ناصر کاظمی

ناصر کاظمی

کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے

    کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھے گزر گئی جرسِ گل اداس کرکے مجھے میں سو رہا تھا کسی یاد کے شبستاں میں جگا کے چھوڑ گئے قافلے ہوا کے مجھے میں رو رہا تھا مقدر کی سخت راہوں میں اڑا کے لے گئے جادو تری نظر کے مجھے میں تیرے درد کی طغیانیوں میں ڈوب گیا پکارتے رہے تارے اُبھر اُبھر کے مجھے ترے فراق کی راتیں کبھی نہ بھولیں گی مزے ملے انہیں راتوں میں عمر بھر کے مجھے ذرا سی دیر ٹھہرنے دے اے غمِ دنیا بلا رہا ہے کوئی بام سے اُتر کے مجھے پھر آج آئی تھی اک موجہ ہوائے طرب سنا گئی ہے فسانے ادھر اُدھر کے مجھے