صبیح رحمانی

صبیح رحمانی

حوصلہ دے فکر کو اور بارشِ فیضان کر

    حوصلہ دے فکر کو اور بارشِ فیضان کر ہے ثناء تیری بہت مشکل اِسے آسان کر رفتہ رفتہ کھول مجھ پر رازہائے جسم و جاں دھیرے دھیرے مجھ پہ ظاہر تو مری پہچان کر زیست کے تپتے ہوئے صحرا میں ہوں اس سے نکال میرے سر پر بیکراں رحمت کی چادر تان کر کفر آلود فضاء میں سانس لینا ہے محال پھر سے اس گم کردہ رِہ کو صاحبِ ایمان کر ختم ہو جائے بساطِ خاک کا سب شور و شر بے سکونی کو عطاء پھر حسنِ اطمینان کر خیمۂ شب سے یہی آواز آتی ہے صبیحؔ حمد لکھ اور اس طرح بخشش کا کچھ سامان کر