نیشنل کالج آف آرٹس کی ایک تجریدی لڑکی کے نام
تُو کن رنگوں کی دہشت سے اپنے فحش سوالوں کے ناخون بڑھاتی رہتی ہے خوابوں کی دُھندلی لذّت میں اپنی کچی مسیں بھگوتے لڑکوں کی نیند اُدھیڑتی رہتی ہے تیرے پرس کے آئینے میں تیری خفیہ شکل چھُپی ہے اَمرودوں سی چھاتیاں جن پر ململ کی باریک سی مدھم دُھوپ بچھی ہے جیبوں میں جنگلی دیو مالا اور چہرے پر چڑھے تُند دُھوئیں کا ہالا تیری شطرنجی آنکھوں میں کیسے نقشے کھنچے ہوئے ہیں کس غیبی بوسے کی خاطر تیرے لب یوں کُھلے ہوئے ہیں آ مَیں تجھ کو خواہش کے عُریاں موسم میں رنگ لگاؤں بانہوں کے اِیزل پر تیرا چہرہ رکھ کر ہونٹ سے تیری شکل بناؤں