عباس اطہر

عباس اطہر

فیصلے کا دن

    ..... اور فیصلے کا دن زیادہ دور نہیں ، بہت قریب ہے اتنا قریب ، جتنی قریب موت ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا فیصلے کا لمحہ آکر رہے گا اور وہ رات کی تاریکی میں نہیں دن کے اُجالے میں آئے گا تمہاری آنکھوں کے سامنے بجلی کی طرح چمکتا ہوا کہ وہ تمہارے حساب کا دن ہو گا عورتیں ، مرد، بوڑھے اور بچے شہر کے شہر اور گاؤں کے گاؤں دہ سارے جو نظریں جھکائے خاموش کھڑے ہیں سب اس کے مقروض ہیں جو اس لیے خالی ہاتھوں چلا گیا کہ ہمارے اپنے ہاتھ خالی تھے فیصلے کے دن ، دیکھنا زنجیریں ٹوٹتی اور قفل کھلتے پھر بے شمار سائے اس کا قرض ہاتھوں میں اُٹھا ئے قبروں سے باہر نکلیں گے اور قبریں بنانے والوں پر زمین تنگ ہو جائے گی وہ ہمارا دن ہوگا اس دن ہم اپنی زمینوں کو جن کی محبت میں ہم جیتے ہیں پھر سے کاشت کریں گے ہماری زمینیں ، ہماری مائیں جن میں ظلم کی فصل بودی گئی ہے اور جنہیں پانی کے بجائے خون پلایا گیا ہے اور جن سے محبت چھین لی گئی ہے!