چاند بالکنی میں کھڑا اپنے بال خشک کر رہا ہے
I چاند بالکنی میں کھرا اپنے بال خشک کر رہا ہے (وہ خواب کی دہلیز پر خاموش کھڑی ہے) بادل اس کی انگلیوں سے نکل کر اِدھر اُدھر بکھر گئے ہیں ( وہ خواب کی دہلیز پر خاموش کھڑی ہے) سورج ہر طرف اُسے ڈھونڈ رہا ہے ( وہ خواب کی دہلیز پر خاموش کھڑی ہے) زمین کے ہاتھ میں زندگی کی لکیر جگہ جگہ سے ٹوٹ گئی ہے (وہ خواب کی دہلیز پر خاموش کھڑی ہے) آسمان ایک نفسیاتی مریض ہے (وہ خواب کی دہلیز پر خاموش کھڑی ہے) یہ لڑکی پکی ہوئی خوبانی کی طرح میرا منھ چڑا رہی ہے II اُس نے خوابوں کی ٹوکری مجھے دی (محبت knock کر کے تو کبھی دل میں نہیں آتی) حقائق کی کافی تمہارے ہونٹ جلا دے گی (محبت knock کر کے تو کبھی دل میں نہیں آتی ) برف پر بنی ہوئی تصویریں دھوپ لے جائے گی ( محبت knock کر کے تو کبھی دل میں نہیں آتی ) ستاروں کو کسی بردہ فروش نے رات کے ہاتھ بیچ دیا ہے (محبت knock کر کے تو کبھی دل میں نہیں آتی) بارش نے مٹی سے ہم بستری کے لیے اپنے کپڑے اُتار دیے ہیں ( محبت knock کر کے تو کبھی دل میں نہیں آتی ) میں اپنی چابیاں اُس کی ٹیبل پہ بھول آیا ہوں ( محبت knock کر کے تو کبھی دل میں نہیں آتی ) اُس کے رُخسار زرد پھولوں کا مذاق اڑاتے ہیں! (طویل نظم سے اقتباس)