریخی کتبہ درج کردیا ہے اور وہی اطلاع سب پر حاوی ہے۔ بہر حال یہ بھی حقیقت ہے کہ اس قدر بڑی عمارت ضرور کسی اعلیٰ مستند معمار کے تحت تعمیر ہوئی ہوگی اور ہزار ہا کاریگروں نے اس میں حصہ لیا ہو گا، جنہوں نے یہ شاندار کارنامہ اسلامی فن تعمیر کامہیا کر دیا۔ میرے نزدیک وہ صحیح جذبات فن کے لوگ تھے اور وہ اوسکر وائلڈ کا قول ہے۔ ’’فن کار حسین و جمیل اشیاء کا خالق ہوتا ہے۔ فن کا اظہار اور فنکار کا اخفا فن کا مقصد ہے۔‘‘ بہر حال اور نگ زیب کے عہد سے متعلق عرض ہے کہ اس مسجد کی تعمیر سے قبل اورنگ زیب کی زوجہ دلرس بانو بیگم رابعہ دورانی کا انتقال اورنگ آباد (دکن) میں ہوا جس کا روضہ وہاں ایک طرح تاج محل آگرہ کے نقشہ پر ١٠٧٢ ھ میں تعمیر ہوا ،جس کا معمار ’’عطاء اللہ ‘‘تھا، جسے ہم نادر العصر استاد احمد معمار لاہوری عہد شاہ جہانی کا لڑکا تصور کرتے ہیں، کیوں کہ اس کا ایک لڑکا عطاء اللہ رشدی ماہر ریاضی تھا جس نے اکثر عمارات عہد شاہ جہانی میں بنائی تھیں اور احمد معمار لاہوری کے تین لڑکے تھے : عطاء اللہ رُشدی، لطف اللہ مہندس اور نور اللہ۔ افسوس عہد اور نگ زیب کی تاریخوں میں کس معمار کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ البتہ ایک معمارکلیان بن ہیرا کا ذکر مآثر عالمگیری میں ملتا ہے، غرض یہ کہ مسجد بادشاہی لاہور کے ضمن میں کسی معمار کا نام نہیں ملتا۔ مسجد کا افتتاح جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ ہمیں کسی تاریخ عہدمیں اس مسجد کا ذکر نہیں ملا اور یہی صورت اس کی تعمیر کے بعد اس کے افتتاح کی ہے مگر بادشاہ نے اس مسجد کی تعمیر کے فوراً بعد لاہور کا قصد کیا اور خاص کر اس سے پیشتر اس نے حافظ رحمت خاں کو پہلے ارسال کر دیا کہ وہ لاہور پہنچ کرجشن میلاد النبیﷺ کا خاطرخواہ انتظام ماہ ربیع الاول ۱۰۸٦ء میں کرے۔ ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ دراصل یہ مسجد کا افتتاحی جشن تھا۔ چناں چہ بادشاہ نے یہاں سے حسن ابدال کا رخ کیا۔ اور بادشاہ اپنے ہمراہ یہاں سے فدائی خاں کو بھی حسن ابدال برائے فوجی انتظام لے گیا تھا۔ اور واپسی پر بادشاہ پھر لاہور میں باغ فیض بخش شالامار میں ٹھہرا ور اس اثنا میں عیدالاضحیٰ کا موقع تھا۔ بادشاہ نے اس مسجد میں عید کی نماز ادا کی۔ اس سے پیشتر یہ انتظام کیا گیا تھاکہ مولانا عبداللہ بن مولانا عبدالحکیم سیالکوئی نماز الاضحیٰ پڑھائیں۔ انہیں خاص طور پر یہاں لاہور میں اس فریضہ کے لیے بلایا گیا تھا۔ ادائے نماز کے بعد انہیں اسی موقع پر خلعتِ فاخرہ، ایک لاکھ نقدی اور ایک ہاتھی عنایت کیے گئے۔ مولانا عبداللہ کا انتقال سیالکوٹ میں ۱۰۹۴ ھ میں ہوا۔ نماز ادا کرنے کے بعد جب شاہی سواری جامع مسجد لاہور سے واپس ہو رہی تھی تو بادشاہ تختِ رواں سے اتر کر کشتی میں سوار ہو رہا تھا توکسی بد بخت شوریدہ سر نے جو گر و تیغ سنگھ کا چیلہ تھا، دو اینٹیں پھینکیں۔ ان میں سے ایک تختِ رواں پر گری۔ پیادہ جلو نے اس بد نصیب کو پکڑ کر گرفتار کرکے کو توال کے حوالے کر دیا۔ (مآثر عالم گیری مطبوعہ حیدر آباد دکن اردو ترجمہ، صفحہ ١٠٤) تفصیل تعمیر مسجد حصّہ دوم عمارت کا مصالح عام لوگوں کے نزدیک مسجد بادشاہی ظاہرہ طور پر محض سرخ پتھر کی تعمیر شمار ہوتی ہے کیوں کہ ہر طرف یہی نظر آتا ہے اور یہ دیکھنے والابھی اسے حقیقت ہے۔ یہ سرخ پتھر جسے تاریخ میں سنگِ خارہ بھی لکھا ہے، آگرہ کے قرب و جوار میں فتح پور سیکری و بیانہ کے علاقہ سے لایا گیا تھا۔ مگر فنِ تعمیر کے اعتبار سے ان سرخ سلوں کے نیچے تمام عمارت ِمسجد چونہ اور اینٹوں سے فن تعمیر کے صحیح اصولوں پر تیار ہوئی ہے اور اس میں تنوع یعنی یک رنگی دُور کرنے کے لیے اکثر جگہ سرخ پتھر کی سطح پر منبت کاری اور سفید سنگِ مرمرسے پرچیں کاری بھی کی گئی ہے۔ یہ سفید سنگِ مرمر جو بادشاہی مسجد کی تمام عمارت پر لگایا گیا ہے، مقام مکرانہ ریاست جودھپور سے لایا گیا تھا۔ اس طرح اس عمارت مسجد کو زیادہ حسین بنا دیا گیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مسجد کے گنبد سفید سنگِ مرمر کی بھاری سلوں سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ویسے مسجد میں دیگر انواع کے نقش و نگار بھی ہیں۔ ہم ان کو الگ اسی عنوان ’’زیب و زینت‘‘ کے تحت بیان کریں گے۔ اگرچہ موجودہ مرمت سے کسی قدر پرانی روایات مصالح میں فرق بھی آگیا ہے۔ معائنہ عمارت سے واضح ہو جاتا ہے کہ شاہ جہانی اینٹوں سے اس مسجد کی معماری کی گئی ہے یعنی یہ اینٹیں پیمائش کے اعتبار سے کسی قدر شکل میں مربع نما تقریباً دس انچ ضلع کی ہوتی تھیں، ان کو نہایت عمدگی سے زیادہ مقدار چونہ سے جوڑا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ عمارت بدستور کھڑی ہے۔ عمارت کے اس مصالح سے متعلق بعض لکھنے والوں نے جنہیں تاریخ سے تعلق نہیں ہے، بیان کیا ہے کہ اس مسجد پر وہ تمام مصالح استعمال ہوا ہے جسے شہزادہ داراشکوہ نے حضرت میاں میر صاحبؒ کے روضہ کی تعمیر کے لیے یہاں جمع کیا ہوا تھا، جو شہزادہ مذکور کے پیرو مرشد تھے۔ میں اسے صحیح نہیں سمجھتا کیوں کہ حضرت میاں میر صاحب کا انتقال لاہور میں ۱۰۴۵ ھ میں ہوا، جو شاہ جہان کے عین شباب کا زمانہ تھا، اور مسجد کی تعمیر ۱۰۸۴ ھ میں ہوئی۔ داراشکوہ کا خاتمہ ۱٠۶۹ھ میں ہوا، یعنی تعمیر مسجد سے ۳۹ سال تک روضہ تعمیری نہیں ہوا تھا۔ یہ محض ایک قیاس ہے، اس مصالح کو روضہ حضرت میاں میر صاحب سے کوئی تعلق نہیں ہے جو اپنے وقت پر بعہد شاہ جہان تعمیر ہو گیا تھا۔ بلکہ اس روضہ کے قریب باہر روضہ نادرہ بیگم زوجہ داراشکوہ آج بھی کھنڈرات میں موجود ہے، جو قریب بزمانۂ شہنشاہیت اور نگ زیب خواجہ مقبول کی زیر نگرانی تعمیر ہوا تھا اور یہی شخص مرحومہ کی لاش کو سندھ سے یہاں لایا تھا اور اس سے قبل اسی شخص نے لاہور میں ایک مسجد بھی١٠٦٠ھ میں تعمیر کی تھی جسے لوگ غلطی سے دائی انگہ کی مسجد بیان کرتے ہیں حالاں کہ اس کا اپنا نام بھی اس مسجد پر لکھاہے ۔نا درہ بیگم کا روضہ واقعی ایک شاندار عمارت پانی کے تالاب میں واقع تھی۔ مسجد کا صدر دروازه یہاں شائع شدہ پلین مسجد اور جائے وقوع کا نقشہ واضح کرتے ہیں کہ یہاں جائے وقوع کے نشیب و فراز کو مد نظر رکھ کر مسجد کا صدر دروازہ محض ایک ہی مشرق کے رخ رکھا گیا ہے۔ اگر چہ مسجد کے جنوب میں بھی ایک معمولی ساضمنی چھوٹا سا دروازہ ابتدا سے تھا جس کے بعد اس کے ہمراہ ویسے ہی اور دروازے بھی بعد میں قائم کردیے گئے ہیں۔ یہ صدر دروازہ سطح زمین سے خاصا بلند ہے، جس کی وجہ سے اس مسجد کی ظاہری عظمت میں اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ قریب اکیس سیڑھیاں چڑھ کر چبوترہ تک پہنچتے ہیں۔ یعنی اس طرح یہ صدر دروازہ عام زمین سے تقریباً تیس فٹ بلند ہے اور یہ قلعہ لاہور کے مغربی دروازے کے عین سامنے ہے، اور دیگر مغل شاہی عمارات کے دروازوں کی روایت پر ہے۔ تعمیری طور پر یہ صدر دروازہ اپنے ماتھے پر اور عقب میں دو نصف گنبدوں، اور ساتھ ہی درمیان میں پورے گنبد پرمشتمل ہے یعنی یہ بذاتِ خود ایک مکمل شاہانہ عمارت ہے۔ یہ مربع مکعب دو منزلہ عمارت بحیثیت رہائش گاہ برائے خطیب یا امام اور ساتھ ہی مکتب اور کتاب خانہ کے مطالب کو پورا کرتی ہے۔ اس کا ماتھا اور عقب قریب قریب ایک جیسے ہیں، سوائے اس کے کہ باہر مشرق کی طرف کمان کے اوپر مسجد کا تاریخی کتبہ آویزاں ہے جسے ہم اوپر درج کر چکے ہیں اور اس کے کناروں پر برجیاں اور دیگر کنگرے ہیں۔ پتھر پر منبت کاری اور اندر گنبد پر عام آبی رنگوں میں نقاشی بھی کی گئی ہے۔ یہ گنبد نصف کر وی ہے۔ بڑی کمان کے کونوں پر سنگ ِمرمر میں شمسے آویزاں ہیں اور کھڑکیاں بھی ہیں جن سے اندر روشنی اور ہوا با قاعدہ پھرتی ہے۔ اس کے اندر بطور مکتب برآمدے بھی ہیں۔ فنِ تعمیر شاہانہ میں صدر دروازے بہت حیثیت رکھتے ہیں، جیسا کہ اس دروازے سے بھی واضح ہے۔ اس کی بہترین مثال ہمارے سامنے فتح پور سیکری میں اکبر کی مسجد کے بلند دروازہ سے عیاں ہے جو مقام کی کیفیت کے اعتبار سے عمارت کے جنوب کی طرف ہے اور دہلی میں جامع مسجد کے تین دروازے ہیں جو سہولت و عمدگی سے بنائے گئے ہیں۔ تاہم یہ ہمارے سامنے واضح حقیقت ہے کہ یہاں بادشاہی مسجد میں یہ صدر دروازہ اس کے مشرق کی طرف نہایت موزوں عمارت اس ماحول میں ہے۔ مسجد کا فرش اور پانی کا انتظام ہم اس صدر دروازہ مسجد سے گزر کر اندر وسیع صحن مسجد میں داخل ہوتے ہیں جس کا فرش دروازہ کے چبوترہ سے تقریباً ساڑھے سات انچ بلند ہے جو آج قریب قریب تمام مربع سنگ سرخ کی سلوں سے آراستہ ہے، جو موجودہ انتظام مرمت مسجد نے لگایا ہے، ورنہ اس سے قبل یہ تمام فرش بصورت مصلےٰ نماز صفوں میں آراستہ تھا تا کہ وقت جماعت خود بخود ہر نمازی صفوں میں کھڑا ہو جائے اور ان قدیم صفوں کے مصلوں کے حاشیے سیاہ سنگِ موسیٰ سے آراستہ تھے اور یہ تمام ماحول صحن مسجد میں بچھا ہوا تھا۔ اس تمام فرش میں قریب چھ انچ معمولی سی شمال کی طرف ڈھلوان بھی دی گئی ہے تا کہ بارش یا حوض کا پانی بآسانی پنچروں سے نیچے چلا جائے جو اس وسیع فرش پر نظر آتے ہیں اور ان کے نیچے یہ تمام پانی ایک جگہ اکٹھا ہو کر شمال کی طرف باہر دریا میں جاگرتا تھا اور آج بھی قائم ہے۔ اگرچہ مسجد کے صحن کے درمیان وضو کے لیے ایک وسیع مربع حوض ہے جس کا ضلع پچاس فٹ ہے اور یہاں سے ذرا آگے مسجد کا فرش قریب ڈیڑھ فٹ اوپر دو زینوں سے بلند ہو جاتا ہے اور یہ حصہ آخر اوپر ایوان مسجد تک پہنچ جاتا ہے۔ یعنی درمیان میں ایک مزید شوکت پیدا ہو جاتی ہے جس پر ہم نے ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو علامہ اقبال کی نماز جنازہ مولوی غلام مرشد خطیب مسجد بادشاہی کی اقتداء میں ادا کی تھی۔ ایوان کے اندر محراب ہے اور اسی حصہ سے تمام مسجد کی شان و شوکت اور عظمت وابستہ ہے۔ ویسے باہر نیچے کے فرش سے یہ حصہ ایوان قریب پانچ فٹ بلند ہے۔ یہ حصہ ایک پختہ اور نگر کرسی تصور کرنی چاہیے جسے اس موجودہ مرمت مسجد میں از سر نو سنگ مرمر کے مصلوں کے فرش سے آراستہ کیا گیا ہے مگر اس کا ازارہ ابری دار پتھر کا ہے، اور دیواروں پر پختہ پلستر کی تہ دی گئی ہے جس پر نقاشی ہے۔ اس ایوان میں محراب کے ہمراہ منبر کو از سر نوبجلی کے جدید انتظام کی وجہ سے مرتب کیا گیا ہے اور اسی حصہ کے اوپر تین خوبصورت بلند دہر سے گنبد کھڑے ہیں اور درمیانی دہرا گنبد دوسروں سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ عام طور پر مسجد میں آنے والا ہر آدمی اپنے دل میں سوچتا ہے کہ اتنی بڑی مسجد کے لیے پانی فراہم کرنے کا کیا انتظام ہے اور حوض کیسے بھرتا ہے اگرچہ ہم نے ہمیشہ میونسپل کارپوریشن کے نلکے کو ہی حوض پر دیکھا ہے مگر تحقیق سے معلوم ہوگا کہ مسجد کے جنوب مشرقی کونے میں باہر ایک قدیم زمانے کا بہت بڑا کنواں ہے جسے اگر چہ آج ٹیوب ویل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، غرض یہ کہ اس کے ذریعے مسجد کا حوض بھر دیا جاتا اور دیگر ضروریات پانی کو اسی کے ذریعے پورا کیا جاتاتھا اور چرسہ اس کنویں کے ساتھ قائم تھا۔ اگرچہ یہ قدیم انتظام آج موجود نہیں غرض یہ کہ تمام پانی اکٹھا ہو کر نیچے نیچے فرش مسجد کے خود بخود شمال کی طرف چلا جاتا تھا اور آج بھی یہی نظام ہے۔ دالان مسجد کا وسیع صحن چاروں طرف باستثنا قبلہ دیوار کے سر بسر یکساں طرز کے دالانوں سے آراستہ ہے جو سطح سے تقریباً اکیس فٹ بلند ہیں اور ان کی بیٹھک تین فٹ بلند سر بسر ہے۔ ان پر اسی طرح اوپر چاروں طرف کنگرے دار منڈیر ہے اور اندر تیرہ فٹ چوڑے ہیں۔ بدقسمتی سے جب مسجد کو انگریزوں نے مسلمانوں کے حوالے ۱۸۵۶ء میں کیا تھا تو مشرق کی طرف کے دالانوں کو گرا کر دیا تھا تاکہ مسجد کے اندر کے حالات کا بخوبی قلعہ کی دیواروں سے دیکھا جا سکے جو انگریزوں نے اس وقت بطور ِمصلحت کیا تھا۔ اس حصہ مشرق کے دالانوں کو پھر اب پاکستان کےظہور میں آنےکے بعد از سرنو بنا دیاگیا اور ان کے ہر دو طرف یعنی دائیں اور بائیں وضو کا انتظام کر دیا گیا ہے جومسجد کی اصل تعمیر میں نہ تھا اور بانیِ مسجد کے سامنے ان کا تصور بھی تھا۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، ان دالانوں کا اوپر کا منڈیر ایک یکساں چاروں طرف کنگروں کی صورت میں جن کی شکل باصطلاحِ معماری مداخل کہلاتی ہے۔ مسجد کے کماندار طاق یہ تمام عمارت مسجد معماری کے کماندار اصولوں پر مبنی ہے اور ان کمانوں کی پر کار بالکل یکساں ہر طرف نظر آئے گی۔ مگر یہ کمانیں تمام مرغولہ دار ہیں جن کو کمانِ شاہ جہانی بھی کہتے ہیں۔ کیوں کہ یہ طرزِ تعمیر زیادہ تر شاہ جہان کے عہد میں اختیار کی گئی تھی جس کا صحیح مظہر ہمیں آگرہ اور دہلی کی عمارات ِشاہ جہان سے ملتا ہے۔ اگر چہ تاریخی طور پر جسے محقق سٹیتھم نے ظاہر کیا ہے کہ یہ زیادہ معقول امر ہو گا کہ ان کو ہم فرض کرلیں کہ یہ عربوں کی اختراع ہے جو صدیوں تک اہل یورپ کے علم میں نہیں تھی۔ جن کو اول مسلمانوں نے وسط ایشیا اور ایران کی عمارات میں اختیار کیا۔ جہاں سے مسلمان اس طرز کو ہندوستان لے گئے۔ اور اس وقت یہ طرز عام رواج پاگئی اور سترہ صدی سے مغل فن کارا سے مرغولہ صورت میں بروئے کار لائے اور عہد شاہ جہانی کا طرہ ٔامتیاز بن کر اپنے معیار پر پہنچ گئی مگر یہ معلوم ہوگا کہ نوک دار کمانوں کا استعمال اسلامی عمارات میں ایک تقدس سمجھا گیا اور اسی پر ان کو اصرار ہے کہ یہ اسلامی ممالک میں خصوصیت بن گئی۔ بادشاہی مسجد لاہور میں یہ یکساں طرز کمان صدر دروازہ سے لے کر اخیر محراب تک بالکل یکساں نظر آتی ہے۔ مسجد کے عقبی قبلہ دیوار طرف کعبہ ایک خصوصیت رکھتی ہے کیوں کہ اسی میں محراب ہے جو مسجد کی روح ہے. یہاں ایک لفظی خصوصیت کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے۔ اس حصۂ مسجد کو عربی کتابوں میں’’ الایوان‘‘ لکھا ہے اور اکثر استعمال کی وجہ سے اکثر اوقات اسے بعض یورپی مصنفین نے ’’لیوان‘‘ بھی لکھا ہے جو غلط ہے۔ اسی میں مسجد کی محراب ہے اور کماندار ماحول نظر آئے گا۔ ایوان کا ماتھا یا پیشانی اس مسجد کی عظمت دیکھنے والے کو صحن میں اندر داخل ہو کر مسجد کے ایوان کی مرکزی پیشانی زیادہ متحیر کرتی ہے۔ اسے انگریزی میں فرنٹن (FRONTON ) کہتے ہیں اور بعض لکھنے والوں نے اسے ’’درگاہ‘‘ بھی لکھا ہے۔ اس کی مرکزی اونچائی اسی فٹ اور چوڑائی پچپن فٹ ہے۔ اس میں مسجد کے ایوان کی بلند در میانی کمان جس کے ہر دو جانب خوبصورت چاروں کونوں پر برجیاں ہیں اور درمیانی کمان کے کونوں پر پرچین کاری میں سفید مرمریں گل بوٹے ناظر کو متوجہ کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اس کمان کے نیچے اندر کے رخ اُبھرے ہوئے نقوش میں بیل سر بسر مرمریں گل بوٹوں میں چلی گئی ہے اور یہ کمان نہایت عمدگی سے نصف گنبدی طرز پر قائم کی گئی ہے۔ پھر اس کے آگے اندر داخل ہونے والی کمان کی چوکھٹ کے ماتھے پر کلمۂ طیبہ سفید پتھر پرکھو دکر سیاہ پتھر میں بھر دیاگیا ہے۔ تمام نقش و نگار کسی قدر عجوبۂ روزگار نظر آتے ہیں۔ ایوانِ مسجد اس کتاب کا مطالعہ کرنے والے حضرات اس مسجد کے ایوان کا بغور مطالعہ کریں اور اگر موقع ملے تویہ بھی مشاہدہ کرنا چاہیے تاکہ تعمیر کرنے والے ماہرین کی لیاقت اور فنِ تعمیر کی گہرائیوں کا صحیح حظ اٹھایا جاسکے۔ کیوں کہ مسجد کا تمام حسن اورکشش اسی ایوان پرموقوف ہے اور سب سے بڑھ کر اسی حصہ ٔمسجد پر شریعت ِاسلام کا بھی اطلاق ہے۔ اس ایوان میں دو حصے ہیں یعنی دہرا ایوان ہے اور بیچ میں دیوار ہے ..... اور اس حصے کے سامنے والے حصے کو دائیں اور بائیں درمیانی درگاہ کو چھوڑ کر پانچ پانچ طاقتوں میں تقسیم کیا ہے۔ پھر اسی ترتیب سے پچھلے یعنی بڑے حصے کو تقسیم کیا ہے اور اس پر تین بلب نما گنبد کھڑے ہیں جب کہ درمیانی گنبد زیادہ بڑا اور بلند بھی ہے جو درمیانی مربع حصہ سے واضح ہے اور یہ گنبد قطری کمانوں پر قائم ہیں اور ان گنبدوں کے درمیانی قلبوتی نظام کو معمار لوگ چشمہ کہتے ہیں غرض یہ کہ یہ تمام نظام منظومیت پیش کرتا ہے۔ اسی حصہ میں محراب و منبر ہیں جن کو ہم الگ بیان کرتے ہیں اور اس ایوان کے شمالی وجنوبی اطراف میں الگ راستے ہیں۔ ان سیڑھیوں کے ذریعہ ادھر سے ایوان میں داخل ہوتے ہیں۔ محراب و منبر یہ شعر عام طور پرمشہور ہے ہے : چراغ و مسجد و محراب و منبر ابو بكرؓ وعمرؓ، عثمانؓ وحیدرؓ اس شعر میں بہت کچھ مضمر ہے۔ بہر حال مسجد کے لیے محراب و منبر کا ہونا لازمی ہے کسی موقع پر یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ یہ مسجد کی روح ہیں۔ خاص کر اس مسجد کا درمیانی مربع حصہ جہاں منبر ومحراب میں بہت ہی خوبصورت تمام سنگِ مرمر کا ہے اور تمام ازارہ ابری پتھر کا ہے ۔پھر اس حصہ کے تمام حواشی کو نقش و نگار سے بھی آراستہ کیا ہے۔ مگر موجودہ منبر در اصل حال ہی کی تعمیرہے کیوں کہ اس کے نیچے بجلی کا بڑا سوئچ بھی قائم کر دیا گیا ہے اور میرے سامنے موجودہ منبر از سر نو قائم کیا گیا ہے۔ ویسے تاریخ میں اکثر مساجد کے منبر لکڑی کے بھی بنائے گئے ہیں۔ ان میں مسجد قیروان کا منبر بہت مشہور ہے اور مصر کے عجائب خانہ اور لندن و استنبول کے عجائب خانوں میں بھی لکڑی کے منبر محفوظ ہیں۔ گنبد مسجد بادشاہی کو دور سے متوجہ کرنے والے اس کے ایوان کے اوپر سفید سنگ مرمر کے تین بلند گنبد میں اور درمیانی گنبد زیادہ بلند اور زیادہ بڑا بھی ہے۔ آج تک مہندس اس درمیانی گنبد کو پر کار کے احاطے میں لانے سے قاصر ہیں اور یہ ہرسہ گنبد اندر سے دوہرے ہیں اور ان کے بلند گر دے ٢١ فٹ اور ٣٢ فٹ اندونی طور پر قطری کمانوں کے نظا پر قائم ہیں۔ ان گندوں کے درمیان باقاعدہ محرابی و کمانی نظام پر چشمے قائم ہیں اور ان کا تعلق دوسری باہر کی کمانوں سے بھی ہے جس وجہ سے یہ تمام ایوان ایک نہایت مربوط اور منظم عمارت ہے۔ گنبدوں پر سنہری کلس دور سے چمک مارتے ہیں اور ان کو الٹے ہوئے کنول کے پھول پر اس طرح قائم کیا ہے کہ واقعی غور سے دیکھنے سے وہی کھلا ہوا معلوم ہوتا ہے، ان دوہرے گنبدوں کے اندر خلا30 فٹx 321/2فٹ ۱ 391/2×43 1/2فٹ الگ الگ ہے جن سے یہ گنبد کافی بلند ہو گئے ہیں اور ان سے مسجد کے ایوان کے محراب سے پیدا ہونے والی آواز کو بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ غرض یہ کہ سائنس کے اصولوں پر قائم ہیں اور شکل میں بلب نما امر و وی شکل کے ہیں۔ یہ یہاں بیان کرنا ضروری ہے کہ مسلمانوں نے ہی ہندوستان بھرمیں گنبد کا اول صحیح استعمال کیا اور تاریخ میں بیان ہے کہ مسجد قوۃ الاسلام دہلی پر اعلیٰ گنبد تھے جسے امیر خسروؒ نے ’’قرآن السعدین‘‘ میں بیان کیا ہے اور مسجد یہاں ۵۸۷ھ میں تعمیر ہوئی تھی۔ مگر اس کے قریب ایک صدی بعد علاؤالدین خلجی نے پھر جب جماعت خانہ اور اس مسجد کا الگ دروازہ بنائے تو ان گنبدوں کو نہایت وضاحت سے قائم کیا مگر دو ہرا گنبد بھی یہاں ہندوستان میں قریب نویں صدی ہجری کے اخیر دہلی میں قائم ہو گیا تھا۔ اور اسی خصوصیت کو ہمایوں کے مقبرے میں ذرا مزید و ضاحت سے بروئے کار لایا گیا۔ لاہور میں اس قسم کا قدیم ترین گنبد حضرت عبد الرزاق ؒ کا آج ’’نیلا گنبد‘‘ کے نام سے مشہور ہے جو ٩٥٧ ھ میں تعمیر ہوا ۔ مینار اس مسجد بادشاہی کا نمایاں پہلو اس کے چار سرخ پتھر کے مینار اس کے چاروں کونوں پر آج بھی موجود ہیں جن کو باقاعدہ اصلی حالت پر مرمت کرایا گیا ہے اور دور سے نظر آتے ہیں۔ فن تعمیر عالم میں’’مینار ‘‘ کی تاریخ بہت دلچسپ ہے، خاص ٫3کر اس حقیقت کو لکھنے والے فراموش کر دیتے ہیں کہ مینار کی ابتدا اور بنا اول اسلام میں ہوئی جب مسلمانوں نے مساجد میں اذان بلند مقام سے دینے کی ضرورت محسوس کی، تاکہ لوگ عمدگی سے سُن لیں۔ اسی غرض سے مسجد نبوی میں اول مرتبہ مئذنہ یا مینار ۸۹ ھ کے بعد آگیا تھا۔ جب خلیفہ ولید بن عبد الملک کے حکم سے مسجد نبوی کو از سرنو تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس میں کئی تبدیلیاں بھی ہوئیں، حتیٰ کہ عمارتی خوبصورتی کے تحت اسے مسلمانوں نے اپنے مقبروں کے چار کونوں پر بھی بنایا یعنی ’’مئذنہ‘‘ اذان دینے کے مقام کو عمارت کے حسن کا بھی حصہ بنا دیا گیا۔ بادشاہی مسجد کے مینار ہشت پہلو سطح پر زمین سے قریب بیس فٹ بلند شروع ہوتے ہیں اور اس کے اوپر تین منزلیں الگ ہیں اور ان کی اونچائی (1431/2) فٹ ہے، بر جیاں جو از سر نو مرمت میں قائم کر دی گئی ہیں، الگ ہیں۔ مسجد کی بڑی بڑی پیمائشیں مسجد میں داخل ہونے کے لیے سیڑھیوں کے چبوترے پر ہم پہنچتے ہیں جو ٧٩فٹ لمبا اور ۳۴ فٹ چوڑا ہے۔ صدر دروازہ قریب قریب مربع ہے جس کا ضلع ٦٥ فٹ ہے جو ایک طرح رہائشی مکان نما ہے اور دومنزلہ عمارت ہے۔ کبھی یہاں مسجد کا کتبخانہ بھی تھا۔ اگر چہ آج یہاں تبرکات رکھے ہوئے ہیں۔ مسجد کا صحن جیسا کہ شائع کردہ پلین سے واضح ہے۔ تقریبا مربع شکل کا ہے یعنی اس کا ضلع ۲۸ ۵ فٹ ہے مسجد کا ایوان یعنی محراب والا حصہ جو مسقف ہے مغربی دیوار تک ہے جس کی کرسی قریب دو گز بلند ہے۔ ۲۲۷ فٹ طویل اور ١۱۵ فٹ عریض ہے مگر اس ایوان کے آگے جوصحن کا ذرا بلند حصہ ہے، چوڑائی میں ۵۰ا فٹ اور درمیان میں اپنے دائیں اور بائیں پہلو سے ذرا بلند ہے یعنی اس حصہ سے مسجد میں ایک خوبصورتی بھی بطورِ عظمت دگنی ہے۔ حوض کا ضلع۵٠ فٹ ہے۔ ان بڑی بڑی پیمائشوں کی موجودگی میں اگر ہم ذرا حساب لگائیں تو معلوم ہوگا کہ بآسانی پچھتر ہزار سے زائد نمازی بیک وقت جماعت با امام ادا کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے لاہو کے لوگ اسے بطورِ عید گاہ بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس مسجد سے قبل مغل مساجد یعنی آگرہ ،فتح پور سیکری اور دہلی میں تعمیر ہو چکی تھیں جو اس مسجد سے کافی چھوٹی ہیں۔ مسجد کی زیب و زینت (نقش و نگار) مسجد کامشاہدہ دینے والے کو واضح کرتا ہے کہ تین چار انواع نقش و نگار اپنی فنی کیفیت سے اپنی طرف متوجہ مطالعہ کرتے ہیں۔ اول عام پتھر پر منبت کاری ،دوم تھر کی سطح کو کھود کر ان کو اس کھدی ہوئی جگہ پر کسی دوسرےرنگ کے پتھر کو بصورت نقش و نگار بھردیا گیا ہے۔ تیسری قسم پتھر کو کھود کر بصورت نقش و نگار بھر کر ان کو سطح سے کسی قدر ابھرا ہوارکھا ہے۔ چوتھی نوع نقش ونگار بصورت پھول بوٹے سفید پلستر یعنی استر کاری پر کیے گئے ہیں۔ ان انواع کو ہم ذیل میں مختصر طور پر بیان کرتے ہیں۔ تاریخی حیثیت سے ہمیں علم ہے کہ سب سے اول مسجد نبوی مدینہ منورہ کی دیواروں پر الفسيفساء (موزیک ) سے ۸۹ ھ میں نقش و نگار کیے گئے۔ جب خلیفہ اموی ولید بن عبد الملک نے مسجد نبوی کو مکمل طور پر از سر نو تعمیر کیا تھا یعنی بار نطینی اور ساسانی طرز کے قدرتی بیل بوٹوں کو رسمی طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ اس ابتدائی عہدِ اسلامی کے اسی طرز کے بیل بوٹے جامع اموی دمشق میں آج بھی موجود ہیں جسے اسی خلیفہ ولید نے ہی تعمیر کیا تھا گر یہاں بادشاہی مسجد میں نقش و نگار مختلف ہیں، جن کو مختصر طور پر ذیل میں بیان کرتے ہیں۔ (١) یہاں لاہور میں ایوانِ مسجد بادشاہی کا درمیانی مربع حصہ جس میں محراب و منبر ہیں، نہایت دیدہ زیب تمام سفید سنگِ مرمر میں مرغولہ دار کمانوں، طاقچوں اور محرابوں پر مبنی ہے۔ اکثر یورپی محققین نے اس حصۂ مسجد کو بوجہ اہمیت کے ’’درگاہ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور مسجد کا قلب بھی یہی ہے۔ یہیں امام اپنا خطبہ پڑھتا ہے، نہیں قراءت کرتا ہے اور امامت کرتا ہے۔ اس مسجد کے اس حصے کے بنانے میں اسے زیادہ موزوں اور مرصع کرنے میں کمال کر دیا ہے۔ اس میں کئی قسم کی بیلیں سفید سنگ مرمر پر منبت کی ہوئی ہیں جن میں پتے، پھول وغیرہ منظم طریق پر بنائے گئے ہیں اور غور سے مشاہدہ اور مطالعہ واضح کرے گا’’پتے‘‘ کی ہیئت زیادہ تر رومن اکنتھس طرز پر بنائی گئی ہے۔ اگرچہ اس سے مختلف ہے اور اس میں تاریخ قدیم، عہد متوسط اور جدید شامل ہیں خاص کر درمیانی گنبد کے گردہ کے قریب جہاں قطری کما نیں ہیں نہایت حسین بنا دیا ہے اور الفاظ ان کا احاطہ نہیں کر سکتے، محض مشاہدہ ہی کافی اور اس سے جو حظ اٹھایا جاتا ہے، وہ بہت ہی گرا ں قد ر ہے۔ یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح مسلمانوں نے ابتدا میں قبۃ الصخرہ یروشلم میں ان نقوش کو استعمال کیا تھا اور یہاں ایک روایتی مشابہت ضرور ہے اور اسلامی طرز استعمال کی وجہ سے بھی بالکل مختلف ہے بعض جگہ سطح کو بے شمار مربع ومستطیل میں تقسیم کر دیا ہے اور ان کے اوپر کے حصوں کو مرغولہ کی صورت دے دی ہے جس سے ان کی ہیئت اسلامی ہوگئی ہے۔ یہی سادہ منبت کاری یہاں ہم عام سُرخ پتھر کی سلوں پر بھی ہر طرف دیکھتے ہیں اور ہر مربع یا مستطیل سل کو اس طرح منقش کیا گیا ہے کہ بذات ِخود ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہی ان نقوش کا حسین پہلو ہے جسے ہم الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ سب سے بڑھ کر ان تمام پتھر کی سلوں کے حاشیے خاص دلکشی رکھتے ہیں۔ بہر حال اس منبت کاری نے ہر طرف ایک عام صاف سطح پتھر کو دلکش بنا دیا ہے۔ مشاہدہ کرنے والوں کو چاہیے کہ بغور مطالعہ کریں۔ (۲) یہ ایک حقیقت ہے کہ مسجد کی دیواروں کو سرخ پتھر کی بڑی بڑی سلوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔ جن پربعض جگہ نہایت اعلیٰ طریقے سے کھود کر ان میں سفید سنگِ مرمر کے نقش ونگار کو بھر دیا ہے جسے ہم اس طریقۂ کار کی وجہ سے پر چین کاری کہتے ہیں، اس سے ایک تنوع اور دلکشی ضرور پیدا ہو گئی ہے۔ اس کی اول شہادت یہاں ہمیں مسجد کے مشرقی صدر دروازہ کے باہر ماتھے پر مسجد کے کتبۂ تاریخی سے ملتی ہے اور جہاں سیاہ مرمر کے حروف کو سفید سنگ ِمرمر کی سطح پر بھر دیا ہے۔ اگر چہ دُنیا میں اس طرز کا کمال ،مقبرہ ٔجہانگیر لاہور اور تاج محل آگرہ میں کئی رنگوں کے پتھر سے پیدا کیا ہے۔ (۳) متذکرہ بالا کے علاؤہ نقوش کو سرخ پتھر کی سطح پر کھود کر اسی طرح کے سفید مرمر کے نقوش کو کاٹ کر ان میں بھر دیا ہے اور ان کو کسی قدر او پر ابھرے ہوئے ہم دیکھتے ہیں، یعنی وہی متذکرہ بالاطریقہ پر چین کاری ہے مگر ذرا ایک قدم آگے نظر آتا ہے۔ یہ طرز آج تک اس مسجد کے علاؤہ کہیں کسی مغل یا دیگر اسلامی یا غیر اسلامی عمارت میں نہیں ملتی۔ اس بادشاہی مسجد میں اس ضمن میں یہ بہترین مثال مسجد کے ایوان کے ماتھے کی بڑی کمان کے کونوں پر اور اسی کمان کے اندر اس کمان کا گردا ہے، یہاں ایک خاص بیل سر بسر تمام محراب پر چلی گئی ہے جو اس قدر دیدہ زیب ہے کہ انسان متحیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہم یہاں اس کے نقش کو پیش کرتے ہیں۔ اس قسم کی بیلیں ہمیں بعض دور احیان کے اطالوی فن کاروں کی تصاویر میں بھی ملتی ہیں مگر یہاں یہ نقش و نگار ان سے بدرجہا اعلیٰ، ارفع اور مختلف نہایت منظم طریق پر سنگ مرمر میں کاٹ کر بھر دیے ہیں اور یہی طرز اس مسجد میں بعض طاقچوں کے مرغولوں پر بھی ہے اور اسی طرز میں بعض جگہ محرابوں اور کمانوں کے کونوں میں شمسے بھی سنگ مرمر کے کاٹ کر بھر دیے ہیں۔ اس ضمن میں مسجد کے ماتھے کا مشاہدہ لازمی ہے۔ (٤) اسی طرح اس مسجد کے صدر دروازہ کے اندر مسجد کے ایوان کے اندر دیواروں اور گنبدوں کے اندر تمام پلستر کیا ہوا ہے یعنی اس سفید استر کاری پر مختلف آبی رنگوں میں نہایت موزوں اور منظم نقش و نگار کیے گئے ہیں جن کے بعض اہم نمو نے ہم یہاں شائع کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ تمام نقش ونگار ایک طرح قدیم اصل پلستر اور نقاشی کا احیاء ہیں جو ۱۸۵٦ء کے بعد کیے گئے۔ جب یہ مسجد قریب صدی کے بعد مسلمانوں کو ملی تھی کیوں کہ نہ تو ان کو موجودہ سرکاری مرمت کے دوران از سرنو کیا گیا اور نہ ایسا معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال حقیقت ہے کہ جب انسان ان کا مشاہدہ کرتا ہے تو ایک فرحت محسوس ہوتی ہے۔ ہر آدمی جو یہاں آتا ہے ان کے مشاہدہ سے سر شار ضرور ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ ان تمام متذکره بالا انواع نقش و نگار کوہم نے مختصر طور پر بیان کیا ہے۔ مشاہدہ کرنے والامسجد کے اس پہلو کا نہایت متانت اور اطمینان سے مشاہدہ کر کے ایک حظ محسوس کرتا ہے اور ایک خاموش آرزو اپنے ساتھ لے جاتا ہے کہ ایک بار پھر ان کا مشاہدہ کروں گا۔ یعنی انسان اُن سے اکتاتا نہیں۔ اور یہی ان نقش و نگار کا مقصد ہے۔ مسجد بحیثیتِ عید گاہ بادشاہی مسجد لاہور کا رقبہ تین لاکھ چونسٹھ ہزار پانچ سو (۳,۶۴,۵۰۰) مربع فٹ) ہے۔ جو ایک طرح وسیع میدان ہے اور اس مسجد کو ابتدا سے ہی سب سے بڑی مسجد سمجھ کر اس لیے بھی تمیر کیا گیا تھا کہ ضرورت کے وقت یہ عید گاہ کابھی کام دے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے عید گاہیں بھی مساجد کی طرح عموماًشہر کے با ہر تعمیر کی ہیں اور ان کو تاریخ میں ’’نماز گاہ‘‘ یا ’’مصلےٰ‘‘ بھی لکھا ہے۔ تاریخ اسلامی کا یہ ایک دلچسپ باب ہے کہ ہم اسلامی دنیا کی مشہور عید گاہیں یہاں بیان کریں۔ بہر حال یہاں اشارہ کافی ہے مگر پاک و ہند میں سب سے بڑی عید گاہ آگرہ کی شمار ہوتی ہے جسے شاہ جہان نے خود تعمیر کیا اور اس کی لمبائی ٥٧٠ فٹ اور چوڑائی ۵۳۰ فٹ ہے۔ اسی طرح دہلی میں پہاڑ گنج میں عید گاہ ہے مگر وہ اتنی بڑی نہیں ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ آگرہ کی عیدگاہ اور لاہور کی اس بادشاہی مسجد کی لمبائی اور چوڑائی قریب قریب برا بر ہے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ جب لاہور میں اس مسجد کی بنا رکھی گئی تھی تو آگرہ کی عید گاہ عہد شاہ جہانی بھی مد نظر تھی اور آگرہ میں عید گاہ کا ایوان بھی مختصر سا ہے جس میں باقاعدہ محراب نہیں ہے یہ تکلفات ہیں، مگر لاہور میں اس سے قبل بھی چند عید گاہیں تھیں جو اگرچہ بادشاہی مسجد کی تعمیر کے بعد قریب قریب لوگوں کی یاد سے نکل گئیں اور اسےیہاں جہانگیر کے عہد کی ایک خوبصورت عیدگاہ تھی جسے ریلوے کے انتظام میں ضائع کر دیا گیا اور آج قدیم ترین عمارت لاہور میں ایک قدیم عید گاہ ’’چاہ میراں‘‘ کےرقبہ میں خواجہ سعید کے قریب محض ایک محراب باقی ہے اور دیکھنے کے قابل ہے۔ انندرام مخلص نے اپنی تالیف بدائع وقائع میں بیان کیا ہے کہ حیات اللہ خان نے اس میں پناہ لی تھی جب احمد شاہ ابدالی نے لاہور کا محاطرہ کیا تھا۔ بہرحال ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے،یہ بادشاہی مسجد ہمیشہ بطورِ عیدگاہ استعمال بھی ہوتی ہے اور اہلِ لاہور کا حصۂ کثیر اس میں نماز عید ادا کرتا ہے ۔ البتہ بعض جماعتیں شہر کے باہر میدان میں بھی عید کی نماز ادا کرتی ہیں۔ اس روز یہاں بہت رونق ہوتی ہے اور یہ سب اس مسجد کی وسعت کی وجہ سے ہے۔ خاص کر مجھے یاد ہے جب اس صدی کے ابتدائی سالوں میں سردار ایوب خان ( کابلی ) یہاں مع اپنے صاحبزادگان اور ان کے دیگر امراء اپنی دو اسپہ گاڑی میں نہایت تزک و احتشام سے عید کی نماز کے لیے آئے تو ایک اسلامی شان نظرآتی تھی اور اکثر امراء اس میں حصہ لیتے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ علامہ اقبال بھی عید کی نماز کے لیے اپنے دوست نواب ذوالفقار علی خان کے ہمراہ یہاں بروز عید نماز کے لیے آئے مگر دیر ہو چکی تھی اور اندر جگہ نہ تھی، تو انہوں نے اس مقام کے قریب ہی جہاں اب ان کا مزار ہے، نمازعید ادا کی۔ اتفاق سےعلی بخش اور ان کا صاحبزادہ جاوید بھی ہمراہ تھے۔ ہم ان سے بعد نماز یہیں ملے تھے۔ مساجد عالم میں باد شاہی مسجد کا مقام اپنے ذاتی مشاہدہ اور حالات کے اعتبار سے بھی ہم یہ وثوق سے بیان کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی مسجد بھی کسی اور مسجد کی نقل نہیں ہے یا ان کی پیمائش برابر ہے کیوں کہ ہر عمارت اپنے ماحول اور حالات میں ہی تعمیر ہوئی ہے اگر چہ اصولی طور پر ہر مسجد اسلامی روایاتِ تعمیر کی پابند ہے جو اسلامی عقیدہ ٔوحدانیت سے وابستہ ہے۔ اس اصول کی ابتدا یا ایجاد در اصل مسجد نبوی مدینہ منورہ سے ہوئی جو سب سے اول چار دیواروں پر قائم ہوئی اور اسی کا ارتقاء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے رہائش اورمسجد سے ہی ہوا ،جس میں دیوار قبلہ مع محراب، ایوان ِمسجد، صحن ، دالان ، مینارے اور طاق شامل ہو کر آج مساجد کے لیے اہم حصے بن گئے ہیں۔ یہی تمام آج اس مسجد بادشاہی لاہور میں موجود ہیں اور کسی حصہ کی پیمائش بھی مشترک نہیں ہے۔ دمشق میں جامع اموی اور فلسطین میں مسجد اقصیٰ جو ابتدائی مساجد میں شمار ہوتی ہیں۔ اصولی طور پر بادشاہی مسجد لاہور بھی ان پر قائم ہے۔ عراق میں خلیفہ متوکل (م ۲۳۲ھ) کی مسجد سامرا جو ایک عظیم الشان مستطیل پر قائم ہے یعنی اس کی پیمائشیں ۷۸۴ فٹ اور ۵۱۲ فٹ اور رقبہ پینتالیس ہزار پانچ سو مربع گز ہے اور دنیا میں اس سے زیادہ بڑی مسجد آج تک تعمیر نہیں ہوئی ۔ افسوس آج یہ کھنڈرات میں ہے اور نہ آباد ہے۔ اس کی چار دیواری میں کا فی قلعہ نما برج بھی موجود ہے۔ اور اس کا مشہور مینار جو اس کی چار دیواری سے شمال میں ۸۹ فٹ فاصلہ پر ہے اسے اس کی پیچ نما شکل کی وجہ سے ملویہ پکارتے ہیں۔ ہند و پاک میں اول عمارت جو آج بھی موجود ہے وہ مسجد قوة الاسلام دہلی ہے جو٥٨٧ھ میں تعمیر ہوئی۔ اس کا رقبہ سترہ ہزار مربع گز ہے۔ اسی کے مینار کو قطب مینار کہتے ہیں جو قریب ایک سوفٹ الگ کھڑا ہے۔ اگرسلطان علاء الدین خلجی کا منصوبہ اس مسجد کی توسیع کا پورا ہو جاتا تو تمام دنیا میں یہ مسجد بڑی شمار ہوتی۔ تاہم بادشاہی مسجد لاہور کے اضلاع ۵۷۵ فٹ اور ۵۶۰ فٹ ہیں ،جن سے اس کا رقبہ٣٥،٧٧٧مربع گز ضرور ہے۔ اس وجہ سے ہم اسے آج موجودہ عمارات مساجد میں سب سے بڑی مسجد شمار کرتے ہیں۔ بہر حال مساجد کے ضمن میں مصر کو بہت اہمیت حاصل ہے کیوں کہ نہایت اعلیٰ اور ہر زمانہ کی مساجد آج بھی موجود ہیں۔ ان میں مسجد عمروؓ بن العاص جو٢١ھ میں تعمیر ہوئی، اس کے بعد مسجد ابن طولوں ٢١٣ھ کی تعمیر ہے۔ مگر جامع ازہر ٣٢٧ھ جو آج علاؤہ مسجد کے ایک جامع العلوم کے بھی مشہور ہے۔ اور یہاں مسجد سلطان حسن سب سے بڑی شمار ہوتی ہے جسے عام طور پر بہت مقبولیت اس وجہ سے ہے کہ آئمۂ اربعہ کے مطالب کو پورا کرتی ہے مگر یہاں کے مقابلے میں ہندوستان کی مساجد جو گجرات، بنگال اور مالوہ میں تعمیر ہوئی ہیں، وہ مصر سے بالکل مختلف ہیں ۔ مگر دکن میں جامع مسجد گلبرگہ جو ۷۵۳ھ میں تعمیر ہوئی جس کی خصوصیت یہ ہے کہ تمام عمارت گنبدوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اسے معمار رفیع بن شمس بن منصور قزوینی نے بنایا ہے۔ اپنی نوعیت کا یہ ایک واحد نمونہ ہے یعنی اس میں تمام ایوان ہی مسجد ہے اور اس کے ساتھ کھلا صحن نہیں ہے اور اتفاق سے گلبرگہ کی یہ مسجد لاہور کی بادشاہی مسجد کے ایوان کے برابر ہے۔ با ہر نے ۱۵۲۷ء میں سلطنت مغلیہ کی بنا رکھی تھی۔ اس نے اجودھیا اور دیگر مقامات پر بعض مساجد تعمیر کی تھیں اور دہلی کے قلعۂ کہنہ میں جو مسجد شیر شاہ سوری نے تعمیر کی، وہ بہت شاندار تھی جس میں پتھر کو کاٹ کر زیب و زینت کی گئی۔ مگر اکبر نے فتح پور سیکری میں جو مسجد تعمیر کی اس کی خصوصیت اس کا جنوب کی طرف صدر دروازہ ہے جسے اس کی خاص بندی کی وجہ سے بلند دروازہ کہتے ہیں۔ مگر لوگ اندر سے اس مسجد کو کم دیکھتے ہیں حالاں کہ اندر زیادہ خوبیاں ہیں پھر اسی مسجد کے صحن میں مقبرے بھی ہیں۔ شاہ جہان فن تعمیر کے ضمن میں سب پر سبقت لے گیا۔ اس نے جب آگرہ کے قلعے میں محلات بنائے تو اس نے سنگ مرمر کی مسجد بھی تعمیر کی جو اپنی نزاکت کی وجہ سے موتی مسجد شمار ہوتی ہے مگر اس نے اس کے فوراً بعد آگرہ شہر میں اپنی لڑکی جہاں آرا کے نام پر ایک جمعہ مسجد سنگ سرخ کی تعمیر کی اور ان مساجد کے گنبدوں کو اس نےبلب نما کر دیا یعنی ایک طرح امتیاز پیدا ہو گیا ۔ مگر جب اس نے اپنا دارالخلافہ آگرہ سے دہلی تبدیل کیا تو اسی اعتبار سے شہر کے لیے قلعہ کے قریب ایک مسجد ۱۰۶۰ ء میں تعمیر کی جو اس وقت سب سے بڑی مسجد شمار ہوتی تھی ۔ کیوں کہ اس کا ایوان ۲۰۱ فٹ لمبا اور ۱۲۰ فٹ چوڑا ہے جس پر دو مینار ایوان کے سامنے ماتھے پر ہیں حالاں کہ اس مسجد کا صحن ۳۳۵ فٹ اور ۲۸۰ فٹ ہے یعنی شاہ جہان کے عہد میں مسجد آگرہ اور مسجد دہلی دو ایسی مساجد تعمیر ہو ئیں جنہوں نے خاص شہرت حاصل کی مگر لاہور کی مسجد عالمگیر کے معمار نے ان خوبیوں کو مد نظر رکھ کر ایوانِ مسجد پر چاروں طرف نمایاں برجیاں بنائی ہیں اور ساتھ ہی مسجد کے چاروں کونوں پر کافی بلند مینار بنا دیے ہیں حالاں کہ متذکرہ مسجد قوة الاسلام دہلی ( ۵۸۷ھ) میں ایک ہی مند نہ (مینار) کافی سمجھاگیا۔ میناروں کو مساجد کے علاؤہ مقبروں پر بنایا گیا، جیسا کہ تاج محل آگرہ اور مقبرہ ٔجہانگیر لاہور پر ہیں اور اس سے بھی ہٹ کر دروازوں پر چار مینار بنائے گئے ، جیسا کہ اکبر کے روضہ کے دروازے پر چار مینار ہیں۔ اسی طرح باغ کے دروازہ یعنی چوبر جی لاہور پر چار مینار بنائے گئے مگر بادشاہی مسجد اس ضمن میں سب پر سبقت لے گئی ہے ۔ غرض یہ کہ اس مسجد کے تمام حصے کچھ اس طرح بنائے گئے اور ان کو اس طرح ترتیب دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ بالکل متمیز ہی نہیں ہے بلکہ ان پر فوقیت بھی رکھتی ہے ۔ اگر اس کا تجزیہ اس کے دروازے سے شروع کریں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ آج تک کسی مسجد کا ایسا دروازہ ہی نہیں ہے اور فرش پر اس طرح پانی کے نکاس کا اب انتظام نہیں ہے۔ پھر صحن کا اوپر کا حصہ ایوان تک اس طرح اتنا بلند ہی نہیں ہے بلکہ ایوان پرنہ اس طرح چار برجیاں ہی کسی مسجد میں ہیں اور اس طرح دوہرا ایوان بھی نہیں ہے جس میں اگلا حصہ تو گنبدوں کو سنبھالے ہوئے ہے اور پچھلا حصہ محض متوازی چھت دار ہے اور نہ کسی مسجد کے اس طرح سر بسر دالان ہیں مگر اب اس مسجد کے مشرقی دالانوں کو عام وضو کے لیے وقف کر دیا گیا ہے مزید موزونیت پیدا کرنے کے لیے نہ اس طرح بلند چار مینار کسی مسجد کے کونوں پر لگائے گئے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ مسجد ہر حال میں اپنی آپ ایک بہترین مثال ہے۔ مسجد کے باہر کسی شہر میں آج تک کسی اور مسجد کو ایسا ماحول ہی نصیب نہیں ہوا جو اسے حضوری باغ اور اس کے اندر بارہ دری اور قلعہ کی وجہ سے اسے بے مثال فوقیت حاصل ہے۔ اسی طرح ٹھٹھہ میں مسجد شاہ جہانی بھی اگرچہ گنبدوں پر کھڑی ہے مگر مختلف ہے۔ نتیجۃً ہم فخر سے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ مسجد اورنگ زیب عالمگیر آج اسلامی فن تعمیر میں باعثِ فخرنمونہ ہے اور اس کے علاؤہ کسی اور مذہب وملت کے ہاں ایسی کوئی عمارت بھی نہیں ہے جس میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہوں۔ اتفاق سے تقریباً ساٹھ لاکھ روپیہ خرچ کرکے اس کی جو مرمت کی گئی ہے اس نے اس کو چار چاند لگا دیے ہیں یعنی مذہبی فن تعمیر عالم میں یہ مسجد بالکل منفرد نمونہ ہے کیوں کہ آج جو عبادت گاہیں دوسرے مذاہب کی تیار ہو رہی ہیں، ان میں جدید تصورات نے خاصہ اثر کیا ہے اور اس وجہ سے ان میں مذہبی انفرادیت بالکل مفقود ہو گئی ہے۔ حصہ سوم پنجاب میں سکھوں کا عہد حصہ سوم فرخ سیر نے یہاں پنجاب میں سکھوں کی سرکوبی کے لیے نواب عبد الصمد خان دلیر جنگ کو پنجاب کا گورنر ۱۱۲۶ھ ( ۱۷۱۴ء) میں مقرر کیا۔ آپ کے بعد آپ کا لڑ کا نواب زکر یا خاں ١١٣٠ھ میں جانشین ہوا۔ اس خاندان کی یادگار لاہورمیں علاقہ بیگم پورہ آج بھی جرنیلی سڑک پر انجنیئرنگ یونیورسٹی کے ملحق موجود ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ تاریخ سے کوئی خاص اطلاع نہیں ملتی کہ اس زمانہ میں لاہور میں کون بڑا مسلمان عالم تھا اور وہ مسند قضاة پر متمکن تھا یاکس امام یا عالم کا تعلق بادشاہی مسجد سے تھا، مگر اس وقت یہاں پنجاب میں متواتر سکھوں کی بغاوتوں نے خاصی ابتری پھیلا دی تھی۔ اگر چہ بادشاه وقت محمد شاه نہایت زبر دست بادشاہ تھا مگر پھر بھی اس ضمن میں کوئی روشنی نہیں پڑتی حتیٰ کہ پنجاب میں سکھوں کا زور ہو گیا اور ۱۷۵۷ء سے لے کر ۱۷۷۳ء تک لاہور کی تاریخ میں بہت ہی تاریکی کا زمانہ ہے جب کہ سکھوں کی یورش پنجاب میں ہر طرف نظر آتی ہے اور مسجد شاہی پر ہی نہیں ،بلکہ لاہور کی تمام مساجد پر ان کا قبضہ تھا اور سکھوں کے عہد میں یہ مساجد بارو دگولا کا گودام بنائی گئی تھیں اور یہی مؤرخین نے لکھا ہے۔ ویسے لاہور اس وقت تین حاکموں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ بادشاہی مسجد سے چھاؤنی کا کام لیا جاتا تھا اور گھوڑوں کا اصطبل تھا۔ اس کے فوراً بعد ۱۷۹۹ء سے لے کر ۱۸۳۹ء کا زمانہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا عہد ہے اور اس کے مرنے کے بعد لاہور پھر اس کے جانشینوں کے قبضہ میں آ گیا۔ سکھوں کی شورش پنجاب کے ضمن میں ہاشم خاں خافی خاں نظام الملک نے منتخب اللباب (صفحہ ١١٤، ج٤) میں لکھا ہے کہ آٹھ نوماہ کے عرصے میں دارالخلافہ شاہ جہان آباد دہلی کی دو تین منزلوں کے فاصلے پر دارالسلطنت لاہور کے اطراف میں قصبے اور بستیاں ان چشموں کی تاخت تاراج سے ویران اور بے چراغ ہو گئی تھیں، بکثرت آدمی مارے گئے۔ انہوں نے بے شمار مساجد اور مزاروں کو اکھاڑ کر پھینک دیا اور مسمار کر دیا۔ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد پنجاب میں مزید بد امنی اس کے جانشینوں میں خانہ جنگی کی وجہ سے پیدا ہوگئی۔ انگریزوں کے خلاف سکھوں کو مدکی کے مقام پر زیر قیادت لارڈ ہارڈنگ شکست ۱۸۴۸ء میں ہوئی۔ جس وجہ سے اسے لارڈ ہارڈنگ لاہور کے لقب سے پکارتے ہیں۔ اس کے بعد لارڈ ڈلہوزی ۱۸۴۸ء میں وائسرائے ہند ہو کر آیا۔ اس نے فوراً لارڈ گوج کو سکھوں کی سرکوبی کے لیے ارسال کیا تو سکھوں کو دوسری جنگ میں بھی مکمل شکست ہوئی۔ جس کے بعد ۲۹ مارچ ۱۸۴۹ء سے برٹش کا مکمل قبضہ پنجاب پر ہو گیا۔ لاہور میں اس وقت سکھوں کی قریب ایک صدی کی شورشوں اور بد انتظامی کی وجہ سے تمام کھنڈرات ہی تھا اورتمام مساجد کو سکھوں کے گولہ اور بارود کا ذخیرہ بنا دیا گیا تھا اور کوئی مسلمان ان میں نماز ادا نہیں کر سکتا تھا ۔ سکھوں کا خاتمہ اور برٹش کا قبضہ یہاں ہم نے مختصر تاریخ سکھوں کے عہد کی پیش کی ہے مگر اس سے واضح ہے کہ اس عہد میں بادشاہی مسجد خصوصیت سے ان کے قبضے میں رہی اور کوئی مسلمان نہ اس میں داخل ہو سکتا تھا اور یہ مسجد بطور چھاؤنی کے استعمال ہوتی رہی۔ مسجد کے صدر دروازہ مشرقی کے سامنے قلعہ کے اکبری دروازے کے باہر مربع میدان کو جلو خانہ کہا جاتا تھا، بقول سوہن لال سوری مصنف عمدة التواریخ عہد رنجیت سنگھ موجوده باره دری حضوری باغ جوچبوترہ بادشاہی مسجد کہلاتا تھا، یہاں یہ بارہ دری بنائی گئی۔ نہ معلوم وہ چبوترہ کوئی خاص عمارت تھی جسے مسمار کر کے یہ بارہ دری قائم کی گئی۔ جس کا آج بھی ایک حصہ بصورت ایک حوض بارہ دری سے ملحق باقی ہے اور اس کے ساتھ ایک پرانا کنواں بھی تھاجسے پر کردیا گیا ہے۔ ولیم مور کرافت مشہور سیاح ۔ بہر حال سید بزرگ شاہ کا نام مسجد سے وابستہ تھا اور سکھوں کے زمانے میں نماز کا ثواب حاصل نہیں ہو سکا ۔ اور اب یہ مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی۔ اس پر اس زمانہ کے شہر لاہور کے مسلمانوں کے دستخط ہیں مگر ان میں ایک مہر خوبصورت گول جس میں لکھا ہے: ’’خادم شرع متین قاضی حفیظ الدین ١٢٧١ھ۔‘‘ اوران کے دستخط بھی ہیں یعنی امور مذہبی میں قاضی تھے اور اتفاق سے ایک نام ..... ’’رحیم بخش‘‘ بھی پڑھا جاتا ہے جو ممکن ہے راقم کے دادا کے دستخط ہوں اور ان میں مہریں مع دستخطوں کے زیادہ ہیں۔ اس وقت ۱۸۵۶ء میں مسلمانوں کو یہ مسجد واگزار کر دی گئی تھی مگر اس کے مشرقی حصہ کے دالانوں کوگرا کر دیا گیا تھاتا کہ قلعہ سے آسانی سے اندرون مسجد مسلمانوں کی جدوجہد کا پتہ ملتا ہے۔ ویسے بھی حقیقت ہے کہ جب اول مرتبہ لاہور میں (۱۹۰۰ء) لارڈ کرزن آیا ، تو اس نے حضوری باغ کی جنوبی دیوار کا وہ حصہ جو قلعۂ لاہور سے ملحق تھا، اسے گروا دیا تاکہ قلعہ کے فوجی نظام میں کوئی خلل نہ ہو اور ’’موتی مسجد‘‘ جو قلعہ کے اندر ہے اسے بھی واگزار کیا تھا۔ مسجد مسلمانوں کو قبضہ ملنے کے بعد اس کے بعد بھی مسجد ابھی تک برٹش کے انتظام میں ہی شمار ہوتی تھی چناں چہ اپریل ۱۸۵۷ء میں سرجان لارنس نے ایک مراسلہ افواج کے کوارٹر ماسٹر جرنل کو لکھا جس میں کہا گیا کہ افسوس مسجد میں داخل ہونے کے تمام راستے حضوری باغ کے دروازوں کو چھوڑ کر جو محض ایک ہی راستہ ہے، بند کر دیے گئے ہیں۔ مسلمانوں کے حوالے مسجد کر دینے کے بعد وہ اس میں داخل ہونے کے حق سے محروم ہو گئے ہیں جب کہ کسی ملا یا موذن کی اذان برائے نماز کو سکھ لوگ سنتے ہیں جن کو اس سے صدمہ پہنچتا ہے اور وہ مسجد کے راستہ کو روکتے ہیں جو ادائیگی ٔ نماز بر وقت سے محروم کرتا ہے ، خاص کر رات کے وقت جب کہ حضوری باغ کا سنتری مسجد کے اندر داخل ہونے سے روکتا ہے، مسجد کا عطا کر دنیا انگریزوں کا فعل کریمانہ تھا ۔ اس طرح مسجد کا مسلمانوں کے حوالے گورنمنٹ کا کر دنیا بے معنی ہوگا، میں حضور کے غور کے لیے عرض کرتا ہوں کہ اس طرح قلعۂ لاہور کے کمانڈنگ آفیسر کا مسجد تک پہنچنے کی قیود لگانا کوئی ضروری نہیں۔ اس قسم کی پابندی بے شک خطرہ کے دوران لگائی جائے اور اس وقت مسجد کے احاطے میں فائر نگ کرنے کے کافی اختیارات بھی ہیں۔ ان حالات میں سرجان لارنس کو سوا نازک حالات کے کسی قسم کی پابندی نہیں لگانی چاہیے حضوری باغ سے گارد ہٹالی جائے جو ایک طرح تحفظ میں بھی نہیں ہے اوریہ محض تحفظ قلعہ کے تحت ہے۔ ممکن ہے سفید مرمر کی بارہ دری حضوری باغ کی حفاظت ہو جائے۔ ان حالات میں کمانڈر انچیف میجر جنرل گون سے درخواست کی جائے، مسجد کے داخلے کی پابندی کو منسوخ کر دے۔ حصہ پنجم مرمت مسجد ابتدائی مرمت مسجد مسٹر ایچی سن ، ڈپٹی کمشنر لاہور نے ۱۸۶۵ء میں کمشنر کو مسجد کی مرمت کے لیے مراسلہ ارسال کیا کہ میں آپ کی توجہ مسجد بادشاہی کی خستہ حالت کی طرف مبذول کراتا ہوں جب کہ مسجد کو ۱۸ ۔اپریل ۱۸۵۶ء کو مسلمانوں کے حوالے برائے ادائیگی نماز کر دیا گیا تھا ، تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اس اجازت سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا اور اس وقت ان سے مسجد کی مرمت کا بھی کوئی تصفیہ نہیں ہوا تھا اور اس مسجد کے ہمراہ نہ کوئی جاگیر یا کوئی معافی برائے دیکھ بھال مسجد کے نہیں ہے اور نہ کوئی رقم تھی جس سے ضروری مرمت ہی کی جائے اور اگر مسلمان اس میں نماز نہ بھی ادا کریں تو یہ توقع کرنا کہ وہ اس کی مرمت کے لیے کچھ اداکریں اور اس تاریخی یاد گار کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا ۔ ویسے ایکٹ بیس ۱۸۶۳ء سے یہ ضروری ہے کہ مسجد سے تمام پابندیاں ہٹالی جائیں مگر ایکٹ تیئس سے واضح ہے کہ ایک استثناء اس عمارت کے ضمن میں کی جائے، وہ یہ ہے کہ لوگ اس کی تاریخی اور فن تعمیر کی حیثیت کے لیے عزت کریں، جس میں یہ مسجد آتی ہے جب کہ اس کے ہمراہ کوئی معافی یا وقف بھی نہیں ہے اور ان حالات میں کسی کمیٹی وغیرہ کا مقرر کر نا بھی بے سود ہوگا ۔میری رائے میں مسجد کی مرمت کا کام سنبھال لینا چاہیے اور پبلک ورکس محکمہ کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے جس کا فرض آثار کا تحفظ بھی ہے کہ اس کی پوری عمدگی سے مرمت کرے۔ اس کا جواب مسٹر ایچی سن نے ١٦ جنوری ۱۸۶۶ء کو دیا کہ اہالیان لاہور مسجد کی مرمت کا وعدہ دے گئے ہیں۔ مسٹر فیرنگٹن کمشنر لاہور نے پنجاب کے سیکرٹری مسٹر تھورنٹن کو لکھا کہ یہ عبادت گاہ اس قدر وسیع ہے اور اسی قدر عرصہ گزر چکا ہے کہ اب اس کی مرمت فوری ضروری ہے۔ یہ تمام عمارت نہایت حسین ہےاور فن تعمیرات کا ذوق اس سے وابستہ ہے۔ تو یہ پبلک ورکس کے زیر ضابطہ سوم میں آتی ہے مگر جب کہ مسجد مسلمانوں کو دی جا چکی ہے تو کیا کسی قسم کی مدد اس صورت میں گورنمنٹ پر واجب ہے کہ نہیں ہے۔ جس پر صوبہ کے گورز میکلیوڈ صاحب نے جواب دیا : ’’اگر مسلمان فرقہ اس مسجد کے استعمال کا ارادہ رکھتا ہے جس کے تحت اس کی مرمت بھی شامل ہے تو سرکار اس سے دستبردار ہوتی ہے اور متعلق حضرات ہی اس میں ذمہ دار ہو جاتے ہیں مگر اس کےبرعکس اگرچہ اس عمارت کی بیرونی مرمت اس کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ تو آپ کے مراسلے میں بیان کیا گیا ہے کہ شرفائے شہر نے اس کی مرمت کے لیے دو ہزار تین سو تیرہ روپے (۲۳۱۳) دیے ہیں جس سے وہ عمارت کو بچانا چاہتے ہیں، تو اس صورت میں تم محکمہ پبلک ورکس سے رابطہ پیدا کرو جس سے معاملہ طے ہو گا۔ مسٹر ایچی سن نے ضروری معلومات کے بعد جواب یاکہ مسلمانانِ لاہور گورنمنٹ کے حکم ۱۸۔ اپریل ۱۸۶۶ء سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس میں روزانہ نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ ان کے پاس اس قدر نقد روپیہ نہیں ہے کہ مسجد کو عمدگی سے رکھ سکیں اور مرمت ہو جائے۔ ان کو توقع ہے کہ سرکار مدار اس میں کچھ استعانت فرمائے تاکہ مجد محض تباہ ہونے سے محفوظ ہو جائے۔ اس کے بعد یہ معاملہ اس پر ختم کر دیاگیا کہ جب مسلمانوں کو برائے نماز مسجد دی جا چکی ہے تو بے شک اس کا رکھنا ان کے ذمے ہے مگر ۱۸۶۸ء میں گورنمنٹ کو پھر ایک عرضی غربائے شہر لاہور کی طرف سے دی گئی جس میں مضافات لاہور کے لوگ بھی شامل تھے کہ غلہ پر کوئی ٹیکس مسجد کی مرمت کے لیے لگا دیا جائے۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد برکت علی خان تحصیل دار لاہور نے مسجد کی بحالی کے لیے کوشش کی جس سے شاملات زمین بندوبست کے پر گنات سے کچھ روپیہ زمینداروں سے حاصل کیا جائے ،جس سے اس مسجد کی مرمت وغیرہ ہو سکے۔ اس ابتدائی وقت سے سر رچرڈ ٹیمپل نے ۱۸۶۴ء تک جب کہ مسلمانوں نے ابھی مسجد کو آباد نہیں کیا تھا، مسجد کی مرمت کو سالانہ سرکار نے کیا تو گورنر نے حکم دیا کہ مسلمان اس کے مصارف کے کفیل ہوں ۔ آخر کار کئی کمیٹیوں کے بعد ایک رقم جمع کی گئی جس کا زیادہ حصہ مرمت پر خرچ ہوا تو اس مسجد کو بطور عید گاہ بھی مقررکیا گیا ۔ اس وقت مسجد میں بعض علما بھی تعلیم حاصل کر رہے تھے اور مسجد کا خرچ یک صد روپیہ ماہوار تک پہنچ چکا تھا مگر تحصیل دار کا طریقہ روپیہ جمع کرنے کا مفید خیال نہیں کیا گیا جو کہ محض مرضی پرتھا مگر اسے گورنمنٹ نے کسی قسم کے چندہ لینے سے بند کر دیا۔ مسجد کی مرمت ۱۸۷۵ ء ..... ۱۹٢٠ء باوجود اس قدر تحفظات اور کوششوں کے بھی مسجد کومزید فوری طور پر مرمت کی اشد صورت تھی کیوں کہ یہ سخت خراب حالت میں تھی۔ چناں چہ انجمن اسلامیہ اور روسائے لاہور جن میں خاص طور پر نواب نوازش علی قزلباش، نواب عبد المجید خان اور دیگر اہل لاہور شامل تھے۔ اس مسئلے کو اٹھایا تو وہ ایک وفد کی صورت میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سے ملے اور انہوں نے سر ہنری ڈیوز گورنر کو مسجد کا مشاہدہ کرنے کے لیے کہا جس نے خود مسجد میں آکر مسجد کی موجودہ حالت کا مشاہدہ و اطمینان کیا کہ مسجد کی فوراً مرمت کی اشد ضرورت ہے اور اس کی طرف فوری توجہ کرنی چاہیے۔ یعنی گورنمنٹ نے از سر نو پھر مسجد کی مرمت کا ذمہ لیا تو گورنمنٹ نے ایک گشتی چھٹی نمبر٩ مورخہ ۱۳ فروری ۱۸۷۳ ء جس میں خاص کر تاریخی دلچسپی کی عمارتوں پر زیادہ روپیہ خرچ کرنے کے متعلق منظور میں تھی اور بیان کیا کہ اس نے حال ہی میں مسجد کو دیکھا ہے اور انگلینڈ سے اکثر سیاحوں کو ان کے دیکھنے کی ترغیب دی ہے۔ انہوں نے ان کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ میں اور ڈپٹی کمشنر اس کے ذمہ دار ہیں مگر کام کی دفتری زیادتی نے مجھے اس طرف توجہ دینے کا موقع نہیں دیا مگر اس مسجد کے ماتھے کی دیوار کا مسئلہ ہے مجھے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو اس کی طرف فوری توجہ دینے کو کہنا چاہیے کیوں کہ دیوار کو محض قلعہ سے گولیوں کے لیے رکاوٹ سمجھ کر الگ کر دیا گیا ہے اور ابھی تک ملبہ وغیرہ صاف نہیں کیا گیا۔ اس وجہ سے بھی یہ مسجد زیادہ کھنڈر معلوم ہوتی ہے، بہ نسبت اس کے یہ واقعی ہے۔ میں اس مسجد اور دیگر گرد و نواح کی عمارتوں کے سوال کواٹھاؤں گا کمشنر لاہور نے محکمۂ مال سے تین ہزار روپیہ کی رقم نکالی ہے چناں چہ جمعہ مسجد کی بحالی کے لیے رقم کو مہیا کیا گیا، اور ساتھ ہی میونسپل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ بورڈ نے بھی اس مطلب کے لیے رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ پنجاب گورنمنٹ نے ایک مزید رقم پانچ ہزار روپیہ دی ہے ۔ حتیٰ کہ بیس ہزار روپیہ اس طرح ہوگیا جس میں دوسرے بعض مسلمانوں کابھی شام ہے۔ جن میں خاص کر راجہ ہربنس سنگھ شیخو پور اجس نے سب سے زیادہ رقم دی ہے ان کے علاؤہ پنڈت موتی لال ، پنڈت بدری ناتھ، منشی ہر سکھ رائے اور لالہ نہال چند، اس طرح تمام رقم اکتیس ہزار روپیہ ہو گیا ہے۔ ویسے مسجد کی مرمت کا تخمینہ تیار کرنے کے لیے مسٹر لیز بی کلارک میونسپل انجینئر لاہور کو کہا گیا ہے۔ اگرچہ یہ اندازہ لگایا تھا کہ مسجد کا احیاء اور مرمت ایک لاکھ سولہ ہزارچھ سو سینتیس روپے (Rs1,16,637/13/5 ) حتیٰ کہ تمام مرمت کو عمدگی سے شروع کیا گیا اور کامیابی کے ساتھ کئی سالوں میں ختم ہوا ۔ بعض جگہ سرخ چونہ استر کاری کو بجائے سرخ پتھر کے استعمال کیا گیا تا کہ اصل کے ساتھ لگ جائے ۔ ۱۸۸۴ء میں رائے بہادر لالہ کنہیا لال ایگزیکٹو انجینئر بطور چشم دید گواہ کےاپنی کتاب ’’تاریخ لاہور‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’اگر ہماری ہمدرد سرکار مدار نے ایک دفعہ پھر اس طرف توجہ کی تو یہ کام جلدی ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد مسجدانجمن اسلامیہ کے زیرنگرانی رہی۔ مسجد محض اتفاق سے انجمن اسلامیہ لاہورکی ایک قدیم رپوٹ ١٨٨٧ء - ۱۸۸۸ء کے مطالعہ کا اتفاق ہوا جو نہایت دلچسپ اور اہم ہے اس سے واضح ہے کہ مسجد میں باقاعدہ مکتب تھا اور مسجد میں با قاعدہ نمازیں، نماز جمعہ اور عیدین کی نمازیں ہوتی تھیں اور معراج النبیؐ اور بارہ وفات کی تقریبات ہوتی تھیں۔ اس میں اتفاق سے اس زمانہ کے انجمن ہذا کے ارکان کی مکمل فہرست دی ہے اور سر نواب حاجی نوازش علی خان قزلباش اس کے دائمی صدر ہیں۔ لارڈ وفرین نے بھی مسجد کا ۱۸۸۷ء میں معائنہ کیا تھا جب کہ طلباء نے قرآن پڑھ کر سنایا تھا اور انہوں نے فارسی میں طلبہ سے گفتگو کی تھی۔ یہ سال اتفاق سے مکہ وکٹوریہ کی جوبلی کا تھاجس کا جشن کیا گیا تھا۔ مولوی غلام محمد بگوی امام مسجدا در موذن حفظ ولی اللہ تھے۔ خاص کر یہ واضح ہے کہ مسجد کے گنبدوں کو صاف کرانے کے لیے ۱۰/ ۲۳۸ روپے خرچ ہوئے تھے۔ بہاولپور ریاست سے بھی کچھ روپیہ میسر آیا تھا اور منارہ کی بھی آمدنی تھی۔ (آخیر ضمیمہ ملاحظہ ہو) مسجد کی مرمت کے ضمن میں یہ امر بیان کرناضروری ہے کہ ٨/ مارچ ۱۹۱۳ء کو ہزہائی نیس بیگم بھوپال نے بھی مسجد کو دیکھا ، اس وقت آپ کی توجہ خاص کو مسجد کے فرش کی طرف مبذول کرایا گیا، اور خاص کر یہ بتایا کہ مسجد کے فرش کی بصورت مصلے مرمت ہو رہی ہے اور اس وقت یہ بھی اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہر ایک مصلےٰ مرمت ہونے کے بعد یعنی اسے از سر نو مرتب کیا جائے تو مبلغ پندرہ ہزار روپیہ کا خرچ آتا ہے۔ چناں چہ آپ نے چھ ہزار روپے کا عطیہ برائے مصلےٰ یا مصلے ٰ کی تعمیری کیفیت کو اوپر بیان کیاگیا ہے۔ مگر یکم اپریل ۱۹۱۸ء کو اندازہ لگایا گیا کہ ابھی تک دو سو پچاس مصلے مرمت ہو چکے تھے۔ حالاں کہ ہزاروں کی تعداد میں ان کی پوری تعداد تھی ۔ مسجد کی مکمل مرمت ۱۹۳۹ء -١٩٦٠ء ہم یہاں ذیل میں اس مکمل طویل پورٹ مرمت مسجد ہذا کا ایک اختصار پیش کرتے ہیں جوگورنمنٹ پاکستان کے محکمہ روڈ و بلڈنگ نے بعد مرمت مرتب کی ہے ، لکھا ہے کہ : یہ عظیم الشان مرمت ۱۹۳۹ء سے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ انڈیا نے شروع کی تھی اور ۱۹۴۷ء تک وہ محکمہ اس کا سر پرست رہا یعنی تمام کام متعلق مرمت مسجد ہٰذا انجام پاتے رہے ، اس کے بعد پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے اس کام کو سنبھالا اور ۱۹۵۱ء میں یہ کام رو ڈویلڈنگ محکمہ کے حوالے ہو گیا۔ اس محکمہ نے ۱۴ اکتوبر ۱۹۵۵ء تک اس کی سرپرستی کی۔ پھر اس کے بعد سے ۱۹۶۰ء تک پبلک ور کس ڈیپارٹمنٹ پاکستان روڈ ویلڈنگ ڈیپارٹمنٹ نے اس کو اپنی تحویل میں لیا حتیٰ کہ یہ عظیم الشان کام بخیر وخوبی انجام پاگیا اور محکمۂ آثارِ قدیمہ١٩٣٩ ء سے اخیر تک اس کام جس کا آغاز ۱۹۲۹ء سے سر سکند رحیات کی تجویز سے ہواتھا، میں تعاون کرتارہا اورمیاں امیر الدین بحیثیت نمائندہ انجمن اسلامیہ لاہور وابستہ رہے۔ اس عرصہ اکیس سال میں تمام مسجد کو از سرنو مرمت کیا گیا اور جہاں ضروری تھا، اس کی تجدید بھی کی گئی۔ اس کے بڑے بڑے پہلو یہ ہمیں : (١) مسجد کا صدر دروازہ اور سیڑھیاں جو مشرق کی جانب ہیں۔ (۲) مسجد کے والان جو مشرق کی طرف ہیں، ان کو از سر نو بنایا گیا۔ (۳) دالانوں میں مستورات کے لیے وضو کے لیے انتظام کیاگیا جو پہلے بالکل نہیں تھا۔ (۴) مسجد کا ایوان جس پر تین گنبد ہیں، ان کی پوری طرح تجدید کی گئی ۔ (۵) مسجد کے چاروں میناروں کو مع ان کی برجیوں کے از سر نو بنایا گیا۔ (٦) مسجد کا فرش سرخ پتھر سے بالکل از سر نو باندھا گیا۔ (٧) مسجد کے شمال و جنوب کے دالانوں کو از سر نو پلستر کیا گیا۔ (٨) شمال و مشرق کے کونے میں ٹٹیاں بنائی گئیں۔ (٩) صحن کے مرکز میں حوض کو سنگ مرمر کا بنایا گیا ۔ (١٠) مسجد کے باہر تمام میدان اور گرد و نواح کو ٹھیک کیا گیا ۔ (١١) مسجد کے ٹیوب ویل (پانی کے انتظام) کو اوپر اوپر اور نیچے نیچے ٹھیک کیا گیا ۔ (۱۲) مسجد کے اندر بجلی کا تمام انتظام از سر نو ٹھیک کیا گیا ۔ (۱۳) مسجد کے چاروں میناروں کے لیے روشنی کا انتظام کیا گیا ۔ (۱۴) مسجد کے ملازمین کے لیے رہائشی مکانات کا انتظام کیا گیا۔ (۱۵) مسجد کا موجودہ منبر سنگ مرمر کا از سر نو بنایا گیا ۔ کل خرچ اس تمام مندرجہ تفصیل مرمت میں بعض حقوں کی تجدید اور بعض حصوں کو از سر نو بھی بنایا گیا ۔یعنی یہ تمام کام قریب اکیس سال کے عرصہ یعنی ۱۹۳۹ ء سے شروع ہو کر اکتوبر ۱۹۶۰ ء تک میں اعلیٰ کاریگروں ، ماہرین اور انجینئروں کے ہاتھوں بخیر و خوبی انچاس لاکھ روپیہ کی لاگت سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس تمام مندرجہ بالاتعمیر اور مرمت کا اندازہ جو خرچ ہوا وہ انچاس لاکھ روپیہ ہے جس کی مختصر تفصیل ذیل میں دی جاتی ہے : صدر دروازہ مشرقی کے ہردو جانب دالان از سرنو دیگر اندرونی دالانوں کی شمال، جنوب میں بنائے گئے جن کو برٹش نے ۱۸۴۶ء میں سکھوں کے ساتھ زمانہ ٔجنگ میں گرا دیاتھا ۔ یہاں نئے وضو خانے بنا دیے گئے ہیں اور ان کے نیچے حجرے بنا دیے گئے ہیں جو پہلے ہرگز نہیں تھے اسی طرح جنوب میں مغرب کی جانب دالانوں کے بعض حصوں کو بند کر کے وہاں عورتوں کے لیے وضو و استنجا کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہاں خصوصیت سے پانی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا ہے اور اس حصۂ جنوب کو عورتوں کے استعمال کے لیے وقف کر دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ مغرب کی طرف کے دالان بھی شامل ہیں۔ صدر دروازہ کے ماتھے کو از سر نوبنا یا گیا ہے۔ خاص کر یہاں بعض قدیم گم شدہ برجیوں وغیرہ کو از سرنو بعض موجودہ کے مطابق بنایا گیا ہے۔ خاص کر صدر دروازہ کے طاق پرانے مغل نمونے کے مطابق ساگوان لکڑی کے از سر نو بنائے گئے ہیں جن پر ابھرے ہوئے پیتل کے آویزے لگائے گئے ہیں۔ مغربی حصہ فوش جو اس سے قبل چھوٹی اینٹوں کا بصورت مصلےٰ جات تھا اسے از سر نو سُرخ پتھر کی سلوں سے لگایا گیا ہے جہاں ضرورت محسوس کی گئی ہے، وہاں لوہے کے سوکیٹ فرش پر لگائے گئے ہیں تا کہ شامیانے وغیرہ لگانے میں سہولت ہو، نلکیوں کو مناسب مقام پر فرش کو صاف اور دھونے کے لیے لگایا گیا ہے ، حوض کو عمدگی سے صاف کر کے اس کے گرد سفید سنگ مرمر کا جنگلا لگا دیا گیا ہے۔ ایوانِ مسجد کو جہاں امام خطبہ دیتا ہے اور امامت کرتا ہے ، پوری طرح اندر اور باہر سے از سر نو ٹھیک کیا گیا ہے۔ یہ تمام کام ۱۹۳۹ء سے شروع ہوا تھا، آخر ۱۹۵۸ء میں ختم ہوا ، اس دوران میں گنبدوں کی بیرونی سنگ مرمر کی سلوں کو ازسرنو اکھیڑ کر پھر کیا گیا ہے، ایوان کے اندر کا تمام فرش جو پہلے چھوٹی اینٹوں کا تھا اسے تمام کا تمام سنگ مرمر کے مصلوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، ان کے حاشیے سنگ ِموسیٰ سیاہ کے ہیں۔ سنگِ ابری کو تمام ایزارہ ایوان پر از سر نو لگایا گیا ہے۔ ایوان کی برجیاں جو کونوں پر ہیں، ان کو از سر نو مکمل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح کونوں کے چاروں میناروں کو جن کی اونچائی ١٧٦ فٹ ہے کو محض از سر نو ٹھیک ہی نہیں کیا گیا بلکہ ان پر برجیاں جو ۱۸۴۰ء میں بوجہ بھونچال ضائع ہوگئی تھیں ، ان کو از سر نو بالکل نیا بنایا گیا ہے اور سکھوں نے بھی ان کو ۱۸۴۶ء میں خراب کیا تھا، اسی طرح ان میناروں کے مغل ڈیزائن کے دروازے لگائے گئے ہیں۔ اس تمام مرمت مسجد کی وجہ سے یہ بھی لازمی تھا کہ اس کے گرد و نواح و احاطہ جن کی طرف عرصہ سے توجہ نہیں دی گئی تھی۔ ان کو بھی اسی معیار سے ٹھیک کیا جاتا چناں چہ مسجد کا بیرونی مغربی حصہ جنوبی حصہ اور صدر دروازہ کے باہر باغات و غیره از سر نو ٹھیک کیے گئے ہیں جس میں علامہ اقبال کا مقبرہ اور سکندر حیات خان کی قبر بھی شامل ہیں۔ پرانا کنواں جو مسجد کے جنوب مشرقی کونہ کے قریب باہر ہے اور اسے ۱۹۳۲ء میں ٹیوب ویل میں تبدیل کر دیا گیا تھا، اسے از سر نو ٹھیک کیا گیا ہے ۔مسجد کے جنوب کی طرف ایک اور مزید مثلثی میدان بھی قائم کیا گیا ہے اور ساتھ ہی گرد و نواح کی دیوار جس کی لمبائی ۳۶۰ فٹ اور اس کی اونچائی سات فٹ سات انچ ہے۔ ان ٹیوب ویل کو احاطہ کرتی ہوئی بنائی گئی ہے ۔ سنگ مرمر سفید کا منبر محراب کے قریب از سر نو بنایا گیا ہے جس کے نیچے بجلی کا سوئچ قائم کیا گیا ہے جہاں لاؤڈ سپیکر وغیرہ کا تعلق ہے۔ خطیب، دوسرے عملہ کے لیے رہائشی مکانات مسجد کے قریب بنائے گئے ہیں ۔ اور مسجد کے باہر جنوبی حصہ بھی مرتب کیا گیا۔ مسجد کی زیادہ تر تعمیر ،مرمت اور اس کے احیا کے کام پر نواب زین جنگ ،ماہر تعمیر کار نظام حیدرآباد دکن ابتدا ۱۹۴۷ء متعین تھے اس کے بعد حبیب سوم جی نے اس کام کو اپنے ذمے لیا۔ اس کے بعد خان بہادر محمد سلیمان نے سنبھالا اور خان بہادر انعام اللہ خان نے بھی اس میں حصہ لیا اور انجمن اسلامیہ لاہور کے صدرا اور اہل لاہور کے نمائندہ کی حیثیت سے میاں امیر الدین ابتدا سے لے کر اخیر تک اس کام مرمت سے وابستہ رہے اورمحکمہ آثا رِ قدیمہ گورنمنٹ کا تعاون ہمیشہ شامل حال رہا۔ مصالح عمارت کے ضمن میں ابتدا سے ہی سرخ پتھر آگرہ کے گرد و نواح سے اور سنگ مرمر مکرانہ جودھپور سے مہیا کیے گئے۔ غرض یہ کہ بے شمار کا ریگروں ،مستریوں اور مزدوروں نے صبح و شام اس کام میں حصہ لیا اور ان کے علاؤہ ہمیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ کس قدر کثیر مقدار میں مصالح بصورت پتھر، اینٹیں، چونہ وغیرہ استعمال ہوا ہو گا، جن کے انچاس لاکھ روپیہ کی رقم کثیر اس پر خرچ ہوئی۔ حصّہ ششم انجمن اسلامیہ لاہور ان حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے محمد برکت علی خان جو در اصل شاہ جہانپور ہندوستان کے باشندے تھے اور پنجاب میں انگریزوں کے عہد میں مختلف عہدوں پر رہ چکے تھے مگر اس وقت وہ اتفاق سے تحصیل دار لاہور تھے۔ جب مسلمانوں نے محسوس کیا تھا کہ مسجد بادشاہی لاہور جو اتفاق سے سب مسلمانوں کے لیے بنائی گئی ہے اور اس کی اس وقت سکھوں کے بطور چھاؤنی استعمال کرنے کی وجہ سے مرمت طلب تھی ، تو مسلمانوں نے ان سے مل کر یہاں لاہور میں اس مسجد کی دیکھ بھال کے لیے ایک متحدہ کوشش کے طور پر انجمن اسلامیہ کی تشکیل کی جس کا وجود ۱۸۶۶ء سے ہوا۔ جس میں لاہور کے اکثر شرفاء شامل ہوئے اور محمد برکت علی خان اس کے متفقہ طور پر سیکرٹری قرار پائے ۔ اس نے اس انجمن کے نام پر چندہ جمع کرنا شروع کیا تاکہ مسجد کا خاطر خواہ انتظام اور مرمت وغیرہ بھی ہو سکے۔ ساتھ ہی اس مسجد کے اس وقت مسجد سنہری اور ٹکسالی دروازہ مسجد بھی ان کے قبضہ میں دی گئی تھیں۔ سب سے اول برکت علی خان نے مسجد کے جنوب کی طرف سے تمام ملبہ ہٹا دیا اور پانی کے انتظام کو ٹھیک کیا۔ انہوں نے باقاعدہ اس وقت مسجد کی امامت کے لیے مولانا غلام محمد بگوی متوفی ۱۳۱۸ھ کو امامتِ مسجد کے لیے اور حافظ ولی اللہ کو موذن کی حیثیت سے مقرر کیا اور ساتھ ہی ایک مدرسہ بھی مسجد میں قائم کیا، مگر حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی غلام محمد سے قبل ان کے چچا مولانا احمد دین بھی اس مسجد سے وابستہ تھے ہم یہاں ذیل میں الگ ’’خطباء مسجد‘‘ کے تحت ان کو بیان کریں گے۔ بہرحال اس وقت یعنی ۱۸۶۶ء سے مسجد کا انتظام انجمن اسلامیہ کے ہاتھ میں آ گیا۔ اہل لاہور کو ترغیب دی گئی کہ مسجد میں دلچسپی لیں اور عیدین کی نمازیں یہاں ادا کریں اور عام مسلمانوں سے درخواست کی گئی کہ شہر میں ہر نکاح پر چار آنے بطور چندہ مسجد ادا کیا کریں ، تو اس طرح تھوڑے عرصہ میں خاصی رقم میسر آگئی اور مسجد کی مذہبی دلچسپی میں اضافہ ہوا ۔ ۱۸۷۶ء میں جب عید کی نماز ہوئی تو قریب چھ ہزار مسلمانوں نے یہاں نماز ادا کی اور ۱۸۷۶ء میں مسجد کے صدر شرقی دروازے کے طاق از سر نولکڑی کے نئے بنوائے گئے اور مسجد ہٰذا شہزادہ ویلز انگلینڈ جو بعد میں ایڈورڈ ہفتم بادشاہ ہوا ،کے پروگرام تشریف لاہور میں شامل تھی۔ (ضمیمہ ملاحظہ ہو اس انجمن کا ذکر ہم نے پہلے بھی کیا ہے۔ ) برٹش سرکار کا زمانہ اگرچہ سرکار برٹش کا ابتدا سے آثارقدیمہ کی طرف توجہ کا ایک اعلیٰ کام ضرور نظرآتا ہےمگرقدیم آثار کے تحفظ کا انتظام باقاعدہ لارڈ کر زن وائسرائے ہند کی کوشش سے ۱۹۰۴ ء سے ہوا جس نے خود اس میں خاصی دلچسپی لی تھی۔ اس محکمہ کے تحت سرکار ہند کو وسیع اختیارات بھی قدیم آثار کے تحفظ کے حاصل ہو گئے تھے مگر اس محکمہ کے تحت خاص کر ان مذہبی عمارات کا تحفظ جو ان کے ہم مذہب لوگوں کے قبضہ میں تھیں، اختیار اس قدر نہ تھا، البتہ اس کے تحت صلاح و مشورہ ضرور دیا جا سکتا تھا۔ اتفاق سے اس مسجد کے صدر دروازہ کے سامنے حضوری باغ میں ایک قدیم یادگار بارہ دری بھی ہے جسے ۱۹۱۲ء میں از سر نو ترتیب دیا گیا تھا اور اس وقت لارڈ ہارڈونگ وائسرائے ہند نے یہاں آ کر اس باغ میں کھدائی کرائی تو اس نے اس باغ کی گم شدہ اصل سطح کو نیچے سے نکالا تو اس کے بعد یہ بارغ از سر نو ترتیب دیا گیا جیسا کہ آج نظر آتا ہے مگر اس باغ میں آج بھی ایک حوض الگ بے ترتیب نظر آتا ہے جسے میں سمجھتا ہوں کہ وہ کسی قدیم عمارت کا حصہ ہے جو رنجیت سنگھ کے حضوری باغ کی تعمیر سے قبل کسی قدیم عمارت کا حصہ تھا، اس کی خیابانوں کو از سر نو مرتب کیا گیا ، ویسے لاہور کے اس حصے کا ذکر لارڈ کرزن کی اس تقریر میں بھی ہے جو اس نے ١٩٠٠ء میں کی تھی۔ اس نے کہا کہ جب میں سال گزشتہ اپریل ۱۸۹۹ء میں لاہور میں تھا۔ میں نے قلعہ کی عمارات یعنی موتی مسجد قلعہ لاہور کو دیکھا تھا جسے رنجیت سنگھ بطور خزانہ استعمال کر رہا تھا۔ اسی زمانہ میں لارڈ کرزن نے حضوری باغ کے جنوب مشرقی کو نہ کی دیوار کو جو قلعہ سے ملحق تھی گرا دیا تھا ۔ موتی مسجد سے اس کو صاف کرا دیا تھا ۔ اسی زمانہ میں لارڈ کرزن نے بادشاہی مسجد کے لیے ایک بہت بڑی لالٹین اور دو اور فانوس شکل کے شمع دان عنایت کیسے، بڑی لالٹین تو مسجد کے صحن میں ہمیشہ موجود رہی جسے کچھ عرصہ ہوا پاکستان ظہور میں آنے کے بعد اٹھا دیا گیا اور شمع دان مسجد کے دروازہ میں اور مسجد کے ایوان کے مرکز میں گنبد کے زیر موجود رہے۔ ان کی بناوٹ ایک خاص درجۂ فن کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح لاہور میں مسجد وزیر خان کے لیے لارڈ کرزن نے منبربھی عطا کیا جو آج بھی موجود ہے کیوں کہ ان ہر دو مساجد، وزیر خان اور بادشاہی مسجد میں پختہ منبر نہیں تھے اور نہ بنائے گئے تھے۔ مسجد محفوظ آثار قدیمہ بعہدبرٹش لاہور ہمیشہ سے پنجاب کی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ ایک مرتبہ ۱۹۱۳ ء میں جب سیاسی ہنگا مے ہو رہے تھے اور ادھر جنگ بلقان و طرابلس کے بادل بھی اسلامی ممالک میں چھپائے ہوئے تھے تو شہر میں مارشل لاء لگا دیاگیا تھا اور کوئی جلسہ عام کسی پبلک ہال میں نہیں ہوسکتا تھا چناں چہ مسلمانوں نے ایک طلبہ طرابلس کے شہیدوں کے حق میں اس مسجد میں کیا۔ اور اتفاق سے راقم نے بھی اس جلسہ میں شرکت کی تھی۔ اس جلسہ میں خصوصیت سے علامہ اقبال نے ایک نظم لَے سے بعنوان ’’حضورِ رسالت مآب میں‘‘ پڑھی تھی۔ میں نے دیکھا تھا کہ مسجد کے ایوان کے ماتھے میں لوگ جمع تھے اور سب آبدیدہ تھے بلکہ علامہ خود بھی اس حالت میں تھے، اس کے بعد مئی ۱۹۱۹ء میں جب ہر جگہ رولٹ ایکٹ کے خلاف ہنگامے ہو رہے تھے تو شہر میں مارشل لاء لگا دیا گیا تھا مگر لوگوں نے شاہی مسجد میں جلسے شروع کر دیے جسے گورنمنٹ نے متذکرہ بالا شرائط کے تحت بند کر دیا تھا اور لاہور کے انچارج اس وقت کرنل جانسن تھے، مگر مسجد کو اس کے بعد مرمت کی سخت ضرورت محسوس ہوئی اور انجمن اسلامیہ لاہور کے سیکرٹری اس وقت خان بہادر محمد برکت علی خاں کے پوتے خان سعادت علی تھے اور گورنمنٹ سے بھی چندہ برائے مرمت کی درخواست کی گئی تھی۔ اس وقت گورنمنٹ نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ اس مسجد کو اندریں حالات محکمہ آثار قدیمہ کے ضمن میں شامل کر لیا جائے۔چنا نچہ یہ عمل ۱۹۳٤ء میں ہوا اور اسی وقت مسجد وزیر خاں بھی اس کے ہمراہ شامل کرلی گئی اور اس وقت ایک ما ہر آثار قدیمہ انجینئر کو گورنمنٹ نے متعین کیا کہ اس کی پوری مرمت کے لیے نقشے اور اندازہ تیار کرے۔ چناں چہ اس کے بعد اس پر جو عمل ہوا وہ ۱۹۳۹ء سے ہوا جسے ہم یہاں پہلے الگ بیان کر چکے ہیں۔ ہم اوپر رولٹ ایکٹ کا ذکر کر چکے ہیں جس کے ضمن میں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ لاہور میں سوا مساجد کے کوئی جگہ محفوظ نظر نہیں آتی تھی، جب کہ پبلک میں کوئی شخص نہ تقریر کرسکتا تھا اور نہ کوئی پبلک جلسہ ہی ہوتا تھا اور ہر جگہ فسادات کا خطرہ تھا۔ چناں چہ شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا انہیں ایام ١٩١٩ء میں لاہور میں مولوی عبدالحی فاروقی صاحب درس ِقرآن دیتے تھے تو انہوں نے اپنا درس لوگوں کی درخواست پر ان ایام میں شاہی مسجد میں شروع کر دیا تھا چناں چہ ایک روز مولوی عبد الحی فاروقی درس دے رہے تھے اور ایک پولیس آفیسر مسلمان بھی بیٹھا اپنی ڈائری لکھ رہا تھا، جسے نوجوان مسلمانوں نے دیکھا تو غضبناک ہو کر اس پر حملہ بول دیا، جس کی بنا پر بعض احباب پکڑے گئے ۔ ان میں خاص کر ہمارے مرحوم دوست بشیر احمد مالک بمبئی لوٹ ہاؤس ڈبی بازار لاہور قابل ذکر ہیں جن کو سزا بھی ہوگئی تھی ۔ اور خود مولوی عبدالحی بھی گرفتار ہو گئے ۔ اس کے بعد عدم تعاون کی تحریک ١٩٢٠ء ،١٩٢١ء میں شروع ہوئی تومولوی عبدالحی صاحب جامعہ ملیہ دہلی پر وفیسر تاریخ ہو کر چلے گئے پھر جب پاکستان ظہور میں آیا تو آپ لاہور اسلامیہ کالج میں بطور پروفیسر اسلامیات شامل ہوئے تھے ۔ غرض یہ کہ مسجد مذکور ان حالات میں امامت یا خطابت کے فرائض کے لیے کوئی شخص نہ تھا اور مسجد گورنمنٹ کے قبضے میں چلی گئی تھی ۔حتیٰ کہ ١٩٢٤ ء میں پھر مسجد مسلمانوں کو مل گئی ۔ اور اس کو بطور محفوظ آثار قدیمہ بھی ۱۹٢۴ء سے شمار کیا گیا۔ سیاسی ماحول بعہد برٹش اس ملک کا مؤرخ ضرور لکھے گا کہ جب ۱۹۲۱ء میں تحریک عدم تعاون نہایت زوروں پر تھی اور لاہور میں ہندو مسلمان مل کر اس میں عملی حصہ لے رہے تھے۔ لوگوں نے بدیشی کپڑا کو خیر باد کہنے کے لیے کئی ہزار کی تعداد میں بدیسی کپڑے کے بنے ہوئے ملبوسات جمع کیے تھے اور ان کو راوی کے کنارے ایک عظیم الشان ڈھیر کی صورت میں جمع کر کے مشہور سیاسی کارکن لالہ لاجپت رائے نے اس ڈھیر کو آگ لگائی تھی۔ اس مجمع میں اہل لاہور کی کثیر تعداد جمع تھی۔ لالہ جی نے آگ لگانے سے پیشتر عوام کی تسلی کے لیے فارسی کا مشہور مقولہ کہا تھا، یعنی’ آنچہ بر خود نمی پسندی بر دیگراں پسند‘‘ کے تحت بھی یہ ملبوسات جلا دینے چاہئیں اور کسی کو نہیں دینے چاہئیں۔ اس تحریک میں مسلمانوں میں سے جو لوگ سرگرم تھے ، اُن میں لاہور کے سرگرم سیاسی رضا کار تھے۔ مجھے یاد ہے ایک روز مولوی غلام مرشدان رضا کاروں میں چلے گئے تو آپ اپنا سفید بدیسی ململ کا عمامہ نذر کر آئے تھے اور اس کے بدلے کسی نے آپ کو ایک لنگی پیش کر دی تھی۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آپ محض خشک ملا ہی نہیں تھے بلکہ خوش گوار عام پبلک کے کام آنے والے مسلمان بھی اپنے زمانہ میں تھے۔ اسی طرح آپ نے مسجد شہید گنج لاہور کی تحریک میں بھی حصہ لیاتھا اور کلکتہ میں جب جمعیتہ العلماء کا جلسہ ۱۹۴۵ء میں ہوا تو آپ نے اس میں عملی طور پر حصہ لیا، جس میں خصوصیت سے شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور سولانا راغب احسن وغیرہ نے بھی حصہ لیا تھا ، اس وقت مولوی غلام مرشد نے ایک مطبوعہ خطبہ بھی پیش کیا تھا جس میں خصوصیت سے کانگرس کے موقف کی سخت مخالفت اور تحریک ِپاکستان کی بھر پور حمایت کی تھی۔ ۱۹۲۶ء میں تحریک ِمسجد شہید گنج بڑے زوروں پر تھی۔ ملک کا ہر فرد پریشاں تھا اور کئی اشخاص بے گناہ شہید ہو چکے تھے ۔ اس ضمن میں کئی جلسے بادشاہی مسجد میں بصورت خطبہ جمعہ وغیرہ بھی ہوئے ۔ ایک جمعہ کے روز بعد نماز مولوی حبیب الرحمٰن لدھیانوی بھی لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ اور مجمع کثیر تھا۔ ہم نے دیکھا کہ قائداعظم محمدعلی جناح بھی مسجد میں پروفیسر عنایت اللہ ملک کے ہمراہ تشریف لے آئے اور مجمع کے ایک طرف ہو کر تقر یر سننے لگے۔ چناں چہ لوگ ہم تن متاثر تھے ۔ آپ تھوڑی دیر بعد اسی طرح بغیر کسی تقریر یا تقریب کے واپس چلے گئے۔ میرا خیال ہے قائد اعظم اس کے بعد مسجد میں تشریف نہیں لائے۔ میں خود اس روز وہاں موجود تھا ۔