موسیقی اور شاعری کی مشترکہ اقدار
ہر شاعر بنیادی طور پر موسیقار ہوتا ہے بلکہ یوں کہیے کہ وہ موسیقار پہلے ہے اور شاعر بعد میں! شاعر کو موسیقار بنانے کا ذمہ دار اس کا جذبہ آہنگ ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس سے گزر کر احساس ایک وز ن کا حامل ہوجاتا ہے۔ یہی جذبہ آہنگ الفاظ کو شعر کا جامہ پہنانے کے لیے الفاظ کے صوتی وزن کی مناسبت سے ان کی نشست بدل کے ان کو تال اورہم آہنگی سے آشنا کرکے ایک شعر کا رنگ و روپ دیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شاعر اس جذبہ آہنگ سے شعوری طور پر واقف ہو لیکن ہر شعر اس جذبہ آہنگ کے طفیل وزن کے پیمانے میں ڈھل ڈھل کر آتا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں صاحب نے موزوں طبیعت پائی ہے تو کہنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان الفاظ کے صوتی اثرات ان کے وزن اور زیر و بم سے آگاہ ہے۔
شاعری اور موسیقی میں مشترکہ اقدار تلاش کرنے سے پیش تر چند ایک قدیم شعراء کے کلام کا موسیقی سے تقابلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہاں ایک دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ ہماری موسیقی میں راگ بنیادی چیز ہے۔ ہر راگ اپنی جگہ پر ایک ایسا موضوع ہے جس پر اس راگ کے مرتب نے اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ موسیقی دوسرے فنون لطیفہ کی نسبت زیادہ غیر مادی اور غیر مرئی ہے کسی غیر مرئی چیز کی تجسیم کرنا انسان کا دیرینہ مشغلہ رہا ہے۔ انسان نے کسی بھی خیال کو مجسم کرنے کے لیے ہمیشہ اپنے آپ کو بطور ماڈل کے سامنے رکھا ہے۔ یونانی دیومالا میں عشق کی تشکیل بھی کی گئی تو ایک اندھے اور کھلنڈرے بچے کی صورت میں جس کے ہاتھوں میں تیر کمان ہے اور جب خدا کو بھی مردکے پیکر میں ڈھالا تو انسانی صورت ہی پیش نظر رہی! ہمارے ہاں بھی راگ راگنیوں کو جو صوتی اثرات کی حامل ہیں اور قطعی غیر مرئی قسم کی چیزیں تھیں ان کے موضوع کے اعتبار سے مردوں اور عورتوں کے روپ میں ڈھالا گیا ..... راگ مالا کے اشعار جن میں راگوں کو لفظی تصاویر ملتی ہیں پندرہویں صدی عیسوی میں نظم ہو چکے تھے۔ دراصل ہر راگ کسی ایک انسانی جذبے کی تحریک سے اور شعروں کی صوتی کیفیات کو اجاگر کرنے سے تشکیل پاتا ہے۔ ہماری موسیقی میں کل نو ایسے رس یا جذبے ہیں اور ہر راگ کی تشکیل میں ان میں کم از کم ایک جذبہ یا رس کارفرما ہوتا ہے۔ موسیقی میں انسانی جذبات کی وہ نو حالتیں یہ ہیں۔ (١) سنگھار رس (جذبہ محبت) (٢) دیر رس (جذبہ شجاعت) (٣) بیبتھس رس (جذبہ نفرت (٤) رود رس (جذبہ غیض و غضب) (٥) بھیانک رس (جذبہ خوف) (٦) ہاسیا رس (جذبہ سرور) (٧) کرون رس (جذبہ رحم) (٨) اوبھت رس (جذبہ حیرت) (٩) شانت رس (جذبہ سکون و تحمل)
اب اس پس منظر میں قدیم شعرا کے کلام کا ایک جائزہ لیا جائے۔ اس سلسلے میں جس قابل ذکر شاعر کا نام سامنے آتا ہے۔ وہ ہے ابراہیم عادل شاہ (١٦٢٧ ۔ ١٥٨٠) جو نہ صرف باقاعدہ ایک ماہر موسیقار تھا بلکہ دکھنی اور فارسی زبان کا بہت بڑا شاعر بھی تھا۔ ڈاکٹر نذیر احمد نے ان کی کتاب نورس مرتب کرکے اس کے موضوعات کی نہایت عمدہ تشریح کی ہے۔ ابراہیم عادل شاہ کے فارسی اشعار تو زمانے کی سردمہری کا شکار ہو گئے لیکن دکھنی زبان میں ان کا بلند پایہ کارنامہ کتاب نورس کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ اس میں راگ راگنیوں کی تشریح صرف اس قدر ہے کہ ایک راگ یا راگنی کو عنوان قرار دے کر اس کے تحت بادشاہ کے نظم کیے گئے گیت درج کر دیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں ١٧ راگوں بھوپالی، مارو، آساوری، دیسی، پوریا، رام کلی، بھیرو، حجاز، براری، ٹوڈی ملار ٹوڈی، نوروز کلیان، دھناسری، کانہڑا اور کیدارا کے تحت ٥٩ گیت اور ١٧ دوڑھے ہیں۔ موضوع کے اعتبار سے یہ گیت چار قسموں میں تقسیم کیے گئے ہیں جس میں بیش تر ہندو دیومالا سے متعلق ہیں۔ اس کتاب کا بیش تر حصہ ایسے گیتوں پر مشتمل ہے جن کا موضوع عشق و محبت ہے اور یہی ان کی بہترین شاعری کی مثال ہے۔ ٥٩ گیتوں میں سے ١٧ کا نہڑا راگ میں دیے گئے ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ شاہ کوکانہڑا راگ سب سے زیادہ پسند تھا۔ یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ شہنشاہ اکبر کا مرغوب ترین راگ درباری اسی راگ کی ذرا مختلف شکل ہے جسے تان سین نے کانہڑے میں معمولی ردوبدل کرکے ترتیب دیا تھا۔ دوسرے درجے پر عادل شاہ کا من پسند راگ بھیرو تھا جس میں چھ گیت ہیں۔ شاہ نے اپنے گیتوں میں راگوں کی لفظی تصاویر بھی پیش کی ہیں جو راگ مالا سے ملتی جلتی ہیں۔ چند راگوں کی مثالیں ملاحظہ ہوں۔ دیسی راگنی کے بارے میں کہتے ہیں:
اک نار دیکھیا کھڑی سامنے
پونم رات کی مکر چاندنی
یا جھمکے میگھ رت کی سودامنی
ملہار کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں برسات خوب صورت عورت کی طرح ہے جس کا رنگ سانولا ہے اور دانت روشنی کرنے والی بجلی کی مانند رنگ برنگ کے لباس گھٹا کی طرح ہیں۔ ایک دوہڑے میں آتی جاتی سانس کو آ ردہی امروہی کے سروں asending desending notes سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے کیدارے کی تصویر کشی بڑے اعلا اور اچھوتے انداز میں کی ہے ’’کیداری (شاستروں میں دیا گیا نام) ایک بے حد خوبصورت عورت ہے جو ہاتھ سے رخسار کو تھامے بیٹھی ہے۔ وہ دبلی پتلی ہے اور چہرے کا رنگ سفید ہے جو بیٹھی اپنے جسم پر چندن کا سفوف چھڑک رہی ہے وہ پنکھڑی کی طرح نرم و نازک اور چاند کی طرح روشن ہے‘‘ کیدارے کی اتنی دل کش اور مکمل تصویر باقی شعرا کے ہاں کم ملتی ہے۔ یہاں تک تو موضوع سے بحث تھی ہیئت کے اعتبار سے ان نظموں کو ہم دھر پد کہہ سکتے ہیں لیکن اس میں ایک مشکل یہ ہے کہ دھرپد کے چار حصے ہوتے ہیں یعنی استھائی انتر اسنچاری اور ابھوگ اور ان نظموں میں یہ چار حصے کہیں بھی ایک ساتھ نہیں ملتے بلکہ سنچاری تو سبھی میں غائب ہے اس لیے ممکن ہے کہ دھرپد کی اس خاص قسم کا بانی خود ابراہیم عادل شاہ ہی ہو۔
ابراہیم عادل شاہ کے بعد جس بڑے شاعر کا نام سامنے آتا ہے وہ شاہ عبداللطیف ہیں۔ ان کی سندھی زبان کی شاعری کے تو سبھی معترف ہیں لیکن ان کے ساتھ ہی وہ ایک بہت بڑے موسیقار بھی تھے۔ انہوں نے موسیقی میں ایک نئے مکتب فکر کی بنیاد بھی ڈالی۔ ١٧٤٢ عیسوی میں جب وہ مستقلاً بھٹ شاہ میں مقیم ہو گئے تو انہوں نے موسیقی کے احیاء کے پیش نظر باقاعدہ طور پر ایک ادارے کی بنیاد ڈالی اور ایک خاص قسم کا تانپورہ ایجاد کیا اپنے مریدوں کو گائیکی کے ایک نئے انداز کی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ بہت سے ہندی راگ راگنیوں کی طرزوں پر اپنی نظمیں ترتیب دیں۔ جنہیں وہ ’’سُر سوہنی‘‘، ’’سر کا نہڑا‘‘، ’’سرملہار‘‘ وغیرہ کہتے تھے۔
اس بات کا تعین تو صرف تحقیق کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے کہ ان کی اس نئی گائیکی کا ٹھیک ٹھیک انداز کیا تھا۔ جہاں تک ان نظموں اور خاص کر ’’رسالو‘‘ کا علق ہے انہیں ان راگوں سے جو ان کے عنوانات کی صورت میں دیے گئے کوئی تعلق نہیں ان راگ راگنیوں کے بنیادی جذبے یا روپ سروپ سے ان نظموں کے موضوعات سے کوئی نسبت نہیں دی جا سکتی۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نظمیں ان راگوں میں گائی جا سکتی ہیں۔ شاہ عبداللطیف نے کل چھتیس راگوں کا انتخاب کیا ہے۔ چھتیس راگوں کا انتخاب برصغیر کی موسیقی کے چھ راگ اور چھتیس راگنیوں کی روایتی تعداد کی طرف اشارہ کرتا ہے اس سے کسی حد تک ان کی روایت پرستی کا پتا چلتا ہے۔
صوفی شعرا کی اسی ذیل میں خواجہ فرید، بلھے شاہ او رمادھو لعل حسین آتے ہیں۔ ان شعرا کے ہاں بھی بیش تر کافیوں کے عنوانات راگ راگنیوں میں ہی دیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر خواجہ فرید کے ہاں راگنی کی کیفیت کا ایک ہلکا سا پرتو ملتا ہے مثلاً یہ کافی دیکھیے:
سب صورت وچ وسدا ڈھولا ماہی
رنگ برنگے اس دے ڈیرے
آپے رانجھن آپے ہیر تے آپے کھیڑے
لُک چھپ بھید نہ ڈسدا ڈھولا ماہی
آپے ہجر تے آپے میلہ
آپے قیس نے آپے لیلےٰ
’’محبوب ہر صورت میں سامنے رہتا ہے اس کے رنگ برنگ ٹھکانے ہیں وہ خود ہی رانجھا ہے خود ہی ہیر اور خود کھیڑا ہے۔ محبوب چھپ کر اپنے بھید پوشیدہ رکھتا ہے خود ہجر ہے اور خود ہی وصال خود قیس ہے اور خود ہی لیلےٰ خود ہی محبوب اور خود ہی آواز محبوب بھی ہے۔‘‘ اس کافی میں ایک اضطراب اور فراق کی کسک پائی جای ہے جو اس مختصر سی راگنی کا ایک پہلو ہے۔
’بلھے شاہ کے ہاں بھی بعض جگہ سنگیت (جس میں ناچ بھی شامل ہے) کا گہرا احساس ملتا ہے۔
چھیتی پوڑی دے طبیبا نیں تاں میں مر گیاں
ترے عشق نچایا کرتھیا تھیا .....!
اس میں تھیا تھیا کا التزام تال کی ضرورت کے پیش نظر خاص طور پر رکھا گیا ہے اور ان کی ناچ کے ساتھ گہری وابستگی کا ایک ثبوت ہے۔
کنجری بنیا میری ذات نہ گھٹ دی
میں نوں نچ کے یار مناون دے
سنگیت کے ساتھ ان کی دلچسپی کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔
مادھو لعل حسین کے ہاں راگوں کا انتخاب بڑا منجھا اور سلجھا ہوا ہے یہ وثوق سے نہیں کیا جا سکتا کہ موسیقی پر انہیں کس قدر دسترس حاصل تھی لیکن اتنا ضرور ہے کہ انہوں نے کافیوں کی طرزیں ٹھیٹ کلاسیکی اور مشکل راگوں میں باندھی ہیں۔ مثال کے طور پر سری راگ، جھن جھوٹی، دیوگندھاری ، وڈہنس، جے جے ونتی، گوند، بلاول رام کلی بسنت ہنڈول اور للت ایسے راگ ہیں جو زیادہ تر شمالی اور مشرقی ہندوستان میں گائے جاتے تھے۔ ان راگو ں کا رواج پنجاب کی طرف کم تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے بعض ایسے راگوں کی طرز پر بھی کافیاں مرتب کی ہیں جو خالصتاً علاقائی راگ ہیں مثلاً آسایا سورٹھ تلنگ یا سندھڑا وغیرہ۔
اک دن تینوں سپنا تھیسن بابل دالیاں گلیاں دو
اڈ گئے بھور پُھلاں تے آ کے سن پتراں سن ڈالیاں دو
جت تن لاگے سوئی تن جانے ہو گلاں کرن سکھا لیاں دو
اس کافی میں آسادری راگ کے بنیادی جذبے یا کروَن رس کی کیفیت ضرور ملتی ہے۔
کہا جاتا ہے ہیر کی موجودہ طرز خود وارث شاہ صاحب کی بنائی ہوئی ہے اور یہ قرین قیاس بھی ہے اس میں جو سوز و گداز کی کیفیت پائی جاتی ہے اس کی مثال کسی علاقے کی لوک دھن میں مشکل سے ملے گی۔ اس طرز یں بھیروی کا رنگ نمایاں ہے جو اس غیر فانی نظم کی سدابہار اور سدا سہاگن راگنی ہے۔ ہیر میں اپنے دور کے رسم و رواج، رہن سہن اور تہذیب و تمدن سمٹ کر آگئے ہیں۔ جہاں دوسری چیزوں کا ذکر ہے جن سے ہماری تہذیب و ثقافت کا گہرا تعلق ہوا کرتا ہے وہیں ایک جگہ موسیقی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یہ مقام ہیر کے اس حصے میں ہے جہاں رانجھا پنج پیروں کو بانسری سناتا ہے۔ یہاں صرف ١٣ اشعار ہیں۔ وارث شاہ نے ٤٣ رائج الوقت راگوں کے نام گنوا ڈالے ہیں۔
ٹوڈی میگھ ملہار تے گونڈ سری تے دھنا سری نال رلاؤندا اے
یہاں انہوں نے موسیقی کی ٹھیٹ اصطلاحوں آڑکواڑ، سم پورن اور گرم اور مروجہ تالوں کا ذکر بھی کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس فن سے اچھی خاصی واقفیت تھی۔