آؤ نظمیں لکھیں
آؤ نظمیں لکھیں جس طرح رات کی کوکھ سے دُھوپ بے دار ہوتی ہے جیسے مصیبت کے لمحے میں کوئی دُعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے جیسے کوئی اپنے محبوب کو یاد کرتا ہے نظمیں لکھیں شہر کے بے اماں راستوں پر درختوں پہ جیسے ہوا موسموں کا تحیر سمیٹے نکلتی ہے پہلے پہل جس طرح کوئی بارش کی آواز سنتا ہے جیسے کوئی بند پلکوں پہ اِک دُھوپ سا ہاتھ رکھتا ہے نظمیں لکھیں جس طرح جنگ کی رات چاروں طرف گولیاں سنسناتی ہیں جیسے کوئی ممنوعہ راستوں پر نکلتا ہے جیسے کوئی آخری لفظ لکھتا ہے نظمیں لکھیں چونٹیاں جس طرح رزق چُنتی ہیں جیسے پرندے درختوں کی اُڑتی ہوئی گفتگو ہیں صدف در صدف جیسے بارش کے بوسے سمندر کی آغوش میں سانس لیتے ہیں نظمیں لکھیں شب کی دہلیز پر روزن صبح کھلنے تک جبر کے موسموں میں پرندوں کے اُڑنے تلک