اُس کی آنکھوں نے دریائے سین کا خط پڑھ کر سنایا
I اُس کی آنکھوں نے دریائے سین کا خط پڑھ کر سنایا میں اب بھی کشتیوں ، نارنجی پھولوں اور تنہا بھیڑوں کے گیت گاتا ہوں زندگی میری پیشانی پر بکھری لٹیں سنوارتی ہے بچوں کی ہنسی میرے کاندھوں پر سواری کرتی ہے سورج نے میرے ہاتھ میں سونے کے کنگن ڈال دیے ہیں ہوا میرے گلے میں بانہیں ڈال کر مسخرہ پن سے ہنستی رہتی ہے اور آلپز میں چرواہوں کے گیت ابھی تک ننگے پاؤں گھوم رہے ہیں I I میری نظریں اُس کے چہرے پر پل پڑتی ہیں ..... خواب اسے اغوا کر لیتے ہیں ..... دن کی کیاریاں اُس کے قہقہوں سے بھر گئی ہیں ..... رات کے ساحل پر اُس کی سانسیں لنگر انداز ہیں سڑکوں پہ اس کی یادوں نے جگہ جگہ گلدستے رکھ کر راستہ بند کر دیا ہے سمندر اُس کے سینے سے ٹیوشن پڑھ رہا ہے آسمان اس کی آنکھوں سے رنگ چُرانے کے الزام میں گرفتار ہو گیا I I I رات کی شاخوں سے دُکھ کے پتے میرے قدموں میں گر رہے ہیں چاند کس کی تصویر دیکھ کر پاگل ہو رہا ہے ستارے اپنی کھڑکیوں میں کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں رات کی شاخوں سے گرنے والے پتے میرے قدموں میں ڈھیر ہو گئے پیانو بجاتی ہوا کی انگلیوں سے درد بہہ رہا ہے بادل کس کے جنازے پر بال کھولے کھڑے ہیں رات کی شاخوں سے دُکھ کے پتے گر رہے ہیں تکیے پر آنسوؤں نے نئی نظم لکھنی شروع کردی ہے سسکیاں فرش پر بکھرے کپڑے سمیٹ رہی ہیں رات کی شاخوں سے دکھ کے پتے گر رہے ہیں!