عباس اطہر

عباس اطہر

مگر میری پہنچ میں سنسان سیٹرھیاں ہیں

    میں تاریکی اور سناٹے کی سلطنت ہوں شور مچاؤں تو جدائی کی رات آبر و گنوا بیٹھے گی ویران کھیتوں اور پگڈنڈی پہ ہلکی ہلکی پھوار ایک بھاگنے لگا کہ میدان پیروں اور بازوؤں کا انتخاب ہے ، اور مارا گیا دوسرے نے پھوار، پگڈنڈی اور ویران کھیتوں کو گواہی سونپی ، میں ہنسا جب میں ہنسوں وہ بھی ہنسے اور ہنستے ہنستے سو جائے میں اس کے سینے کا زخم چوموں کہ اس کی ماں کا سر اور بھی اونچا ہو پھر برسوں پرانی کہانی سناؤں لیکن بھٹک جاؤں میں اور وہ کا فاصلہ مٹ جائے آندھی نے گلی گلی انگارے بکھیر دیے، چولہوں کی آگ سے گھر جل گئے کھیتوں اور پگڈنڈی پہ ویسی ہی ہلکی پھوار ہے نامرادی کے پہاڑ تلے ایک عورت قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھی ہے اور کبھی کبھی سرخ لباس پہنے گلیوں سے تالیاں بجاتی گزرتی ہے چاندنی میں نہائے ہوئے درخت کے نیچے بنجر زمین مادر زاد برہن لیٹی ہوئی ہے اور میں تاریکی اور سناٹے کی سلطنت ہوں نائٹ کلبوں کی روشنی اور شور میں چند لمحوں کے لیے اندھیرا اچھلے، میں اور وہ کا فاصلہ مٹ جائے مگر میری پہنچ میں سنسان سیٹرھیاں ہیں میں دور سے دیکھتا دیکھتا پتھرا گیا ہوں میری جدائی اور دریا تیر کے آنے والوں کی رخصت قریب ہے میں کنویں کی منڈیر پہ ہوں وہ عورت کے نیم گرم جسم سے دور .....دریا کے کنارے میں رسی میں لٹکوں گا وہ پانی میں چھلانگ لگائے گا جھٹکا اور دھما کا اور ہم دونوں کے درمیان دیوار مگر میری دیوار بہت اونچی ہے !