میں اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہوں
میں نے زمین پر نیکی کا بیج بویا اور آسمان سے مجھ پر عذاب نازل کیا گیا پر وہ جس نے بدی پھیلائی اُس پر رحمت کی بارش ہوئی اور وہ معزز ٹھہرا یوں سیاہ دور آیا ظلم تحکم، جبر اور فرار کے چورا ہے میں آزادی کا بت نصب کیا گیا لوگوں نے فرار کی آسان راہ اختیار کی اور غاروں میں چھپ گئے کہ کُتے پہرے پر ہیں اور پھر عورتوں نے اپنے دائیں باز وؤں کی چوڑیاں توڑیں اور بائیں بازو کی چوڑیاں مردوں کو تحفے کے طور پر بھیج دیں کہ وہ غاروں سے باہر نکل آئیں پس غاروں سے شعلے نکلے اندھیرے کے ماتھے پر روشنی کی تحریر بنے اور میں نے دیکھا کہ دن پھرنے کو ہیں!