احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی

وہی نمٹے گا مری فکر کے سناٹوں سے

    وہی نمٹے گا مری فکر کے سناٹوں سے بُت کدوں کو جو اذانوں سے بسا دیتا ہے وہی سرسبز کرے گا مرے ویرانوں کو آندھیوں کو بھی جو کردارِ صبا دیتا ہے قدم اٹھے ہیں مرے، جانبِ یثرب جب بھی اِک فرشتہ مجھے شہپر کی ہوا دیتا ہے فن کی تخلیق کے لمحوں میں، تصور اُس کا روشنی میرے خیالوں میں ملا دیتا ہے قصر و ایواں سے گزر جاتا ہے چپ چاپ ندیم در محمدؐ کا جب آئے تو صدا دیتا ہے