عنایت الہی ملک

عنایت الہی ملک

موسیقی کا مستقبل

    آج سے سینکڑوں برس پہلے موسیقی عبادت اور روحانی ریاضت کا ذریعہ تھی ۔ مندروں اور نیم تاریک غاروں میں اس کا راج اور رواج تھا۔ وہ ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد تھی ۔ عنبر اور لوبان سے رچی بسی فضا اور سرسوتی دنیا کی سنگت میں انسان بھگوان کی دی ہوئی نعمتوں کے گن گا تا اور موسیقی کی زبان میں اپنے دکھ سکھ کی داستان سناتا تھا۔ یوں ایک عرصے تک موسیقی ان سادھو سنت قسم کے لوگوں میں ہی محصور رہی جنہیں دنیا اور دنیا کے دھندوں سے کوئی سروکار نہ تھاوہ اسے ایک مقدس شے..... بھگوان سے وصال کا ایک وسیلہ سمجھتے تھے.....

    لیکن بھگوان کے بعض پجاری زیادہ عرصے تک مندروں کی فضا میں نہ رہ سکے اور اپنے راگ جنگلوں اور بنوں میں الا پنے لگے۔ ان میں سے پہلا نام نائک بیجو کا ہے جو اپنی شوریدگی طبع کی بناء پر جنگل جنگل گھومنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سلطان بہادر گجراتی کے ہاں بھی رہا۔ ہمایوں نے بھی اسے حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ہوا کو مٹھی میں تھامنا ممکن نہ تھا اور اس نے در بارداری کے جھمیلوں میں پڑنے کی بجائے کھلی فضا میں سانس لینے کو ترجیح دی۔ اس دور تک بھی موسیقی زیادہ تر بھگتوں اور سوامیوں کے سائے میں ہی رہی۔ اس کے بعد جس عظیم موسیقار کا نام ہمارے سامنے آتا ہے وہ تان سین ہے۔ تان سین کو دربار کی کشش نے کھینچایا شہنشاہ اکبر کی طبیعت مچل اٹھی۔ بہر حال تان سین ریوا کے راجا رام چندر کے ہاں سے اکبر کے پاس آ گیا اور آخر وقت تک اس کے دربار سے وابستہ رہا۔ یہیں سے موسیقی ایک باقاعدہ فن کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے اور ابو الفضل آئین اکبری میں اسے اپنے عہد کا سب سے بڑا موسیقار تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:

    ’’ایسا ماہر موسیقی ہندوستان نے گزشتہ ایک ہزار سال میں بھی پیدا نہیں کیا۔‘‘

     موسیقی کی تاریخ کے اسی دور میں ہمیں موسیقی کے مختلف گھرانوں کے ابتدائی نشان ملتے ہیں۔

    اب موسیقی ایک با قاعدہ فن کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ اس لیے اسے بعض مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ موسیقی اس سے پہلے دنیاوی دولت و شہرت سے سروکار نہ رکھتی تھی۔ اس کا تعلق یا تو مندروں سے تھا یا عوام سے اس حد تک تو اس کی سادگی اور پاکیزگی میں ہی سارا حسن تھا۔ اس میں بے ساختگی تھی۔ نازک مزاج شاہوں کے مزاج کے مطابق تو اسے بعد میں ڈھالا گیا ورنہ اس وقت تک نہ تو موسیقی میں قصیدہ گوئی نے بہت زیادہ راہ پائی تھی اور نہ گویوں نے دربار میں نشست و برخاسات کے آداب سیکھے تھے ۔ موسیقی کے ارتقاء میں برصغیر میں جنگ آزادی سے پہلے یہ ایک نہایت اہم موڑ ہے جن کے اثرات آج تک باقی ہیں۔مغل شہنشاہوں نے موسیقی کی سر پرستی ضرور کی لیکن اس سے نقصان یہ ہوا کہ کلاسیکی موسیقی امراء و رؤسا کے شامیانوں کے نیچے دبی رہی اور اس سے حظ اٹھانے کا شرف صرف انہی لوگوں کو حاصل رہا۔ عوام کو یہ ارفع و ا علیٰ قسم کی موسیقی سننے کے مواقع کم ہی ملتے تھے اور صرف وہی لوگ اس سے محظوظ ہو سکتے تھے۔ جن کی رسائی ان درباروں تک تھی۔ راجے مہارا جے اور سلاطین اپنے وقت کے اعلیٰ فن کاروں کو جمع کر لیتے تھے۔ ان کے نزدیک فن کاروں کو جمع کرنے کا مسئلہ کچھ ایسا ہی تھا جیسے ہیرے جواہرات جمع کرنے کا ! لیکن ان ہیروں کی چمک دمک محض محلوں کی چار دیواری تک ہی محدود تھی ۔ عوام کی جھونپڑیوں میں صرف ڈھولکوں کی تھاپ اور ترنجن کے پرسوز گیت ہی گونجتے تھے ۔

    درباری موسیقی کی یکسانیت کو توڑنے والا پہلا موسیقار نعمت خاں سدا رنگ تھا جس نے خیال کو جسے گوپال اور امیر خسرو نے ایجاد کیا تھا۔ مقبول عام کر کے کلاسیکی موسیقی کی رگوں میں نیا خون دوڑا دیا اور یوں موسیقی ایک نئی آن اور چھل بل کے ساتھ ایک نئے راستے پر گامزن ہوئی ۔ شاہان اودھ کے درباروں میں موسیقاروں کی بے حد قدر و منزلت ہوئی اور موسیقی میں نئی نئی اختراعیں بھی کی گئیں لیکن اس معاشرے میں عورت کو بہت زیادہ دخل حاصل ہو گیا تھا۔ اس لیے موسیقی بھی بازاری عورتوں اور رنڈیوں کی گرفت میں آ کر اپنا بلند مقام کھو بیٹھی اور اس میں ابتذال اور سستے پن کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ٹھمریوں اور دادروں نے موسیقی کا سارا وقار خاک میں ملا دیا اور اس کی شاندار روایات سے بغاوت کی گئی جس کا نتیجہ آج تک بھگتا جا رہا ہے اور گانے بجانے کے سلسلے میں شبہ یقین کی حد تک پختہ ہو چکا ہے کہ یہ تو ڈوم ڈھاڑیوں یا رنڈیوں اور بیسواؤں کا پیشہ ہے۔ یہی اس فن کا سب سے بڑا المیہ تھا کہ اسے وہ عزت و تکریم نہ مل سکی جو دوسرے فنون لطیفہ کو حاصل تھی ۔

    اس فن کی ترویج میں ایک بہت بڑی رکاوٹ پیشہ ورفن کار بھی تھے جنہوں نے اس کی بے جاحد بندی کر کے شوقین فن کاروں کے لیے اسے شجر ممنوعہ بنا رکھا تھا۔ آج بھی حالات قریب قریب وہی ہیں۔ یہ پیشہ ورفن کار اپنی کوتاہ نظری کے باعث اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ اس طرح فن میں جمود پیدا ہو جاتا ہے اور جب کسی فن کی تدریس کا سلسلہ رک جائے گا تو اس فن کو سراہنے والوں کی تعداد بھی گھٹ جائے گی ۔ کلاسیکی موسیقی پر آج جو سب سے بڑا اعتراض کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ ملک میں بہت تھوڑے لوگ ایسے ہیں جو اس فن سے محظوظ ہو سکیں یا کلاسیکی موسیقی کو سمجھنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک مخصوص مزاج اور تربیت ضروری ہے اور ایسے معترض حضرات کسی حد تک صحیح بھی ہیں۔ ہمارے موسیقار جن میں سے بیش تر ان پڑھ ہیں۔ اس بات کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہی نہیں کہ جب سامعین کی تعداد گھٹ جائے اور فن کار بڑھ جائیں تو فن کی ترقی کیا ہوگی۔ آہستہ آہستہ فن کار بھی گھٹنے لگیں گے اور یوں کچھ عرصے کے بعد یہ فن زمانے کی سرد مہری کا شکار ہو کر معدوم ہو جائے گا۔

    موسیقی پر ٹھمری کے مضر اثرات سے قطع نظر اس صنف نے موسیقی کی دنیا میں ایک انقلاب یقیناً بر پا کر دیا اور ایک رنگارنگ کیفیت سی پیدا ہوگئی۔ ٹھمری کے دور کا سب سے بڑا گائیک صادق علی خاں تھا جس سے اس کی ایجاد منسوب ہے۔ اس کے بعد ٹھمری کی ذیل میں سب سے بڑا نام موجود الدین کا آتا ہے جس نے بھیا صاحب گنپت راؤ سے اس فن کو سیکھا۔گنپت راؤ گوالیار کے شاہی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے جاہ و حشم کو ٹھکرا کر موسیقی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی اور ہارمونیم بجانے میں ایسا ملکہ حاصل کیا کہ آنے والے دور کے لیے ایک مثالی فن کار بن گئے ۔ ٹھمری کے بنارسی انداز پر موجود الدین کا نمایاں اثر ہے۔ ان کے علاوہ ٹھمریوں کو ترتیب دینے اور بول لکھنے والوں میں قادر پیا،لالن پیا اور سند پا کے نام آتے ہیں۔ جن کے باندھے ہوئے بول آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔

     مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرنے کے بعد ۱۸۵۷ ء میں تمام بڑے بڑے فن کار مختلف ریاستوں میں پھیل گئے۔ راجوں، مہاراجوں اور نوابوں نے اس کٹھن دور میں موسیقاروں کی قرار واقعی سر پرستی کی۔ یہیں سے ہندوستانی موسیقی میں گھرانوں کی باقاعدہ ابتدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد کا زمانہ موسیقی کے انتہائی نقطہ عروج کا زمانہ ہے اور جتنے عظیم موسیقار اس عہد میں نظر آتے ہیں۔ وہ کسی ایک دور میں کبھی نہ تھے۔ یہ بیسویں صدی کا ابتدائی دور ہے جس میں سنگیت سمرات اللہ دیے خان، خاں صاحب عبدالکریم خاں،  آفتاب موسیقی فیاض خاں، علی بخش اور فتح علی خاں پٹیالوی جیسے بلند مرتبہ فن کار نظر آتے ہیں۔ بیسوی صدی کی ابتدا میں موسیقی کے احیاء کے لیے بمبئی  کے ایک وکیل بھاتکھنڈے اور پنڈت وشنوڈگمبر پلو سکر کی خدمات موسیقی کی تاریخ میں سنہری حرفوں میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ بھاتکھنڈے نے پہلی مرتبہ کلاسیکی موسیقی کا سائنٹیفک بنیادوں پر مطالعہ کر کے اسے دس بنیادی ٹھاٹھوں میں تقسیم کیا اور اس طرح موسیقی کے بعض ایسے مسائل حل ہو گئے جو اس کی ترویج میں بری طرح حائل تھے۔ پنڈت وشنو ڈگمبر نے موسیقی کے درس و تدریس کے سلسلے میں نمایاں خدمات انجام دیں اور ہندوستان میں جگہ جگہ سنیگت مہاودیالے قائم کر کے موسیقی کی تعلیم کو عام کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے سب سے پہلا سنگیت ودیالہ لاہور میں ٹکسالی دروازے کے باہر ۱۹۰۱ ء میں کھولا جو ایک عرصہ تک فیض کا سرچشمہ بنا رہا۔

    آزادی کے بعد کا دور ایک لحاظ سے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ ۱۹۴۷ ء کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں وہاں کی حکومتوں اور عوام نے محسوس کیا کہ انگریزوں کی عملداری کی وجہ سے جو ثقافتی اور تمدنی سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چکی تھیں ۔ انہیں نئے سرے سے ماضی کی شاندار روایات کے مطابق شروع کیا جائے ۔ مسلمانوں کی خوش قسمتی سمجھیے کہ آزادی کے وقت اونچے پائے کے فن کاروں میں اکثریت مسلمان گویوں کی تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد بعض تنگ نظروں نے فنون لطیفہ کو ہماری تہذیبی زندگی کے دائرہ سے خارج قرار دیتے ہوئے حکومت اور عوام کو ان کی سرپرستی سے باز رکھا۔ اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ اکثر فن کار بددل ہو گئے اور فن کی ترقی ایک بڑے عرصے تک رکی رہی۔ پاکستان بننے کے بعد ریڈیو ہی فن کاروں کی واحد پناہ گاہ تھی لیکن بد قسمتی سے اس وقت اس کی باگ ڈور ایسے حضرات کے ہاتھ میں تھی جو اس فن کے (نام نہاد ) کرم فرما کہلاتے تھے ۔ بجائے اس کے کہ وہ ہندوستان کے بڑے بڑے فن کاروں کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتے۔ انہوں نے اپنی فرعونیت کی بناء پر بعض ایسے اونچے فن کا رکھو دیے جن کی تلافی شاید آئندہ سو سال تک بھی نہ ہو سکے گی۔ بڑے غلام علی خاں کا نام ان فن کاروں میں سرفہرست ہے۔ نہ صرف یہ کہ پاکستان کی محبت میں ہندوستان سے آنے والے بیش ترفن کار بھی ریڈیو کی سیاست کا شکار ہو گئے ۔ اس کے کچھ عرصے بعد وطنیت کی آڑ لے کر یہ جانتے ہوئے بھی موسیقی کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی کہ کلاسیکی موسیقی کی وجہ سے ہیئت بڑی حد تک مسلمانوں کی مرہون منت ہے اور موسیقی جس شکل میں اس بر عظیم میں موجود ہے۔ اس پر ہندوستان سے کہیں زیادہ ہمارا حق ہے۔ انہوں نے یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ اگر ہم نے صدیوں کی روایت سے اپنا رشتہ توڑ لیا اور عرب و عجم سے موسیقی درآمد کرنے لگ گئے تو ہماری اپنی ثقافت کا کیا حشر ہوگا جس میں ہمارے ہاں کے مسلمانوں کی روایات شامل ہیں ۔

    فن کو ہم صرف اس کی روایات کے پس منظر میں پرکھ سکتے ہیں۔ اس کی تاریخ کا مطالعہ کر کے ہی اس کے مستقبل کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ماضی میں ہمارے فن کاروں کو فن برائے فن اور فن برائے زندگی جیسے مسائل سے کوئی سروکار نہ تھا لیکن آج کے دور میں یقیناً اسے ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس وقت کے اقتصادی اور معاشرتی حالات آج سے یکسر مختلف تھے۔ اس دور میں یہ فن برہمنوں کی عمل داری میں تھا۔ یہ بے حد متبرک اور بے حد ارفع فن کہلاتا تھا۔ آج یہ زیادہ تر پیشہ ورفن کاروں کے ہاتھ میں ہے  جنہیں محض فن کا مظاہرہ ہی نہیں کرنا ہے بلکہ اس سے روٹی بھی کما کر کھانا ہے۔ معاشرے میں ان کا کیا مقام ہے؟ ہم نے یہ کبھی سوچا تک نہیں کہ ان میں سے اکثریت کی زندگی اجیرن ہے۔ جسم اور سانس کے رشتے کو قائم رکھنا محال ہے۔ ہم ان کے پرسوز نغمے تو سن لیتے ہیں لیکن ان کے تاریک گھروں میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ وہ زندگی کی بنیادی آسائشوں سے محروم ہیں۔ وہ ایک ایسی مادی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جسے ان کی قدر و قیمت کا کوئی احساس نہیں ۔ وہ نعرے بازیوں سے زندہ رہنے سے تو رہے۔ میوزک کنسرٹ موسیقی کی ترویج تو کر سکتے ہیں لیکن اس طرح ان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔ ثقافت کے علم بردار یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ انہیں سال میں کتنے ریڈیو پروگرام ملتے ہیں؟ ان میں سے کتنے میوزک کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں اور سال کا باقی عرصہ وہ کیسے گزارتے ہیں؟ ان کی کتنی ویلفیئر سوسائٹیاں ہیں اور ان کے لیے ملک میں کون سے امدادی فنڈ قائم کیے گئے ہیں؟ گزشتہ برس جو دو چار بڑے فن کار وفات پاگئے ہیں ان کے بیوی بچوں کی کیا حالت ہے؟ آرٹ کونسلوں اور میوزک کانفرنسوں کے ارباب اختیار نے ان کے بارے میں کیا کیا ہے؟ ایک بڑے شاعر یا ادیب کی موت پر اگر اس کے بے آسرا لواحقین کو سرکاری وظائف دیے جا سکتے ہیں تو ان موسیقاروں نے اپنی زندگی میں کیا قصور کیا تھا۔ جن کا مرتبہ کسی لحاظ سے بھی ایک بڑے شاعریا ادیب سے کم نہیں ؟ کیا اس طرف حکومت کی توجہ دلانا ضروری نہیں؟

    آج کے فن کار کی مشکلات بڑھ چکی ہیں اسے ایسے سامعین کو مخطوظ کرنا ہے جن کی پسند آئے دن بدلتی رہتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو عوام کہلاتا ہے جو سستی فلمیں دیکھنے پر مجبور ہے، جو میوزک کنسرٹ میں شمولیت کے پانچ سو روپے کے ٹکٹ نہیں خرید سکتا جسے آرٹ کونسل اور ریڈیو کے جشن موسیقی کے تہنیتی کارڈ نہیں بھیجے جاتے جو صدر دروازے کے باہر کھڑا ہو کر لاٹھیاں کھاتا اور غصے میں بوکھلا کر ریڈیوسٹیشن پر پتھر پھینکتا ہے۔ ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ اسے بھی موسیقی سے حظ اٹھانے اور اپنے پسندیدہ فن کاروں کو سامنے بیٹھ کر سننے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ ریڈیو کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ ایسے جشنوں کا انتظام ایسی جگہوں پر کریں جہاں سامعین کی بڑی تعداد سما سکے اور یہ کوئی ایسی بڑی مشکل نہیں کہ اس کا کوئی حل ان کے پاس موجود نہ ہو۔

    کیا فن کار کو عوام کے بدلتے ہوئے رجحانات اور پسند کے مطابق اپنا معیار بدل دینا چاہیے؟ یہ ایک نہایت اہم مسئلہ ہے جو ان دنوں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اکثر محفلوں میں دیکھا گیا ہے کہ فن کار عوام کی داد حاصل کرنے کے لیے موسیقی کی روایات کا بھی لحاظ نہیں کرتا اور کلاسیکی موسیقی کو سہل انداز میں پیش کرنے کے خیال سے شعبدہ بازیوں پر اتر آتا ہے۔ یہ فن سے صریحاً زیادتی ہے ہمیں فن کی روایات کا احترام کرنا چاہیے اور کلاسیکی موسیقی کو اس کی اصل صورت میں پیش کرنا چاہیے موسیقی میں پلاسٹک سرجری نہیں چلے گی مگر یہ سرجری بر سر عام ہوتی ہے اور دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ ایسے بڑے گھرانوں کے فن کار بھی یہ شغل فرمانے میں مصروف ہیں جن کی ماضی میں بڑی شان دار روایات رہی ہیں اور جو برعظیم پاک و ہند میں خاصے مقبول ہیں۔ اگر بڑے فن کار ہی کلاسیکی بندھنوں سے انحراف کرنے لگے تو ایک دن اجداد کا یہ ورثہ مکمل طور پر مسخ ہو کر رہ جائے گا۔ ان فن کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے اپنے گھرانوں کی روایات کو برقرار رکھیں تا کہ یہ بیش قیمت سرمایہ آنے ولی نسلوں تک اپنے خالص رنگ میں منتقل ہو سکے۔ یہ فن کار غالباً اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ پاکستان میں کلاسیکی موسیقی کا فن ختم ہو رہا ہے اور عوام میں مقبول ہونے کی یہی صورت ہے کہ اسے عوام کے معیار تک لایا جائے ۔ میرے نزدیک یہ نظریہ سراسر غلط ہے جو فن صدیوں میں ارتقاء پذیر ہوا ہے اسے اپنی تمدنی روایات سے بے بہرہ نئی نسل نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ان حالات کے باوجود اس ملک میں موسیقی کا مستقبل بے حد روشن ہے۔ عوام اس میں پہلے سے زیادہ دل چسپی لے رہے ہیں اور آیندہ یہاں موسیقی کی ترویج و ترقی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

     فلمی موسیقی کے ضمن میں بہت سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں اور مغربی موسیقی ہماری فلموں پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ مغربی اصناف موسیقی جن میں جنسی اپیل بہت زیادہ ہے۔ گراموفون ریکارڈوں کے سی ڈی اور ٹیپ کے راستے ہمارے ہاں زہر پھیلا رہی ہیں۔ اس کے اثر سے ایک ایسی دوغلی موسیقی کے جراثیم پرورش پا رہے ہیں جن کے اثرات کا اگر سد باب نہ کیا گیا تو یہ ہماری ثقافت کے لیے مضر ثابت ہو سکتے ہیں ۔ راک اینڈ رول، ٹوسٹ اور سونگ مغربی تہذیب کی آئینہ داری کرتے ہیں ہماری معاشرتی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، یہ مغرب کی اس زندگی کی ترجمانی کرتے ہیں جس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک اضطراب اور بے چینی سی پیدا ہو گئی تھی اور جہاں ہر وقت ایٹمی جنگ کے بادل چھائے رہتے تھے۔ یہ دھنیں ان لوگوں کی زندگیوں کی عکاسی کرتی ہیں جو اپنی اخلاقی قدریں کھو چکے ہیں اور اب ایک ایک لمحے کا رس نچوڑ کر اسے غٹاغٹ چڑھا جانا چاہتے ہیں۔ یہ موسیقی اس ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں ایک خلا اور موت کی سی خاموشی ہے جسے توڑنے کے لیے جذبات و احساسات چیخیں بن بن کر شور و غل کا روپ دھارتے چلے جاتے ہیں۔ ان دھنوں میں سوائے جنسی اپیل اور ایک بے ہنگم شور کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

     بر عظیم پاک و ہند کی موسیقی ہماری تہذیبی اور تمدنی روایات کی آئینہ دار ہے اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے۔ اب تو وہ

    دور آ رہا ہے کہ فنون لطیفہ کے سلسلے میں مغربی فن کار نہ صرف ہمارے کلاسیکی سرمائے کی تحسین پر آمادہ نظر آتے ہیں بلکہ ان میں سے کئی ایک استفادہ بھی کر رہے ہیں جہاں تک ہماری موسیقی پر تحقیق و تنقید کا تعلق ہے اہل مغرب نے اس سلسلے میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ مثال کے طور پر پوپلے، فاکس سٹرینگ ویز اور ڈاینلو کی کوششیں قابل صد تحسین ہیں۔ ان کے علاوہ تخلیقی میدان میں بھی مغربی موسیقاروں نے مشرقی موضوعات پر دھنیں مرتب کی ہیں۔ ان میں سے پکینی کی میڈم بٹر فلائی کی مثال دی جاسکتی   ہے جس میں ایک مشرقی کیفیت کو مغربی انداز میں نہایت خوبی سے پیش کیا گیا۔ برطانوی موسیقار گستاؤ ہوسٹ نے ’’سیتا‘‘ اور ’’ستاوتری‘‘ جیسے خالص ہندی موضوعات پر غنائیے ترتیب دیے ہیں۔ آج تک مغربی موسیقاروں نے ہماری موسیقی پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا ہے کہ ہماری موسیقی میں ہم آہنگی (ہارمونی) کا فقدان ہے۔ اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ہماری موسیقی کی بنیاد نغمگی (میلوڈی) پر رکھی گئی ہے لیکن مغرب میں بھی اس نام نہاد ہم آہنگی نے یکسانیت کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔

     ہمارے ملک میں موسیقی کے درس و تدریس کا مسئلہ بھی کافی توجہ کا مستحق ہے۔ یونیورسٹی کی فنون لطیفہ کی کلاسوں میں طلبہ کی موسیقی کے ساتھ دل چسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ اچھے اسٹاف کی کمی ہو لیکن یونیورسٹی کے حلقوں میں موسیقی کا اتنا چرچانہیں جتنا کہ ہونا چاہیے۔ ایف۔ اے اور بی ۔ اے میں اسے اختیاری مضمون کی حیثیت ضرور حاصل ہے جو ایک قابل ستائش امر ہے لیکن یو نیورسٹی کے حلقوں سے فارغ التحصیل ہو کر ابھی تک کوئی اچھا فن کار سامنے نہیں آیا۔ یونیورسٹی اور آرٹ کونسل میں موسیقی پر تحقیق کے لیے الگ شعبے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے لیکن اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ ہی نہیں دی جاتی ۔ ہمارے ہاں آرٹ کونسلوں میں موسیقی کی جو کلاسیں ہیں ان کا معیار تقریباً وہی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے ’’نام نہاد میوزک کالجوں‘‘ کا رہا ہے، جن میں فن سے نابلد اور جاہل قسم کے ’’استاد جی‘‘ شاگردوں کو برسوں تک راگوں کی آروہی آمروہی گردان کی طرح رٹاتے رہتے ہیں اور انہیں یہ کہہ کر مایوس کر دیتے ہیں کہ’’عطائی‘‘ ( شوقیہ سیکھنے والے یا غیر پیشہ ور ) موسیقی کے فن پر کبھی عبور حاصل نہیں کر سکتے۔

     آرٹ کونسلوں اور نام نہاد میوزک کالجوں میں موسیقی کے درس و تدریس کا سلسلہ کسی با قاعدہ نظام کے تحت نہیں ہو رہا بلکہ ان میں سے اکثر جگہیں محض راندے دیو بن کر رہ گئی ہیں۔ کلاسکی موسیقی کا فن اتنا مقبول نہیں اور عوام اس کی قدرو قیمت سے آشنا نہیں لیکن پھر بھی میرے نزدیک یہ ایک مقدس فن ہے اس کی تذلیل اور استحصال کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہرفن کے درس و تدریس کے لیے ایک پرسکون ماحول اور پاکیزہ علمی فضا کی ضرورت ہوا کرتی ہے مگر کتنے دکھ کی بات ہے کہ ان اداروں میں ایسا ماحول موجود نہیں۔ اس اکیڈمی میں اس فن کے درس و تدریس کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور اساتذہ کا انتخاب موسیقی سے دل چپسی  رکھنے والے دانشوروں کے ذریعے عمل میں لایا جائے۔ تعلیم و تربیت دینے والوں کا مطمح نظر محض اچھے عہدے حاصل کرنا ہی نہ ہو بلکہ اپنے اندر دشنوڈ گمبر کی طرح مشنری جذبہ بھی رکھتے ہوں۔

     ریڈیو اور میوزک کانفرنسوں کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ نئے فن کاروں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے پورے پورے مواقع بہم پہنچا ئیں۔ اگر آج کے شوقیہ گانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں صحیح تربیت دی جائے تو عین ممکن ہے کہ کل انہیں میں سے کوئی بڑے فن کارکی حیثیت سے ہمارے سامنے آ جائے۔ نئے گانے والوں میں سے اکثر اپنے اندر کافی صلاحیتیں رکھنے کے باوجود بے تو جہی کا شکار ہیں۔

    ہمارے نظام موسیقی میں سرنویسی یا سٹاف نوٹیشن کی عدم موجودگی سے بھی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں صدیوں کا کلاسیکی سرمایہ ہمیشہ کے لیے ختم نہ ہو جائے۔ ہمارے ملک میں ابھی تک اس طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ آج ہم میں سے بیش تر کے دلوں میں اس بات کی حسرت ہے کہ کاش ہم بھی بیتھو ون اور موز آرٹ کے نغموں کی طرح تان سین اور سدارنگ جیسے عظیم موسیقاروں کی تخلیقات کو سن سکتے ۔ اگر آج ہم ان کی تخلیقات کو سننے سے محروم ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم آئندہ نسلوں کو ہمارے دور کے فن کاروں کی تخلیقات سے محروم نہ کریں۔ اس کے علاوہ ہم سٹاف نوٹیشن کے ذریعے اپنی موسیقی کو دوسرے ممالک میں بھی روشناس کرا سکتے ہیں۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ ہماری موسیقی کو سٹاف نوٹیشن میں لکھا ہی نہیں جا سکتا اور اسے سرنویسی کا یہ ذریعہ قبول نہیں۔ ایسا کہنا صریحاً غلط ہے۔ فن موسیقی کے ایک ماہر جناب رفیق غزنوی کہتے ہیں:

    ’’ میرا پختہ عقیدہ ہے کہ دنیا کی کوئی موسیقی ایسی نہیں جس کی سٹاف نوٹیشن کے ذریعے سے ترسیم نہ کی جا سکے اور اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ہماری موسیقی دوسرے لوگوں اور قوموں میں مقبول ہو اور اسے سمجھا جا سکے۔ اس کی ایک باقاعدہ تاریخ ہو ( جسے مناسب اور بجاطور پر محفوظ کیا جا سکے ) اور ہمارے فن موسیقی کو فروغ و ترقی حاصل ہو تو اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں کہ سٹاف نوٹیشن کا طریقہ جس سے آج دنیا کے ہر مہذب ملک میں موسیقی لکھی اور پڑھی جارہی ہے اسے اختیار کیا جائے ۔“

    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ثقافتی ورثے کو آیندہ نسلوں کے لیے محفوظ کر جائیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم موسیقاروں کو سٹاف نوٹیشن سے مانوس کریں اور سرنویسی کے اس بین الاقوامی طریقے کو اپنے ہاں رائج کریں۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ہم موسیقی کی قدرو قیمت سے آگاہ ہوں۔ فن کار کو معاشرے میں اس کا صحیح مقام دلائیں ۔ میوزک اکیڈمی، ریڈیو، سکولوں اور کالجوں کے ذریعے موسیقی کی تعلیم کو عام کریں، کتابوں اور رسائل کے ذریعے ملک میں اس فن کا چرچا کریں اور ایک ایسی فضا پیدا کریں جس میں یہ فن پنپ سکے۔ آج ہمیں اس فن کی ترقی کے بہت سے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ اس کے لیے مارکیٹ بھی پیدا ہو رہی ہے۔ جو ریڈیو، ٹیپ، فلم، گراموفون ریکارڈ اور سنگیت کی محفلوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے لیکن موسیقی کا مستقبل زیادہ تر ان سماجی اور معاشرتی حالات پر منحصر ہو گا جو آیندہ برسوں میں ہمارے موسیقاروں کے لیے پیدا ہوں گے۔ اگر فنون لطیفہ تنگ نظر قسم کے لوگوں کے تعصب کا شکار نہ ہوئے اور عوام نے اپنے اس بیش قیمت ثقافتی ورثے کی اہمیت کو سمجھا اور موسیقاروں کی عزت و تکریم کی تو اس ملک میں اس فن کی ترویج و ترقی کے امکانات خاصے روشن ہیں۔ کوئی بعید نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے اور ایک بار پھر گندھارا اور موہنجوڈارو کے تہذیبی اور ثقافتی دور کی یاد تازہ ہو جائے۔