مصطفیٰ ارباب

مصطفیٰ ارباب

ایک اور آدمی

    ہم ایک جہنم میں رہتے ہیں نہ جانے کہاں سے آگ لہراتی ہوئی آتی ہے حدت سے ہمارے بدن جھلسنے لگتے ہیں تپش ہماری سانسوں میں شامل ہو گئی ہے میں سلگنے سے بچنے کے لیے ایک آدمی کی آڑ میں ہو جاتا ہوں وہ مجھ سے پہلے سُلگے گا میں اضافی لمحے ملنے پر اس کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور بھول جاتا ہوں ایک اور آدمی میری آڑ میں کھڑا ہوا ہے!