کلاسیکی موسقی ـــ ایک تعارف
موسیقی سن کر ہم پر کیا اثر ہوتا ہے؟ آوازیں جو سُر کے پیکروں میں ڈھل کر ذہن کے جمالیاتی گوشوں میں خوشبو کی طرح پھیلتی چلی جاتی ہیں وہاں کس قسم کے ہیولے پیدا کرتی ہیں اور کیوں کر پیدا کرتی ہیں؟ ایک نغمہ ذہن کی سطح پر کیسے کیسے نقش ابھارتا ہے اور وہاں کیا تصویریں بنتی ہیں۔ موسیقاروں کے نزدیک نغمے کے معنی خود نغمے میں ڈھونڈے چاہئیں اور انہیں موسیقی کی ٹھیٹھ اصطلاحوں کی حدود میں رہ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں موسیقی کے درس و تدریس کا سلسلہ اسی اصول پر چلتا رہا ہے۔ موسیقی کا سارا علم وفن گویوں کے سینوں میں محفوظ ہوا کرتا تھا۔ جو نسلاً بعد نسلٍ شاگردوں میں منتقل ہوتا رہا..... پیشہ ور گویوں نے موسیقی کے فن کو ہمیشہ درسی کتابوں کی صورت میں لانے کی نہ صرف پرزور مخالفت کی بلکہ درسی کتابوں کے ذریعے اس فن کے سیکھنے کو ناممکن قرار دیا۔ ان کے اس رویے کی بظاہر بہت سی وجوہ ممکن ہیں۔ میرے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ برصغیر پاکستان و ہند میں زیادہ تر مسلمان گویوں نے یہ فن پھیلایا۔ وہ لوگ سنسکرت زبان سے عدم واقفیت کی بنا پر سنگیت شاستروں، بر ہادیشی، سنگیت رتناکر اور اس قسم کی بیشمار دوسری کتابوں سے جو برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے ابتدائی دور میں ناقدری کا شکار ہوگئیں، فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ظاہر ہے کہ وہ گویے اس فن کے بارے میں جس قدر معلومات رکھتے تھے وہ بہت محدود تھیں۔
ان کے علاوہ ایک دوسرا نظریہ بھی ہے وہ یہ کہ موسیقی ایک ایسی زبان ہے جس کا اگر چہ کوئی فرہنگ نہیں لیکن بعض ایسے علائم رموز ضرور ہیں جنہیں سمجھ لینے سے سروں کی یہ نقش گری مختلف جذ بات و احساسات کا جامہ پہن لیتی ہے اور یہ زیادہ تر سامعین کی جمالیاتی حس پرمنحصر ہے لیکن جس شخص پر سرے سے موسیقی کا کوئی اثر ہی نہ ہوتا ہو شیکسپیئر کی رائے میں تو قابل اعتماد ہی نہیں ہے۔
نغمے سے لطف اندوز ہونا اپنی جگہ ایک خاص طرح کی صلاحیت ہے اور دوسری صلاحیتوں کی طرح اس کے بھی مختلف مدارج ہو سکتے ہیں۔ موسیقی سے حظ اٹھانے کے لیے اصولی طور پر دو باتیں ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ سننے والا نغمے کو من کی گہرائیوں میں جذب کر سکے اور دوسری یہ کہ وہ اس غنائی تجربے کا جو اسے نغمہ سن کر حاصل ہوا ہے اپنے طور پر تجزیہ کر سکے..... یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے زیر نظر کتاب میں موسیقی سے مراد وہ عامیانہ گیت اور سستے قسم کے گانے نہیں جو آئے دن کانوں میں زہر گھولتے رہتے ہیں۔ یہاں موسیقی سے مراد سنجیدہ قسم کی موسیقی ہے جس سے مراد کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی ہے جس کی بنیادیں لوک موسیقی پر آج سے صدیوں پہلے استوار کی گئی تھیں اور جو آج ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ ممکن ہے نئی نسل کے بعض ترقی پسند سامعین کو اس بات پر اعتراض ہو لیکن ان کے اعتراضات صرف موسیقی تک محدود نہیں وہ تو ساری کی ساری تمدنی روایات سے بغاوت پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک تو اپنے ملک کا کوئی کلچر ہے ہی نہیں ۔ موہنجوڈارو اور گندھارا کی تہذیبی روایات ان کے لیے محض تاریخ کا ایک فراموش شدہ باب ہیں۔ ادب ہو یا شاعری، مصوری ہو یا موسیقی، خیالات ہوں یا ملبوسات تقلید کے لیے ہمیشہ ان کی نظریں مغرب کی طرف اٹھتی ہیں .....مشرق تو ان کے لیے ہمیشہ کہر میں لپٹا رہتا ہے!
بات غنائی تجربے کی ہو رہی تھی ۔ اس تجزیے کا معیار قریب قریب وہی ہے جس پر ہم آج اپنے ادب کو پر کھتے ہیں اور جس کی رو سے وہ سب کچھ جو لکھا گیا ہے ادب کے دائرے میں نہیں آتا ۔ اسی طرح ہر وہ گانا جو ساز و آوز کے وسیلے سے ہمارے کانوں تک پہنچتا ہے ضروری نہیں کہ موسیقی کے دائرے میں آئے۔ اس کا فیصلہ زیادہ تر سننے والوں کے حسن سماعت پر بھی ہو گا۔ موسیقی کا اثر ہم پر بلا واسطہ ہوتا ہے اور موسیقی کی تحسین کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موسیقی ہمارے تخیل میں وسعت پیدا کرتی ہے۔ یہ ہمیں وجدانی کیفیت کے ذریعے چند ایسے لمحات عطا کرتی ہے جن کی لذت لازوال اور جن کا لطف دیر پا ہوتا ہے اور جو ہماری روح میں نکھار پیدا کرتے ہیں۔ نغمہ ہمارے خوابیدہ اور نا آسودہ جذبات کو بیدار کر کے روح کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔ ایسے مرحلے پر سُریں محض آواز کے اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ کبھی گارے چونے اور سنگ مرمر کا روپ بھی دھار لیتی ہیں اور آن کی آن میں ایسے سُر محل تعمیر ہونے لگتے ہیں۔ جہاں خوابوں میں اجالا کرنے والی ہلکی نیلی روشنی کا نور پھیل جاتا ہے اور جن کے گنبدوں میں ماضی کی حسین یادوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ سارنگی کے لہرے درد کی لپیٹیں بن بن کر اٹھتے ہیں۔ ستار ازلی جدائیوں کی دکھ بھری داستانیں چھیڑ دیتا ہے اور شہنائیاں بھی پاس نہ آنے والی خوشیوں کی طرح دور سے ہاتھ ہلاتی ہیں!
پل پل چھن چھن پَوَن جھکورے لا گے من پر تیر کمان
ننین در پر جھڑی لگت رے برست بدرا آن
اور غنائی تجربہ کچھ اس قسم کا ہوتا ہے۔ موسیقی میں سُر محض آواز کے زیر و بم کا ایک درجہ نہیں رکھتی بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتی ہے۔ ایک رنگ ! ایک خوش بو، ایک لفظ ،اور چھینی کی ایک ضرب ! یہاں مصوری کی طرح کینوس محدود نہیں ہوتا بلکہ اس میں ساری کائنات سمٹ آتی ہے۔ یہاں قوسیں اور دائرے نیلے آکاش پر قوس و قزح کی طرح پھیل جاتے ہیں۔ بسنت راگ کی چند مخصوص تانوں سے حد نظر تک سرسوں کے کھیت لہلہا اٹھتے ہیں ۔ میٹھی ملہاریں ساون بھادوں کی جھڑی لگا دیتی ہیں۔ یہاں پتھر کے بے حس و حرکت مجسمے ہی نہیں تراشے جاتے۔ یہاں پنگھٹ کی طرف جاتی ہوئی گوپیوں کی پائلوں کی جھنکار بھی آتی ہے۔ ان کے نقرئی قہقہے بھی کانوں میں رس ٹپکاتے ہیں اور طبلے کے توڑے اور پر نیں ان کی اٹھلاتی ہوئی چالوں کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ ان میں نرت بھی ہوتی ہے اور کنہیا کو تلاش کرنے والی بے قرار نگاہوں کے بھاؤ بھی ! یہاں کنہیا سے مراد محض کرشن یا ہندو دھرم کا اوتار نہیں ہوتا بلکہ کنہیا محبوب کی علامت بن جاتا ہے۔ یہاں محض الفاظ ہی نہیں ہوتے بلکہ دل دھڑ کنے کی صدا ئیں الفاظ سے بھی زیادہ معنی خیز بن جاتی ہیں.... دبی دبی خواہشیں محض شعر کی محتاج نہیں رہتیں بلکہ سُروں کے بہلاوے بھی ہلکورے بن کر بہت کچھ سمجھا جاتے ہیں محض پلکیں ہی نہیں جھکتیں اٹھتیں بلکہ آواز کے زیر و بم کے ذریعے مندر اور تارا استھان کی تانیں بھی دل کا مدعا بیان کر جاتی ہیں۔ موسیقی کو محض ایک ایسی صوتی ترتیب سمجھنا جو کانوں کو بھلی لگے تنگ نظری اور کور ذوقی کی دلیل ہے۔ تانیں محض سُروں کی اچھل کود اور گلے کی ورزش کا نام نہیں اس کے علاوہ بہت کچھ ہیں۔ یہاں یہ بات تو واضح ہوگئی کہ سننے والے کے لیے تخیل کی وسعت بنیادی ضرورت ہے۔ اگر وہ تخیل کی دولت سے مالا مال نہیں تو سُریں اس کے لیے محض ایک بے ہنگم شور ہیں ۔ انہیں معنی پہنانا تو رہا ایک طرف اس کا سننا بھی اسے دوبھر ہو جاتا ہے اور ایسے لوگوں سے محض شیکسپیئر ہی کو نہیں ہمیں بھی آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے۔
جہاں سننے والے کے لیے تخیل کی وسعت اس قدر ضروری ہے وہاں موسیقار میں اس صلاحیت کے فقدان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اکثر گانے والے اس سے یک سر محروم ہیں اور کلاسیکی موسیقی کی غیر مقبولیت کی بہت بڑی وجہ یہی ہے۔ ایسے گویوں اور سازندوں کے ہاں راگ کی جو درگت بنتی ہے اور نغمے کا جو حشر ہوتا ہے وہ قابل رحم ہے اور ایسے مناظر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان گویوں نے راگوں کو گردانوں کی طرح یاد کیا ہوتا ہے۔ گلے بازی کی اندھا دھند تیاری کی ہوتی ہے۔ راگ کو شروع کرتے ہی بے رس اور بے کیف تانوں کا وہ جھکڑ چلاتے ہیں کہ کہیں دور بھاگ جانے کو جی چاہتا ہے لیکن ایسے نازک موقع پر بھی موسیقی سے نابلد بعض حضرات اور ثقافتی امور کی سر پرستی کے سلسلے میں آئی ہوئی چند نستعلیق قسم کی بیگمات کو محض موسیقی اور فنون لطیفہ سے اپنی نام نہاد دلچسپی کا مظاہرہ کرنے کی غرض سے بے ستم ہاتھ ہلاتے اور بے موقع داد دیتے ہیں انہیں دیکھ کر آپ اپنی ’’کم ذوقی کا مظاہرہ‘‘ کرنے سے ہچکچاتے ہیں اور راگ کو کسی بڑی بڑی مونچھوں والے قوی الجثہ خاں صاحب کے آگے بے یارو مددگار پاتے ہیں اور یہ محض اس لیے ہوتا ہے کہ ان حضرات کی شخصیت میں تخیل جیسی کسی شے کو دخل نہیں ہوتا۔ انہیں یہ بھی پتا نہیں کہ راگ ہوتا کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض چند سروں کا مجموعہ ہے جس کی آرد ہی امروہی انہیں یاد کرا دی گئی تھی۔ انہیں یہ بھی پتا نہیں کہ راگ میں رس کس بلا کا نام ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے۔ انہیں تو بس وقت پورا کرنا ہے۔
اس بات سے انکار تو ناممکن ہے کہ موسیقی میں تخیل کی ہمہ گیری اور سُروں کی جلوہ گری کو بے حد اہمیت حاصل ہے اگر غنائی ترتیب میں تخیل کی کارفرمائی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ آئیے اب یہ دیکھیں کہ سُروں کی جلوہ گری کیا ہے اور نغمہ شروع ہوتے ہی تخیل کے دریچے کیسے کھلنے لگتے ہیں۔ موسیقی میں ایک بہالے جانے والا اثر ہوتا ہے اور نغمہ شروع ہوتے ہی ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری روح بلندیوں کی طرف اُٹھ رہی ہے۔ یہیں سے نغمے کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ موسیقی میں جس قدر ایمائیت ہے وہ شاید ہی کسی اور فن میں ہو ۔ یہی ایمائیت موسیقی کی جان ہے۔ یہاں سُریں برہنہ الفاظ کی طرح سامنے نہیں آتیں بلکہ اشاریت اور رمزیت کا روپ دھار لیتی ہیں اور موسیقار کے ذہن میں نغمے کا جو بھی تاثر ہوتا ہے اُسے سننے والے کی ذہنی سطح پر نقوش کی صورت میں ابھارتا چلا جاتا ہے۔ سُروں کے مختلف پیکر بن کر ابھرتے ہیں اور یہاں تانوں کا ایک مقصد پیکر تراشی بھی ہوتا ہے۔ کلاسیکی موسیقی میں راگ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے جسے مختلف اصناف مثلاً دھرید، خیال ترانے اور ٹھمری کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔
یہاں مزید کچھ کہنے سے پیشتر راگ کے مفہوم کو سمجھ لینا بہتر ہوگا۔ راگ کی ایک تعریف متعین کر لینے کے بعد موسیقی کے علائم و رموز کو جانا یقیناً آسان ہو جائے گا۔ راگ کی عام فہم تعریف جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے کچھ اس طرح ہے کہ ’’راگ سروں کی ایک ایسی ترتیب کا نام ہے جو سننے والے کے ذہن میں ایک خوشگوار تاثر پیدا کرے اور جس میں کم از کم پانچ سُر ہوں‘‘ سیدھے سارے الفاظ میں سروں کے ایک ایسے مجموعے کو جس کی ادائیگی سے ایک خاص قسم کا تاثر پیدا ہو راگ کہتے ہیں۔
راگ کی بنیاد تین چیزوں پر رکھی جاتی ہے۔ جنہیں ہم رس، رنگ اور روپ کہہ سکتے ہیں۔ رس یا Emotional content راگ کا بنیادی جذبہ کہلاتا ہے۔ یہ راگ سننے والے کے ذہن پر ایک خاص تاثر پیدا کرے گا۔ ایک خاص قسم کے موڈ یا کیفیت کو ابھارے گا۔ اسی رس یا تاثر کا التزام پہلے سے راگ میں موجود ہوتا ہے جو اس راگ کو ترتیب دینے والے نے ملحوظ رکھا ہو گا۔ اس بات سے قطع نظر کہ خاص قسم کا تاثر یارس راگ میں پہلے سے موجود ہوتا ہے یہ امر بہت کچھ اس راگ کو پیش کرنے والے پر بھی منحصر ہوگا۔ یہاں فن کار کی شخصیت کو دخل ہو جاتا ہے کہ اگر اس میں ایک اچھے گانے والے کی سب صلاحیتیں موجود ہیں تو وہ راگ کو اس کی تمام تر گہرائی اور گیرائی کے ساتھ پیش کر سکے اور سروں کے ایسے مجموعے ترتیب دے جن سے راگ اپنی تمام جمالیاتی کیفیتوں کے ساتھ آشکار ہو جائے اور سننے والے پر اس کا وہی اثر ہو جو فن کا مقصد تھا۔ ہماری موسیقی میں ایسے کل نورس ہیں جنہیں ہم سنگھار Romantic رو در یا غیض و غضب Anger ہا سیایا طربیہ Comic ہبتھس یا مضحک Ludicrous دیریا شجاعانہ Heroic کردن یا غم ناک Pathos جگپس یا مایوسانہ Disgust رشمی یا تخیر Wonder اور شانت یا امن Peace کہتے ہیں۔
اصولی طور پر کسی راگ میں تاثر پیدا کرنے کے لیے اس راگ کا رس یا بنیادی جذبہ پیش نظر رہنا ضروری ہے ورنہ اس کا سارا تاثر زائل ہو جائے گا۔ راگ پیش کرتے وقت تانوں کے جو مجموعے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ ان کا بنیادی اصول یہی ہوتا ہے کہ ان میں سروں کو ایسی ترکیب اور ترتیب سے لگایا جائے کہ راگ کا روپ بگڑنے نہ پائے۔ مثال کے طور پر بھیرویں، پیلو، تلک کا مود، کھماچ اور پہاڑی جو نسبتاً سہل راگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر نرم و نازک جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان میں دبی دبی خواہشوں اور رُکے رُکے جذبوں کا اظہار ملتا ہے۔ بعض ایسے ارمان جو پورے نہ ہو سکے۔ ایسی خواہشیں جو دل ہی دل میں دم توڑ گئیں ۔ یہ راگ گاتے وقت ہلکی ہلکی تا نیں، مرکیاں اور بہلاوے ان کا حسن دوبالا کرتے ہیں لیکن اگر اس کے برعکس تین تین سپتک کی جگری تانیں اور زمزے لگائے جانے لگیں، فن کارانہ چابک دستی کا مظاہر کرنے کے لیے آڑ اور کواڑ میں پلٹے کہے جا رہے ہوں تو ان راگوں کی نزاکت برقرار نہیں رہ سکتی ۔ ان کے مقابلے میں سری میگھ اور مالکونس جیسے جابر راگ ہیں جو گویوں کی گرفت میں ذرا مشکل سے ہی آتے ہیں۔ ان راگوں میں دیر اور رودر رس کی تانیں مناسب معلوم ہوتی ہیں لیکن راگ کی روح سے نا آشنا موسیقاروں نے مختلف قسم کے رس آپس میں یوں گڈمڈ کر رکھے ہیں کہ ان کی الگ حیثیت بہت کم رہ گئی ہے۔ تلک کا مود جیسی راگنی گاتے وقت اگر رو در رس کی پاٹ دارتا نیں لگنی شروع ہو جائیں تو جو حشر راگنی کا ہوگا وہ ظاہر ہی ہے۔ ٹوڈی کو ہی لیجیے۔ ہم میں سے اکثر نے ٹو ڈی راگنی کی تصویریں بھی دیکھ رکھی میں اس کی شکل کچھ ایسی ہے کہ ایک لمبی زلفوں والی حسین و جمیل عورت سفید لباس پہنے گود میں دینا دھرے ایک گھنے درخت کے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھی ہے اور اس کی چاروں اور جنگلی ہرن تحیر کے عالم میں مسحور کھڑے ہیں۔ اب اگر ٹوڈی سنتے وقت کانوں میں شیر ڈھارنے کی آوازیں آنے لگیں تو یقیناً مایوسی ہوگی۔ دراصل ہمارے گویوں نے تان پلٹوں کے چند مجموعے تیار کر لیے ہیں جو موقع محل کے مطابق ایک دوسُروں کا تغیر و تبدل کر کے ہر راگ میں داخل کر لیے جاتے ہیں اور یوں آدھ پون گھنٹے میں ہی (راگ کی روح سے نابلد رہتے ہوئے) ہر راگ کا طواف کر لیا جاتا ہے۔
راگ کی مزید وضاحت اور ان کی خصوصیات کی بناء پر راگوں کے الگ الگ رنگ بھی ہیں نہ صرف یہ بلکہ ہر سُر کا ایک مخصوص رنگ بھی ہے۔ ہماری کلاسیکی موسیقی میں کھرج کا رنگ سیاہ ،رکھب کا بھورا ،گندھار کا سنہری، مدہم کا سفید، پنجم کا پیلا، دھیوت کا ارغوانی ،نکھاد کا سبز ہے۔ یوں دیکھا جائے تو راگ ’’رنگ آمیزمی‘‘ یا ( Colour composition) کا دوسرا نام ہے اور ہرفن میں بنیادی چیز تو حسن ترتیب ہی ہے اگر یہ ترتیب الفاظ کی ہو تو شاعری رنگوں کی ہو تو مصوری اور سروں کی ہو تو موسیقی ہو گی۔ دوسری اہم شے وزن ہے۔ الفاظ ایک خاص وزن کے ساتھ ترتیب دینا مصرعوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح رنگ کا بھی تو ایک وزن ہوتا ہے اور موسیقی کی تو بنیاد ہی اسی پر ہے۔ رنگ اور سُر کا یہ باہمی رشتہ بیسویں صدی کی دریافت نہیں بلکہ اس برعظیم میں برسوں پہلے اس پر خاصی تحقیق ہو چکی ہے۔
راگوں کا ایک روپ تو وہ ہے جو سروں کی ایک خاص ترتیب سے ہماری ذہنی سطح پر ابھرتا ہے لیکن یہ نقوش بن بن کر مٹتے رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں مغرب کی طرح موسیقی کو لکھنے کا رواج نہ تھا۔ اس لیے آج ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ میاں تان سین نے درباری کی جو شکل سُروں کے ذریعے بنائی ہوگی وہ کیا تھی لیکن مختلف ادوار میں مصوروں نے مختلف راگ راگنیوں کی تصاویر اپنے اپنے خیال کے مطابق بنائی ہیں اور رنگ و خط کے ذریعے راگ راگنیوں کے نقش ابھارے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی موسیقی پرلکھی گئی پرانی کتابوں میں راگ راگنیوں کی لفظی تصاویر بھی ملتی ہیں۔ ان مصوروں کی بنائی ہوئی تصویریں فن مصوری میں کیا مقام رکھتی ہیں۔ یہاں اس سے بحث نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ رنگوں اور الفاظ کی یہ تصاویر ہمیں راگ کے بنیادی موضوع کے سمجھنے میں خاصی مدد دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر للت کی ایک تصویر دیکھیے جو راگ درپن میں دی گئی ہے۔ ’’للت جوان اور نازک اندام گلے میں مرجھائے ہوئے پھولوں کا ہار پہنے، ٹھنڈی آہیں بھرتی ہوئی، رات بھر محبوب کی راہ دیکھتے دیکھتے تھک گئی ہے اور نیند سے بوجھل آنکھوں میں سرخ ڈورے پھیل رہے ہیں۔‘‘ للت آدھی رات کے بعد کا راگ ہے اور اس میں مایوسی کا عنصر زیادہ ہے۔
آئیے اب یہ دیکھیں کہ راگ میں رنگ، روپ اور رس کی آمیزش کیسے کی جاتی ہے اور ان جذبوں کی ترجمانی کے لیے فن کار کون کون سے ذرائع سے کام لیتا ہے۔ خیال موسیقی کی سب سے زیادہ مقبول صنف ہے۔ اس لیے ہم اس سلسلے کو سمجھنے کے لیے خیال ( ( Musical Form کو بنیاد بن کر چلتے ہیں۔ اس میں سب سے سے پہلے الاپ کا مرحلہ آتا ہے۔ الاپ راگ کی خاص سروں کی باہمی ترکیب و ترتیب کو واضح کرتا ہے۔ الاپ میں سروں کے مجموعے کچھ اس طور پر بنائے جاتے ہیں کہ راگ کا مخصوص تاثر ابھر آئے اور ایک خاص ماحول پیدا ہو جائے ۔ الاپ کے دو مقصد ہوتے ہیں۔ پہلا مقصد تو سامعین کو اس راگ کے خصوصی پہلوؤں سے روشناس کرانا ہوتا ہے اور دوسرا مقصد سنگت کرنے والوں کو اس راگ کی ترتیب سے آشنا کرنا ہوتا ہے تا کہ وہ اس بنیادی ڈھانچے کو سمجھ لیں جس پر آگے چل کر گویے کو اپنے فن کی عمارت کھڑی کرنی ہے۔ راگ میں اس کے رس کا تصور بعض دفعہ چند سروں کو ملا کر اور بعض دفعہ ان میں تفاوت پیدا کر کے ابھارا جاتا ہے۔ اکثر راگوں میں آرد ہی اور امروہی میں سُروں کی ترتیب کے فرق کی وجہ یہ یہی ہوتی ہے گن کلی میں وادی سر دھیوت اور سموادی سُر رکھب دونوں کومل ہوتے ہیں۔ یہ دونوں سُر اس میں اُداسی اور مایوسی کے تصورات کو اجاگر کرتے ہیں اور ہمیں اس میں ایک خلا کا احساس ملتا ہے۔
خیال کا دوسرا مرحلہ استھائی کا ہے۔ استھائی شروع کرنے سے پہلے الاپ راگ کا مخصوص ماحول اور پس منظر پیدا کر چکا ہوتا ہے۔ یہاں سے راگ کی خاص بندش شروع ہوتی ہے اور راگ پوری طرح سمٹ کر سامنے آجاتا ہے۔ یہیں سے موسیقی اور شاعری کے باہمی رشتے کی ابتدا بھی ہوتی ہے۔ راگ کے موضوع کو واضح کرنے کے لیے بولوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ بول راگ کے مخصوص تاثر کو سامنے رکھ کر مرتب کیے جاتے ہیں۔ سگھرائی کی لفظی تصویر یوں دکھائی گئی ہے۔ ’’ایک خوب صورت عورت سرخ ساڑی پہنے محبوب کے گلے میں باہوں کا ہار ڈالے بیٹھی ہے‘‘ اب اس کے بول لیجیے ۔
استھائی: سندر نویلی کے سوہت نین مان متوارے پیارے چنیل لاج بھرے۔
انترا: انگ انگ ہو جوت جھلکت جو بن بان سب ہو کہاوت ہیرن کے ہار گرے۔
اگر راگ سنتے وقت یہ منظر آنکھوں کے سامنے ہو اور بولوں کا ایک ایک لفظ سُروں کے حسین پیکر میں ڈھل ڈھل کر سامنے آئے تو کون ہے جس پر اثر نہ ہوگا اگر فن کار ان تمام باتوں کا التزام رکھے تو راگ کا لطف یقیناً دوبالا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر درباری راگ لے لیجیے جسے مغل اعظم اکبر کے درباری گائیک تان سین نے جشن شاہانہ میں پیش کش کی نسبت سے ’’درباری‘‘ کا نام دیا۔ یہ راگ شکوہ ،وقار اور عظمت کی ترجمانی کرتا ہے اور اس کی بنیادی سُروں کی ترکیب اور لگاوٹ سے عبادت اور بندگی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس کی چال اور تشکیل میں عظمت اور عبودیت کے بنیادی جذبے ایک ساتھ کارفرما ہوتے ہیں۔ درباری سنتے ہی ذہن میں اونچے اونچے گنبد اور منقش درو بام ابھر آتے ہیں ۔
یہ در و بام ہیں ساونت مغل کا پر تو
ہے ستونوں کی نفاست سے عیاں سنگینی
اونچی محرابوں کے گھیرے میں کشادہ ایوان
جس نے بیباک ارادوں سے بلندی چھینی!
(مختار صدیقی درباری)
راگ کی استھائی ختم ہوتے ہوتے راگ کا بنیادی تاثر ایک تخیلی پیکر میں ڈھل چکا ہوتا ہے۔ اس کے بعد انترا یا راگ کا نقطہ عروج آتا ہے۔ راگ گاتے وقت النکار ( Embelisherment) یاسُروں کے ایسے مجموعے جو راگ کے بنیادی جذبے کو سامنے رکھ کر بنائے گئے ہوں بکثرت برتے جاتے ہیں۔ النکار کے لفظی معنی زیور کے ہیں اور اس سے راگ کو آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے۔ انہیں ہم موسیقی کی اصطلاح میں مُر کی، مینڈ، کن گُمک اور تان کہتے ہیں۔ مُر کی کم از کم وقفے یعنی تقریباً ایک ماترے میں تین چار سُروں کو تیزی کے ساتھ ادا کرنے کو کہتے ہیں کہ ان میں کسی نازک سے جذبے کی ترجمانی ہو جائے ۔ مینڈ سُر کو اس طرح لمبا کھینچ کر لگانے کو کہتے ہیں کہ اس سُر سے دوسری سُر تک کی تمام درمیانی سُرتیاں ( Microtones) ظاہر ہو جائیں۔ اس طرح سُر لگانے سے اُس میں ایک خاص طرح کا نکھار اور با نکپن آ جاتا ہے۔ مینڈستار پر بہت بھلی لگتی ہے ۔’’ کُن‘‘ کسی سُر کو محض چھو کر گزر جانے کو کہتے ہیں۔ اسے آپ موسیقی کا ’’ کنایہ‘‘ کہہ لیجیے لیکن کن کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے اگر وہ سُر پوری طرح آشکار ہو جائے تو سارا مزا جاتا رہتا ہے۔ تان سروں کے ایسے مجموعے کو کہتے ہیں جو راگ کو پھیلانے اور آگے بڑھانے میں مدد دے۔ چند تا نیں ملا کر ایک ارادہ یا ( ( Musical Phrase بنتا ہے تانوں سے راگ کے موضوع کی وضاحت کی جاتی ہے اور راگ کے سارے حسن کا دارو مدار انہی تانوں پر ہوتا ہے۔ انہی تانوں سے پیکر تراشے جاتے ہیں اور راگ کا مکمل روپ اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ تان کی بے شمار قسمیں ہیں جن میں سدھ تان جس میں سُر سلسلہ وار لگائی جائیں۔ کوٹ تان جس میں سُریں سلسلہ وار نہ ہوں ۔ کمپت تان سُروں کو کانپتی ہوئی صورت میں لگایا جائے (اس کا زیادہ استعمال جے جے ونتی راگ میں ہوتا ہے ) اور ان سب سے بڑھ کر کمک کی تانیں ہیں جو راگ میں گھمبیر تا پیدا کر کے راگ کو اس کی اصلی شکل میں پیش کرتی ہیں۔ کمک تان دنیا کے باج سے لی گئی ہے اس میں سُروں کو کمک کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ خیال کے آخری حصے ابھونگ میں جس کا رواج خیال گائیکی میں اب بہت کم رہ گیا ہے۔ راگ میں چند آخری ارادے ( Finishing Touches) کہہ کر جو راگ کی نمایاں خصوصیات کی طرف اشارے کر دیتے ہیں۔ راگ کو ختم کر دیا جاتا ہے اور سامعین کے تصور میں یہ سارا منظر ایک عجیب سی دھند میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔