خموشی انگلیاں چٹخا رہی ہے
-
خموشی انگلیاں چٹخا رہی ہے تری آواز اب تک آ رہی ہے دل وحشی لیے جاتا ہے لیکن ہوا زنجیر سی پہنا رہی ہے ترے شہر طرب کی رونقوں میں طبیعت اور بھی گھبرا رہی ہے کرم اے صر صرِ آلامِ دوراں دلوں کی آگ بجھتی جا رہی ہے کڑے کوسوں کے سنّاٹے ہیں لیکن تری آواز اب تک آ رہی ہے طنابِ خیمہ گُل تھام ناصر کوئی آندھی اُفق سے آ رہی ہے