احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے، یہ شیدا تیرا

    کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے، یہ شیدا تیرا اِس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا تہ بہ تہ تیرگیاں، ذہن پہ جب ٹوٹتی ہیں نور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا کچھ نہیں سوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے چھلک اٹھتا ہے مری روح میں ، مینا تیرا پورے قد سے کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا دستگیری مری تنہائی کی، تو نے ہی تو کی میں تو مر جاتا، اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا لوگ کہتے ہیں کہ سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا میں تو کہتا ہوں، جہاں بھر پہ ہے سایا تیرا