برف باری سے میری آنکھوں کی فصل تو اجڑ گئی
گلیوں ، منڈیروں اور راستوں میں برف ہی برف آگے نہ جاؤ سرد ہوا پسلیوں میں گولیوں کی طرح سنسناتی ہے سفید سلسلے لاشوں سے پٹے پڑے ہیں برقعے، ساڑھیاں ، شلوار میں اور سکرٹ نیلام کے اشتہار میں گندم کے دانے پیشانیوں اور آنکھوں میں ابھر آئے ہیں نت نئے ٹیکس اور نئے مرحلے دن مہنگے ہوئے ، راتیں سستی ہر سال گندم کا بھاؤ نیچے پھسلتا ہے اور اشتہاروں کی قیمت اوپر چڑھتی ہے اور دونیاں چونیاں نئے پیسوں میں بکھر جاتی ہیں اندھیرے کی حد روشن سہی، مگر میں کیا کروں برف باری سے میری آنکھوں کی فصل تو اجڑ گئی ہے لگان اور منڈی دونوں طرف تاریکی ہے شاہراہوں پر گندم کے دانے بیوپاریوں کو ڈھونڈنے نکلے ہیں چاروں طرف برف ہی برف سفید سلسلے لاشوں سے پٹے ہیں اور وفادار کتے دامن کھنچتے ہیں آگے نہ جاؤ! آگے پیچھے اجاڑ اور لاشوں کے انبار اور اندھیرے کی حد روشن اندھیرے کی حد روشن اور آنے والوں کے راستے سبز سہی کہ وہ گندم کے دانے چائے کی پیالیوں میں دیکھیں گے مگر میں کیا کروں؟ کہ میں نے انہیں چاند اور کہکشاں میں دیکھا پھر برف باری سے میرے وقتوں کی فصل اُجڑ گئی پیٹ پہاڑ ہوئے گندم کے دانے پیشانیوں اور آنکھوں میں ابھر آئے اور دونیاں، چونیاں نئے پیسوں میں بکھر گئیں دانے دانے پرلمس کی مہر ہے اور چاروں طرف برف ہی برف!